کراچی میں نئے ڈھب سے عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

شہر کراچی میں علمی، ادبی، سماجی اور تفریحی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ فعال ادارہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ہے۔ جہاں ہر روز ہی کوئی نہ کوئی تقریب کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ کہتے ہیں جب زندگی کے ہنگاموں اور دن بھر کی مصروفیات سے آپ اکتا جائیں، تھک جائیں اور سکون کی تلاش میں؟ ہوں تو شام کی کچھ ساعتیں آپ آرٹس کونسل میں گزارلیں۔ جوں ہی آپ اس پر شکوہ عمارت میں داخل ہوتے ہیں آپ کو

Read more

وبا کے دنوں میں کو بہ کو پھیلتی اردو کی خوشبو

دنیا بھر میں پھیلا بے دید و بے برگ وبائی جرثومہ کثیر الخلیاتی مخلوق انسان کو بے بس کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، شناخت کے نشے میں چور انسان بذریعہ ماسک صورت پوشیدہ کیے پھرتا ہے، اپنے پیاروں سے مصافحے اور معانقے سے محروم ہو چکا ہے۔ وبا نے دنیا کے بہت سے جگمگاتے ستارے چھین لئے، سال بھر ملک بھر سے نمایاں افراد کی اموات کی اطلاعات نے دل و ذہن بوجھل کیے رکھے، کراچی کی ہر دلعزیز شخصیات

Read more

روز آئی لینڈ: اپنا جزیرہ آباد کرنے والے ’خود پسندوں کے شہزادے‘ کی کہانی اب نیٹ فلکس پر دکھائی جائے گی

سنہ 1960 کی دہائی کے اواخر میں ایک اطالوی انجینیئر نے بحیرہ ایڈریاٹک میں اپنا جزیرہ قائم کیا تھا جس میں ریستوران، شراب خانہ، تحائف کی دکان اور یہاں تک کہ ایک پوسٹ آفس بھی بنایا گیا تھا۔ یہ ایک غیرمعمولی کہانی ہے جو دہائیوں تک لوگوں تک نہیں پہنچ سکی۔

Read more

پطرس بخاری سے نیویارک میں ملاقات

پاکستان کے ماضی کے ممتاز مصنف، صاحب اسلوب مزاح نگار، براڈ کاسٹر، ماہر تعلیم، اور سفارت کار سید احمد شاہ بخاری (پطرس بخاری) کی زندگی کے آخری آٹھ سال ( 1951 تا 1958 ) امریکہ کے شہر نیویارک میں گزرے۔ ان کے علمی و ادبی مرتبے اور دیگر صلاحیتوں کے متعلق ویسے تو بہت کچھ لکھا گیا۔ مگر بطور سفارت کار ان کی زندگی کے ان آخری سالوں کے متعلق کم کم پڑھنے کو ملتا ہے۔

Read more

ہنسنے کی کیا بات ہے؟

ابھی کچھ روز پہلے کی بات سنیے۔ ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ ایلف شفق صاحبہ کا ناول’چالیس چراغ عشق کے’ پڑھیے۔ اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی؟ کیا آپ نے تاریخ میں کوئی ایسا وزیر اعظم دیکھا جو فرصت کے اوقات میں پڑھنے کے لیے کتابیں بھی بتاتا ہو؟ نہیں دیکھا نا۔ یہ جو منہ پھاڑ پھاڑ کے ہنس رہے ہیں انھوں نے بھی نہیں دیکھا۔

Read more

ہندو ہمارے بھائی ہیں

چند دن ہوئے دیوالی (دیپ آولی) گزری ہے، یہ ہندو ؤں کا مذہبی تہوار ہے۔ ہمارے دوست، ڈاکٹر راجیش پانڈے انگلینڈ میں کئی سال سے مقیم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کافی دھارمک آدمی ہیں، کچھ تو عمر کا تقاضا اور کچھ پردیس کا معاملہ، تو ایسے میں وہ تمام مذہبی تہوار خاصے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ انہوں نے گھر کا ایک کونا مندر بنا رکھا ہے جہاں وہ دیوالی کی مخصوص پوجا کا اہتمام کرتے ہیں اور رامائن کے کچھ باب پڑھتے ہیں۔ سیتا اور رام کی واپسی کی خوشی میں دیے روشن کرتے ہیں اور دو ہفتے کے لئے صرف سبزی خوری کرتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے۔

Read more

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

جس نے بھی ”سگریٹ نوشی کے نقصانات“ پہ سکول کے زمانے میں مضمون رٹا تھا اسے شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا دوسرا مصرعہ ضرور یاد ہو گا۔ یہ شعر ویسے تو دختر رز (انگور کی بیٹی) کے متعلق ہے لیکن دوسرا مصرع کسی بھی قسم کی علت کے لئے صادق آتا ہے چاہے وہ بادہ خواری ہو یا سگریٹ نوشی۔

ریل گاڑی، کرکٹ، چائے، انگریزی زبان، سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کی طرح سگریٹ نوشی کو برصغیر میں روشناس کروانے کا سہرا بھی انگریز حکومت کے سر ہے۔ اس خطے کے لوگوں کو تمباکو بیڑی اور سگریٹ پہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہی لگایا

Read more

ٹیمپر، ٹینٹرم، ٹرمپ

وائٹ ہاؤس کارسپانڈنس کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے سن 2011 میں صدر اوبامہ نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر ان کے ریالٹی شو ”سلیبریٹی اپرنٹس“ میں ان کے فیصلوں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر تو سب آپ کی قابلیت اور تجربے سے واقف ہی ہیں لیکن آپ نے ریالٹی شو ”سلیبریٹی اپرنٹس“ میں مردوں کی کوکنگ ٹیم کی ناکامی کا ذمہ دار، ٹیم کی بجائے لیڈر شپ کو ٹھہرا دیا تھا۔ آپ کے اس قسم کے فیصلے نے مجھے رات کو سونے نہ دیا۔

اوبامہ کے اس طنز کو جو ٹرمپ سامنے بیٹھے سن رہے تھے لوگوں نے بہت محظوظ کیا۔ بظاہر اوبامہ اس تقریب میں ٹرمپ کی جانب سے ان پر برتھ سرٹیفیکیٹ سے متعلق چلائی جانے والے منفی پروپیگنڈا مہم کا حساب چکا رہے تھے، لیکن شاید یہ ان کے وہم و گمان بھی نہ ہوگا کہ چار سال بعد وہی ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں بطور صدر پوری تمکنت کے ساتھ جلوہ افروز ہو کر اپنے فیصلوں اور خیالات سے امریکہ سمیت پوری دنیا کی نیندیں اڑا دیں گے۔

Read more

اصغر خان کی ڈائری ( طنز و مزاح)

بات کچھ عرصہ پہلے کی ہے، محبان بھوپال فورم کی زیر اہتمام ایک ادبی تقریب اردو ڈکشنری بورڈ میں منعقد تھی۔ تقریب کا دعوت نامہ سوشل میڈیا پر دیکھا، وقت بھی مناسب تھا، گھر سے بھی نزدیک، ہم نے اس تقریب کا رخ کیا اور وقت مقررہ پر پہنچ گئے یہ معلوم نہ تھا کہ تقریب اعلان کردہ وقت کے دو گھنٹے بعد شروع ہوگی۔ خیر صاحب ہم ایک عام سامع کی حیثیت سے گئے تھے، مقصد ادبی تقریب میں احباب کو سننا تھا۔ چند احباب نے ہمیں دیکھا تو ہمیں اگلی سیٹ پر پہنچا دیا، حالانکہ ہم پیچھے بیٹھنے کے عادی بھی ہیں اور بیٹھنا بھی چاہتے تھے تاکہ جلد اٹھ کر جاسکیں۔

مجبوری یہ بھی ہے کہ زیادہ دیر بیٹھنا ہماری کمر کو گوارا نہیں، وہ بہت جلد ہم سے واپس چلنے کی ضد کرنے لگتی ہے۔ ہم اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے ایک کرسی چھوڑ کر، کچھ ہی دیر میں ایک صاحب بھاری بھر کم، دراز قد، ہم سے پہلے والی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئے۔ دھیمی آواز میں سلام کا تبادلہ ہوا۔ وہ ہمارے لیے اجنبی اور ہم ان کے لیے اجنبی تھے۔ لیکن ادب ہمارے بیچ ایک مثبت تعلق ادا کر رہا تھا۔ ہم بیٹھے بیٹھے اندازہ لگا رہے تھے کہ یہ کون صاحب ہیں جو بالکل خاموش بیٹھے ہیں۔

Read more

چھوٹے شہر کا بڑا آدمی

آصف نور سے پہلی ملاقات گورنمنٹ ہائی اسکول شجاع آباد کی فیئر ویل پارٹی میں ہوئی۔ چونکہ میں ایک گھوسٹ سٹوڈنٹ تھا اور پہلی بار سکول آیا تھا، لہذا وہ میرے نام سے آشنا تھا مگر میری شکل سے واقف نہ تھا۔ نیر مصطفی جیسے بھاری بھرکم اور بارعب نام کی مناسبت سے اس نے ایک طویل قامت نوجوان کی شبیہ بنا رکھی تھی۔ ایک کم رو اور پستہ قامت لمڈے کو دیکھ کر کافی مایوس ہوا۔ میرے ذہن میں

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: نو لکھی کوٹھی

گزشتہ دنوں علی اکبر ناطق کا تحریر کردہ ناول ”نو لکھی کوٹھی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔ ناول میں کچھ ایسی باتیں پڑھنے کو ملیں جو تاریخی اعتبار سے غیر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جن کو پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا سوچا۔ آج میں ”نو لکھی کوٹھی“ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ ناول متحدہ ہندوستان کے وسطی پنجاب میں 1930 ء کی دہائی سے لے

Read more

فرانس میں مسلمان اور اسلام موجودہ صورت حال اور مثبت حکمت عملی

مڈل اسکول میں تاریخ کے استاد سمویل پاتی Samuel Paty نے 6 اکتوبر 2020 کو رسول اللہ ﷺ کا کارٹون طلبہ کو دکھایا، 16 اکتوبر کو 18 سالہ چیچن پناہ گزیں طالب علم عبد اللہ انظروف نے موصوف استاذ کو قتل کر دیا، عبد اللہ بھی موقع پر ہی پولیس کی گولیوں کا شکار ہو گیا۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر 29 اکتوبر کو نیس شہر میں مزید تین فرانسیسی شہری قتل کیے گئے۔ ان واقعات کے بعد فرانس میں بسنے والے مسلمان سماجی و سیاسی مشکلات سے دوچار ہیں۔ زیر نظر مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کہیں بھی اور خاص کر فرانس کے اندر ایسے حالات میں مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس سلسلہ میں موضوع بحث سے انصاف اور قاری کے تقریب فہم کے لیے فرانس اور یورپ کی جدید تاریخ پر سرسری نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

Read more

دیار غیر کی ڈائری۔ پہلا ٹکرا

نکاح کے ایک سال گزرنے اور 2002 میں رخصتی کے چار دن کی چاندنی کے بعد ہی ہم اپنے شوہر کے ساتھ ان کے مقیم ملک سعودی عرب روانہ ہو گئے

جدہ اور مکہ دونوں شہروں کے بیچ اولڈ مکہ روڈ جہاں سے نبی پاک ﷺ اور تمام صحابہ اکرامؓ مکہ مکرمہ سے آنے جانے کا راستہ اختیار کیا کرتے تھے اسی پاک و وسیع سڑک سے بالکل منسلک ہماری رہائش بحرہ میں پانچ سال گزارنے کے بعد اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ کروانے کے لیے جدہ منتقل ہوئے تو ہم نے اپنے نئے گھر کے اندر ہی ایک علیحدہ کمرے میں خواتین کے لیے اپنی بیٹی کے نام پر ماہ رخ بیوٹی پارلر کھولنے کا آغاز کیا۔

Read more

نعیم بخاری، پی ٹی وی چیئرمین: عمران خان کے ’فوٹ سولجر‘ جو خواتین سے متعلق بیانات سے متنازع ہوئے

ایک وقت تھا کہ اپنی جاذب نظر شخصیت اور سلجھی ہوئی بات چیت کے باعث نعیم بخاری ناصرف مردوں بلکہ عورتوں میں بھی یکساں مقبول تھے مگر پھر انھوں نے خواتین سے متعلق چند ایسے جملے کسے جنھیں ناگواری نظروں سے دیکھا گیا۔

Read more

علامہ خادم کا جنازہ یا ہمارے مستقبل کا جنازہ؟

ہر معاشرے کا ارتقاء ہوتا ہے، ہو رہا ہے، اور ہوگا۔ پاکستانی معاشرے کا بھی ارتقاء ہو رہا ہے لیکن یہ ارتقاء معکوس کے سفر میں ہے اور اس کی رفتار انتہائی سریع ہے۔ یہ جنازے اسی ”ارتقاء“ کا نمونہ ہیں۔ اگر یوں ہی چلتا رہا اور یوں ہی لوگوں کے جنازوں کے حجم بڑھتے رہے اور یوں ہی لوگوں کو اپنے جنازے شاندار بنانے کا شوق چراتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں گلی گلی میں معرکے

Read more

پردہ بکارت میں اٹکی عقل اکارت

خدا غریق رحمت کرے، اکبر اللہ آبادی کی آدھی عمر کلرکوں اور باقی عمر عورتوں پر چاند ماری کرنے میں گزری۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو گا جس نے اکبر کا یہ معروف شعر نہ پڑھ رکھا ہو، پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا اب نہ معلوم اکبر کی مراد کس پردے سے تھی لیکن زمانہ موجود کے مردوں کی عقل پہ جو پردہ پڑا

Read more

خادم حسین رضوی کا انتقال: تحریک لبیک کے سربراہ کو سوشل میڈیا صارفین کیسے یاد کر رہے ہیں؟

ناموس رسالت سے متعلق خادم حسین رضوی کے سخت گیر موقف اور احتجاجی دھرنے نے انھیں پاکستان اور دنیا میں تو شہرت دی لیکن جو چیز انھیں سوشل میڈیا گروپس، واٹس ایپ چیٹ اور حتی کے میمز اور ری ایکشن سٹیکرز میں ڈھال کر گھر گھر اور ہر فون تک لے گئی وہ تھی ان کے مخالفین اور ناقدین کے لیے نازیبا الفاظ اور گالیاں تھیں۔

Read more

کرونا وائرس کی دوسری لہر کے لئے

انسانی دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ جو شے اس میں ایک بار چپک جائے یا یہ جس موضوع میں دلچسپی لینے لگے تو دنیا مافیہا سے بے خبر اسی دھن میں مگن ہوجاتا ہے۔ بس چلتے پھرتے، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اسے وہی سوجھتا ہے یا یوں کہیے کہ ایک ہڑک سی اٹھتی ہے جو دیوانہ وار اسے اسی سمت سوچنے اور اسی کی ٹوہ میں سرگرداں رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر تو یہ لگن اور ہوک ترقی پسندی کی ہو اور تخلیقی آئیڈیاز سے بھرپور ہو تو سبحان اللہ۔ انسان کے وارے نیارے۔

Read more

ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب اور عظیم بیگ چغتائی

اس سلسلے کے پہلے مضمون میں ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب ”امہات الامہ“ جلائی گئی۔ اس کہانی کے بعد تو 1912 میں ڈپٹی نذیر احمد وفات پا گئے اور اس کتاب کی کہانی بھی بظاہر انجام تک پہنچتی نظر آئی مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوا۔ کچھ عرصے بعد مولانا راشد الخیری نے اس کتاب کو اپنی خواتین کے رسالے میں قسط وار شائع کیا مگر کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ شاہد احمد

Read more

نیئر مصطفیٰ : کہانی کا آگھرو دیوتا

چنیوا اچیبے نے کہا تھا، ”کسی کو یاد کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ عظیم تر! کیوں؟ اس لیے کہ یہ کہانی ہوتی ہے جو جنگجو اور جنگ کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ کہانی سب کو پچھاڑ دیتی ہے۔ کہانی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ دنیا کی تاریکیوں میں قدم قدم پر موجود باڑوں اور زنجیروں کی دنیا میں کہانی ہمیں یوں تھام لیتی ہے جیسے کسی اندھے کو کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ کہانی ہمیں کانٹوں میں الجھنے سے

Read more

داغ سا آدمی نہیں ملتا

ہم بلما کو بھول کر قدرت کے اس بھید بھاؤ سے الجھے ہوئے تھے کہ شاہ سلمان اپنے والد عبدالعزیز کے چھبیس بیٹوں میں سے پچیس نمبر کے بیٹے تھے۔ عبدالعزیز کو دنیا ابن سعود کہتی ہے۔ ان کی من پسند شریک حیات حفصہ سدیری کے سات بیٹے تھے اور یہ ایک طاقتور گھرانا ہے۔ اسی طرح موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے دو ماؤں کے بارہ بیٹوں میں گیارہ نمبر کے صاحبزادے۔ رب مہربان و بخشندہ نے دونوں

Read more

اصرار اور مزید اصرار کے باوجود یہ ریکارڈنگ نہیں ہو سکی

( شفیق الرحمان سے ملاقات کا احوال دگر )

تب مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہو جب مجھے بتایا گیا کہ جن شخصیات کے حوالے سے پروفائل ڈوکو منٹریز بننی ہیں، ان میں شفیق الرحمان کا نام بھی شامل ہے۔

اردو ادب سے ذرا سی دلچسپی رکھنے والا اور طنز و مزاح کی طرف زیادہ راغب، شفیق الرحمان کی محبت میں مبتلا ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ خصوصاً جب وہ زمانہ طالب علمی کے مراحل سے دوچار ہو تو ان کے موضوعات، اسے اپنی طرف متوجہ کرنے اور مائل رہنے کا پورا گر جانتے ہیں۔ اس حوالے سے خود شفیق الرحمان نے اپنی حماقتیں کے پیش لفظ میں، ابراہم لنکن کا یہ شہرہ آفاق، دلچسپ تبصرہ نقل کیا تھا کہ ”وہ جو اس قسم کی کتابوں کو پسند کرتے ہیں، اس کتاب کو بالکل ویسا ہی پائیں گے، جیسی کتابوں کو وہ پسند کرتے ہیں

Read more

جب ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب نذر آتش کی گئی

مرحوم ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ایک مضمون میں ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبة النصوح کا ذکر کیا ہے جس میں نصوح کچھ کتابوں کو نذر آتش کرتا ہے۔ یہ کتابیں نصوح کے بیٹے کی ہیں جنہیں نصوح قابل اعتراض قرار دے کر جلادیتا ہے۔ اس کتاب پر بات کرتے ہوئے میرے دوست اجمل کمال نے مجھے یاد دلایا کہ بالآخر خود ڈپٹی نذیر احمد بھی ایسے ہی سلوک کا شکار ہوئے تھے جب ان کی زندگی کے آخری

Read more

قصہ نیشنل کیڈٹ کور کا۔

” یا اللہ یہ مصیبت کب ختم ہو گی“ ؟ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ الفاظ کسی بے صبرے اور پست ہمت شخص نے کہے ہوں گے تو فیصلہ سنانے سے قبل کم سے کم وجہ تو جان لیجیے۔ اگر آپ لوگ کراچی کے مقامی ہیں اور کراچی کے ان چنیدہ طالبعلوں میں سے ایک ہیں جن کو آدم جی سائنس کالج میں پڑھنے کا اعزاز حاصل رہ چکا ہے تو آپ اس کے

Read more

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جانا

معاشرے میں ایسے لوگوں کی شدید ضرورت ہے جو اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکل کر لوگوں کے لیے کام کریں اور کسی نہ کسی پہلو سے ان کی رہنمائی کا موجب بنیں۔ اب یہ کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے اور کسی منظم صورت میں بھی۔ یعنی اس سوچ کے حامل افراد مل کر ایک ایسا ادارہ بھی بناسکتے ہیں جس کا مقصد اس شعبہ میں نئے آنے والوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا

Read more

خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حناکا مقام

صحافیانہ نقطہ نظر سے کالم سے مراد وہ تحریر ہوتی ہے جو کوئی لکھاری کسی بھی اخبار کے اداراتی صفحہ پر یا کسی اور صفحہ پر حالات حاضرہ، سیاست، معیشت، معاشرت، ادب، کتاب و صاحب کتاب، شاعر ادیب اور دیگر موضوعات پر مختصر تجزیہ کسی بھی ایک عنوان کے تحت قلم بند کرے۔ اس طرح کی تحریر لکھنے والا کالم نگار کہلاتا ہے۔ لمحہ موجود میں کالم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ معروف ادیب و کالم نگار زاہدہ حنا نے اپنے کالم ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ میں لکھا کہ ”کالموں کو جمہوری دنیا میں نہایت اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے حکمران اپنے اپنے ملکوں کے اہم کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں تاکہ اپنی پالیسیاں بنانے میں ان کی رائے کو مد نظر رکھیں کیونکہ وہ ان کی تحریروں کو زبان خلق، تصور کرتے ہیں“ ۔

اردو میں کالم نگاری کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1877 ء میں اس وقت ہوئی جب ہندوستان سے سجاد حسین کی ادارت میں اخبار ”اودھ پنچ“ جاری کیا گیا۔ وہی اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ سجاد حسین نے اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اردو میں کچھ فارسی کی ملاوٹ سے 1731 ء میں جعفر زٹلی نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طرز پر فکاہیہ کالم لکھے۔ منشی سجاد کے علاوہ کالم نگاری کرنے والوں میں تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، نواب سید محمد آزاد، منشی علی احمد شوق اور اکبر الہ آبادی شامل تھے۔

Read more

گھاتک (THE SNIPER): ایک فضائی مسافت کی داستان

نیویارک، امریکہ کے جے ایف کے ائرپورٹ پر کاؤنٹر کلرک من پریت کور، ہمارے کاغذات کی پڑتال کرتی تھی۔ عملے کا ایک غول دور کھلکھلاتا گزرا تو ہم نے اسے فضائی میزبانوں کی پچھلی قطار میں کولہے گھماتے جہاز کی طرف جاتا دیکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ ہمارا حال بھی بھارت کے نامور پینٹر ایف ایم کا سا ہوا۔ انہوں نے فلم ہم آپ کے ہیں کون“ میں کھڑکی والا جامنی بلاؤز پہن کر وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ

Read more

اصرار اور مزید اصرار کے باوجود یہ ریکارڈنگ نہیں ہو سکتی

میں نے ہمت سے جب اپنے آنے کا مدعا بیان کیا تو ان کی ساری شفقت یک دم غائب ہو گئی اور انھوں نے بے ساختہ اور برملا میری گزارش ( اور خواہش ) کو رد کرتے ہوئے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا ڈالا جو میرے لئے، تمام ارادوں اورخوابو ں کے چکنا چور ہونے کے مترادف تھا۔ میرے پاس اب کہنے کو کچھ نہ بچا تھا کہ ساری کوششیں پہلے ہی رائیگاں جا چکی تھیں اور اب اس کے

Read more

گلبدن بانو: شہزادی جس نے مغل حرم سے منسلک عیش و نشاط کے تصور کو بدلا

بہت سارے مرد مؤرخین نے مغل حرم کو ایک ’نسائی، جنسی نوعیت کی اور الگ تھلگ جگہ‘ کے طور پر پیش کیا ہے تاہم گلبدن بیگم کی تحریر سے مغل زنان خانے کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے جو مؤرخین نے پیش کیا۔

Read more

اقبال، میں اور میری خودی

”خمار گندم“ میں ابن انشا کا ایک مضمون ہے ”فیض اور میں“ ۔ مضمون کیا ہے گویا اردو مزاح کا ایک شاہکار ہے۔ ابن انشا نے ان لوگوں پر طنز کیا ہے جو مشاہیر کے فوت ہونے کے بعد ان سے اپنی بے تکلفی کے قصے بیان کرتے ہیں۔ مضمون کے شروع کا حصہ اقبال سے متعلق ہے۔ ایک ٹکڑا دیکھئے۔ ”اسی زمرے میں ڈاکٹر محمد موسی ٰ پرنسپل بانگ درا ہو میو پیتھک کالج گڑھی شاہو کو رکھئے۔ جنہوں نے علامہ اقبال مرحوم کی زندگی کے ایک اور غیر معروف گوشے کو بے نقاب کیا۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج: کملا ہیرس کے انتخاب سمیت وہ پانچ وجوہات جو بائیڈن کی فتح کا سبب بنیں

تقریباً 50 برس تک کسی نہ کسی حیثیت میں سرکاری عہدوں پر فائز رہنے اور زندگی بھر صدر بننے کا خواب دیکھنے والے جو بائیڈن آخر کار وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

Read more

جب شکست پاکستان کے لیے 'افورڈیبل' نہ رہی

دیکھنا یہ ہو گا کہ بابر اعظم کیسے اس بھولی بھٹکی ٹیم کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے راہ سُجھاتے ہیں۔ بابر کی ذمہ داری اب صرف اپنی ٹیم کی رینکنگ کو بہتر بنانا ہی نہیں بلکہ اس جیت کی بھولی بسری عادت کو پھر سے اپنے ڈریسنگ روم کے خمیر میں ڈالنا ہے جہاں ہار پاکستان کے لیے اتنی مہنگی ہو چکی تھی کہ سرفراز کی ٹیم 33 میں سے 29 میچز میں یہ ‘افورڈ’ ہی نہیں کر پائی تھی اور جیت پر ہی اکتفا کرتی رہی۔

Read more

امریکی صدارتی الیکشن میں دھاندلی کی اندرونی کہانی

امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے بہت محب وطن ادارہ ہے۔ اسے امریکہ کی عزت اور اس کی زمینی، سمندری، ہوائی اور نظریاتی سرحدوں کی بہت فکر رہتی ہے۔ اسے علم ہے کہ امریکی سیاست دان نالائق، چور، کرپٹ اور غدار ہیں اور انہیں اگر کھلی چھٹی دے دی گئی تو وہ امریکہ کو بیچ کے کھا جائیں گے اس لیے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے الیکشن کے حوالے سے کسی پر بھروسا نہیں کرتی اور اس معاملے کو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے۔

Read more

حسن طارق کون تھا؟

پاکستان فلم انڈسٹری میں محض فلم کی شوٹنگ دیکھنے کے جنون نے سٹوڈیو کا دروازہ ایسا کھولا کہ نامور مصنف سیف الدین سیف کی فلم سات لاکھ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیرئیر کا آغاز کیا، اور پھر حسن طارق نے وہ آیا، اس نے دیکھا اور چھا گیا، کی کہاوت درست ثابت کردی، ہمارے ابا، آج کل ماضی کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کرتے ہیں، جہاں یہ سب ذہنی تسکین اور اطمینان کا سامان پیدا کرتا ہے،

Read more

انسانی نفسیات کے راز

کیا آپ انسانی دماغ میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا آپ انسانی ذہن کے راز جاننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ انسان شخصیت کو ایک پہیلی ’ایک بجھارت اور ایک معمہ سمجھتے ہیں؟ کیا آپ انسانی دماغ کو انسانی جسم کا بلیک باکس گردانتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو عین ممکن ہے آپ قسط وار کالموں کی اس سیریز سے کچھ استفادہ کرسکیں۔ انسانی نفسیات کی تفہیم میں پچھلی ایک صدی میں حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں کیونکہ ماہرین طب ’سائنس اور

Read more

سمیع چوہدری کا کالم: زمبابوے کی قسمت کب کھلے گی؟

اگر زمبابوے کی ٹیم 28 سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی رکن رہ کر بھی ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکی تو اس سے یقیناً کونسل کی اپنی قابلیت بھی مشکوک ٹھہرتی ہے: پڑھیے پاکستان اور زمبابوے کی سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم۔

Read more

سمیع چوہدری کا کالم: زمبابوے کی قسمت کب کھلے گی؟

اگر زمبابوے کی ٹیم 28 سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی رکن رہ کر بھی ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکی تو اس سے یقیناً کونسل کی اپنی قابلیت بھی مشکوک ٹھہرتی ہے: پڑھیے پاکستان اور زمبابوے کی سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم۔

Read more

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

” حوا کی تین بیٹیاں“ ایلف شفق کے قلم سے نکلا ایک اور عمدہ ناول ہے۔ ناول چار ابواب یا چار حصوں میں منقسم ہے اور ہر باب کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی سرخیاں ہیں۔ ایلف شفق کے ناولز کی ایک خصوصیت سامنے ابھر کر آتی ہے وہ ہیں مضبوط نسوانی کردار جو کہانی میں کسی مفعول یا بھرتی کے کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی کے فاعل ہوتے ہیں، وہ ”عشق کے چالیس دستور“ کی ایلا ہو یا

Read more

سمیع چوہدری کا کالم: ٹیلر کی کہانی کا ’اینٹی کلائمیکس‘

برینڈن ٹیلر اپنے تجربے کی روشنی میں ٹیم کی کشتی گہرے پانیوں سے نکال کر دھیرے دھیرے ساحل کے قریب لے آئے مگر اچانک دوسرے کنارے پر ان کے ساتھی یکے بعد دیگرے ڈگمگانے لگے اور پھر وہ اس دباؤ میں ایسے کھوئے کہ شاہین آفریدی کو میچ لے اڑنے کا موقع مل گیا۔

Read more

پاکستان بمقابلہ زمبابوے: سوشل میڈیا صارفین پاکستانی بلے بازوں کے ’مزاحیہ‘ رن آؤٹ سے لطف اندوز بھی، مایوس بھی

25ویں اوور کی پانچویں گیند پر امام الحق نے ایک عمدہ کٹ شاٹ کھیلا اور اس کے بعد کال کیے بغیر بے اختیار دوڑنے لگے۔ دوسرے اینڈ پر موجود حارث سہیل نے بھی اسے ایک مشکل سنگل سمجھ کر تیزی سے دوڑ لگائی۔

Read more

بالی وڈ میں کورونا لاک ڈاؤن کے بعد فلموں پر کام دوبارہ شروع

کورونا کی وبا کے سبب لاک ڈاؤن کے طویل سلسلے کے بعد اب بالی ووڈ میں شوٹنگ اور فلموں کی ریلیز کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ نو نومبر کو اکشے کی فلم لکشمی بم ریلیز ہو رہی ہے حالانکہ فلم کو اس کے نام کی وجہ سے قانونی نوٹس مل چکا ہے۔

Read more

راجہ مہدی علی خان۔ ایک بہترین لیکن گمنام فلمی شاعر

قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے بہت سے لوگ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو پاکستان بننے کے بعد واپس آ گئے لیکن کچھ نے وہیں بسیرا کرنے ارادہ کیا پھر اپنے اس ارادے پر مستحکم رہے۔ وہاں رہ کر انہوں نے بمبئی کی فلم نگری میں اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے اپنے کام کا لوہا منوایا۔ ان میں موسیقار خیام۔ گلوکار محمد رفیع اور گیت نگار راجہ مہدی علی خان سرفہرست ہیں۔

Read more

دیکھنا سامنے والا کہیں روبوٹ تو نہیں؟

ففتھ جنریشن وار کے لیے روبوٹکس کا ایک کارخانہ بن گیا۔ روبوٹک حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف پر مشتمل ہر روبوٹ جانتا ہے کہ کتنے قدم چلنا ہے، کیا کرنا یا کیا نہیں کرنا اور کس کی ہدایت پر کتنا عمل کرنا ہے۔ وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

سوشل میڈیا پر کراچی میں خانہ جنگی کی جھوٹی خبروں کی مہم کیوں روکی نہیں جا سکی؟

19 اکتوبر کو کراچی میں پولیس کے ہاتھوں کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے پیچھے ملک کی طاقتور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے مبینہ دباؤ کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا ہاؤسز اور ان کے سوشل میڈیا پیجز پر ایسی کئی خبریں شائع ہوئیں جن میں ان واقعات کو بنیاد بنا کر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خانہ جنگی کی من گھڑت خبریں شائع کی گئیں۔

Read more

کیا کسی ایپ کو ممنوع قرار دینا مسئلے کا حل ہے؟

9 اکتوبر 2020ء کو پاکستانی حکومت نے ٹک ٹاک کو بظاہر، اس کے غیر اخلاقی و غیر معیاری مواد کی وجہ سے ممنوع قرار دیا، لیکن دس دن بعد اس پر سے پا بندی ہٹا دی گئی۔ بالکل اسی طرح دو ماہ قبل پب جی پر بھی پابندی لگا کر ہٹا دی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اب ان کی طرف سے کسی قسم کا غیر اخلاقی و غیر معیاری مواد یا وڈیوز نہیں آئیں گی۔ اب اس بات کی کیا گارنٹی ہے؟

سوال یہ ہے کہ بیش تر لوگ ایسا کام کرتے ہی کیوں ہیں، اگر ان کو ایک طرف سے بند کیا جائے گا، تو دوسرا کوئی اور راستہ اختیار کر لیں گے۔ کام وہ یہی کریں گے لیکن طریقہ کار بدل جائے گا۔

Read more

کراچی ’سول وار‘: پاکستانی صارفین نے ’خانہ جنگی جیسی صورتحال‘ کے انڈین دعوؤں کا مقابلہ کیسے کیا؟

جب اس خبر کی تردید سے بھی کچھ فرق نہ پڑا تو ٹوئٹر پر پاکستانی صارفین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور اس ہیش ٹیگ کو ’ہائی جیک‘ کر لیا، یعنی اسے اتنا استعمال کیا کہ غیر مصدقہ معلومات دب گئیں اور ہر طرف مزاحیہ مواد نظر آنے لگا۔

Read more

فیک نیوز: انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کی جھوٹی خبریں، ’ٹوئٹر کب جاگے گا‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ‘فیک نیوز’ اور ‘ڈس انفارمیشن’ کے حوالے سے تنازعات نئے نہیں ہیں اور بالخصوص پاکستان اور انڈیا میں اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ان پلیٹ فارمز پر منظم طریقے سے ‘فیک نیوز’ کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے مختصر، غیر تحریری سفر نامے

”مجھے پک کرنے کے لئے ٹی وی کی گاڑی نہ بھیجیں، میں پیدل آ جاؤں گا۔“ یہ پیغام، صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو پروڈیوسر، کو ایک دفعہ نہیں، بارہا وصول پایا جو مختلف حوالوں سے سب کے لئے حیرت کا باعث ہوتا۔ ان کے پڑاؤ (پرانے ایم این اے ہوسٹل) اور سیکٹر ایف سکس میں واقع پی ٹی وی مرکز کے درمیان اتنا کم فاصلہ نہ تھا کہ کوئی صبح صبح یہ ارادہ باندھے۔

یہ تجسس، وضاحت چاہنے پر، ایک خوش گوار حیرت ہر تمام ہوا کہ ایسی خواہش کی وجہ، محض اس لئے کی گئی ہے کہ تنہا چہل قدمی میں میسر آنے والی یکسوئی نئے خیالات کو بڑھاوا اور موجودہ خیالات کو نکھار دیتی ہے۔

Read more

منشی اور وکیل

منشی (کلرک۔ آفس کوآرڈینیٹر، آفس ایڈمنسٹریٹر، آفس انچارج یا کسی بھی اور نام سے موسوم) وکالت کے پیشہ کی ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتا ہے۔ منشی کے بغیر وکیل بنا نب کے پین کی صورت ہوتا ہے۔ وکالت کے اوائل میں راقم نے جتنی بھی پریٹیکل وکالت سیکھی وہ استاد محترم کے منشی (جنہیں میں آج بھی احتراماً استاد جی ہی کہتا ہوں) سے سیکھی۔ اسی لئے شاید سوشل میڈیا کے اس دور میں سوشل میڈیا پر مختلف مزاح

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

قیدی بھی توجہ کے مستحق ہیں!

عموماً جیل کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہے کہ یہاں سوائے ”جرم“ کے کوئی اور معاملات نہیں ہوتے۔ درحقیقت ”جرائم کی یونیورسٹی“ کہلانے والی جیل میں قیدیوں کی زندگیوں پر سنجیدگی سے کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ قیدی کس حال میں ہیں، کس طرح اس کی زندگی بسر ہو رہی ہے اور اس کے خاندانوں پر کیا اثرات رونما ہو رہے ہیں؟ اس سے آزاد دنیا کے دانشورلا تعلق ہیں۔ قید خانے کی دیواریں کاٹنے کو دوڑتی ہیں، اگر

Read more

31 سالہ جولیا کے محبوب کی عمر 72 برس ہے لیکن "محبت میں بہت مزہ آ رہا ہے”

31 سالہ جولیا اسٹراس اور 72 سالہ برنڈ ہیسن بینک کی عمر میں  40 سال کا فرق ہے۔ اس جوڑے کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت سے اجنبی انہیں باپ بیٹی سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ہماری محبت کا ہماری عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ برنڈ ہیسن بینک اور جولیا اسٹراس اپریل 2019 میں ایک سیمینار کے دوران ایک دوسرے سے ملے تھے۔ اس کے بعد سے دو ماہ کے ایک مختصر وقفے کو چھوڑ

Read more

مسلم لیگ نون نے ٹک ٹاک بھی بند کروا دیا

تبدیلی سرکار اتنی ظالم ہو گی، سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔ کئی ماہ سے خبریں اڑ رہی تھیں کہ حکومت عوام کی پسندیدہ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا رہی ہے۔ نوجوانوں، عورتوں، مردوں اور بزرگوں کی جتنی نمایاں تعداد، ٹک ٹاک استعمال کر رہی تھی، امید تھی کہ حکومت عوام کے جذبات اور پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی، مگر حکومت کے سینے میں تو دل ہی نہیں۔

اخباروں کی سرخیاں پڑھتے رہے ہیں کہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم، بجلی بم یا گیس بم گرا دیا، قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا مگر یہ ٹک ٹاک بم بلکہ ایٹم بم، پہلی بار گرایا گیا ہے۔ ابھی فیس بک پر ایک کلپ دیکھ رہا تھا کہ خاتون زار و قطار رو رہی تھی کہ عمران خان اتنا ظالم ہے، ایک ٹک ٹاک ہی تھا، جس سے دل بہلا لیتے تھے۔ یہ سکون بھی چھین لیا۔ واقعی عمران خان تم اتنے ظالم ہو؟

بچوں اور دوستوں کو دیکھ دیکھ کر مجھے بھی ٹک ٹاک کا شوق پیدا ہو گیا۔ دوست عثمان نے میرا کاؤنٹ بنا دیا۔ پھر ویڈیو اپ لوڈ کرنا سیکھ لیا۔ ویڈیو تو بہت کم بنائیں۔ ایک ویڈیو بنائی تھی، جس میں کہا تھا کہ بعض نیکیاں ایسی ہوتی ہیں، جن کو کر کے دریا میں ڈال دیا جائے تو دریا بھی وہ نیکی اگل دیتا ہے اور کہتا ہے اے کی چول ماری اے۔ خیر تصاویر کو محفوظ رکھنے کے لئے ٹک ٹاک بہترین ایپ تھی۔ تصاویر کے پیچھے میوزک یا گانا لگا کر ان یادوں کو اپنی طرف سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا تھا، مگر پھر چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی۔

Read more

میرے ڈرائیور کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ فالوور ہیں

گزشتہ دنوں پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا نہایت درست فیصلہ کیا۔ ٹک ٹاک کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا تھا۔ کیا ہم نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی قربانی دے کر یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ یہاں لوگ پڑھے لکھے لوگوں کی بات نہایت توجہ اور عقیدت سے سننے کی بجائے انہیں یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان پڑھوں کی بات سنیں؟ اب یہی دیکھ لیں کہ راقم کے سوشل میڈیا پر کل ملا کر پندرہ بیس ہزار فالوور ہیں جبکہ اس کے ڈرائیور کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں۔ پہلے آپ کا اپنے ڈرائیور سے تعارف کرواتا چلوں۔

ایسا نہیں ہے کہ عرفان ویسا عالم ڈرائیور ہے جو آئن سٹائن کو ملا تھا اور جس نے ایک روایت کے مطابق آئن سٹائن کے ایک لیکچر کے دوران پوچھے گئے ایک پیچیدہ سوال کا اس کی جگہ جواب دے دیا تھا۔ عرفان کی علمی استعداد بس اتنی ہے کہ وہ نمبر پہچان سکتا ہے۔ عمر اس کی کوئی پچیس برس کے قریب ہے۔ ہر الٹے کام اور موج میلے میں شرکت کا اسے شوق ہے۔ ٹی وی پر علمی مسائل سے بھرپور ٹاک شو دیکھنے کی بجائے موبائل پر دیہاتی گانے اور ٹک ٹاک کے آئٹم دیکھتا ہے۔

اسی شوق نے اسے بھی ٹک ٹاک پر اپنے آئٹم ڈالنے کی مہمیز دی۔ وہ اپنی آواز میں نہایت دکھی قسم کے گانے، واقعات اور موج میلے کے آئٹم ٹک ٹاک پر ڈالتا ہے اور ٹک ٹاک سٹارز کی مینار پاکستان پر ہونے والی ہفتہ وار میٹنگ میں باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے خواہ اس کی خاطر اسے کام ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑ جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب اس کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ دس لاکھ فالوور ہونے کے بعد اس کی اچھی آمدنی بھی شروع ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اس کے ساتھ جا رہے ہوں تو لوگ ہماری بجائے اسے پہچانتے ہیں اور نہایت عقیدت سے سلام دعا کر کے پوچھتے ہیں کہ آپ وہی عرفان صاحب ہیں نہ جو ٹک ٹاک پر آتے ہیں؟

Read more

ماں بہن کو پڑتی گالی آپ کی حیا اور مار پیٹ آپ کی اقدار ہیں

دنیا کی ایسی ہر جگہ، ملک، شہر، معاشرہ، گاؤں، بستی، گوشے، پاتال میں، جہاں جنسی تشدد کو عام سی چیز یا سرے سے اس کے ہونے کو جھٹلایا جاتا ہے، وہاں عموماً اکثریت میں کم عمر بچیوں، بچوں اور لڑکیوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے یا جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے بھی یا نہیں۔ ایسے معاشروں میں ایک ہمارا معاشرہ بھی ہے۔ متاثرین کو تب جا کر ادراک ہوتا ہے، جب ایسے واقعات کو بیتے ہوئے دو، تین یا چار عشرے گزر چکے ہوں اور اکثریت تو لاعلم ہی قبور میں اتار دی جاتی ہے۔

متاثرہ خواتین، اپنے ہی مجرموں کو اپنے ہی گھروں میں دہائیوں تک چائے پانی، کھانا اور گرم گرم روٹیاں بنا کر دیتی رہی ہوتی ہیں۔ ادراک ہو بھی جائے، تب بھی چپ سادھنے اور اندر ہی اندر گھٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایسے تو خواتین کو اپنے ساتھ زیادتی اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ رہنے کی تربیت اور تجربہ اچھا رہتا ہے، چاہے وہ میکہ ہو یا سسرال۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: جب پاکستانی بشیر ساربان بنے امریکی نائب صدر کے مہمان

یہ کہانی ایک ایسے پاکستانی اونٹ گاڑی بان کی ہے جس نے نہ صرف امریکی میڈیا کا دل اپنی سادہ اور مخلص باتوں سے جیتا بلکہ وہ ایک امریکی صدر کو فخر کے ساتپ اپنا دوست بھی کہہ سکتے تھے۔

Read more

میڈیکل کالج کے اساتذہ کی باتیں اور یادیں

5 اکتوبر: پوری دنیا میں اس دن کو ”یوم اساتذہ“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا، اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں، استاد سے محبت کے اظہار کے لیے کسی دن کی ضرورت نہیں، لیکن دنیا ایک گلوبل ولیج کا روپ دھاڑ چکی ہے، تو جس دن کو کسی سے منسوب کیا جاتا ہے، تو ہم سبھی اسی دن ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوستوں نے اپنے پسندیدہ اساتذہ کے بارے میں لکھا، تو دلی خوشی ہوئی۔ تو سوچا کیوں نا میں آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے اساتذہ سے ملاؤں!

Read more

ہم اتنے اگڑم بگڑم کیوں ہیں؟

ہمارے تصورات اس قدر الجھے ہوئے اور پیچیدہ ہیں کہ ہم کسی بھی چیز کو اس کے درست مقام سے پہ نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں دوستی اور محبت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم محبت کو قید مانتے ہیں، رشتوں کا تقابل کیرئیر سے کرنے لگتے ہیں، ایک فرد کی حیثیت میں اہمیت کو رشتوں کے کردار پہ تولنے لگتے ہیں۔

ہم فرض کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ایک بیٹے یا بیٹی کا فرض یہ ہے کہ وہ خاندان کے سارے ریت روایات نبھائے، اپنی ہر خواہش اور خوشی کی قربانی دے کے والدین کی خواہشات میں ڈھل کے اپنی زندگی برباد کر لے لیکن فرمانبردار کہلائے۔ ہمیں اولاد اپنا اثاثہ لگتی ہے جس پہ انوسٹمنٹ ہوئی ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے پوری زندگی سود وصول کریں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے آرڈر پہ بنوایا گیا روبوٹ نہیں جسے کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو، دوست چننے ہوں یا رشتہ بنانا ہو تو وہ والدین کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کی ذمہ داری ایک اچھے بیٹے یا بیٹی کی حیثیت میں والدین کا خیال رکھنا ہے نہ کہ ان کی ہر بات کو ماننا ہے۔

Read more

گھر میں مہمان

گھر میں مہمان آنے کی نوید کے بعد گھر میں جو افراتفری مچتی ہے، اس کا اندازہ چند اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ بے وقوف اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بے وقوف مہمان کی آمد کو بھی باقی معاملات کی طرح ہنسی میں اڑا کر، مست اور تندرست رہتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی بے وقوف کو پریشانی اور ڈپریشن کا شکار دیکھا، نا ہی کوئی بے وقوف غمگین، اداس اور زندگی سے مایوس ہوتا ہے۔ حتٰی کہ خود کشی کرنے کا خیال بھی عقل مند ہی کو آتا ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی، گھر میں مہمان آنے کی، ہم بھی کہاں بے وقوفوں کی وادی میں سیر کرنے کو نکل آئے۔

گھر میں ابھی مہمان نہیں آتا، صرف مہمان کے آنے کی خبر آتی ہے کہ گھر کی عورتیں صفائی کرم چاری کے جون میں آتی ہیں، بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ چیزوں کا میل نکال کر انہیں صاف ستھرا اور چمکایا جاتا ہے، بچوں کو نہلا دھلا کر بیٹھنے کے لیے الگ کمرا دیا جاتا ہے، کھانے کی چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پھل اور میوہ جات کو نزاکت سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔ دودھ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جوس کا اسٹاک وافر مقدار میں رکھا جاتا ہے۔ روٹی، شکر، کھٹی اور میٹھی چیزوں کے ذخیرے پہ نظر ڈالی جاتی ہے۔ غرض سارے بست و کشاد کو نظر غائر سے دیکھا جاتا ہے۔

Read more

کرونا بحران میں قہقہے صحت کے نسخے سے کم نہیں : ماہرین

عام حالات میں پریشانیوں سے نمٹنے کے دوران ہنسی مزاح کا اپنانا ایک مثبت رویہ تصور کیا جاتا ہے لیکن کرونا کے طول پکڑتے ہوئے بحران میں قہقہے کسی طبی نسخے سے کم نہیں۔

اگرچہ کرونا کے خلاف کوئی مؤثر دوا تو دریافت نہیں ہوئی لیکن ڈاکٹروں، ماہرینِ صحت اور میڈیکل اسٹاف کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ذہنی دباؤ اور تناؤ کی کیفیت سے نکلنے میں قہقہے لگانا بہت اہم ہے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020 اور انکل سیم: امریکہ کے لیے ’چچا سام‘ کی اصطلاح کیسے وجود میں آئی؟

سات ستمبر 1813 کی ٹرائے (نیویارک) پوسٹ کے ایک نامہ نگار نے پہلی مرتبہ ’انکل سیم‘ کی اصطلاح امریکی حکومت کے لیے تحریر کی۔ اس کے بعد اس اصطلاح کا مطلب ہی امریکی حکومت ہو گیا اور ہر شخص اسے امریکی انتظامیہ کے مفہوم میں استعمال کرنے لگا۔

Read more

بورات 2: 2020 میں ساشا بیرن کوہن کے مزاحیہ کردار کی واپسی اور مائیک پینس کی ریلی میں فلمائے گئے سین کے سوشل میڈیا پر چرچے

اس فلم کے بارے میں چہ میگوئیاں ایک عرصے سے جاری تھیں اور اس بارے میں امریکی صدارتی انتخاب سے قبل گذشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ہونے والی پہلے مباحثے کے بعد جب ایک پراسرار ویڈیو جاری ہوئی تو کئی افراد پہچان گئے تھے کہ یہ دراصل بورات 2 کا غیر رسمی ٹریلر ہے۔

Read more

ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک باہمت لڑکی کی کہانی

24 سالہ عروہ احمد نے جب ڈیرہ اسماعیل خان کے دور افتادہ علاقے کلاچی سے گومل یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو وہ اپنے علاقے سے شاید ان چند خواتین میں تھیں جنہوں نے اعلی تعلیم کے لئے گاؤں سے با ہر کا رخ کیا۔ عروہ نہ صرف صنفی عدم مساوات اور معاندانہ معاشرتی رویوں کا مقابلہ کیا بلکہ ان میں تبدیلی لانے میں بھی کامیاب رہی۔

کلاچی خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک چھوٹا اور پسماندہ گاؤں ہے اور ڈیرہ شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کلاچی ایک زرعی گاؤں ہے اور یہاں کے لوگوں کی ذرائع آمدنی بھی زراعت پر منحصر ہے۔ پاکستان کے دیگر گاؤں کی طرح کلاچی بھی ایک پدر سری معاشرہ ہے۔ وہاں کی عورتیں زیادہ تر امور خانہ داری تک محدود ہیں اور گھروں سے باہر ان کی کی نقل و حرکت بھی مردوں کی بہ نسبت کم نظر آتی ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح خواندگی میں واضح فرق، سرکاری اداروں میں عورتوں کی کم شمولیت اور ساتھ ہی ساتھ دونوں صنفوں کے معاوضوں میں بھی واضح فرق موجود ہے۔

Read more

قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ لگی ”جنٹلمین الحمدللہ“

جس طرح ہر ماں اپنے کالے کلوٹے پتر کو بھی ”جنٹلمین“ سمجھتی ہے اسی طرح فوج والے بھی اپنے افسر کو ”جنٹلمین“ کہتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی ”کوجا“ کیوں نہ ہو۔ ہم تو ویسے ماشاءاللہ بچپن سے ہی بڑے پیارے تھے تو ہماری اماں بھی بچپن میں ہمیں ”پینٹ بشرٹ“ پہنا کر کہا کرتی تھیں کہ میرا پتر جنٹلمین بن گیا جنٹلمین کا ذکر اس لئے کیا کہ قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ ایک جنٹلیمن فوجی (جی ہاں

Read more

انوشکا شرما اور سنیل گاوسکر کی کرکٹ کمنٹری کے معاملے پر گرما گرمی اور فیمینزم کے متعلق کچھ سوالات

تین دن پہلے ٹوئٹر پر ‘بائیکاٹ گواسکر’ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا اور جب میں کل صبح اٹھی تو ایک نیا ہیش ٹیگ ‘بائیکاٹ فیمینزم’ نظر آیا ہے۔ تاہم یہ ہیش ٹیگ اتنا مقبول نہیں تھا کہ ٹرینڈ کرنے لگتا۔ آخر یہ سب کیا ماجرہ ہے؟

Read more

گجرانوالہ کے بٹ

کچھ لوگ کھانا کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں، اور کچھ لوگ صرف اتنا سا کھاتے ہیں، جس سے زندہ رہیں۔ پر گوجرانوالہ کے بٹ صاحبان کا معاملہ الگ ہے۔ یہ کھانا کھانے اور کھلانے کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ ان بٹ صاحبان کو نام اتنے پسند ہیں کہ ان کا چہرہ بھی اب نان کی طرح سفید نظر آتا ہے، اور کچھ کا لال نان کی طرح۔ ایسے ہی ایک بٹ صاحب جن کا پیٹ ان کے جسم سے

Read more

غیرسنجیدگی اور ہماری قوم

چند دنوں قبل سوشل میڈیا کی بدولت ایک لڑکی کو پذیرائی ملی۔ اس لڑکی نے کوئی خاص کارنامہ سرانجام نہیں دیا کہ اس کے حصے میں وہ پذیرائی آئے۔ عادت میں بچپنا اور طبیعت کی شوخی نے محترمہ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا اور اس کا سہرا ہمارے میڈیا کے سر جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی سوشل میڈیا سے اٹھنے والا ایک شیر خوار بچہ ٹی وی کی زینت بنا رہا۔ نجانے اور کتنے ایسے لوگ ہیں

Read more

باتیں ہیں باتوں کا کیا

ہمیں اس مغالطے میں رکھا گیا کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس سے تین چار سو گنا زیادہ ہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر منہ ایک لاکھ ہیں تو کم سے کم دس پندرہ لاکھ باتیں تو ہوں گی۔ لوگ کہیں گے ’باتیں ہیں باتوں کا کیا‘ لیکن حضور یہ بھی سچ ہے کہ سب کچھ باتوں سے ہی ہوتا ہے۔ بنا ہاتھ ہلائے باتوں سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا

Read more

ریاض شاکر – وہ مسکراہٹیں بکھیرنا نہ بھولتے

ہم مسکرانا کیوں بھول جاتے ہیں، رب نے ہمیں اس خصوصیت سے نوازا ہے، ہمارے مزاج پر مسکرانے سے بڑا مثبت اثر پڑتا ہے، تھوڑی سے کوشش کر کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ ریاض شاکر نے میرے اس سوال کے جواب میں یہ سب کہہ ڈالا، جب میں نے پوچھا آپ زیادہ تر ہنستے یا دوسروں کو ہنساتے رہتے ہیں، یہ کیونکر ممکن ہے؟

نیوز روم سے شیشوں کی پارٹیشن میں راہداری کی دوسری جانب رپورٹنگ میں جب بھی دیکھنا، قہقہے لگ رہے ہوتے، ہمیں یہ سب عجیب محسوس ہوتا کہ یہاں سارے بڑی سنجیدگی سے خبروں کی ترتیب سیدھی کرنے میں لگے ہیں، ادھر سبھی ہنسی مذاق میں مصروف ہیں۔

Read more

پختون، پشتون، پشتین اور گٹکا

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی سماجی روابط کے ذرائع اور ٹی وی پر فنکاروں، سماجی کارکنان، محققین، دانشور اور مشہور و معروف کاروباری کمپنیوں نے ایسا مواد تخلیق کرنے کا عمل شروع کیا جس سے امریکہ میں پائے جانے والے منظم تشدد اور تعصب کی سرکوبی میں عوام کو آگہی دی جاسکے۔ منظم تشدد اور تعصب بالخصوص سیاہ فام نسل کے خلاف تو پایا جاتا ہی ہے مگر چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے مشرقی بعید کے ایشیائی امریکیوں کے لئے بھی نسلی تعصب کی فضا قائم کر دی۔

باقی لاطینی امریکیوں، مقامی امریکیوں، ایل جی بی ٹی اور مسلمانوں کے خلاف حد بندیاں تو اپنی مثال آپ ہی تھیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر تحریک نے ذرائع ابلاغ میں سب نسلوں، عقائد اور رنگوں کو یک جگہ کچھ ایسے اکٹھا کیا ہے کہ تعصب اور تفریق پر دلیرانہ سوالات ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے سفید فام لبرل، خواتین اور نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ اب ایک اشتہار پر نظر ڈالتے ہیں کہ معاشرے اور ریاست میں پائے جانے والے رویہ ختم کرنے کے لئے وہ کیسا مواد مرتب کر رہے ہیں اور تخلیقی مواد تخلیق کرنے والوں کی سوچ اور دانش کا زاویہ کیا ہے۔

Read more

فوج کی سیاست میں دلچسپی نہیں تو یہ ملاقاتیں کیوں؟

سوشل میڈیا پر لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلائے جانے کے بعد جو سخت موقف جماعتوں بالخصوص نواز شریف کی جانب سے اختیار کیا گیا یہ انہی صلح کی کوششوں میں ناکامی کا ردعمل ہے۔

Read more

سنہرا اسلامی دور: عرب فلسفے کی بنیاد رکھنے والے الکندی کون تھے اور ان کی سائنس کے لیے کیا خدمات ہیں؟

الکندی سے پہلے عربی میں فلسفے نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ محض ایک عظیم فلسفی ہی نہیں تھے بلکہ ان کے کام کی عملی اہمیت بھی تھی جسے عسکری شعبے میں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے سمندر میں پیدا ہونے والے مد و جزر، بادلوں کی گرج چمک سمیت دیگر موسمیاتی رجحانات پر بھی تحقیق کی۔

Read more

نصرت فتح علی خان: دربار لسوڑی شاہ پر قوالی سے شہنشاہ قوالی تک کا سفر

نصرت فتح علی خان نے 1960 کی دہائی کے شروع میں ہی اپنے والد استاد فتح علی خان کی وفات کے بعد قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے چچا استاد مبارک علی خان اور استاد سلامت علی خان سے لینا شروع کی اور ستر کی دہائی میں استاد مبارک علی خان کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی کی۔

Read more

جب ایک دل جلے بیک پیکر کی انڈیا میں ’دی بیٹلز‘ سے ملاقات ہوئی

جب 1968 میں کینیڈا کا ایک 23 سالہ شخص مراقبہ کرنے کے لیے انڈیا کے مقدس شہر رشیکش کے قریب ایک آشرم میں پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ وہ اس جگہ پر نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں ’دی بیٹلز‘ بینڈ کے اراکین رہائش پذیر تھے۔

Read more

جس تن لاگے وہ تن جانے

”جس تن لاگے وہ تن جانے“ ایک زبان زد عام محاورہ ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی کرشماتی خصوصیت کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ سبزی والے سے مہنگائی پر بحث کرتے ہوئے بھی اس محاورے کا سہارا لیا جاتا ہے اور کسی پر قیامت گزر جانے پر بھی یہی محاورہ کام آتا ہے۔ لیکن آج کے دن تک اس کا مفہوم سمجھنے یا اس سے رہنمائی لیتے ہوئے دوسروں کے زخم پر نمک چھڑکنے کی عادت ترک کرنے کا خیال

Read more

مولانا طارق جمیل کا حور کا بیان فحش نہیں، قصور مخلوط تعلیم کا ہے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر بری چیز کی وجہ ایک ہی ہے۔ آپ کوشش کریں سوچنے کی۔ ذہن پر زور دیں۔ ہو سکتا ہے آپ صحیح طریقے سے زور نا دیں سکیں۔ تو کوشش کریں کہ کوئی پتھر یا اینٹ سر پر رکھ کر دیکھیں۔ اس سے بھی حل نا نکلے تو ایک مزید پتھر سر پر رکھیں مجھے لگتا ہے۔ اور سو فیصد یقین ہے۔ حل نہیں نکلے گا۔ تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ دیوار میں سر مار کر دیکھیں۔ شدید زور و شور سے ماریں۔ اتنی زور سے کہ دیوار ٹوٹ جائے۔ کیونکہ آپ کا اگر سر پھٹتا ہے۔ تو اس میں غلطی آپ کی نہیں ہے۔

ایک صاحب عقل انسان کا اس طرح سے مسلسل دیوار کو ٹکریں مارنا غلطی نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر غلطی کس کی ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ تو اس کی ایک واحد وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ ہے مخلوط تعلیم۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا وجہ ہوئی۔

Read more

سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کے ٹیکس گوشواروں پر ردعمل: اسد عمر کی شہباز شریف کو اثاثوں کے تبادلے کی پیشکش

پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے سال 2018 میں ایوان بالا اور ایوان زیریں میں شامل اراکین کے ٹیکس ریٹرن کی ڈائریکٹری بھی جاری کر دی ہے۔ جانیے کس نے سب سے زیادہ ٹیکس دیا اور کس نے خانہ خالی چھوڑ دیا۔

Read more

موریا آتشزدگی: ایک باپ جو یونان میں پناہ گزیں کیمپ کی بجائے اپنے جنگ زدہ ملک میں واپسی کا سوچ رہا ہے

تین بچوں کے والد طالب شاہ حسینی کو یونانی جزیرے لیسبوس میں قائم موریا کیمپ میں رات کی تاریکی میں اس وقت جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا جب ان کے خیمے کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً ایک برس تک انتہائی برے حالات میں رہنے کے بعد اب یہ افغان فنکار اپنے خاندان کو وطن لے جانے کا سوچ رہے ہیں۔

Read more

شادی

شادی ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ ایک سے دو افراد میں بدل جاتے ہیں۔ جس کمرے میں آپ سوتے ہیں اس میں ایک دوسرا انسان بھی سونے لگتا ہے۔ آپ کی تمام ”ذاتی“ اشیاء ذاتی نہیں رہتیں اور سب کچھ ”ہماری“ میں بدل جاتا ہے۔ شادی کرنی تو سب کو ہوتی ہے کیونکہ جوانی کے ساتھ ہی آپ کی امنگیں مچلنے لگتی ہیں اور پھر ان امنگوں کی تان ”میرے بچے ہوں“ پر ٹوٹتی ہے۔ انسانی جذبات پر

Read more

ضمیر اختر نقوی: مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

اپنے قبیلے کا آخری آدمی لفظ کو مجلس میں اکیلا چھوڑ کر دور بہت دور چلا گیا۔ دعوی ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں لکھنو کی تہذیب سے آراستہ پیراستہ آخری مجلس بھی تمام ہو گئی۔

منبر تو پہلے ہی علامہ طالب جوہری اپنے ساتھ لے گئے تھے، پیچھے شمع رہ گئی تھی وہ ضمیر اختر نقوی لے گئے۔ اس خرابے میں اب تقریریں تو بہت ہوں گی مگر جس کی خوبصورتی تلخی میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، وہ زبان نہیں ہو گی۔

Read more

آصف فرخی: بس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا

یہ 1978ء کی بات ہے جب میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں سال آخر کا طالب علم تھا اور طب کی تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ملک میں سوشلزم کے نفاذ میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں اور میرے جیسے بہت سے طالب علم دن میں جاگتے ہوئے اور رات میں سوتے ہوئے خواب دیکھتے تھے کہ پاکستان میں ایک انصاف پر مبنی غیر طبقاتی سماج کا ظہور ہونے والا ہے جہاں انصاف کا بول

Read more

سنہرا اسلامی دور: قرون وسطیٰ کی فارسی شاعرائیں رابعہ بلخی، مھستی گنجوی، جنھوں نے محبت کو ایک نئی زبان دی

عرب مسلمانوں کے دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے بعد پہلی نظر میں قرون وسطیٰ کے ایران میں شاعری کے منظرنامے پر صرف مرد چھائے ہوئے نظر آتے ہیں مثلاً رودکی، فردوسی اور نظامی۔ لیکن سنہرے اسلامی دور کے ادب میں دو اور نام بھی ہیں جنھیں تاریخ نے یاد رکھا اور یہ دونوں نام خواتین کے ہیں۔

Read more

صحافت، سیاست اور کراچی کا پانی

کورونا کی وبا ختم ہوئی تو کراچی پانی میں ڈوب گیا۔ دونوں مرتبہ سیاستدانوں نے جوشیلے بیانات اور الزام تراشیوں کے انبار لگا دیئے۔ ٹی وی چینلز پر خوب مجالس سجیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی ممالک کی نسبت پاکستان نے جلد اس وبا پر قابو پایا ہے۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور جو ادارے اس سلسلہ میں کام کر رہے تھے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ کورونا کا مقابلہ وائرولوجی

Read more

ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں

اگرچہ اردو زبان بہت زیادہ پرانی نہیں ہے لیکن پھر بھی اردو زبان میں ادب کی ہر صنف میں لکھا گیا ہے اور خوب لکھا گیا۔ شاعری، ناول، افسانہ، سفر نامہ، مضمون اردو ادب کا دامن بیش بہا خزانوں سے بھرا ہوا ہے۔ مزاح بھی ادب کی ایک اہم صنف ہے۔ اور اردو زبان میں مزاح میں بھی بہت خوب لکھا ہے۔ اردو ادب کے نثر لکھنے والے معروف مزاح نگاروں میں کرنل شفیق الرحمان، کرنل محمد خان، پطرس بخاری،

Read more

نواز شریف ایل بی ڈبلیو ہو گئے

سیاست اور کھیل دونوں میں مخالف کے حربوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور اردگرد نگاہ بھی رکھنا پڑتی ہے چونکہ یہ کھیل ابتداء میں نوابوں نے شروع کیا تھا۔ اس لیے کرکٹ کے کچھ نخرے بھی اٹھانا پڑتے تھے۔ خاص کر مراعات یافتہ کھلاڑی بڑے ناز برداری کے قائل ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو کرکٹ کا بڑا شوق تھا۔ اس لیے بطور وزیراعظم بھی اس کی تکمیل کے لیے میدان میں اتر جاتے، ویک اینڈ پر لاہور آمد ہوتی، میاں نواز شریف باغ جناح میں کٹ پہن کر پہنچ جاتے، وہاں عمران خان کے کزن جاوید زمان خان پروٹوکول کے لئے موجود ہوتے، وہ جم خانہ کلب کے منتظم تھے۔ نواز شریف کو پیڈ کرائے جاتے اور وہ بیٹ تھامے گراؤنڈ میں قدم رکھتے، مخالف ٹیم ایک روز پہلے اپنی باری لے چکی ہوتی، اس روز انہوں نے جم خانہ کلب بلکہ کہہ لیں میاں صاحب کو باری دینا ہوتی تھی۔

Read more

ڈیٹنگ ایپس پر پابندی: پاکستان میں پانچ ڈیٹنگ ایپس پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جُلا ردِعمل

گذشتہ روز پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک پریس ریلیز میں اس اعلان کے بعد سے کچھ صارفین برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ جو افراد اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کا ٹنڈر پر تجربہ اچھا نہیں رہا۔

Read more

طاقت کا چشمہ عوام ہیں (مکمل کالم)

رؤف طاہر صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ کی چلتی پھرتی کتاب ہیں، حافظہ ان کا بلا کا ہے اور حس مزاح بھی خوب ہے، جس محفل میں موجود ہوں وہاں حسب عادت و توفیق پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ ملکی تاریخ کے بیسیوں واقعات انہیں یاد ہیں، اِن میں سے زیادہ تر کے وہ عینی شاہد ہیں جبکہ باقی واقعات انہیں مستند حوالوں کے ساتھ ازبر ہیں۔ ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ وہ اکثر سناتے ہیں کہ 1975 میں لاہور کے

Read more

اردو شاعری اور ہماری جنگ آزادی

اردو زبان و ادب خصوصاً شاعری اپنے ابتدائی دور سے ہی جہاں پیار و محبت کے نغمے سناتی رہی وہیں انتشار و احتجاج کے رنگ بھی اس میں نمایاں رہے۔ دراصل زبان کوئی بھی ہو اس کا ادب ہمارے جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے چنانچہ یہاں بھی اس وقت جب مطلق العنان بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی شعرا نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر احتجاج کی آواز بلند کی اس کی ایک بڑی مثال جعفر زٹلی

Read more

امریکی انتخابات 2020: مائیک پینس پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب بننے کے امیدوار، ان کا نعرہ طنز و مزاح کا شکار

امریکہ میں رواں سال انتخابات کے دوران مائیک پینس ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ کے نائب صدر کے امیدوار ہوں گے لیکن اس دوران ان کا نعرہ ’میک امریکہ گریٹ آگین، آگین‘ طنز و مزاح کا مرکز بنا ہوا ہے۔

Read more

نیلم احمد بشیر: رجحان ساز ادبی شخصیت

پاکستان کے نمایاں علمی ’ادبی اور فن کار گھرانے سے تعلق رکھنے والی اردو کی ممتاز افسانہ نگار‘ ناول نگار ’سفرنامہ نگار‘ خاکہ نگار اور شاعرہ نیلم احمد بشیر کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یوں تو ان کا پورا خاندان ہی فن کارانہ اوصاف سے مالامال ہے لیکن والد احمد بشیر سے ملنے والا علمی و ادبی سرمایہ نیلم احمد بشیر کا تخصص بنا۔ احمد بشیر کی تربیت نے نیلم کی شخصیت میں وہ خوداعتمادی پیدا کی جو آج بھی

Read more

کیا حضرت عیسی بلوچ تھے؟

اس جملے پر آدھا پاکستان معترض ہوا۔ جن خاتون نے یہ ”منقول“ کیا، یعنی خود نہیں لکھا، ان کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بپا کر دیا گیا۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ کہنا یا ہونا اتنی بری بات ہے کہ اگر یہ پوچھ لیا جائے تو توہین مذہب کا ارتکاب ہو جاتا ہے؟ دوسرے کیا اس منقول مزاح کو کوئی باشعور اور حساس پاکستانی واقعی مزاح یا مذاق سمجھ سکتا ہے؟ ”اٹھا لیا جانا“ ۔۔۔ اس اصطلاح

Read more

خواتین ڈرائیورز اور حقوق مرداں

خواتین ڈرائیورز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسمانی ستاروں کی طرح ہوتی ہیں کہ ہم تو انہیں دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتیں۔ ذاتی طور پر میں خواتین کی ڈرائیونگ سے بے حد متاثر بلکہ متاثرہ ہوں۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے میں خواتین کی بے پناہ صلاحیتوں سے بخوبی و ”مضروبی“ واقف ہوں۔ سڑک پر گاڑی چلانے کے حوالے سے ان قابل احترام خواتین کے ساتھ سرراہ اتنی بار مڈبھیڑ ہو چکی ہے کہ

Read more

نایاب سیاسی نسل کے سیاستدان کی جدائی!

وطن عزیز میں نایاب ہوتے ہوئے سیاسی نسل کا ایک مثبت حوالا میر حاصل بزنجو خضدار سے تقریباً 60 کلومیٹر دور اپنے آبائی گاؤں نال میں اپنی دھرتی ماں کی گود میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ ماضی قریب میں ایوانوں کے اندر جو نظریے، اصول، اور کمزور طبقات کی سیاست کرنے والی دو چار بڑی آوازیں رہی ہیں میر حاصل بزنجو کا شمار ان میں ہوتا ہے۔ حاصل بزنجو نان سویلین طاقتوں سے عوامی طاقت اور سیاسی مہارت سے

Read more

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔ یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔ رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔ بہتیرا ہڑپ کر بیٹھے ہو فلسطین کو، مزید آگے بڑھو گے تو اچھا نہ ہوگا۔ مگر یہ اپنے؟ متحدہ عرب امارات اور اس کے حالی حوالی سب، کچھ اندر خانے ملے ہوئے اور کچھ اب کھل کھلا کر

Read more

نوشابہ کی ڈائری: الطاف حسین کو پیرصاحب کہنے لگے ہیں

20 جولائی 1989 ء منگنی کیا ہوئی لگتا ہے زندگی ہی نئی نئی سی ہوگئی ہے۔ پتا نہیں انگلی میں پہنی انگوٹھی زیادہ چمکتی ہے یا اسے دیکھ کر میری آنکھیں، ہر لمحہ اس انگوٹھی کے سنہرے پن میں رنگ گیا ہے۔ بھابھی نے جب ذیشان کی تصویر دکھائی تو سچی بات ہے دل پورے زور سے دھڑکا تھا، مگر زبان سے یہی کہنا پڑا تھا کہ ”نہیں نہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی“ اپنی بات تو نبھانا تھی نا،

Read more

استاد جی… سلیم اختر

بھائی! ہر کسی کو اپنا کام خود ہی کرنا پڑتا ہے، دوسرے کے کام میں ٹانگ پھنسانے والے تنگ ہوتے ہیں، اس لیے دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے کام سے کام رکھنا ہے”۔ یہ وہ جملے تھے جنہیں سننے کے بعد میں نے پہلے اس شخص کو بڑے غور سے دیکھا وہ ناک پر ذرا آگے کھسکا کر چشمہ ٹکائے، خبروں کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف تھا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیکٹ کو مخصوص انداز

Read more

بلا عنوان

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے لکھاری موبائلوں والے لطیفے مزاح کے طور پر شامل کر کے کہانی کے ڈائیلاگ مکمل کرتے ہیں۔
مالک جیسی فلم کو آن ائر کروانے کے لئے عاشر عظیم کو کیا کچھ نہیں کرنا پڑا اور بالآخر ایک کوالٹی کا ڈرامہ اور فلم بنانے کے بعد وہ اتنے بد دل ہوئے کہ انڈسٹری چھوڑ کر کینیڈا میں ٹرک چلانے لگ گئے۔

Read more

دلیپ کمار نے انکل سرگم کو پٹائی سے بچا لیا

سفارت خانے کی تقریب جاری ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے یا تو تعارف حاصل کر رہے ہیں یا اپنی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ ہر کسی کی توجہ دلیپ صاحب پر ہے۔ وہ اس وقت مرکز نگاہ ہیں۔ اب سفیر، دلیپ کمار صاحب کا تعارف فاروق قیصر سے کرا رہے ہیں۔ دلیپ صاحب، انکل سرگم کے سراپے سے تو بہ خوبی متعارف ہیں، مگر منظر پر دکھائی نہ دینے والے، فاروق قیصر سے تعارف تو بنتا ہے۔ وہ فاروق

Read more