پھر جیسے میرے اندر کھُد بُد سی ہونے لگی۔ اندر جا کر تو دیکھوں۔ پر لڑکا بھی بڑا کائیاں تھا۔ ”وہاں کوئی مقامی عورت نہیں جا سکتی۔ اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ “
میں نے پلٹ کر اس ایف۔ اے پاس گائیڈ کو دیکھا جو محاوروں کی صورت اپنی علمیت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ میرے بچے میں تو دو کنال کے گھر کی چھوٹی سی کیاری کی مولی بھی نہیں اور تم بات کرتے ہو کھیت کی۔ پھر یوں ہوا کہ بشالینی کے اندر کا اسرار گھسیٹ کر مجھے وہاں لے گیا۔
ادھ کھلے دروازے میں گاٹی ڈالنے کی دیر تھی کہ چار پانچ خونخوار آنکھیں چیلوں کی طرح مجھ پر جھپٹیں۔ بھاگی۔ ذرا فاصلے پر گائیڈ کی آواز سنائی دی۔ سامنے سے ایک جیپ بھی آتی نظر پڑی۔ غصیلی آواز کچھ ایسی تھی۔ آپ کو بتایا تھا کہ بشالینی ناپاک ہو جاتی ہے اور ایسی حماقت کرنے والا بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔ صد شکر کہ جیپ ڈرامہ یونٹ والوں کی تھی جو دوپہر کا کھانا کھانے ریسٹ ہاؤس جا رہے تھے۔ میں اس میں بیٹھی اور اونچے سے بولی۔
Read more