یہ تحریر کچھ دن پہلے لکھی تھی۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلانا کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اس تحریر کا مرکزی نکتہ ہے لیکن اس میں مرد کی مظلومیت کا بھی ذکر ہے۔ عورت مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں۔ خواتین کے حقوق کے متعلق آگہی اور شعور پیدا کرنا ضروری ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ استعداد میری کچھ خاص نہیں تھی، بس تھوڑی بہت انگریزی سمجھ بول لیتا تھا اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے متعلق تھوڑا بہت تبصرہ کر لیتا تھا۔ غم زدہ ماحول میں غیر ملکیوں کی امید افزاء باتیں اور ہمارے دکھ درد کو محسوس کر کے کچھ دوا کرنے کی ان کی ادا، دل کو بھلی لگتی تھی۔ یہ لوگ غور سے بات سننے والے تھے، بندے کو محسوس ہوتا کہ لفظ بے معنی نہیں ہوتے، سنے جاتے ہیں اور ان سے فرق پڑتا ہے۔
Read more