آپا ایک مہینہ ہسپتال رہ کر گھر آ گئیں لیکن یہ وہ آپا نہیں تھیں۔ وہ بدل چکی تھیں ایک نحیف و نزار عورت کے روپ میں اور پیٹ کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک تھیلی ہمہ وقت ساتھ تھی جس میں پاخانہ جمع ہوتا رہتا تھا۔
یہ تو ہم بتا ہی چکے ہیں کہ اوزاری زچگی کی وجہ سے ویجائنا اور بڑی آنت میں زخم بنے جنہیں ڈاکٹر نے اناڑی پن سے سی کر گھر بھیج دیا۔ لیکن شاید پھٹنے والی جگہ بہت زیادہ تھی اور تکنیکی طور پہ ٹھیک سے سلائی بھی نہیں ہوئی تھی سو ٹھیک طریقے سے جڑ نہ سکی اور ٹانکے بار بار ٹوٹتے رہے۔ ٹانکے ٹوٹنے کی وجہ سے زخم پھر سے کھل جاتا اور خون نکلنا شروع ہو جاتا۔
بے تحاشا خون کی بوتلیں، ان گنت دوائیاں اور تین آپریشنز کے بعد ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ ان کی پاخانے والی نالی میں سوراخ بنا کر اسے پیٹ سے باہر لٹکا دیا جائے۔ اس آپریشن کو کلاسٹومی کہتے ہیں۔ اس میں پاخانہ مقعد سے خارج ہونے کی بجائے پیٹ سے نکلی ہوئی بڑی آنت سے نکل کر پلاسٹک کے ایک بیگ میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب بیگ بھر جائے تو اسے اتار کر دوسرا بیگ لگایا جاتا ہے۔
Read more