میت کے لئے دعائے مغفرت

جزا اور سزا کا دار و مدار انسان کے اپنے اعمال پر ہے۔ ثواب کا دار و مدار تکلیف پر ہے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی خوشنودی کے لئے اپنے آپ پر جبر کرنے پر ہے نماز کا وقت ہو گیا سردی کا موسم ہے پھر بھی طہارت غسل یا وضو حسب ضرورت کرنا، کام کا تقاضا ہے پھر بھی اسے مؤخر کرکے پہلے نماز ادا کرنا، یہ وقت کی قربانی ہے یہ جسمانی عبادت ہے اور

Read more

افسانہ: رنڈی کی اولاد

رنگ برنگ قمقے۔ زرق برق لباس۔ گلاب اور چنبیلی کی خوشبو سے مہکتے چوبارے۔ پنواڑیوں کی صدائیں۔ ہوا کے دوش پر سفر کرتی طبلے اور سارنگی کی آواز میں۔ نسوانی قہقوں۔ خوبصورت جھروکوں سے لہراتے جھلک دکھلاتے رنگین آنچلوں کے بیچ۔ لکڑی کے فرش پر تھرکتے قدموں کی دھمک کے ساتھ کھنکتے گھنگروؤں اور چھن چھن چھنکتی چوڑیوں کے شور میں بھلا کوئی کسی بچے کی آواز کیوں کر سنے؟ اور وہ بھی تب، کہ جب وہ بچہ ایک لڑکا

Read more

تنہائی کے ایک سو سال: جادوئی حقیقت نگاری سے بھرپور ناول

گزشتہ سال کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گبریل گارشیا مارکیز کے بیٹوں نے نیٹ فلکس کو مصنف کے مشہور ناول ’تنہائی کے ایک سو سال‘ پر ویب سیریز بنانے کے حقوق دیے۔ خبر پڑھ کر پہلے توحیرت ہوئی کیوں کہ مارکیز نے خود سیکڑوں فلم سازوں کی اس درخواست کو رد کر دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس ناول پر فلم بننا ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران میں نے اس ناول کو سندھی،

Read more

ایک دھوپ کا ٹکڑا تھا، ایک بدلی کی چھایا تھی

رات تاریک تھی، بے حد تاریک! دبی دبی سسکیاں، بے آواز گرتے آنسو، لرزتا بدن، تنہائی، یادیں، فراق کا کرب، کھو دینے کا غم، کیا تھا جو اس رات میں نہیں تھا! اجنبی مسافروں کے درمیان تنہا، ایک جوان عورت، چھوٹی سی بچی گود میں سمیٹے، آنسوؤں کے ہار پروتی اپنے آپ سے باتیں کرتی تھی۔ آخر یہ بس اتنی آہستہ روی سے کیوں چلتی ہے؟ بار بار رکتی کیوں ہے؟ ملتان پنڈی سے اس قدر دور کیوں ہے؟ کاش

Read more

کچھ لوگ ایکٹر نہیں ہوتے

گزشتہ کچھ دنوں سے کئی پوسٹس عرفان خان کے بچھڑنے کی خبر دے رہی ہیں، ہر آدمی اپنے لحاظ سے دکھ کا اظہار کر رہا ہے۔ میں بھی اس فین کلب کا حصہ ہوں، مگر میں اپنی منافقت کے ہاتھوں شرمندہ ہو رہا ہوں۔ کیا ہے کہ ہم فلمیں بھارت کی دیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ پہ، انسان دوستی پہ اداکاروں کے لئے اچھے جذبات تو ہیں، مگر ان کے مر جانے پہ ہی

Read more

میری بہن صدیقہ انور مسعود

اپریل کی ستائیس تاریخ کو طویل عرصے پرمشتمل ایک بے لوث محبت اور پیار کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ میری بڑی بہن، صدیقہ انور مسعود، وفات پا گئیں۔ جیسے ہی میرے بھانجے نے مجھے اسلام آباد سے اس سانحے کی اطلاع دی ایک بے یقینی کے عالم میں پوری زندگی ایک فاسٹ فارورڈ پر لگی ہوئی فلم کی طرح تخیل کے پردے پر نظروں کے سامنے سے گزر گئی۔ ہمارے لئے وہ ہمیشہ سے آپا ہی تھیں۔ اگرچہ ان کا نام

Read more

محسن نقوی: محبت اور امن کا سفیر

سید محسن نقوی کو اگر وطن عزیز کے ادبی حلقوں میں ڈیرہ غازی خان کی پہچان اور شناخت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ محسن محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک طاقتور وتوانا آواز ہے ایک ایسی آواز جس نے مظلومو ں کی حمایت میں ظالموں کو سرعام اور ہر سطح پر للکارا۔ ببانگ دہل ظلم وجبر کے خلاف لکھا۔ محسن نقوی کا شعری سفر ایک شعوری انداز میں منزل کی طرف گامزن رہا۔ بند قبا سے لے کر

Read more

چار درویش اور کچھوا: بدقسمت اردو ناول کے تابوت میں ایک اور کیل

سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور کچھوا“ پڑھتے کے بعد میری حالت بعینہٖ ویسی ہی تھی جیسی کچھ سال قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں ہوئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل صدارتی امیدوار کا جلسہ تھا، امیدوار موصوف انتہائی درمیانے درجے کا وکیل تھا اور ڈری ڈری محتاط طبیعت کا مالک، ایک بھلا مانس آدمی تھا۔ سٹیج سیکرٹری، جو امیدوار کا قریبی دوست بھی تھا،

Read more

بیگم کی بات غور سے سنیں

ایک شخص کی بیگم کو بخار ہوا۔ وہ اسے ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے بخار چیک کرنے کے لئے اس کی بیگم کو تھرمامیٹر دیا اور کہا کہ پلیز اسے دو منٹ کے لئے منہ میں رکھ لیں۔ وہ شخص غور سے دیکھتا رہا۔ ڈاکٹر نے بخار چیک کرنے کے بعد دوا تجویز کر دی۔ جب واپس جانے لگے تو اس شخص نے تھرمامیٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب یہ تعویذ

Read more

عارضی دل کا عارضہ نہ ہوا

وضاحت لازم :زیر مطالعہ کہانی انسٹاگرام پر #HumansofNY کے ہیش ٹیگ تلے شائع ہوئی اور اسے ہمارے سمیت دنیابھر میں 5,33,327 پسند فرمایا۔ اس لیے اسے ہم نے حقائق اور جذبات کے بنیادی اہتمام کو وفاداری سے نبھاتے ہوئے اپنے رنگ میں لکھا۔ سیف الدین سیف نے کہا تھا سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ٭٭٭          ٭٭٭ آئیے آپ کو ان ایام قرنطینہ میں ایک چھوٹی سی،

Read more

اختلاف کے ساتھ اتحاد بھی ضروری ہے

۔ فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں مولانا طارق جمیل صاحب کی احساس ٹیلی تھون میں کی جانے والی دعا بہت سے مکتبہء فکر، خاص طور صحافی طبقہ اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں میں وجہء تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ مولانا صاحب نے فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے دونو ں فریقوں سے معافی مانگ لی تا کہ بات کو ختم کر دیا جائے مگر دونو

Read more

میرے پسندیدہ 15 ناول (ڈاکٹر شہناز شورو کی فرمائش پر )

جب بیس برس کا تھا، میں نے بیس ناولوں کی ایک فہرست تیار کی تھی کہ مرنے سے قبل ان ناولوں کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ اب عمر کی اس منزل میں پہنچ چکا ہوں جہاں مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری فہرست سے کون خوش ہوتا ہے اور کون دکھی۔ عمر کی یہ یہ منزل ایک انوکھی منزل ہے جب آپ اس طلسم کے حصار میں ہوتے ہیں کہ اٹھ، چل کہتے ہی آپ کا

Read more

شادی ہر مسئلے کا حل یا مزید مسائل کی وجہ ؟

ہمارے معاشرے میں ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے، شادی۔ اگر آپ کا بیٹا بری صحبت کا شکار ہو گیا ہے۔ کام نہیں کرتا۔ نشے کا عادی ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ والدین کی بات نہیں مانتا۔ تو ان سب مسائل کا ایک حل ہے کہ اس کی شادی کر دی جائے۔ جب بیوی آئے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک آدھ بچہ ہو گیا تو مکمل ٹھیک ہو جائے گا۔ بچی نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔

Read more

وبا کی نفسیات کے بارے میں ایک مکالمہ

ڈیر ڈاکٹر رضوان علی اور محترمہ نصرت زہرا صاحبہ! میں سب سے پہلے آپ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے وبا کے دنوں میں یو ٹیوب پر ادیبوں ’شاعروں‘ دانشوروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ مکالمے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میں آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھے بھی اپنے مہمانوں کی فہرست میں شامل کیا۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ آپ نے مجھ سے پہلا سوال یہ پوچھا ہے کہ

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔ گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی

Read more

بستی سے منہ اندھیرے نکلنا اور سفر کی رائیگانی

خالد حسن مرحوم علم، ذہانت، احساس اور بذلہ سنجی کا نادر امتزاج تھے۔ محکمہ ٹیکس کی کان نمک چھوڑ کے چند سو روپلی پر پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر ہو گئے تھے۔ ایسا فیصلہ بذات خود شخصی قامت پر دلیل ہوتا ہے۔ ایسا دماغ جو منصب اور جاہ کا طالب نہیں، دل کی کشاد مانگتا ہے۔ خیال رہے کہ ژولیدہ مو دانشور نہیں تھے، خوش لباس، باذوق اور نفیس طبع بلکہ اچھے خاصے صاحب بہادر تھے۔ اخبار میں قلم کاری

Read more

میرے ابا جی، حقہ اور عورت کا مرتبہ

ابا نے اپنا امتحان امتیاز سے پاس کیا، پورے نمبر لے کے، دس میں سے دس! آپ نے جدید دنیا کا ایک فیشن ‘شیشہ’ تو دیکھ ہی رکھا ہو گا! کیا شیشہ پینے کا اتفاق بھی ہوا یا دیکھنے کی حد تک ہی شناسائی ہے؟ ماضی کی گلیوں میں جھانکتے ہوئے اگر کبھی ہم یہ کہہ بیٹھیں کہ ہم نے تو بچپن میں ہی شیشہ اصلی شکل میں برت لیا اور بھرنا بھی سیکھ لیا تو بچے آنکھیں پھاڑ کے

Read more

کرونا کے بعد کی دنیا: چند خیالات

نوع انسانی اس وقت ایک عالمی بحران میں سے گزر رہی ہے، ایک ایسا بحران جو اس سے پہلے ہمارے اباواجداد نے کبھی نہ دیکھا۔ انسانی تاریخ جنگ وجدال سے بھری پڑی ہے جن میں بڑی آبادیاں مٹ گیں۔ مگر دوسرے علاقے بچ گیے۔ وباؤں میں انسان نے چیچک، طاعون، ہیضہ جیسی امراض کو کنڑول کر لیا، جن سے ماضی میں مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی کوششوں سے زیادہ تر متعددی امراض

Read more

وبا کے دنوں میں کچھ ہلکی پھلکی باتیں

صبح آنکھ کھلتے ہی عام طور پر پہلا خیال یہ آتا ہے کہ آج کا دن کسیے گذارا جائے۔ کیا جا کر بال کٹوا لیئے جائیں؟ ونڈو شوپنگ کی جائے؟ کسی دوست کو فون کر کے کسی کیفے میں ملنے کا کہا جائے؟ یہ سارے خیالات بس دو تین سیکینڈ میں آ کر گذر جاتے ہیں اور بس اگلے ہی لمحے یاد آجاتا ہے کہ نہیں بھئی ابھی بھی کرونا ہی چل رہا ہے۔ حقیقت کی دنیا میں آ جاؤ۔

Read more

ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔ ”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے

Read more

بھارتی اداکارہ صوفیہ حیات کی نیوڈ تصویر پر ہندو بھڑک اٹھے

اداکارہ صوفیہ حیات نے کچھ روز قبل انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرکے کہا تھا کہ انہیں ہندو مذہب اور اسلام سے پیار ہے ۔ ان تصاویر پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اور صوفیہ حیات کو قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ گزشتہ دنوں میں صوفیہ حیات نے یکے بعد دیگرے کئی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ نیوڈ ہوکر اوم کے پینٹنگ کے سامنے پوز دیتی نظر آرہی ہیں ۔ ان کی ان تصاویر پر

Read more

گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی ”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “ اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی ”اتنی جلدی کیا ہے جس کام

Read more

مشترکہ خاندانی نظام استحصال کی منڈی ہے

ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب چار برتن ایک ساتھ پڑے ہوتے ہیں تو وہ بجتے ہیں یعنی کہ شور مچاتے ہیں اب وہ شور کیوں ہے؟ اس کو سمجھنا بہت اہم ہے خاص طور پر والدین کے لیے جن کا ماننا ہے کہ ہمارے بچے اپنے کزنوں سے بہت سسیکھتے ہیں بچے پیدا کرکے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اب وہ جو سیکھیں گے اپنے سے بڑے کزنز یا مشترکہ خاندانی نظام کی قائم کردہ حدود و

Read more

محبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہے

گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔

دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔

Read more

گل بانو کی بچپن میں اچانک شادی, افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 3

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئی تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب

Read more

بیٹیوں کی آزادی اور ماں باپ کی بے اعتباری

آزادی کا مطلب ہے کھل کے جینے کے اختیارات دینا، کھل کے جینے کے اختیارات کا کیا مطلب ہے انسان اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلےکر پائے، اپنی مرضی کا پروفیشن منتخب کر پائے، اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ کر پائے، اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہے چلا جائے، جہاں تک تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر پائے۔ اسے اس کی جائیداد میں حصہ دیا جائے۔ یہ ہے آزادی کا مطلب، جہاں بات لباس کی آ جائے

Read more

عورت کیا چاہتی ہے؟

8 مارچ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بحثیں ہوتی ہیں، سمینار ہوتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق پر بات ہوتی ہے۔ وعدے اور قول دیے اور لئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر سب معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ عورت بھی اس کی عادی ہو گئی ہے۔ ایک کہانی آپ کو سنانا چاہتی ہوں۔ آُپ چاہیں تو اسے کہانی سمجھ کر پڑھیں چاہیں تو اس میں کچھ تلاش کر لیں۔ کہانی کچھ

Read more

افسانے کی حقیقی لڑکی

اپنی زندگی کی افسانویت اور حقیقت میں پھنسی لڑکی جو کہیں نہ کہیں ہر لڑکی جیسی ہے۔ ”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے“ معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار

Read more

ریکھا: جنسی استحصال، ناکام محبت، شوہر کی خود کشی اور اداکاری کی معراج میں گم پہیلی

آج میں ایک ایسی انسان کی کہانی گوش گزار کر رہی ہوں جس نے دکھوں سے نبرد آزمائی کے لیے مدافعتی عمل کے طور پہ اپنی زندگی کو حقیقت سے زیادہ فینٹیسی میں گزارا ہے۔ اور یہ جیون کہانی ہے بالی ووڈ کی کوئن، کئی ایوارڑز بشمول پدما شری ایوارڈ کی حامل، پرکشش اور گلیمرس اداکارہ ریکھا کی۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں۔ کسی نے کہا وہ حسین ساحرہ ہے، ہرنی جیسی چال تو مورنی کی

Read more

دو دنیاؤں کے درمیانی پل پر بھیانک حادثے کی کہانی

مادام۔ میرا نام ماہم ہے۔ میں آج کل اردو سیکھ رہی ہوں۔ میری اردو ٹیچر نے مجھے آپ سے متعارف کرایا کہ آپ لکھتی ہیں۔ پردیس میں دیسیوں پر جو گزرتی ہے آپ کا موضوع رہا ہے۔ فیس بک پر آپ کو دیکھا۔ مسینجر پر رابطہ کر رہی ہوں۔ میں بھی اپنی کہانی سنانا اور شائع کرانا چاہتی ہو۔ میں اردو لکھ نہیں سکتی وائس مسیجز بھیجوں گی۔ آپ ٹھیک کر لیں گی نا؟ پورے دو مہینے ماہم کے قسطوں

Read more

خلیل الرحمٰن قمر اور الہام کا مغالطہ

ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ نشر ہو رہا ہے اوربہت کچھ لکھا بھی جاتا رہا ہے لیکن میں نے اس پر کچھ نہ لکھنا ہی بہتر جانا۔ گذشتہ کئی دنوں سے ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے ٹاک شو کے کچھ حصے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پربہت گردش کر رہے تھے۔ مگر کچھ مصروفیات کے پیش نظر میں ان پر زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ کل شام ریموٹ سے کھیلتے

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع

Read more

خوابوں کے دیوتا کی محبت میں گرفتار لڑکیوں کے لئے ایک تحریر

ہمارے معاشرے میں عورت کو کمزور کہا جاتا ہے۔ لڑکیاں ڈری ڈری سی، سہمی ہوئی سی اور مرد کو بہادر اور قوی سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہاں کمزور اور بزدل مردوں کی کمی نہیں ۔ کمزور مرد لفاظی بہت عمدگی سے کرتا ہے۔ اپنے لفظوں کے پھولوں سے پورا گلدستہ بنا دیتا ہے۔عورتوں کی اکثریت اس لفاظی سے متاثر ہو جاتی ہے۔  یہ وہ ہیں جو باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں جیسے انسانیت کی بھلائی، انسان کی قدر

Read more

کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

کتنے برسوں کے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا جس نے راتوں کی نیند اڑا دی اور پھر ایک ایک دوست کو پکار پکار کے کہا کہ یہ ناول ضرور پڑھو دیکھو لفظ کیا ہوتے ہیں کہانی کیا ہوتی ہے اور تخلیقی اظہار کیا چیز ہے سب نے پڑھا اور اتفاق کیا قبل ازیں قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ نے بھی کچھ اسی طور اپنے سحر میں جکڑا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب

Read more

یک طرفہ محبت کے بارے میں کچھ خیالات۔۔۔

حال ہی میں ڈاکٹر خالد سہیل کا محبت پر دلچسپ مضمون” کیا آپ محبت کی نفسیات سے واقف ہیں؟” پڑھا۔ کیا ہی خوبصورت تحریر ہے۔ محبت وہ جذبہ ہے جس کا تجربہ ہم سب ہی کر چکے ہیں۔ کم یا زیادہ۔ ہر کوئی اسے اپنی نظر سے دیکھتا اور اپنے تجربے سے جانچتا ہے۔ اگر آپ اس تجربے سے نہیں گذرے تو آپ ایک بہت حسین احساس سے محروم ہیں۔ محبت ایک بہت طاقتور جذبہ ہے اور پوری طرح آپ

Read more

علی مطہر اشعر مرحوم، تعارف و انتخاب کلام

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے اس شعر کے خالق غزل کے ممتاز و معروف شاعر سید علی مطہر اشعر نقوی دو ستمبر 2022 کو ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ”85 سال تھی وہ شکار پور ( متحدہ ہندوستان ) میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے واہ میں آباد ہوئے۔ انٹر میڈیٹ تک تعلیم بھی یہیں حاصل

Read more

عرفانہ ملاح کے نام احفاظ الرحمن کا خط

خانہ بدوش: لفظی ترجمہ، گھر کاندھوں پر۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جوہلکا پھلکا بوریا بستہ رکھتے ہیں۔ جب ایک جگہ سے جی اوب گیا، بوریا بستہ کاندھوں پر رکھا اور نئی منزل کی کھوج میں چل نکلے۔ خاصی مستند روایت ہے کہ رنگ برنگی ثقافت والے یہ لوگ ہمارے راجستھان سے نکلے اور ادھر ادھرپڑاؤ ڈالتے ہوئے پوری دنیا میں پھیل گئے۔ یہ ہے وہ، بے گھر لوگ چھوٹی ہوئی چوری چکاری کر لیتے تھے۔ بڑے ڈاکے نیک کام ہوتے تھے، یہ بے چارے جنہیں یورپ میں ”ڈرما“ کہا جاتا ہے، ہرجگہ دھتکارے گئے۔ مگر اب دنیا میں انہیں اب بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہٹلر نے یہودیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ جپسیوں کا بڑی بے دردی سے قتل عام کیا۔

Read more

گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی

گاؤں کے دس بارہ معززین احمد علی کے گھر کے صحن میں بیٹھے تنے ہوئے چہروں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے کر رہے تھے۔ صحن میں چار پانچ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور دو چارپائیاں پڑی تھیں جو اس گھر کی خستہ حالی کو ظاہر کرتی تھیں۔ ان میں صرف ایک شخص خاموش تھا اور وہ تھا بوڑھا احمد علی۔ وہ سر جھکائے چارپائی پر بیٹھا تھا اورمسلسل زمین کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے دل میں طوفان مچا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ درزی تھا اور گاؤں بھر کے کپڑے سیتا تھا۔ ان کے تن ڈھکنے کا وسیلہ تھا اور آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گاؤں کے ہر شخص کے سامنے ننگا ہو گیا ہے۔

اندر کمرے کا دروازہ کھلا اس میں ایک جھری سی پیدا ہوئی۔ ایک عورت نے اس درز سے جھانک کر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نوجوان اٹھ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے کے کپ لے کر آ گیا۔ وہ احمد علی کا بیٹا تھا۔ کسی سے کچھ کہے بغیر وہ مشینی انداز میں سب کو ایک ایک کپ پکڑاتا گیا۔

”اوہو شاریب بیٹے! خواہ مخواہ تکلف کیا۔ پہلے بھی دو تین بار تو چائے پی چکے ہیں۔ “ گلفراز چاچا نے رسمی سے انداز میں کہا۔ شاریب کا چہرہ اسی طرح بے تاثر رہا اس نے کپ آگے بڑھائے رکھا۔ گلفراز نے کپ لے لیا۔ آخری کپ اس نے اپنے باپ کے سامنے پڑی ہوئی تپائی پر رکھ دیا۔ پھر خود بھی بیٹھ گیا۔ کئی منٹ گزر گئے احمد علی اسی طرح ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ اوپر نہ اٹھائی تھی۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ شاریب نے اٹھ کر صحن میں لگے بلب کو روشن کیا۔ میلے سے بلب کی ناکافی روشنی سے ماحول پر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا۔ اچانک چند نوجوانوں کے بولنے کی آواز آئی اوران کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ احمد علی نے چونک کو آوازوں کی سمت دیکھا۔ گاؤں کے نوجوان واپس آ گئے تھے۔

Read more

4 اپریل 1979ء: ایک ملتانی کی یادداشت میں

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین روزہ تاریخی بیان نے ایک طرف تو اس سے والہانہ محبت کرنے والوں کے دل گرما دیے مگر دوسری طرف جہاں دیدہ لوگوں کو عالمی تاریخ کے اوراق پلٹ کر کسی حد تک باور کرا دیا تھا کہ ایک بڑا المیہ اقتدار پر فائز سانپ جیسی آنکھوں والے کے بدنیت کارندوں کے سبب ذیب کی طرف بڑھ رہا ہے مگر اندر سے امید کا ایک دیا تھا جو بجھتا نہیں تھا کہ

Read more

جاپان کی قید میں میرے ابا

ابا بہت کم گوشخصیت کے مالک تھے لیکن ان کا رعب اور دبدبہ اس قدر تھا کہ جہاں وہ بیھٹتے، ہم بہن بھائی وہاں سے کھسک جاتے۔ بازار میں دیکھتے تو راستہ بدل لیتے۔ نوے سال کی عمر کو پہنچے تو ابا کی ہمارے ساتھ دوستی شروع ہوگئی۔ موڈ خوشگوار ہوتا تو لمبی گفتگو کرتے۔ جس کا زیادہ تر حصہ ٹھیٹھ پنجابی پر مشتمل ہوتا جو انہوں نے سنگاپور میں اس وقت سیکھی جب وہ جاپان کے خلاف لڑتے ہوئے قیدی بنادیئے گئے تھے۔

انہیں اس جہان فانی سے کوچ کیے کئی برس بیت چکے لیکن ان کی یادیں اورباتیں دل ودماغ پر آج بھی نقش تازہ کی طرح ثبت ہیں۔ ایک لمحے کو بھی وہ دل ودماغ سے اترے نہیں۔

اباجی کوئی زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے۔ ہمارے گاؤں سون ٹوپہ میں 1908 ء میں راجہ پونچھ بلدیو سنگھ نے پرائمری سکول قائم کیا تو اس خطے میں علم کا نور پھیلنا شروع ہوا۔ بلدیو ایک چالاک حکمران تھا۔ اس نے انگریزوں سے مل کر پونچھ جاگیرشاہی ریاست تسلیم کرالی تھی۔ وہ ایک اعلی درجے کا منتظم اور شہ دماغ تھا۔ مقامی لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں دے کر رام کرتا تاکہ کسی بھی متوقع سیاسی بحران میں وہ اس کا ساتھ دیں۔ اس کے دور میں کئی ایک انتظامی عہدوں پر بھی مسلمانوں کو فائز کیاگیا۔

Read more

مولانا عبید اللہ سندھی کے غیر روایتی مذہبی افکار

مولانا عبید اللہ سندھی ( 1872۔ 1944 ) صرف ایک سیاسی اور ا نقلابی رہنما ہی نہ تھے بلکہ برصغیر پاک وہند کے آزاد خیال، اصلاح پسند، ترقی پسند اور جدت پسند مذہبی مفکر تھے۔ مولانا صاحب شاہ ولی اللہ دہلوی ( 1703۔ 1762 ) کے جدت پسندانہ مذہبی افکا ر سے متا ثر تھے۔ اگرچہ مولانا صاحب رجعت پسند روایتی مذہبی خیالات رکھنے والے روایتی دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے تربیت یافتہ تھے تاہم قدامت پسندانہ مذہبی خیالات سے واضح او ر شدید اختلاف رکھتے تھے۔آپ کا شما ر ان مذہبی مفکّرین میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید دور کی ضروریات اور وقت کے تقاضوں کو کھلے دل سے قبول کر کے رجعت پسندی اور جدّت پسندی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔ آپ نے رسمی عبادات کی بجائے قرآن کے اصل پیغام، مقصد ا ور روح کو سمجھنے پر زور دیا۔ آپ نے مسلم فقہ کی نئے سرے سے تشریح کی ضرورت محسوس کی۔ آ پ کا خیال تھا کی وقت گزرنے کے ساتھ فقہ کی روایتی تشریح متروک ہو چکی ہے جسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Read more

ٹونی اور جج کی کہانی

اس زمانے میں ڈونگے بونگے سے بہاولنگر تک لاری چلتی تھی جو دن میں دو چکر لگاتی۔ لاری کے ڈرائیورکا نام حاجی رمضان تھا۔ ادھیڑ عمر، مہندی رنگی جماعت کٹ ڈاڑھی، چوخانے کا رومال سر پر بندھا ہوا۔ حاجی نوجوانی سے ہی اس کام میں پڑ گیا تھا۔ دس بارہ سال کنڈکٹری کی۔ پھر استاد مقبول جب بوڑھا ہوگیا تو ایک دن لاری درخت میں دے ماری۔ مالکوں نے حاجی کو ترقی دے کر ڈرائیور بنا دیا۔ حاجی رمضان ڈرائیور بہت زبردست تھا۔ کسی دن دو کی بجائے تین چکر بھی لگا لیتا۔

کبھی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔ لاری میں بندے بھی گنجائش سے تین گنا بٹھاتا۔ عید شبرات پر من مانا کرایہ بھی وصول کرتا۔ ڈیزل، سپیر پارٹس کی مد میں بھی پیسے بناتا۔ مالک بھی خوش اور حاجی کو بھی اچھی آمدنی ہوجاتی۔ پہلے حاجی نے اپنا گھر پکا کیا۔ پھر اپنے والدین کو حج کرایا اور خود بھی حج کیا۔ تین چار پلاٹ بھی خریدے۔ بہنوں کی شادیاں بھی کیں۔

Read more

ملبے کا مالک

موہن راکیش 8 جنوری 1925 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ نئی ہندی کہانی کے بانیوں میں شمار ہوئے۔ ناول لکھے۔ ہندوستانی تھیٹر میں موہن راکیش کا ایک الگ مقام ہے۔ 3 جنوری 1972 کو دہلی میں وفات پائی۔ موہن راکیش کی ہندی کہانیوں کا مجموعہ "پارٹیشن کی دس کہانیاں” بہت مقبول ہوا۔ اس مجموعے کی ایک کہانی "ملبے کا مالک” کا تانا بانا لاہور اور امرتسر کی گلیوں سے بنا گیا۔ ہندی سے اردو ترجمہ: حسان خان

٭٭٭    ٭٭٭
ساڑھے سات سال کے بعد وہ لوگ لاہور سے امرتسر آئے تھے۔ ہاکی کا میچ دیکھنے کا تو بہانہ تھا، انہیں زیادہ چاؤ ان گھروں اور بازاروں کو پھر سے دیکھنے کا تھا جو ساڑھے سات سال پہلے ان کے لیے پرائے ہو گئے تھے۔ ہر سڑک پر مسلمانوں کی کوئی نہ کوئی ٹولی گھومتی نظر آ جاتی تھی۔ ان کی آنکھیں اس انہماک کے ساتھ وہاں کی ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں جیسے وہ شہر عام شہر نہ ہو کر ایک اچھا خاصا مرکزِ ثقل ہو۔

تنگ بازاروں میں سے گزرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو پرانی چیزوں کی یاد دلا رہے تھے۔۔۔ دیکھ۔۔ فتح دینا، مصری بازار میں اب مصری کی دکانیں پہلے سے کتنی کم رہ گئی ہیں! اُس نکڑ پر سُکھّی بھٹیارن کی بھٹی تھی، جہاں اب وہ پان والا بیٹھا ہے۔۔۔ یہ نمک منڈی دیکھ لو، خان صاحب! یہاں کی ایک ایک لالائن وہ نمکین ہوتی ہے کہ بس۔۔!

Read more

حکیم مسیح الملک لاہوری

دنیا بھر کا علاج کرنے والے حضرت مسیح الملک لاہور کا تن و توش ایسا ہے کہ انہیں دیکھتے ہی بندہ احتیاطاً سانس بھی آہستہ لینے لگتا ہے کہ لگتا یہی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا سے بھی توازن کھو کر زمین پر گر سکتے ہیں۔ اس خدشے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ وہ پنکھے کی بجائے ایئر کنڈیشنر استعمال کرنا پسند کرتے ہیں لیکن خود فراموشی اور انکسار کا یہ عالم ہے کہ اپنی ذات کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے اس ترجیح کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پنکھے کی ہوا سے میز پر رکھے بے شمار کاغذات اڑ سکتے ہیں۔

ویسے اس بیان کردہ وجہ کو کچھ وزن تو دینا پڑتا ہے کہ صرف ان کی میز پر ہی اتنی کتابیں اور کاغذات موجود ہوتے ہیں جن سے ایک شریف آدمی پوری ذاتی لائبریری بنا سکتا ہے۔ شاید وہ خود بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں اور ان کاغذات کو بقائمی ہوش و حواس پڑھنے کی بجائے انہیں دیکھتے ہوئے فی صفحہ دو سگریٹ استعمال کرتے ہیں۔ کاغذ اور سگریٹ کے اس توازن کا اثر ان کی میز پر بھی پڑا ہے اور ایک دوسرا شریف آدمی وہاں موجود سگریٹ کی ڈبیوں سے تمباکو فروشی کی اپنی ذاتی دکان کھول سکتا ہے۔

Read more

مارکیز کی ایک کہانی اور تماشے کا انسانی شوق

بہت دن ایسے گزرے کہ میں خود اس بات کا تعین نہ کر پائی کہ تیزی سے بدلتے حالات و واقعات نے مجھے کہاں لا کھڑا کیا ہے؟ مجھے اعتراف ہے کہ میں گذشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں جنم لینے والی ایک پرانی روح ہوں، شاید اسی لیے، مجھے اس نئی صدی کے ابتدائی عشروں کی انقلابی اور برق رفتار تبدیلیوں کو سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ کیونکہ اب میں اپنی ریاست میں، قوم کے نام پر، ایک

Read more

دیوانوں، نادانوں اور فرزانوں کے بے لباس ناچ کا افسانہ

فرزانوں کی اس محفل میں کچھ دیوانے تھے، ہوش و حواس سے بیگانے تھے، افسوس کرنے کے بہانے تھے، عبرت انگیز افسانے تھے۔ اسی محفل میں کچھ نادان تھے، جہل کا نشان تھے، علم اور سچائی سے انجان تھے، اپنی بے عقلی پر نہ حیران تھے نہ پریشان تھے۔ اسی محفل میں کچھ سمجھ دار تھے، علما کے دلدار تھے، فن کاروں کے یار تھے، سچ کہیے تو وہاں بس وہی ہوشیار تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہوش مندوں کی

Read more

فلک بوس عمارتیں اور عبد اللہ شاہ غازی کا مزار

میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں کا ساحل آٹھویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ عبد اللہ شاہ غازی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ جب سے اس شہر میں گھوڑوں کے تاجر کے طور پر آئے ہیں، اس شہر کے لئے مشکل کشا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی پر کوئی فوری مصیبت آن پہنچی ہے جو زندوں سے رفع نہیں ہوسکتی تو غازی صاحبان کے مزار کی سیڑھیاں چڑھیں اور چند پھولوں کی پتیوں کے سنگ ایک

Read more

مدنی تکیہ اور شیطان مردود

برادر مکرم رضا شاہ جیلانی نے رات ایک نکتے کی جانب متوجہ کیا۔ جمہوریت والا سلسلہ چلتا رہے گا، جیلانی صاحب کی بات پہ ذرا گرہ لگالینے دیجئے۔ تبلیغی اصلاحی تحریک دعوت اسلامی کے امیرمحترم مولانا الیاس عطار قادری دام اقبالہم کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔ نہیں معلوم کہ آپ کس حیثیت میں جانتے ہیں مگر میری نظر میں ان کا وجودِ پاک امتِ مسلمہ کے تابناک مستقبل کا آئینہ دار ہے۔ امت کے زوال کے دو بنیادی اسباب

Read more

خالد اقبال، کیکٹس اور پرانا مکان۔۔۔ کون دیکھتا ہے؟

لاہور ایک اچھا شہر ہے۔ یہاں اگر کہیں سے تبادلہ کروا کے آیا جائے، تو انسان اپنے آپ کو دریافت کر سکتا ہے، مواقع ہیں، گنجائش ہے، وسعت ہے۔ بارہ تیرہ برس قبل جب روزی روٹی کے چکر میں لاہور ٹھکانہ بنا تو دفتر ماڈل ٹاؤن میں تھا۔ شروع کے دو مہینے رہائش بھی وہیں اوپر کے حصے میں تھی۔ ایک عدد گاڑی نئی نئی عطا ہوئی تھی، جو خود پرانی تھی مگر چلانے والے کے لیے نئی تھی۔ تو

Read more

آج دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سب سے توانا آواز ملالہ کی ہے: ضیاء الدین یوسف زئی

ملالہ یوسف زئی کے والد، ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور دانش ور ضیاء الدین یوسف زئی سے خصوصی انٹرویو (حصہ سوم) فضل ربی راہی: Let Her Fly کے نام سے آپ کی پہلی انگریزی کتاب زیر طبع ہے۔ یہ کس موضوع پر ہے اور یہ کتاب کب تک شائع ہوسکے گی؟ ضیاء الدین یوسف زئی: یہ میری دوسری بلکہ تیسری کتاب ہے ، میری پہلی کتاب پشتو شاعری کی ہے، دوسری ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا۔ میری یہ کتاب Let

Read more

ایک ان پڑھ دیہاتی گنوار گلگتی کی باتیں!

ہوٹل کے لیے پنڈی سے خریدا ہوا سامان گلگت پہنچ چکا تھا۔ اب سامان کو پسو لے کر آناتھا۔ ایک سوزوکی ڈرائیور سے بات ہوئی۔ ڈرائیور کا نام شمس الاسلام فرض کر لیں۔ سامان کو سوزوکی پر لوڈ کرنے کے دوران میں اپنے اور ڈرائیور کے لیے چپس کے دوپیکٹ مع کوکا کولا کے دو ٹن پیک خرید کر لے آیا۔ سوزوکی روانہ ہونے کو تھی جب شمس الاسلام نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ صاحب اپنا ایک بیٹا ہے ابھی

Read more

ہم مقابلہ کرتے ہیں بے غیرتی نہیں

نیزہ بازی پنجاب کا مقبول عام کھیل ہے چند دہائیاں پہلے جب ٹی وی نہیں تھا یا اس سے پہلے جب سینما ہی نہیں تھا تو میلے پنجاب میں مقبول عام تھے اور نیزہ بازی ہر بڑے میلے کا اہم حصہ تھی۔ نیزہ بازی میں گھوڑے اور گھوڑے سوار کی بڑی اہمیت ہوتی ہے گھوڑے کا پوری رفتار میں سیدھا دوڑنا اور گھوڑے سوار کا اس پر اپنا تواز برقرار رکھنا نہایت مہارت کا کام ہے جس کو حاصل کرنے

Read more

اپنے بچوں کو نمبروں کے خوف سے مت ماریں

بیٹے کی عمر بہ مشکل پانچ چھے برس ہوگی اور وہ نرسری کلاس کا طالب علم لگتا تھا۔ باپ اپنے بچے کو اپنی کلاس میں فیل ہونے کی وجہ سے اسکول سے واپسی پر بری طرح ڈانٹ رہا تھا ۔اس سرزنش کے کچھ دھندلے الفاظ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ حافظہ سے محو ہوجانے کی بنا پر کمی بیشی کے ڈر سے نقل کرنے پر معذور ہوں۔ ابا کے منہ سے نکلنے والے درشت الفاظ اور بچے

Read more

عہد یوسفی تمام ہوا: مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے

ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی کراچی میں انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق مشتاق یوسفی طویل عرصے سے علیل تھے۔ اردو ریسرچ جرنل میں ان کے فن اور شخصیت پر شائع شدہ مضمون شکریے کے ساتھ ہم سب پر شائع کیا جا رہا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی ظرافت نگاری حافظ سید عبدالکریم رضوان (شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی) بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیں اردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو

Read more

ظفر اقبال فاروقی: ایک رندِ پارسا

  یہ عجیب نمازِ جنازہ تھی، عام طور پر مولوی پہلے جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں یا تھوڑا بہت قربِ قیامت کے آثار پر گریہ آوری کی کوشش کرتے ہیں، اگر مرحوم کا ذکر کریں تو عام طور ان کے فضائل گنواتے ہیں یا ان کے قرض خواہوں سے مرحوم کے پس ماندگان کے حق میں در گزر یا حسنِ سلوک کی درخواست کرتے ہیں، مگر یہاں تو مولوی صاحب فرما رہے تھے:  ’’ مسلمانو! وقت بہت کم ہے

Read more

پوپ جان پال دوم کے ایک خاتون سےقریبی تعلقات کا انکشاف

بی بی سی نے ایسے سینکڑوں خطوط اور تصاویر دیکھی ہیں جس سے پوپ جان پال دوم کے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ قریبی تعلقات کی کہانی پر سے پردہ اُٹھتا ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تعلق 30 سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔ پولینڈ نژاد امریکی فلسفی خاتون انا ٹریسا تیمینیسکا کو لکھے گئے خطوط کئی برسوں تک عوام کی نظروں سے دور پولینڈ کی قومی لائبریری میں بند تھے۔ اِن دستاویزات کے ذریعے سنہ 2005 میں دنیا

Read more

وہ بڈھا ۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ

میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کا ایک پرس تھا، جس میں چاندی کے تار سے کچھ کڑھا ہوا تھا اور میں ہاتھ میں اسے گھما رہی تھی۔ کچھ دیر میں اچک کر فٹ پاتھ پر ہو گئی، کیو ں کہ مین روڈ پر سے ادھر آنے والی بسیں اڈے پر پہنچنے اور ٹائم کیپر کو ٹائم دینے کے لئے یہاں آ کر ایک دم راستہ کاٹتی تھیں۔ اس لئے

Read more

سی پیک کو کالاباغ کون بنا رہا ہے؟

سی پیک رفتہ رفتہ تنازعات کی نذر ہو رہا ہے۔ سی پیک کو کون متنازع بنا رہا ہے؟ تنازعات کی وجوہات کیا ہیں؟ کون کہاں کھڑا ہے؟ اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ دیکھیے ایک بات تو معلوم ہے کہ لکھنے والازبان کی چاشنی ، لہجے کے آہنگ اور دلیل کی باڑھ سے خوشمنا کل کی تصویر بنانے کی جستجو میں ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے جذبات کی مناسب آنچ کا استعمال بھی شجر ممنوعہ نہیں۔ مشکل مگر یہ ہے

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more

انسانیت مر گئی، عشق ابھی زندہ ہے!

پچھلی رات عابدہ پروین کو رو برو سن رہی تھی اور اپنے گرد بیٹھے ہر عمر کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو بڑی محویت کے ساتھ عابدہ پروین کو سن رہے تھے اور سر دھن رہے تھے، چاہے وہ اردو کلام گا رہی ہو، سندھی ہو یا پنجابی۔ بس عشق کا جادو تھا جو عابدہ پروین کے ذریعے حاضرین محفل کی جانب منتقل ہو رہا تھا۔ پھر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ اور ایک سادہ لفظوں والا

Read more

باسودے کی مریم اور مفتی منیب الرحمان

اردو ادب میں "باسودے کی مریم” جیسا ہیرے کی کاٹ افسانہ کم لکھا گیا ہو گا۔ اسد محمد خان اردو نثر کے جملہ قرینوں پر عبور رکھتے ہیں اور اردو فکشن کی بہت سی طرزیں تو اسد محمد خان ہی سے منسوب ہو گئیں۔ روز مرہ بول چال میں ایسا کسے ہوئے طبلے جیسا باج اردو افسانے میں بہت کم ملتا ہے۔ "باسودے کی مریم” میں ایک خوبی بے حد منفرد ہے۔ اردو افسانے میں مذہبی احساس کی پاکیزگی، نفاست،

Read more

ممتاز قادری کا چہلم اور جنید جمشید پر حملہ

مورخہ 27 مارچ 2016– آج ممتاز قادری کا چہلم ہے۔ اور کل رات جنید جمشید پر ائیرپورٹ پر حملہ ہوا ہے۔ اطلاع ہے کہ حملہ کرنے والے کراچی سے جنید جمشید کے ساتھ ہی جہاز پر اسلام آباد آئے تھے اور ان کی آمد کا مقصد ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کرنا تھا۔ حملہ کرنے والے افراد، جنید جمشید کو گندی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جنید جمشید کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی شان میں

Read more

حیدر آباد کا گم گشتہ محرم

دو تین دن سے ایسی تحاریر نظر سے گزریں جن میں عاشورہ محرم میں مذہبی رواداری جو آج سے تیس چالیس سال پہلے تک روا تھی اس کا ذکر تھا۔ زیادہ تر لکھنے والوں نے بچپن میں گزرے عاشورہ محرم کے احوال کو اتنی خوب صورتی سے بیان کیا کہ ہم بھی اپنے بچپن میں گم ہوگئے۔ کیسے حیدرآباد سندھ میں گھر کے سامنے سے حضرت قاسم کی مہندی، حضرت علی اصغر کا جھولا، اور ماتمی جلوس گزرا کرتے تھے،

Read more