خبرناک اور مجید امجد

مجید امجد نے کہا تھا ؂
جانے کتنی ایسی روحیں ان کمیں گاہوں میں ہیں،
کون ہو ان کا حریف،
کاش اس خنداں ہزیمت کا تصور، ایک دن،
ہو سکے خود ان کے دل پر حملہ آور، فتح یاب!

گزشتہ دنوں جیو نیوز کے کامیڈی پروگرام ”خبرناک“ میں مجید امجد کی سالگرہ کے موقع پر انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سیگمنٹ پیش کیا گیا۔ سیگمنٹ کے فارمیٹ کے مطابق مجید امجد کا مماثل کردار (ڈمی) بھی تیار کی گئی تھی۔ ڈمی سے مجید امجد کی سادگی، متانت اور چہرے سے عمومی تفکر ظاہر ہو رہا تھا اور اس کی خاموشی سے مجید امجد کی حقیقی شخصیت میں موجود کم گوئی کا عنصر نمایاں ہوا۔ ۔ ۔ سیگمنٹ میں مجید امجد کی زندگی، مزاج اور فن پر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کی گئی۔

Read more

شہباز گِل کی بلاول بھٹو کے اجرک کے کپڑے سے بنے ماسک پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں یوں تو آئے روز سیاست دانوں کی آپسی نوک جھوک جاری رہتی ہے تاہم گذشتہ روز ایک ٹاک شو پر معاملات تب بگڑے جب موضوعِ بحث ‘اجرک’ بنی۔

Read more

بغداد میں شراب، شباب اور شیش کباب کے شاعر ابو نواس سے ملاقات

بغداد کی رات کے اس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس دیکھنے میں گم تھی۔ مجھے تو معلوم بھی نہ ہوا تھا کہ کب ایک وجہیہ عراقی بو ڑھا میرے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کا روایتی لباس، اس کی مخمور آنکھیں، اس کی سنہری رنگت، اس کا بانکپن سبھوں نے میری توجہ کھینچ لی تھی۔ میں نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا یقیناً آنکھوں کی زبان اس نے پڑھ لی تھی۔ گھن گرج

Read more

بار روم کا ہائیڈ پارک

آج خلجی صاحب سب پہ بازی لے گئے، جون کی چھٹیوں کے بعد آئے تو سادہ لباس میں تھے یعنی یونیفارم میں تو نہیں تھے پر فل فارم میں تھے، آج بار میں جسٹس فائز عیسی ریفرنس خارج ہونے پر بار روم میں یوم تشکر کا انعقاد بھی کیا ہوا تھا اور گیارہ بجے کے بعد کورٹ ورک سسپنڈ تھا، تو مجھے امید تھی کہ آج ہمارا ہائیڈ پارک نہ صرف خوب سجے گا بلکہ جمے گا بھی، اور ایسا

Read more

زوال آمادگی: مجید امجد کی تضحیک تک

زوال کسی شعبے میں در آئے تو تنزلی و انحطاط کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں زوال کے دو قابل ذکر پہلو ہیں ایک قسم یا پہلو کوتاہی۔ و غفلت سے متعلق ہے جبکہ دوسرا شعوری نوعیت رکھتا پہلی صورت میں تنزلی کے نمایاں ہوتے پہلوؤں سے چشم پوشی برتی جاتی ہے کہ جو کچھ رونما ہو رہا ہے اسے اپنی غلطی کا سبب تسلیم کرنے کی بجائے ناگزیر وقوع قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ دانش مندی

Read more

ماسٹر سارنگ شر کا زناٹے دار تھپڑ: مزا آیا؟

بچپن گزرا، فاروق قیصر کے پروگرام کلیاں میں طنز و مزاح بھرے فقرے سن کے، کچھ سمجھ میں آتے، کچھ نہیں۔ انکل سرگم اور ہیگا اشاروں کنایوں میں بہت سے اسرار و رموز کھولتے۔ گھر کے بڑے ہر لفظ پہ لوٹ پوٹ ہو جاتے پر ہم تو ایک ہی جملہ ازبر کیے بیٹھے تھے، "کر لو جو کرنا ہے”۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ معروف دانشور خالد احمد گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں ہفت روزہ آج کل کی

Read more

روبکار بنام ناصر کاظمی

بھلے وقتوں کی بات ہے کہ جب شاعر کہنے میں اور سامع سننے میں آزاد ہوا کرتے تھے۔ یہی وہ زمانے سہانے تھے کہ جب مسلمان بادشاہ شعرا کو طوطی ہند جیسے خطابات سے نوازتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچتے تھے کہ اس خطاب میں ہند جیسا کافر لفظ کیوں لایا گیا ہے۔ اور شاعر بھی من موجی ہوتے تھے کہ جو جی میں آیا کہہ دیا۔ اب ذرا میر جیسے سید کو دیکھیے۔ ۔ ۔ دیر میں بیٹھنے، قشقہ

Read more

نامور سنگھ: بے وفا نہیں تھا

”باسی بھات میں خدا کا ساجھا“ نامور سنگھ کا مضمون تھا، جس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ باسی بھات مطلب اردو اور اس پر خدا کی شمولیت۔ ہندی ترقی پسند نہ صرف ناراض ہوئے بلکہ نامور سنگھ کے نام کی تختیاں بھی جلائی گئیں۔ یہ مضمون شایع کرنے سے قبل راجندر یادو نے مجھے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے بھی آسہمتی یعنی غصہ کا اظہار کیا اور یادو جی سے پوچھا، کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اردو کا رسم الخط تبدیل ہونا چاہیے؟

اردو پر اسلام کا اثر ہے؟ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس زمانے میں کم و بیش یہی رویہ کملیشور کا بھی تھا۔ اس مضمون سے بہت قبل عصمت چغتائی بھی رسم الخط تبدیل کیے جانے کی بات کہہ چکی تھیں۔ اردو، مسلمان، شریعت کو لے کر بھی مضامین لکھے گئے۔ ہنس میں جب نامور جی کا مضمون شایع ہوا تو اردو خیمے سے زیادہ ناراضی ہندی خیمے میں تھی۔ ترقی پسندوں نے مورچہ کھول دیا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہندی میں سو فی صد اکثریت ترقی پسندوں کی ہے۔ جو مسلمان اور اردو کے خلاف کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتے۔

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

پورٹ آتھر کا عقوبت خانہ اور وقت کی کروٹ

یار کل ہم پورٹ آرتھر جیل دیکھنے جائیں گے۔ فرحان نے اعلان کرتے ہوئے کہا۔ ارے یار جیل بھی کوئی دیکھنے کی جگہ ہے توبہ توبہ کرو اور کہیں اور چلو، عامر نے فوراً ٹوکتے ہوئے کہا۔ ارے یار وہاں اور بھی کافی خوبصورت جگہیں دیکھنے والی، وہاں بھی چلیں گے لیکن جیل بھی لازمی دیکھیں گے۔ ہاں اس دفعہ سب اپنی ٹکٹ خود خرید یں گے۔ فرحان نے بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا۔ چلو جی، ایک تو جیل دیکھو

Read more

گورکن: خلیل جبران کے عربی افسانے کا اردو ترجمہ

سایۂ زیست کی وادی میں جہاں ہر طرف کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ڈھیر لگے تھے میں میلوں تنہا چلتا رہا۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دھند کے بادلوں نے ستاروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور رات کے پر اسرار سکوت میں خوف اور دہشت کے عفریتوں کا خاموش اور بے آواز رقص جاری تھا۔ میں دریائے اشک و لہو کے کنارے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ جس کی لہریں چتکبرے سانپ کی طرح

Read more

جٹی، عزت نفس اور ہماری روایت!

بہت عرصہ قبل جٹی نامی ایک فلم آئی تھی۔ جس کا ایک منظر ابھی کچھ عرصہ قبل میری نگاہوں سے گزرا۔ اس منظر میں ایک سینی ٹیشن ورکر ایک امیر گھر میں کام کر رہی ہے۔ اچانک اس گھر کا مالک کمرے میں داخل ہو تا ہے۔ وہ صفائی کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور سینی ٹیشن ورکر کو ڈانٹتا ہے۔ بحث کے بعد غصے میں آ کر وہ اس ورکر کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کرتا ہے۔

اس فلم کے آن ائر آنے کے بعد ملک بھر کے سینی ٹیشن ورکرز نے ہڑتال کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تھپڑ اس سینی ٹیشن ورکر کے منہ پر نہیں بلکہ تمام ملک کے اس نوعیت کے ورکرز کے منہ پر مارا گیا ہے۔

Read more

تشدد کرنے والا مرد: سوچا شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا، کیوں سوچا؟

گزشتہ شب ایک ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک تھریڈ پوسٹ کیا گیا جس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے علی سلمان علوی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی بیگم پر تشدد، مختلف خواتین سے تعلقات، بلیک میلنگ اور بعد ازاں بیوی کے قتل میں ملوث ہیں۔ ان کی مرحومہ بیوی صدف زہرا کی بہن کا حوالہ دے کر یہ الزام عائد کیے گئے اور بعد ازاں علی سلمان علوی کے خلاف سرکاری کارروائی کا بھی آغاز ہو چکا۔ ٹاپ ٹرینڈ بھی ہو گیا۔ بحث بھی کہ مار پیٹ سے بہت بہتر طلاق ہوتی ہے تو ایسے انسان کو چھوڑ دیا جائے۔ طلاق کے حق میں دلائل پیش کیے گئے اور اس انسانی حق کو سماجی طور پر قابل قبول بنانے کا بتایا گیا۔ اب تھوڑا پچھلے سال میں جائیں۔

ایک مشہور کیس جو سوشل میڈیا سے وائرل ہوتا کورٹ تک پہنچا وہ اسما عزیز نامی خاتون کی روداد تھی کہ اس نے اپنے شوہر کے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے سے انکار کیا جس پر اس کے شوہر میاں فیصل نے دوست کے ساتھ اسے تضحیک و تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے سر پر ٹریمر پھیر دیا۔ پہل پہل کافی جوش سے خاتون کے حق میں بولا گیا کہ اچانک اس کے ڈانس کی ایک ویڈیو آئی۔ بعد ازاں ان دونوں کے طرز زندگی اور نشے کی لت کے بارے خبروں کے آتے ہی معاشرتی رائے اچانک تقسیم ہوتے ہوتے خاموشی میں بدل گئی۔

Read more

میری ٹرمپ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی کی کتاب سے پانچ حیران کُن دعوے

میری ٹرمپ ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتی رہی ہیں اور وہ اپنے چچا کے خلاف ٹیکس دستاویزات نیویارک ٹائمز کو خفیہ طور پر فراہم کر چکی ہیں۔

Read more

میرا بیٹا آیان پاکستان میں آرٹسٹ ڈھونڈ رہا ہے

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے ان دونوں مشاغل کا صحیح علم لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں ہوا۔ جب اس کو میں نے میوزک کلاسز میں گاتے اور آرٹ کلاس میں خوبصورت تصاویر بناتے دیکھا۔ گزشتہ روز کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے اچانک

Read more

گوریلے کو تلاش کریں۔ مکمل کالم

یہ مثال میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی، ذہن میں چپک کر رہ گئی، میری پسندیدہ ہے، شاید اسے مثال کہنا ٹھیک نہیں ہوگا، دراصل یہ ایک تجربہ تھا۔ دو ٹیمو ں کے درمیان باسکٹ بال میچ کروایا گیا، ایک ٹیم نے سیاہ رنگ کی قمیضیں پہنیں اور دوسری نے سفید رنگ کی۔ میچ شروع ہوا تو درمیان میں ایک شخص گوریلے کی کھال پہن کر 9سیکنڈ کے لیے نمودار ہوا اور سکرین کے سامنے اپنی چھاتی پیٹ کر

Read more

اسٹاک ایکسچینج کے ”4 مسنگ پرسنز“ اور اصل مسئلہ

”حامد میر کے چار مسنگ پرسنز اسٹاک ایکسچینج سے برآمد“ یہ وہ طنز ہے جو بی ایل اے کے اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کی مماثلت کسی حد تک 2018 ء میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد بلوچستان کے مسنگ پرسنز کی لسٹ میں شامل تھے۔ یہ بات قومی میڈیا پر دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے بھی کی تھی جبکہ اس کی تصدیق کراچی میں ”ڈی ڈبلیو“ کے نمائندے نے بھی کی تھی۔

Read more

فلم ریویو: ”گریھا پرویش“ گھر کی جانب

اسکول کے دنوں میں تین فلمیں دور درشن سے دکھائی گئی تھیں انوبھو، اوشکار اور گریھا پرویش جن کی کہانی ملتی جلتی مگر اس کے باوجود وہ جدا جدا تھیں۔ پہلی دو فلموں کی کہانی بمبئی شہر میں آسودہ زندگی گزارنے والے بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ جوڑوں سے متعلق تھی جن کی شادی شدہ زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ سے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آیا جس رشتے میں وہ بظاہر بندھے ہوئے ہیں آیا وہ اتنا مضبوط بھی ہے جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں۔

یہ ایک انتہائی پیچیدہ سوال ہے جو کہ ایک شادی شدہ انسان اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے۔ اسی سوال کے جواب کی کھوج پانے کے لئے باسو بھٹاچاریہ نے اپنی تثلیث کی آخری فلم گریھا پرویش یعنی ”گھر کی جانب“ بنائی۔ فلم کی کہانی باسو بھٹاچاریہ جبکہ مکالمے اور گیت گلزار کے تھے۔ فلم کے گیتوں کی کومپوزیشن کنو رائے کی تھی۔ فلم کے نمایاں کردار سنجیو کمار، شرمیلا ٹیگور اور ساریکا نے ادا کیے تھے۔

Read more

ڈانلڈ ٹرمپ کی آئینے کے سامنے تقریر

وائٹ ہاؤس اوول آفس۔
” مسٹر پریذیڈنٹ آپ چار جولائی یعنی امریکہ کی آزادی کے دن پر تقریر کریں گے۔ اس کی تیاری کر لیجیے۔ “
” اوہ یس۔ یس۔ یس۔ اچھا یاد دلایا۔ بس ابھی“

Read more

اماں بمقابلہ بشریٰ انصاری، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔

پنجابی زبان کے وہ کھلے ڈلے الفاظ جو عموماً مائیں گھر میں اپنے بچوں کے لیے بولتی ہے بلاگر ‘اماں’ انہی الفاظ میں ڈرامے کے کرداروں کی ‘کلاس’ لیتی ہیں۔ جس کردار پر پیار آ جائے اس کی بلائیں بھی خوب لیتی ہیں۔۔۔ بالکل کسی ماں کی طرح۔ اسی لیے بلاگر ’اماں‘ کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک عام گھریلو عورت ہیں، کوئی نقاد نہیں۔ ایسے میں جب یو ٹیوب پر ان کے ایک بے لاگ تبصرے کے بعد

Read more

پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: نجی چینل اے آر وائی نے ’مثبت رپورٹنگ کی انتہا‘ کی یا عوامی آرا کا اظہار طنز کی صورت میں؟

’گذشتہ 26 روز سے جو پیٹرول کا بحران چل رہا تھا حکومت نے بڑے ہی احسن انداز میں پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اس بحران پر قابو پا لیا ہے۔ عوام اس بات پر خوش ہیں کہ پیٹرول پمپس پر اب پیٹرول باآسانی دستیاب ہے، عوام اس بات پر بھی خوش ہیں کہ حکومت نے صرف 25 روپے 58 پیسے اضافہ کیا ہے، یہ آٹے کی طرح نہیں تھا جس کے ایک تھیلے کی قیمت میں گذشتہ ایک

Read more

سید منور حسن: تند مزاج درویش

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈال دیا، کچھ دیر کے لیے دراز کو ٹٹولا، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا

Read more

ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے ہی نال ہے!

”جدوں چن پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکدا ہے تے تسی وڈّی طرح یاد آندے ہو“ (جب چاند پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتا ہے تو آپ بڑی بری طرح یاد آتے ہو)۔ اس کی نظریں خلاﺅں میں جمی ہوئی تھیں، ہمارا قلم رک رک کر چلنے لگا۔ ”اگے لکھو جی“ … وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ عطر کی شیشی پتھر پہ پھوڑ دیں گے جے خط دا جواب نیئں آیا تے خط لکھنا چھوڑ دیں گے ”یہ تم کسے خط لکھوا

Read more

خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گھبرا لیں؟: وینا ملک

ممتاز قومی رہنما اور اداکارہ وینا ملک نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر حکومت کی مخالفت کی ہے۔ اداکارہ وینا ملک سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حق اور اپوزیشن کی مخالفت میں بولتی رہتی ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر خاص طور پر ذاتی حملے کرتی ہیں لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر انہوںنے طنز کیا ہے۔ وینا ملک نے اپنے

Read more

بدعنوان سیاست دان کی واپسی

تخلیق ارسکین کیلڈویل۔ ۔ ۔ امریکہ – ترجمہ ڈاکٹر خالد سہیل قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن جیسے قصبے کی تاریخ میں پہلی مثال تھی جب کوئی خزانچی بلامقابلہ منتخب ہوا

Read more

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا انتقال: کارل مارکس سے مولانا مودودی تک سفر

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر انھیں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈالا، کچھ دیر کے لیے دراز ٹٹولی، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا اور بلا تمہید بولے کہ پھر چلیں؟
’کہاں؟‘
’ہمارے ہاں یہ وقت ظہر کی نماز کا ہوتا ہے۔‘

سننے والے نے اس مختصر جملے میں بے تکلف شگفتگی میں لپٹی ہوئی طنز کی گہری کاٹ کو محسوس کیا، ان کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سوچا، اس شخص کے ساتھ بات کرنا کتنا مشکل ہے۔

Read more

پارلیمنٹ ہاؤس کہ تھیٹر ہاؤس

 جس محفل میں میرے، آپ کے حالات اور ملک پاکستان کے بچہ بچہ کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہو اس مجلس شوریٰ، اس پارلیمنٹ ہاؤس کے ممبران کا مقابلہ ”جگت بازی“ قوم کے لیے ایک تشویش ناک ایشو ہے مگر بد قسمتی سے محض سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے باعث پاکستان کے عوام از خود اسمبلی کے ”پوائنٹ سکورنگ“ اجلاس و تقاریر ہی پسند کرتے ہیں اور اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے منتخب کردہ نمائندوں کی ”لفظی بمباری“ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر با خوشی شیئر کرتے ہیں۔ لہذا عوامی ذوق و شوق کے پیش نظر اپنی مقبولیت میں اضافے کی خاطر تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے، طنز، مارنے کے لیے ”فرنٹ مین“ اور عزت بچانے کے لئے ”ڈھال مین“ یعنی جوابی دفاعی ممبرز بھی مختص کیے ہوئے ہیں جو عموماً پارٹی کے شعبہ اطلاعات سنبھالتے ہیں۔

Read more

وعدہ حور پر بہلائے ہوئے پاکستانی

احباب کو یاد ہوگا ڈیڑھ سال پہلے میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی ”مجھے ہے حکم اذاں“ ۔ مربی اعجاز حسن صاحب کا اصرار تھا کہ خان کو ایک سال کا وقت تو دیں، پھر کچھ نہ کریں تو بھلے تنقید کرنا، علی اظہر صاحب بھی ایسی نصیحت فرماتے تھے، انکل غفور کا حکم تھا کہ چھ ماہ تک مثبت رپورٹ کریں، حالات بہت بدل جائیں گا، ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ان سب کے مشوروں اور حکم پر میں

Read more

زرتاج گل کی زر افشانیاں اور وزرا کی گل افشانیاں

وزیر ماحولیات جنہیں وزیر ”مخولیات“ کہنا چاہیے، نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں پھر ایک مسخرہ سا بیان داغا ہے۔ موصوفہ نے کووڈ 19 کی تشریح فرماتے ہوئے ایسا دقیق اور دور رس نکتہ بیان کیا کہ وزیر اعظم سمیت سننے والوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہوں گے۔ فرمایا کہ اس کا یہ نام کووڈ 19 اس لیے پڑا کہ اس وائرس کے 19 پوائنٹس ہیں یا یہ 19 طریقوں سے انسان پر حملہ کرتا ہے۔ دنیا

Read more

فیضی کا فیض

”کچھ دن ہمیں اور دے دو فاروق! “۔ یہ دوست محمد فیضی تھے۔ وہ خزاں کا موسم تھا اور پتوں کے جھڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ سردی کیا اور گرمی کیا، کراچی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر وہ انسانوں کے گرنے کا موسم تھا، خزاں کی ایسی بہار جس نے گلی کوچوں کو لہو میں رنگ دیا۔ شہر میں لاشیں اس رفتار سے گریں کہ زبان اور اصطلاحیں تک بدل گئیں۔ تھانوں اور اسپتالوں سے شام

Read more

مرزا اطہر بیگ کے ناول "غلام باغ” کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے، شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔ اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت

Read more

لاڑکانہ کے میکنک کے بیٹے کی سی ایس ایس افسر بننے کی کہانی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ جس کے ہر قدم ایک نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد درکار تھی۔ زوہیب قریشی کا سی ایس ایس میں کامیابی کا نمبر 260 واں ہے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

زوہیب قریشی نے اپنی کہانی بی بی سی کے لیے صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔

Read more

کرشن چندر کیوں بڑا ہے؟

بڑے ادیب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ خواب دیکھتا ہے اور خواب میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ غور کریں تو 05 سے زائد ناولوں اور پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھنے والے کرشن چندر نے ساری زندگی خوابوں کے دروازے پر دستک دی۔ غلامی سے آزادی کا سفر بھی خواب تھا اور آزادی کے بعد ننگے بھوکے ہندوستان کو خوشحالی کے راستہ پر دیکھنا بھی ایک خواب۔ کرشن چندر اس خواب میں رومانیت کوشامل کر

Read more

سکندر اعظم کا پنجاب پر حملہ (325 – 326قبل مسیح )۔

سکندر جب دریائے سندھ پر پہنچا تو اس نے اپنے لشکر کا ایک حصہ بڑی بڑی سات کشتیاں تیار کر کے دریائے سندھ کے راستے روانہ کیا، اور خود دریا پار کر کے ٹیکشاشیلا کی ریاست میں داخل ہوا جہاں کا راجہ ”امبھی“ تھا جس کی حکومت درہ خیبر سے لے کر دریائے جہلم تک کے علاقے پر تھی، راجہ امبھی نے سکندر کی طاقت دیکھتے ہوئے اس کی اطاعت اختیار کی، اور سکندر کی بہت مہمان نوازی بھی کی تب سکندر نے اس کو اس ریاست کے حکمران کے طور پر برقرار رکھا، یہاں ایک قابل ذکر واقعہ پیش آتا ہے کہ ٹیکشاشیلا کی درسگاہ کے سات اساتذہ نے سکندر پر اس کی ملک گیری کی ہوس کی بابت بھرے دربار میں سخت تنقید اور مخالفت کی جس پر سکندر نے ناراض ہو کر ان کے قتل کا حکم دے دیا اور ان اساتذہ کو کلمہ حق کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ یعنی روشن ضمیری اور حق گوئی بنیادی طور پر علم کی ہی خاصیت ہے۔

Read more

ایک خبطی علامہ کے چند قصے

لوگوں کو کئی طرح کے خبط ہوتے ہیں۔ کچھ طنز میں بجھی ہوئی تلوار ساتھ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس گالیوں کا وافر ایمونیشن ہوتاہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ادھر کسی کو کوئی کام کرتا دیکھیں گے اور ادھر ان کے اندر کا نقاد جاگ اٹھے گا۔ ہمیں ایک ایسے صاحب سے واسطہ پڑا جو نا صرف ’عالم ہر شے‘ تھے بلکہ دوسروں کو اس کی بار بار یاددہانی بھی کراتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل ہم ’لاعلمی‘ کی دولت سے مالامال تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری کئی اصطلاحات پر اپنے ’کالے علم‘ کا پوچا پھیر دیا ہے۔ ہم جو ان تمام اصطلاحات کو اپنی عقل سے حسب حال کر چکے تھے اور جیسے چاہتے تھے، استعمال کرتے تھے اب اس ’عیاشی‘ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

دراصل ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنی علمیت کے قصے سناتے سناتے ایک سیمینار میں نکل گئے۔ سیمینار میں بیسویں لڑکیاں پونی ٹیل کیے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل پونی ٹیل سے متعلق ہمارا مشاہدہ رومان سے بھرپور تھا۔ یہ بالوں کا خاص سٹائل تھا جو نوجوان لڑکیوں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال حضرت عالم نے بتایا کہ ’پونی ٹیل‘ گھوڑے کی دم (بلکہ انہوں نے تو پونچھ کہا تھا) کو کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر پونی ٹیل بنائے لڑکیوں نے ربڑ بینڈ اتار ڈالے۔ اگر وہ کھلے بالوں میں مزید قیامت نہ ڈھا رہی ہوتیں تو ہم عالم کی اس تھیوری سے انکار بھی کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ہمارے ایک رومانوی احساس کو مٹی میں ملا دیا۔ اب جہاں بھی کوئی لڑکی پونی ٹیل میں دکھے اپنا آپ گھوڑا گھوڑا سا لگنے لگتا ہے۔

Read more

پرنم آنکھوں اور دکھی سماعتوں کا طارق عزیز کو آخری سلام

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام اور پھر ایک لمحاتی وقفہ اور اس کے بعد اک اسٹائل سے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بالوں کی گہری لٹ کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ہمارے وقت کا یہ ہیرو جو صرف شوبز کی دنیا ہی کا ستارہ نہ تھا بلکہ وہ ہر گھر کا فرد تھا۔ آج ہم سے جدا ہوا۔ پروگرام تھا نیلام گھر اور اس کے ہیرو ہمارے وقت کے معروت اداکار، صداکار، شاعر، میزبان

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

مراجعت اور پیش قدمی کا موقع

تب وہ تیس سال کا کم عمر اور خوبرو نوجوان تھا وہ گیند کو اپنی پینٹ پر مسلنے کے بعد مڑ کر دوڑ لگاتا تو اس کے لمبے لمبے بال ایک انداز دلربائی کے ساتھ ہوا سے جھولتے رہتے وہ کسی صحرائی ہرن کی مانند دوڑتا اور وکٹوں کے پاس پہنچ کر چیتے کی طرح جمپ لگا کر برق رفتار گیند مخالف بیٹسمین کی طرف اچھال دیتا جس کی نہ سمجھ آنے والی سوئنگ سے دنیائے کرکٹ کے خوفناک بلے بازوں گواسکر سے گریگ چیپل اور رچرڈ سے بوتھم تک ایک بے بسی کے ساتھ اپنی وکٹیں اڑتے دیکھتے۔

اسی منظر نامے سے عمران خان شہرت اور رومانویت کی ایک دیوتائی حیثیت لے کر ابھرے۔
بعد میں اسی شہرت کو مد نظر رکھ کر عمران خان کا رخ سیاست کی طرف موڑ دیا گیا۔

Read more

یقین اور بے یقینی میں کورونا کہانیاں

میں ٹیلی فون پر ہمیشہ سے مختصر گفتگو کا عادی رہا ہوں۔ خود کو تاریخ ساز ’’انقلابیوں‘‘ میں کبھی شمار ہی نہیں کیا۔ ہمیشہ یہ اطمینان رہا کہ ممکنہ ’’تخریب کاروں‘‘ پر نگاہ رکھنے والوں کو میرا ٹیلی فون سننے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ 90کی دہائی میں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں برطرف ہوئیں تو ان کے خلاف الزام یہ بھی لگا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین اور ناقد صحافیوں کے ٹیلی فون

Read more

تمہیں خیال ذات ہے، شعور ذات ہی نہیں

اس وقت پاکستان بھی علم، عقل اور عمل کے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ 70 سالوں میں جو بھی لوگ پاکستان کے حکمران رہے ان کے پاس شور کرنے کو بہت کچھ تھا مگر شعور نہ تھا۔ جب پاکستان بنا تو یہ مسلمانوں کے شعور کی وجہ سے بنا اور اس وقت کے لوگوں کے پاس عمل تو بہت تھا مگر عقل کی کچھ کمی سی تھی اور عمل کے معاملہ میں بھی وہ یکتا نہ تھے۔ پہلے کچھ سال تو جمہوریت کا کمزور پودا ملک کا نظام چلانے کی کوشش کرتا رہا اور پاکستان سیاسی اور سماجی طور پر کمزور ہوتا گیا اور ہمارے حکمران دوسروں کے مفادات کے لئے عوام کو حقیر اور فقیر بناتے رہے اب الزام مارشل لا پر لگایا جاتا ہے کہ ایوب خان نے خود سری کی مگر ہمارے سیاسی لوگ مفادات کی جنگ میں اتنے شریک تھے کہ ملکی اداروں کو سوچنا پڑا کہ وہ ملک کو بہتر چلا سکتے ہیں، دنیا میں آزادی اور خود مختاری کے دعویدار دوست ممالک بھی اپنے مفادات کے کارن پاکستان کو خراب کرتے رہے۔ اس وقت کے عوامی نیتا ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کے نتائج پر غیر جمہوری رویہ اپنایا، اس وقت کی سیاست اور جہموریت نے پاکستان تقسیم کر دیا۔

Read more

چوہیا کیسے گا سکتی ہے؟

فنکار کا سماج ،فرد اور دوسرے فنکاروں سے کیا رشتہ ہے؟ اس پر کوئی نئی بات کہنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے آس پاس کچھ نئے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہمیں اس سوال کو نئے سرے سے سمجھنے پر مجبورکرتے ہیں۔ہم اس سوال کو کوئی سو سال پہلے کی ایک تحریر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ادب کی دنیا میں سو سال معمولی مدت ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شے وقت کو مات دینے کی جرآت کرتی

Read more

ایک بوڑھے کی دو کہانیاں

پہلی کہانی بانوے سال کا بوڑھا شخص دو سال کے بعد اسی دکان پر واپس گیا، جہاں سے نوے سال کی عمر میں اس نے کفن خریدا تھا۔ دکان پر پہلے ہی کچھ گاہک موجود تھے، اس کے باوجود دکاندار نے مسکرا کر نئے گاہک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "آگے آجائیں جناب، کیا چاہیے؟” بوڑھا پیچھے ہی کھڑا رہا اور کھانستے ہوئے کہا، "آپ گاہکوں سے فارغ ہو لیں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔” دکاندار دوسرے گاہکوں کے ساتھ

Read more

روشن کردار کے حامل استاد: چوہدری فضل کریم

دل کو باتیں جو ان کی یاد آئیں کس کی باتوں سے دل بہلائیں بہترین سماج کی تشکیل کے لیے بہترین نظام تعلیم ناگزیر ہے۔ نظام تعلیم میں خود تعلیم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور نصاب تعلیم اس نظام کے مقاصد کی تکمیل کا تحریری ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ متعلم کی شخصیت پر سب سے قوی اور فوری اثر نہ نظام تعلیم سے مرتب ہوتا ہے اور نہ نصاب سے۔ اس جادو کا سرچشمہ

Read more

’اتحاد، یقین محکم، اور تنظیم‘ سے ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ تک کا سفر

سید اختر وقار عظیم کی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ سے اقتباس پیش کرتا ہوں جو ٹی وی کی تاریخ بتاتے بتاتے درمیان میں کہتے ہیں کہ ’قوم کا مزاج کچھ ایسا بن گیا کہ سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت نہیں رہی‘ ۔

Read more

احوال سفید پوش طبقے کا

دیگر سوشل پلیٹ فارم کے فوائد اپنی جگہ پر ہمارے معاشرے میں وٹس ایپ کی مقبولیت اپنی جگہ قائم ہے۔ پہلے یہ محض کال اور چیٹ کے لیے استعمال کی جاتی تھی پر اب وقت کے ساتھ اس میں بھی جدت آ گئی ہے اور اب لوگ اپنے جذبات کا اظہار وٹس ایپ پر اسٹیٹس کی صورت میں کرتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کسی پر طنز ہو، تنقید ہو، اپنی پریشانی ہو، خوشی کا اظہار، یا افسوس کی خبر ہو

Read more

ثقافتی تخصیص اور پاکستان کے زمینی حقائق

یہ لان والے بھی نا، کبھی کوئی موسم نہیں گزرتا جب چھری تلے نہ آئیں۔ شروع شروع میں تو لوگوں کو ان کے کپڑوں کے نقش و نگار ناگوار گزرے کہ ایسے دیدہ زیب کپڑے بہو بیٹیاں پہنیں گی تو بے پردگی ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ٹھنڈا پڑا تو لان والوں کی تشہیر کے انداز کو تنقید کے نشتروں نے چھلنی کرنا شروع کیا۔ شاہراہوں، چوکوں کے آسماں کو چھوتے دیو ہیکل بل بورڈز پر چسپاں ماڈل بہن بیٹیوں کی تصاویر موضوع بحث بنی، ناز و اندام دکھلاتی ماڈلز کی تصاویر سے سینوں پر سانپ رینگنے لگے۔ یہ رسوائی وقت کی بدلتی رتوں کی گرد میں دبنے لگی تو لان کی سستے داموں فروخت کی ویڈیوز زیر بحث آ گئیں۔ طنز و مزاح سے لے کر بدتمیزی تک کا سفر خوش اسلوبی سے طے ہوا۔ کچھ عرصے سے تو ہماری سماعتوں سے قصے ہی عجب ٹکرا رہے ہیں۔ آخر یہ لان والوں کو ہو کیا گیا ہے؟

Read more

پلیز عمران خان کی باطنی گہرائی ناپیں

یہ قوم بھی بنی اسرائیل کی طرح ہر بال کی کھال اتارنے، ہر غلطی کا زمہ دار سامنے والے کو قرار دینے اور خداداد و باصلاحیت رہنماؤں کی ناقدری کے مرض میں مبتلا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو اپنی کسی بھی بڑی سے بڑی غلطی کا اعتراف کرنے اور سامنے والے کی معمولی بھول بھی درگزر کرنے پر آمادہ نہیں۔ اسی لیے تمام تر صلاحیتوں کے باوجود در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ یہ قوم بجائے منتوں مرادوں

Read more

ہر بات پر شک کرنے والے فلسفی – مکمل کالم

فراغت کے دن ہوں، ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو دوسرے ہاتھ میں کتاب ہو، راو ی چین ہی چین لکھتا ہو، اور زندگی میں کیا چاہیے۔ فلسفی لوگ مگر ایسی زندگی کے خلاف ہیں، سچ پوچھیں تو وہ ہر قسم کی زندگی کے خلاف ہیں۔ فلسفیوں کے خیال میں اس دنیا میں کوئی سچائی ایسی نہیں جس کے بارے میں ہمیں کامل اطمینان ہو سکے کہ یہ ہر قسم کے شک شبے سے پاک ہے، حتی کہ ریاضی کے متعلق بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔

ڈیوڈ ہیوم نامی ایک مرد عاقل نے کہا تھا کہ ہم یہ مفروضہ قائم نہیں کر سکتے کہ کل سورج طلوع ہوگا چاہے ہزاروں لاکھوں برس سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہو۔ ہیوم صاحب منطق کے اعتبار سے شاید درست فرما رہے ہیں تاہم اگر انہیں سو ڈالر کی شرط لگانی پڑے تو وہ یقیناً سورج کے طلوع ہونے پر رقم لگائیں گے کہ منطق اور موصوف کی زوجہ دونوں کا یہی تقاضا ہوگا۔ اب تک آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ بندہ آج کل تشکیک پسند فلسفیوں کی کتابیں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Read more

وزیراعظم عمران خان کے نزدیک کورونا محض ایک فلو ہے

ایک لیڈر کا کام مشکل حالات میں اپنی قوم کا حوصلہ اور ہمت بڑھنا ہوتا ہے۔ انہیں سمجھانا ہوتا ہے کک دشمن بیشک لاکھوں کی تعداد میں ہے اور تم سینکڑوں میں ہو تم پھر بھی اس دشمن پر نہ صرف قابو پا لو گے بلکہ ان کو قیدی بنا کر مال غیمنت بھی تمہارے حصے میں آئے گا۔ یہ بہادری کی نشانی ہوتی ہے۔ ناکہ انہیں کہا جائے دشمن ایک لشکر جرار لے کر آ رہا ہے تمہارا بچنا

Read more

دل و نگاہ کا قرار بچے

اللہ رب العزت نے تمام مخلوق بنائی اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا دیا اس شرف والی مخلوق کو بے شمار خوبیا ں اور صلاحیتیں بخشیں اس مخلو ق کو ہر عمر میں حسن و خوبی عطا کی لیکن بچپن کو سب سے زیادہ پیار ا اور پسندیدہ ترین کر دیا جس کی ایک بڑی وجہ معصومیت اورسیکھنے کی زبردست صلاحیت اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی تربیت سے پیدا کی گئی صلاحیت آخری دم تک ساتھ رہتی

Read more

لاہور کی مسجد شب بھر (مسجد شہید)۔

لاہور کی یہ مشہور و معروف مسجد شاہ عالمی چوک میں واقع ہے۔
اس مسجد کی وجہ شہرت اس کی تعمیر کے ساتھ جڑا ایک دلچسپ قصہ ہے، جس میں اہالیان لاہور نے مصالحے کچھ تیز ہی رکھے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جس جگہ مسجد ہے، اس زمین کے مدعی ہندو بھی تھے اور مسلم بھی۔ مسلمانوں نے یہاں ایک تھڑا بنا رکھا تھا جس پر وہ نماز ادا کرتے، آہستہ آہستہ یہاں اذان بھی شروع ہو گئی۔ یہ دیکھ کر ہندو بپھر گے اور اس جگہ کا تقاضا شروع کر دیا کہ وہ یہاں بھگوان کا گھر بنائیں گے۔ اس بات پر دونوں کے درمیاں تصادم ہوا اور معاملہ جا پہنچا انگریز منصف کے پاس۔

مسلمانوں کے وکیل جن کا نام بیشتر نے قائداعظم محمد علی جناح بتلایا ہے، یہ سب جان مسلمانان ہند کو مشورہ دیا کہ بھائیو جب صاحب بہادر یہاں قدم رنجہ فرمائیں تو اگر تو اس جگہ مسجد کے آثار ہوئے تو رسم اذاں قائم رہے گی ورنہ مندر کی گھنٹی بجے گی۔ کیونکہ انگریز کے قانون میں سبھی مذاہب کی عبادت گاہیں محترم ہیں یعنی منہدم کرنے کی اجازت کسی کو نہیں۔ یہ سن فرزندان توحید معرکہ حق و باطل کے لیے تیار ہو گئے، ریل کے اسٹیشن تا شاہ عالمی اور شاہ عالمی تا باغبان پورہ اینٹیں قطار کی صورت ہاتھوں ہاتھ ترسیل کی گئیں۔

Read more

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مرثیے کا ایک بند

میر انیس کے ایک مشہور مرثیے کا بند ہے : نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں پانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں ہمیں یہ بند گزشتہ دنوں اس وقت رہ رہ کے یاد آیا جب ہم نے قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

Read more

زخمی عورت کا پیشاب

وہ بری طرح سے زخمی تھی۔ دانت ٹوٹے ہوئے، ہونٹ پھٹے ہوئے، دونوں آنکھوں کے گرد خون جمع ہوا۔ ایک طرف کا کان نیچے سے کٹا ہوا، ناک سے خون بہہ کر ہونٹوں پر جم کر پپڑی سا بن گیا تھا، گردن پر زخموں کے نشان، چھاتیوں کو بڑی بے دردی سے شاید گھونسے مارے گئے تھے، پیٹ، کمر، رانوں اور کولہوں کو شاید جوتے والی لاتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ شدید تکلیف میں نیم بے ہوشی کے

Read more

عظیم اردو مزاح نگار مجتبیٰ حسین وفات پا گئے

اردو کے ادبی حلقوں میں یہ خبر رنج اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ عہد حاضر میں اردو کے سب سے بڑے مزاح نگار محترم مجتبیٰ حسین آج بھارت میں وفات پاگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔  مجتبیٰ حسین 15 جولائی 1936ء کو گلبرگہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور مزاح نگار ابراہیم جلیس کے چھوٹے بھائی تھے۔ 1956ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ جوانی سے ہی انہیں طنزومزاح کی تحریروں کا ذوق تھا جس کی

Read more

لاشوں سے لقمے اٹھانے والے گدھ

یہ جملہ نہیں ایک طمانچہ ہے، جو ایک سیاسی رہنما نے بڑی بے رحمی سے نام لے کر ملک کے نامور ترین صحافی کو مارا ہے۔ نہ تو نام ضروری ہیں اور نہ ہی اس بحث کی اہمیت کہ کیا اپنایا گیا لب و لہجہ شائستگی اور تہذیب سے باہر تھا یا فرد کے حق آزادی اظہار رائے کے اندر۔ اصل اہمیت اس مسئلے کی ہے جس کی طرف جانے انجانے میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے قومی

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔ گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی

Read more

ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔ ”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے

Read more

جہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6

بسمہ نے تصویر پلٹ کر دیکھی ایک کونے میں شاید اس کا نام لکھا تھا۔ ”رانا عبدالباسط“ بسمہ کو ہنسی آگئی ایک اور نام جو افسانے کے ہیرو جیسا بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں دہرایا بسمہ باسط، اور ہلکے سے مسکرا دی۔ صورت حال تو افسانوں جیسی ہی تھی اس کا نام ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی مگر اس کی نکھری گندمی رنگت چمکیلے سیاہ بال اور

Read more

عورت کیا چاہتی ہے؟

8 مارچ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بحثیں ہوتی ہیں، سمینار ہوتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق پر بات ہوتی ہے۔ وعدے اور قول دیے اور لئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر سب معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ عورت بھی اس کی عادی ہو گئی ہے۔ ایک کہانی آپ کو سنانا چاہتی ہوں۔ آُپ چاہیں تو اسے کہانی سمجھ کر پڑھیں چاہیں تو اس میں کچھ تلاش کر لیں۔ کہانی کچھ

Read more

وجاہت مسعود کا ”محاصرہ“

آج سے تیرہ برس قبل جب میں نے جنگ میں کالم لکھنے شروع کیے تو میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت آسان ہے، کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی گھسیٹ دو چھپ جائے گا، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، بے شمار کالم نگار آ ج بھی اپنے پیر کے انگوٹھے سے قلم پکڑ کرکالم گھسیٹتے ہیں اور ان کے مضامین پورے کروفر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے ہیں، میں ایسے کالم نگاروں کا بے

Read more

عہد یوسفی تمام ہوا: مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے

ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی کراچی میں انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق مشتاق یوسفی طویل عرصے سے علیل تھے۔ اردو ریسرچ جرنل میں ان کے فن اور شخصیت پر شائع شدہ مضمون شکریے کے ساتھ ہم سب پر شائع کیا جا رہا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی ظرافت نگاری حافظ سید عبدالکریم رضوان (شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی) بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیں اردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more