کچھ پڑھنے کے بارے میں

انسانی متون کیسے پڑھیں جائیں؟ اس سوال کی سیاسی جہت واضح ہے۔ قاری کو حق حاصل ہے کہ وہ کیا پڑھے اور کیسے پڑھے۔ قاری سے مراد ایک بالغ نظر شخص ہے جو دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے میں یقین رکھتا ہے اور اپنی نظر کو معتبر بھی جانتا ہے۔ جب ہم اس بالغ نظر شخص کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ وہ فلاں کتاب پڑھے اور اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرے تو گویا ہم

Read more

فیس بک کے چوراہے پہ قائم شاپنگ مال

فیس بک ایک چوراہا ہے۔ جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر سوچ کی دکانیں بلکہ بڑے بڑے شاپنگ مالز بڑے دھڑلے سے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ ان شاپنگ مالز میں آپ کو مذہب، سیاست، تفریح، جنس غرض انسانی فطرت کے تمام روپ بدرجہ اتم ملیں گے۔ اب آپ کی صوابدید پہ ہے کہ آپ اپنا پڑاؤ کس دکان یا فرنچائز پہ ڈالتے ہیں اور کتنی دیر تک ڈالے رکھتے ہیں۔

لیکن جب سے رمضان شروع ہوا ہے فیس بک کے وہ محترم لکھاری جن کی قلم کی جولانیاں عموماً مذہب کے خلاف ہی صرف ہوتی تھیں۔ ان کا قلم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی مانند یک دم دن دگنی رات چوگنی ترقی کر گیا ہے۔ لگ بھگ وہی پرانے اعتراضات نئے انداز سے رمضان کے مہینے میں اس تواتر سے مارکیٹ میں لائے جا رہے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی دکان بلکہ شاپنگ مالز پہ کچھ دیر پڑاؤ ڈالنے کو دل کر ہی دیتا ہے اور اس پڑاؤ کا اختتام جذباتیت سے کیا گیا تحریری اور غیر تحریری کمنٹ ہوتا ہے۔

کہیں جنت اور دوزخ زیر بحث ہوتے ہیں۔ کہیں علما کی ”ٹکا“ کے کلاس لگی ہوتی ہے۔ کہیں دینی کتابوں کے وہ پرانے

Read more

قدیم سنسکرت کی شعریات اور نظریۂ دھون

ہندوستان میں شاعری پر بحث و تمحیص کی روایت نہایت قدیم ہے۔ ویدوں کی رچائیں، منتر اور شلوک ہر چند تہذیب کے عہد طفلی کی کہانیاں ہیں، لیکن ان میں اظہار اور اسلوب کی پختگی بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ ویدوں کی تالیف کا عہد تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح ہے۔ ”ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیپل“ کے مصنف کے مطابق لسانیاتی بنیادوں پر قدیم ترین وید ”رگ وید“ کی زبان ایک ہزار سال قبل مسیح ہے، لیکن اس کا مواد اس سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ اے۔ ایل۔ ہاشم کے بقول دوسری ہزاری قبل مسیح میں جو لوگ ہندوستان میں داخل ہوئے ان میں ایک قبیلہ بھرت نامی تھا جو بعد میں برہما ورت سے معنون ہوا۔ برہما ورت کے پروہتوں کے گیتوں کو باقاعدہ ترتیب دے کر رگ وید تالیف ہوئی۔

Read more

ٹیگور میری نظر میں

رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر گفتگو کے دروازے نہ کھلے ہوں۔ میرے لیے مشکل یہ تھی کہ ان پر لکھتے ہوئے کس گوشہ کا انتخاب کروں۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ان بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، جہاں حسین سے حسین خواب بھی معمولی اور چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ہشت پہلو شخصیت سے ان درجات کو طے کر گئے تھے، جہاں تمنا کا دوسرا قدم بھی کم معلوم ہوتا ہے۔ وہ اول تا آخر ہندستانی تھے اور ان کی تحریر میں عشق و محبت اور صداقت پاروں کا ایک ایسا سنگم تھا جہاں تصوف اور روحانیت کی لہریں بھی ہیں اور ایک سچے انسان کے بلند اخلاقی کردار کی نمائندگی بھی۔

Read more

تلخیوں کے زیر سایہ جوان ہونے والی نسل

بلوچی میں کہاوت ہے ”ترجمہ؛گنج ( علاقائی پودے کا انتہائی اور ناقابل برداشت حد تک کڑوا پل، جو بناوٹ و شکل میں بالکل چھوٹے خربوزy جیسا ہے ) کا پودا لگانے سے میٹھے خربوزہ پیدا نہیں ہوا کرتے“ ۔ مگر افسوس کہ بلوچستان میں یہ کارنامہ سرانجام دینے کا تجربہ ازل سے جاری ہے۔ تلخ یادوں اور تجربات کے زیرسایہ پرورش پانے والی زندگیوں میں بھی تلخی کی آمیزش انوکھی بات نہیں، بلکہ قدرتی عمل ہے۔ مگر نیم کے دانوں کی کڑواہٹ کو کم کرنے کے لئے اس میں میٹھا گڑ ڈال کر کوٹا جاتا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تیل یا آتش گیر مادے سے نہیں۔ مگر یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔

Read more

ہیرو ایسے نہیں بنائے جاتے – مکمل کالم

ہیرو کا تو پتا نہیں البتہ ہیروئن کے بارے میں میرا تصور بالکل واضح ہے۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ یہ بحث ہوئی کہ کون سی فلمی ہیروئن زیادہ خوبصورت ہے، وہ کالج کے دن تھے، مادھوری اپنے عروج پر تھی، میں نے مادھوری کا نام لیا مگر پھر خیال آیا کہ تبو بھی کم نہیں سو ساتھ ہی اس کا نام بھی جوڑ دیا، پھر یکایک میری پاکستانیت جاگی اور میں نے کہا کہ نیلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگلے پانچ منٹ میں میرا بیان تبدیل ہو کر کچھ یوں ہو چکا تھا کہ پاک و ہند کی کوئی ایسی ہیروئن نہیں جس کے حسن پر تنقید کی جا سکے، ایک باریش اور متقی دوست نے اس بیان میں ہالی وڈ کا اضافہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد یہ میٹنگ ان بیبیوں کے حق میں دعائے خیر و جملہ پوشیدہ و پیچیدہ خواہشات کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

Read more

ہیرو کون؟ راجہ داہر یا محمد بن قاسم

آپ نے کئی اردو اور پنجابی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک لڑکی چیخیں مار کر بھاگ رہی ہے۔ اور اس کے پیچھے ایک بد شکل ولن وحشیانہ قہقہے مارتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔ یکلخت ایک خوش شکل ہیرو نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑتا ہے اور مار مار کر اس ولن کا بھرکس نکال دیتا ہے۔ اور لڑکی کو پہلی نظر میں ہی محبت ہو جاتی ہے۔

اگر یہ سب کچھ صرف فلموں میں ہوتا تو شاید گزارا ہو جاتا لیکن ہم نے برصغیر کی تاریخ کو بھی اس قسم کی رومانوی فلم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں سندھ کی تاریخ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ محمد بن قاسم ہیرو ہے یا راجہ داہر ہیرو ہے؟ حالانکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ دونوں نہ ہیرو ہوں اور نہ ولن ہوں بلکہ اپنے دور کے معمول کے حکمران ہوں۔

Read more

کیا میاں بیوی طلاق کے بعد بھی دوست رہ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب!
آپ کی تحریر اور اپنے موضوع نفسیات پہ گرفت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ کا ہر کالم میرے لیے سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ مجھے خود بھی کافی حد تک انسانی نفسیات اور رویوں کو پڑھنے، سمجھنے اور سلجھانے کی کافی دلچسپی ہے۔ انسانی تعلق جو ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، ریلیشن شپ یا شادی کا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے اپیل کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تعلق بنتے ہوئے کافی وقت لیتا ہے لیکن جب اسے توڑا جاتا ہے تو عموماً ایک تلخی کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے جیسے اس میں کبھی محبت اور مٹھاس نہ رہی ہو۔ ایک طرح کی تلخی اور نفرت کے جذبے سے تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

Read more

موہے پیا ملن کی آس

میں دو کپ چائے بنا لائی اور دونوں کپ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیے۔ آج تو میں نے بھی ٹھان رکھا تھا، اس روح اور فضا کا حبس کم کر کے ہی رہوں گی۔ یہ سوچ کر کہ آج اپنی بندگی کا صلہ مانگوں کی۔ میری ہاتھ کی خوش بو دار چائے پیے۔ میں لمس کی ترسی، اسے اپنے سامنے بٹھاؤں گی۔ محسوس تو کئی بار کیا تھا، مگر آج چھو کے دیکھوں گی۔ اس پہر دو پیالی چائے بنا کر لائی تھی۔ پیالی میں چائے کا رنگ بدل چکا تھا۔

کھڑکی کھلی ہوئی ہونے کے با وجود کمرے میں حبس تھا۔ یہ کس کمرے کی کھڑکی کھول دی تھی میں نے؟ اپنے دل کے کمرے کی! اس برسوں سے بند کھڑکی کو کھولنے میں بہت مشقت ہوئی تھی۔ پہروں کو گرمیوں کی دُپہروں اور سردیوں کی شاموں میں تلاش کیا تھا۔

Read more

ایک مکالمہ: کیا تم اگلی زندگی پر یقین رکھتے ہو؟

انسان جب موت کو لبیک کہتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ کیا پھر سے کسی صورت میں کوئی زندگی اس کی منتظر ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب انسانی عقل و دانش ایک مدت سے تلاش کررہی ہے۔ اتنے طویل علمی سفر کے بعد تین چار بڑے بڑے نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک تو مذہبی ہے جو زرتشت سے لے کر ادیان ابراہیمی تک مماثل چلا آتا ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اپنے عمل سے جو لکھا اس کے نتائج ایک خاص دن کو نکلیں گے جب پھر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، پھر جنت یا جہنم کی مکانیت اور ایک لامحدود زندگی۔

Read more

سحر انگیز اور دل موہ لینے والے موسیقار نثار بزمی

جل گاؤں، ریاست مہاراشٹرا، بھارت میں سید قدرت علی کے ہاں 1924 کو بچے کی پیدائش ہوئی۔ سید نثار احمد نام تجویز ہوا۔ کسے معلوم تھا کہ آگے چل کر یہ برصغیر پاک و ہند میں نام کرے گا۔ ابھی گیارہ بارہ سال کی عمر ہو گی کہ معاشی مسائل سے نبٹنے کی خاطر ان کو ( اس وقت ) بمبئی کی ایک نامور قوال پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ سر تال خدائی عطیہ تھا جب کہ موسیقی کے اسرار و رموز سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ تب قسمت نے یاوری کی اور 1930 کے اواخر میں بمبئی کی موسیقی میں اہم شخصیت خان صاحب امین علی خان کی شاگردی میں چار سال رہے۔ یوں محض 13 سال کی عمر میں مروجہ راگ راگنیوں اور آلات موسیقی میں خاصی مہارت حاصل کر لی۔ 1939 میں صرف 15 سال کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ ہو گئے۔ یہیں ( بمبئی ) کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے ڈراموں میں گیتوں کی طرزیں بھی بنائیں۔ ان کی بنائی ہوئی دھنوں پر رفیق غزنوی اور امیر بائی کرناٹکی جیسے نامور موسیقاروں اور فنکاروں نے گایا۔ یہ معمولی بات نہیں۔ ایسے کامیاب کام کے بعد سید نثار کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی جو اس وقت ایک معقول رقم مانی جاتی تھی۔

Read more

نئی عورت کا رول ماڈل

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ سکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا بے عیب شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

Read more

ارطغرل کی حلیمہ سلطان کی بے پردہ تصویر

ارطغرل ایک لہو گرما دینے والا بہترین ڈرامہ ہے جس نے تیونس کے ساحل سے لے کر کاشغر تک ایک ولولہ طاری کر دیا ہے۔ نوجوان اب بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو بے قرار پھر رہے ہیں تاکہ دوبارہ وہ عظمت رفتہ پائی جا سکے جس نے کئی صدیوں تک یورپ کو لرزہ براندام رکھا۔ اس میں جہاں ارطغرل غازی کا کردار اہم ہے وہیں حلیمہ سلطان بھی بہادری، جفاکشی، وفاداری، عفت اور گھڑسواری کا ایک نمونہ بن کر لہو گرم کر رہی ہیں۔

نسیم حجازی مرحوم کے بعد سے ایسا کردار کسی نے تخلیق نہیں کیا جو عظمت رفتہ کو یوں خیالات کی دنیا میں زندہ جاوید کر دے۔ ڈرامے کی ہر قسط دیکھ کر پوری پاکستانی امت کو یقین ہوتا جا رہا تھا کہ اگر ان کرداروں نے اپنی پاکبازی، جرات، بہادری، اسلام سے محبت اور بے داغ کردار سے امت کو +ان سب خوبیوں کی محبت میں مبتلا کر دیا ہے، تو وہ یہ کردار ادا کرنے کے سبب خود بھی ایک نہایت عابد و زاہد مسلمان بن چکے ہوں گے۔

Read more

ڈائجسٹ رائٹرز کی کہانی

ہر کہانی کی اپنی ایک داستان ہوتی ہے۔ ہر داستان کا ایک پس منظر ہوتا ہے اور اس پس منظر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے جو اس کہانی کے جنم کا باعث ہوتا ہے۔

پاکستان میں بالعموم ڈائجسٹ رائٹرز کے ساتھ متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ نہ ان کو ادبی سطح پر شناخت ملتی ہے نہ ادبی رسالے ان کی تخلیقات کو چھاپنے کی زحمت کرتے ہیں نہ ان کی سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی ہوتی ہے نہ ان کو معاشرے میں ایک مصنف کی اہمیت ملتی ہے۔ ڈائجسٹ رائٹرز کے حوالے سے نہ کوئی تحقیقی مواد ہمیں ملتا ہے نہ ان کہانی کاروں پر کبھی کسی نے سنجیدہ کام کیا ہے۔ ڈاکٹر کرن نذیر احمد نے پہلی بار اس اہم موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بات کی ہے۔

Read more

اردو ادب پر مذہبی چھاپ: روحانیت یا کمرشل ازم؟

دنیا بھر کے ادب میں اولیت ان لکھاریوں کو دی جاتی ہے جن کا قلم تحقیق، تجربے اور تجسس کو دعوت دیتا ہو جس سے انسان کی ذہنی نشو و نما اور فکری بالیدگی کو جلا مل سکے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے اردو ادب کی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو چند ایک شعراء کے علاوہ تمام لکھنے والے بالخصوص نثر لکھنے والے ایک محدود نظریے پر لکھتے نظر آتے ہیں جن کی تمام تر سوچ صرف مذہب کے گرد طواف کرتی محسوس ہوتی ہے اردو نثری مضامین لکھنے والوں پر مذہب کی چھاپ نمایاں ہے۔

Read more

رشتے

رشتہ دو لوگوں میں ایک ایسے رابطے کا نام ہے جو قدرتی طور پہ قائم ہوتا ہے۔ کچھ رشتے ہمیں پیدائشی طور پر ملتے ہیں جیسے والدین، بھائی بہن اور کچھ وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جیسے میاں بیوی، بچے، دوست وغیرہ۔ ان میں سے کچھ رشتے ختم بھی ہوتے رہتے ہیں جیسے شریک حیات یا دوست۔ رشتہ کیسا بھی ہو ربط قدرت ہی پیدا کرتی ہے اور قدرت ہی ختم کر سکتی ہے۔ رشتے کے مضبوطی اور کمزوری ہمارے ہاتھ میں

Read more

من کی ملکہ

گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔

”بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔“ آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو مہذب ثابت کرنے کا خیال آیا اور سائیکل ہاتھ سے تھامے، مڑ کر بولنا چاہا۔ ۔ ۔ ”بہت شکریہ میڈم“

مگر صرف میڈ ہی منہ سے نکل سکا ”م“ کچھ سے کچھ بن گیا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے دونوں لڑکے سائیکلوں سمیت غڑاپ سے۔ ۔ ۔ پانی کے اندر تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں چھپی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی کے جلترنگ پانی بھری گلی میں بجنے لگے۔ دونوں لڑکوں کی حالت قابل دید تھی۔ کیچڑ میں پھنسی سائیکلیں نکالیں۔ خود ان کا اپنا حال بھی برا تھا۔ ذرا دیر پہلے کی رنگارنگ ستھری شرٹس اور نہائے دھوئے چہرے کچھ سے کچھ ہو چکے تھے۔ واپسی کا سفر بھی وہی گلی تھی کہ آگے جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

لڑکیاں حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھیں۔ نسبتاً صاف رنگت والے لڑکے نے گھور کر آفت کی پرکالہ کی طرف دیکھا۔

Read more

پرانے برتنوں، پلاسٹک کی جوتیوں اور خالی بوتلوں کے بدلے پیٹرول

کورنا کے حوالے سے مسلسل بُری خبروں کے ہجوم میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں ایک بار پھر کچھ کمی کردی ہے۔ گو عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرول کی جو درگت بن رہی ہے اس کے تناظر میں اسے خاطر خواہ کمی تو قرار نہیں دیا جا سکتا مگر مہنگائی کم کرنے کے حوالے سے حکومت کے سابق ریکارڈ تو دیکھیں تو پیٹرولیم مصنوعات میں اس حالیہ کمی کو بڑی حد تک

Read more

ہماری دنیا

چلو کچھ چیزوں کو تو ہم سب انجوائے کر سکتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں جن کے اوپر کسی کا قبضہ، نہ وہ ہمارے ان چیزوں کا پیراڈائم اپنی طرف لے جا سکتے اور نہ اس میں ترمیم کر سکتے ہیں : چاہے وہ ڈرامے بنا دے، فلمیں بنا لے اپنے لوگوں سے کتابیں لکھوا دے، جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کالے کو گورا کرے اور سفید کو کالا، پھر بھی ہمارے سوچ ان کے لئے اور دنیا

Read more

ایک دوست کی یادیں: بکے آ، توں ای ٹر گئیوں

نئے نئے اپنے اپنے قصبات سے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تھے۔ ایف ایس سی پری میڈیکل کے بیچ تھے، میرے بیچ میں چھوٹے قد کا، چہرے کے ایک طرف پھوڑے کا نشان، چہرے پر مسلسل شرارتی مسکراہٹ، ایک ڈے سکالر تھا۔ نام تھا اس کا برکت عباس جعفری۔ گانٹھ کا پورا تھا، حد درجہ شرارتی۔ میں اقبال ہوسٹل میں رہتا تھا اور وہ لکشمی چوک میں رتن سینما کے پیچھے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ، جو غالباً کہیں ملازم تھے۔ میں علی پور ضلع مظفر گڑھ سے تھا اور وہ ملتان کے ایک نواحی شہر شجاع آباد سے۔ سرائیکی زبان جسے ان کے ہاں تب ملتانی کہتے تھے اور ہمارے قصبے میں ریاستی ہمارا مشترکہ معاملہ تھی۔ اس لیے ہم دوست بن گئے تھے۔ میں اسے پیار سے بکے آ کہتا اور وہ مجھے مرزے آ۔

Read more

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن کے ساتھ سلوک، مذہبی اور معاشرتی معاملات، رسم ورواج وغیرہ کی سب تفصیلات تو اب اس ڈرامہ کو دیکھنے والوں کو یاد ہو چکی ہیں۔

Read more

مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

شاہ محمود قریشی ملتان کے نامور مخدوم ہیں۔ مہربان انسان ہیں اسی لئے دنیا ان کی قدردان ہے ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں جب کبھی دیکھا اس نظر سے دیکھاجس نظر سے برسوں پہلے انہوں نے ہیلری کو دیکھا تھا۔ یہ منظر جس میں جام بھی تھے ( واضح رہے کہ یہ جنوبی پنجاب والے جام نہیں ہیں ) کسی دل جلے فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا اور پھر یہ محفوظ شدہ منظر وائرل ہو کر

Read more

والدین کی محبت یا بچوں کے ارمانوں کا سودا

یہ اتنی کم ظرفی کیوں برتتی جاتی ہے؟ با اختیاری کیا تنگ دامانی کا پرمٹ دیتی ہے؟ کسی اور پہ گزرتی تکلیف خود پہ گزری یاد کیوں نہیں دلاتی؟ یا یاد دلاتی بھی ہے تو شاید با اختیاری کے نشے میں بھلا دی جاتی ہے۔ ہزاروں نوجوان کالج کی کسی اوٹ میں بیٹھ کر بے بسی کے فشار کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے ٹپکتے لاچارگی کے آنسو محض احباب تکتے ہیں جو انھی کی طرح بے اختیار

Read more

لاک ڈاؤن نرمی: یہ رنگ، نہ چہرے، نہ مکاں دیکھو گے!

کورونا وائرس نے کرہ ارض کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہیں، پوری دنیا میں ذہنی انتشار ہے۔ دنیا کی توجہ صرف ایک چیز پر مرکوز ہے کہ کس طرح اس دشمن پر قابو پایا جائے۔ معیشت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وائرس محض ایک حادثاتی واقعہ ہے، جو گہری اور پوشیدہ لازمیت کا اظہار ہے۔ مگر اس کے آنے والے واقعات پر گہرے اثرات ہوں گے۔ کورونا ایک عالمی وبا ہے

Read more

عید کی شاپنگ یا کورونا کی بیماری: فیصلہ آپ کا!

ہم اس وقت ایک انوکھے دور سے گزر رہے ہیں۔ انسان یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ہر قسم کی وباؤں پر قابو پا چکا ہے اب کوئی پریشانی اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں بنے گی مگر اچانک کووڈ  19 نے آ کے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ 26 فروری 2020 کو پا کستان کے شہر کراچی میں کورونا کا پہلا کیس رجسٹر ہوا جب کراچی کا ایک رہائشی طالبعلم ایران سے واپس آیا تو اس کا کورونا

Read more

مزے تو ماہی اب آئیں گے

ہرنام سنگھ اور پرنام سنگھ پرتاب سنگھ کے دو صاحبزادے تھے۔ پرنام سنگھ سگا تھا اور ہرنام سنگھ سوتیلا۔ پرنام سنگھ لاڈلا تھا جبکہ ہرنام سنگھ باپ کو اک آنکھ نہ بھاتا۔ پرتاب سنگھ اک سفر پہ روانہ ہوا تو جاتے ہوئے اس نے پرنام سنگھ کو کافی ساری چیزیں دیں اور ہرنام سنگھ کو صرف اک کچھا اور دھوتی عطا ہوئی۔ جو بالترتیب اس کے تن پہ زیب رہتی۔ جاتے ہوتے پرتاب سنگھ نے کہا خبردار واپسی پہ میں نے حساب لینا ہے۔

Read more

بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

بندیا رانا نا صرف کراچی بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے خواجہ سراؤں کے حقوق بحالی کے لیے ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے کٹھن سے کٹھن حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انھوں نے 2013 ء کے انتخابات میں کراچی سے حصہ لیا، مخالفین ان کے کاغذات نام زدگی منظور ہونے کے بعد اس قدر خوف زدہ ہو گئے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے علاوہ ان کی انتخابی مہم میں ہر طرح کی

Read more

دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں

بھائی صاحب کا فون تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ممی کو نرسنگ ہوم میں شفٹ کردیا جائے۔ یار تم سمجھتے نہیں ہو اورخواہ مخواہ میں جذباتی ہورہے ہو۔ ہم لوگ اب ان کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب نرسنگ ہوم میں ان کا خیال رکھا جائے، وہاں تو پروفیشنل نرسیں اور دیکھ بھال کرنے کے ماہرہوتے ہیں۔ ہر وقت خیال رکھا جاتا ہے کوئی بھی مسئلہ ہو

Read more

شیکسپیئر، عمیرہ احمد اور کتاب کا بوجھ

ریل گاڑی جیسے ہی اسٹیشن پر آ کر رکی۔ میں فوری طور پر اپنے سامان سمیت اس پر سوار گیا اور اپنی ٹکٹ پر لکھے سیٹ نمبر کو تھوڑی سی کوشش سے تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اپنا سامان رکھ کر اب میں سیٹ پر بیٹھ چکا تھا اور کچھ ہی دیر میں ریل گاڑی اپنی تمام تر برق رفتاری سے رواں ہوچکی تھی۔ میرے سامنے والی سیٹ پر میرا ہم عمر ایک نوجوان بیٹھا کتاب پڑھنے میں مشغول

Read more

ماں! پیکر وفا

ٓٓآج دنیا بھر میں ماں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ ایک روایت ہے ورنہ ماں کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے حروف تہجی کا کوئی بھی مجموعہ لفظ ماں کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے لئے سب سے خوبصورت تحفہ ماں ہے۔ ماں صرف ایک لفظ ہی نہیں ایک احساس، محبت، شفقت، پیاراور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے۔ ماں ایک تختی کی مانند ہے

Read more

قیدی کا ورثہ

(1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام) میں قید میں تھا، بہت ہی تاریک قید۔ اپنی قید میں رکھنے والی مجھے سارا دن ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتی۔ پھر ایک رات کچھ فوجی آئے اور اس کو ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ اس کو ایک عمارتی قید خانے میں بند کر دیا گیا۔ چند ہفتوں کے بعد میں اس کی قید سے باہر آگیا۔ میں نے اس نئے قید

Read more

ولہلم رائخ پر خالد سعید صاحب کے ایک مضمون کی شرح‎

میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے جن ماہرین نفسیات پر 1980 کی دہائی میں مضامین تحریر فرمائے تھے ان میں سے ایک آسٹریا میں پیدا ہونے والے ولہلم رائخ Wilhelm Reich بھی تھے. پڑھے لکھے افراد کی اکثریت ان کو ان کی مشہور کتاب Mass Psychology of Fascism کے حوالے سے جانتی ہے۔ نفسیات کے طلباء کے پاس بالعموم ان کی 23 کتابوں کی فہرست ہوتی ہے۔ خالد سعید صاحب نے دس کتابوں کی فہرست اپنی تحریر

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق

جیسا کہ ہم جانتے ہیں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ سے گہری محبت رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خود ترک قوم اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا بستر لپیٹ رہی تھی، برصغیر کے کونے کونے میں نہ صرف مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے بلکہ مسلمان عورتوں نے خلافت کے دفاع کے لئے اپنے زیور تک اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دور کا ادب بھی اس مذہبی حمیت

Read more

میں ہوں اطہر شاہ خان جیدی

جی، جی میں ہوں اطہر شاہ خاں۔ اکثر لوگ مجھے ”جیدی“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ نہیں، نہیں، مجھے برا نہیں بلکہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کہ میری تخلیق اس قدر مقبول ہوئی اور میری پہچان بھی بن گئی۔ پاکستان بننے کے بعد والدین، رام پور اتر پردیش سے لاہور آ بسے۔ میری عمر اس وقت 4 سال تھی۔ لاہور کے مختلف سکول و کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ہوش سنبھالتے ہی گھر میں قلم و کتاب کے رشتہ کو محترم

Read more

لمبی، گوری اور انگریزی بولنے والی 70 فیصد سے ملاقات

وضاحت لازم: یہ تحریر قبل از کورونا ایک ناآسودہ بیک اینڈ ریسورس پرسن میڈیا منسلک خاتون کے غصیلے، دل گرفتہ مشاہدات سے کشید کردہ بیان پر مبنی ہے۔ کسی ہستی کی اتفاقی خفیف مماثلت اپنی ہوس کی بھونڈی تکمیل اور خود کو غیر ضروری اہمیت دینے کی ناکام کوشش تصور ہوگی۔ سو پیار کو پیار ہی رہنے دیں کوئی نام نہ دیں۔ بہتر ہے فائزہ شیخ کی کہانی ہم جیمز بانڈ کی فلموں کی طرح شروع کردیں۔ جب اداکار شان

Read more

صدیقہ آپا سے ایک ملاقات

مشیت ایزدی کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خاک میں تو سب ذی روحوں کو جانا ہی ہے لیکن سونا کہلانے والی اس عورت کی خوش نصیبی میں، اس کے خوش اخلاق اور بلند مرتبہ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے جس کا شوہر نامدار، اس کا رفیق زندگی اس کے بارے میں ایسے کلمات کہے۔ اللہ اللہ۔ رب العزت صدیقہ آپا کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین

میں صدیقہ آپا سے صرف ایک با ر ملی۔ اور وہ بیٹھک دل پر نقش ہو گئی۔ قریباً پانچ برس قبل ایک مشاعرے میں پہلی بار ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ میں خاموش ایک طرف کو بیٹھی تھی جب وہ تشریف لائیں۔ کیا شاعرات، کیا نامور شعرا حضرات سب اٹھ اٹھ کر ان کو سلام پیش کرنے کو آئے۔ انہوں نے کمال شفقت سے سب کے سلام کا جواب اور دعائیں دیں۔ اور کم نصیبی دیکھیے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ محترم ہستی کون ہیں؟ بالآخر ہمت کر کے پاس گئی سلام پیش کیا۔

Read more

جنت کے خواب

وہ ابھی بچہ تھا جب اس کے دماغ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے اس دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہر طرف جنگی رومان زبان زد عام تھے اور سب سے بڑھ کر جنت کا حسین خواب دکھایا جاتا تھا۔

‎اگر یوں کہا جائے کہ چار سو جنت اور جہنم کا خواب بک رہا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔ اس خواب کے اتنے بیوپاری تھے کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر کوئی اس خواب کو بیچنے کے لئے مختلف دکانیں سجائے بیٹھا تھا اور وزیرستان میں انھی خوابوں کو بیچنے والوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کے ان منڈیوں (ان کے مراکز) میں اسلحے سمیت اس خواب کے سوداگر کے ساتھ سینہ بہ سینہ ہزاروں پیروکار موجود ہوتے، اور اگر کوئی ان سے اختلاف رائے رکھتا یا ان سے اختلاف کرتا تو اس کو دبوچا جاتا اور اگر کوئی اور کسی اور خواب کی ریڑھی لگاتا، اس کی تو پھر خیر ہی نہیں تھی۔

Read more

ہار، پڑوسن اور شوہر

نور اپنے شوہر جمیل پر مسلسل دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ اس بار سالگرہ پر اسے صرف سونے کا ہار ہی تحفے میں دے، بالکل ویسا ہی جیسا اس کی ہمسائی کو شوہر سے ملا ہے ورنہ وہ گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے گی۔ نور کو شکوہ تھا کہ جمیل کو اس سے ذرا بھی محبت نہیں، کبھی مہنگا اور قیمتی تحفہ نہیں دیا جیسے رضیہ (ہمسائی) کا شوہر اسے اکثر دیتا رہتا ہے۔

Read more

زندگی دھوپ تم گھنا سایہ

نہ جانے معروف شاعر جناب جاوید اختر نے یہ شعر کس کے بارے میں کہا ہے لیکن میں جب بھی اس شعر کو پڑھتا یا کسی کی زبانی سنتا ہوں تو مجھے اپنی ماں یاد آتی ہے : تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا زندگی دھوپ تم گھنا سایہ الحمدللہ میری ماں اب تک حیات ہیں اور جو لوگ اس سائے سے محروم ہوچکے ہیں، ان کے اوپر مجھے بڑا رحم آتا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی

Read more

ھسپتالوں میں قومی ہیروز

صحافی نے نوجوان ڈاکٹر کی طرف مائیک بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاب کیا آپ کو معلوم ہے کہ قوم آپ لوگوں سے کتنا پیار کرتی ہے؟ نوجوان ڈاکٹر نے ایک مقدس جذبے اور میٹھی معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ خدانخواستہ قوم پیار نہ بھی کرے تو ہم پھر بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور انسانی جذبہ بھی! تقریباً تین مہینے پہلے احمقانہ فیصلوں اور غیر ذمہ دارنہ طرز

Read more

وطن کی مٹی گواہ رہنا!

پاک فوج جس کا مقصد وطن عزیز کی ارضی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے قیام پاکستان کے بعد تین جون 1947 ء کو برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پاک فوج بشمول پاک بحریہ اور پاک فضائیہ اس وقت دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔ عساکر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دنیا سے مخفی نہیں پاک فوج نے دس سال کے قلیل عرصہ میں دہشت گردی کے خلاف ستر ہزار قربانیاں دے کر نا صرف دنیا کے سامنے دلیل کے ساتھ وطن عزیز کو پر امن ملک کے طور پر منوایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان عالمی دنیا کے ساتھ کھڑا ہے لیکن امن کے دشمن ممالک تاحال اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان کے امن کو تباہ کر نے کے درپے ہے۔

Read more

لاک ڈاؤن کا خاتمہ اور امتحانات کی منسوخی

کالم لکھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تو جن خبروں نے اپنی جانب متوجہ کیا ان میں سب سے نمایاں لاک ڈاؤن ختم ہونے، مارکیٹیں کھلنے اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی اطلاعات تھیں۔ مزید یونیسیف کی رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات نے بھی اپنی جانب توجہ مبذول کروائی جس کے مطابق کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش میں ریکارڈ اضافہ ہوگا اور ان میں بھی سب سے زیادہ پاکستان اور بنگلہ دیش متاثر ہوں گے۔ یعنی دنیا بھر میں 116 ملین بچے پیدا ہوں گے، جنوبی ایشیا میں 29 ملین جبکہ مارچ سے دسمبر تک پاکستان میں پانچ ملین بچے پیدا ہوں گے۔

Read more

لب کشمیر پر مچلتی ہیں کچھ سلگتی کہانیاں

مقبوضہ کشمیر موجودہ دنیا کا وہ دیرینہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیری مزاحمت کاروں اور نہتے نوجوانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی ہندو انتہا پسند ریاست کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو توا کی پالیسیوں نے پوری خطے کو ایٹمی جنگ کے قریب تر کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو خود حق ارادیت دینے کے بجائے مودی انتہا پسند سرکار کی جانب سے آئینی حیثیت کو ختم، مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل اور جائیدادوں کو جبرا قبضہ کرکے یہود ی طرز پر آبادیاں بنانے کا شرمناک منصوبہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Read more

فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی پہلی اور آخری دفعہ گجرات آمد

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یونیورسٹی آف گجرات کے اس وقت کے علم دوست وائس چانسلر ڈاکٹر نظام الدین بھی ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطالعے، افکار اور جراتمندانہ اظہار سے بہت متاثر تھے اور

Read more

آئن سٹائن کی سب سے بڑی غلطی؟

ڈارک انرجی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن میں فی الوقت کونیاتی مستقل یا پھر صرف لیمبڈا ہی کہوں گا۔ کہتے ہیں آئن سٹائن نے اسے اپنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہا تھا۔

کچھ دن قبل مجھے ایک سوال ملا جو ڈارک انرجی یا کونیاتی مستقل کے متعلق تھا۔ یہ سوال بہت دلچسپ تھا جو مجھے ایک کہانی کی طرف لے جاتا ہے جس کے ساتھ آئن سٹائن کا محبت و نفرت کا تعلق رہا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جب آئن سٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت دیا تو اس نے اس کو اس نے ایک حقیقی کائنات پر لاگو کرنا چاہا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب پس منظری شعاعوں یا دوسری کہکشاؤں کے بارے میں اتنا نہیں معلوم تھا اور ظاہر ہے آئن سٹائن بھی اس سے بے خبر تھا۔

Read more

میرے والد صاحب اور ذیابیطس

مصنف: ڈاکٹر مظفر علی شاہ اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا : سفر میں آسانی اور خوراک کی افراط کی وجہ سے ذیابیطس کا مرض تمام دنیا میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اگر اپنی شوگر کو نارمل دائرے میں نہ رکھیں تو اس کی سنجیدہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا علاج اینڈوکرنالوجی کی پریکٹس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس مہینے نارمن اینڈوکرنالوجی کلینک میں ڈاکٹر مظفر علی شاہ روٹیشن کر رہے ہیں جنہوں نے ذیابیطس کی اردو زبان میں چھپنے والی کتاب کے لیے اپنے والد صاحب کی کہانی لکھی ہے۔ امید ہے کہ قارئین اس سے اہم معلومات اور سبق حاصل کریں گے۔

Read more

لوگوں کو کیسے جانچا جائے؟

”سوچنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے لوگ بنا سوچے ہی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔“ کارل یونگ۔

کچھ سال پہلے تک میں بھی یہی کرتا تھا، کسی کا لباس دیکھ کر رائے بنا لیتا تھا، کسی کا حلیہ دیکھ کر ذہن میں مفروضہ قائم کر لیتا تھا، کسی کی شکل پسند نہیں آتی تھی تو اس سے خدا واسطے کا بیر پال لیتا تھا، کسی کے بارے میں اڑتی ہوئی کوئی خبر سن لیتا تو اس کے پورے خاندان کی ریپوٹیشن کو اس سے جوڑ دیتا تھا، کسی کی کوئی بات میرے نظریات سے ٹکرا جاتی تھی تو اسے غیر محبت وطن سمجھ بیٹھتا تھا اور اگر کوئی بندہ میری ذات کو میرٹ پر بھی ہدف تنقید بناتا تھا تو میں اسے اپنا دشمن سمجھ لیتا تھا۔

Read more

بھارت، طالبان اور امریکی ثالثی

افغانستان کے حوالے سے نئی دہلی کی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دوحہ امن معاہدے پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ جے شنکر نے اس کو بالی ووڈ کی ایک مشہور فلم پاکیزہ کے ساتھ تشبیہ دی۔ لکھنؤ کے مسلم کلچر اور ایک طوائف کی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کی پروڈکشن پر ڈائریکٹر کمال امروہی کو 16 سال صرف کرنے پڑے۔ گو کہ فلم باکس آفس پر ہٹ ہوگئی، مگر اس کی ریلیز سے چند روز قبل ہی اس کی مرکزی اداکارہ مینا کماری چل بسی۔

Read more

اصل طرز زندگی

سوائے ایک آدھ دن کے جو محض سیاسی تھی کبھی طویل اسیری کا اتفاق نہیں ہوا لیکن کرونا کے سبب قید تنہائی کی کیفیت سے بھی آشنائی ہوئی۔ قید جیل کی ہو یا گھر کی انتہائی صبر آزما ہی ہوتی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے تو دونوں جگہوں پر ایک ہی طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تن بیتی کے سبب یہ احساس ہوا کہ وہ لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں جو طویل عرصہ تک اسیری کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ بھلا ہو حکومت کا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان نے تو گویا زندگی کے آنگن میں روشنی کی شمع جلا دی ورنہ خود تو گھر کی بیکار شے کا درجہ پا چکے تھے انجام کار جن سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔

Read more

ماں کی محبت کے لیے کوئی ایک دن مختص نہیں۔ ۔ ۔

ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ماں کی محبت، شفقت اور بے لوث پیار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

مجھے عالمی دنیا کی ماں کے لیے مختص کردہ صرف ایک دن سے اختلاف ہے۔ ماں کا پیار اور خدمت کے لیے پورا سال بھی ناکافی ہے۔ صرف ایک دن دکھاوے کے لیے ماں سے چمٹ کر تصاویر کھینچنے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے ماں سے پیار اور ہمدردی جتانے سے حقیقت نہیں بدل سکتی ہے۔

Read more

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔ اچانک سے یہ آواز میرے کانوں میں آٹکرائی۔ کچھ لمحات کے لیے میں بیچ بازار سوچ میں پڑگیا کہ آج حلیہ تو ایسا اچھا نہیں کہ کوئی مجھے بابو بلائے اور منہ بھی رومال میں لپٹا ہوا ہے تو پھر یہ کون غلط فہمی کا شکار ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی اور بار بار اصرار کیے جارہی تھی کہ وے بابو تیرے بچے جیون۔ اب محترمہ کو کون سمجھائے کہ وہ جس بابو کے بچے جینے کی دعا کیے جارہی ہے وہ تو ابھی خود بچہ ہے۔

خیر یہ تو تھی آج کی روداد لیکن عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مختلف جگہوں پر مانگنے والوں کے تکیہ کلام بھی مختلف ہوتے ہیں۔ آئیے مزید مختلف جگہوں کے مختلف تکیہ کلام ملاحظہ فرمائیے :

Read more

دستور نبھاؤں گا تو دستار گرے گی

دو چار روز قبل ہمارے محلے کے آخری بزرگ بھی آخرت سدھار گئے۔ بزرگ رحمت ہوتے ہیں یہ بات ہم نے سن رکھی ہے لیکن عملاً دیکھ لیں تو کیا ہی بات ہوگی۔ مجھے یاد ہے یہ سب بزرگ شام کے وقت مسجد کے باہر سیمنٹ کی بنی چھوٹی سی دیوار پر بیٹھتے تھے۔ مسجد کے دروازے کے بالکل سامنے دیوار پر، عصا پاس رکھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے۔ بڑا سا رومال گود میں رکھے، ٹوپی کو گھٹنے سے لٹکائے۔ دو سامنے کی طرف گھاس پر چوکڑی مارے، انہوں نے عصا قریب لٹا رکھے ہوتے تھے۔

ایک دو اور لوگ ان سے چھوٹی عمر کے لیکن محفل کے جز لازم۔ ہر روز، پھر ان کی محفل جمتی اور آپس میں بھی خوب جمتی تھی۔ گفتگو کا آغاز کسی سیاسی بات سے ہوتے ہوئے مذہب، سماج، خاندان کے مدار میں گھومتے ہوئے ذات پر مکمل ہوتا۔ سیاست کے بازار کا ذکر چھڑتا اور پھر پانچ چھ بوڑھے اپنی پسند، سوچ، فکر، نظر کے مطابق اس گفتگو میں حصہ لیتے۔ کوئی بے نظیر کی نظیر ڈھونڈتے کہتا کون ہے اس جیسا، واحد لیڈر ہے جو خدا کی عطا کردہ ہے تو دوسرا بزرگ ضیا الحق صاحب کو جناح کیپ پہنا رہا ہوتا اصل انعام تو وہ ہے۔ کوئی میاں صاحب کے والد صاحب کو خدا کی رحمت گردانتا تو کوئی بھٹو کے دور میں جا کھڑا ہوتا۔ کوئی مشرف صاحب کے گن گاتا اور کوئی سب کو حرف غلط قرار دے دیتا۔

Read more

ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئی

شیکسپیئر کا ایک خیال بہت مشہور ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اس کا فن کار، ہم میں سے ہر ایک یہاں اپنا کردار ادا کرنے آتا ہے اور ادا کرکے چلا جاتا ہے۔

آپ کو ایک بات بتاؤں! آپ نے کوئٹہ دیکھا ہے؟ کچلاک کی جانب بھی گئے ہوں گے۔ ائرپورٹ روڈ کی پاگل بڑھیا اب بھی یہاں کے لوگوں کو یاد پڑتی ہے۔ جس کے دائیں ہاتھ میں ایک موٹی سے لاٹھی اور بائیں کندھے سے ایک بورا جھولتا تھا۔ سڑک کنارے کاغذ اور کولڈ ڈرنکس کے پلاسٹک کی بوتلیں اور ٹین کے خالی پیک چنتے اسے ہر گزرنے والا دیکھتا تھا۔ لاٹھی ٹیکنے اور سہارا لینے کے کام آتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں ہوتیں تو دونوں ہاتھوں میں تھامے فضا میں گھماتی چلتیں۔

Read more

کرونا وبا سے قبل عمرے کا سفر سعادت

مدینہ منورہ کے پرنس محمد بن عبد العزیز انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی ہوائی سفر کی ساری کلفت زائل ہو گئی۔ محض چند گھنٹوں میں پاکستان سے مدینہ منورہ پہنچ جانا یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔ خیال آیا کہ گزرے وقتوں میں زائرین اونٹوں کے ذریعے کئی کئی ماہ پر محیط طویل سفر طے کرنے کے بعد دیار حجاز پہنچا کرتے تھے۔ سنتے ہیں کہ خود پاکستان میں حج، عمرہ زائرین کے لئے باقاعدہ بسیں چلا

Read more

منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔

Read more

منٹو زندہ باد

”میں اس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے سے ہی ننگی ہے۔ میں کالی تختی پر سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ کالی تختی اور نمایاں ہو جائے“ ۔

یہ مشہور الفاظ عظیم افسانہ نگار اور لکھاری سعادت حسن منٹو کے ہیں۔ جو 11 مئی 1912 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پاپروڈی میں پیدا ہوا تو کسے معلوم تھا کہ ایک مسلم کشمیری جج کے گھر میں پیدا ہونے والا یہ سعادت حسن بڑا ہو کر اپنی صدی کا ایک عظیم افسانہ نگار ”منٹو“ بنے گا۔ اور اپنے افسانوں اور کہانیوں سے اپنے ارد گرد پائے جانے والی سماجی برائیوں کا پردہ ایسے چاک کرے گا جس سے اس منافق سماج کی چیخیں نکل جائیں گی۔

Read more

افضال نوید۔ ۔ ۔ ایک صاحب دیوان، دانا اور دیوانہ شاعر

کیا آپ کبھی کسی ایسے شاعر سے ملے ہیں جو صاحب دیوان بھی ہو، دانا بھی ہو اور دیوانہ بھی؟ میں اپنی زندگی میں تین ایسے شعرا سے مل چکا ہوں۔

پہلے صاحب دیوان، دانا اور دیوانہ شاعر منیر نیازی تھے۔ میں لاہور میں ان کے گھر ان سے ملنے گیا تو وہ ایک عالم بے خودی میں مسلسل ایک گھنٹہ گفتگو کرتے رہے۔ وہ گفتگو مونولاگ زیادہ اور ڈائلاگ کم تھی۔ گھر آ کر میں نے ان کا مونولاگ لکھ لیا جو نہایت دلچسپ اور معنی خیز تھا۔ اس مونولاگ میں ان کی دانائی اور دیوانگی دونوں عیاں تھے۔ اسی لیے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے اپنا یہ شعر سنایا

Read more

بچوں کو ہنسنے مت دیں

ایک خاتون جو کہ افریقہ سے آئیں تھیں انہوں نے اپنے تین سالہ بچے کا داخلہ شہر کے بہترین اسکول میں کروایا ایک ہفتے کے بعد اس بچے نے اسکول جانے سے منع کردیا جب وجہ معلوم کی گئی تو اس بچے نے کہا ”یہاں سب بچے ایک دوسرے پر ہنستے ہیں او ر آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں جب کوئی بچہ گر جاتا ہے تو اسے مل کر اٹھاتے نہیں ہیں بلکہ سب مل کر ہنستے

Read more

تجسس امید دیتا ہے اور پھر ناامید کر دیتا ہے

مجھے اول نشست پر بیٹھنے کا تجسس تھا، ممکن ہے مجھے یہ گمان تھا کہ پہلی نشست میں بیٹھنے والا ہی اساتذہ کے فہم کے مطابق لائق و قابل شاگرد ہوتا ہے۔ سو جونہی گھر اس بات کا علم ہوا تو پرنسپل نے اگلی ہی صبح مجھے پہلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ ہمارا اسکول اسلامی تھا اس لیے ہم چار بہن بھائی ہی وہاں کرسچن تھے اسی لئے پرنسپل صاحب کسی فرمائش کو رد کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن پہلی نشست پر بیٹھتے ہی وہ تجسس ختم ہوا اور مجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہونے لگا اور جیسے تیسے میں پھر اپنے دوستوں کے ساتھ آخری رو میں معمول کے مطابق بیٹھنے لگ گیا۔

Read more

جھولے لال تے بیڑے پار

جب سے کورونا کی وبا آئی ہے دنیا کا نظام ہی بدل گیا ہے، چاند، ستاروں کو پر کمند ڈالوں کو اللہ تعالی نے بتا دیا کہ تم کچھ بھی نہیں ہو، جتنی بھی ترقی کرلو، جتنے بھی عقل مند بن جاؤ تم صرف ایک وائرس کی مار ہو، تم ایک وائرس کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

کسی سے یہ واقعہ سنا تھا کہ ایک علاقے میں بیماری آ گئی اور لوگ مرنے لگے، روزانہ درجنوں لوگ مر جاتے تھے، تمام معالجین کے نسخے ناکام ہوگئے، لوگ پریشان تھے، ایک دن وہ سب ایک معروف حکیم کے پاس کے گئے کہ جناب آپ تو اتنے قابل حکیم ہیں کیا وجہ ہے کہ آپ اس بیماری کا علاج نہیں ڈھونڈ سکے۔

Read more

کورونا کے سامنے دیوار بنے اہل دل

انسانوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسانوں کی مدد کے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے لیکن دین اسلام نے خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اور عظیم عبادت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یکساں صلاحیتوں اور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ ان کے درمیان فرق و تفاوت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کائنات رنگ و بو کا حسن و جما ل ہے۔ وہ

Read more

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں نہ بولوں کیونکہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور لوگوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور جب کسی کی دل آزاری ہو تو وہ رد عمل کے طور پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ بات تو بالکل سچ ہے، کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کی حساسیت کو ٹھیس نہ پہنچے میں کسی بھی مذہبی معاملے میں بولنے سے پہلے سو دفعہ سوچتی ہوں اور اب تو اتنا سوچتی ہوں کہ بس سوچتی ہی رہ جاتی ہوں اور کچھ بولتی نہیں۔ لیکن جب مجھے یہ احساس ہوا کہ میرا مذہب تو مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگا رہا، وہ تو مجھے سوچنے، سوال کرنے، رائے قائم کرنے اور پھر اس پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے یہ مجھ پر پابندی تو میرے ارد گرد کے لوگ لگاتے ہیں۔

Read more

شاہ فیصل سے ارطغرل تک، پاکستانیوں کے بدلتے تیور

عجیب اتفاق ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے بچپن میں لگائے ہوئے تاریخ کے رٹے سخت مشکلات کی زد میں ہیں اور محمد بن قاسم سمیت ہمارے کئی فیورٹ کردار تنقید کی زد میں ہیں، وطن عزیز میں چپکے چپکے ایک نیا تاریخی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، امن پسند قائداعظم کے پاکستانیوں کو یک لخت جنگجو ترک قبائلی سردار ارطغرل میں اپنا نیا ہیرو نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول

Read more

امداد وصول کرنے والے چند ناشکرے اور چند اچھے لوگوں کی باتیں

پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ادارے ”رہائی فاؤنڈیشن“ کی بانی فرح ہاشمی سے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شاہدرہ لاہور کے علاقے میں مستحق افراد تک راشن تقسیم کرنے کے دوران ایک سروے کا پلان بنایا۔

انہوں نے اپنے ساتھ چھ سات لڑکوں کی ٹیم تیار کی، اور جب وہ ایک گلی میں راشن پیکٹ کی تقسیم مکمل کر کے دوسری طرف گئیں تو وہ لڑکے بھی بائیک پر سامان رکھے ان تک پہنچے اور ان سے پوچھا کہ کوئی آپ کے پاس آیا تو چھ سات گھرانوں نے ایک ہی جواب دیا کہ ”ساڈے کول کوئی وی نہیں آیا، سانوں کسی نے پچھیا ای نہیں“ (ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، ہمیں کسی نے نہیں پوچھا)۔ اس جواب نے فرح ہاشمی کو افسردہ کر دیا، انہوں نے کہا کہ جس قوم کے افراد میں ناشکرا پن شامل ہو جائے وہ قومی سطح پر ہر معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

Read more

بھارتی زرتشتی کراکا اور علی علیہ السلام

گزشتہ روز عفت رضوی کو سوشل میڈیا پر ڈاکٹر علی شریعتی کی ”ہاں دوست ایسا ہی تھا“ کتاب بھیجی تو جواب میں بھی ایک کتاب ہی عنایت کی گئی۔ بھارتی مشہور صحافی اور مصنف ڈی ایف کراکا کی سوانح عمری سے ایک کتاب ترتیب دی گئی ہے نام رکھا گیا ہے ”پھر علیؑ آئے“ کراکا آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور عقیدے میں پارسی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی (پارسی زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ عربوں نے ایران فتح کیا تو ان میں سے کچھ مسلمان ہو گئے، کچھ نے جزیہ دینا قبول کیا اور کچھ (آٹھویں، دسویں صدی عیسوی) ترک وطن کرکے ہندوستان آ گئے )

Read more

آج ہمارا دن ہے!

دل میں کوئی چٹکی بھرتا ہے، کیا واقعی تمہارا دن ہے؟ تمہارا کیا کمال؟ یہ سہرا تو کسی اور کے سر سجتا ہے جس نے تمہیں اس سنگھاسن پہ لا بٹھایا۔ احسان اس ننھی پری کا جو پچیس برس قبل بنا کسی چاہت، خواہش اور تگ و دو کے ہمارے بطن میں آ ٹھہری۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم گردن تانے، انبساط کے عالم میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا دن ہے! انصاف کا تقاضا تو یہ ہے

Read more

میرا گاؤں: پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے

کوئی پانچ سال ہوتے ہیں جب آخری دفعہ گاؤں گیا تھا۔ چند دن پہلے خالو کی وفات کراچی میں ہوئی لیکن خاکی جسم کی امانت آبائی گاؤں کی مٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ وہیں باہر سے تعزیت کے لئے آنے والے ایک دوست نے پوچھا کہ آپ بھی اسی گاؤں میں رہتے رہے ہیں؟ کیا بتاتے کہ گاؤں کا کون سا کونا کھدرا ایسا ہے جہاں جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں ہم نہیں پھرے۔ ہماری آبائی زمینوں

Read more

ماں: ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں

ڈاکٹر ضیا الدین ہسپتال ناظم آباد کے کمرہ نمبر 310 میں آپ کی سانسوں کے زیروبم کو دیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ آپ ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں گی، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ ہم آپ کو تقریباً ادھ موئی حالت میں ہسپتال لے کر گئے اور چند گھنٹے کے بعد آپ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھول لیں اور اپنے مسیحا کی طرف دیکھا اور کہا ”بیٹی میں ٹھیک ہوں۔ یہ میری منجھلی بیٹی ہے۔“ لیکن اس بار ایسا لگتا تھا کہ آپ نے آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھائی تھی۔

Read more

بے جی (مدر ڈے کے موقع پر)۔

عام مشاہدے میں ہے کہ اکثر ساس بہو کی نوک جھونک لگی رہتی ہے۔ یہ سرد جنگ ازل سے ہے اور شاید ابد تک جاری رہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عورت کو اکثر عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے۔ آنکھ کھولتی ہے تو اس کی محبتوں اور شفقتوں کا محور اس کا باپ ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس کی شادی ہو جاتی ہے، وہی لڑکی اپنے خاوند اور گھر کو کل کائنات کا درجہ دیتی ہے، اپنے خاوند سے توقع رکھتی ہے کہ وہ ہر حال میں اس کی عزت کا خیال رکھے گا اسے گھر میں ایک ملکہ کا درجہ دے گا۔

Read more

ماں جیسی کو بھی ماں کا دن مبارک

آج ماؤں کے عالمی دن پر جہاں میں اپنی والدہ کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نہ صرف میری تعلیم اور تربیت میں ایک اہم کردار ادا کیا بلکہ مجھے ایک اچھا انسان بنانے میں بھی میری مدد کی۔ وہیں مجھے ان تمام دیگر خواتین کا خیال بھی آیا جو کہ زندگی کے مختلف ادوار میں میری رہنمائی ایک ماں کی طرح ہی کرتیں رہیں اور میں ان کو ماں جیسا قابل احترام ہی سمجھتی ہوں۔ لیکن آج سے پہلے مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے ان کو بھی مدرز ڈے پر وش کرنا چاہیے۔

Read more

ماں کا دن بمقابلہ ماں کی دین

کچھ موضوعات پر بات کرنا یا لکھنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ میرے لیے یا تو ان شخصیات، لوگوں اور موضوعات کے حوالے سے بات کرنا کٹھن ہوتا ہے، جن کے بارے میں میری معلومات بالکل کم ہوں، یا پھر ان کے بارے میں، جن کو آپ بہت زیادہ جانتے ہوں، یا جو دل کے بہت قریب ہوں۔ دوسرے قسم کے موضوعات کے حوالے سے یہی فیصلہ کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے کہ بات شروع کہاں سے کی جائے۔

اور جب دل کے قریب رہنے والی ہستیوں میں سے سب سے ممتاز کردار پر لکھنے کی بات ہو، جو اس دنیا میں ہمارے ظاہری وجود برپا کرنے کی وجہ بنی ہے، تب تو تحریر و تقریر کے تمام تر گر، دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اور اپنی ہر تحریر پھیکی محسوس ہوتی ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ ”ماں“ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر میکسم گورکی کی طرح کوئی فصاحت و بلاغت، فن اور ہنر کے دریا بہا دے، مگر پھر بھی قلمکار کو لگے گا کہ وہ اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا۔ اور اس مضمون کا حق بھی یہی ہے کہ حق ادا نہ ہو۔

Read more

ماں کے بعد

انسان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ منظر، میرے نزدیک، اپنی مرحومہ والدہ کی وہ الوداعی زیارت ہے جو اس عزیز از جان ہستی کو لحد میں اتارنے سے ذرا پہلے کی جائے، کیا قیامت خیز لمحہ ہوتا ہے اور کیسا غمناک منظر۔ نہ نظر ہٹتی ہے، نہ دیکھا جاتا ہے۔ میرے اوپر یہ قیامت ابھی چند دن پہلے ہی گزری ہے اور زندگی نچوڑ کر لے گئی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے کسی ویران اور خوفناک جزیرے میں ہوں اور ساحل پہ کھڑی اکیلی کشتی موجوں کی نظر ہو گئی ہے۔ یا جیسے کسی تپتے جلتے صحرا میں میرے سر پے کھڑا ٹھنڈی چھاؤں والا تنہا درخت یکلخت ٹوٹ کر گر پڑا ہے۔ اب مجسم غم ہوں، یوں کہ سانس بھی چل رہی ہے، زندگی بھی نہیں ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ہے، سب کچھ ڈھے جا رہا ہے، مسلسل کچھ گرے جا رہا ہے :

Read more

میری ماں کا ایک عوامی فیصلہ

بی ڈی ممبرز کے چناؤ کا دن تھا۔ ملک میں عوامی سطح پر چونکہ پہلی سیاسی سر گرمی تھی اس لئے ہر جانب اک نئی ہی گہما گہمی دکھائی دیتی تھی۔ میرے اباجی بھابھڑہ کی چیئر مینی کے امیدوار تھے ان کے مقابلے میں ان کے چچا زاد بھائی کھڑے تھے۔ جس کی وجہ سے خاندانی اور علاقائی دھڑے بندیاں زوروں پر تھیں۔ گاؤں والے ابا جی کے پورے جانثار تھے اور ان کے ایک اشارہ ء ابرو پر جانثاری ان کے روایت تھی۔ چنانچہ انتخابات کے دن علی الصبح گاؤں میں عید کا سماں تھا۔ لوگ جوق در جوق نئے کپڑے پہنے، کنگھی پٹی کیے ہماری حویلی میں جمع تھے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے بزرگ سبھی اپنے میاں جی کی خاطر عجب جوش سے بھرے تھے۔

Read more

ماں عظیم ہے

گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا کہ دکھ عورت ہے وہ عورت ہی تھی جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا اور وہ بھی عورت تھی جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا اور حالتِ مرگ میں اسے دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق

Read more

ماؤں کا عالمی دن: ’آپ نے تب بھروسہ کیا جب کوئی بھی نہیں کرتا تھا‘

پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آج ماؤں کا عاملی دن منایا جارہا ہے۔ خلوص، شفقت، پیار اور صبر سے سرشار ماں کے اس رشتے کو لوگ خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد ماں کے مقدس ترین رشتے کی عظمت و اہمیت کو اُجاگر کرنا اور ماں کے لیے احترام اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر سال کی طرح لوگ دو طبقوں میں تقسیم نظرآتے ہیں، ایک

Read more

ڈاکٹر کی ڈائری۔ زندگی اور رشتے ناتے

زندگی کی رہ گزر جتنی طویل ہوتی ہے، تجربات، حالات واقعات، کی تعداد بھی اسی حساب سے ہوتی ہے۔

بہت کم لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو طویل عمر پائیں اور معمول کی رفتار سے زندگی کو گزار لیں، ورنہ عام طور پر لوگوں کی زندگی تغیر سے بھرپور ہوتی ہے، مدوجزر کے درمیان، یہ تغیر پرسکون اور خوشگوار حیرتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی تکلیفوں، ذہنی الجھنوں اور جذباتی صدموں سے بھرپور ہوتے ہیں۔

Read more

ماں تیری عظمت کو سلام

ماں سے محبت کے اظہار کے لئے ایک دن مختص کرنا مناسب نہیں میرے لئے ہر دن ماں کا دن ہے۔ رب کائنات نے زمین پر ماں جیسی عظیم ہستی کو اتارا جو اللٰہ تعالٰی کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والی ذات ہے۔

ماں نام ہے ایک عظیم ہستی کا، ماں نام ہے ایک بے لوث رشتے کا، ہر غرض، لالچ سے بالاتر۔ ماں لفظ بہت پیارا اور خوب صورت اور اپنائیت سے بھر پور ہوتا ہے۔ ماں کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو زیادہ ہوتا ہے جن کی ماں بچھڑ جاتی ہے کیونکہ اللٰہ کو بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمر کا کوئی بھی حصہ ہو ماں کی کمی محسوس ہوتی ہے یہ وہ انمول رشتہ ہے جس سے آپ اپنے دل کی ہر بات بلا جھجک کر سکتے ہیں، جس کی آواز سن کر دل کو سکون مل جاتا ہے جس کو جپھی ڈال کر ساری دنیا کے غم بھول جاتے ہیں۔

Read more

انسانی رویوں کے مختلف پہلو۔ ۔ ۔

آپ میں سے بیشتر افراد نے اپنے ارد گرد ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جو بڑی بے دردی اور بہت آسانی سے دوسرے انسانوں، ان کے احساسات، جذبات اور ان کی پسندیدہ اشیا کو رد کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ بظاہر کوئی چیز انہیں پسند نہیں آتی۔ کوئی انسان ان کے خود ساختہ معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ کوئی جذبہ انہیں خالص نہیں لگتا اور کوئی یقین دہانی انہیں مطمئن نہیں کر پاتی۔ وہ نہ کسی کو کھل کر سراہتے ہیں نہ کسی کی خوبی کا اعتراف کرتے ہیں۔ نہ کسی پر اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو جلد اپنا رازدار بناتے ہیں۔

Read more

احمد فراز سے شبلی فراز تک

احمد فراز کے صاحب زادے شبلی فراز جب عمران خاں کی جماعت میں شامل ہوئے تھے تو اسی وقت ہم حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ فراز کا بیٹا اور اس جماعت میں جس کے مشیر اعلیٰ جنرل ضیاالحق کے ایک قریبی ساتھی لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمن تھے۔ وہی جو نفسیاتی جنگ کے ماہر مانے جاتے تھے اور جو اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے حوالے سے ضیاالحق کے مشیر خاص تھے؟ ان دنوں ملتان میں ہمارے

Read more

امی کے انتقال پر ابو (انور مسعود) کے نام خط۔ ۔ ۔

پیارے ابو

لاکھ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے وہ بات نہیں ہو رہی جو آپ سے کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کے پاس گھنٹوں گزارتی ہوں۔ مگر زباں پر رکھے الفاظ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ امی میری اس عادت سے واقف تھیں کہ جب محبت، خوشی یا لاڈ کا اظہار کرنا ہوتا تو میں ہمیشہ کھل کر کرتی تھی۔ ہنستی، مسکراتی سارے گھر میں قہقہے لگاتی اورسارے گھر کو سر پر اٹھا لیا کرتی تھی۔ امی کا کہنا یہ بھی درست تھا کہ مشکل وقت میں لینہ بہت ہمت سے کام لیتی ہے۔ امی کی وفات پر بھی ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی مجھے ڈاکٹر نے امی کے انتقال کی خبر دی تو کچھ دیر میں اس کو تکتی رہی کہ ابھی وہ اپنی بات کی تردید کر دے گا۔ لیکن کانوں میں پڑتی بین کرتی آوازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ خبر سچ ہے۔

Read more

ممتاز مفتی کی ”تلاش“۔

جو صاحب علم ہیں ان سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ اگر بندے سے کوئی حماقت ہوگئی بلکہ کئی ہوں گی تو درگزر کیجیے گا۔ کیوں کہ یہ بڑا ثواب کا کام ہے اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہوئی جو کہ لازمی ہوگی تو وہ بھی کر دیجئے گا۔

ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی نے اس کتاب تلاش کا دیباچہ ممتاز مفتی کی یاد میں کے عنوان سے لکھا ہے۔ جس میں وہ اپنے والد کی کچھ قابل اعتراض باتوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ ان سے مجذوبانہ کیفیت میں لکھی گئی ہیں۔ کیوں کہ ہوش و حواس میں وہ باتیں کر گزرنا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ممتاز مفتی اپنی کتاب لبیک جو ایک طرح کا سفر نامہ حج ہے میں خانہ کعبہ کو کالا کوٹھا لکھ دیتے ہیں۔

Read more

ارطغرل غازی ڈرامہ اور کچھ غلط فہمیاں

کچھ دیر قبل پاکستان کے ایک معروف اور سینیئر صحافی کا یو ٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھا جس میں وہ ترکی کے ایک غیر معمولی ڈرامے ارطغرل غازی کے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے پرسخت نالاں دکھائے دیے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ گفتگو بنی جو پاکستان کے معروف فلمی ہیرو کی ایک انگریزی اخبار میں چھپی جس کا ماخذ ان کے کچھ ٹویٹس تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ارطغرل سے یہ دونوں شخصیات سخت نالاں ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ کو دکھانے کی بجائے مقامی ڈرامہ انڈسٹری کو مضبوط کیا جائے۔

Read more

منصب سازی میں کے زعم میں مبتلا بھکاری قوم

دل درد سے معمور ہے۔ رات کے پچھلے پہر طالب علم کاذہن جب یہ الفاظ اگل رہا ہے تو انتشار فکری کے باوجود اس بات پر مرکوز ہے کہ دنیا بھر کے وسائل سے نواز دی گئی یہ قوم عقل سے کام کیوں نہیں لیتی؟ کہتے ہیں خالق جب کسی سے کوئی چیز چھیننا چاہے تو عقل چھین لیتا ہے۔ بے نیازخالق کا آئین اٹل ہے۔ کوئی ترمیم اس میں ممکن نہیں کہ الیوم اکملت لکم کا فل سٹاپ لگا دیا گیاہے۔ خالق کے اس آئین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ علم اور جدوجہد کرنے والا فرد ہو یا قوم اس کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتا۔

Read more

روزے: گر قبول افتد۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ سطریں آپ کی نظروں کا التفات پاتی ہیں تو رمضان اپنا نصف سفر مکمل کرچکنے کو ہے۔ ایک اور رمضان بیت جانے کو ہے اور میں اپنا گریبان کھولے اندر جھانکتا ہوں۔ یہ سینہ کبھی بے بال تھا، پھر اس کے مساموں سے بال پھوٹے اور اب تو ان بالوں کو وقت کی دھوپ سہتے اتنی مدت ہوگئی کہ ان میں سے اکثر کا رنگ زائل ہوکر سفید پڑگیا ہے مگر اس ڈھیر سارے دورانیے میں آنے والے اتنے سارے رمضان ہائے کی وہ قدر مجھ سے نہ ہوسکی جو ان کا حق تھا۔

Read more

سلطان مدد، ایک سچا مخلص اور وفادار کارکن اور نواز شریف کا سلوک

وہ تقریر نہیں جانتا تھا مگر جیسے ہی وہ سٹیج پر آتا مجموع ہمہ تن گوش اس کو دیکھتا اور اس کے سادہ اور آسان جملوں کو نہ صرف سنتا بلکہ یقین بھی کرتا کہ کہنے والا سچا ہے۔ اس کو بات سے بات نکالنے یا بات کا بتنگڑ بنانے کا فن نہیں آتا تھا مگر سیدھی سچی بات کہنے کو کسی فن یا فنکاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سلطان مدد ایک عام آدمی تھا جس کو سکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ بچپن اور جوانی بکریاں چراتے گزری۔ اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب وہ پہاڑوں پر اپنی بانسری پر جب سماں باندھتا تھا توایسا محسوس ہوتا تھا کہ برفانی جھیلوں کی پریاں بھی اس کے لگائے سر سے سرشار ہورہی ہوں۔

Read more

جو بائیڈن پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے بہتر صدر ثابت ہوں گے

دنیا بھر کی طرح امریکہ اور پاکستان میں بھی ماہ اپریل کے دوران کرونا کی عالمی وبا کی خبریں ذرائع ابلاغ پر چھائی رہی ہیں اور اسی ماہ کے دوران جو بائیڈن امریکی صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوارکے طورپر سامنے آئے ہیں جو دوبارہ صدارتی انتخاب کے لئے کوشاں ری پبلکن امیدو اور موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا مقابلہ کریں گے۔ پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل کے حوالہ سے ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلہ میں بائیڈن کے صدر بننے پر کیسا ہوگا اس پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ صدر ٹرمپ کی جاری مدت کے دوران یہ تعلقات کیسے رہے ہیں اور ان کی دوسری مدت میں ان تعلقات پر کیا ممکنہ پیش رفت ہوسکتی ہے۔

Read more

ماضی کی گرہ

میں نے آج پھر غصہ میں فیکے کو بہت کچھ سنا دیا وہ چپ چاپ بیچارا سنتا رہا جب برداشت ختم ہوئی تو روتا ہوا چلا گیا۔ وہ بہت حساس تھا۔ بابا جی نے مجھے غصہ کرتے دیکھ لیا۔ چپ چاپ آ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ان کی خاموشی سے میں ڈرتا تھا مگر سوال کی ہمت نہ تھی سو خاموشی سے جا کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے پتر کتنی بار کہا ہے اتنا غصہ نہ کیا کر۔

Read more

مجھ ایسے بدعقیدہ نے اعتکاف میں کیا کیا دیکھا

یونیورسٹی سے بھی مکمل فراغت تھی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے قیمتی بنانے اور آخری عشرہ میں اللہ پاک کی رحمتوں اور برکتوں کو وافر مقدار میں سمیٹنے کے لیے۔ ہم نے رمضان کریم میں اپنے آبائی گاؤں والی مسجد میں اعتکاف کرنے کا ارادہ کیا۔ گاؤں میں کیونکہ سب ایک دوسرے کو جانتے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کچھ اور ہو نہ ہو سارا گاؤں شام کو نیم کے درخت کے نیچے ایک دوسرے کی چغلیاں کرنے تو ضرور جمع ہوتا ہے۔ شہر والوں کو کاروبار دنیا سے فرصت ملے تو وہ اس کو سمجھ سکیں۔

Read more

محمد بن قاسم یا راجا داہر : ہیرو کون

پچھلے کچھ دنوں سے محمد بن قاسم اور راجا داہر کے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اک طبقہ ہے جس کا ماننا ہے کہ محمد بن قاسم بیرونی حملہ آور تھا اور اس کے آنے سے قبل اسلام ہندوستان میں پہنچ چکا تھا۔ جبکہ ہمارا مطالعہ پاکستان کہتا ہے کہ محمد بن قاسم 712 ء میں اک مظلوم لڑکی کی فریاد پہ اس راجا داہر جیسے ڈاکو سے چھڑانے سندھ میں وارد ہوئے۔ ان کی عمر تب سترہ سال تھی وہ ہندوستان میں اسلام لائے۔

کچھ لوگ گڑے مردے اکھاڑے جانے پہ شکوہ کناں ہیں کہ یہ لاحاصل بحث ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔

Read more

مونا عالم، طارق پیرزادہ اور بھارتی ٹاک شو

اس ملک میں پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے والوں پر اکثر و بیشتر فتوے لگتے رہے اور انہیں غدار جیسے القابات سے بھی نوازا جاتا رہا۔ ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن، امن کی آشا سمیت کئی ایسے پروگرام اور کئی لوگ پاک بھارت تعلقات بہتری کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف عمل رہے۔ بھارت سے پاکستان کے دوروں پر آئے لوگ چاہے ان کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہو یا کرکٹ کے میدان یا دوسرے زندگی کے شعبہ ہائے جات سے، پاکستان سے ملنے والے پیار اور عزت پر پاکستانیوں کے گن گاتے نظر آئے۔

Read more

میرے بیٹے کے برطانیہ سے آنے کے بعد ہم پر کیا گزری؟

گزشتہ دسمبر میں چین سے یہ وبا پھوٹی ان دنوں ہم اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ خبر کو بس خبر کی طرح سنا اور آگے چل دیے۔ جنوری کے آخر تک حالات بہت بہتر تھے۔ میرا چھوٹا بیٹا جو لندن کی معروف یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھا جنوری میں بہن کی شادی میں شرکت کرنے کو آیا تھا اورآخر میں وہ اپنی بقیہ کلاسز اور سالانہ امتحان کے لیے واپس چلا گیا۔

Read more

انور مسعود نے سونا نہیں، ہیرا سپرد خاک کیا ہے

میں نہیں جانتی تھی لینا حاشر صدیقہ آپا کی صاحبزادی ہیں اور حاشر ارشاد ان کے بھانجے اور داماد۔ نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کے کتاب میلے میں ہم لاہور سے کچھ ادیب لوگ بھی شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میلے کے دوسرے دن شام کو نیلم احمد بشیر نے کہا ”بھئی رات کو لینا سے ملنے چلنا ہے۔ وہ بہت اصرار سے بلا رہی ہے۔“ کافی پلینٹ کے نام سے جانا جاتا ان کا گھر اور کیفے ادیبوں،

Read more

کالا دپٹہ سرخ شلوار

جس دن میری موت ہوئی موسم بہت اچھا تھا۔ آسمان سرمئی بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ باغوں میں پھول کھلے تھے۔ فضا معطر تھی۔ گلیوں اور بازاروں میں چہل پہل تھی۔ زندگی رواں دواں تھی۔ اچانک موت کا بھیانک چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ میں مرنا نہیں چاہتی تھی اور اس دن تو بالکل بھی نہیں۔ کون مرنا چاہتا ہے؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ جہان آب و گل ہمارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ سب بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ دوسروں کومرتا دیکھ کر چند لمحوں کے لئے افسردہ ہوتے ہیں، پھر دوبارہ اپنے معمولات میں اس طرح گم ہوتے ہیں کہ موت کا تصور ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے موت ایک چالاک شکاری کی طرح ان کا پیچھا کرتی ہے۔ جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ اچانک اپنا وار کرتی ہے اور مرنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔

Read more

مولانا طارق جمیل اور داعی کی نفسیات

داعی کے لغوی معنی ہیں دعوت دینے والا یا بلانے والا۔ یہ دعوت یا بلاوا، اپنے نظریے کی طرف بھی ہو سکتے ہیں، مسلک کی طرف بھی، اور مذہب کی طرف بھی۔ داعی کو اپنے نقطہ نظر، طریق یا غلبے کا لالچ ہوتا ہے۔ احمد فرہاد صاحب نے اپنی کتاب، دوسروں پر چھا جائیں، کے دیباچے میں اس سے ملتی جلتی ایک بات لکھی ہے کہ داعی کی نفسیات ایک سیلزمین کی طرح کی ہوتی ہے، وہ اتفاق اور قائل

Read more

احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ

تیس مارچ کو آن لائن احفاظ کی بلڈ رپورٹ دیکھی تو خون میں PLATELETS کی تعداد بہت کم تھی۔ ان کے ڈاکٹر کو واٹس ایپ پر مطلع کیا تو جواب آیا کہ فوری طور پر آغا خان کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جائیں۔ میں اور فیفے ان کے میل نرس سنیل اور ڈرائیور اللہ دتا کی مدد سے انہیں کار میں بٹھا کے اسپتال کی طرف دوڑے۔ شہر میں لاک ڈاؤن تھا۔ ایک دو جگہ روکا بھی گیا مگر اسپتال

Read more

یہ شخص کب تک یوں اُداس رکھے گا!

جب جب اِس کی تصویریں نظروں سے گُزرتی ہیں اِس کے جانے کا غم غیر ارادی طور پر گھیر لیتا ہے یہ کیسی چاہت ہے کہ جس کا احساس کسی کے جانے کے بعد ہو پتہ لگے کے اُس کے ساتھ تو تعلق ہی بڑا شدید تھا ایسا رشتہ تھا جو لمبی سی ڈور سے بڑی مضبوطی سے دونوں طرف بندھا تھا اب جو ایک سرے سے ٹوٹا ہے تو سمجھ نہیں آ رہی دوسرا سرا جو ہمارے ہاتھ میں

Read more

شیشے کے اس پار

ہمارا اور ان کا گھر ساتھ ملے ہوئے تھے پتھر کی ایک دیوار دونوں گھروں کے صحن کو تقسیم کرتی تھی اتنی بلند کہ دونوں اطراف کے بچے اور اکثر بستی کے سب بچے اس پر سے کودتے پھلانگتے رہتے تھے۔ برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھی دادی کی تنبیہ کے باوجود بھی باز نہیں آتے تھے۔ حالانکہ ہر چھلانگ کے ساتھ دادی کی دھمکی سنائی دے جاتی تھی کہ آ لینے دو تمہارے باپ کو میں آج تو ضرور

Read more

مائی مدرز ڈے

گزشتہ چار پانچ روز سے مجھے دنیا ایک بار پھر سے بے رونق اور پھیکی محسوس ہو رہی ہے۔ جیسے ٹھیک گیارہ برس پہلے نومبر کے مہینے میں ساری روشنیاں ایک دم بجھ سی گئی تھیں۔ اور باوجود کوشش کے کافی مہینے میں اس کرب سے نہ نکل پائی تھی۔ گیارہ برس کے بعد اچانک ایسا محسوس ہونے کی وجہ ہمارے ملک کے مشہورشاعر انور مسعود صاحب کی اہلیہ کے انتقال پر ان کے صاحبزادے عمار مسعود کا کالم ہے

Read more

تختی سے وائٹ بورڈ تک کا سفر

اگر ہم آج سے بیس پچیس سال پیچھے چلے جائیں۔ تو ہمیں ایک ایسا زمانہ دیکھنے کو ملے گا۔ جہاں لوگ سادہ، معاشرہ خوشحال، اساتذہ محنت کش اور بچے فرمانبردار نظر آتے تھے۔ اک ایسا تعلیمی دور دیکھنے کو ملے گا جب قلم دوات کا دور تھا۔ جب تختیاں پوچی جاتی تھیں۔ جہاں استاد بچوں کو پکی پنسل جسے عموماً ہم ”بال پن“ کہتے ہیں، کا استعمال اس لیے نہیں کرنے دیتے تھے کہ اس کے استعمال سے لکھائی گندی

Read more

ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں کیک – عید کارڈ کی روایت

میری یادوں کی پٹاری میں یادوں سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ عید کارڈ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اب جہاں ہم ترقی یافتہ بن چکے ہیں، وہاں اپنی خوبصورت روایات کے حوالے سے قحط الرجالی بھی ہمارے مقدر میں آئی ہے۔ ماضی میں عید کے نئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری سے قبل لوگ اپنے پیاروں اور عزیز و اقارب کو عید کارڈ بھیجنے کے لیے کارڈوں کی خریداری کرتے تھے۔ ان

Read more