ہم 25 کروڑ پاکستانی مقروض، معاشی بے حالی کا شکار، خودمختار ہونے کے باوجود اقتصادی طور پر محتاج، معاشی قید میں ابتلا کی زندگی گزارنے والے مزاروں پر جاکر رقص کر کے اس کو مذہبی رسومات کا درجہ دینے والے ضعیف الاعتقاد، دھاگوں پر گرہ لگا کر منت مانگ کر تصور کرتے ہیں کہ ہماری مراد پوری ہو جائے، کبھی ہوجاتی ہے اور اکثر نہیں۔ لیکن امید لگانے کو دل چاہتا ہے، امید ہی تو ہوتی جو زندگی کی رمق کو برقرار رکھتی ہے۔
جب آس ٹوٹ جائے تو مایوسی اور غیر یقینی کیفیت کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ ہمت والے پھر کمر کس لیتے ہیں، بے صبری کا شکار مزید مایوس ہو کر خودکشی کا سہارا لیتے ہیں، اگر ایسا ہو تو پھر بغاوت خواہ کسی بھی سطح پر ہو، اس کو اپنا نصیب اور نصب العین تصور کرلیتے ہیں۔
Read more