چند دن پہلے بینیڈکٹ اینڈرسن کی کتاب ’سماج کا تصور‘ (Imagined Communities) پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا موضوع ”نیشنلزم (قومیت پرستی) اور حب الوطنی“ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”چھوٹی سے چھوٹی قوم کے لوگ بھی اپنی قوم کے زیادہ تر لوگوں سے اپنی زندگی میں نہ مل پاتے ہیں، نہ ان کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کبھی ان کو براہ راست سنتے ہیں، اس کے باوجود وہ دنیا کی جس دھرتی پر بھی جا بسیں، ذہنی طور پر وہ اپنی شناخت ’اپنی قوم‘ کے ساتھ پیوستہ رکھتے ہیں۔“
قوم ایک تصوراتی اشتراک کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، ہم تصور کر لیتے ہیں کہ ہمارا دوست وہی ہے جو ہماری قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ باقی تمام مذاہب، اقوام اور نسلوں کے لوگ دشمنی اور نفرت لائق ہیں۔ یہ دشمنی اور نفرت بنیادی طور پر تشکیک کی انتہائی شکل ہے، نتیجتاً ہر شخص شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے مذہب، قوم، اور نسل کو دوسروں سے ممتاز کرنے میں کوشاں نظر آتا ہے۔ نسلی تعصب انہی امتیازی احساسات سے وجود میں آتا ہے۔
Read more