تکلیف بڑھتی چلی جا رہی تھی اور گائناکالوجسٹ ہونے کے ناتے ہم جانتے تھے کہ کچھ بہت ہی عجیب سی صورت حال تھی۔
Rectocele ( مقعد کا ویجائنا میں آ جانا ) تو تھی ہی مگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی جو ہم تشخیص کرنے سے عاری تھے۔ صبح اٹھتے تو مقعد کے ایک طرف ایک تھیلی باہر کو ابھری ہوتی جس میں پاخانہ بھرا ہوتا۔ تھیلی سے پاخانہ خارج کرنے کے لیے ہمیں انگلی سے دبانا پڑتا۔ کیا ہے بھئی یہ؟ ہم نے تو آج تک ایسا کوئی مریض نہیں دیکھا، نہ پاکستان میں نہ پاکستان سے باہر، ہم زچ ہو کر خود سے پوچھتے۔ ساتھ کام کرنے والے ایرانی، ہندوستانی، عراقی، شامی ڈاکٹروں کو بھی دکھا لیا مگر کسی سے تشخیص نہ ہو سکی۔ ہماری طرح ہماری بیماری بھی عجیب و غریب تھی۔
جب پانی سر سے اوپر ہو گیا تب سوچا کہ اب کیا کریں؟ ذہن میں ایک خیال بار بار آتا، انہیں دکھاؤ۔ انہیں؟
ہاں انہیں۔ جو اپنی مثال آپ ہیں، آپریشن کرتے ہیں یا تصویر بناتے ہیں، انسانی جسم کی سب پرتیں ان کے ہاتھ میں آ کر بولنے لگتی ہیں۔
لیکن ان کا مزاج؟
ان کا موڈ؟
ناک کی پھننگ پہ رکھا غصہ؟
وہ کون سہے گا؟
Read more