وزیراعظم پاکستان نے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب جو کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد، ریپ، بچوں سے زیادتی، سے متعلق تھا اس میں جو بھی کہا الگ الگ سوچ اور طبقہ فکر کے لوگ اس بیان کو اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ایک طبقے نے جسے ہمارے سماج میں ایلیٹ، لبرلز، ماڈرن، فیشن ایبل کہا جاتا ہے۔ وہ اس بیان پر اسے اپنی شخصی آزادی پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اور خواتین کے لباس کو ان کا مکمل انفرادی حق قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ لوگ بھی اس بیان پر شدید نا پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میڈیا پرسن اور فیشن انڈسٹری کے لیے تو یہ بات اس لیے بھی انتہائی ناپسندیدہ ہے کی اس سے ان کا بزنس اور سرمایہ کاری براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
دوسری طرف وہ طبقہ ہے جسے ہمارے سماج میں قدامت پسند یا مذہبی تصور کیا جاتا ہے۔
Read more