تہذیب کے دائرے

سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ گھنٹی بجی۔ یہ میرے لیے بالکل انہونی بات تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے ایسا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ روایت ہمارے ہاں بھی چل پڑی تھی اور ایسی جگہوں پر جانے کا اتفاق بھی ہو چکا تھا۔ مگر ہر ہی بار بھوکے واپس آنا پڑا، کیوں کہ قطار میں لگنے کی خواہش تو یوٹیلٹی سٹور کے سامنے کھڑے ہو کرپوری ہو چکی تھی، اور

Read more

آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر!

جناب وزیراعظم نے اپنے وزیران باتدبیر سے سو یوم کے بعد ہی امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔ اول تو امتحان دینے والے خواتین و حضرات کئی سال کے بعد آج دوبارہ اس تلخ اور منحوس تجربے سے گزر رہے ہیں جسے امتحان کہتے ہیں اور دوم یہ کہ تیاری کے لیے نصاب لامحدود، استاد زمانہ اور خودسر ووٹرز، امتحانی بورڈ مختلف، پیپر سیٹرز سخت گیر و بے رحم، نگران عملہ مستعد اور عقابی نظروں والا، پرچہ تقریباً آؤٹ آف

Read more

گلگت بلتستان کے آئینی تشخص کی تلاش

اپنے آئینی تشخص کی تلاش اور ملک کا آئینی صوبہ بننے ، عبوری صوبہ بننے، مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ لینے یا پھر آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ لینے کے لئے دربدرگلگت بلتستان نازک موڑ پر آکر کھڑا ہوا ہے۔ نتائج پر لگی نظر سے ہٹ کر اس دوران ہونے والی موومنٹ بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ بالائی اور زیلی ایوانوں اور فورموں میں سنجیدگی سے گلگت بلتستان زیربحث رہا۔گلگت بلتستان کی آئینی تشخصکا یہ معاملہ اس

Read more

دو بیویاں حانہ اور مانہ

قیامت کے دن انسان سے کہا جائیگا کہ”کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اُس میں نصیحت حاصل کرنی ہوتی کرلیتا اور تمہارے پاس (اللہ تعالی کے عذاب سے) ڈرانے والا بھی آیا تھا،، سورۃ الفاطر 37 ڈرانے والوں اور خبردار کرنے والوں سے مراد انبیاء کرام، اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کتابیں اور اس اُمت کے لئے سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پرنازل کی گئ کتاب قرآن کریم ہے، اسی

Read more

آگیا 16 دسمبر

آج کا سورج طلوع ہوا اور ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کرگیا۔ ہاں آج 16 دسمبر ہے۔ وہی صبح جو آج سے کچھ سالوں پہلے کئی گھروں کو ماتم کدہ بنا کر چھوڑ گیا تھا اور اے پی ایس کے بچوں کے لیے درد کی ایک داستان لکھ گیا تھا۔ یہ وہی دن ہے جب ماوں نے اپنے بچوں کو صبح طلوع ہونے کی نوید سنائی تھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو تیار کیا تھا ان کا ماتھا

Read more

ایک منحوس تصویر کی اُدھوری کہانی

یہ پلٹن میدان ڈھاکہ کی تصویر ہے، دشمن کی فوجی میوزیم سے جاری کردہ، کرخت، بدبودار، اور تن بدن میں آگ لگا دینے والی تصویر، جسے دشمن بہت سنبھال کر رکھتا ہے، بڑی سی اور واضع جگہ پر آراستہ کرتا ہے، یہ سب کچھ دشمن کو زیب بھی دیتا ہے کہ ہماری شکست کی کہانی کو نوشتہ دیوار بنائے، لیکن ہم لوگ خود بھی یہی کام کررہے ہیں ۔ دسمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے اور سقوط ڈھاکہ کے نام

Read more

الیکٹرانک پرنٹ سوشل میڈیا سانحہ اے پی ایس کی مارکیٹنگ کرنے میں مشغول ہیں

صبح سے دیکھ رہا ہوں الیکٹرانک پرنٹ سوشل میڈیا سانحہ اے پی ایس کی مارکیٹنگ کرنے میں مشغول ہیں۔ ڈھول بینڈ باجوں والے ترانوں پر ترانے ریلیز ہو رہے ہیں۔ شہادت شہادت کا غلغلہ ہے، قوم کے اتحاد کی نوید ،بیرونی ایجنڈے کی تکرار، والدین کے شکرانے کی کہانیاں، غرض ہر کوئی اسے اپنے پسندیدہ ریپر میں لپیٹ کر پیش کرنے کی سعی میں جتا ہے۔ یقین جانیں ! یہ سب جھوٹ ہے اس مارکیٹنگ سے ٹی آر پیز تو

Read more

حضرت مولانا محمد اسرار الحق صاحب قاسمیؒ (1942-2018): ملی وسماجی خدمات

معروف اسلامک اسکالر، بے لوث ملی ومذہبی رہنما، مشہور اردو کالم نگار اور مقبول خطیب حضرت مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ 7 دسمبر 2018 کوتقربیا ساڑھے تین بجے رات اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اس رات آپ "ٹپو” میں تھے، جہاں انھوں نے اپنے قائم کردہ "دار العلوم صفہ” کے اساتذہ وطلبہ سے دیر رات تک خطاب کیا۔ پروگرام کے بعد، گشن گنج سرکٹ ہاؤس میں آرام کے لیے فروکش ہوئے۔ تقریبا تین بجے رات میں بیدار ہوئے اور

Read more

علامہ عبدالعزیز پرہاروی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔حیات و خدمات

علامہ عبد العزیز پرہاروی حنفی علیہ الرحمہ تیرہویں صدی ہجری کے نامور اور محقق علماء میں سے تھے۔ آپ مفکر اسلام، شیخ القرآن والحدیث، عارف باللہ اور مجتہد تھے۔ آپ نے صرف ۳۳ سال کی عمر پائی اور علوم دینیہ، علوم عقلیہ، الٰہیات، کلام، منطق، طب اور فلکیات پر نہ صرف کامل مہارت حاصل کی بلکہ ان علوم میں گرانقدر کتب تحریر کی ہیں۔ آپ کی ولادت ضلع مظفر گڑھ میں کوٹ ادّو کے نزدیک واقع ایک معروف بستی پُرہار

Read more

ڈھاکا ابھی نہیں ڈوبا

آزادی ہند کی بنیاد پر دو ممالک کا وجود میں آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کو بالآخر فروغ ملے گا اور نو آبادیات کا سورج بس اب غروب ہوا ہی چاہتا ہے جس کی وجہ سے فرد کی فرد پر حکمرانی کو جائز تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن لیاقت نہرو پیکٹ اور آزاد ریاستوں کو بزور شمشیر اپنے ساتھ شامل کر کے دونوں ریاستوں نے اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ

Read more

سانحہ پشاور، ہم نہیں بھول سکتے

سولہ دسمبر 2014 ء کا سورج طلوع ہوا تو اپنے ساتھ ان گنت غم لے کر آیا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ دن ملک کی تاریخ میں ایک اور دلخراش سانحے کے طور پر لکھا جائے گا۔ یہ سورج طلوع ہوا تو اپنے ساتھ رنج اور دکھ لے کر آیا۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں نے پشاور کے حساس دلوں، پھول جیسے بچوں کو خون میں رنگ دیا تھا۔ ہر صاحبِ دل اس واقعے کو سوچ کر اشکبار ہوتا ہے۔ دہشتگردوں نے سکول میں گھس کر معصوم بچوں کو ایک ایک کر کے گولی ماری۔ یہ سفاکی کی انتہا تھی۔ ہر ایک ذہن اس سوچ میں مبتلا تھا کہ انسان اس حد تک بھی درندہ ہو سکتا ہے؟

Read more

بچوں کی تربیت اور روک ٹوک

ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا بچپن چھوٹی بڑی شرارتیں کرتے گزارا۔ کس کس کو یاد ہے کہ ہم بچپن میں نصاب کی کتابوں میں کہانیاں رکھ کر پڑھتے تھے۔ کتنوں کو یاد ہے کہ والدین کے لاکھ منع کرنے کے باوجود جاسوسی ڈائجسٹ، خواتین ڈائجسٹ اور ”تین عورتیں، تین کہانیاں“ پڑھتے تھے۔ یہاں غور کرنے کی بات والدین کی طرف سے منع کرنا ہے۔ اگر ہم نے پڑھنا ہی تھا تو دینی و اصلاحی کتب اور نصاب کی کتابیں بھی پڑھ سکتے تھے مگر وہ تجسس کی کشش تھی کہ ہم نے تقریباً ہر وہ کام کیا جو ہمارے والدین نے منع کیا۔

غلطی صرف ہماری ہی تو نا، تھی بلکہ دونوں طرف تھی۔ والدین گھر میں ایسی کتب اور رسائل نہ لاتے یا کم از کم ہماری پہنچ سے دور رکھتے تو بھی افاقہ ہوسکتا تھا۔ والدین نے شروع سے طریقہ یہ رکھا کہ برف دھوپ میں رکھ کر کوشش کی کہ وہ پگھلے نہ۔ بہرحال اسے پگھلنا تو تھا۔ صورتحال آج بھی اس سے مختلف نہیں۔ ہم اپنے بچوں کے سامنے موبائل استعمال کرتے ہوئے قہقہے لگاتے ہوئے دنیا و مافیا سے بے خبر ہوجاتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ موبائل ہاتھ میں نہ لیں۔

Read more

چائے کی کہانی

ایسا ہر گز نہیں ہے کہ سارے ہی لوگ مہمان نوازی کے روپ میں چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں کچھ ایسے بھی دنیا میں ہیں جن کے لئے چائے کسی چرس سے کم نہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو چائے کو بطور ہاضمہ پھکی استعمال کرتے ہیں جب تک پی نہ لیں ان کا نظام انہضام درست ہی نہیں ہوتا۔ میرا ایک دوست جو کہ چائے کا اتنا ٹھرکی تھا کہ وہ بیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہمارے پاس صرف چائے پلانے کی غرض سے ہی آتا تھا۔ جب ہم پوچھتے کہ چائے پلانے سے تجھے کیا حاصل ہوتا ہے تو وہ اپنا جواب کچھ یوں پیش کرتا کہ۔
” گرم چائے کا ایک گھونٹ آپ کے مخالفین کے دلوں میں بھڑکنے والی آگ پہ پانی کی طرح اثر کرتا ہے“

Read more

ایسا دیس ہے میرا

حکمران طبقے کا ذہنی دیوالیہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ 1948 ء کے بعد پاکستان کے عوام 1965 ء میں جنگ کی تباہ کاریوں سے دوچارہوئے۔ 1971 ء کی جنگ لڑی۔ 1999 ء کی جنگ لڑی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی خفیہ جنگ لڑتے رہے اور امن کی طرف پیش رفت کے امکانات مخدوش دکھائی دیے۔ مگراب کچھ سالوں سے امن کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ حکمرانوں کے ارتجالی تبصروں اور وعدوں پر کوئی رائے زنی نہیں کروں گا۔ پاکستان کے حالات میں آئینی یا بے آئینی، قانون یا لا قانونیت اور انصاف یا بے انصافی کے درمیان جو فرق ہے مجھے آج تک اس کی سمجھ نہیں آئی۔

Read more

مشرقی پاکستان سے مغربی سرحد تک

وہ کالے بونے بدشکل بنگالی کہلائے جاتے تھے، تحریک پاکستان ڈھاکہ سے ہی شروع ہوئی تھی جب 27 تا 30 دسمبر 1906 کو ہندوستان بھر سے تین ہزار کے قریب مسلمان وفود نے ڈھاکہ میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی جہاں تین روز کی طویل مشاورت کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا، اجلاس کی صدارت نواب وقار الملک اور نواب محسن الملک (سیکرٹری محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس) نے کی۔ محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے اس سے قبل شملہ اور لکھنو میں ہونے والے اجلاسوں میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک نمائندہ سیاسی جماعت کے قیام پر فیصلہ ہو چکا تھا جس کو ڈھاکہ میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ یہی مسلم لیگ بعد میں قیام پاکستان کی موجب بنی۔

Read more

حقیقی حق سے محروم قومی شناخت اُردو

ماہ نومبر، 2018 ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیرِ اہتمام گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں محترم شمیم حنفی، انور مقصود، مستنصر حسین تارڑ، ضیاء محی الدین، مسلم شمیم، رضاعلی عابدی، حسینہ معین، زاہدہ حنا، افتخار عارف، ڈاکٹر آصف فرخی، طلعت حسین، پروفیسرنجمہ رحمانی، تنویر انجم، ضیاء الحسن، شاداب احسانی، یاسمین حمید، امداد حسینی، جاذب قریشی، افضال احمد سید، باصر کاظمی، وجاہت مسعود، حارث خلیق، مظہر عباس، اویس توحید، ناصر عباس نیر، نورظہیر، نادرہ ظہیرببر، عارف نقوی، ڈاکٹر

Read more

مقبول حکومت کی بد حواسیاں

جمہوریت یقیناًعوامی فلاح کا نظام ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے نام لیوا عوام کی بہبود میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ اور درست بھی ہے کہ ہم ہمیشہ منفی رجحانات جلدی اپناتے ہیں جب کہ اس کے برعکس مثبت اشاریے ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ ہم بطور مجموعی ایک بے صبر قوم ہیں جو جلدی اپنی برداشت کھو بیٹھتے ہیں اور جب ہم برداشت کھو بیٹھتے ہیں تو ہمارا بلڈ پریشر ہائی

Read more

بنام منصف اعلیٰ

انسان فضاؤں اور خلاؤں میں، شاہراہوں پر یا چاردیواری کے اندر جہاں بھی ہٹ دھرمی، ڈھٹائی، بے احتیاطی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرے گا وہاں اس کے ساتھ حادثہ ہونا اٹل ہے۔ حادثات اور آفات کو انسان کی قسمت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان کے خلاف امریکہ کی ایٹمی جارحیت غفلت نہیں بلکہ بدترین فرعونیت تھی، اس سانحہ میں جاپانیوں کی قسمت کاکوئی دخل نہیں تھا، ایک عالمی ولن نے ”ہیروشیما“ پر شب خون مارا تھا۔ ہمارے

Read more

انسانی حقوق کے متعلق اسلامی تعلیمات کا جائزہ

دنیا میں موجود تقریبًا مذاہب انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن مذہب اسلام نے جس تاکید اور خوبصورتی کے ساتھ انسانی حقوق کو بیان کیا ہے، دوسرے مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حج الوداع کے تاریخی خطبے میں محسنِ انسانیت صہ نے واضح طور پر بتادیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور سیاہ فام کو سفید

Read more

ایک پیغام: عمران خان کے ناقدین کے نام

پاکستان میں 2018 میں ہونے والے جنرل الیکشن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خان کے 100 روز میں تبدیلی کے دعوے کا خوب چرچا ہوا۔ اب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے 100 روز مکمل ہو چکے ہیں تو ہر طرف ایک کہرام برپا ہے کہ کیا عمران خان اپنے دعوے کے مطابق تبدیلی کا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامیوں

Read more

سپورٹرز گدھے نہیں ہیں

جیو ٹی وی کی فلم ”ڈونکی کنگ“ میں ایک جملہ ”ہم گّدھے ہیں اور گّدھے ہی رہیں گے“ کو با آسانی ایسے کارکنان اور سپورٹرز کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے جو باوجود اپنے لیڈر کے تمام ظاہری برائیوں کے اس کے ہی گنُ گاتے نظر آتے ہیں۔ جن کی کوئی مجبوری ہو تو سمجھ آئے بھی مگر جو صرف قحط الرجال کے با عس ایسا کرے ان کی ذہنی حالت پر شبہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی بدلتی سیاسی صورتِ حال کا گہرا اثر ان سپورٹرز پربھی پڑا ہے۔ ان کو بھی شعور آنے لگا ہے کہ بجائے اندھی تقلید کے کچھ اپنے لیڈر کے کاموں کو دیکھ کر بھی فیصلہ کر لیا جائے۔

Read more

کرپشن و بدعنوانی اور احتساب کا نظام

16 نومبر 1999 ء کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے وجود میں آنے والا ادارہ نیب ملک میں کرپشن و بدعنوانی کے تدارک کے لئے کام کرنے والا سب سے بڑا اور مؤثر ادارہ ہے اس ادارہ پر منصفانہ اور جمہوری معاشرہ کے قیام کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقتداری حکمرانوں نے اسے مضبوط اور خودمختار بنا کر ٖفعال کرنے کی بجائے اپنے سیاسی حریفوں کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اگر آج احتساب کا یہ ادارہ خودمختار اور فعال ہوتا تو ملک میں کرپشن و بدعنوانیوں کی کہانیوں کا راج نہ ہوتا اور ملکی خزانے اور وسائل پر نقب لگانے والے سرحد پار جائیدایں نہ بناتے پاکستان میں بیشتر مسائل بلا امتیاز احتساب نہ ہونے کے باعث اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔

کرپشن کے خاتمہ کے لئے انفرادی و ادارہ جاتی مؤثر جدوجہد کی ضرورت ہے اب جو نلک میں احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اس کو رولنگ ایلیٹ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ وہ براہ راست اس کا شکار ہو رہی ہے یہی قوت اس عمل کو غیر فعال بنا کر احتساب کمیشن بنانا چاہتی ہے تاکہ ایک دوسرے کا تحفظ کیا جا سکے اگر ملک میں موجود سیاسی جماعتیں اس بات کا اعادہ کر لیں کہ احتسابی اداروں کی خامیوں کو دور کر کے اسے فعال بنایا جائے تو نہ صرف ملک بہتری کی طرف گامزن ہوگا بلکہ جمہوری نظام بھی مضبوط ہو گا۔

Read more

کیا سائنس اب تک کا ایک حتمی کائناتی سچ ہے؟

ریڈی میڈ نظریات کی دنیا ایک پیچیدہ معمہ ہے۔ پیچیدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ انسانوں کے ذہنوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ انسانی شعور و آگہی کی وجہ سے جنم نہیں لیتے۔ والدین، معاشرے، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ذریعے انسانی ذہن میں ریڈی میڈ نظریات ٹھونسے جاتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو دس سال تک اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا ریڈی میڈ نظریہ کیا ہے اور نہ ہی وہ کسی

Read more

مدرسے نہیں سوچیں دور بسائیں

ایک زمانہ تھا کہ میڈیا ریڈیوپاکستان، پاکستان ٹیلیوژن یا اخبارات پر ہی مشتمل ہوا کرتا تھا اس لئے کسی بھی قسم کی مذہبی و سیاسی دلچسپیاں یا تو ان ہی تین ذرائع تک محدود ہوا کرتی تھیں یا ان کی تفصیل سینہ بسینہ ایک دوسرے تک پہنچا کرتی تھی یا پھر پورے ملک میں سیرت النبی (ص) اور دیگر مذہبی و سیاسی جلسوں کا انعقاد ہوا کرتا تھا جس میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوکر براہ راست ساری کارروائی

Read more

پاکستان اور ریاست مدینہ میں مماثلتیں

اس مملکت خداداد کا معرض وجود میں آنا درحقیقت دین اسلام کی شان و شوکت کا بین ثبوت اور دنیا کے سیاسی افق پر مہر ربانی کی چھاپ کے مترادف ہے۔ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کی حیات طیبہ میں ریاست مدینہ کی تخلیق کے بعد یہ امر پہلی بار ظہور پذیر ہوا ہے۔ تاریخ ہی اس بات کا درست فیصلہ کرسکتی ہے کہ اپنے عہد کے سب سے بڑے مدبر حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی قوم کے

Read more

اردو ہم شرمندہ ہیں

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اس بات سے تو ملک کا بچہ بچہ واقف ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کے ملک کے کل حصے میں کتنے فیصد لوگ اردو زبان کو اپنی پہلی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ خود دار اور باوقار قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں، اس کی قدر کرتی ہیں اور اپنی زبان پر فخر کرتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی

Read more

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کیا بحیثیت قوم ہمارے لئے باعثِ شرمندگی ہے؟

قوموں کی زندگی میں اچھے بُرے واقعات آتے رہتے ہیں، اور اکثر ایسے سانحات بھی جن پر لوگون کی تجویز کی مطابق شرم سے ڈوب مرنے کا مقام بھی فوراً ہی پیدا ہوجاتا ہے، لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر کب تک ہم بار بار ڈوب ڈوب کر مرتے رہیں گے، تاریخ کا تیز رفتار پہیہ تو بہت سرعت سے بہت دور نکل چکا ہے، پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی بہہ چکا، اس ناخوشگوار واقع کے بعد اب تیسری نسل بھی بوڑھی ہونے لگی ہے، ہمیں آخر کب تک اپنے ناپسندیدہ زخموں کو کرید تے رہنا چاہیے، کتنی مرتبہ ایک جرم بے گناہی میں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے؟ اور اگر ڈوبنا ہی ہے، تو ہمارے لئے شرم سے ڈوبنے کا مقام بہت وسیع و عریض بنایا جائے، کیوں کہ ہمیں اکیلے نہیں ڈوبنا ہے، اگر ہمیں اس لئے شرم آنی چاہیے چونکہ ہمارا ایک بازو ہم سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا ہے، تو میرے ساتھ آئیے، میں آپ کو ٹوٹے ہوئے بازووں کے انبار دکھاتا ہوں۔

Read more

بلیک لسٹ، ٹرمپ نے پاکستان سے مودی کی شکست کا بدلا لیا

گیارہ دسمبر کی بین الاقوامی سطح کی دو خبریں بہت اہم ہیں جن کو براہ راست تعلق پاکستان سے ہے، پہلی یہ کہ بھارت کی کانگریس جماعت نے بی جے پی کو الیکشن کے پہلے مرحلے میں شکست سے دوچار کیا۔

راجھستان، چھتیس گڑھ اور مدھیا پردیش میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس نے 100 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی، گزشتہ انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی کی تینوں ریاستوں میں واضح برتری کے ساتھ آئی تھی جبکہ کانگریس کے حصے میں صرف 22 سیٹیں آئی تھیں۔

Read more

ایک سکّے کے دو رُخ—-منڈیلا اور موگابے

تاریخ میں کچھ راہنما ایسے ہوتے ہیں جو قوم کی تربیت کو طاقت پر فوقیت دیتے ہیں، اُن کے لیے اقتدار سے زیادہ اہم اقدار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شخصیت اور توانائیوں کو قوم کی تربیت کے لیے صَرف کر دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے صفحات میں اُن کا نام سونے کے حروف سے لکھا جاتا ہے، اور اُسی وقت کچھ راہنما ایسے ہوتے ہیں جو اقتدار سے چمٹے رہنے کو ہی اپنی جیت سمجھتے ہیں، اُن کے لیے اقتدار کا حصول ہی انقلاب ہوتا ہے وہ اپنے سارے اقدار اور اپنی سالوں کی محنتوں کو حصولِ اقتدار پر قربان کر دیتے ہیں اور نتیجتاً وہ اپنی قوموں کو جہالت کے اندھیروں میں جھونک دیتے ہیں۔

Read more

شادیوں کاموسم اور زن مرید کا درست کنسیپٹ

یوں تو شادیاں کسی خاص موسم یا وقت کی پابند نہیں ہوتیں لیکن عام طور پر عیدالاضحی کے بعد شادیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو چلتے چلتے موجودہ شب و روز میں اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے۔

شومئی قسمت کہ پردیس میں ہونے کی وجہ سے نہ تو ولیمے کی کسی دیگ کی کُھرچن یاخوشبو پا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بے گانی شادی میں عبداللہ کی دیوانگی والا رول پلے کر سکتے ہیں۔

Read more

انسانی حقوق کا عالمی دن اور محسنِ انسانیت

ہر سال 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، ﺫرائع ابلاغ اور دیگر خصوصی تقریبات میں اس حوالے سے 71 سال پہلے قائم شدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو کچھ اس انداز میں زیر بحث لایا جاتا ہے، جیسے وہ اس سمت میں پہلی قدم ہے یا وہ ہر لحاظ سے جامع اور حتمی ہے۔ حالانکہ آج سے 1440 سال پہلے پیغمبر اسلام نے اسلامی تعلیمات کی شکل میں انسانی

Read more

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

راقم بھی ہمیشہ دیر کردیتا ہے، جیسا کہ بیس نومبر کو ہونے والے ایک سیمنار کا وعدہ ایفاء کرنے میں دیر کردیا۔ دراصل غیرسرکاری فلاحی اداروں ایف ایل آئی (فورم فار لینگویج انشٹیوز) اور جی سی ڈی پی (گاؤری کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام) نے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں علمائے کرام، صحافی برادری، ڈاکٹروں، سماجی کارکنوں کے ساتھ راقم کو بھی شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ سیمنار پاکستان کے ایک دور افتادہ علاقے کالام میں منعقد ہوا جس میں بچوں کے حقوق اور ان کے فلاح و بہبود کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے یہ سیمنار انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس لئے شرکاء نے عہد کیا تھا کہ اس بارے آگاہی کی بیداری میں بھرپور حصہ ڈالیں گے۔ مگر کیا کریں ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں“ اور آج پورے بیس دن بعد قلم کو جنش دینے کا موقع ملا۔

Read more

خود سے محبت

سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو کیسے ڈھونڈا جائے؟ اپنے سے دوستی کیسے کی جائے؟ اپنے سے تعلق کیسے بنتا ہے؟ میرا خیال ہے یہ سوالات غلط ہیں۔ صحیح سوال یہ ہے کہ آپ کب کیسے اور کہاں کھوگئے؟ اور اپنے سے تعلق کب اور کیسے ٹوٹا؟ اپنا آپ کھوجانے سے کیا مراد لی جائے؟ ذہنی صحت کے محققین کے مطابق اپنے کو کھونے کا عمل ہمارے پیدا ہوتے ہی شرو ع ہو جاتا ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہی سیکھ لیتے ہیں کہ اگر ہم کو زندہ رہنا ہے تو دوسروں پر انحصار کرنا ضروری ہے اور ان پر انحصار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں سے ایک خاص قسم کا تعلق لگاؤ اور جڈت قائم کی جائے۔ ایسی جڈت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی خوشی اور مرضی کے بجائے دوسروں کی خوشی اور مرضی سے کام کیے جائیں۔ اور ان کے مطابق اپنے کو ڈھال کر ان کا پسندیدہ بنا جائے تاکہ وہ خوش ہوکر ہم سے تعلق لگاؤ یا جدت قائم رکھ سکیں۔

Read more

پھول ہی پھول

میں پہلے ہی رام کتھا میں شہر میں لئے گھر کے بارے میں لکھ چکی ہوں کہ وہ شہر سے بہت دور ہونے کی وجہ سے سینما اور بازار دور پڑتے تھے۔ جس کی وجہ سے ہماری بڑی بہنیں بابا سے ناراض ہی رہتیں کہ سینما کیسے جائیں۔ وہ گھر بڑا تھا لان پھول تھے پڑوس میں جو کہیں کہیں بنگلے بنے ہوئے تھے سب کے گھروں میں نیچے درخت ہوا کرتے تھے۔ خود ہمارے گھر میں بھی تین بڑے

Read more

وجیا نگر کا انجام

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ، کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔ وجیا نگر کا درد ناک انجام اس کی گواہی ہے۔ یوں تو جنگ و جدل سے دنیا کی تاریخ بھری ہے۔ یورپ بیسویں صدی کی دو عظیم جنگیں اور اس کے خوفناک نتائج بھگت چکا لیکن برصغیر پاک و ہند میں ایسی مخلوق بستی ہے کہ اسے کسی انجام سے ڈر نہیں لگتا۔ دونوں طرف سے جنگ کی باتیں یوں کی جاتی ہیں جیسے یہ

Read more

داد کا تو حق بنتا ہے

منظر کیا تھا بس چہارسو ادائے دلبرانہ، حسن، پاکیزگی اور عظمت کی آمیزش تھی۔ میں اس منظر کو اگر صرف خوب صورت کہوں تو شاید خود کو کبھی معاف نہ کر پاؤں یا اگر آپ اس کو صرف خوب صورت کہیں گے تو لازمی بات ہے میں آپ کو مورود الزام ٹھہراؤں گا۔ خوب صورت منظر کا سن کر اگرآپ کے ذہن میں اونچے اونچے برفیلے پہاڑ، بہتے دریاؤں کے اُوپر سفید بادلوں کی مسحور کن حرکت، سرسبز وادیاں، جنگلوں

Read more

سو دن میں وزیراعظم نے قوم کو حوصلہ دیا ہے

تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو برباد کر دیا تیرے سو دن کے اختیار نے ہم نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانی ہے۔ ریاست مدینہ کے معاشی پہلو نے غریبوں کو اٹھایا ہم نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے یہں غریب ملک کو اوپر لے کر آئیں گے۔ ہم غربت ایسے دور کریں گے جیسے چین نے ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ ہم کرپشن ایسے ختم کریں گے جیسے چین نے ختم کی۔ ہم

Read more

انڈے اور کٹے

ٹھنڈے دسمبر میں وزیراعظم عمران خان کا انڈوں اور مرغیوں کا آئیڈیا بہت ہی ہٹ جارہا ہے۔ سوشل میڈیا بھی گرم انڈوں اور مرغیوں کی تعریفوں اور ”جگتوں“ سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ حد تو یہ ہوئی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ بھاری مقدار میں انڈے پارلیمنٹ کے اندر لے جاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر سے تین درجن انڈے جبکہ تحریک انصاف کے ایم این اے افضل ڈھانڈلہ سے 10

Read more

دہشت گردی ہو یا تعلیمی ادارے، کرپشن ہی بنیادی مسئلہ ہے

جوئے بڈن نے کہاں تھا "کرپشن ایک کینسر ہے، ایسا کینسر جو لوگوں کا جمہوریت پہ سے ایمان اٹھا دیتی ہے؛ جو نوجوانوں کی صلاحیتیں ضائع کردیتی ہے، تخلیقی صلاحیت کو تباہ کر دیتی ہے۔ کرپشن لوگوں کو روزگار اور سرمایہ کاری سے دور کردیتی ہے۔” آج دنیا میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ عقل مند اقوام یہ جان چکی ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے، تو سب سے پہلے کرپشن کو ختم کرنا ہو گا، لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں کرپشن کے خلاف کوئی موثر اقدام نہیں ہوتا۔ قانون تو ہے پر اس پر عمل درامد نہیں ہوتا۔ نیب جیسے ادارے تو ہیں لیکن پلی بارگین جیسا راستہ بھی ہے؛ کرپٹ لوگوں کے پاس بھاگنے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کے ہمارا ملک پاکستان کرپشن میں دنیا کے 180 ممالک میں سے 117 پہ ہے، اور یہ خاصی افسوس ناک بات ہے۔

Read more

تیرے ہونے کا احساس؛ میری زندگی کی اساس

شریکِ حیات کے نام! فی زمانہ ظاہری تناقص کا زمانہ ہے، جسے انگریزی اصطلاح میں پیراڈاکس کہتے ہیں۔ ہم آج کے دور میں دنیا کے دوسرے کونے پر بیٹھے انسان کے تو بہت قریب ہوچکے ہیں لیکن جو بہت قریب بیٹھے ہیں، اُن سے کوسوں دور جا چکے ہیں۔ سائنس نے جو ہمیں آسانیاں دی ہیں وہ غور کرنے پر مشکلات کی مترادف معلوم ہوتی ہیں ؛ اگر یہ سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو ایسے سمجھ لیں

Read more

بیادرفتگان رسول بخش نسیم

کئی بار قلم اٹھایا اور رکھ دیا، آنکھیں دھندلا جائیں تو لکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کوئی زندگی کی رعنائیوں کا مرثیہ بے نم آنکھوں سے لکھ کر دکھائے تو مانوں، آخری قدم قبرستان سے باہر رکھنے لگا تو ایک بار پھر مڑ کر دیکھا، مٹی کا ایک ڈھیر سامنے تھا، تو کیا وہ رعنائی خیال، وہ تبسم، وہ تکلم، وہ علم، وہ بصیرت، وہ حسن خلق، سب پیوند خاک ہو گئے؟ کیا ان سے دائمی محرومی ہی انسان کا مقدر ہے؟ لگا دل اچھل کر سامنے آگیا ہے، دل نے چاہا کہ میں اس خاک سے مخاطب ہو کر غالب کے الفاظ میں شکوہ کروں کہ تو نے ”یہ“ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟ اداسی نے پاؤں جکڑ لئے، اللہ کا شکر کہ مرشد اقبال ؒ آگئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں سنبھل گیا، جکڑے ہوئے قدم اٹھنے لگے، انہوں نے سرگوشی کی

Read more

آسمانی صحیفہ

خلیل جبران نے ایک متبرک شہر کا قصہ لکھا ہے جس کے باشندے آسمانی صحیفوں کے مطابق زندگی گذارتے تھے۔ مگر جب وہ اس شہر کودیکھنے پہنچا تو دیکھا کہ تمام شہریوں کا ایک ہاتھ اور ایک آنکھ نہیں ہے۔ استفسار پر اس شہر کے ایک بوڑہے نے بتایا ْ خدا نے ہمیں اپنی برائیوں پر فتح دی ہے ْ انھیں مقدس منبر کے اوپر وہ تحریر بھی دکھائی گئی جس پر تحریر تھا ْ اگر تمھاری داہنی آنکھ تمھیں ٹھوکر کھلائے تو اسے باہر نکال پھینکو۔ سارے جسم کے دوزخ میں جلنے سے ایک عضو کا ضائع ہونا بہتر ہے ْ

Read more

سسلین مافیا مشکل میں

چار دسمبر 2018 ء کو اٹلی پولیس نے سسلین مافیا کے نئے چیف سیٹیمومینیو کو اس کے 46 کارندوں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ سیٹیمومینیو کو گزشتہ برس انتقال کر جانے والے مافیا چیف سیلواتورے تو تورینا کی وفات کے بعد ایک خفیہ اجلاس میں نیا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ اٹلی پولیس نے یہ کامیاب آپریشن سسلین مرکز پالیرمو میں کیا۔ اٹلی پولیس نے اس کارروائی کے بعد پاکستان کی طرح دعویٰ کیا ہے کہ سسلین مافیا کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ پاکستان بھی اکثر وبیشتر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن دہشتگرد پھر واردات کرجاتے ہیں۔

Read more

صاحبان کشف و کرامات

جب بھی پرانے زمانوں کے بزرگان اور پہنچی ہوئی ہستیوں کے حالات اور کشف و کرامات کے قصے سنتے اور پڑھتے ہیں، تو دل میں یہ قلق ہمیشہ رہتا ہے کہ کاش ہم بھی ان کے ادوار میں زندہ ہوتے تو ان کی صحبت کے فیوض و برکات سے کچھ فائدہ اٹھا پاتے۔ پتا نہی اب دھرتی پر ان جیسے صاحبان جلال و کمال اور کرنی والوں کا نزول کیوں نہی ہوتا۔ ایسے لگتا تھا جیسے اب یہ دھرتی بانجھ ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن جب غور کیا تو اپنی کوتاہ بینی اورکم فہمی کا ادراک ہوا۔

گویا کہ خرابی ہماری فہم و نظر کی تھی۔ ایسا معاملہ ہرگز نہ تھا کہ ایسی پہنچی ہوئی ہستیاں یہاں اس گئے گزرے دور میں ناپید ہوں۔ بلکہ اب تو، ایک ڈھونڈھو ہزار ملتے ہیں۔ والا معاملہ ہے۔ پہلے وقتوں میں ایسے صاحبان نظر کی محافل میں مہینوں اور کبھی برسوں دو زانوں بیٹھنا پڑتا تھا، تب جا کر ان کے کمالات آشکار ہوتے تھے، اب تو معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ اب ہمارے جیسے کوتاہ نظر اور کم فہم بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سے ایسی برگزیدہ ہستیوں کے کمالات سے آشنائی حاصل کر لیتے ہیں۔

Read more

غیریقینی صورتحال اور انسان

انسان کی زندگی میں کبھی ایسے لمحات آجاتے ہیں جب وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہم سب کی زندگی میں اس طرح کے لمحات آتے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال بھی انسانی زندگی کی خوبصورتی ہے۔ ایسی صورتحال انسان کی زندگی میں کبھی کبھار نہ آئے تو زندگی کے تجربات سے دلکشی غائب ہوناشروع ہوجاتی ہے۔ گزشتہ روز میرے دوست نے کہا یار نیوز چینلزکے حالات بدترین ہیں۔ چینلز سے ہمارے ساتھیوں کو نکالا جارہے۔ کچھ نیوز چینلزبھی بند ہورہے ہیں۔ ہم بے روزگار ہوگئے تو کیا ہوگا؟ کیسے گھر چلے گا؟ زندگی تو تکلیف دہ صورتحال کا شکار ہوجائے گی۔ طنزیہ انداز میں اس نے یہ بھی کہا کہ تمہارے پاس تو ایک سال پہلے نئی نوکری کا موقع بھی ہاتھ لگا تھا جسے تم نے ضائع کردیا۔ اب خدانخواستہ یہ نوکری بھی چلی گئی تو کیا ہوگا؟

Read more

وزیراعظم عمران خان کی زندگی میں 22 عدد کی حیرت انگیز اہمیت

علم الاعداد ایک انتہائی قدیم علم ہے۔ قدیم زمانے میں ارباب مصر اور اہل یونان اس علم میں مہارت رکھتے تھے

علم الاعداد کے ماہرین کا یقین ہے کہ اساس زندگی علم ریاضی سے تعلق رکھتی ہے۔ ہماری زندگی مختلف اعداد کا کھلونا ہے اوریہ اعداد پیدائش سے لے کر موت تک ہمارا پیچھا کرتے ہیں

اعداد کی تکرار کہیں بھی محض اتفاق نہیں ہوتی۔ اگر کوئی عدد ہماری زندگی کے واقعات میں بار بار دہرایا جا رہا ہو تو وہ ایسی حقیقت کی طرف نشاندہی کرتا ہے جو عام انسانوں کی نظر سے مستور ہے۔ یہ تکرار قدرت کے کسی نہ کسی غیبی اشارے کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ اسے محض اتفاق سمجھ لینا نادانی ہے

عمران خان کے پاکستان کے بائسویں وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی میڈیا میں بائیس 22 عدد کی بازگشت سنائی دی جانے لگی اور نمبر 22 کوعمران خان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ کہا گیا کہ عمران خان بائیس 22 سال کی سیاسی جدّوجہد کے بعد بائیس 22 کروڑ عوام کے بائسویں وزیر اعظم منتخب ہوے

Read more

عالمی یوم انسانی حقوق، اقوام عالم وجنت ارضی کی مظلوم انسانیت

امریکی کانگریس کے رکن سے ایک نجی گفتگو جو ریکارڈ کی گئی یا ہو گئی میں ساؤتھ ایشیاء کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ آپ نا انصافی کا ساتھ دیتے اور بیرونی دنیا میں اس پالیسی کو کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں؟ کانگریسی ممبر نے کھلے بندوں اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم دنیا میں معاملات کو انصاف کی بجائے سیاسی طور پر دیکھنے اور اپنے مفادات کے تناظر میں جانچتے ہیں۔ بھارت جیسے بڑے ملک اور اس کی اقتصادی پوزیشن کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیوں کہ بھارت خطہ کی ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اس کے مقابلے میں ہم کشمیریوں کے لیے انصاف کی بات نہیں کر سکتے۔ امریکی کانگریسی رکن کا بیان واضح الفاظ میں عالمی اداروں، طاقتوں، ممالک اور پالیسیاں بنانے والوں کی سوچ کی عکاسی ہے۔

Read more

پرائمری کا استاد

گورنمنٹ پرائمری سکول کے اساتذہ جو نہایت ایماندار اور پرخلوص شخصیات کے مالک ہونے کے باوجود ایک طرف قوم کے بچے سنبھالتے ہیں تو دوسری جانب ان کو تنقیص کی بجائے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ استاد معاشرے میں ایک الگ مقام رکھتا ہے استاد کا صبر، بچوں کی شرارتیں برداشت کرنا اور رحم دلی کا مظاہرہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔

Read more

غیروں پے ستم اپنوں پے کرم

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ کراچی انیس سو سینتالیس سے لے کر انیس سو ساٹھ تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ روزگار کی تلاش میں لاکھوں کی تعداد میں جب لوگوں نے شہر قائد کا رخ کیا تو کراچی میں روزگار کے مواقع کم اور افراد بڑھنے لگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں تجاوزات قائم ہونے لگے اور قائم تو کیا غیر قانونی تجاوزات کی بھرمار ہونے لگی۔ ایک جگہ کہا گیا کہ تجاوزات کا آغاز انیس سو ساٹھ سے ہوا اور یوں ہوتا ہوتا پورے شہر میں پھیل گیا۔ عمران خان جب پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہوئے تو کئی اقدامات کیے ان میں سب سے بڑا قدم جو اٹھایا گیا وہ کراچی میں قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن تھا۔

Read more

پاکستان کا کھیلوں کی دنیا میں تابناک ماضی

بیسویں صدی کے وسط میں جب مملکتِ خداداد دنیا کے نقشے پہ ابھرا تو اس وقت کھیلوں کی دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کا راج تھا۔ مگر کھیلوں کی بنیادی سہولیات نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان نے اپنے قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی اپنی صلاحیتوں کا ایسا لوہا منوایا جس نے تمام عالَم کو دنگ کردیا۔ بات کی جائے کھیلوں میں پاکستان کے ماضی کی تو یہ کافی حسین لمحات اور باوقار کارگردگی سے بھرا ہوا ہے۔ موجودہ دور کے بر عکس ماضی میں پاکستان کا شو کیس کئی اہم عالمی تمغوں، ٹرافیوں اور ایوارڈز سے بھرا رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان نے متعدد کھیلوں میں اپنا آپ دنیا کو ثابت کیا اور عالم کو ابھرتی ہوئی ”سپورٹس نیشن“ کا پیغام دیا۔

Read more

انتقالی مرحلہ

جزیرہ عرب کے تپتے صحرا میں بسنے والے خانہ بدوش بدو وں میں تباہی وبربادی کے تمام عناصر بدرجہ اتم موجود تھے، ان کامعاشرہ جہالت اور اندھیروں کی خندقوں میں معاشرہ گرفتار تھا۔ دعوت محمدی ﷺکا پرنور سورج طلوع ہواتو محض 23 سالوں میں یہی قوم دنیا کی بہترین تہذیب کے علمبردار بن کر اقوام عالم کے لیے قابل اقتدا مثال بن گئے۔ یہ 23 سال اس قوم کا انتقالی مرحلہ تھا، پر امن، تیز اور مو¿ثر، جس سے صرف جزیرہ عرب کے باسی ہی نہیں، تمام اقوام عالم مستفید ہوئی۔

Read more

چور کا انٹرویو

السلام علیکم ناظرین۔آج میں آپکے سامنے ایک انتہائی معزز اور مشہور و معروف شخصیت کا انٹرویو کرنے جا ر ہا ہوں۔ہو سکتا ہے زندگی میں آپ کا بھی متعدد با ر اس سے واسطہ پڑا ہو ا گر نہیں پڑ ا تو ممکن ہے کبھی بھی اس سے آپکا واسطہ پڑ جائے یہ کسی بھی دفتر محکمے دکان ہوٹل گلی محلے میں آپ کے ساتھ اپنی کاریگری کا مظاہر ہ کر سکتے ہیں۔ اور وہ کسی بھی تعارف کے محتاج

Read more

انسانی طاقت لامحدود ہے، لیکن انسان لاعلم کیوں ؟

اس تحریر میں ہم انسان اپنے آپ کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے اورسوچنے کی مشق کرتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور کیا کررہے ہیں؟ سوچیے اس ملک میں کیا کوئی ایسا خاندان ہے جہاں خوشی، مسکراہٹیں اور خوشگوار کیفیت کا سماں ہو؟ ایک خاندان چند افراد کے مجموعے کا نام ہے۔ کیوں یہ چندافراد خوشی اور خوشگوار کیفیت کو انجوائے نہیں کرپارہے ہیں؟ جب ایک گھر میں خوشی اور مسکراہٹ نہیں، جب یہ چند افراد جو ایک

Read more

تجھے سلگا کے سگریٹ میں، میں تیرے کش لگاتا ہوں

تم جو کہتی ہوچھوڑ دو سگریٹ تم میرا ہاتھ تھام سکتی ہو۔۔۔ جون ایلیا کا یہ شعر گلی کوچوں میں پھرنے والےناکام عاشقوں کے دل کی ترجمانی کرتا ہے۔ آج کل ہر دوسرا شخص لڑکی سے دوستی کیلئے، محبوبہ کی بے وفائی سے تنگ آکر سگریٹ سے یاری کر لینا اپنا فرضِ اولین سمجھتا ہے ۔ اور ٹرین کے انجن کی طرح ادھر ادھر دھواں اڑاتا دکھائی دیتا ہے ۔ ا ک نظم ملاحظہ فرمائیں : پھر ایک سگریٹ جلا

Read more

عدل مثل حیات اور ناانصافی مانندِ موت ہے۔۔

شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ”عدل وہ انصاف کے ساتھ سیاست و حکمرانی تین صفات سے حاصل ہوتی ہے،

1۔ ہوشیاری کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کرنے سے۔
2۔ عدل و انصاف میں انتہائی کوشش کرنے اور اس کا پورا حق دلانے سے
3۔ لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے اور میانہ روی کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے۔ ”

وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی یقیناً مولا علی کے اسی قول کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔ ہم ان کی نیت ان کے جذبے کو ہرگز شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے ہیں مگر اس مختصر سے دور حکمرانی کے دوران خان صاحب کے کسی ایک اقدام سے بھی ایسا نہیں لگا کہ وہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام میں سنجیدہ ہیں۔ خان صاحب کے ایک سؤ سے زائد دنوں پر محیط اپنے اقتدار کے ایک دن میں بھی ایسا نہیں لگا کہ جب انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف نرم لب ولہجہ اختیار کیا ہو۔

Read more

گلگت بلتستان بند گلی میں

صدارتی آرڈیننس پیپلز پارٹی نے بھی جاری کیا۔ آرڈر ن لیگ نے بھی چلایا۔ مگر یہ اطمینان تو تھا کہ یہ محض انتظامی نوعیت کے حکم نامے ہیں۔ یہ حکم نامہ آج جاری ہوا ہے تو کل ایک اور حکم کے ذریعے ختم بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں۔ کوئی قانونی نظیر نہیں، محض ایک انتظامی آرڈر ہے۔

مگر یہ عمران خان نے کیا کیا کہ ہماری سیاسی تقدیر کا فیصلہ ایک کورٹ کے حوالے کر دیا؟ گلگت بلتستان صوبہ بنے گا یا نہیں، اب یہ سپریم کورٹ طے گا؟ آئینی حقوق قانون سازی کے ذریعے ملتے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ قانون ساز ادارہ ہے؟ ایک خطے کے عوام کی سیاسی جدوجہد درست ہے یا نہیں اس کو عدالت کے میزان پر تولا جائے گا؟

Read more

جادو ٹونا اور ہمارا معاشرہ

جب حالات ناگوار ہوتے ہیں اور انسان کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہوتا ہے تو اس پریشانی کے عالم میں لوگ اسے کہتے ہیں کہ ضرور یہ کسی کی طرف سے کوئی بندش ہے۔ یہ سب سن سن کر دن بدن انسان کا یقین ڈگمگانے لگتا ہے اور وہ اسی سوچ کی طرف مائل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ایسے مائی بابوں کو ڈھونڈنے لگ پڑتا ہے ویسے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیوں کہ کوئی نہ کوئی ایسا ضرور موجود ہوتا ہے جو آپ کو ان کے پاس لے جانے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھا ہوتا ہے اور ان کی باتوں میں آ کر لوگ تعویذ دھاگوں کا سہارا لینے لگ پڑتے ہیں اور اسی طرح کالے جادو تک بات پہنچ جاتی ہے اور انسان اپنا کام سیدھا کرنے کے لیے ہر الٹا سیدھا کام کرتا ہے اور وہ فقیر بابا مائی ایسے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے سارے کام ان کی مرضی کے مطابق کر دیں گے اور انسان ان کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے اور ایسا پھنس جاتا ہے کہ پھر مکمل طور پر تباہ و برباد ہونے پر ہی سمجھ آتی ہے کہ وہ کیا کرتا رہا کچھ کو تو تب بھی نہیں آتی۔

Read more

جمہوریت، اشرافیہ اور عوام

جمہوریت اور اشرافیہ کے درمیان معصوم اور مظلوم عوام کی سسکیوں اور آہوں کو دیکھتا ہوں تو استاد محترم جاوید لغمانی کا ایک شعر ”روں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے“ ذہن میں گھومتا رہتا ہے۔ عوام سے جمہوریت کے متعلق بات کرو تو جواب دیتے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں کیا دیا۔ یہ سوال دراصل کئی سوالات جنم دیتا ہے۔ جن میں ایک سوال یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو کیا دیا۔ یہی جمہوری نظام برطانیہ میں کچھ اور نتیجہ دے رہا ہے مگر پاکستان میں نا امیدی اور مایوسی ہی عوام کا مقدر ہے۔

Read more

فلسطین، اسرائیل اور پاکستان کا رویہ

کیا زندگی میں ہمہ وقت جمود رہنا چاہیے؟ یا اس طرح کہہ لیجیے کہ کیا دنیا کے معملات ایک ہی رخ پہ چلتے ہیں؟ اوسط درجے کی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس بات کا جواب نفی میں دے گا۔ کیونکہ یہ اعجاز اللہ تعالی نے صرف انسان کو ہی ودیعت کیا ہے کہ وہ عقل کو برو کار لا کر مسائل کا حل ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اور اگر ان مسائل کا تعلق انسانی جانوں سے متعلق ہو تو پھر ایسے حالات میں سے فہم اور تفہیم سے راستہ نکالنا لازم ہو جاتا ہے۔ ان چند جملوں کی تمہید اپنے موضوع کو سمجھنے کے لئے باندھی گئی ہے۔ اب آتے ہیں اس موضوع کی طرف جہاں بات کرنا قدرے مشکل بنا دیا گیا ہے۔

آسان الفاظ میں بات کرتے ہوئے اگر کہا جائے کہ فلسطین جو کہ دنیا کا ایک گھمبیر اور انسانی المیے سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے، خصوصا مسلم امہ اسے مذہب کے حوالے سے جذباتی مسئلہ قرار دیتی ہے جبکہ فریق ثانی یعنی ایل یہود بھی ایسے ہی سوچتے ہیں۔ اپنے قیام کے بعد اسرائیل نے اپنی طاقت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی زمین اور وطن سے بے دخل کیا ہے۔ اس قضیے پہ عرب اسرائیل جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن فلسطین کے حق میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کئی دہائیوں سے سسکتا اور بلکتا یہ خطہ دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے لیکن آواز صرف توانا فریق یعنی اسرائیل ہی کی سنی جاتی ہے۔

Read more

تنہائی کا ہجوم

بے تحاشا ہنگامہ ہے۔ میسجز کی ٹونز، وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئیڑ، میسنجر، ای میل، ای بنکنگ کے نوٹیفیکیشن۔ وٹس ایپ دیکھتی ہوں۔ تمہارا میسج ہے مسکراتی ہوں کسی شوخ بات کا جواب ہے رپلائی کرتی ہوں۔ ایک کارپوریٹ میسج ہے، بھئی کس نے کہا کہ مجھے بھیجو میسج، کوئی دلچسپی نہیں آپ کی برانڈ سے معاف کر دو۔ طبعیت ہی گراں گزرتا ہے۔ پوپ اپ میں میسنجر کا نوٹیفیکشن ہے دیکھتی ہوں۔ یہ کس نے بھیجا کہا میں نے کہ مجھے لنک سینڈ کرو۔

Read more

لکھاری یا روگی بنانے والے گھناؤنے کردار

میں لفظوں میں زندہ رہتی ہوں، لفظ پہننا اور اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ یہ جو اخبار ہیں نہ، یہ میرے ہر درد کی دوا ہیں، سر کے نیچے رکھتی ہوں توسردرد ختم ہو جاتی، کمر کے نیچے رکھ لوں تو سکون ملتا ہے۔ انہیں نہیں پتہ کہ یہ لفظ میرے لیے کیا ہے۔ روبینہ پروین شکوہ کناں نظروں سے فرح ہاشمی، ڈاکٹر ثمینہ اور میری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ وہ بول رہی تھی اور میری آنکھیں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔

وہ چوبرجی چوک میں ایک جھگی میں رہنے لگی تھی، ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔ کوئی کب تک سہہ سکتا ہے، آخر تھک جاتا ہے۔ وہ بھی تھک گئی مسلسل ظلم سہہ سہہ کر۔ نکل آئی گھر کی چاردیواری سے ننگے سر اور برہنہ پا۔ کسی نے موسم کی شدت سے بچانے کے لیے جہاں سوئی ہوئی تھی، وہاں چادر ٹانک دی، جو دیکھتے دیکھتے جھگی بن گئی۔ اردگرد دکاندار اچھے تھے۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے لگے، بیمارہوتی تو دوا لا دیتے، یوں وہ اس جگہ کا حصہ بن گئی۔ وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔

Read more

جنید جمشید، ایک عہد کا نام

اپنے چھوڑ کر نہیں جاتے، یوں منہ موڑ کر نہیں جاتے۔ یہ کیا! آپ رات اپنے شہر آئے اور اگلے ہی روز اس جہاں سے چل دیے۔ جنید جمشید کے لحد میں جاتے ہی ایک عہد تمام ہوگیا۔ ان کا دور ایک نسل کے ساتھ پروان چڑھا۔ میں نے بھی اسی دور میں آنکھ کھولی جب انھوں نے ایک ایسی دنیا میں قدم رکھا جہاں جھولی شہرت اور دولت سے بھرتی ہے۔ جنید نے محبتیں زیادہ سمیٹیں، چاہتیں بانٹیں۔ ٹھیک دو برس قبل معروف مذہبی اسکالر اور نعت خواں جنید جمشید ایک المناک فضائی حادثے میں ہم سے جدا ہوئے۔ جنید جمشید کی زندگی کے دونوں ادوار بلاشبہ یادگار اور بہترین، دونوں انداز عوام اور مداحوں میں بے حد مقبول رہے۔

جنید جمشید کے گائے ہوئے ملی نغمے ”دل دل پاکستان“ کی مقبولیت کی بات ہو یا ذکر ان کے نعتیہ کلام کا کیا جائے، پرُ اثر انداز، دلکش احساس اور سحر انگیز آوازدلوں کو چھو لیتی ہے اور کیوں نہ چھوئے جو آواز دل میں گھر کرلے، وہ کبھی بھی سماعت سے دور نہیں ہوسکتی۔

Read more

کسی کو پیچھے مت چھوڑو

”معذور افراد“ یہ اصطلاح اکثر ایسے افراد کے لئے استعمال ہوتی ہے جو اپنے احساسات کی گہرائیوں اور بے حد احساسات اور خواہشات کے ساتھ رابطے میں ہوں یہ ایک مکمل طور پر کام کرنے والے انفرادی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں جو مسلسل خود مختار ہونے کی کوشش کر تے ہیں جس میں جسمانی معذوری، حسی معذوری، عرفی معذوری، ناتوانی، ذہنی بیماری، اور مختلف اقسام کی دائمی بیماری بھی شامل ہے۔

Read more

ہمارے باپ

بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان کے تین باپ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام ب فارم پہ لکھا ہوتا ہے دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ ان تینوں ہی کی محنتوں اور کاوشوں سے ایک انسان مکمل اور خوشحال زندگی گزارنے لائق ہوتا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو کامیاب آدمی کے پیچھے انہی باپوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی یہ بات سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا کریڈت عورت کو بھی دیتے ہیں۔ یہ ان کے اپنے وچار ہیں اور وچاروں سے صرف اختلاف کیا جاسکتا ہے ان کو رد نہیں۔ خیر میرا ویسے اس موضوع پہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں فی الحال تو میں ان باپوں کا تذکرہ کروں گا جن میں بعض کو ہم باپ کہتے اور سمجھتے ہیں۔ اور بعض کو باپ کی جتنی عزت دیتے ہیں۔

Read more

چند متاثر کرنے والے گناہگار

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق چھیالس فیصد گناہ گار مرد اور چھ فیصد گناہ گار خواتین تمباکو نوشی کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نئے پاکستان میں تازہ ترین فتوے کے مطابق تمباکونوشی کرنے والا انسان ’گناہ‘ کا مرتکب تصور کیا جائے گا اور اگر وہ اپنے گناہ کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے گناہ ٹیکس کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ کم و بیش تمام نوجوان اپنے بڑوں کو تمباکونوشی جیسا گناہ کرتا ہوا دیکھ کر شدید متاثر ہوتے ہیں۔ بڑوں میں والد، دادا وغیرہ یا اپنی پسندیدہ شخصیات شامل ہیں۔

Read more

یقینی اور غیر یقینی

ویسے تو زندگی ہی غیر یقینی ہے لیکن پاکستان میں بالعموم اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بالخصوص ہر چیز اور ہر وقت غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو خود پر یقین نہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بھی وزیر اعظم کو یقین نہیں ہے کہ وہ اس عہدے پر کتنا عرصہ رہیں گے۔ اپنے ”غیر یقینی“ ہونے بارے وزیر اعظم نے گزشتہ سات دن میں دو بار قوم کو یقین دلایا۔ سو دنوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ مجھے اکثر یقین دلاتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں۔

ملک میں غیر یقینی کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ اصولی طور پر ہمارے ہاں سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کی تازہ ترین صورت حال کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال بھی ہر گھنٹے بعد ٹی وی چینلز کے ذریعے بتائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت اور ”یقینی صورت حال“ کا کیا عالم ہے؟ جس طرح ہمارے وزیر اعظم غیر یقینی کا شکار ہیں بلکہ ”شاہکار“ ہیں اسی طرح اب یہ وائرس وفاقی کابینہ میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر ملکی معیشت کی بہتری اور غیریقینی صورت حال پر بات کرنے کی بجائے دن میں دو تین بار یہ وضاحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس نہیں لیا جا رہا۔

Read more

حضرت سلیمان کا سلیمان سے معاملہ

اللہ کے نبی حضرت سلیمان 970 قبل مسیح سے 931 قبل مسیح تک 39 برس فلسطین کے علاقے کے حکمران رہے ۔ ان کی حکمرانی انسانوں کے علاوہ جنات ، چرند و پرند پر ہی نہیں بلکہ ہوا بھی ان کے زیر نگیں تھی۔ جنات سمندر سے قیمتی موتی ڈہونڈ ڈہونڈ کر ان کی خدمت میں پیش کرتے تو انسان ہر سال25 ٹن سونا ان کی خدمت میں پیش کرتے ان کی حکومت کو ٹیکس کی صورت میں جو رقم

Read more

بادشاہی مسجد لاہور کی سیر

آج ہم آپ کو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ، شان و شوکت اور مغل طرزِ تعمیر کی شاہکار بادشاہی مسجد لاہور کی سیر کرائیں گے۔ جسے عالمگیری مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کو مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کروایا تھا۔

بادشاہ ہونے کے باوجود مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دین دار اور نیک حکمران تھا۔ وہ اپنی گزر اوقات کے لئے قرآن پاک کی کتابت کرتا اور ٹوپیاں سیا کرتا تھا۔ بہرحال اقتدار کے حصول اور اس کی پختگی کے حوالے سے اورنگ زیب کی جدوجہد کو ابن انشا کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔ کہ ”اورنگزیب عالمگیر نے ساری زندگی نہ کوئی نماز چھوڑی تھی اور نہ کوئی بھائی چھوڑا“ ۔ اورنگزیب نے 1671 ء میں مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ جو 1673 ء میں اورنگزیب کے سوتیلے بھائی مظفر حسین جس کو فدائے خان کوکا بھی کہا جاتا تھا کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔

Read more

کیا ہم اچھائی اورنیکی کے حقیقی فطری تصورسے واقف ہیں؟

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں ہر وقت اچھائی، نیکی اور اچھا کام کرنے کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ ٹی وی پر دانشور، مبلغ اور مذہبی اسکالرز ہر وقت اچھائی اور نیکی کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ گھر میں ماں باپ چوبیس گھنٹے یہی نصیحت کرتے ہیں کہ بزرگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔ بوڑھے افراد کی مدد کرنی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اچھائی کی تبلیغ کیوں؟

Read more

کیا ہے شادی کی حقیقت؟

شادی شادی شادی۔ پرینکا چوپڑا کی شادی، دیپیکا کی شادی، ایمن کی شادی، انسٹاگرام کھولو تو اس پر خوبصورت اور انجان لوگوں کی شادیاں فوٹو گرافی کے پیجز پر چھائی ہوئی ہیں فیس بک پر شادی کی تصویریں ڈی پی سے لے کر کور فوٹو تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی کی بہن کی شادی کسی کے بھائی کی شادی کسی کے پسندیدہ فنکار کی شادی تو کسی کی نند کی پھوپھی کے بھتیجے کی شادی۔ یوٹیوب کھولو تو اس پر

Read more

آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

تو ثابت ہوا سارا قصور میڈیا کا ہے۔ ملک میں برپا افراتفری، نفسانفسی، سیاسی کشمکش، معاشی بدحالی، غربت، اقرباپروری، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، حکمران جماعت اور اپوزیشن راہنماؤں کی برافروختگی و شعلہ نوائی، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی، اخلاقی گراوٹ، معاشرتی و سماجی اقدار کی پائمالی، آبادی میں ہوش ربا اضافہ، صحت عامہ وتعلیمی میدان کی خستہ حالی، دہشت گردی کی لہر کا از سر نو سر اٹھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ

Read more

عقل مند مرد، عقل کے ہاتھوں مارا جاتا ہے

آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کم عقل مند اور ذرا بے وقوف مردوں کی زندگی مزے میں ہوتی ہے۔ ان کے آس پاس والے اکثر ان سے خوش نظر آتے ہیں۔ یہ اپنے ازدواجی اور محبوبائی معاملات میں بھی خوش نصیب ٹھہرتے ہیں۔ ان کی زوجہ اور محبوبہ ان سے خوش ہوتی ہیں۔ ان مردوں کو عورتوں والے لطائف بھی نہیں آتے کہ وہ گفتگو میں ان کا سہارا لے کر گفتگو کو چسکے دار بنا سکیں۔ زندگی

Read more

‘بابو نگر’ایک شاہکار کتاب

ویسے تو ادب کے فیصلے مستقبل ہی کرتا ہے کہ عالیشان مرتبہ حاصل کرنے والا شاعر اور ادیب کون کون ثابت ہوا۔ حسین احمد شیرازی کی کتاب ‘بابو نگر’ نے فیصلہ ہی دے ڈالا کہ وہ واقعی میں بہت بڑے ادیب کا درجہ حاصل کرچکے ہیں ۔ حسین احمد شیرازی کی کتاب پڑھتے آپ اندازہ کرسکیں گے کہ وہ ہر قسم کے بابو یعنی سیاسی بابو، خاکی بابو، کاروباری بابو، عدالتی بابو، وکیل بابو، عالمی بابو، روحانی بابو، طبعی بابو، ادبی

Read more

لونڈے بازی سے "Gay” کی جانب بڑھتا معاشرہ

دنیا بھر میں جہاں آئے روز نئی اصلاحات جنم لے رہی ہیں ، وہی معاشرتی بے راہ روی کے تسلسل کو قائم رکھنے اور غیر فطری طریقوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے پرانے طریقے نئے دور کے مطابق نئے ناموں سے نہ صرف جاری ہیں بلکہ کل تک جن چیزوں کو برا سمجھا اور کہا جاتا تھا آجکل معاشرہ نہ صرف ایسی حرکات کو کسی حد تک قبول کر رہا ہے بلکہ نئی نسل اس کا کافی حد تک شکار

Read more

بات کیجیے سرِ بازار غلط

جناب نواز شریف اگر 33 سال پرانے واقعے کے حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں تو یہ بات منطقی اور سمجھ میں آنے والی ھے مگر کوئی وزیراعظم دو دن قبل اپنی ہی حکومت کی ناک کے نیچے وقوع پذیر ہونے والے اہم اور دور رس حادثے کے متعلق اپنی بے خبری ظاہر کرے تو یہ امر صریحاً اس کی نااہلی اور ریاستی و حکومتی معاملات میں اس کی گرفت کے انتہائی کمزور ہونے کی علامت ہو گا۔ ملک

Read more

دماغ کا دہی بن گیا ہے صاحب۔

کچھ سمجھ نہیں آنے کا یارا ،کیا چکر چل رہا ہے ،عجیب گورکھ دھندہ ہے ،کس کونے کو پکڑیں اور کس کنارے سے شروعات کریں ۔ تبدیلی کی ہوا ایسی تیز کہ مانند طوفان ہے ،ایسا لگے کہ شہر کے ساتھ سونامی ٹکرا گیا ہو،اور ٹاکرا بھی ایسا کہ واضح ایکسیڈنٹ بھی نہیں اور بچت کے آثار بھی نہیں ،بس طوفان آیا ،ساحل سے ٹکرایا اور جلدی سے یوٹرن لیا مگر کچھ لہریں فصیل شہر سے ٹکرا گئیں اور شدت

Read more

یہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں

انسانیت کی بے لوث اور بے غرض خدمت کرنے والے لوگ معاشرے کا بیش بہا قیمتی تحفہ ہوتے ہیں۔ان رضا کاروں کے کی وجہ سے ہی دوسرے لوگوں میں انسانوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کا ایک تصور پیدا ہوتا ہے۔ ایک مخلص رضاکار بغیر کسی لالچ کے انسانوں کی مدد کرتا ہے اور کبھی بھی کسی انسان سے اس کے بدلے کی توقع نہیں رکھتا بلکہ ایک رضاکار کو تو دوسروں کی مدد کرکے جو روحانی خوشی اور

Read more

خواتین پر تشدد

کسی بھی انسان کو بنیادی حقوق سے محروم کردینے کا عمل تشدد کہلاتا ہے۔ آج ترقی یافتہ دور میں بھی ہر تیسری عورت تشدد کا شکار ہے۔ موجودہ دور کا ہر انسان بے شمار وسائل کے جال میں جکڑا ہواہے۔ لوگوں میں جذباتیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ بعض اوقات اپنے ہوش کھو کر کچھ ایسا کر بیٹھتے ہیں کہ بعدازاں پچھتاوا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ عورتوں پر تشدد اس معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے۔ اس سے زیادہ دردناک اور تلخ ناک المیہ یہ ہے کہ اس تشدد کی ابتدا گھر کے ہی منفی رویوں سے ہوتی ہے۔

Read more

ساہیوال، علمی ادبی و ثقافتی کانفرنس اور نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی

تاریخی شہر ساہیوال میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس نے دُنیائے ادب کے ستاروں کو جُھرمٹ کی شکل میں اس سرزمین پر اکٹھا کر دیا۔ مُلک بھر سے آنے والے دانشوروں کے مقالات نے عالمگیر یت کے اثرات کی ناصر ف نشاندہی کی بلکہ شعرو ادب کے ثقافتی ورثے کے اُن مختلف پہلووؤں کو بھی سامنے لایا گیا جہاں گلوبلائزیشن نے بھرپور اثرات چھوڑے تھے۔ ناصرف یہ کہ ساہیوال سے بلکہ اردگرد کے شہروں سے بھی لوگوں نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔ دو دن آرٹس کونسل کا بڑا ہال شرکاء سے بھرا رہا۔

Read more

میڈیا کے طُلبہ اور میڈیا بحران

کہا جا رہا ہے کہ آنے والا دور صحافت کے لئے آسان نہیں ہوگا، ویسے تو صحافیوں کو ہر دور میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حالیہ میڈیا بحران کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شعبہ صحافت اور ماس کمیونیکیشن سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے بھی یہ دور پریشانی کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ پچھلے الیکشن کے لئے جن طلبہ کو مختلف نیوز چینل میں الیکشن سِل کے لئے انٹرن

Read more

”مٹی کی عورت“ ڈاکٹر پروین عاطف

دنیا کے ہر خطے اور تہذیب میں ایسی جاندار عورتوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے تاریخ میں اپنے نمایاں نقوش چھوڑے ہیں برصغیر کی مٹی بھی بہت زرخیز رہی ہے۔ اسی مٹی کی ایک عورت جسے لوگ ”ڈاکٹر پروین عاطف“ کے نام سے جانتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسی مٹی میں خاموشی سے جا سوئی۔

Read more

فرانس جرمن تعلقات: انڈیا پاکستان کے لیے سبق

فرانس اور جرمنی نے 1870 سے 1945 تک تین بڑی جنگیں لڑی۔ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم جیسی جنگیں ان دونوں ممالک کی دشمنی کا نتیجہ تھی، ان مہلک جنگوں سے کروڑوں معصوم لوگ قتل ہوئے، کروڑوں زخمی اور لاپتہ ہو گئے، لاکھوں بے گھر ہو گئے، تعلیمی ادارے، ہسپتال، انڈسٹریاں، روڈ، لاتعداد دولت اور سارا نظام زندگی بربادہوگئے۔ ان دونوں کی دشمنی سے پورا یورپ تباہ ہوا، ہر جگہ خوف کا ماحول، غربت، جہالت، تنگ د ستی، بے روزگاری، بیماریاں اور وبائی امراض کا راج تھا۔

Read more

جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا!

یوں تو ہر وہ انسان معذور کہلاتا ہے جو جسمانی طور پر کسی کمی یا زیادتی کا شکار ہو۔ کوئی عضو کم ہو یا کسی عضو میں کوئی مسئلہ ہو۔ لیکن دیکھا یہ بھی جاتا ہے کہ بہت سارے ایسے افراد جو بظاہر جسمانی معذور ی کا شکار ہو وہ تندرست و توانا افراد سے بہت زیادہ حد تک معاشرتی امور میں فعال کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اقبال عظیم ایک ایسے معلم و شاعر گزرے ہیں جو کہ قدرتی طور پر ساٹھ سال کی عمر میں بینائی سے محروم ہوگیا۔ اپنی اس جسمانی معذوری کے باوجود بھی اقبال عظیم نے اپنے آپ کو معاشرتی امور سے غافل نہیں ہونے دیا اور ہر معاملے پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کے ایک شعر نے ہم سب کو وہ سبق دیا کہ میں سمجھتا ہوں یہ رہتی دنیا تک اہل بصارت کے لئے آئینہ کی مانند ہے۔ ان کا کہنا تھا

Read more

زِبان دینے والی زبانیں خود گونگی نہ ہوجائیں

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کا اعلان ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے نئے بحث مباحثے شروع ہوچکے ہیں، تاہم یکساں نصاب تعلیم طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے لئے ابتدائی سطح سے لے کر ہائیرایجوکیشن تک تمام کتب سے لے کر طریق تعلیم پر ازسرنوغور و خوض کیا جاسکتا ہے، یکساں نصاب تعلیم کی جانب قدم اٹھانا وفاقی حکومت کی تعلیم رغبتی اور تعلیم دوست ویژن اور فروغ کی جانب ایک قدم ہے، پانچ سالوں پر محیط حکومت اس دورانیہ میں کس حد تک کامیابی حاصل کرسکتی ہے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ قدم دیر آید درست آید کے مانند ہے۔

Read more

یہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں – رضاکاروں کا عالمی دن

انسانیت کی بے لوث اور بے غرض خدمت کرنے والے لوگ معاشرے کا بیش بہا قیمتی تحفہ ہوتے ہیں۔ ان رضا کاروں کے کی وجہ سے ہی دوسرے لوگوں میں انسانوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کا ایک تصور پیدا ہوتا ہے۔ ایک مخلص رضاکار بغیر کسی لالچ کے انسانوں کی مدد کرتا ہے اور کبھی بھی کسی انسان سے اس کے بدلے کی توقع نہیں رکھتا بلکہ ایک رضاکار کو تو دوسروں کی مدد کرکے جو روحانی خوشی

Read more

ایٹم بم اور اسلام

یہ اس وقت کی بات ہے جب نیوکلئیر ویپن ( ایٹم بم) بنایا گیا۔
نعمان اپنے استاذ مولانا عمران سے پوچھتا ہے۔
استاذ آپ کو پتا ہے؟ امریکہ میں غیر مسلموں (گوروں ) نے ایٹم بم بنا دیا ہے۔

مولانا صاحب نعمان سے فرماتے ہیں۔
بڑے نکمے اور نا لائق بچے ہو نعمان آپ۔

نعمان : استاذ یہ جملہ آپ تو میری تعریف میں ہر بار ارشاد فرما دیتے ہیں۔ میں نے جو پوچھا اس کے بارے کچھ بتانے کی زحمت فرمائیں گے آپ؟

مولانا صاحب :نعمان بیٹا تو اس میں کون سی حیرانگی والی بات ہے۔ قرآن پاک میں دین و دنیا کا ہر علم موجود ہے۔ تو ان غیر مسلموں نے قرآن پاک کا مطالعہ کر کے ایٹم بم بنا لیا تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ بلکہ آپ کو تو فخر کرنا چاہیے کہ وہ غیر مسلم ہمارے احسان مند ہیں۔

Read more

موجودہ حکومت کے 100 روز: وعدے وفا نہ ہوئے، یوٹرن ہوگئے

موجودہ حکومت کے 100 روز کا دعوا پورا ہوگیا ، مگر وہ وعدہ وفا نہ ہوسکا ۔ وعدہ بھی تو وہ ہوتا ہے جو وفا ہو ۔ پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے 100 روز کا ایجنڈا بنایا تھا ، جس میں کرپشن ، غربت ، بیروزگاری کا خاتمہ ، کہ سو روز میں ان کا خاتمہ کیا جائے گا ۔ افسوس کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے دعوے میں مکمل ناکام ہوچکا ۔ حکومت کے اپنے سرکاری ادارے

Read more

کیا ہم معذور افراد کے لئے مہذب زبان استعمال کرتے ہیں؟

تین دسمبر معذور افراد کے حقوق کا عالمی دن ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں معذور افراد کے حقوق کے لئے چلائی جانے والی تمام تحریکوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اُنہیں معاشرے میں برابری کا درجہ کیسے حاصل ہو۔

معذور افراد اور میرا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں نہ صرف پچھلے 12 سال سے کینیڈا میں اسکول بورڈ اور کمیونیٹی سرویس ایجنسیوں میں معذور بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ کام کرہی ہوں بلکہ اپنی رشتے داروں اور دوستوں میں موجود معذور افراد کی مدد کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

Read more

صدقہ کرو خواہ ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو

چینی مقولہ میں ایک سوال ہے کہ ”سب سے زیادہ دانش مند آدمی کون ہے؟ “ جواب، جو سب سے زیادہ خوش ہو یا خوش رہتا ہو۔ واصف علی واصف کہتے ہیں کہ ”خوش قسمت وہ ہے جو اپنے حال پہ خوش ہو“ ایک فرانسیسی ادیب آندرے پال گائیڈ کا کہنا ہے کہ ”خوش رہنا محض احتیاج نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے“ مدر ٹریسا کہتی ہے کہ peace begins with smile، یہ تمام اقوال و خیالات

Read more

بیمار ہوئے جس کے سبب

یہ بات ہم شروع سے ہی کہتے آئے ہیں کہ گلگت بلتستان کا معاملہ براہ راست اسٹیبلیشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ جی ہاں! اسٹیبلیشمنٹ یعنی خلائی مخلوق، اسٹبلیشمنٹ کے نقاب میں دراصل اصل شریک کار دھندلا ہی دکھائی دیتا ہے۔ تو گلگت بلتستان کو جب بھی جیسا بھی اسٹیٹس دینا ہو یہ اسٹیٹس راولپنڈی کی ٹیبل سے ہو کر ہی منظور ہو گا۔ پیپلز پارٹی شروع سے ہی، جبکہ مسلم لیگ ن 2002 کے بعد اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکرانے کی جرات نہ کر سکی تو کم از کم دونوں پارٹیوں نے مختلف مواقع پر اس کی پالیسی سے اختلاف ضرور کیا ہے۔

Read more

مولوی اور پینٹ شرٹ

کل 2 دسمبر 2018 کو میں نے یو اے ای کے قومی دن پر اپنی پینٹ شرٹ والی ایک تصویر شیئر کی جس پر جہاں کافی دوستوں نے مثبت کمنٹ کئے وہیں کچھ دوست نالاں بھی نظر آئے۔ میں اختلافِ رائے کی قدر کرتا ہوں اور نالاں دوستوں کو خود سے کہیں بہتر مانتا ہوں۔ دس سال میں پینٹ شرٹ شاید دو تین دفعہ پہنی ہوگی۔ آوٹنگ کے وقت۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے یا ورزش کی غرض سے۔ جو لباس

Read more

تربیت اطفال کے لیے 5 اہم نکات

فی زمانہ بہت سارے امور کو چلاتے ہوئے ہم لوگ یکسر بھلا دیتے ہیں کہ بچے جو ہمارا آج ہیں اور یقیناً ”کل“ بھی ہوں گے ان کی بہتر تعلیم و تربیت کرنا والدین کی ذمہ داری ہے جو کہ وہ کسی اور کے ”سر“ ڈال کر خود کو اس سے بری الذمہ کرلیتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ دینی گھرانوں میں دینی تربیت کا خیال رکھ کر، عصری تعلیم سے دور اور دنیاوی قسم کے گھرانوں میں دین سے

Read more

غلامی کا دور ختم ہوچکا ؟

آج غلامی سے آزادی کا عالمی دن ہے۔ غلامی بذات خود بری چیز تھی یا اس کے اثرات میں برائی تھی کہ یہ انسانی کرامت کے خلاف ہے اور اس میں انسانی اہانت تھی اور اس میں انسانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا؟ میرے خیال میں غلامی کو آج بذاتہ برا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بذاتہ بری نہیں ہے بلکہ اثرات کے لحاظ سے ہے کیونکہ انسانوں میں کلاسز اور درجہ بندی تو موجود ہے اور موجود

Read more

نئے پاکستان میں شادی کرنا آسان ہے!

کبھی کبھی سنجیدہ کہانیاں بھی مزاحیہ رُخ اختیار کرلیتی ہیں۔ لیکن وہ مذاق انسان کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کرتا بلکہ حالات اِس کے مذاق کرتے ہیں۔ بَس یوں سمجھ لیجیۓ کہ ایسا بھی اسی کہانی میں ہوا تھا۔ ہر دلعزیز انسان، احباب کی فہرست میں میرے انتہائی قابل احترام شخص طحٰہ بھائی سے بات چیت کے دوران ایک موضوع چھڑ گیا، وہ موضوع شادی تھا۔ میں نے کہا طحٰہ بھائی”شادی ایک ایسا اٹوٹ بندھن ہے، جسے ہم دو ارواح

Read more

صحافت کا سرکس اور صحافی

آج کے نئے پاکستان میں ہر صحافی میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کا ذکر کرتا ہے۔ نجی محافل اور سوشل میڈیا پر ان "نا دکھائی دینے والی سینسر شپ” کا سیاپا کرتے ہیں۔ اُن قوتوں کے بارے میں استعارے کا استعمال کرتے ہیں۔ جنھیں سابق وزیراعظم نواز شریف نے "خلائی مخلوق” کے لقب سے نوازا تھا۔ ان صحافیوں کے سوشل میڈیا پر خیالات اور نجی محافل میں جذبات جان کر لگتا ہے کہ پورے پاکستان میں یہ سب سے

Read more

مزدورکے مسائل میں اضافہ کرنے کا ذمہ دار کون؟

جب سے موجودہ حکومت نے قیادت سنبھالی ہے لگتا ہے کہ عام آدمی کے مسائل میں قدرے اضافہ ہوا ہے بالخصو ص مزدور کے مسائل مزید بڑھے ہیں۔ اس حوالے سے جب مختلف شعبہ جات کے مزدوروں سے بات چیت کی گئی تو محسوس ہوا کہ ان کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ راقم کو فاطمہ جناح ہسپتال اور شہباز شریف ہسپتال میں ڈیلی ویجز ملازمین سے ملنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان دو اداروں کے ملازمین گزشتہ چار

Read more

گلگت بلتستان کی سیاست… لوٹاازم عروج پر

ما شا اللہ سے وطن عزیز پاکستان میں عام انتخابات سے پہلے ہی پتہ چلتا ہے کہ اب کے بار مسند اقتدار پہ کون براجمان ہوگا۔ کیونکہ ہماری ملکی سیاست پر مٹھی بھر لوگوں کی اجارہ داری ہے۔ اور ہمارا سیاسی شعور اس قدر کم ہے کہ ہم الیکشن کے موقع پر نسلی، علاقائی، مذہبی اور لسانی تعصبیت کا شکار ہو کر بڑے بڑے نعروں کے ساتھ کسی ایک پارٹی کو اپنے اپنے قیمتی ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں

Read more

انگریزی بولنے والے بھکاری

کوئی ایک آدھ سال پرانی بات ہے کہ ایک جگہ ایک لڑکے کو میں نے سڑک پر یہ رٹا ہوا منتر پڑھتے دیکھا۔ "Dear sir, please help me, I am not a professional begger, I need some money” یہ لڑکا کوئی 16 یا 17 سال کا ہو گا، اس نے پتلون قمیص پہن رکھی تھی اور چہرے پر ایک بڑا سنجیدہ اور غمگین تاثر اوڑھے ہوئے تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ لڑکا وہی تھا جو یہ نہ ہونے

Read more

غلاظت نئے دور کی ۔۔۔

یورپ میں نہانے کو کفر سمجھا جاتا تھا ۔ یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی ۔ روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس کے پا س بھیجے گئے نمائندے نے کہا ہے کہ فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے ۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام مونٹیاسیام تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی ۔ دوسری طرف

Read more

ہمیں عمران خان کو تسلیم کرنا ہوگا ۔۔۔

ہم جو کہتے ہیں جو کرتے ہیں ان سب کا پاکستان پر یا تو اچھا اثر پڑ رہا ہے اور یا برا۔ یہ ساری باتیں اور حقائق من و عن تسلیم کرنے کے بعد ہمارا ذی شعور طبقہ اور میڈیا پاکستان کے غریب اور مفلوک الحال طبقے کو کبھی بھی یہ نہیں بتاتا کہ خان صاحب پاکستان کے تاریخ کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جو خود پاکستان کے فطین اینکرز کو بلا کر کھلی چوٹ دے دیتے ہیں کہ بٹھاؤ مجھے میرے پاکستانیوں کے سامنے اور جو آپ نے پوچھنا ہے کھل کر پوچھ لو۔ کیا یہ سارا کریڈٹ خان صاحب کو نہیں جاتا کہ خان صاحب خود میڈیا کے سامنے ببانگ دہل اپنی غلطیاں تسلیم کرلیتے ہیں اور آگے سے ایسا نہیں ہوگا کہہ کر معذرت بھی کرلیتے ہیں۔

کیا ہم نے پہلے کبھی کسی حکمران کو پورے ملک کے سامنے کوئی غلطی تسلیم کرتے سنا ہے؟ وہ خود مانتے ہیں کہ مجھے ڈالر کی اڑان کا پتہ ٹی وی سے چلا اور اسی وجہ سے ہوا کہ ہم اوراداروں کی طرح سٹیٹ بنک کو با اختیاربنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سامنے بیٹھا اینکر اس کو کہتا ہے کہ نہیں خان صاحب سٹیٹ بنک اتنا اٹانومس نہیں ہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں اور حکمران وقت کہتا ہے جی بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔ کیا ہمیں یہاں پر خان صاحب کو یہ کریڈٹ نہیں دینی چاہیے کہ خان صاحب غلطیاں کرتے ہیں کہ غلطیاں انسانوں ہی سے ہوتی ہیں اور پھر ان غلطیوں کو مان بھی لیتے ہیں۔ کیا اس سے پہلے کسی وزیراعظم نے سو دنوں ملک کی میڈیا اور عوام کو اعتماد میں لیا ہے؟

Read more