اب یہ پسند نہ ہونے کی نفسیات کس طرح ایک عورت کی زندگی خراب کرتی ہے۔ تربیت کرنے والوں کو خبر نہیں ہوتی۔ ہمیں بھابھی کے ساتھ رات کو ہسپتال رہنا پڑا۔ ہسپتال میں اوپر کی منزل پہ کمرے بنے ہوئے تھے۔ اور باہر کھلا لاؤنج تھا۔ بھابھی سو گئیں تو ہم باہر آ کر بیٹھ گئے کہ یہ زنانہ پورشن ہے۔ مرد آسانی سے اندر نہیں آ سکتے۔ ہم نے موبائل پہ کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔
کونے میں دو خواتین بیٹھی اونچی آ واز میں باتیں کر رہیں تھیں۔ ایک تو بہت برہم تھی۔ ہم پڑھ نہ سکے گرچہ موبائل پہ ہی نگاہ تھی۔ ان کی گفتگو کا حاصل کچھ یوں کا تھا۔ بڑی والی خاتون کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ اور حالات بھی سازگار سے کم تھے۔ اور رہن سہن اس سے بھی کم تھا۔ جبکہ چھوٹی والی ان کی چھوٹی بہن تھی اور کافی خوشحال تھیں۔ انہوں نے سوچا ہمارے لڑکے ہیں۔ باہر سے جو لڑکیاں لانی ہیں۔ کیوں ناں گھر کی بیٹیاں راج کریں۔ اور یوں وہ اپنے خاندان سے ہی سب بہوئیں لائیں۔
Read more