اندھیرے کمرے میں خامشی اوڑھے وجود میں اچانک اک حرکت ہوئی۔ تو زندگی کا احساس جاگا۔ سانسوں کا شور اس بات کا گواہ تھا، کہ وہ زندہ وجود اس قدر خاموش تھا، جیسے اس میں زندگی کی رمک باقی نہ رہی ہو۔ مگر چلتی سانسوں نے اسے اس خوبصورت قید سے رہا کر کہ سوچوں کی کھڑکی پہ زنگ آلود کواڑ لگا کر واپس تلخ الم میں تڑپتا چھوڑ دیا۔ وہ بے ساختہ چیخ اٹھا :
”نہیں کرنی مجھے تم سے بات، نہیں چاہے مجھے ایسی زندگی جس میں محبت کے علاوہ ہر شے میسر ہو۔ اتنی محنت اور کوششوں سے ملا ہی کیا ہے سوائے اذیت کے“ مہروز اس کا نام سنتے تڑپ اٹھا۔ وہ اس آ واز سے اپنے گزرے وقت کی تلخیوں کو محسوس کرتے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ مہروز کا تعلیم سے لگاؤ اسے ہائر ایجوکیشن تک لے گیا تھا۔ پڑھنے کے علاوہ وہ دیگر تمام سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ لیکن وہ اپنے والد کے کاروبار میں شامل ہو گئے تھے۔
Read more