سال کا آغاز تو جنوری سے ہوتا ہے مگر ہمیں اچھا لگتا ہے فروری۔ بہت بہت اچھا۔ آج نہیں بلکہ زمانوں سے۔ آپ سوچیں گے شاید سرما کی شدت ختم ہونے کے آثار سے؟
یا شاید بسنت کے تہوار سے؟
کسی کا جنم دن؟
شاید۔ ؟ شاید۔ ؟
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں۔ پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ زندگی کا آغاز فروری سے ہوا تھا۔
وہ فروری کا وسط تھا۔ دن آہستہ طویل ہو رہے تھے۔ سرمئی شام کچھ دیر سے سامنے آتی تھی۔ سورج کی تمازت میں تیزی آنے لگی تھی۔
گھر میں سب روزمرہ کے دن گزار رہے تھے۔ ابا دوپہر کو دفتر سے گھر آتے۔ شام کو کتابیں پڑھتے۔ امی دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنی سلائی مشین پر بیٹھ جاتیں۔ گھرر گھرر کی آواز گھر میں گونجنے لگتی جب تک شام کی اذان نہ ہو جاتی۔
Read more