استاد کی کہانی

دھرتی سے اگا بدن، جب پھر سے دھرتی میں جا ملے، تو مادی دنیا کے قرطاس پر لکھی جانے والی کہانی مکمل ہو جاتی ہے۔ ایک اور کہانی مکمل ہو گئی۔ شخصیات کے احوال و تذکرہ پر مبنی کتاب جب چھپنے جا رہی تھی، تو میں نے اس کا نام ”ادھوری کہانیاں“ اسی لئے رکھا تھا کہ زمیں کے سینے پر جب تک انسان موجود ہو، اس کی کہانی ادھوری رہتی ہے۔ تکمیل تو موت کرتی ہے۔ کچھ سن گن رکھنے والے کہا کرتے ہیں کہ کہانی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ رہتی ہو گی، تاہم ظاہری حواس سے بعد کی کہانی کو دیکھا، سنا، پڑھا اور محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ سو موت کی نیند، کہانی کے اختتام ہی کا نام ہے۔ انگریز تمثیل نگار کے مطابق دنیا کے سٹیج سے اپنے حصے کا کردار مکمل کر کے اتر جانے کا نام ہے۔ ادھوری کہانیاں کتاب کا ایک اور کردار استاد بلے خاں بھی اپنی کہانی مکمل کر گئے، ان کا کردار بھی تمام ہوا۔ استاد کی کہانی کا آخری پیراگراف دربار موسیٰ پاک شہید کے سائے میں، گزشتہ سوموار کی صبح نو بجے پڑھا گیا۔

دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کے پہلو میں محلہ گیلانیاں ہے اور استاد بلے خاں کا خاندان صدیوں سے یہاں مقیم۔ استاد کا تعلق نقارہ بجانے والے خاندان سے تھا۔ نقارہ بر صغیر کا قدیمی ساز ہے۔ نقارے کی کہانی بھی ختم ہونے کو ہے، اب خال ہی کہیں نظر آتا ہے۔ استاد کے پر دادا میاں اللہ ڈیوایا نقارے کے حوالے سے بر صغیر کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ فن اس خاندان میں نسل در نسل چلا۔ استاد کے والد خلیفہ رحیم بخش بھی معروف نقارچی تھے۔

Read more

نواز شریف کی اگلی تقریر سے بات کہاں جائے گی؟

تا دم تحریر نواز شریف نے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم سے ایک ہی تقریر کی ہے۔ لیکن اس ایک تقریر سے بہت کچھ بدل گیا۔ سوچ بدل گئی، سماج بدل گیا، یہ ملک بدل گیا۔ اس ایک تقریر سے یہ بیانیہ دم توڑ گیا ہے کہ نواز شریف کسی ڈیل کے متلاشی ہیں، این آر او مانگ رہے ہیں۔ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچا رہے ہیں۔ مصلحت پسند ہو کر خاموشی اختیار کر گئے ہیں۔ ایک تقریر نے یہ سب الزامات دھو دیے ہیں۔ اب نواز شریف کو چاہے جو بھی کہیں مگر کوئی بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ نواز شریف کسی رعایت کے طلب گار ہیں اور بند دروازوں کے پیچھے کسی خفیہ ڈیل کے چکر میں ہیں۔

آج تک ہم سنتے آئیں ہیں کہ پنجاب نے ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے سر خم کیا۔ کسی لیڈر نے ہمت نہیں دکھائی، کسی نے جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کوئی جابر سلطان کے سامنے حق بات نہ کہہ سکا۔ ہر ایک پنجابی حکمران نے غیر جمہوری قوتوں کی مدد سے اس ملک پر حکمرانی کی۔ ہمیشہ پنجابیوں کی ”کنڈ“ لگوائی۔ لیکن اب یہ بات ختم ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے جو کچھ ایک تقریر میں کہہ دیا، وہ کہنے کی کسی کو جرات نہیں رہی۔ غیر جمہوری قوتوں کی سب بات کرتے ہیں، مگر کوئی بھی آج تک اس طرح ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلنج نہیں کر سکا۔ پنجابیوں کے چہرے سے دہائیوں کی بد نامی کا یہ داغ نواز شریف نے ایک ہی تقریر میں دھو دیا۔

Read more

پی ڈی ایم جلسہ: رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو ایک بار پھر کوئٹہ ایئرپورٹ سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے 25 اکتوبر کو ہونے والے جلسے میں شرکت کے لیے کوئٹہ پہنچے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو جلسے میں دہشت گردے کے ممکنہ حملے کی خطرے کے باعث جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی۔

Read more

کراچی، پولیس، رینجرز اور پولیسنگ اختیارات

پاکستان رینجرز ایک نیم فوجی ادارہ ہے اور اس کی لیجسلیشن، سال انیس سو انسٹھ میں عمل میں لائی گئی تھی، جس کا کام سرحدوں کی حفاظت اور جنگ و شورش زدہ علاقوں میں عوام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس کا سربراہ میجر جنرل ہوتا ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف تعینات کرتا ہے۔ پاکستان رینجرز کو انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پنجاب رینجرز اور سندھ رینجرز۔ جب کہ صوبہ پختون خوا اور صوبہ بلوچستان میں اسے فرنٹیئر کور کہا جاتا ہے۔ پنجاب رینجرز کے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہیں۔ پنجاب رینجرز کا کام بھارت کے ساتھ تیرہ سو کلو میٹر لمبی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ آج کل پنجاب رینجرز پاک فوج اور دیگر انٹیلی جینس ایجنسیوں سے مل کر دہشت گردوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائی کر رہی ہے۔

سندھ رینجرز کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ہیں، جو بھارت کے ساتھ نو سو بارہ کلومیٹر لمبی سرحد کی حفاظت کرتی ہے۔ سال انیس سو نواسی میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں جو سید قائم علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کا بھی پہلا دور تھا، رینجرز کو آئین کی شق ایک سو سینتالیس کی ذیلی شق تین کے تحت کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے پولیس کی مدد کے لئے تعینات کیا تھا، پھر ستمبر سال دو ہزار تیرہ میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے سال انیس سو نواسی سے تعینات رینجرز کو پولیس کی معاون فورس کے ساتھ ایک متوازی پولیس فورس کے طور پر اختیارات تفویض کر دیے، ساتھ ہی سال انیس سو ستانوے کے دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن چار میں ترمیم کر کے رینجرز کو گرفتار ملزمان کو نوے روز تک تحویل میں رکھ کر انٹیروگیشن کا اختیار بھی دے دیا، یوں رینجرز کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے ان کے بعض اقدامات متنازع ہو گئے۔

Read more

لاہور کا پانچواں موسم

یوسفی صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ ”کیلنڈر سے اپریل، مئی، جون، جولائی اور اگست کے مہینے ہمیشہ کے لیے نکال دیے جائیں تو واللہ لاہور کا جواب نہیں!“ گزشتہ چند برسوں میں موسم کے جیسے حالات چل رہے ہیں، لگتا ہے کہ اکتوبر، نومبر، دسمبر، جنوری، اور فروری کو بھی نکالے بنا بات نہیں بنے گی۔ وجہ وہ پانچواں موسم ہے جس کا زندہ دلان لاہور کو چند سال سے سامنا ہے۔ اس رت میں سموگ کی صورت میں

Read more

پنجاب ماڈل زندہ باد

پنجاب کی سیاست 1857 سے تھانہ و پٹوار اور نمائندگان پر مشتمل ہے، پہلے اسے انگریز چوہدریوں، وڈیروں اور پیروں کے ذریعے چلاتے تھے، اب یہی کام ہماری سیاسی جماعتوں کے سربراہ کرتے ہیں۔ خان صاحب اس سیاست کو تبدیل کرنا چاہتے تھے، مگر حکومت آتے ہی وہ خیالی پلاو پکانے سے باہر نکل آئے ہیں۔ انھوں نے زمینی حقائق کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور جناب ناصر درانی جنھیں پولیس اصلاحات کے لئے مشیر خاص لگایا گیا تھا،

Read more

سانپ موقع شناس ہوتا ہے!

ملکی سیاسی منظر نامہ جس تیزی سے بدل رہا تھا، اس سے مجھ جیسے سوشل میڈیائی مبصرین کی تو چاندی ہو گئی۔ عجیب کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے بیٹھ جاتے تھے۔ کئیوں کا خیال تھا کہ اب کہ تب ”الطاف حسین پارٹ 2“ ریلیز ہوئی اور کچھ نے خیال پیش کیا کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ بس انقلاب آیا کہ آیا“۔

پہلے پہل دھوم مچی گوجرانوالا جلسے میں نواز شریف کی دھواں دھار تقریر کی۔ ہم نے کہا کہ اب ہو گا، دما دم مست قلندر۔ پھر کراچی جلسے سے نواز شریف غائب ہو گئے۔ یوں ہماری دمام دم مست قلندر والی پیش گوئی ہی ٹھس ہو کر رہ گئی۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ بلاول، کوئٹہ جلسے میں شرکت نہیں کریں گے! لو بھئی! اب ہم کیا سمجھیں؟

Read more

قومی ڈائیلاگ کا وقت آن پہنچا

پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے جلسے کے بعد، وزیر اعظم نے بر وقت مگر اپنی حرکات و سکنات سے سطحی قسم کا رد عمل دیا۔ ایک ایسا رد عمل جس سے وہ بذات خود ہدف تنقید بن گئے۔ ستم بالائے ستم اس کے اگلے دن کراچی کے جلسے کے بعد، مسلم لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور شام تک رہائی اور پھر سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں کی لمبی چھٹیوں کی درخواستوں نے ایک بحران پیدا کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے پر آرمی چیف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے، کور کمانڈر سے رپورٹ طلب کر لی۔ جھوٹ سچ کیا ہے اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا۔ تاہم اس سارے معاملے میں متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم، سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر گئی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات، حکومت کو بند گلی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جلد یا بدیر حکومتی بے بسی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

پی ڈی ایم جس سیاسی ہیجان کو ملک میں برپا کرنا چاہ رہی ہے، وہ ہیجان آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ یا پھر یوں کہہ لیں کہ پی ڈی ایم اپنے ہدف کی طرف آہستگی کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے۔ ایسے میں حکومتی ٹیم میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جو حالات کو سمجھتے ہوئے حکومت کو محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ علی زیدی جیسے وزرا کی گفتگو اونٹ پر آخری تنکے کا کام کر رہی ہے۔ شیخ رشید جیسے منجھے ہوئے سیاست دان نے بھی ابتدا میں بجائے حالات کو ٹھنڈا کرنے کے ایسے بیانات دیے کہ اپوزیشن مزید متحد ہوتی گئی۔ اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقع دیا یا نادانستہ طور پر ان سے غلطی ہوئی ہے۔

Read more

سپریم کورٹ: نیب کو پُرتشدد جرائم میں ملوث افراد اور وائٹ کالر کرائم میں ملوث ملزمان میں فرق کرنا ہو گا

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا نا انصافی ہو گی۔

Read more

بچوں کی غیر واضح جنس: دو بہنیں جو جنس تبدیلی کے آپریشن کے بعد دو بھائی بننے پر خوش ہیں

پیدائش کے وقت کچھ بچوں کے مخصوص اعضا میں نقص ہوتا ہے۔ عابد اور مراد بھی ایسے ہی ایک مسئلے کا شکار تھے جنھیں اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں کامیاب آپریشن کے بعد ٹھیک کر دیا گیا ہے۔

Read more

’’غداری‘‘ کے پرچے اور عوام کا محسوس نہ ہونے والا درد

عملی سیاست سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے چودھری انور عزیز محض ایک فرد نہیں تابدارروایت بھی ہیں۔مجسم شفقت جو مجھ ایسے لوگوں کو زندگی کی ہرمشکل سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ بخشتی ہے۔حال ہی میں انہیں ہماری بہن پروفیسر کرن عزیز کی بے وقت موت کے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ چودھری صاحب اس کے باوجود اپنی ہی نہیں ہماری ہمت بھی جواں رکھے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد وہ اسلام آباد آئے تو میری بیوی اور بچیوں کے

Read more

حکمران اشرافیہ کی باہمی چپقلش میں نیا کیا ہے

ایم کیو ایم 1988ء تک کراچی کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے جن محرومیوں کا ذکر تواتر سے کرتی رہی، ان میں محکمہ پولیس کی طرف سے شہریوں پر کی جانے والی زیادتی نمایاں تھی۔ ایم کیو ایم کا وعدہ تھا کہ وہ برسر اقتدار آ کر پولیس میں کراچی کے اردو بولنے والوں کا تناسب بڑھا کر اس کا ازالہ کرے گی۔

پھر ہوا بھی ایسا کہ 1988ء میں شہری علاقوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر وفاق اور صوبے میں حکومت کا حصہ بن گئی، تو اس نے اپنے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا۔ حالات بدل گئے 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا، جس میں انہی پولیس والوں نے حصہ لیا، جو اس دور میں بھرتی ہوئے تھے۔

Read more

ماہر معاشیات عاطف میاں کا آئی بی اے میں سیمینار منسوخی پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

ڈاکٹر عاطِف میاں کو کراچی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کی انتظامیہ نے پانچ نومبر کو ہونے والے زوم سیمینار میں مذہبی حلقوں کی جانب دھمکیوں کے بعد شرکت سے منع کر دیا ہے۔

Read more

آگرے کے ماسٹر صاحب

گھر میں احمد کا داخلہ اس دن سے بند ہو گیا تھا جس دن اس نے لوگوں کوجمع کر کے بھڑکایا اور پنجابیوں کے گھر میں آگ لگوائی تھی۔ ماسٹرصاحب تو بہت سیدھے آدمی تھے نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ لانبا سا قد دبلے پتلے انسان۔ اردو ایسے بولتے تھے جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ہرجملہ صاف، بغیر کسی غلطی کے۔

وہ آگرے سے آئے تھے۔ جب اپنے لٹے پٹے خاندان کے ساتھ کراچی پہنچے تھے تو صرف دس جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں انہوں نے۔

Read more

پاکستان سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر لوٹنے والے کشمیری نوجوانوں کی بحالی کی پالیسی کتنی مدد گار رہی؟

نثار احمد نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر واپس لوٹنے سے قبل ایک پاکستانی خاتون سے شادی کر لی تھی۔ وہ سنہ 1990 کی دہائی میں اسلحے کی تربیت حاصل کرنے پاکستان چلے گئے تھے۔

Read more

پیدل لانگ مارچ: بلوچستان کے طلبہ پنجاب کی سڑکوں پر 12 روز سے پیدل احتجاجی مارچ کیوں کر رہے ہیں؟

یہ طلبا صوبہ پنجاب کی جامعات میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبا کے لیے وظیفے کے مبینہ خاتمے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے لیے رواں برس سے بھی مکمل طور پر مفت وظیفوں کو بحال کیا جائے کیونکہ ان کے لیے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔

Read more

سندھ حکومت کو دھمکی اور شبلی فراز کی خواہش

کراچی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صوبائی اسمبلی کوبتارہے تھے کہ انہیں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملہ پر حکومت گرانے کی دھمکی دی گئی تھی لیکن سندھی ہونے کے ناتے ان کے لئے ’عزت، کرسی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے‘۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اسلام آباد میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کررہے تھے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے سوال پر ’سندھ حکومت گھناؤنا کردار ادا کررہی

Read more

عالمی وبا کرونا سے متاثر ہونے والے اوور سیز پاکستانی

جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان کا سکونتی شکیل احمد گزشتہ پندرہ سالوں (2005ء) سے متحدہ عرب امارات، دبئی میں بسلسلہ روزگار مقیم تھا اور وہاں گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس فروخت کرنے والی کمپنی میں ملازم تھا۔ شکیل نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی اور پھر خراب گھریلو حالات کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور گاڑیوں کا کام سیکھا۔ شکیل کو ایک جاننے والے نے دبئی آنے اور کام کرنے کئی آفر کی اور شکیل نے قبول کر لی۔

شکیل نے بتایا کہ اس نے جو کچھ بھی باہر رہ کے کمایا، اس میں اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم اپنے گھر بھیجتا رہا اور جس سے اس کے بیوی بچے گزر بسر کرتے تھے۔ شکیل کے والدین، بیوی اور دو بچے اس کی کمائی کے مرہون منت تھے اور جناح پارک کے ایک چھوٹے گھر میں سکونت پذیر تھے۔ شکیل کی سالہا سال سے بھیجی ہوئی رقم بطور زر مبادلہ ملک کی معیشت کا بھی حصہ تھی۔

Read more

پنجاب اور فوج، ایک لو سٹوری

تاریخی طور پر غدار ہونے کے لیے یہ شرط تھی کہ آپ پنجابی نہ ہوں۔ کبھی کبھی کوئی پپو غدار پیدا ہو جاتا تھا تو اس کے ساتھ سلوک بھی پپوؤں والا کیا جاتا تھا۔ لندن سے جدہ، جدہ سے لندن وغیرہ۔ اگر وہی بات کوئی بزرگ بلوچ بھی کرے تو اس غار میں گھس کر مارا جاتا تھا: پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

جمہوریت کے نام پر ہی ڈبہ گول؟

کراچی میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے بھرپور احتجاج پر وزیراطلاعات، سینیٹر شبلی فراز کا تبصرہ دلچسپ ہے ،ان کے مطابق گوجرانوالہ کے جلسے کے برعکس کراچی میں شو ہے لیکن پاور نہیں ہے ،اتنا بھی غنیمت ہے کہ شبلی فراز کو یہ توماننا پڑا کہ اپوزیشن کا کراچی کا اپنے حجم کے لحاظ سے بہت بڑا شو تھا ۔لگتا ہے حکومتی زعما نے ابھی تک شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ سوال یہ نہیں ہے

Read more

آئی جی سندھ مشتاق مہر کی پولیس افسران سے احتجاجاً چھٹی پر جانے کا اقدام موخر کرنے کی اپیل

پاکستان کے صوبہ سندھ کے انسپیکٹر جنرل آف پولیس مشتاق مہر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کے بعد احتجاجاً چھٹی پر جانے کا اپنا اقدام مؤخر کرتے ہوئے سندھ پولیس کے افسران سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی انکوائری مکمل ہونے تک اپنی چھٹی کی درخواستیں دس دنوں کے لیے ملتوی کر دیں۔

Read more

دل والے دلہنیا لے جائيں گے: 25 سال قبل جب نوجوانوں پر راج اور سمرن کا خمار چھایا تھا

ہندی فلم انڈسٹری کی سب سے رومانٹک سمجھی جانے والی فلم ‘دل والے دلہنیا لے جائيں گے’ یعنی ‘ڈی ڈی ایل جے’ کی ریلیز کو 25 سال ہوگئے ہیں۔

Read more

گوجرانوالہ جلسے کا مقدمہ: حزب اختلاف کے خلاف حکومتی اقدامات کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟

پنجاب پولیس نے 16 اکتوبر کو اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے کے منتظمین کے خلاف اپنی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 440، 147، اور 149، پنجاب کے آرڈیننس برائے انسدادِ متعدی امراض 2020 اور پنجاب ساؤنڈ سسٹمز ریگولیشنز ایکٹ 2015 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

Read more

میڈیکل انٹری ٹیسٹ: ایک ماہ پہلے میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے نصاب میں تبدیلی طلبہ کے لیے ذہنی اذیت

پاکستان میڈیکل کمیشن کے قانون کے مطابق رواں برس پہلی بار پورے ملک میں طلبہ ایک ہی انٹری ٹیسٹ دیں گے تاہم امتحانات سے محض ایک ماہ پہلے نیا نصاب جاری کرنے پر طلبہ کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

Read more

صادق و امین وزیر اعظم کو تاریخ کی گواہی دینے پر سلام۔

تاریخ و سیاست کے طالبعلم خوش قسمت ہیں کہ انہیں تاریخی حقائق کی سند کے لیے صادق و امین گواہی مل رہی ہے۔ آج تک کہا جاتا رہا کہ جو اقتدار سے محروم ہو جاتا وہ سیاستدان ایسٹیبلشمنٹ پر حملے کرتا ہے اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے الزام لگاتا ہے۔ آج کل سیاسی گرما گرمی بڑھی تو ”غدار“ نواز شریف اور کرپٹ سیاسی ٹولے نے ببانگ دہل ہماری مقدس ایسٹیبلشمنٹ پر الزامات کا کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش

Read more

پی ڈی ایم کا اصل بیانیہ؟

گوجرانوالہ اور کراچی میں حکومت مخالف سیاسی جلوسوں میں ثابت ہوا کہ ’جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا، حکومتی ترجمانوں کی زیادہ ترتوجہ شرکا کی تعداد گننے پر رہی، انہیں اس امر سے غرض نہیں کہ ریاست مخالف بیانیہ پر جارحانہ روش، ناتواں جمہوریت کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ حکومت کا کام اپوزیشن کے الزامات و احتجاج کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اگرحزب اقتدار بھی جارحانہ انداز اختیار کرلے تواشتعال نگیزی اور تشدد بڑھنے کے

Read more

پی ڈی ایم کی بے سود ’’احتیاط‘‘

کئی مہینوں سے فریاد کئے جارہا ہوں کہ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں ’’معروضی حقائق ‘‘عنقاہونا شروع ہوجاتے ہیں۔’’سچ‘‘ محض ذاتی یا گروہی تعصبات کے اظہار کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ایسے ماحول میں ’’صحافی‘‘ سے توقع فقط اتنی ہوتی ہے کہ وہ ’’غیر جانب داری‘‘ والی ’’منافقت‘‘ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فریقین کے پھیلائے ’’بیانیوں‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔اس ضمن میں ہچکچاہٹ یا تحمل اسے ’’حکومت کا غلام ‘‘ یا ’’لفافہ‘‘ ہوا دکھاتی

Read more

حزب اختلاف کا مطالبہ محض عمران کی معزولی نہیں بلکہ اختیارات کا نیا توازن ہے

18 اکتوبر (اتوار) کو حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد نے کراچی میں ایک زبردست جلسہ منعقد کیا جس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کا عزم ظاہر کیا گیا بلکہ مقتدرہ کے ان حصوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کو درپردہ سیاسی مدد فراہم کر کے اسلام آباد کا اقتدار بخشا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے

Read more

نور الہدیٰ شاہ کے سوالات

پی ڈی ایم کا کاروانِ جمہوریت گوجرانوالہ کے بعد، کراچی اس دن پہنچا، جس دن پیپلز پارٹی سانحہء کارساز کے شہدا کی جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ 18 اکتوبر کو جلسے میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف جب کراچی پہنچیں تو کارکنوں کے ہم راہ بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں پر ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں کو حکومتی وزرا نے مزار قائد کی توہین قرار دیتے ہوئے، قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔ جلسہ تو شام کو ہونا تھا مگر اپوزیشن کے اس عمل اور اس پر حکومتی وزرا کے رد عمل نے عوام اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کی حمایت اور مخالفت میں ٹرینڈ چل نکلے۔

ایسے میں قابل احترام محترمہ نور الہدیٰ شاہ صاحبہ نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی در بدر قوم، اپنے بابا کے مزار پر احتجاج بھی نا کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ گریٹ یہی صحیح جگہ ہے، احتجاج رقم کرانے کی۔ سوال اٹھانے کی۔ جناح صاحب، ولی اللہ نہیں لیڈر ہیں۔ لیڈر ہی جواب دہ ہوتا ہے، تاریخ کے ہر اتار چڑھاو کا۔ جناح صاحب اٹھیے اٹھیے پلیز، بتائیے یہ ملک کس کے لیے بنایا تھا؟ اس زمین پر بسنے والی عوام کے لیے یا؟

Read more

فیڈرل پبلک سروس کمیشن مزید شہروں میں ٹیسٹ سینٹر قائم کرے

لاک ڈاؤن کے بعد تعلیمی سلسلے بحال ہوئے، تو فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے بھی اپنے امتحانات کا اعلان کر دیا، جس پر سرکاری نوکریوں کے انتظار میں بیٹھے امیدواروں نے سکھ کا سانس لیا۔ انہی میں حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے نبیل نے بھی اپنی بیگم اور اس کی دوست کے ہم راہ، گریڈ سترہ کی اسامی کے ایک ٹیسٹ کے لیے حیدر آباد سے کراچی کا رخ کیا۔ پورے ملک سے امیدواروں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا ٹیسٹ دینے کا بندوبست صرف دس شہروں میں ہی کیا جاتا ہے۔ ان میں اسلام آباد، گلگت، اسکردو، بلوچستان میں کوئٹہ، خیبر پختون خوا میں پشاور اور ڈی آئی خان، پنجاب میں لاہور اور ملتان، سندھ میں سکھر اور کراچی۔

مقرر وقت صبح دس بجے سے پہلے پہنچنے کے لیے انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ سے نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ خواتین کا ساتھ پھر مسافر وین کے بھرنے میں وقت کے ضیاع اور آتے جاتے ٹرانسپورٹروں کے منہ مانگے کرائے کی بلیک میلنگ کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ جب کہ گاڑیاں جو چار مسافر لے کر اسٹاپ سے کراچی سہراب گوٹھ تک جاتی ہیں، ان کا کرایہ چھے سو سے سات سو فی سواری ہوتا ہے۔

Read more

فضائی آلودگی اور سموگ سے کیسے بچا جائے

کراچی میں آپ اپنے گھر سے باہر نکلیں تو ہر طرف بھاری ٹریفک میں چنگچی رکشا، سوزوکیوں، کاروں سمیت دیگر گاڑیوں کے سیلنسر اور مختلف انڈسٹریوں سے نکلتا دھواں، آپ کا بھر پور استقبال کرے گا۔ اپنی منزل پر پہنچنے سے قبل ہی گرد اور مٹی سے بھرا چہرہ اور کھانسی آپ میں گھر کر جائے گی، اسی صورت احوال کا سامنا آپ کو لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یقیناً کرنا پڑتا ہے، جس کو ہم روزمرہ کی زندگی میں تو ماحول کا ایک حصہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، لیکن گزشتہ 5 سالوں سے اس کے جو نقصان ہمارے سامنے آرہے ہیں، وہ انسانی زندگیوں کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں، پر ہمیں اس کی کوئی فکر محسوس نہیں ہوتی۔

فضائی آلودگی یا سموگ، اگر چہ نیا مسئلہ تو نہیں، لیکن اب یہ اس سطح پر ضرور پہنچ گیا ہے، جس سے انسانوں سمیت دیگر حیات کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سال 2016 ء سے لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں سمیت کراچی میں سموگ کی بڑھتی ہوئی صورت احوال سے ہمارے ماحول پر اس کے بہت سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ فیکٹریاں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اور فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا دھواں ہے۔ فضائی آلودگی اور سموگ میں مختلف مادے، گیسیں اور ذرات ہوا میں مل کر ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ موسم سرما کی آمد سے قبل اس موسم میں یہ پارٹیکل آپس میں مل کر سموگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے انسانوں سمیت دیگر حیات سخت حالت سے دو چار ہوتے ہیں۔

Read more

مسلم لیگ نون کی کمزوری اور اس کے اثرات

بد قسمتی سے اس وقت مسلم لیگ نون کے پاس کوئی سیاسی نظریہ نہیں۔ نا ہی نظریاتی کارکن، نا ہی ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل سطح تک تنظیمی اسٹرکچر، نا ہی رابطہ دفاتر، اور نا ہی ملک گیر موثر موجودگی۔ زیادہ سے زیادہ کچھ بڑے لیڈر اور کچھ الیکٹیبل ہیں اور ان کے ڈیرے اور اوطاقیں۔ لیڈر اگر جیل جائیں گے اور الیکٹیبل کسی دوسری پارٹی میں، تو پھر وہ کوئی نتیجہ خیز تحریک کیسے چلا سکتے ہیں! انہیں کئی دفعہ کئی سالوں کا وقت ملا، مگر ان کی توجہ جوڑ توڑ اور مخالفین کی ٹانگیں کھینچنے کی طرف رہی۔ نا ہی وہ اپنی پارٹی کا کوئی واضح اور منفرد منشور یا بیانیہ تشکیل دے سکے اور نا ہی کسی عوامی ضرورتوں اور پذیرائی پر مبنی کسی نظریے کے تحت نظریاتی کارکنوں کی کوئی کھیپ تیار کر سکے۔

نا کوئی اسٹڈی سرکل، نا ہی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی نظام و انتظام کیا اور نا ہی اپنی پارٹی میں ذیلی تنظیموں کے ادارے قائم کیے۔ ہر موقع پر بس ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کیے رکھی وقتی فائدوں کے لئے وقت کے ساتھ بدلتے پاپولر نعروں پر مبنی موقف اپنائے، جو کہ کبھی کبھی تو متضاد بھی رہے، کبھی کسی کی حمایت کر کے جیت گئے۔ کبھی کسی کی مخالفت کر کے۔ خود اپنا کوئی موقف کوئی پروگرام پیش کرنے اور اس پر کامیابی حاصل کرنے میں نا کام رہے۔ اب جب کہ وہ نواز شریف کی سربراہی میں حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو ان کی نظریاتی، تنظیمی اور حکمت عملی کی یہ کمزوریاں واضح ہو کر سامنے آ رہی ہیں۔

Read more

اقلیت کا درد

میں جب پہلی بار برطانیہ گیا اور کام شروع کیا، تو ہمیں با جماعت نماز کے لئے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ برمنگھم برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں پر ایک مرکزی مسجد بنی ہوئی ہے، لیکن یہ میری قیام گاہ اور اسپتال دونوں سے دور تھی۔ میں چوں کہ ٹراما سنٹر میں کام کر رہا تھا، اس لئے ہر وقت بس آپریشن تھیٹر کے کپڑے پہن کر ہی دن رات گزرتے تھے۔ جمع کو بھی خال خال ہی موقع ملتا کہ ایک طرف سیریئس مریض ہوتے تھے اور دوسری طرف ایک مذہبی ذمہ داری تھی۔

ہمیں حلال گوشت بھی صرف چند دکانوں پر ملتا تھا۔ جب تک میں اکیلا تھا، تو ایک نزدیکی مسلمان کے ریستوران سے کھانا لیتا تھا۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ صرف چکن اور چپس بناتا تھا۔ مجھے ان چند مہینوں میں چکن اور آلو سے اتنی نفرت ہو گئی تھی کہ کئی سال میں نے ان کا بائیکاٹ کیے رکھا۔ خیر یہ تو وہ وقت تھا، جب حلال کھانا پھر بھی مل جاتا تھا۔ چار پانچ سال گزار کے میں واپس پاکستان آ گیا۔

Read more

گوجرانوالہ جلسہ: پی ٹی آئی بے جا چراغ پا

خوش نصیب ہوں۔ چند دوست مجھے کسی صورت تنہائی اور گمنامی کی نذر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایسے ہی دو مہربانوں نے جمعہ کی رات فیصلہ کیا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ میرے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھا جائے۔یہ دونوں دوست مختلف ٹی وی چینلوں کی پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے لیکن میں ہذیاتی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ تقریباََ ہر چینل کے ’’سٹار‘‘ اینکرز اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ

Read more

دراصل بازار عمران خان کا حقیقی دشمن ہے

اس وقت سب سے قابل رحم حالت ذرائع ابلاغ کی ہے۔ وہ یہ تو نہیں بتا یا دکھا پا رہے کہ نواز شریف نے دراصل آرمی چیف یا آئی ایس آئی کے سربراہ کے بارے میں کیا کہا مگر جو بھی کہا اس پر تنقید و تجزئیات کو ضرور نمایاں کرنے پر مجبور ہیں۔

یہی کچھ چند ہفتے قبل کسی ویب سائٹ پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہل خانہ کے مبینہ سمندر پار اثاثوں سے متعلق رپورٹ کے ساتھ بھی ہوا۔ اصل رپورٹ کسی چینل یا اخبار نے نہیں دکھائی یا چھاپی، البتہ رپورٹ کی صداقت کو چیلنج کرنے کے لیے میڈیا کو ضرور آزادی میسر رہی۔

Read more

دراصل بازار عمران خان کا حقیقی دشمن ہے

حزبِ اختلاف کی موجودہ تحریک عمران حکومت کو کمزور تو کر سکتی ہے ختم نہیں کر سکتی۔ جیسے 2014 کے عمرانی دھرنے نے نواز شریف کو کمزور ضرور کیا مگر ختم نہیں کر سکا۔

Read more

قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں : حیات و خدما ت

قائد اعظم کے دست راست پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کا شمار مجاہدین تحریک آزادی اور معماران وطن میں ہوتا ہے۔ قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے اس بطل جلیل کی ملی خدمات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ وہ ایک باصلاحیت، دیانتدار، محنتی، بے باک اور عہد ساز شخصیت تھے۔

انہوں نے یکم اکتوبر 1896 ءکو مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمیندار نواب رستم خان کے گھر جنم لیا۔ پیدائش میں ان کا نمبر سجاد علی کے بعد دوسرا تھا۔ ان کا خاندان جو مشہور بادشاہ نوشیروان عادل کی نسل سے متعلق ہونے کا دعویدار تھا۔ تقریباً پانچ سو سال قبل مغلیہ عہد میں ایران سے ہندوستان آیا تھا۔ ان کی زمینیں صوبہ پنجاب اور اتر پردیش میں پھیلی ہوئی تھیں۔ برطانوی عہد میں لارڈ کنینگ نے لیاقت علی خان کے دادا نواب احم علی خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب کے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ اسے اور اس کی اولاد کو ہمیشہ پانچ ہزار روپے کا مالیہ معاف کر دیا جائے اور دس ہزار روپے کی خلعت دی جائے ان کے ہاں نواب کا خطاب پشتی تھا۔

Read more

بلوچ طلبا ہتھیار نہیں، قلم مانگ رہے ہیں

بلوچستان میں پوسٹ گریجویٹ کرانے والی کوئی چار یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک میڈیکل کالج ہے۔ ایک زرعی یونیورسٹی ہے اور ایک خواتین کے لیے مختص ہے۔ باقی یونیورسٹیاں جیسا کہ یونیورسٹی آف لورالائی اور یونیورسٹی آف تربت میں گریجو ایشن تک پروگرام کروائے جاتے ہیں۔ بلوچستان کے طلبا کے لیے دوسرے صوبوں کے یونیورسٹی میں کوٹا مختص رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے ملک میں بھی غیروں کی طرح داخلہ لیتے ہیں۔ 73 سال میں بلوچستان میں چند جامعات کا ہونا جو کہ مکمل فعال بھی نہیں بنائی جا سکیں، اس سے کیا تاثر پیدا ہوتا ہو گا۔

کچھ عرصے سے بلوچستان کے طلبا کے لیے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں مختص سیٹوں کا ایک تسلسل کے ساتھ خاتمہ جاری ہے۔ 2017ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مختص سیٹوں کو نصف کر دیا گیا اور اب اس سال 2020ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے بلوچستان کے طلبا کے لیے مختص سیٹوں پر اسکالر شپس ختم کر دیے گئے ہیں۔

Read more

سیمنٹ کی فروخت میں زبردست اضافہ، کیا کاروباری و تعمیراتی شعبے میں تیزی ظاہر کرتا ہے؟

پاکستان میں سیمنٹ کی پیداوار اور فروخت کے کاروبار سے منسلک لکی سیمنٹ کی پیداوار اور فروخت میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Read more

ایف اے ٹی ایف اجلاس: کیا پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکے گا؟

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا ورچوئل اجلاس رواں ماہ 21 اکتوبر سے 23 اکتوبر کے درمیان منعقد ہو گا۔ جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ متوقع ہے۔

Read more

نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانیہ؛ ‘ملک کسی نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا’

پاکستان میں حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے پنجاب کے شہر گجرانوالہ میں منعقد کیے جانے والے جلسے سے بذریعہ ویڈیو خطاب کے دوران پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو رخصت کرنے اور وزیرِ اعظم عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے کے الزامات عائد کیے۔

Read more

حزب اختلاف اتحاد کا اتوار کو کراچی میں جلسہ، بیانہ کیا ہوگا؟

گیارہ جماعتی اتحاد پی ڈی اے نے گذشتہ روز گوجرانولہ میں اپنے پہلے مشترکہ جلسے کا انعقاد کیا۔ اسی سلسلے میں اتوار کو کراچی میں جلسے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کی میزبان پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

Read more

نیو خان

پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے رہنے والے کسی اور سے واقف ہوں یا نہ ہوں، ”نیو خان“ سے ضرور واقف ہوتے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں بندو خان سمیت کئی دیگر خانوں کو بھی لوگ جانتے ہیں لیکن جو شہرت پاکستان میں نیو خان کو نصیب ہوئی، دیگر خان اس کے قریب قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔

نیو خان بنیادی طور پر ایک ٹرانسپورٹ کمپنی ہے جو مسافر بسیں چلاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کئی سیاست دان بھی یہ کام کرتے ہیں لیکن نیو خان صرف بسیں چلاتا ہے۔

Read more

جنرل قمر باجوہ کیا ردعمل دیں گے؟

آنے والے دنوں میں یہ بحث ہوتی رہے گی کہ گوجرانوالہ کے احتجاجی جلسہ میں کتنے لوگ تھے۔ یہ لوگوں کا سمندر تھا یا گیارہ جماعتیں مل کر بھی چند ہزارسے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کرسکیں۔ تاہم اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر سیاسی

Read more

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا پاور شو

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے، آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے جیسا شہرہ آفاق شعر پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے جلسہ میں مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی طرف سے کی جانے والی تقریر کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے۔ وہ بات جس کو زیرلب کہتے ہوئے بھی سیاسی قیادت تذبذب کا شکار رہتی تھی وہی بات کل برسر عام ہوئی ہزاروں لاکھوں کے مجمع کے سامنے ہوئی ببانگ دہل ہوئی۔ پہلی بار ملک کے سرونگ چیف کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے ان سے جواب طلب کیا گیا۔ پہلی بار عمران خان کی حکومت کی سرپرستی کا الزام لگا کر ملکی حالات کی ابتری کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ پی ڈی ایم قائدین کے لہجوں کی تلخی میں اضافہ اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں لہجے زیادہ تلخ اور کڑوے ہوں گے۔

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا پاور شو خوب رہا۔ اپوزیشن جماعتوں نے مکمل تیاری کے ساتھ اس میں شرکت کی اور عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی لالا موسٰی سے ریلی کے ساتھ روانگی اور مریم نواز کی جاتی عمرہ اور مولانا فضل الرحمن کی لاہور سے ریلیوں کے ساتھ گوجرانوالہ روانگی کے بعد لاہور تا جہلم جی ٹی روڈ جلسہ گاہ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ان ریلیوں نے خوب رنگ جمایا اور اپوزیشن جماعتوں کے ورکرز نے دل کھول کر شرکت کی۔ قطع نظر اس کے کہ جلسہ میں شرکا کی تعداد کتنی تھی یہ بات زیادہ اہم ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے پنجاب میں کم بیک کیا ہے اور ورکرز کو نکالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ یہ بات ان جماعتوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

Read more

پنجاب کے پہلے غدار کی للکار

میاں نواز شریف صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ وہ اس ملک کے پہلے سیاسی رہنما نہیں ہیں جن پر ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ مگر وہ اس لحاظ سے ضرور منفرد ہیں کہ وہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے پہلے غدار قرار پائے ہیں کیونکہ اس سے پہلے قیام پاکستان سے لے کر جتنے بھی سیاسی رہنماؤں کو یہ شرف بخشا گیا ہے ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان یا دیگر صوبوں سے تھا۔ مثلاً ملک کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل، قرارداد لاہور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق، ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمٰن، جن کو غدار کہا گیا ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے۔

Read more

پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ، قائدین کی حکومت پر کڑی نکتہ چینی

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈٰی ایم) کے زیر اہتمام پہلا جلسہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ہوا۔

گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے جلسے میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی مسائل اور معاشی صورتِ حال پر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

Read more

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر عمر گل نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی

عمر گل کا بین الاقوامی کیریئر چار سال قبل اختتام کو پہنچ چکا تھا تاہم یہ کیریئر خاصا متاثر کن رہا ہے۔ انھوں نے 47 ٹیسٹ میچوں میں 163 وکٹیں حاصل کیں۔ 130ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 179 رہی۔

Read more

پنجاب میں بلوچ طلبا کا لانگ مارچ

بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی ناگفتہ صورتحال، بنیادی ضروریات و سہولیات کی عدم فراہمی اور دیگر کئی مسائل کے حل کے آرزو مند چند باہمت اور دور اندیش طلباء کو تقریباً آج سے چھ یا سات برس پہلے ”بلوچ سٹوڈنٹس کونسل“ کے قیام پر ابھارا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ( بی ایس سی ) مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد بلوچستان سمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچستان کے (بلوچ) طلبا و طالبات کے

Read more

16 اکتوبر 1951 سے 16 اکتوبر 2020 تک

اکبر الہ آبادی سے ہم ایسے چھٹ بھیوں کا تعلق تاریخ کے الجھے ہوئے دھاگوں جیسا رہا۔ حسرت موہانی جیسے بطل حریت نومبر 1950 میں اپنی وفات سے کوئی چھ ماہ قبل آخری مرتبہ لاہور آئے تو احمد بشیر سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر الہ آبادی کو عجب وارفتہ ڈھنگ میں یاد کیا۔ ’اکبر… آدمی بے پناہ تھے۔ انگریزوں سے نفرت کرتے تھے، گول مول اشاروں میں کام کی باتیں کر جاتے تھے۔‘ ہماری پایاب نسل کا المیہ یہ تھا

Read more

مزدور تحریک کا نیا جنم!

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں مزدور تحریک منظم بھی تھی اور پر اثر بھی۔ ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہو، بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح ہو، سامراج کا تسلط ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ، پاکستان کے مزدور ان تمام مسائل پر سڑکوں پر آتے اور حکمرانوں کو مسائل کے حل پر مجبور کرتے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مزدور تحریک نے اپنا نظم بھی کھو دیا اور اثر بھی۔ مزدور تحریک کے زوال کے اسباب میں اگر چہ مزدور بھی ایک حد ذمہ دار ہیں، لیکن سامراج اور اس کے حاشیہ برداروں نے بھی اپنا پورا کردار ادا کرتے ہوئے، ایسی پالیسیاں بنائیں، جن سے مزدور تحریک تنزلی کا شکار ہوتی رہی۔

اس تمام واقعے میں بنیادی کردار افغان جنگ کا ہے، جس میں فوائد تو ملکی اشرافیہ اور بین الاقوامی ٹھیکداروں نے سمیٹے، لیکن پاکستان کے عوام اور مزدوروں کے حصے میں نقصان ہی آئے اور نقصان کا یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح سے جاری ہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی بنیادی ترجیح کشکول اور پرائی جنگیں لڑنا رہی ہیں۔ ملک میں صنعت اور تجارت کا فروغ کبھی بھی بنیادی ترجیح نہیں رہا، اور ظاہر ہے کہ جب ’آمدن‘ کی یہ مدیں ختم ہو جاتی ہے تو خزانہ خالی اور عوام بد سے بد حال ہوتے چلے جاتے ہیں۔

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے ’جھگڑے‘ کے بعد افسر کا تبادلہ

سی سی پی او لاہور عمر شیخ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں اور اس کی وجہ ان کا ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کے ساتھ ’جھگڑا‘ ہے جس کے بعد ایس پی کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

Read more

سوئے اتفاق

بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ کسی طرح نئی جگہیں دیکھوں، نئے نظریات سے آشنا ہو جاؤں، نئے

لوگوں سے ملوں اور ان سے زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے بہت ساری باتیں سیکھوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت شوق ہے۔ ایسا کرنے سے بہت ساری ایسی باتوں سے واقفیت ہو جاتی ہے جو کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر جگہ میری اس خواہش کا سامان ہو ہی جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شام کا وقت ہو اور چائے نہ پی جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاسٹل کے کینٹین میں اپنے نئے دوست فراز کے ساتھ چائے پینے بیٹھا تھا۔ فراز سے پہلی ملاقات ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ہوئی تھی اور پہلی ہی ملاقات میں دوستی ہو گئی۔ وہ بلوچستان کے ایک خوبصورت لیکن پس ماندہ علاقے سے ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے۔ کچھ گپ شپ کے بعد میں نے فراز سے پوچھا:

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کالک ملنے کا واقعہ: نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کو مذہبی امتیاز کا سامنا کیوں؟

گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر متعدد مشہور شخصیات کے ساتھ موجود ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے کالک ملنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کالک ملنے کا واقعہ: نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کو مذہبی امتیاز کا سامنا کیوں؟

گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر متعدد مشہور شخصیات کے ساتھ موجود ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے کالک ملنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Read more

پروفیسر منظور احمد کی وفات: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

پروفیسر منظور احمد گذشتہ روز لاہور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے لاہور کے شاہ حسین کالج کی بنیاد رکھی جس نے اگلی کئی دہائیوں کے لیے پاکستانی معاشرے اور سول سوسائٹی کو ایک لبرل بیانیہ دیا۔

Read more

گوجرانوالہ جلسہ: پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف تحریک کا آغاز، شہر میں 31 مقامات کنٹینرز لگا کر سیل

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں آج حزب اختلاف کی جماعتیں ایک جلسے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرنے جا رہی ہیں لیکن اس دوران اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کو کنٹینرز کی صورت میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Read more

گوجرانوالہ میں احتجاجی جلسہ کے بعد کیا ہوگا؟

پنجاب حکومت نے بہت لیت و لعل کے بعد ملک کی گیارہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کو جمعہ کے روز گوجرانوالہ میں حکومت کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ البتہ گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کیے گئے اس  ’اجازت نامہ‘  کی کسی بھی شق پر عمل ممکن نہیں ہوگا۔ یہ شرائط نامہ دیکھ کر اپوزیشن ہی نہیں غیر جانبداری سے اس احتجاج کا مشاہدہ کرنے والے بھی مسکرائے بنا

Read more

کورونا وائرس اور انڈیا: بی جے پی حکومت پر تنقید، راہل گاندھی کے مطابق ’پاکستان اور افغانستان نے کووڈ 19 کا بہتر مقابلہ کیا‘

انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اور افغانستان نے بھی کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ہم سے بہتر اقدامات کیے ہیں۔‘

Read more

پاکستان میں استعماری سیاستدان: پروڈا سے ایبڈو تک

برصغیر میں برطانوی استعماریت کے اثرات تقسیم ہند کے بعد بھی باقی ہیں۔ اس خطے پر حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے جرنیلی طرز حکمرانی اپنایا، برطانوی سرکار نے ہندستان میں جنگ پلاسی کے بعد میجر جنرل رابرٹ کلائیو کو پہلا سیاسی حکمران بنایا۔ بنگال، کلکتہ، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی کے اختیارات حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط بھی جرنیلی حکمران نے کیے۔ 1857 ء کی جنگ کے بعد صوبوں میں گورنری کے عہدوں پر بھی انگریز نے فوجی جرنیلوں کو تعینات کیا۔

برطانیہ کے سرکاری نیشنل آرمی میوزیم کے آرکائیوز میں کلائیو کو بے رحم فوجی کمانڈر، لالچی، قیاس آرائی کرنے والا اور سامراجی سیاست دان کہا گیا ہے۔ انگریز سرکار نے جمہور اور سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان میں فوجی اور بیوروکریسی کا مضبوط ڈھانچا تشکیل دیا تھا۔ جب تک یہ ڈھانچا طاقت ور نہیں ہوا، انگریز سرکار نے اس خطے میں جمہوریت کا تصور پنپنے نہیں دیا۔ تقسیم ہند کے بعد، برطانیہ کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی اور عسکری بیوروکریسی نے پاکستان پر نو آبادیاتی تسلسل کو قائم رکھنے میں اسی ڈھانچے سے مدد حاصل کی۔ سات اکتوبر کا روز انتہائی خاموشی سے گزر گیا، حالاں کہ یہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان مٹ نقوش رکھتا ہے، جب ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔

Read more

گوجرانوالہ میں جلسہ پر نظریں

اقبالؔ کے ایک مصرعہ میں تحریف کی جسارت کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’صحافت نام تھا جس کا ‘‘ وطن عزیز میں باقی رہ گئی ہوتی تو بدھ کے روز ہمارے میڈیا کے لئے اہم ترین موضوع وہ رپورٹ ہونا چاہیے تھی جو IMFنے بعداز کرونا معیشت کے بارے میں تیار کی ہے۔پاکستان کے حوالے سے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے نے اس رپورٹ میں پریشان کرنے والی Projectionsکی ہیں۔ کلیدی پیغام یہ ہے کہ جولائی2018کے انتخاب سے

Read more

لیاقت علی خان: پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا قتل سات دہائیوں بعد بھی ایک معمہ

آج سے 69 برس قبل پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا تاہم لگ بھگ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ قتل اب بھی ایک معمہ ہے۔

Read more

سروس شوز کی کہانی: جب تین دوستوں کو فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر ملا

جب 1940 کی دہائی میں تین دوستوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس وسائل تھے نہ ہی ہنر مگر ایک قدر مشترک تھی کہ تینوں دوست ہی سرکاری نوکری کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

Read more

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے ’پاور شو‘ کی تیاریاں، پاکستان میں سیاسی ماحول گرم

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے 16 اکتوبر کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں حکومت مخالف پہلا جلسہ کر رہی ہیں جس کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

حکومت پنجاب نے جمعرات کو گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں جلسے کی باضابطہ اجازت بھی دے دی ہے۔ تاہم جلسے سے قبل حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ایک دوسرے پر الزامات نے سیاسی ماحول مزید گرم کر دیا ہے۔

Read more

زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی جس سے گمشدہ بچوں کی رپورٹ اور بازیابی میں مدد ملے گی

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے مطابق وزارت انسانی حقوق اور پی ایم ڈی یو کے اشتراک سے زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی ہے جس کی مدد سے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو فوری رپورٹ کیا جا سکے گا اور گمشدہ بچوں کی بازیابی میں بھی مدد ملے گی۔

Read more

زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی جس سے گمشدہ بچوں کی رپورٹ اور بازیابی میں مدد ملے گی

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے مطابق وزارت انسانی حقوق اور پی ایم ڈی یو کے اشتراک سے زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی ہے جس کی مدد سے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو فوری رپورٹ کیا جا سکے گا اور گمشدہ بچوں کی بازیابی میں بھی مدد ملے گی۔

Read more

زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی جس سے گمشدہ بچوں کی رپورٹ اور بازیابی میں مدد ملے گی

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے مطابق وزارت انسانی حقوق اور پی ایم ڈی یو کے اشتراک سے زینب الرٹ ایپ لانچ کر دی گئی ہے جس کی مدد سے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو فوری رپورٹ کیا جا سکے گا اور گمشدہ بچوں کی بازیابی میں بھی مدد ملے گی۔

Read more

ڈی چوک دھرنا: کیا سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں دھرنا حکومتی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے؟

ان ملازمین کے مہنگائی ختم اور جبری برطرفیاں بند کرنے جیسے مطالبات کا جائزہ لینے سے قبل یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف محکموں سے تعلق کے باوجود یہ ملازمین اپنے مطالبات لیے ایک ہی وقت میں کیسے ڈی چوک تک پہنچے۔

Read more

ڈی چوک دھرنا: کیا سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں دھرنا حکومتی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے؟

ان ملازمین کے مہنگائی ختم اور جبری برطرفیاں بند کرنے جیسے مطالبات کا جائزہ لینے سے قبل یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف محکموں سے تعلق کے باوجود یہ ملازمین اپنے مطالبات لیے ایک ہی وقت میں کیسے ڈی چوک تک پہنچے۔

Read more

انسانی حقوق کونسل کی رکنیت پاکستان کے لیے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی: ماہرین

پاکستان کے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (ایچ آر سی) میں بھاری اکثریت سے انتخاب پر ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ پیش رفت اسلام آباد کی بین الا اقوامی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے وہیں یہ ملک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے خود گرفتاری دی یا اسے پولیس نے پکڑا؟

ملزم کے والد کی طرف سے مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والے ایک ویڈیو بیان نے اس حوالے سے تضاد پیدا کر دیا ہے۔ ویڈیو میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم عابد ملہی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود گرفتاری کے لیے پیش ہوا۔

Read more

بھیک کا انوکھا طریقہ یا احتجاج کا نرالا انداز

کچھ دن قبل ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی بلکہ بعد میں سنا ہے کہ اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے، کہ امریکا میں ایک جوان بیچ چوراہے میں سراپا احتجاج ہے یا پھر ہمہ تن کاسہ لیسی پر اتر آیا ہے کہ امریکی قوم سے ایک پلے کارڈ پہ لکھی ہوئی تحریر سے کچھ اس طرح سے مخاطب ہے : ”ایک ڈالر دو، ورنہ آنے والے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ دینے جا رہا ہوں۔“ اور اسی اثنا ایک پکی عمر کے ایک شخص کو بھی دکھایا گیا ہے کہ وہ اس بھیک منگے یا پروٹیسٹر کے ساتھ ذرا جھک کر کھڑا ہے اور اس کو ہاتھ میں ایک ڈالر پکڑا رہا ہے۔

اب یہ طریقہ اگر ایک جانب انوکھا اور نرالا ہے تو دوسری طرف، سیاسی، معاشی اور اخلاقی بھی ہے، وہ اس لیے کہ یہ طریقہ ہزار بار بھیک یا بلیک میکنگ کا عکاسی کرتا ہو، پر نعرہ یا احتجاجی تحریر سیاسی ہے۔ یہ نعرہ نا صرف امریکا بلکہ تمام دنیا کی سیاست میں ایک گونج کی شکل میں سنا گیا اور تحریر کو وائٹ ہاؤس کے خلاف ایک وائٹ پیپر کی طرح سمجھا گیا۔

Read more

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سرکاری ملازمین کا حکومتی پالیسوں کے خلاف دھرنا

مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تعداد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ہے۔

Read more

ٹائیگر فورس: وزیراعظم کے رضاکاروں کی ٹیم مہنگائی پر کیسے قابو پائے گی؟

حکومت بار بار اعلان کرتی ہے کہ ہم کسی کو بھی مقررہ سے زیادہ قیمت پر کوئی چیز فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر اس مہنگائی کا اصل ذمہ دار ہے کون؟

Read more

پاکستان میں مہنگائی کی لہر، آئی ایم ایف کی مزید اضافے کی پیش گوئی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے جب کہ آئندہ سال اس میں معمولی کمی کا بھی بتایا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ دو فی صد جب کہ آئندہ سال یہ شرح آٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح بھی منفی سے بہتر ہو کر ایک فی صد ہونے کی توقع ہے۔

Read more

بنت حوا تحفظ سے محروم کیوں؟

ملک بھر میں پچھلے تیس برسوں سے معصوم بچیوں کو اغوا کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بناکر قتل کرنے کا بھیانک نہ رکنے والا سلسلہ طوالت اختیار کر تا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ خواتین کے ساتھ بھی اجتماعی اور انفرادی زیادتی کے واقعات میں بڑی شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ واقعات تو رپورٹ ہو جاتے ہیں، مگر اکثر اپنے خاندان کی عزت و وقار کی خاطر ایف آئی آر تک درج نہیں

Read more

ملک میں اختیار اور حاکمیت کا سرچشمہ

نواز شریف کے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس سے خطاب نے ملکی سیاست کومتحرک تو کر ہی دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے نواز شریف کی تقریر نے ملکی حاکمیت کی کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ آئین کی پامالی کرنے والے چند افسر پوری فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان یہ تو کہتے آ رہے ہیں کہ ”فوج حکومت کے ساتھ ہے“ ،

Read more

ساون مسیح: جج صاحب میرے سات سال واپس لوٹا دو!

پرانے وقتوں کی ایک فلم تھی، ”انسان اور آدمی“ ۔ اس میں شہنشاۂ جذبات محمد علی کا ایک ڈائیلاگ تھا: ”جج صاحب، مجھے میری زندگی کے 25 سال لوٹا دو، جو میں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں۔ جوانی کے وہ حسین لمحے لوٹا دو، جو میں نے جیل میں گھٹ گھٹ کے گزارے ہیں“ ۔ آج وہ ڈائیلاگ مجھے بڑی شدت سے یاد آیا، جب میں نے سنا کہ ساون مسیح کو عدالت نے 7 سال بعد رہا کر دیا۔ اگر ساون مسیح اپنے جذبات کی تشہیر کر سکتا تو ضرور کہتا کہ جج صاحب مجھے میرے 7 سال لوٹا دو، جو میں نے بے گناہ ہو کر بھی جیل میں گزارے ہیں۔

27 مارچ 2014 ء میں توہین رسالت کے الزام میں سیشن کورٹ لاہور کے جج چودھری غلام مرتضیٰ کی طرف سے سزائے موت پانے والے جوزف کالونی کے مقیمی ساون مسیح کو سات سال بعد لاہور ہائیکورٹ نے رہا کر دیا۔ یہ خبر سن کر ہر مسیحی کو خوشی ہوئی اور کسی حد تک عدالتوں پر اعتماد بھی بحال ہوا۔ اس کے ساتھ انتہا پسند مذہبی جنونی معاشرے پر افسوس بھی ہوا، جو ہوش سے کم اور جوش سے زیادہ کام لیتا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے خود ہی سزائے موت کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔

Read more

پنجاب پولیس موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم تک کیسے پہنچی؟

ملزم عابد کے پاس نہ موبائل تھا اور نہ پیسے جس کی وجہ سے اس کی تلاش ایک مشکل ٹاسک ثابت ہوا۔ یہ معاملہ جب میڈیا پر ٹھنڈا ہوا تو ’کنگلا‘ ملزم پکڑا گیا۔

Read more

اسلام کا سنہرا دور: ’وقت کو قید کرنے‘ کی جستجو کرنے والے سائنسدان، البیرونی

ابو ریحان محمد ابن البیرونی کو وقت یعنی ماضی، حال اور مستقبل سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ ایک زیرک ریاضی دان تھے جنھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم فلکیات اور کرونومیٹری (یعنی وقت کی درست پیمائش کا سائنسی علم) کے ذریعے وقت کی پیمائش کرتے گزارا۔

Read more

یونیورسٹیوں کے طالب علم مذہبی گروہوں سے نجات چاہتے ہیں

جی ڈبلیو ایف ہیگل نے 18 ستمبر1806ء کو ایک تقریر میں کہا تھا ”ہم ایک اہم دور کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہنگامہ خیز دور ہے جس میں انسانی جوش و ولولہ چھلانگ لگاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ سابقہ شکلوں کو بدل دیتا ہے اور ایک نیا روپ دھار لیتا ہے۔ دنیا کو جوڑ کر رکھنے والے سارے نمائندہ اصول، تصورات اور تانے بانے خواب کی تصویروں کی طرح ڈھیر ہو کر رہ جاتے ہیں، ایک نئی

Read more

نوشابہ کی ڈائری: 22 اگست کی تقریر… اور شہر بدل گیا

10 ستمبر 2016 وہ نعرہ زمین پر پڑا تھا، میرے قدموں کے پاس ”ہم نہ ہوں، ہمارے بعد، الطاف الطاف“ میں ایم کیو ایم کے مسمار کردیے یونٹ آفس کے دور تک بکھرے ملبے سے بچتی ہوئی چل رہی تھی کہ اچانک ٹوٹی دیوار کا یہ ٹکڑا راستے میں آ گیا، میں پل بھر کو رکی، بار بار اس تحریر کو پڑھا اور آگے بڑھ گئی، یہ سوچتے ہوئے جو ایسا ناگزیر تھا آج اس سے کیسا گریز کیا جا

Read more

تحریک چلانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

برے کام کرتے وقت، لوگ دن کی روشنی کا سامنا نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ اندھیرا ہونے کا وقت منتخب کرتے ہیں۔ تا کہ دنیا اور اپنے آپ سے نظریں چرائی جا سکیں۔ چوری ہو، ڈاکا ہو، کسی کی ملکیت پہ قبضہ ہو یا مارشل لا جیسے اقدام ہوں، یہ سب کام ہمیشہ رات کے پردے میں کیے جاتے ہیں۔ حق بات، دن دیہاڑے ببانگ دہل کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں شب کی تاریکی میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا۔ اس کے متن میں پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل دی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے مطابق سندھ کے ڈنگی، بھنڈار اور بلوچستان کے جزیروں کو وفاق کے حوالے کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جہاں وفاقی حکومت کی مرضی سے نئے شہر تعمیر کیے جا سکیں گے۔ حیرت کن بات تو یہ ہے اس آرڈیننس کو پیش کرتے ہی اتنی سختی سے کام لیا گیا ہے کہ اس کے خلاف نہ کوئی کورٹ میں جا سکے گا، نہ کوئی اس کو رکوانے کی اپیل کر سکے گا۔ جب کہ سبھی جانتے ہیں کہ آئین پاکستان میں صوبوں کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنی حدود میں موجود، تمام قدرتی و معدنی وسائل کی نگرانی خود کریں۔ اگر چہ وہ اس کی ذمہ داری وفاق کو سونپنا بھی چاہیں، تو اس کے لیے ان کو صوبائی اسمبلی سے اکثریتی رائے سے بل پاس کروانا پڑے گا۔

Read more

کہاں گیا میرا لاہور؟

لاہور شہر نہیں ہمارا عشق ہے۔ اس عشق کا اندازہ انہی کو ہو سکتا ہے، جو 1970 ء سے قبل اس شہر میں بسے تھے۔ کیا خوبصورت شہر تھا۔ اتنی آبادی نہیں ہوتی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ نہیں ہوتے تھے، جن سے مل کر لوگ یہ نہیں کہتے تھے، لاہوریے بڑے چالاک ہوندے نیں۔

سمن آباد، شادمان، گلبرگ، والٹن، ماڈل ٹاؤن، زمان پارک اور جی اور آر ہی پوش علاقے ہوتے تھے۔ ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں نہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جو چند ایک نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنی تھیں، وہ واپڈا ٹاؤن، جوہر ٹاؤن اور ٹاؤن شپ تھیں۔ نہر کی سڑک چھوٹی ہوتی تھی، جا بجا انڈر پاس اور اوور ہیڈ نہیں ہوتے تھے، ٹھوکر نیاز بیگ کو لاہور کی ایک اور بتی چوک کو دوسری طرف سے لاہور کی حدود شمار کیا جاتا تھا۔

Read more

کیا مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا؟

پاکستان کی ریاست، حکومت اور معاشرے کے بڑے بڑے بحرانوں یا مختلف نوعیت کے مسائل میں ایک بڑا بنیادی مسئلہ، جو عمومی طور پر عام لوگوں کی ضرورت سے جڑا ہوا ہے، وہ خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے۔ ہماری بڑی بڑی سیاسی بحثوں میں، عام لوگوں کے بنیادی مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں یا یہ حکمران طبقات کی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں بن پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست، جمہوریت اور عام فرد کے درمیان ایک بڑی سیاسی خلیج پائی جاتی ہے۔ اس وقت قومی سطح پر جو بحث عام آدمی سے جڑی ہوئی ہے، وہ مہنگائی کی ہے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کو اس حکمرانی کے نظام سے فوری طور پر کوئی بڑا ریلیف ملنے کی امید کم ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسائل نہ صرف موجود ہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر ان میں شدت یا اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے بڑے سیاسی دعوے، تبدیلی کے تناظر میں کیے تھے۔ ابتدا میں عمران حکومت کا بیانیہ یہی تھا کہ ہمیں اقتدار مشکل اور بحران کی حالت میں ملا ہے اور فوری ریلیف ممکن نہیں۔ اسی طرح زیادہ تر غلطیوں کو سابق حکمران طبقات سے جوڑا گیا تھا کہ ان کی غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کے پاس کوئی ایسا بڑا جادوئی فارمولا نہیں ہوتا کہ وہ راتوں رات حالات کو تبدیل کر سکیں، اس لیے جو بڑے بڑے سیاسی دعوے، عمران حکومت نے کیے تھے، ان میں بھی جذباتیت کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔ لیکن اب کیوں کہ اس حکومت کو دو برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے، تو یہ حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس لیے اب جب حکمران طبقہ محض سابق حکمرانوں پر الزامات لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حکمت عوام میں قبولیت حاصل نہیں کر پاتی۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار، شہباز گل کی تصدیق

لاہور کے نواحی علاقے گجر پورہ کے قریب موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے تصدیق کر دی۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں ملزمان فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کا اے ٹی ایم کارڈ لے گئے تھے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم فیصل آباد سے گرفتار

نو ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک واقعے کے دوران دو افراد نے مبینہ طور پر مدد کے انتظار میں سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں سوار خاتون کو پکڑ کر قریبی کھیتوں میں اُن کے بچوں کے سامنے ریپ کیا تھا۔

Read more

عمران خان: انصاف لائرز فورم کی تقریب میں شرکت پر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو نوٹس جاری کر دیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں وزیر اعظم نے اس تقریب میں ذاتی حثیت میں شرکت کی اور وزیراعظم کی کسی خاص گروپ کے ساتھ الائن نہیں ہوسکتے وہ پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔

Read more

مس شازی بنام مسمی عبدالرشید

ڈیئر عبدالرشید، سلام خلوص!

عرصے بعد تمھارا بے ہنگم جذبات سے معمور اور املا کی غلطیوں سے بھر پور مراسلہ ملا، جسے تم بڑے فخر، بلکہ ڈھٹائی سے ”محبت نامہ“ کہتے ہو۔ پڑھ کر کوئی مسرت نہیں ہوئی، بلکہ تمھاری مزید حماقتیں جان کر دھچکا پہنچا۔

رشید! خدارا، اگر خود تمھیں صحیح لکھنا نہیں آ رہا، تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔ کم از کم مجھے تو خواندگی میں اتنا سر نہ کھپانا پڑے۔ کہتے ہیں کہ خط سے آدھی ملاقات ہو جاتی ہے، مگر تم سے یہ آدھی ملاقات اس قدر درد ناک بلکہ عبرت ناک ہوتی ہے کہ بس! میری درخواست ہے کہ اختصار نویسی اپناؤ اور خود بھی مختصر الفاظ سے اصل مدعا سمجھنے کی کوشش کیا کرو۔ میں نے لکھا تھا، ”تاریخ آنے والی ہے، اک نیا امتحان در پیش ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے“۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم دونوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔ میری مراد صاف ظاہر تھی کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیکچرار اردو کے لیے تحریری امتحان کی تاریخ آنے والی ہے۔ مگر تم نے اپنی کج فہمی کے باعث مجھے نانیوں، دادیوں والا پند نامہ لکھ بھیجا، تاریخ کے دنوں میں ٹھنڈی چیزیں استعمال نہ کرنا، ہو سکے تو دودھ میں دیسی گھی ملا کر پینا۔ پھر گھر کی پسی ہوئی ہلدی کے خواص پر تم نے آدھا صفحہ لکھ ڈالا۔

Read more

بلھا کیہ جاناں میں کون

دوست! یہ بتانے میں آخر ہرج ہی کیا ہے کہ تم کون ہو اور کہاں سے وارد ہوئے ہو۔ بھئی! کیسے بتائیں، جب زندگی کے دھاگے ہی الجھے پڑے ہوں، تو ہم کون اور تم کون! لیکن خیر قصہ ہے تو کہنا ہی پڑے گا۔ لیں جناب!

جب پیدا ہوئے تو والدین نے ایک نام اور شناخت عطا کر دی۔ اس زمانے میں لوگ پوچھتے یہی تھے کہ میاں کس کے صاحب زادے ہو؟ اب اگر کوئی ابا حضور کو نہیں جانتا تھا، تو دادا کا پوچھ لیتا اور یوں میں کون کی وضاحت بھی پا لیتا۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، شناخت کے دائرے بھی پھیلتے گئے۔ مجھے کچھ کچھ یاد ہے، جب پہلے دن سکول گئے تو استاد نے پوچھا کون ہو؟ ہم نے کہا فلاں کے بیٹے اور فلاں کے پوتے ہیں۔ کہنے لگے وہ تو ہمیں بھی پتا ہے مگر تم بتاؤ تم کون ہو؟

Read more

سوشل میڈیا کا ”مکو ٹھپنے“ کا آغاز

سیاست میں بیانات نہیں ٹھوس واقعات ہی اہم تبدیلیا ں لاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نواپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چلائی تحریک شدت کی انتہاؤں کو چھونے لگی تو بالآخر مسلح افواج کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس بیان کو ”آئین کے مطابق“ قائم حکومت کی حمایت کا واضح اور بھرپور اظہار تصور کیا گیا تھا۔ یہ بیان مگر 7 جولائی 1977 کو روک نہیں پایا تھا۔ بیانات پر نہیں بلکہ ٹھوس واقعات پر اپنی توجہ لہٰذا مرکوز رکھیں۔ اس ضمن میں اہم ترین واقعہ میری دانست میں سوشل میڈیا پر بہت ہی مقبول ”ٹک ٹاک“ پر لاگو ہوئی پابندی بھی ہے۔

Read more

حکمرانوں کا پھکڑپن اور جمہوریت کا مستقبل

کچھ مہینے پہلے کورونا وائرس کی آفت نے اقوام عالم میں سراسیمگی پھیلا دی تھی۔ رحمت خداوندی سے پاکستان اس آفت سے قدرے محفوظ رہا اور دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ہم ابتر صورتحال کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خراب معیشت کو بہتر کرنے پر توجہ دے سکتی تھی مگر حکومتی اکابرین نے شاید تہیہ کیا ہوا ہے کہ عوام کو رلانا ہے۔ کورونا وائرس سے تو قوم بچ گئی مگر حکمرانوں کے ”بونگونا“ وائرس سے بچنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ وزرا کے بیانات ہوں یا وزیراعظم کا خطاب، گمان یوں ہوتا ہے کہ متانت و وقار انھیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔

Read more

مجھے یہ بھی یاد تھا

میں سکول کا طالب علم تھا کہ عمران خان کی قیادت میں سینیئر کھلاڑیوں نے جاوید میانداد کی کپتانی کے خلاف بغاوت کی تھی اور کچھ دنوں بعد عمران خان بذات خود ٹیم کے کپتان بن گئے تھے، مجھے وہ بھی یاد تھا۔ انیس سو بانوے میں جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی بہترین پرفارمنس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت گیا تھا اور ٹیم کا کپتان عمران خان ورلڈکپ اٹھانے آیا تو

Read more

مبینہ بغاوت کا مقدمہ: نواز شریف کے علاوہ دیگر کے نام ایف آئی آر سے حذف

لاہور پولیس نےسابق وزیرِاعظم نواز شریف کے خلاف ‘غداری’ اور ‘بغاوت پر اکسانے’ کے الزامات میں درج کیے جانے والا مقدمہ برقرار رکھتے ہوئے اس میں نامزد دیگر رہنماؤں کے نام حذف کر دیے ہیں۔

Read more

میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

Read more

انوشکا شرما کی موجودگی میں وراٹ کوہلی کے 90 رنز اور بنگلور کی فتج پر سوشل میڈیا ردعمل

دبئی میں کھیلے گئے آئی پی ایل کے اس میچ میں انوشکا شرما گراؤنڈ میں موجود تھیں اور ایک فین کے مطابق بنگلور اور کوہلی کی قسمت اس وقت بدلی جب ٹی وی پر انوشکا کو دکھایا گیا۔

Read more

میرا پلاٹ کب ملے گا: ’عوامی خدمت گار‘ مراعات کی دوڑ میں کیسے شامل ہوئے؟

پاکستان کی سول بیوروکریسی کو حاصل مراعات کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی نے متعدد حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران سے بات کی ہے۔ چند افسران نے بیوروکریسی کو دی جانے والی مراعات کی کمی کا ذکر کیا ہے تو کچھ نے اسے غریب عوام پہ اضافی بوجھ سے بھی تشبیہ دی ہے۔

Read more

پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

Read more

ٹک ٹاک پر پاکستان میں پابندی سے لاکھوں فالوورز والے سوشل میڈیا سٹارز پریشان

پنجاب کے دور دراز دیہات میں بھٹے پر اینٹیں بنانے والا مزدور ہو یا قومی ائیر لائن میں کام کرنے والی فضائی میزبان، یا پھر سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دینے والی حریم شاہ ۔۔۔ پاکستان میں ٹک ٹاک کی مقبولیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

Read more