انقلاب اکتوبر، قیادت اور عہد کی اخلاقیات
”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ نام ہی کافی ہے کہ جمہوریت کی پائیداری کے لئے تحریک ہے۔ تحریک کا نام کس نے تجویز کیا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کو جلا میاں نواز شریف نے بخشی اور گرج چمک والے خطاب نے جمہوریت پسندوں میں تحرک پیدا کر دیا اور مخالفین ہل کر رہ گئے ہیں۔ یار لوگوں نے نواز شریف کو عوامی ہیرو، انقلابی رہنما اور پاکستان کا واحد لیڈر قرار دینا شروع کر دیا اور سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لکھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
شادیانے کچھ یوں بھی ہیں کہ پنجاب بول اٹھا ہے۔ پنجاب جاگ رہا ہے۔ پنجاب جاگ اٹھا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمہوریت اور مزاحمت کی تحریک پنجاب سے ابھر رہی ہے۔ بائیں بازو کے نرم دل حلقے یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ہمیں نواز شریف کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ نواز شریف اب وہ والا نہیں رہا۔ ”اے پی سی“ سے خطاب نواز شریف کو مزاحمت کار اور اانقلابی ظاہر کر رہا ہے۔ کامریڈ، نواز شریف اب ہمارا ہے۔ ماضی کو بھول جائیں۔ ماضی پلٹ کر نہیں آتا ہے۔ نواز شریف زخم خوردہ ہے۔ نواز شریف اب انقلاب کی بنیاد بنے گا۔
Read more

























































































