شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی تعبیر کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے اور نہ اس بارے میں جاننے کی خواہش کو مستحسن گردانا

Read more

اگر اعتبار ہوتا: حکمرانوں کی کہہ مکرنیاں

پچھلی دہائی میں جب زرداری صاحب نے یہ کہا تھا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے تو اس پر بہت لے دے کی گئی تھی۔ عمران خان بھی جب وعدے کر کے مکر جاتے تھے اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے تو کٹے سے کٹا انصافی بھی ایک لمحے کے لیے پشیمان ہوجاتا تھا حالانکہ اس میں پشیمانی کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ یہ حکمرانوں کے وعدے اور قسمیں تھیں۔ جھوٹی قسمیں کھانے سے جن کے نزدیک

Read more

عام انتخابات اور جمال آگیں ”عامیانہ“ خطابات

یادش بخیر آمر ضیاء نے ایک بدنام زمانہ یا کمال ہنر کا شہکار ریفرنڈم کروایا تھا۔ اس میں ووٹرز سے کیے گئے بنیادی سوال پر آج تک کا کالمز اور کتابیں لکھی جاتی ہیں اور جگتیں کسی جاتی ہیں، اور بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ریکارڈ کی کامل مطابقت کے لیے یہ بھی لکھنا واجب ہے کہ سوال کرنے والے تو جیسی تیسی جمہوریت میں بھی اٹھوائے جاتے ہیں۔ آمر جو نا ضیاء تھا نا ہی حق مگر نصیب

Read more

بھٹو زندہ ہے لیکن پیپلز پارٹی؟

4 اپریل 1979 کو جب راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں جلاد تارا مسیح سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں پھانسی کا پھندا کس رہا تھا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ طبعی موت کے باوجود بھٹو پاکستان کی سیاست میں آئندہ آنے والی کئی دہائیوں میں ایک استعارہ بن جائے گا اور پاکستان کی سیاست بھٹو کے حامیوں اور بھٹو کے مخالفین میں تقسیم ہو جائے گی۔ بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کی سزا کے خلاف

Read more

فوج میں اختلاف رائے: ’ذہن سازی‘ اور پالیسی کی ’تبدیلی‘ میں ٹکراؤ

ایک دہائی پیچھے جائیں تو پاکستان میں پہلے ٹی وی چینلز اور پھر سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے حق میں ایک بھرپور مہم نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے علاوہ عمران خان کی پروجیکشن کے بیانیے کی حمایت کرتے ریٹائرڈ افسران بھی نظر آتے تھے لیکن نو مئی کے واقعات کے بعد اب عمران خان کے حامی اور مبینہ فوجی مداخلت کی پالیسیوں کے ناقد ان ریٹائرڈ افسران کی جانب سے خاموشی نظر آتی ہے۔

Read more

چپاتی کا انتخابی نشان

کالم لکھنے بیٹھا تھا کہ ایک برادر عزیز کا فون آ گیا۔ عام طور سے درویش کالم لکھتے ہوئے فون نہیں اٹھاتا۔ موسیقی کے اساتذہ اپنے فن کو ہوا میں گرہ لگانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لکھنے والے کو تو گرہ لگانے کو کرہ ہوائی بھی میسر نہیں ۔ کاسہ سر میں رکھے مٹھی بھر مغز میں بچھی باریک شریانوں میں گندھا یاد، احساس، گزرے ہوئے واقعات اور آنے والی فصلوں کے انتظار کا ایک نادیدہ طلسم ہے۔ لکھنے والے

Read more

پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا وراثتی موازنہ

بہاولپور میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے گزشتہ روز خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا: ”شکار کا موسم ہے اور ہم مل کر اب شیر کا شکار کریں گے۔ بلاول بھٹو نے یہ سیاسی بیان نون لیگی اشرافیہ کے خلاف عوامی طاقت و حمایت کی روشنی میں دیا۔ ہمارے ہاں جو سیاسی اطوار ہیں اور جس طرح عوام کو بڑی سیاسی جماعتیں ہانک کر اپنے پیچھے لگاتی ہیں، یہ تقریری جوش خطابت

Read more

سوشل میڈیا اور صحافتی اقدار

80 کی دہائی کے نصف میں جب میں نے پرنٹ میڈیا کے میدان میں قدم رکھا تو چند ہی ماہ پہلے جنرل ضیاء الحق کے طویل دور آمریت کے بعد عام انتخابات منعقد ہوئے تھے اور سندھڑی سے تعلق رکھنے والے شریف النفس محمد خان جونیجو کو جنرل ضیاء الحق نے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا تھا۔ یہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیلیگرافی کو خیرباد کہا جا رہا تھا اور کمپیوٹر پر کمپوزنگ اخبارات کے دفتروں

Read more

تقسیم کی شکار سیاست: پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ’ایک حقیقت‘ ہے تو سیاستدان اس معاملے پر ایک پیج پر کیوں نہیں آتے؟

پاکستان میں مشکلات میں گِھری ہر بڑی سیاسی جماعت مشکل وقت میں اپنی پریشانیوں کا ذمہ دار ’اسٹیبلشمنٹ‘ کو قرار دیتی ہے مگر اس کے باوجود بظاہر یہ سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں ایک ساتھ کیوں نہیں بیٹھنا چاہتیں، اس کی وجہ ان کے آپسی اختلافات ہیں یا مفادات؟

Read more

بندیال عدلیہ کا زوال

سپریم کورٹ کی ”بندیال کورٹ“ نے جب مئی 2022 میں اسلام آباد میں عمران خان کے ممکنہ انتشار اور دھرنے کے مطالبے کے مقابلے میں پرامن جلسہ کرنے کی اجازت دی تو عمران خان نے سپریم کورٹ کے بنچ کے حکم کو ہوا میں اڑا دیا اور اپنے کارکنان سے کہا کہ وہ ”ڈی چوک“ میں جمع ہوں جہاں دھرنا دیا جائے گا، عدالت عظمی کے حکم کے برعکس جلسے کے بجائے دھرنا دینے اور پورے اسلام آباد کو خاکستر

Read more

کراچی کے قدیم ایرانی چائے خانے

کراچی صدر کے علاقے میں ایرانی کیفے کی ایک دلچسپ تاریخ ہے، جو 19 ویں صدی کے اواخر سے شروع ہوئی جب ایرانی تارکین وطن برصغیر پاک و ہند میں پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ ایک پکوان کی روایت لے کر آئے جس میں فارسی اور ہندوستانی ذائقوں کو ملایا گیا، جس سے ذائقے کا ایک انوکھا اور دلچسپ امتزاج پیدا ہوا۔ مزید برآں، وقت گزرنے کے ساتھ، یہ کیفے سماجی تانے بانے کا ایک لازمی حصہ بن گئے، جو دانشوروں،

Read more

ایمسٹرڈیم کی ہیرا منڈی

آج کل محترمہ، بلکہ ہماری میم، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب، ہماری آدی نور الہدی شاہ آج کل یورپ کے دورے پر ہیں اور جہاں جاتی ہیں وہاں کی تصویریں اور ویڈیوز ہمارے ساتھ شریک کر رہی ہیں، گویا ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیر میں ایک طرح سے شریک ہیں، لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ ان تصویروں اور ویڈیوز میں ان کی اپنی خودنمائی کہیں دور دور بھی نہیں آ رہی ہے، بس

Read more

گاؤں ایک ملنسار اور ایماندار شخص سے محروم ہو گیا

کامیاب لوگوں کی سماجی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو بہتر جگہ بنائیں نہ کہ اس سے صرف ذاتی فائدہ اٹھائیں۔ ہمارے گاؤں جولگرام کے کچھ گنے چنے اشخاص تھے جن کی زندگی کا مطلب لوگوں کو فائدہ پہنچانا اور حالات اور نظام میں بہتری لانا تھا اور جنہوں نے اپنی استطاعت اور فہم کے مطابق سماج میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے کافی کوششیں کیں۔ اگر چہ انہوں نے انسانوں اور سماج کی بہتری کے لئے الگ

Read more

سمیع اللہ بلوچ کیس کیا تھا اور تاحیات نااہلی ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کس کو فائدہ ہو گا؟

سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے اپنے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ فیصلے میں مزید کیا کہا گیا ہے اور اس فیصلے سے کون سے سیاسی رہنما مستفید ہوں گے؟

Read more

سلمان تاثیر کی خاموش برسی اور چنگھاڑتا جنون

4 جنوری کو شہید سلمان تاثیر کی برسی آئی اور خاموشی سے گزر گئی۔ 2011 میں سلمان تاثیر کو، جو اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے گورنر تھے، ان کے ایک محافظ نے، جو انتہا پسند مذہبی تھا، گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ گورنر سلمان تاثیر ایک لبرل اور روشن خیال سیاستدان تھے۔ ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جس طرح بہادری کے ساتھ ایک مزدور مسیحی خاتون کے

Read more

اب اسلام آباد کہاں اٹھا کے لے جانا ہے؟

تریسٹھ برس پہلے اگر سب کو برابری سے حصہ مل جاتا تو شاید دارالحکومت جنوب سے اٹھا کے شمال میں لے جانے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ آج زیادہ گھمبیر حالات ہیں۔ چہار جانب رعایا ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے۔ آپ کے پاس گھڑی ہے مگر وقت رعیت کے پاس ہے۔

Read more

بھٹو ہمیشہ زندہ کیوں رہے گا؟

ذوالفقار علی بھٹو نے سوچ سمجھ کر کے موت کو گلے لگایا، بھٹو صاحب اپنی جیل میں لکھی ہوئی آخری کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا جائے“ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے میں فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔ اگر بھٹو صاحب فوج سے ڈیل کر لیتے تو فوج کے ہاتھوں بچ جاتے اور تاریخ کے ہاتھوں مارے جاتے۔ ہاں وہ ایک الگ موضوع ہے کہ آج کی پیپلز پارٹی کو بھٹو صاحب کے

Read more

سیاسی قوتیں تصادم کا راستہ ترک کریں!

2013 ء اور 2018 ء کے عام انتخابات میں عوام نے بھر پور شرکت کی تھی اور انتخابی ماحول میں گرم جوشی بھی تھی 8 فروری 2024 ء کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی شیڈول بھی جاری کر دیا ہے امیدواروں کے پاس اپنی انتخابی مہم کے لئے صرف ایک مہینہ ہے لیکن اس وقت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے 90 فیصد کاغذات نامزدگی

Read more

تاحیات نا اہلی کا معاملہ عجلت میں حل نہ کیا جائے

سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے دلچسپ ریمارکس دیے ہیں۔ آج کی سماعت میں ججوں کی رائے کو پیش نظر رکھا جائے تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمی یہ قدغن ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے مطابق آئینی شق 62 ایف کے تحت نا اہلی کی مدت پانچ سال تک محدود رہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کے دوران واضح کیا

Read more

سرتاج عزیز تحریک پاکستان کے کارکن، ’وہ سیاستدان نہیں تھے مگر سیاستدانوں کو ان کی طرح کا ہونا چاہیے‘

سرتاج عزیز یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کسی عسکری قوت کے نتیجے میں نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد اور ووٹ کے ذریعے بنا مگر پھر یہاں جمہوری عمل اور ووٹ کا تسلسل 75 برسوں تک نہ دیکھ سکے۔ وہ جدید معاشی اصلاحات کے بانی تھے مگر بدقسمتی سے ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے وژن پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

Read more

نواب اکبر خان بگٹی: سیاست اور شخصیت

کل تک وہ غدار ملک آج اس کی تصویر پاکستان سیکرٹریٹ میں؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام کی ریل گاڑی چلتی ہے؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام پر کرکٹ سٹیڈیم؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کی یاد میں مختلف شاہراہ بنائے جا رہے ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ آج سے چند سال پہلے تک میں بھی اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کو اتنا اچھا نہیں سمجھتا

Read more

بلوچستان کی کہانی ( قسط سوم) اکبر بگٹی کا قتل

صدر ضیا نے اپنی غیر آئینی حکومت کے استحکام کے لیے بلوچ سرداروں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب جہاد کے لیے پرامن اور مستحکم بلوچستان ضروری تھا۔ چنانچہ 1980 کی دہائی میں بلوچ سرداروں کی معاونت کے ساتھ شعوری طور پر ریاستی نگرانی میں جہاد پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ مختلف بلوچ سردار جہاد میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر شریک ہوئے۔ جیسے افغان اشرافیہ سے پرانے تعلقات، ریاست اور اداروں کی وفاداری۔

Read more

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اگر آپ کسی ایسے ہوائی جہاز میں سوار ہوں جس کا پائلٹ مے نوشی میں مبتلا ہو تو آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے آپ سمیت جہاز میں سوار عملے اور مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ اسی طرح آپ کی ہارٹ سرجری ایک خمار آلود ’ہارٹ سرجن‘ کر رہا ہو تو اس صورت میں بھی آپ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ یہی مثال شراب کے خمار میں مبتلا ہو کر خود اپنی

Read more

عقاب صفت سفارت کاری کے نتائج

مکرمی نصرت جاوید اس بندہ کم مایہ ہی کے استاد نہیں، ان گنت پاکستانی صحافیوں کے لئے پیشہ ورانہ مہارت، بے خوف خبر رسانی اور ذہنی دیانت جیسے اصولوں کی استقلال کے ساتھ پاس داری پر روشنی دکھانے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے اخباری کالم کا بالاستیعاب مطالعہ قومی معاملات کی تفہیم کے لئے ایک مسلسل درس کا درجہ رکھتا ہے۔ سفارتی زبان کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مثلاً جس صورت حال کو ایک نوآموز صحافی

Read more

محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی یاد میں

27 دسمبر کے سیاہ دن کو دختر مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کی حیثیت سے یاد رکھا جاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا اندھیرا اور سکوت نہیں دیکھا جتنا 27 دسمبر 2007 کی رات مری روڈ پر تھا۔ فضاء دکھ اور درد کو سمیٹنے میں مصروف تھی مگر درد کی شدت بہت زیادہ تھی۔ کیونکہ ایک معصوم اور پرامن خاتون کا لاشہ مری روڈ کے ہسپتال میں پڑا تھا۔ وار کرنے والے اپنا مشن مکمل

Read more

انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال؟

ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 ء کو ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابات کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جاری کر دیا ہے۔ اب انتخابات نہ ہونے کے متعلق ابہام اور قیاس آرائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ ملک میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ لیکن ملک میں موجود سینکڑوں سیاسی جماعتیں ہونے کے باوجود صرف چند بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جو ملک پر حکمرانی کرتی

Read more

بلوچستان کی کہانی ( قسط دوم)

بلوچستان میں حکومت کے خاتمے کے بعد بغاوت کی اگ جل چکی تھی۔ جولائی 1974 میں باغی بلوچستان کو پنجاب اور سندھ سے ملانے والی سڑکیں بند کر رہے تھے۔ لیکن صوبہ سرحد کی سڑکیں محفوظ تھیں۔ بعض مواقع پر میٹر گیج ہرنائی سبی ریل لنک پر بھی خلل پڑا۔ اسی طرح ہگٹی کے علاقوں میں کام کرنے والی تیل اور گیس کے سروے اور ڈرلنگ ٹیموں پر بھی حملے کیے۔ تربیت یافتہ باغی فوجی کیمپوں پر گوریلا حملہ کر

Read more

سندھ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ملاقات

پہلی بار میری ملاقات پاکستان کی ہائی کورٹ میں نامزد ہونے والی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ”پناہ“ میں ہوئی تھی، یہ ادارہ کراچی میں واقع گھریلو تشدد کی ماری عورتوں اور بچوں کی عارضی تحفظ گاہ ہے۔ ماجدہ رضوی صاحبہ اس ادارے کے بانیوں میں شمار ہیں۔ کیونکہ میرا مقصد ”پناہ“ اور اس میں تحفظ لینے والوں کی تفصیل معلوم کرنا تھا۔ لہٰذا اس دن ماجدہ رضوی صاحبہ سے مختصر سی ہی بات ہو پائی۔ خوش قسمتی سے،

Read more

”بھٹو“ کا قاتل خود ”بھٹو“ ؟

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق مختلف خیال آرائیاں کی جاتی ہیں، اکثر کا خیال ہے کہ یہ آمر جنرل ضیا کی آمریت میں عدالتی قتل ہے، کچھ کا خیال ہے کہ آمر ضیا نے ملک میں جمہوری پارلیمانی نظام کی حیثیت کو ختم کر کے خطے میں امریکی اثر و نفوذ بڑھانے اور منتخب وزیراعظم کو راہ سے ہٹانے کے لئے ”بھٹو“ کو پھانسی کی سزا دلوانے کے لئے عدالت کی مدد حاصل کی، جبکہ کچھ کا

Read more

میرا کالج آر ایم سی، میرا ملک ہے پاکستان

اختے، پختے لم ڈھینگ چپختے ٹھاہ، چپختے ٹھاہ۔ یہ تھا وہ نعرہ جو آر ایم سی، یعنی راولپنڈی میڈیکل کالج میں میرے اولین دنوں کی یاد ہے۔ یہ نعرہ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں بے ڈھنگے اور بے معنی الفاظ پر مشتمل تھا اور کالج کے کرکٹ میچوں میں مد مقابل کو حواس باختہ کر نے کے لئے لگایا جاتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے، خاموشی سے میچ دیکھتے، یک بیک انتہائی بلند آواز میں اختے پختے کی آواز آتی، کان

Read more

ڈیجیٹل جلسہ: وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

کوئی چیز جو جسمانی طور پر موجود نہ ہو لیکن کسی اور طریقے سے تقریباً ویسی ہی بنا دی گئی ہو جیسے کوئی تخیلاتی عکس تو اسے انگلش میں virtual کہا جاتا ہے۔ جیسے آج کل کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے لوگ اسکرین پر ایک دوسرے کو دیکھ اور بات چیت کر رہے ہوتے ہیں تو اسے virtual meeting کہا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی ’گراؤنڈ ریالٹی ”سے“ ورچوئل ریالٹی ”کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔ ورچوئل ویورشپ بڑھانے کے

Read more

کیا ماضی میں بھی کسی سیاسی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم ٹھہرایا گیا یا اسے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا؟

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد چند حلقوں سے یہ بحث بھی سننے کو ملی کہ اگر پی ٹی آئی اپنے انتخابی نشان سے محروم ہوئی ہے تو پیپلز پارٹی سے بھی ماضی میں تلوار کا نشان چھینا جا چکا ہے تاہم یہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخی طور پر اگر ایسا کچھ ہوا تو کیوں ہوا اور الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے سے اُن تاریخی واقعات اور فیصلوں کی مماثلت کیا بنتی ہے؟

Read more

ہم آواز الفاظ اور سیاسی نعرے

آج ذہن میں چند الفاظ جو ہم آواز بھی ہیں اچانک سے آ کر کسی کونے میں بیٹھ گئے۔ قارئین! آپ بھی پڑھیے اور لطف اٹھائیے! کہ اگر ان الفاظ کو جوڑا جائے تو موجودہ ملکی حالات کی بہترین عکاسی ہو گی۔ کیئر ٹیکر۔ چیئر میکر۔ الیکشن۔ سلیکشن۔ ووٹ۔ نوٹ۔ عوامی۔ غلامی۔ رسائی۔ رہائی۔ کھیل۔ جیل۔ ڈیل۔ ڈھیل۔ آزادی۔ بربادی۔ انسانیت۔ جمہوریت۔ سیاست۔ عداوت۔ ریاست۔ سیاست۔ رفقاء۔ وزراء۔ مذاکرات۔ مقبوضات۔ عمل۔ نمل۔ میثاق۔ اتفاق۔ سوگوار۔ ناگوار۔ بازی۔ ماضی۔ ڈور۔ شور۔

Read more

50 روپے تنخواہ پر ملازمت کرنے والے چکوال کے موہن سنگھ جو دنیا بھر میں 35 لگژری ہوٹلوں کے مالک بنے

انڈیا، سری لنکا، نیپال، مصر، آسٹریلیا اور ہنگری میں تقریباً 35 لگژری ہوٹلوں کے ساتھ، اوبرائے گروپ، ٹاٹا گروپ کے تاج کے بعد ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی ہوٹل کمپنی بن گئی۔

Read more

پیر پگاڑا اور سیاست

پیر سید شاہ مردان شاہ دوئم عرف پیر پگاڑا، 22 نومبر، 1928 کو پیر جو گوٹھ، سندھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید سکندر شاہ تھا۔ پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی (سورہیہ بادشاہ) کی شہادت کے بعد برطانوی راج نے وقت کے کلیکٹر حیدر آباد محمد بخش کے ذریعے اپنے کسی حامی کو سجادہ نشین بنانے کے لیے سیاسی انجنیئرنگ کی ناکام کوشش کی، کہا جاتا ہے کہ وہ شخص پیر علی محمد راشدی تھے۔ پیر پگاڑا

Read more

پاکستان تحریک انصاف کے ’نادان دوست‘

انگریزی کا ایک محاورہ متنبہ کرتا ہے کہ جہنم کے راستے بظاہر ’نیک نیتی‘ سے کیے فیصلوں کی بدولت ہی گریز کے قابل نہیں رہتے۔ ہماری اشرافیہ کے چند عناصر اور ان کی خواہشوں کو ’تجزیہ‘ کی صورت بیان کرنے والے ’صحافی‘ بھی اکثر ’نیک نیتی‘ ہی سے وطن عزیز کو مصیبتوں کی جانب دھکیلتے رہے ہیں اور اس ضمن میں اپنی تاریخ سے حوالوں کا ذکر شروع کروں تو کالم نہیں کتاب لکھنا پڑے گی۔ بہتر یہی ہے کہ

Read more

عوام کا حق حکمرانی

سپریم کورٹ ملک کی وہ عدالت ہے جس کے فیصلے کے خلاف کہیں اپیل نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے ہر ملک میں ایک اعلیٰ ترین عدالت ہوتی ہے جو اپنی ماتحت عدالتوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرتی ہے اور بالآخر کسی معاملہ میں ایک حتمی رائے دیتی ہے۔ ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے متعدد فیصلے ہیں جن پر طویل عرصہ تک بحث مباحثہ ہوتا رہا، اکثر انصاف کے اصولوں کے مطابق، اور کبھی کبھی سیاسی وجوہات کے باعث۔ یوں

Read more

سہیل وڑائچ اور عرفان صدیقی کا مباحثہ

مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور جادوئی قلم کے مالک عرفان صدیقی بڑی تندہی سے اپنی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کا مقدمہ ایک ساتھ لڑ رہے ہیں۔ عرفان صدیقی کے نزدیک 9 مئی کا سانحہ کسی طور 9 / 11 سے کم نہیں اور اب پی ٹی آئی کو مکافات اعمال تاحیات بھگتنے ہوں گے۔ دوسری طرف ٹھنڈے مزاج والے اور صلح کُل کے داعی سہیل وڑائچ سیدھے نواز شریف سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کھلاڑی خان اور پی

Read more

افغان مہاجرین: دنیا نظریں گاڑ کر دیکھ رہی ہے

ریاستی امور میں مستقل مزاجی، تحمل اور معاملہ فہمی کامیابی کی حقیقی معنوں میں کلید ہے اور غیر مستقل مزاجی، جذباتی رویہ یا صرف الفاظ سے کھیلنا جیسے سائفر سے کھیلا گیا ہر ناکامی کا واضح طور پر راستہ ہے۔ اب جس کا جی چاہے کامیابی کا سفر اختیار کرے اور جو جی چاہے ناکامی کو مقدر قرار دے۔ یہ صرف سیاست دانوں تک محدود فلسفہ نہیں ہے بلکہ ریاستی معاملات میں ہر صاحب اختیار پر اس کا اطلاق ہوتا

Read more

عدالت کٹہرے میں: عاصمہ شیرازی کا کالم

عدالت کو بتانا پڑے گا کہ بھٹو کا اصل قصور کیا تھا۔ جنرل ضیا الحق جیسا آمر آئین اور منتخب وزیراعظم کا قتل کیوں چاہتا تھا اور یہ کہ عدلیہ کیوں اور کیسے فوجی آمر کی سہولت کار بنی۔

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی اور اس فیصلے کو ’عدالتی قتل‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

سزا پر عمل درآمد کے تقریباً 32 سال بعد 2011 میں اس وقت کے صدر اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک ریفرنس میں بھٹو کے ٹرائل اور پھانسی پر نظرثانی کے حوالے سے عدالت سے رائے طلب کی گئی۔

Read more

بابا ”یو نو نتھنگ“

بلاول کا ہیاؤ کھل گیا ہے ۔ اب وہ تڑخے ہوئے انڈے سے نکلے بے بال و پر چوزے نہیں ہیں جسے زرداری صاحب اپنے گھنے پروں میں سمیٹے رہتے تھے۔ اب وہ بابا سے آگے کی چیز دکھائی دینے کی کوشش میں ان سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا نہ ہو۔ واقعتاً باپ بیٹے ایک دوسرے کو پانی پلاتے پلاتے تھک گئے ہوں۔ اب بلاول اپنی بہتی ناک خود صاف کر لیتے ہوں۔ ناک حقیقت میں

Read more

جنرل الیکشن اور پارٹیوں کی صف بندی

پاکستان میں نئے انتخابات کے لئے آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کی تاریخ سپریم کورٹ کے روبرو طے ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس نے اس تاریخ کو لوہے پر لکیر قرار دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے اس تاریخ پر با اثر حلقے بھی متفق ہوئے ہیں تب جا کر الیکشن کمیشن اور صدر پاکستان نے اس تاریخ پر اتفاق کیا۔ چونکہ ریاست کے تمام ادارے پنجاب میں بروقت الیکشن کروانے میں ناکام رہے تھے اس لئے اب عام

Read more

رائے عامہ کے نام پر رائے مخصوصہ

ایک ہم عصر نے پاکستان میں موجودہ رائے عامہ کے بارے میں کچھ گل افشانی کی ہے۔ اس پر کچھ عرض و معروض کرنا ہے لیکن ساغر کہنہ کا ذکر کیے بغیر تناظر واضح نہیں ہو سکے گا۔ فردوسی اسلام، شاعر پاکستان اور قومی ترانے کے خالق محمد حفیظ المتخلص بہ حفیظ جالندھری بیسویں صدی کے آغاز پر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم معمولی تھی لیکن مولانا غلام قادر گرامی سے رشتہ تلمذ نے فن شعر میں صیقل کر

Read more

جمہوریت سے خوف کھانے والے

واللہ! ہماری دعا بھی گویا سپن بالر کی بہت محنت سے نکالی ہوئی گیند بن گئی ہے، جارح مزاج بلے باز کو غچہ دینے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وکٹوں کو چھونے سے انکار کر دیتی ہے۔ اکثر تو عقاب کی طرح لپکتا وکٹ کیپر بھی چکمہ کھا جاتا ہے اور گیند عقبی منطقے میں لڑکھتی ہوئی باﺅنڈری پار کر جاتی ہے۔ ہت تری لیگ سپن گگلی کا جادو اور سرد مرطوب ہوا میں گول گول چکر کھاتی سرخ

Read more

ہنری کسنجر والا نشہ

ورلڈ اکنامک فورم میں کسنجر کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہوئے مشرف نے اتنے ادب اور احترام کے ساتھ ان کی کمر پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں میں ایسی چمک ہے، جیسے خاندان کا بھولا بسرا بزرگ مل گیا ہو۔ محمد حنیف کا کالم۔

Read more

خان صاحب کے پارٹی چیئرمین کے لئے نااہل ہونے کی ان کے ”گھر“ سے گواہی

جو سیاست دان انتخاب سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈے اسے اس دھندے میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمارے ہاں مگر ”دونمبری“ رویوںکی بھرمار ہے۔ مارچ 1977ء میں عام انتخاب ہوئے تو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد میں جمع ہوئی نو سیاسی جماعتوں نے انہیں بدترین دھاندلی کا مظہر بتایا۔ دھاندلی کے خلاف تحریک چلی جس کی بدولت بھٹو نئے انتخاب کو رضا مند ہوگئے۔تب اصغر خان اور ولی خان جیسے قدآور سیاستدانوں نے پیپلز پارٹی کی

Read more

امکانی معاشی راستے۔

مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑائچ اور پیر ضیاء الحق نقشبندی نے سی ایس ایس کے امتحان میں تیاری کی غرض سے ایک اکیڈمی قائم کر رکھی ہے۔ یہ اکیڈمی کاروباری مقاصد کے لئے نہیں ہے۔ مجھے اس اکیڈمی میں سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویو کی تیاری کی غرض سے دعوت دی گئی کہ میں ان امیدواروں سے خارجہ امور پر گفتگو کروں اور وہ اپنے انٹرویو کی تیاری کر سکے۔

وہاں پر ایک امیدوار نے مجھ سے سوال کیا کہ اس بات کا بہت غلغلہ مچا ہوا ہے کہ ہمارے خطے میں ریجنل کنیکٹیویٹی یعنی علاقائی روابط، اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے کیا یہ درست ہے؟ اور پاکستان کے لئے اس کے کیا امکانات ہیں؟ اور اس ریجنل کنیکٹیویٹی کے علاوہ معیشت کو بہتر کرنے کی غرض سے کیا مواقع پاکستان کو بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حاصل ہے؟ اس میں کوئی دوسری رائے سرے سے قائم ہی نہیں کی جا سکتی ہے کہ علاقائی مضبوط باہمی روابط اور کاروباری سرگرمیاں خطے کی اقتصادی صورتحال کو یکسر بدل دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں اور اس باہمی اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت زیادہ بلندیوں پر پہنچایا جا سکتا ہے مگر یہ تمام اہداف صرف اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں کہ جب اس سرگرمی کے لئے مناسب ماحول بھی دستیاب ہو اور یہ مناسب ماحول تنہا صرف پاکستان ہی نہیں قائم کر سکتا ہے۔

Read more

بھٹو اور نواز شریف: ایک معروضی موازنہ

قیام پاکستان کے بعد ہمارے سیاسی منظر نامے پر کئی سیاست دان آئے اور کئی گئے لیکن دو شخصیات ایسی ہیں جن کے کردار کا نقش تادیر قائم رہے گا۔ ان میں ایک ذوالفقار علی بھٹو ہیں اور دوسرے میاں نواز شریف۔ یہ دو کردار کیوں ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں اور ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟ سیاست سے دل چسپی رکھنے والے کسی بھی فرد کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ سوال یہ

Read more

عبدالغفار خان ایک امن پسند پٹھان

ترجمہ تخلیص : نعیم اشرف 1972 ء کی وہ سہ پہر یاد رکھنے کے لائق ہے جس دن عبدالغفار خان افغانستان میں اپنی طویل جلا وطنی کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ جب وہ پشاور کے مشہور جناح پارک میں جلسہ گاہ پہنچے تو مجمعے نے پر جوش نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ دور سے وہ لاغر، ضعیف اور نازک لگتے تھے۔ مگر جب انھوں نے خطاب کیا تو ان کی آواز چاروں طرف سے اس طرح گونجی جیسے

Read more

لاڈلا کون؟

ہمارے خاندانی سسٹم میں ایک لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی بھی شخصیت کی تعریف و توصیف اور اہمیت مقصود ہوتی ہے۔ عموماً گھر میں بچوں سے بہت لاڈ پیار کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک بچہ ایسا ہوتا ہے جس کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دی جاتی ہے وہ بیٹا بھی ہو سکتا ہے اور بیٹی بھی لیکن جب بھی اس کے ناز نخرے اٹھانے ہوں یا اس کی کسی غلطی پر اس کو ڈانٹنا ہو

Read more

دائیں سے بائیں بازو تک کا سفر – مکمل کالم

میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ایک روایتی مذہبی گھرانا تھا، مذہبی یوں کہ میرے دادا جان پیر زادہ بہا الحق قاسمی باقاعدہ مولوی تھے، ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں خطیب تھے، صالح، دیندار اور صحیح معنوں میں قناعت پسند انسان تھے۔ اُن کی چھ بیٹیاں اور دو صاحبزادے تھے، میری اِن چھ پھوپھیوں میں سے صرف ایک حیات ہیں جبکہ بیٹوں میں سے تایا ضیا الحق قاسمی وفات پا چکے ہیں جبکہ میرے والد عطا الحق قاسمی

Read more

کچھ ضمیر کی موقع شناسی کے بارے میں

فضا میں اگرچہ آلودگی کی سطح بدستور بلند ہے لیکن بکرمی تقویم میں 2080 کا موسم سرما دو خوش رنگ پرندوں کی لاہور کے چشمہ حیواں کے کنارے آمد کی نوید لایا ہے۔ احمد مشتاق نے 1982 میں اول اول ترک وطن اختیار کیا تھا۔ کچھ برس آمد و رفت کا سلسلہ چلا۔ بالآخر 1992 میں امریکا میں مستقل قیام ہی طے پایا۔ عارف وقار قبلہ احمد مشتاق سے عمر میں کوئی بارہ برس چھوٹے ہیں لیکن 1980 ہی میں

Read more

’مرشد، امریکی سفارتخانہ جل رہا ہے۔۔۔‘ کعبہ کا محاصرہ اور جنرل ضیا کا سائیکل پر راولپنڈی کا دورہ

جنرل چشتی کے مطابق وارث خان چوک پر عام لوگوں سے بات چیت کے دوران ضیا الحق نے جان بوجھ کر یا بے دھیانی میں کعبہ کے محاصرے میں امریکہ کے ملوث ہونے کی افواہوں کا حوالہ دے دیا۔ ’جنرل ضیا کی گفتگو سننے کے بعد مشتعل لوگ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف بڑھنے لگے تھے۔‘

Read more

ن لیگ اور پیپلز پارٹی تضاد، پرانی ہانڈی میں نیا پکوان

آج ورق گردانی کہ دوران ایک سطر نظر سے گزری ”پرانی ہانڈی میں نیا پکوان“ پڑھ کر ہنسی آ گئی اور سوچا کہ یہ سطر تو بالکل پاکستانی سیاست پر مصدق آتی ہے، اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے کئی حوالات ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مفادات کہ مد نظر کئی تحریکیں چلائیں گئیں، آئیے ملک میں اب تک برپا ہونے والی بڑی مخالف تحریکوں کا معروضی جائزہ

Read more

بچوں کا جسم درندوں کی مرضی؟

دو دن پہلے چکوال سے ایک دل دہلا دینے والی خبر ملی کہ ایک مدرسے میں پندرہ بچوں سے جنسی زیادتی اور بدترین جسمانی تشدد ہوا ہے۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ استاد کے روپ میں دو درندوں نے معصوم بچوں کا جنسی استحصال کیا ہے اور چاقوؤں کے وار سے ایک مخصوص نشان بناتے رہے ہیں۔ دونوں اساتذہ حافظ انیس اور حافظ ذیشان نے کئی ماہ سے بچوں کا جنسی استحصال شروع کر رکھا تھا لیکن خوف

Read more

رخشندہ خٹک: پاکستان کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ماڈل، جن کے کھانوں کی ترکیبیں اب بھی کینیڈا کے ریستورانوں میں استعمال ہوتی ہیں

رخشندہ خٹک نے پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ماڈل کے طور پر شوبز میں شہرت حاصل کی۔ پاکستانی صحافی رولنڈ بورجیس کا کہنا ہے کہ جب وہ کہیں داخل ہوتیں تو مرد کَن اَنکھیوں سے انھیں دیکھتے اور خواتین ان کے لباس اور انداز کا جائزہ لے رہی ہوتیں۔ وہ ساڑھی باندھتیں تو خواتین میں ویسا ہی ٹرینڈ چل پڑتا۔

Read more

ایک طرحدار سیاستدان کی رخصتی: وسعت اللہ خان کی تحریر

گوہر ایوب خان کسی بھی پاکستانی حکمران کے پہلے صاحبزادے تھے جنھوں نے کھل کے سیاست میں حصہ لیا۔ انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں صدر اسکندر مرزا کے فون ٹیپ کر رہی تھیں اور ان کے والد، یعنی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان، کو ڈھاکہ سے واپس کراچی پہنچنے پر گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لہذا صدر سے استعفیٰ لینے کا منصوبہ بنایا گیا۔

Read more

تشدد کا چلن ختم کرنے کے لئے ماضی کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ ’ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کو طاقت استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کسی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی یا نسلی تفریق کے بغیر تمام پاکستانیوں کا ہے‘ ۔ کہا جاسکتا ہے کہ جنرل صاحب نے ملکی پالیسی بیان کرتے ہوئے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہیں اس بات کی وضاحت بھی کرنا ہوگی کہ پاکستان میں غیر

Read more

کیا مریم نواز صحافی ہیں؟

اصحاب دانش سے یہی خدشہ تھا۔ عنوان دیکھتے ہی بیشتر مہربانوں کا خیال مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز کی طرف گیا اور کسی قدر حیرانی سے سوچتے ہوئے کہ مریم نواز کو صحافی بننے کی کیا ضرورت ہے۔ درجنوں صحافی ان کے اشارہ ابرو پر قرطاس سیاہ کرنے کی آرزو سینوں میں دبائے پھرتے ہیں۔ غریب صحافی کس برتے پر بام حرم پر آشیاں بندی کا دعویٰ کریں، صیغہ صحافت کے خداوندانِ خود تراشیدہ چونچ میں قفس کی تیلیاں

Read more

نون لیگی ”منشور کمیٹی“ کا شاہکار

محترم عرفان صدیقی صاحب، نے اپنے دو روز پہلے کے کالم بعنوان، ”نواز شریف سے نہیں، ’چابی برداروں‘ سے رجوع کریں“ میں نون لیگ کی کچھ خرابیوں کا بڑی وفاداری کے ساتھ دفاع کیا۔ انہوں نے محاصر صحافی سہیل وڑائچ کے سوالات کے جواب میں ”خلط مبحث“ کی خوبصورت اصطلاح استعمال کرتے ہوئے 28 نومبر 1997 کے نون لیگ کے عدلیہ پر حملے کو معمولی واقعہ قرار دیا اور لکھا کہ وہ اس دن عدالتی کمرے میں موجود تھے کہ

Read more

نواز شریف نے الیکشن سے پہلے ہی کشتی کو عزت دلا دی

کالم کے عنوان کی وضاحت کرتا جاؤں کیونکہ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ میں اعراب یعنی زیر، زبر اور پیش لگانا مشکل ہے۔ یہ لفظ ”کشتی“ جو عنوان میں استعمال ہوا ہے یہ وہ ”کشتی“ نہیں ہے جس کے لیے انگریزی کا لفظ ریسلنگ استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ یہ وہ ”کشتی“ ہے جسے انگریزی میں ”بوٹ“ کہتے ہیں۔ اب میں بوٹ کی مزید وضاحت نہیں کر پاؤں گا۔ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ پاکستانی سیاست میں بوٹ کی خاص

Read more

سوار خان۔ گوشہ نشین جرنیل

سابق گورنر پنجاب، صوبائی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل سوار خان 99 سال کی عمر میں 8 نومبر 2023 کو راولپنڈی کے فوجی ہسپتال (سی ایم ایچ) میں انتقال کر گئے، اسی روز شام چار بجے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد راولپنڈی کے ہی فوجی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ جنرل سوار خان مندرہ چکوال روڈ پر تحصیل گوجر خان کے ایک قدیمی گاؤں راماں سے تعلق رکھنے والے چوہدری خدا

Read more

کہانی آئی جے آئی کی تشکیل اور نواز شریف کے پہلی بار وزیر اعظم بننے کی

ایک ’بے وقوف‘ طالب علم کے طور پر سلطنت خداد داد پاکستان، یعنی خدا کے بخشے اس ’باڑے‘ کی ’داغ داغ‘ سیاسی تاریخ ہمیشہ سے ہمارا پسندیدہ موضوع رہی ہے۔ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جو مرد مومن، مرد حق ضیاء الحق صاحب کے سنہرے اسلامی دور آمریت میں پیدا ہوئی، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی لولی لنگڑی جمہوریت میں اس نسل کا لڑکپن گزرا اور ’مخدوم الملک‘ سید پرویز مشرف کی ’روشن خیال‘ فوجی

Read more

دہشت گردی کی یلغار: کتنی آنکھوں کے دیے بجھ گئے ہنستے روتے

ہم اس حقیقت سے کتنی بھی آنکھیں چرائیں مگر یہ بات سچ ہے کہ وطن عزیز میں ایک بار پھر تعزیتوں کا موسم لوٹ آ یا ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن اب تو واقعات کا تسلسل ہمیں چین سے سونے نہیں دے رہا۔ چند سال پیشتر ہم سمجھ رہے تھے کہ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس گواہی دے رہے ہیں اور خدشات، خطرات کا روپ

Read more

بنگلہ دیش کی فوج میں بغاوت، جوابی بغاوت اور فوجی افسران کے درمیان اقتدار کی جنگ کی داستان

بنگلہ دیش کی آزادی کے صرف چار سال بعد یعنی نومبر 1975 کے پہلے ہفتے کے دوران پیش آنے والے خونی واقعات بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان اور ان کے اہلخانہ کے قتل کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی افراتفری کی صورتحال کا نتیجہ تھے۔

Read more

افغان پناہ گزینوں کی واپسی: ’حکومت پاکستان کے اعلان کے بعد میرا کاروبار آسمان سے زمین پر آ گیا‘

پاکستان میں اس وقت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے لیکن اس سے بلوچستان میں وہ افغان پناہ گزین بھی پریشان ہیں جن کے پاس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یواین ایچ سی آر) کے پروف آف رجسٹریشن کارڈ اور افغان سیٹیزن شب کارڈ موجود ہیں۔

Read more

تبصرہ بر مضمون نصرت جاوید صاحب

آج مورخہ 31 اکتوبر 2023 کے نوائے وقت میں محترم نصرت جاوید صاحب کا کالم بعنوان ”برملا“ میں قضیۂ فلسطین کے پس منظر پر فیض احمد فیضؔ صاحب کے حوالہ سے کچھ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فیض صاحب کی یہ شیئر کردہ باتیں منطقی لحاظ سے درست ہونے کے باوجود پذیرائی حاصل نہ کر سکیں اور آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں بے شک یہ نصف صدی قبل بھی بھانپ جانا ممکن تھا۔ فیض صاحب جانتے تھے کہ

Read more

خزاں چمن سے ہے جاتی

 خواجہ حیدر علی آتش نے کہا ہوائے دور مے خوشگوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی، بہار راہ میں ہے ہم کبھی مایوس نہیں ہوئے کہ دین مبیں کے مطابق مایوسی کفر ہے۔ ہم تو اس وقت بھی مایوس نہیں تھے جب ہمہ وقت ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا اور گلی گلی میں شور تھا کہ پاکستان سری لنکا بننے کو ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نیا پاکستان بنانے والے آئی ایم

Read more

پارا چنار، شیعہ سنی فسادات اور نظریاتی ڈی کنسٹرکشن

میرا ایم فل کا تھیسس پری نائن الیون جہادی ڈسکورس اور پوسٹ نائن الیون دہشت گری کے ڈسکورس پر تھا۔ جو جہاد سے دہشت گری کی طرف ڈسکورس کی منتقلی کی بنیادی وجوہات کو تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش پر مشتمل تھا۔ میں اپنے تھیسس کی تکمیل پر اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو ، ریاستی و سماجی سطح پر رائج نظریات کی وسیع پیمانے پر ڈی

Read more

مریم نواز سے ایک خیالی ملاقات

27 ستمبر 2023 ء کی رات، پچھلے پہر بار بار فون کی گھنٹی میری نیند میں مخل ہو رہی تھی۔ نیند اور سستی کے زیر اثر فون دیکھنے کا کشٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔ ادھر کوئی بات کرنے کے لئے اس قدر بے قرار تھا کہ فون کی گھنٹی تواتر سے بجے جا رہی تھی۔ ناچار فون پر نظر ڈالی تو دوسری جانب جاوید ڈیوڈ صاحب کو پایا۔ فوراً واپس کال کی تو دوسری طرف سے زود رنج جاوید

Read more

ہم میچ نہیں، کھیل کا ڈھنگ ہارے ہیں

خدا ہے کہ نہیں، ہے تو کس طرح کا ہے، دنیا کا اس پہ اتفاق ہو جانا امر محال ہے۔ یہ اتفاق بہر حال اب کر ہی لینا چاہیے کہ خدا یا کوئی غیبی قوت کھیل کے میدان میں مداخلت نہیں کرتی۔ کھیل کے میدان میں کوئی پری۔ پول رگنگ نہیں ہوتی، نتائج بدلنے کے لئے کوئی آر ٹی ایس نہیں بٹھایا جا سکتا، معمول کے اتفاقات کو آپ قسمت کا نام دینے پر مصر ہوں تو ہرج نہیں۔ کرکٹ

Read more

ضیا الحق کی آئینی باقیات پر سوال: عوام نہیں تو کون؟

نوآبادیاتی عہد کی پروردہ سول و ملٹری بیوروکریسی نے قومی اقدار کا تعین تقسیم ہند کے فوری بعد کر لیا، یہ اقدار انگریزی طرز حکمرانی سے ماخوذ تھے اور اس میں نوآبادیاتی عہد کی حکمرانی کا تجربہ پاکستان کو ورثہ میں ملا۔ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 ء کے تحت پاکستان نے قانون ہند 1935 ء کو ملک میں نافذ کیا اور اس قانون کے تحت جتنے بھی ضابطے تھے وہ بھی من و عن نافذ ہو گئے، نوآبادیاتی عہد

Read more

پاکستان میں فوجی عدالتوں کی تاریخ اور طریقہ کار

سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ فیصلے

Read more

صحافی کا ضمیر اور حکم کی ملکہ

شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نویس الیگزینڈر پشکن کو روسی ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو انگریزی ادب میں جیفری چاسر اور امریکی ادب میں والٹ وٹمین کو دیا جاتا ہے۔ ان تینوں ادیبوں نے موضوعات اور تکنیک میں جدید رجحانات متعارف کرا کے اپنے ادب کو اس کے مخصوص قومی خدوخال عطا کیے۔ الیگزینڈر پشکن نے صرف 38 برس کی عمر پائی لیکن آئندہ عشروں میں گوگول، لرمنتوف، ترگنیف، دوستوئیفسکی، ٹالسٹائی اور چیخوف نے پشکن ہی کی روشنی

Read more

پیپلز پارٹی کا وقار: سردار محمد سلیم (1)

10 اگست 2023 کو سردار سلیم نے فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ میں اپنے دیرینہ دوست جاوید حکیم قریشی کی وفات کی خبر پوسٹ کی اگلے دو روز بعد ان ہی کے اکاؤنٹ پر ان کی وفات کی خبر آ گئی جاوید حکیم قریشی کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے وہ 1970 ء میں پیپلز پارٹی راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری تھے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے ان کا

Read more

میاں صاحب- کاش آپ آئے ہوتے لائے نہ جاتے

نہ اس بات سے اختلاف ہے کہ آپ کو تین دفعہ حکومت نہیں کرنے دی گئی نہ اس بات پہ بحث کہ غیر جمہوری طاقتوں نے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے آپ کو کئی دفعہ حکومت سے نکالا۔ دھرنوں کے فیض آباد ہوئے، منصفوں کے فیصلے کہیں اور تحریر ہوئے، ایک فضول سے مقدمے میں سزا سنائی گئی (اصل مقدمے نہ ثابت ہوئے نہ ہوں گے کہ اس میں کئی پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں اور نظام انصاف ابھی

Read more

بدلا ہوا پاکستان اور نواز شریف کی واپسی

پارٹ 1۔ بالآخر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی کم و بیش 4 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی ہو گئی لیکن یہ وہ ہنستا بستا پاکستان تو نہیں جسے وہ چھوڑ کر فرنگیوں کے دیس میں جا بسے تھے۔ مینار پاکستان میں ان کا استقبال کرنے والے وہی مسلم لیگی کارکن تھے جن کی بیڈ گورنس نے مسکراہٹیں چھین لی ہیں۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے لوگ نواز شریف کی ایک جھلک

Read more

محسن پاکستان۔ ایک نہ بھولنے والی شخصیت

جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں ان کی ناقدری کرتی ہیں ایسی قوموں کا مستقبل روشن ہر گز نہیں ہو سکتا اور وقت آ جاتا ہے کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔ یہ محسن قوم کی شناخت ہوتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں خوش قسمتی سے ایسے ہیروز پیدا ہوتے ہیں جو قوم کی زندگی میں نئی روح پھونک دیتے ہیں اس کو جلا بخشتے ہیں اور اس کی زندگی کو مہمیز کر دیتے ہیں۔ پاکستانی قوم کی زندگی

Read more

کیا نواز شریف کی واپسی پنجاب میں ن لیگ کی سیاسی ساکھ کو بحال کر پائے گی؟

’لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ہی چلے جاتے ہیں۔۔‘ ان چار برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ نواز شریف کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ جی ٹی روڈ کے اضلاع میں ’عمران فیکٹر‘ کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی کھوئی ہوئی مقبولیت کیسے بحال کرتے ہیں۔

Read more

افغان مہاجرین، افغانستان کے حالات اور پاکستان کے مسائل

پاکستانی نگران وزیر داخلہ نے کچھ دن قبل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے، سکیورٹی وجوہات کو جواز بناتے ہوئے غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو 31 اکتوبر تک پاکستان چھوڑنے کے حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق دوسری صورت میں ان غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال 24 میں سے 14 خودکش حملے غیر ملکیوں نے کیے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔ تب سے مین

Read more

پاکستانی سماج استاد کی عزت کیوں نہیں کرتا؟

پاکستانی سماج استاد کی عزت کیوں نہیں کرتا؟ پاکستانی سماج میں استاد کی عزت کیوں نہیں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر مکتبہ فکر سے برابر اٹھایا جا رہا ہے۔ 5۔ اکتوبر ہر سال یوم استاد کے طور پر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں استاد کی تکریم کے حوالے سے سیمینار اور محافل کا انتظام کیا جاتا ہے جہاں اساتذہ کی خدمات کا تحسین آمیز انداز میں نہ صرف اظہار کیا جاتا ہے بلکہ اساتذہ

Read more

مفتی محمود رح اور ملکی سیاست!

14 اکتوبر سیاست کے عظیم مفکر مفتی محمود رح کا یوم وفات ہے، مفتی محمود رح پاکستانی سیاست کے وہ شہسوار تھے، جن کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ بڑے لوگ روز پیدا نہیں ہوتے، بڑی مدتوں بعد جنم لیتے ہیں، بڑے لوگ تاریخ کا حصہ نہیں ہوتے ہیں، خود تاریخ ہوتے ہیں، جب تک زندہ ہوتے ہیں ان کا فیض ایک جہاں کو پہنچتا ہے اور جب رخصت ہوتے ہیں تو ان کی فکر کے رواں

Read more

جب ٹیسٹ میچ میں پاکستان سے شکست پر انڈین تماشائیوں نے اپنی ہی ٹیم پر حملہ کیا

’سرحد کا دروازہ جب اس طرح سے کھول دیا گیا تو اس صلائے عام پر تقریباً 20 ہزار ہندوستانی دوڑے۔ بہت سے لوگ (شائقین کرکٹ) تو امرتسر سے سائیکلوں پر لاہور جاتے دیکھے گئے۔‘

Read more

مِس یونیورس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی اریکا: ’وہ سوچتے ہیں کہ میں مردوں سے بھرے کمرے میں پریڈ کروں گی‘

کراچی شہر کی مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ ایریکا رابن قدامت پسند معاشرے سے تعلق رکھنے کے باوجود مس یونیورس کے مقابلہ حسن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے جا رہی ہیں جس پر انھیں بے انتہا تنقید کا سامنا ہے۔ ایریکا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں موجود دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

Read more

فائنل کی دو ٹکٹیں نہ ملنے کا ’رنج‘ اور ضیاالحق کا دورہ: جب پاکستان، انڈیا نے مل کر انگلینڈ سے ورلڈ کپ کی میزبانی ’چھینی‘

سنہ 1983 کا کرکٹ ورلڈ کپ انڈیا کے کچھ کھلاڑیوں کے لیے سیر و تفریح کے موقع سے زیادہ کچھ نہیں تھا کیونکہ انڈیا کہیں مقابلے میں تھا ہی نہیں۔ مگر پھر انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے دو ٹکٹ نہ دینے پر پاکستان اور انڈیا نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ کرکٹ ورلڈ کپ انڈیا اور پاکستان میں منعقد کروایا جائے۔’انڈیا مقابلے میں کہیں تھا ہی نہیں ۔ پچھلے دو ایڈیشنز ،1975 اور1979،میں اس نے شاید ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ اس لیے ہم انڈیا سے روانہ ہوئے تو عملی طور پر چھٹی کے موڈ میں تھے۔ کرکٹ پہلی ترجیح نہیں تھی۔‘
مگرہوا یہ کہ انڈیا نہ صرف سیمی فائنل میں پہنچ گیا بلکہ اس میں اپنے مقابل اور مسلسل تیسرے ورلڈ کپ کے میزبان انگلینڈ کو شکست بھی دے دی۔

Read more

گلگت بلتستان: کیا پاکستان فرقہ وارانہ فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے؟

گزشتہ ہفتے کے دوران گلگت بلتستان میں ایک شیعہ عالم و سماجی کارکن پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورا خطہ فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں شیعہ برادری سے متعلق افراد بلا خیز سرد موسم کے باوجود سکردو میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے گزشتہ مضمون : ’بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق‘ میں اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

Read more

وعدہ معاف گواہی قومی مجرموں کی عیدیں

وطن عزیز میں آج بھی لا تعداد اداروں اور ایجنسیوں کے باوجود عام طور پر بڑے بڑے کیسوں میں بیرون ملک ایجنسیوں سے تحقیقات کرانا روایت بن چکی ہیں۔ ایسے ایجنسیوں سے تحقیقات کرانا بذات خود سیاسی اور دیگر مصلحتوں سے مبرا نہیں ہوتے۔ ہم آج بھی انگریز سامراج کے دور کے ان کی اپنی سامراجی پالیسی کے تحت بنائے گئے قوانین پر جن کا مقصد stats۔ quo بحال رکھنا تھا، ان کی حقیقی روح کے ساتھ تواتر سے عمل

Read more

آپ اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟

چند روز پہلے ایک پرانے جاننے والوں کا فون آیا کہ وہ ہمارے شہر ایک دو روز کے لئے آرہے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے ہم سے بھی ملنے آئیں گے۔ ایک دو دن بعد دونوں میاں بیوی تشریف لائے اور چائے پہ کچھ پرانے دنوں کی اور آج کل کے زمانے کی باتیں ہوتی رہیں۔ باتوں کے درمیان مہمان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’آپ کہانیاں لکھنے کے بجائے اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ کہانیوں میں کیا

Read more

مقبوضہ چترال ۔۔۔۔

جب سے سوشل میڈیا آیا ہے لوگ اپنی مرضی کی تاریخ لکھنے میں مصروف ہیں۔ پھر اس سوشل میڈیائی تاریخ پر لوگ بحثیں کرتے ہیں اسی طرح کی ایک خود ساختہ تاریخ یہ بھی ہے۔ کہ۔ افغانستان کبھی کسی کے زیر تسلط نہیں رہا اور یہاں جو بھی آیا شکست کھا گیا وغیرہ وغیرہ۔ تاریخ پڑھیں تو حقائق کچھ اور بتاتے ہیں گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ دیکھی جائے تو اس خطے کو جسے ہم افغانستان کہتے ہیں اور

Read more

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں سرد جنگ

بدقسمتی سے پاکستان کی 75 سالہ سیاست بدترین محاذ آرائی کا شکار رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحاریک چلانے کے جنون میں کئی بار طالع آزماؤں کو مارشل لا نافذ کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اقتدار کی بساط لپیٹنے میں کلیدی کر دار ادا کیا ہے۔ پاکستان پاکستان کی سیاست طویل عرصہ تک پیپلز پارٹی اور اینٹی پیپلز پارٹی کیمپوں میں منقسم رہی ہے۔ ابتدا میں یہ تقسیم بڑی حد تک نظریاتی بنیادوں پر بھی

Read more

نواز شریف کے معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے، عمران خان کا مقابلہ فوج سے نہیں ریاست سے ہے: انوار الحق کاکڑ

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکٹر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستان واپس آنے کی صورت میں ممکنہ گرفتاری اور جیل بھیجنے جیسے معاملات پر حکومت نے وزارت قانون سے رائے طلب کر لی ہے اور اگر چیئرمین تحریک انصاف کو عدالتوں سے کوئی ریلیف نہ ملا تو پھر ’بدقسمتی سے عمران خان کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

Read more

ایک اور سابق وزیراعظم کا مسکن بننے والی اڈیالہ جیل کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور یہاں کیا سہولیات میسر ہیں؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر سابق وزیراعظم عمران خان کو اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیا الحق کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی اڈیالہ جیل کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور کون سے بڑے سیاستدان یہاں ماضی میں اسیر رہ چکے ہیں؟

Read more

جب ضیا الحق نے مسلمانوں کے خلاف جنگ سے انکار کیا اور انڈونیشیا نے ’اپنے اسلحہ خانے کی کنجی پاکستان کو دی‘

’ضیاالحق برما میں ’آپریشن کیپیٹل‘ اور ملایا (ملائشیا) میں ’آپریشن زِپر‘ میں حصہ لینے کے بعد 23 ویں انڈین ڈویژن کے ساتھ جاوا (انڈونیشیا) آئے۔‘

Read more

کچھ طلباء یونین کے بارے میں

جون ایلیا نے کہا تھا ”پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت ہے“ ۔ لوگ جامعات میں کیوں آتے ہیں؟ یہ سوال پہلے میں خود سے کیا کرتا تھا اب اپنے طلباء سے پوچھتا ہوں۔ جن معاشروں نے انسانی آزادیوں کو دبانا چاہا وہ معاشرے سماجی اور اخلاقی ترقی میں پیچھے رہے۔ 1789 میں فرانس کے انقلاب کے بعد یورپ نے تبدیلی کی انگڑائی لی تو اس تبدیلی کی سپاہ میں نوجوان طالب علموں نے ہراول دستہ رہے۔ طلباء نے

Read more

ظہور الہی کی 42 ویں برسی۔ شجاعت حسین اور پرویز الہی میں دوریاں

25 ستمبر 1981 میری زندگی کا اداس دن تھا۔ مسلم لیگ کونسل (حقیقی) کے مرکزی رہنما چوہدری ظہور الہی نماز جمعہ کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے جسٹس مولوی مشتاق حسین کے ہمراہ اپنی کار میں ماڈل ٹاؤن کی مین سڑک سے گزر رہے تھے کہ الذوالفقار کے کارکنوں نے کلاشنکوف کا برسٹ مار شہید کر دیا۔ اسی روز چوہدری ظہور الہی کو ان کے ایک دوست نے بتایا کہ ان کو کسی نے ٹیلی فون کر کے دھمکی

Read more

شیر اک واری فیر۔۔۔

اگرچہ الیکشن کمیشن نے انتخابات جنوری میں کرانے کا عندیہ دیا ہے لیکن خوف ایسی نامراد شے ہے جس نے ضیاالحق کو بھی 90 دن کے پاجامے میں غیر جماعتی الاسٹک ڈال کے 10 برس تک کھینچنے پر مجبور رکھا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

اعلیٰ عدلیہ میں غیر جمہوری سوچ کی جڑیں

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ آمروں کے سامنے سرنگوں اور فوجی مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے والی عدلیہ نے آئین بنانے اور بحال کرنے والی پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ جسٹس منیر سے جسٹس بندیال تک کس کا ذکر کریں کس کا نہ کریں۔ کیا ایسی اعلیٰ عدلیہ اور چیف جسٹس نظر آتا ہے جس نے مروجہ آئین کا تحفظ کیا ہو۔ ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو صفحہ

Read more

کچھ ذکر محمد اختر مسلمؔ کا

شاعر مشرق علامہ اقبالؔ سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے، تو اقبال نے فرمایا کہ میرا ذہنی ارتقا۔ والد مرحوم محمد اختر مسلمؔ بھی اقبالؔ کی پیروی میں ذہنی اور فکری ارتقاء کی منازل طے کرتے رہے۔ کتاب دوست، مطالعہ کی وسعت اور تنوع ان کی قدر خاص تھی۔ مطالعہ میں وہ مشرق سے بیزار ہوئے نہ مغرب سے حذر کیا، بلکہ ہر شب کو سحر کرنے کی جستجو میں رہے۔ قریبی

Read more