عورت کے ( خفیہ) معاملات میں دلچسپی کب شروع ہوئی، صحیح سے یاد نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ تجسس نے انتہائی چھوٹی عمر سے ہی برا حال کر رکھا تھا۔ ذہن میں لاوا سا پکتا رہتا اور سوالات کی بھرمار رہتی: کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟ اور کب؟ ہر وقت نوک زبان پہ دھرے رہتے اور لوگ عاجز نظر آتے۔
بہت سی باتیں ایسی تھیں جو سمجھ سے باہر تھیں اور چھوٹی سی عقل کو حیران و پریشان کرتی تھیں۔ اگر سب کچھ خدا کی ترتیب ہے، اگر سب کچھ صدیوں سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے، اگر یہ سب زندگی کا حصہ ہے، اگر ہر بات کی سب کو خبر ہے اور کسی بھی کمی سے زندگی سوالیہ نشان بن جاتی ہے تو پھر ان سب باتوں کا ذکر سرگوشیوں اور اشاروں کنایوں میں کیوں؟
ہمیں زندگی یوں بسر کرنے کے پیچھے چھپی منافقت تب ہی سے چبھنے لگی۔
سکول میں لڑکیاں شرما شرما کر ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتیں، کن اکھیوں سے خود کو دیکھ دیکھ کر لجاتیں اور ہمیں سمجھ نہ آتا کہ بھئی کاہے کی شرم اور کس بات کی شرم؟ نہ یہ جسم ہم نے خود بنایا ہے اور نہ اس کے نشیب و فراز۔ ایسا تو نہیں ہوا نا کہ ہم لڑکیوں نے فرمائش کی ہو کہ اللہ میاں پلیز ہمارے سینے کا ابھار ایسا بنائیے گا، کمر میں خم رکھیے گا اور چال میں لٹک۔ جب ایسا کچھ بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں اور ہماری روح بنا کسی چوائس یا انتخاب کے اس جسم میں ڈالی گئی ہے تو ہم اس بن خواہش لگی لاٹری جسم کے ساتھ اتنی شرمندہ اور ہچکچاہٹ زدہ زندگی کیوں گزاریں؟ اس کا ذکر چھپ چھپ کر کیوں کریں اور اس کے مسائل سے آنکھیں کیوں چرائیں اور کیوں بیماریوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھیں؟
Read more