وفاق میں شہباز حکومت صرف اس امید پر مزید نو دس ماہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتی ہے کہ اس دوران، کچھ عالمی اداروں کی مہربانی اور کچھ دوست ممالک کی عنایت سے ڈالروں کی بہار لگے گی اور وہ اس کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کر کے اگلے سال کے آخر تک انتخابات میں جا سکے گی جو تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد بوجوہ کھوئی جا چکی ہے۔ حکومت کا مسئلہ البتہ یہ ہے نہ صرف داخلی لحاظ سے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا دامن تنگ اور امکانات محدود ہیں۔
شہباز شریف کی حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ اس کے پاس کوئی ورکنگ پلان نہیں ہے۔ عمران خان ضرور اپنی حکمت عملی میں ناکام ہوئے ہیں لیکن اس میں حکومت کی کا کردگی سے زیادہ حالات و واقعات کی ترتیب کا زیادہ تعلق رہا ہے۔ حکومتی اتحاد کو بھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ عمران خان نچلے بیٹھیں گے اور موجودہ حکومت کو اطمینان سے کام کرنے دیں گے۔ اس وقت تک جو معاشی صورت حال سامنے آئی ہے، اس میں حکومتی منصوبہ سازوں کو عالمی سطح پر فنڈز اکٹھے کرنے اور معاشی سہولتیں حاصل کرنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔
Read more