حکمران بھاگ دوڑ کر تو رہے ہیں
اتفاق سے ایک بندر جنگل کا بادشاہ بن گیا جنگل کے تمام جانور دن رات اس کی خدمت پر مامور رہتے تازہ پھلوں سے بادشاہ سلامت کی سیوا کی جاتی، کئی جانور تو بادشاہ سلامت کی مالش پر مامور تھے، بادشاہ سلامت زیادہ دیر سوئے رہتے ترنگ میں آتے تو درختوں کی ٹہنیوں پر لٹکنا شروع کر دیتے اقتدار ملنے کے بعد بادشاہ سلامت ابھی تک کسی آزمائش میں نہیں پڑے تھے۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک روز بادشاہ سلامت دھوپ سینک رہے تھے کہ ہانپتی کانپتی خرگوشنی دربار میں پیش ہوئی بادشاہ نے رعب سے پوچھا بتایا جائے کیوں حاضری دی؟ خرگوشنی روتے ہوئے مدعا بیان کیا کہ حضور سلامت رہیں میرے خاوند یعنی خرگوش کو قریبی جنگل کا بھیڑیا اُٹھا کر لے گیا
Read more

























































































