ایاز صادق کا انڈین پائلٹ ابھینندن سے متعلق بیان: انڈین اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں ’گھمسان کی جنگ‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی ایک بظاہر بے ضرر تقریر کا پاکستان کے سوشل میڈیا پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم جیسے ہی اس پر ٹوئٹر پر موجود انڈین تجزیہ نگاروں اور انڈین میڈیا کی جانب سے روشنی ڈالی گئی تو پاکستان میں بھی صارفین غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔

Read more

دیکھنا سامنے والا کہیں روبوٹ تو نہیں؟

ففتھ جنریشن وار کے لیے روبوٹکس کا ایک کارخانہ بن گیا۔ روبوٹک حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف پر مشتمل ہر روبوٹ جانتا ہے کہ کتنے قدم چلنا ہے، کیا کرنا یا کیا نہیں کرنا اور کس کی ہدایت پر کتنا عمل کرنا ہے۔ وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

کیا نانی ہونا گالی ہے

میرا بچپن روایتی بچپن جیسے ہی گزرا ہے۔ بس فرق یہ تھا کہ میرے بچپن میں ہمارے ساتھ ددھیالی رشتے نہیں تھے۔ جن کی کمی ہمیں ہر اس وقت محسوس ہوتی۔ جب کسی سہیلی یا کلاس فیلو سے سننے کو ملتا۔ کہ آج ہماری دادی نے یہ گفٹ دیا۔ آج ہمارے گھر پھپھو آئیں۔ ہمارے چاچو نے آئس کریم کھلائی۔ اور دادا نے پاپا کی ڈانٹ سے بچایا۔ جب کبھی ایسی کہانی کوئی بھی سناتا۔ میرے اندر ایک عجیب سی

Read more

کرکٹ میں رفتار کی دوڑ: ٹوئٹر پر ایک تبصرے میں بمرا، آرچر کو شعیب اختر سے ’زیادہ تیز رفتار‘ کہنے پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین برہم کیوں؟

کرکٹ سے متعلق مختلف مباحثے ایسے ہیں جن کے بارے میں حتمی فیصلہ شاید کبھی نہ کیا جا سکے لیکن پھر بھی ایسے ہی گرما گرم مباحثوں کے بارے میں آئے روز کرکٹ کے حلقوں میں بہت شوق سے بات کی جاتی ہے۔

Read more

سوشل میڈیا پر کراچی میں خانہ جنگی کی جھوٹی خبروں کی مہم کیوں روکی نہیں جا سکی؟

19 اکتوبر کو کراچی میں پولیس کے ہاتھوں کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے پیچھے ملک کی طاقتور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے مبینہ دباؤ کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا ہاؤسز اور ان کے سوشل میڈیا پیجز پر ایسی کئی خبریں شائع ہوئیں جن میں ان واقعات کو بنیاد بنا کر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خانہ جنگی کی من گھڑت خبریں شائع کی گئیں۔

Read more

جمہوریت کا جرنیل

بابائے قوم قائد اعظم نے کبھی بلند آواز میں شاید اپنے حریفوں تک سے بھی بات نہ کی ہو گی۔ قائد اعظم کو جھوٹے پراپیگنڈے اور سستی شہرت سے بہت سخت نفرت تھی۔ اس کے علاوہ قائد اعظم یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ حقیقت کو چھپایا جائے یا سچی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔ مجھے ہمیشہ ان سب لوگوں پہ بشمول اپنے ابا کے رشک آتا ہے، جو قائد اعظم سے ملے اور ان کی تقریریں سنتے تھے۔ مجھے فخر ہے میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو قائد اعظم کی مسلم لیگ کے کارکن تھے۔

بابائے قوم قائد اعظم تاریخ عالم میں عظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو نہایت کامیابی سے کنارے پر لگایا۔ وہ دیانت، امانت، حق گوئی، ایثار و قربانی، معاملہ فہمی، سیاسی تدبر اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے۔ حال ہی میں بابائے قوم کے مزار پر چند شر پسند عناصر نے نعروں کی شکل میں جو ہلڑ بازی کی اس میں انھوں نے خود اپنی تربیت اور تہذیب کے کپڑے اتار کر رکھ دیے۔

Read more

کراچی ’سول وار‘: پاکستانی صارفین نے ’خانہ جنگی جیسی صورتحال‘ کے انڈین دعوؤں کا مقابلہ کیسے کیا؟

جب اس خبر کی تردید سے بھی کچھ فرق نہ پڑا تو ٹوئٹر پر پاکستانی صارفین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور اس ہیش ٹیگ کو ’ہائی جیک‘ کر لیا، یعنی اسے اتنا استعمال کیا کہ غیر مصدقہ معلومات دب گئیں اور ہر طرف مزاحیہ مواد نظر آنے لگا۔

Read more

فیک نیوز: انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کی جھوٹی خبریں، ’ٹوئٹر کب جاگے گا‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ‘فیک نیوز’ اور ‘ڈس انفارمیشن’ کے حوالے سے تنازعات نئے نہیں ہیں اور بالخصوص پاکستان اور انڈیا میں اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ان پلیٹ فارمز پر منظم طریقے سے ‘فیک نیوز’ کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔

Read more

خود کشی اور سماجی رویے

ایک ہفتہ قبل، گجرات سے تعلق رکھنے والے نو جوان شاعر اسامہ جمشید نے خود کشی کر لی۔ یوں یہ موضوع ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کی زینت بن گیا اور ہمارا سماج، بالخصوص تخلیق کار طبقہ اپنے لیکچر اور رویوں سے یہ بتانے کی نا کام کوشش کر رہا ہے کہ کاش اسامہ ہمیں بتاتا، کاش ہم سے وہ اپنا دکھ شیئر کرتا، ہم سے وہ اپنے مسائل ڈسکس کرتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ ایسے ڈائیلاگ ہیں، جو ہر خود کشی کے بعد معتبر طبقے کی جانب سے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔

جو شخص خود کشی کی کوشش کرتا ہے، اس کے حالات سے بہت زیادہ نہیں، تو اچھے خاصی قریبی احباب آگاہ ہوتے ہیں اور کوئی چارہ کرنے کے بجائے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج امن اور محبت کا بھاشن دینے والے یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی اور ایسا نو جوان تو نہیں، جو اسامہ کی طرح موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم اسے مسلسل نا صرف نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ طنز کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، تو میرے خیال سے اس رجحان میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔

Read more

سیاسی اور سماجی ”بڈھوں“ کے دکھ

آخر کار اپنے بالوں میں بھی چاندی مسکرانے لگی، تو پتا لگا بھئی کہ ہم نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ یہ بات ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہم تو سو کے ہی تب اٹھتے ہیں، جب دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ لہذا اب سے ہمارا شمار بھی سماجیات میں سمجھا جائے، تو مناسب ہو گا۔

اجی، آپ سمجھے نہیں؟

تو بات کچھ یوں ہے کہ جب سے ہم نے ان دو بچوں کے بارے میں، ایک بابا جی سے سنا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیل نہیں کھیلتے۔ دونوں ان کے لئے بچے اور شاید بچے کھچے، بھی ہیں۔ اور موصوفہ تو نانی دادی بھی بن چکی ہیں تو احباب من یہ جملہ نہیں، یہ ہمارا فلسفہء حیات اور آئینہء سماج ہے، جو زندگی کی کچھ گرہیں کھولتا ہے، تو کچھ لگا دیتا ہے۔ مثلا: بابا جی کے مطابق آپ کو شادی جلدی کر لینی چاہیے، تا کہ آپ جلد کئی نسلیں دیکھ لیں۔ کیوں کہ بابا جی اپنی تمام تر بزرگی کے با وجود، نا صرف جوان جہان ہیں، بلکہ نہ تو دادا بن سکے، نہ ہی نانا۔

Read more

بانجھ جوڑے اور بن مانگی نیک تمنائیں

پہلی خاتون: شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں؟ پانچ سال؟ ہائے پانچ سال ہو گئے! ابھی تک ایک بچہ بھی نہیں ہوا!؟ اب تک دو بچے ضرور ہو جانے چاہیے تھے! تم علاج نہیں کرواتیں؟ کس گائنا کالوجسٹ کے پاس جاتی ہو؟ ایک ڈاکٹر بتاتی ہوں، اس کے پاس جاؤ۔ وہاں میری بہو جاتی تھی۔ دو سال بعد اللہ نے پوتا دیا۔ تم بھی وہیں سے علاج کرواؤ۔

دوسری خاتون: یوں اداس کیوں بیٹھی ہو؟ سب کے ساتھ گپ شپ کرو۔ یوں الگ تھلگ بیٹھنے سے مزید ڈپریشن ہوتا ہے۔ اللہ نے چاہا، تو بہت جلد تمہیں اولاد کی نعمت سے نوازے گا۔ مایوس نہیں ہوتے۔

Read more

’کیا آپ سیکولر ہو گئے؟‘ بھارت میں گورنر کے طنز پر تنازع

بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے وزیرِ اعلیٰ اودھو ٹھاکرے کے نام ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے تحریر کردہ ایک مکتوب کے بعد بھارت میں تند و تیز بحث جاری ہے اور کئی لوگ گورنر کے خط کو وزیرِ اعلیٰ کے اختیارات میں مداخلت اور ان کے آئینی حلف کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

کئی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ایک گورنر کو آئین کا پابند ہونا چاہیے یا اپنے مذہبی اعتقاد کا؟ اور یہ کہ گورنر صدر کا نمائندہ ہوتا ہے یا اپنی سیاسی جماعت کا؟

مہاراشٹرا حکومت نے کرونا کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد 11 اکتوبر کو ریاست میں شراب خانوں، ریستورانوں اور ساحلِ سمندر کھولنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

آئی ایم ایف کی ’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘: انڈیا کے جی ڈی پی میں ’تاریخی کمی‘ کا امکان اور چینی تجارت میں اضافے کا راز

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والے سنہ 2020-21 اور سنہ 2021-22 کے معاشی جائزے ‘ورلڈ اکنامک آؤٹ لک’ سے چند حیران کن باتیں سامنے آئی ہیں۔

Read more

چوتھی طرف مت جانا

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

Read more

مسلم لیگ نون نے ٹک ٹاک بھی بند کروا دیا

تبدیلی سرکار اتنی ظالم ہو گی، سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔ کئی ماہ سے خبریں اڑ رہی تھیں کہ حکومت عوام کی پسندیدہ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا رہی ہے۔ نوجوانوں، عورتوں، مردوں اور بزرگوں کی جتنی نمایاں تعداد، ٹک ٹاک استعمال کر رہی تھی، امید تھی کہ حکومت عوام کے جذبات اور پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی، مگر حکومت کے سینے میں تو دل ہی نہیں۔

اخباروں کی سرخیاں پڑھتے رہے ہیں کہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم، بجلی بم یا گیس بم گرا دیا، قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا مگر یہ ٹک ٹاک بم بلکہ ایٹم بم، پہلی بار گرایا گیا ہے۔ ابھی فیس بک پر ایک کلپ دیکھ رہا تھا کہ خاتون زار و قطار رو رہی تھی کہ عمران خان اتنا ظالم ہے، ایک ٹک ٹاک ہی تھا، جس سے دل بہلا لیتے تھے۔ یہ سکون بھی چھین لیا۔ واقعی عمران خان تم اتنے ظالم ہو؟

بچوں اور دوستوں کو دیکھ دیکھ کر مجھے بھی ٹک ٹاک کا شوق پیدا ہو گیا۔ دوست عثمان نے میرا کاؤنٹ بنا دیا۔ پھر ویڈیو اپ لوڈ کرنا سیکھ لیا۔ ویڈیو تو بہت کم بنائیں۔ ایک ویڈیو بنائی تھی، جس میں کہا تھا کہ بعض نیکیاں ایسی ہوتی ہیں، جن کو کر کے دریا میں ڈال دیا جائے تو دریا بھی وہ نیکی اگل دیتا ہے اور کہتا ہے اے کی چول ماری اے۔ خیر تصاویر کو محفوظ رکھنے کے لئے ٹک ٹاک بہترین ایپ تھی۔ تصاویر کے پیچھے میوزک یا گانا لگا کر ان یادوں کو اپنی طرف سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا تھا، مگر پھر چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی۔

Read more

ماں بہن کو پڑتی گالی آپ کی حیا اور مار پیٹ آپ کی اقدار ہیں

دنیا کی ایسی ہر جگہ، ملک، شہر، معاشرہ، گاؤں، بستی، گوشے، پاتال میں، جہاں جنسی تشدد کو عام سی چیز یا سرے سے اس کے ہونے کو جھٹلایا جاتا ہے، وہاں عموماً اکثریت میں کم عمر بچیوں، بچوں اور لڑکیوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے یا جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے بھی یا نہیں۔ ایسے معاشروں میں ایک ہمارا معاشرہ بھی ہے۔ متاثرین کو تب جا کر ادراک ہوتا ہے، جب ایسے واقعات کو بیتے ہوئے دو، تین یا چار عشرے گزر چکے ہوں اور اکثریت تو لاعلم ہی قبور میں اتار دی جاتی ہے۔

متاثرہ خواتین، اپنے ہی مجرموں کو اپنے ہی گھروں میں دہائیوں تک چائے پانی، کھانا اور گرم گرم روٹیاں بنا کر دیتی رہی ہوتی ہیں۔ ادراک ہو بھی جائے، تب بھی چپ سادھنے اور اندر ہی اندر گھٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایسے تو خواتین کو اپنے ساتھ زیادتی اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ رہنے کی تربیت اور تجربہ اچھا رہتا ہے، چاہے وہ میکہ ہو یا سسرال۔

Read more

ہم اتنے اگڑم بگڑم کیوں ہیں؟

ہمارے تصورات اس قدر الجھے ہوئے اور پیچیدہ ہیں کہ ہم کسی بھی چیز کو اس کے درست مقام سے پہ نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں دوستی اور محبت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم محبت کو قید مانتے ہیں، رشتوں کا تقابل کیرئیر سے کرنے لگتے ہیں، ایک فرد کی حیثیت میں اہمیت کو رشتوں کے کردار پہ تولنے لگتے ہیں۔

ہم فرض کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ایک بیٹے یا بیٹی کا فرض یہ ہے کہ وہ خاندان کے سارے ریت روایات نبھائے، اپنی ہر خواہش اور خوشی کی قربانی دے کے والدین کی خواہشات میں ڈھل کے اپنی زندگی برباد کر لے لیکن فرمانبردار کہلائے۔ ہمیں اولاد اپنا اثاثہ لگتی ہے جس پہ انوسٹمنٹ ہوئی ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے پوری زندگی سود وصول کریں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے آرڈر پہ بنوایا گیا روبوٹ نہیں جسے کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو، دوست چننے ہوں یا رشتہ بنانا ہو تو وہ والدین کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کی ذمہ داری ایک اچھے بیٹے یا بیٹی کی حیثیت میں والدین کا خیال رکھنا ہے نہ کہ ان کی ہر بات کو ماننا ہے۔

Read more

ہاتھرس کیس: انڈیا کی سپریم کورٹ کی جانب سے مبینہ گینگ ریپ کیس میں گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ریاست اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے کیس کو ‘غیر معمولی اور ہولناک‘ قرار دیا ہے اور ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملے کے گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں ایک بیان حلفی داخل کرے۔

Read more

مریم نواز کی حمایت کیوں ضروری ہے؟

صاحبو، بنیادی مقدمہ پاکستان میں سیاسی جمہوریت کی طرف پیشقدمی اور پھر اس کے قیام کا ہے۔ بے دماغ انقلابی احباب اکثر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ موجودہ بلغم زدہ نظام کی مخالفت، اس کو جمہوریت تسلیم کرنے سے انکار، یا پھر اس پر تنقید، ہم جیسوں کو پٹواری یا جیالا ثابت نہیں کرتی۔ وہ جو کہ سنہ 1977 سے اس ملک میں سیاسی مداخلتوں کے تماشے دیکھتے چلے آئے ہیں، اب وہ، مجھ سمیت، تھک چکے ہیں۔

بہت سال قبل، محترمہ ثمینہ پیرزادہ نے، جناب محمد رؤف صاحب کے پروگرام، 50 منٹ میں اک بار بہت جذباتی انداز میں کہا تھا کہ: ہم اس خطے اور دنیا میں عزت اور وقار سے جینا چاہتے ہیں۔

بات صرف اور صرف یہی ہے۔ کوئی دوسری بات نہیں۔

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020 اور انکل سیم: امریکہ کے لیے ’چچا سام‘ کی اصطلاح کیسے وجود میں آئی؟

سات ستمبر 1813 کی ٹرائے (نیویارک) پوسٹ کے ایک نامہ نگار نے پہلی مرتبہ ’انکل سیم‘ کی اصطلاح امریکی حکومت کے لیے تحریر کی۔ اس کے بعد اس اصطلاح کا مطلب ہی امریکی حکومت ہو گیا اور ہر شخص اسے امریکی انتظامیہ کے مفہوم میں استعمال کرنے لگا۔

Read more

شوبز ڈائری: ابھیشیک کی ٹرولنگ، سہانا خان کی سانولی رنگت پر انسٹا گرام پوسٹ اور انوشکا کی گواسکر سے نوک جھونک

بڑے سٹارز کے ہاں پیدا ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ کی زندگی بے فکری اور عیش و آرام سے لیس ہے۔ شوبڑ ڈائری میں آج پڑھیے شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا خان کی زندگی کے تجربات پر گفتگو، ابھشیک کے صارفین کو جوابات اور سنیل گواسکر کے نام انوشکا نے کیا پیغام دیا ہے۔

Read more

ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک باہمت لڑکی کی کہانی

24 سالہ عروہ احمد نے جب ڈیرہ اسماعیل خان کے دور افتادہ علاقے کلاچی سے گومل یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو وہ اپنے علاقے سے شاید ان چند خواتین میں تھیں جنہوں نے اعلی تعلیم کے لئے گاؤں سے با ہر کا رخ کیا۔ عروہ نہ صرف صنفی عدم مساوات اور معاندانہ معاشرتی رویوں کا مقابلہ کیا بلکہ ان میں تبدیلی لانے میں بھی کامیاب رہی۔

کلاچی خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک چھوٹا اور پسماندہ گاؤں ہے اور ڈیرہ شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کلاچی ایک زرعی گاؤں ہے اور یہاں کے لوگوں کی ذرائع آمدنی بھی زراعت پر منحصر ہے۔ پاکستان کے دیگر گاؤں کی طرح کلاچی بھی ایک پدر سری معاشرہ ہے۔ وہاں کی عورتیں زیادہ تر امور خانہ داری تک محدود ہیں اور گھروں سے باہر ان کی کی نقل و حرکت بھی مردوں کی بہ نسبت کم نظر آتی ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح خواندگی میں واضح فرق، سرکاری اداروں میں عورتوں کی کم شمولیت اور ساتھ ہی ساتھ دونوں صنفوں کے معاوضوں میں بھی واضح فرق موجود ہے۔

Read more

بریانی کی غلط ترکیب شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر کہرام، جنوبی افریقہ کی ویب سائٹ فوڈ 24 کو معذرت کرنی پڑی

کھانوں کی تراکیب شیئر کرنے والی جنوبی افریقہ کی ویب سائٹ فوڈ 24 نے بریانی کی غیر روایتی ترکیب لگا کر سوشل میڈیا صارفین کو نالاں کر دیا جس کے بعد انھیں نہ صرف معافی مانگنی پڑی بلکہ ویڈیو بھی ہٹانا پڑی۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: وہ رات جب امریکی جمہوریت بدترین تنزلی کا شکار ہوئی

گذشتہ رات ہونے والا شرمناک مباحثہ کسی رکھ رکھاؤ والی بحث سے زیادہ ’پنجروں میں ہونی والی لڑائی‘ کی طرح تھا اور اس نے ایک بالکل مختلف دور اور ملک کی عکاسی کی۔ نہ پاٹی جا سکنے والی خلیج کا حامل امریکہ، ایک ایسا ملک جس میں جمہوریت زوال کی شکار ہے۔

Read more

پڑوسی کے چولہے سے آگ لئی لے

(امریکہ میں بھارت نژاد باشندوں کی کامیابیاں) ماتھا ہمارا اسی وقت تین سال پہلے ٹھنکا تھا۔ جس بس کو نیویارک میں دیکھتے، جس دیوار پر نگاہ ڈالتے۔ ہر طرف تیرا جلوہ کا منظر، پریانکا چوپڑا کی تصویر، ایف بی آئی کے جعلی بیج اور اصلی بھرے بھرے تکیے جیسے ہونٹ۔ بس کو آنے میں دیر بھی ہو تو ان تصاویر کی وجہ سے بس اسٹاپ خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کی تصویر شیشہ و سنگ بن جاتا تھا کہ

Read more

کنواری ماں، اندھا قانون اور مسیحا کا جرم

چودہ برس کا سن، پیلی پھٹک رنگت، چہرے پہ بے بسی، آنکھ میں رنج و الم، لیبر وارڈ کے ایک بستر پہ ایسی دکھتی تھی جیسے مقتل میں ننھی سی گڑیا بھولے بھٹکے آ گئی ہو۔ اس چڑیا سی بچی کے لئے یہ مقتل گاہ ہی تو تھی جہاں وہ پچھلی رات ہی چودہ برس کے سن میں ماں بنی تھی۔ ریپ اور پولیس کے متعلق بات چلی تو بھولی بسری یادوں میں سے بے اختیار وہ بچی جھانک کے

Read more

باتیں ہیں باتوں کا کیا

ہمیں اس مغالطے میں رکھا گیا کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس سے تین چار سو گنا زیادہ ہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر منہ ایک لاکھ ہیں تو کم سے کم دس پندرہ لاکھ باتیں تو ہوں گی۔ لوگ کہیں گے ’باتیں ہیں باتوں کا کیا‘ لیکن حضور یہ بھی سچ ہے کہ سب کچھ باتوں سے ہی ہوتا ہے۔ بنا ہاتھ ہلائے باتوں سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا

Read more

ابنارمل رویے

نارملائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر عمرانیات سے ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی رو سے بہت سے خیالات اور افعال سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائج الوقت نظام زندگی میں قدرتی طور پر موجود رہے ہیں۔ نارملائز ہونے یا کرنے کا عمل بظاہر سادہ سا ہے مگر اس کے کئی ایک محرکات ہیں جو بتدریج اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ حیرت کا مقام

Read more

پختون، پشتون، پشتین اور گٹکا

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی سماجی روابط کے ذرائع اور ٹی وی پر فنکاروں، سماجی کارکنان، محققین، دانشور اور مشہور و معروف کاروباری کمپنیوں نے ایسا مواد تخلیق کرنے کا عمل شروع کیا جس سے امریکہ میں پائے جانے والے منظم تشدد اور تعصب کی سرکوبی میں عوام کو آگہی دی جاسکے۔ منظم تشدد اور تعصب بالخصوص سیاہ فام نسل کے خلاف تو پایا جاتا ہی ہے مگر چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے مشرقی بعید کے ایشیائی امریکیوں کے لئے بھی نسلی تعصب کی فضا قائم کر دی۔

باقی لاطینی امریکیوں، مقامی امریکیوں، ایل جی بی ٹی اور مسلمانوں کے خلاف حد بندیاں تو اپنی مثال آپ ہی تھیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر تحریک نے ذرائع ابلاغ میں سب نسلوں، عقائد اور رنگوں کو یک جگہ کچھ ایسے اکٹھا کیا ہے کہ تعصب اور تفریق پر دلیرانہ سوالات ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے سفید فام لبرل، خواتین اور نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ اب ایک اشتہار پر نظر ڈالتے ہیں کہ معاشرے اور ریاست میں پائے جانے والے رویہ ختم کرنے کے لئے وہ کیسا مواد مرتب کر رہے ہیں اور تخلیقی مواد تخلیق کرنے والوں کی سوچ اور دانش کا زاویہ کیا ہے۔

Read more

عبدالغفور حیدری کے انٹرویو کے بعد پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر بحث تیز: ’جنرل باجوہ نے اصرار کیا تھا کہ ہم آزادی مارچ نہ کریں‘

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کی جانب سے جنرل قمر باجوہ پر آزادی مارچ نہ کرنے اور نواز شریف کے خلاف ہونے والے اقدامات میں مداخلت نہ کرنے پر اصرار کے الزامات نے پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر جاری بحث کو مزید ایندھن فراہم کر دیا ہے۔

Read more

نواز شریف کے عسکری نمائندوں سے ملاقاتوں سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر بحث

نواز شریف کی جانب سے عسکری نمائندوں سے ملاقاتوں سے متعلق اعلان کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ ایسی ملاقاتیں پھر بھی جاری رہیں گی جبکہ بہت سے صارفین نواز شریف سے لیگی رہنماؤں کی ایسی سابقہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی جواب مانگ رہے ہیں۔

Read more

فوج کی سیاست میں دلچسپی نہیں تو یہ ملاقاتیں کیوں؟

سوشل میڈیا پر لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلائے جانے کے بعد جو سخت موقف جماعتوں بالخصوص نواز شریف کی جانب سے اختیار کیا گیا یہ انہی صلح کی کوششوں میں ناکامی کا ردعمل ہے۔

Read more

وظائف برائے رد بھوک اور مہنگائی

حکومتیں، ان کے وزرا اور سپورٹرز جہاں اپنے مخالفین پر ہلکا پھلکا طنز یا ان کے ماضی و حال کی کمزوریوں کو نمایاں کرکے پیش کرتے رہتے ہیں وہیں کچھ باتیں وہ بھی ہوا کرتی ہیں جن کو اگر مد نظر نہ رکھاجائے تو یہ محسوس کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارا تعلق ملک کے کس طبقے اور تہذیب سے ہے۔ کہتے ہیں خاموشی عالم کے علم کا زیور اور جاہل کے جہل کا پردہ ہوا کرتی ہے۔ جب

Read more

سنہرا اسلامی دور: عرب فلسفے کی بنیاد رکھنے والے الکندی کون تھے اور ان کی سائنس کے لیے کیا خدمات ہیں؟

الکندی سے پہلے عربی میں فلسفے نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ محض ایک عظیم فلسفی ہی نہیں تھے بلکہ ان کے کام کی عملی اہمیت بھی تھی جسے عسکری شعبے میں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے سمندر میں پیدا ہونے والے مد و جزر، بادلوں کی گرج چمک سمیت دیگر موسمیاتی رجحانات پر بھی تحقیق کی۔

Read more

فیاض الحسن چوہان: بندوق کی نمائش غلطی تھی یا اپوزیشن کے لیے اشارہ؟

پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے اپوزیشن جماعتوں کو ’منھ توڑ جواب‘ دینا چاہا لیکن لوگوں کا دھیان ان کی باتوں سے زیادہ ویڈیو میں موجود اسلحے پر گیا۔

Read more

علامتی طور پر بے عنوان کالم

حکومت نے ابھی کچھ کیا ہو اور وہ غلط ہو تبھی تنقید کی جا سکتی ہے نا۔ اس بیچاری نے تو اب تک جو کیا، یا تو کر کے مکر جانا کیا یا جو کیا وہ ایسا کیا کہ اس پر طنز کیا جا سکتا ہے یا اس کا مضحکہ اڑایا جا سکتا ہے جیسے بارہ بھینسوں، لگژری کاروں کی جگہ دس سے بیس سال پرانی کاروں اور ناکارہ ہیلی کاپٹروں کی نیلامی کا اعلان کرنا یا پھر جو کہا تھا اس کی نفی کر کے تاویلیں پیش کرنا جیسے روٹ لگانے اور پروٹوکول دیے جانے سے متعلق تو ان پر ہنسا ہی جا سکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اگر جذباتی ہونا ہو تو اظہار تاسف کیا جا سکتا ہے۔

معاشرے میں پھیلی برائیوں، نا انصافی، معاشی ناہمواری، عدم تحفظ، عسرت اور بے بسی کا رونا روئیں تو اس سے کیا ہوگا۔ کب سے چیخ و پکار جاری ہے مگر یہ سب برائیاں ویسے کی ویسے ہی نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی ہیں۔ جب دولت چار چار روپے فی کلو شکر کے حساب سے پانچ کروڑ لوگوں کے ہاتھ سے پانچ افراد کے ہاتھوں میں ایک ہی روز میں چار چار کروڑ روپے ہو کر پہنچ جائے گی تو خلیج یونہی گہری ہوگی۔

Read more

جب ایک دل جلے بیک پیکر کی انڈیا میں ’دی بیٹلز‘ سے ملاقات ہوئی

جب 1968 میں کینیڈا کا ایک 23 سالہ شخص مراقبہ کرنے کے لیے انڈیا کے مقدس شہر رشیکش کے قریب ایک آشرم میں پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ وہ اس جگہ پر نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں ’دی بیٹلز‘ بینڈ کے اراکین رہائش پذیر تھے۔

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

جس تن لاگے وہ تن جانے

”جس تن لاگے وہ تن جانے“ ایک زبان زد عام محاورہ ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی کرشماتی خصوصیت کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ سبزی والے سے مہنگائی پر بحث کرتے ہوئے بھی اس محاورے کا سہارا لیا جاتا ہے اور کسی پر قیامت گزر جانے پر بھی یہی محاورہ کام آتا ہے۔ لیکن آج کے دن تک اس کا مفہوم سمجھنے یا اس سے رہنمائی لیتے ہوئے دوسروں کے زخم پر نمک چھڑکنے کی عادت ترک کرنے کا خیال

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

کیمیکل کیسٹریشن پر عفت عمر کے بیان پر تنقید: ’جب آپ طنز کرتے ہیں تو وہ اتنا ہی کڑوا ہوتا ہے‘

پاکستانی اداکارہ اور میزبان عفت عمر چند روز سے مسلسل خبروں اور تنقید کی زد میں ہیں اور آئے روز کئی نہ کسی حوالے سے ٹوئٹر پر ان کا نام ٹرینڈ کرتا نظر آتا ہے۔

Read more

سیاسی قاعدے کی الف۔ ب۔ پ – مکمل کالم

کہتے ہیں کہ لفظوں کی اپنی تصویریں ہوتی ہیں۔ ہر لفظ کے ساتھ ایک تراشیدہ تصویری پیکر ہوتا ہے جو ذہن کی دیوار پر نقش ہوتا ہے۔ ان لفظوں کے معنی بسا اوقات تصاویر میں پوشیدہ ہوتے ہیں اور انہی سے لفظ کے مفہوم واضح ہوتے ہیں۔ یہ تصاویر ہمارے ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں یا نقش کروا دی جاتیں۔ بعض اوقات تصویر کی تلاش میں لفظ سرگرداں ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ تصویر لفظ کو تلاش کر رہی ہوتی ہے۔ یہ لفظی تصویریں ہمارے بچپن سے مفہوم پاتی ہیں اور تا عمر ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ کچھ تصویریں ہمیں زور زبردستی سے رٹائی جاتی ہیں اور کچھ ایسے نقش ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن پر منجمند ہو جاتے ہیں۔ آپ چاہے کتنی بھی کوشش کر کے ان تصویروں کو ذہن سے کھرچیں یہ پھر بھی اپنا نشان باقی رکھتی ہیں۔ اپنی شبیہ قائم رکھتی ہیں۔ لفظوں سے ذہن میں تصویر بننا بعض اوقات شعوری کوشش ہوتا ہے اور اکثر یہ کیفیت غیر شعوری ہوتی ہے۔ جیسے بچوں کو حروف تہجی سکھاتے ہوئے تصویر دکھائی جاتی ہے۔ الف سے انار بتایا جاتا ہے اور ب سے بکری بتایا جاتا ہے۔ پ سے پنکھا سکھایا جاتا ہے۔ ان لفظوں کی یہی تصاویر تمام عمر ہماری یاداشت پر نقش رہتی ہیں ہمیں ابجد کے ابتدائی سبق یاد کرواتی ہیں۔

ہماری سیاسی لغت میں بے شمار لفظ ایسے ہیں جن کے معنی تصویر کی شکل میں ہم پر بہت دیر میں واشگاف ہوئے ہیں۔ اب ”احتساب“ کے لفظ کو ہی لے لیں۔ آنکھیں بند کر کے اس لفظ کو سوچیں تو اپوزیشن کے قریباً ہر رہنما کی تصویر آپ کے سامنے آئے گی مگر حکومت کا کوئی سیاست دان، کوئی وزیر، کوئی مشیر اس لفظ کی قید میں نہیں آئے گا اس لئے کہ ہمیں یہی رٹایا گیا ہے کہ اگر ”احتساب“ ہو گا تو اپوزیشن کا ہو گا اور حکومت کے ارباب بست و کشاد کا اس لفظ سے نہ کوئی تعلق ہے نہ وہ اس لفظ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

Read more

بائیں بازو والے

اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا یا پھر بائیں بازو والا سمجھنا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے کٹر مخالف تو بہت تھے لیکن آج کی طرح انقلاب لانے کے داعی نہیں تھے۔ خدا کو نہ ماننے والے آج بھی بہت زیادہ ہیں یہ اور بات ہے کہ نجی محفلوں میں وہ ملحد ہوتے ہیں اور جلوت میں مومن لیکن جن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ منافقت سے کام نہیں لیا کرتے تھے۔ جب وہ خدا سے ہی نہیں ڈرتے تھے ( کیونکہ ان کے خیال کے مطابق عدم وجود کا خوف چہ معنی دارد والا معاملہ تھا ) تو وہ لوگوں سے بھلا کیوں ہراساں ہوتے۔

Read more

انگریزی ادب میں گوتھک روایت کے کچھ شاہکار

اٹھارہویں اور اننیسویں صدی کے یورپ خصوصاً انگلستان میں خوفناک کہانیوں اور ناولوں کی ایک صنف نے جنم لیا جو گوتھک ادب کہلائی۔ گوتھک ادب کے بنیادی عناصر مخصوص تھے : ایک قدیم قلعہ نما عمارت جس کا ارکیٹیکچر بڑی حد تک گوتھک ہو، آسیبی فضا، پراسرار واقعات، ایک چالاک و سفاک اور بعض حالات میں مافوق الفطرت قووتوں کا مالک ولن، مشکلات میں گھری ہوئی حسینہ اور رومانوی خصوصیات کا حامل ہیرو۔ یوں تو یورپ کی تقریباً ہر زبان

Read more

موریا آتشزدگی: ایک باپ جو یونان میں پناہ گزیں کیمپ کی بجائے اپنے جنگ زدہ ملک میں واپسی کا سوچ رہا ہے

تین بچوں کے والد طالب شاہ حسینی کو یونانی جزیرے لیسبوس میں قائم موریا کیمپ میں رات کی تاریکی میں اس وقت جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا جب ان کے خیمے کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً ایک برس تک انتہائی برے حالات میں رہنے کے بعد اب یہ افغان فنکار اپنے خاندان کو وطن لے جانے کا سوچ رہے ہیں۔

Read more

موٹروے سانحہ اور ورلڈ کرائم انڈیکس میں ہمارے شہر

یہ کہنا کہ جہاں انسان بستے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہو گا، حقائق کے خلاف ہے اور انسانی فطرت کے بھی۔ قتل جیسے جرم کی داستاں ہم تخلیق آدم کے ساتھ ہی سنتے ہیں جب آدم ؑ کے فرزند قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ سو لاکھوں برسوں پر محیط انسان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے کو مکمل طور پرجرائم سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر

Read more

کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

ہماری اماں بڑی فکر مند تھیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم، جس نے جب سے ہوش سنبھالا تو خود کو ’چھٹے‘ کام کرنے والا ’چھوٹا‘ پایا، منے سے تھے تو کبھی بڑی چچی کی چونی لیے خلیل چچا کی دکان سے پان لانے بھاگے جا رہے ہیں تو کبھی ابا کی چلم لیے باورچی خانے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جب ذرا سے اور بڑے ہوئے، یعنی جب اس قابل ہو گئے کہ کتا ہمیں زنجیر سمیت

Read more

اکتاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

میرا مقصد، اکتاہٹ جسے آج کل ”بوریت“ یا ”بور ہونا“ کہا جاتا ہے، کے طبی اسباب بیان کرنا نہیں بلکہ اس کیفیت کے پیدا ہونے کے عمومی عوامل سے متعلق بحث شروع کرنا ہے۔ عام طور پر جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ بے چینی اکتاہٹ کا پہلا مظہر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بے چینی کا باقاعدہ اظہار بھی ہوتا ہو، یہ محض بیکل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے

Read more

حکومت اور حکومت گر دونوں ابہام دور کریں

بات تو درست ہی ہے کہ خاتون رات کے اوقات میں بغیر کسی محرم کے نکلی ہی کیوں تھی۔ پھر یہ کہ اگر سفر ہی کرنا تھا تو بجائے جی ٹی روڈ سفر اختیار کرنے کے موٹروے کو کیوں منتخب کیا مگر ان سب سے پہلے اس بد قسمت خاتون سے یہ پوچھا جائے کہ وہ فرانس جیسے غیر اسلامی ملک سے ایک اسلامی ملک میں تشریف ہی کیوں لائی تھیں۔ نہ وہ پاکستان آتیں، نہ ان کو تنہا گاڑی

Read more

ضمیر اختر نقوی: مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

اپنے قبیلے کا آخری آدمی لفظ کو مجلس میں اکیلا چھوڑ کر دور بہت دور چلا گیا۔ دعوی ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں لکھنو کی تہذیب سے آراستہ پیراستہ آخری مجلس بھی تمام ہو گئی۔

منبر تو پہلے ہی علامہ طالب جوہری اپنے ساتھ لے گئے تھے، پیچھے شمع رہ گئی تھی وہ ضمیر اختر نقوی لے گئے۔ اس خرابے میں اب تقریریں تو بہت ہوں گی مگر جس کی خوبصورتی تلخی میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، وہ زبان نہیں ہو گی۔

Read more

اپنی بیٹی کو پستول کا لائسنس لے دوں؟

گھر سے باہر تھا، بیٹی کا برقی پیغام آیا کہ ”بابا میں سو نہیں پا رہی، مجھے واپس آکے سیلف ڈیفینس کا کورس لے کر دیں یا گن کا لائسنس۔ دماغ میں بہت کچھ چل رہا ہے، یہ معاشرہ رہنے کے قابل ہے؟“ اسے جھوٹی سچی تسلی دی اور اب میری نیند اڑی ہوئی ہے۔ ٹی وی دیکھنے سے تو منع بھی کیا جاسکتا تھا۔ لیکن خبر تو ہوا کے دوش پر ٹی وی اور اخبارسے آگے بڑھ کر فون

Read more

 نئے بھارت میں کرشن چندر کا ممنوعہ افسانہ: جامن کا پیڑ

رات کو بڑے زور کا جھکّڑ چلا۔ سیکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گر پڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑا ہے۔

مالی دوڑا دوڑا چپڑاسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا دوڑا کلرک کے پاس گیا۔ کلرک دوڑا دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا دوڑا باہر لان میں آیا۔ منٹوں میں درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع اکٹھا ہوگیا۔

’’بے چارا! جامن کا پیڑ، کتنا پھل دار تھا۔ ‘‘ ایک کلرک بولا۔

’’اور اس کی جامنیں کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔ ‘‘ دوسرے کلرک نے یاد کرتے ہوئے کہا۔

’’میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر کے لے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔ ‘‘ تیسرا کلرک تقریباً آبدیدہ ہو کر بولا۔

’’مگر یہ آدمی؟‘‘

سب کے سب آبدیدہ ہوگئے۔

Read more

افسانہ: چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا

چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا۔

اس دن موسم کافی خوشگوار تھا۔ اس بات کا احساس اسے ریتلی زمین پر ڈھیر ہوتے وقت ہوا۔ ریت کا سینک قابل برداشت تھا ورنہ اس پہر تک زمین تپ کر تنور ہو جایا کرتی تھی۔ بدلیوں کے باعث آسمان پر نگاہ ٹکانا ممکن تھا۔ ایسے میں اذیت کا واحد سبب وہ گولیاں تھی جو آڑی ٹیڑھی، کچھ اس کے بدن کے پار اور کچھ ابھی بھی اس کے سینے میں پیوست تھیں۔ وہ اپنے دھڑ کے بیچوں بیچ ایک خلا محسوس کر رہا تھا، چھاتی کے پار ہوئے ان چھیدوں کی انفرادیت کا ادرک مشکل تھا، بس ایک خلا تھا جو اس کے پورے وجود کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

Read more

سنہرا اسلامی دور: قرون وسطیٰ کی فارسی شاعرائیں رابعہ بلخی، مھستی گنجوی، جنھوں نے محبت کو ایک نئی زبان دی

عرب مسلمانوں کے دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے بعد پہلی نظر میں قرون وسطیٰ کے ایران میں شاعری کے منظرنامے پر صرف مرد چھائے ہوئے نظر آتے ہیں مثلاً رودکی، فردوسی اور نظامی۔ لیکن سنہرے اسلامی دور کے ادب میں دو اور نام بھی ہیں جنھیں تاریخ نے یاد رکھا اور یہ دونوں نام خواتین کے ہیں۔

Read more

صحافت، سیاست اور کراچی کا پانی

کورونا کی وبا ختم ہوئی تو کراچی پانی میں ڈوب گیا۔ دونوں مرتبہ سیاستدانوں نے جوشیلے بیانات اور الزام تراشیوں کے انبار لگا دیئے۔ ٹی وی چینلز پر خوب مجالس سجیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی ممالک کی نسبت پاکستان نے جلد اس وبا پر قابو پایا ہے۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور جو ادارے اس سلسلہ میں کام کر رہے تھے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ کورونا کا مقابلہ وائرولوجی

Read more

ڈیٹنگ ایپس پر پابندی: پاکستان میں پانچ ڈیٹنگ ایپس پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جُلا ردِعمل

گذشتہ روز پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک پریس ریلیز میں اس اعلان کے بعد سے کچھ صارفین برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ جو افراد اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کا ٹنڈر پر تجربہ اچھا نہیں رہا۔

Read more

باجوہ گھرانے کا کاروبار اور تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت

‎نورانی تحقیقاتی رپورٹ کا ہدف ریٹائرڈ جرنیل اور اس کے اہل خانہ نہیں، مسلح افواج کا ادارہ ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے، جن کا جنرل عاصم سلیم باجوہ سے رشتے داری کا دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی اور امریکی کلاکار اس پر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ‎معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ دو سطری تردید

Read more

اقلیتوں کے حقوق اور آئینی تحفظ

چند روز قبل سینیٹ میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق پیش ہونے والے بل کے مطابق جبری مذہب تبدیلی پر سات سال تک قید اور جرمانہ ہوگا۔ اس بل میں جبری بین المذاہب شادی کروانے والے کو بھی 10 سال تک سزا اور 5 لاکھ جرمانہ کے علاوہ کم عمر مذہبی اقلیت کی شادی کروانے والے کو 14 سال قید اور 5 لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔ بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور توہین

Read more

میر انیس کے گھرانے کی سنّی بہو

خاندانی لوگوں کی پہچان ان کے عمل سے ہوتی ہے۔ احمد نوید نے جب اپنے ابّا سے کہا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چا ہتے ہیں وہ سنّی ہے، تب انہوں نے مسکرا کر کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں، اپنی امی سے پوچھ لو۔ انہوں نے کہا امی سے پوچھ چکا ہوں، انہوں نے بھی یہی کہا ہے ۔ادھر مجاہد بریلوی کی بیگم نزہت شیریں جو ہماری کولیگ تھیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ احمد نوید ہم سے شادی کرنا چا ہتے ہیں تو ہمارے دماغ میں بھی یہی آیا کہ رشتہ فوراً مسترد ہو جائے گا ۔خیر پہلے تو ہم موصوف سے ملے اور سمجھا دیا کہ کو ئی امید نہ رکھیں، رشتے میں بہت بڑا عیب ہے۔ یہ بھی بڑے سیانے تھے۔

مجاہد بریلوی اور شیریں کے ساتھ گھر پہنچ گئے۔ مجاہد بھائی کی سفا رش رنگ لائی۔ پاپا نے رشتہ قبول کر لیا۔ بڑی بہن نے کہا، لوگ کیا کہیں گے۔ بولے جب ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی خود کر رہا ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہو تی کہ کو ئی کچھ کہے۔ شاندار مہندی ،شاندار بری، مگر یہ سب امی ( ساس ) کے رکھ رکھاؤ اور سلیقہ مندی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔ ورنہ امی تو اپنی شاہی ذندگی کے ساری آسائشیں انڈیا میں چھوڑ آئی تھیں۔ اور وہاں سے شاہی وقار اور تمکنت کے ساتھ صبر و قناعت کی دولت سمیٹ لائی تھیں۔ پاپا کی منشاء کے مطابق سنّی طریقے سے نکاح ہوا ، سسرال میں ابّا ( سسر ) نے صیغے پڑھے اور یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔ کچھ دن بعد محرّم آ گئے ۔

Read more

اردو شاعری اور ہماری جنگ آزادی

اردو زبان و ادب خصوصاً شاعری اپنے ابتدائی دور سے ہی جہاں پیار و محبت کے نغمے سناتی رہی وہیں انتشار و احتجاج کے رنگ بھی اس میں نمایاں رہے۔ دراصل زبان کوئی بھی ہو اس کا ادب ہمارے جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے چنانچہ یہاں بھی اس وقت جب مطلق العنان بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی شعرا نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر احتجاج کی آواز بلند کی اس کی ایک بڑی مثال جعفر زٹلی

Read more

امریکی انتخابات 2020: مائیک پینس پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب بننے کے امیدوار، ان کا نعرہ طنز و مزاح کا شکار

امریکہ میں رواں سال انتخابات کے دوران مائیک پینس ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ کے نائب صدر کے امیدوار ہوں گے لیکن اس دوران ان کا نعرہ ’میک امریکہ گریٹ آگین، آگین‘ طنز و مزاح کا مرکز بنا ہوا ہے۔

Read more

مردوں کی دنیا میں عورتوں کا گاڑی چلانا

مان لیا حضور، عورت بنی ہی اسی لئے ہے کہ اس پہ پھبتیاں کسی جائیں، حظ اٹھایا جائے، ایک آنکھ میچ کے، قہقہہ لگا کے! ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں کہ معاشرے کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ یہی تو سنتے، سہتے زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس عمر تک آن پہنچے ہیں۔ قلم اٹھانے پہ اس لئے مجبور ہوئے ہیں کہ دل پہ چوٹ سی لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی

Read more

کیا حضرت عیسی بلوچ تھے؟

اس جملے پر آدھا پاکستان معترض ہوا۔ جن خاتون نے یہ ”منقول“ کیا، یعنی خود نہیں لکھا، ان کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بپا کر دیا گیا۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ کہنا یا ہونا اتنی بری بات ہے کہ اگر یہ پوچھ لیا جائے تو توہین مذہب کا ارتکاب ہو جاتا ہے؟ دوسرے کیا اس منقول مزاح کو کوئی باشعور اور حساس پاکستانی واقعی مزاح یا مذاق سمجھ سکتا ہے؟ ”اٹھا لیا جانا“ ۔۔۔ اس اصطلاح

Read more

خواتین ڈرائیورز اور حقوق مرداں

خواتین ڈرائیورز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسمانی ستاروں کی طرح ہوتی ہیں کہ ہم تو انہیں دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتیں۔ ذاتی طور پر میں خواتین کی ڈرائیونگ سے بے حد متاثر بلکہ متاثرہ ہوں۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے میں خواتین کی بے پناہ صلاحیتوں سے بخوبی و ”مضروبی“ واقف ہوں۔ سڑک پر گاڑی چلانے کے حوالے سے ان قابل احترام خواتین کے ساتھ سرراہ اتنی بار مڈبھیڑ ہو چکی ہے کہ

Read more

محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے

Read more

قومے فروختند: کسی نے دریا بیچے اور کسی نے سفارت خانے

پاکستان میں احتساب کا جنازہ کیسے نکلتا ہے، مجرم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ انڈونیشیاءاور جاپان میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارتوں کی فروخت کی چونکا دینے والی داستان سے بڑھ کر اس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ میجر جنرل (ر) مصطفی انورحسین سید اور کامران نیاز وقت کی دھند میں نہ جانے کہاں گم ہوچکے ہیں لیکن قوم کو نقصان پہنچنے اور اس کے ازالے کی لاٹھی جرم کے سانپ نکل جانے کے برسوں بعد بھی برس رہی ہے اور

Read more

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔ یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔ رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔ بہتیرا ہڑپ کر بیٹھے ہو فلسطین کو، مزید آگے بڑھو گے تو اچھا نہ ہوگا۔ مگر یہ اپنے؟ متحدہ عرب امارات اور اس کے حالی حوالی سب، کچھ اندر خانے ملے ہوئے اور کچھ اب کھل کھلا کر

Read more

پروٹسٹنٹ ازم اور ہندوستان میں بھگتی تحریک

اس مضمون کے پہلے حصوں میں ہم نے دیکھا تھا کہ کن حالات میں مذہبی اصلاح پسندوں نے کلیسائے روم کو للکارا اور پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ میں مذہب کی نئی تشریحات کی جانے لگی تھیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہندوستان اور یورپ کے مابین کیا فرق تھے جن کے باعث یہاں کی مذہبی تحاریک نے مختلف راستے اختیار کیے تھے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مذہبی دھاروں نے کیسے برصغیر کے روحانی نقشے

Read more

مسلم لیگ (نون) اور پیپلزپارٹی کا اپنے گناہوں کا کفارہ

شیکسپیئر کا شہرہ آفاق کردار ہملٹ ایک انتہائی ڈرامائی مقام پر جھلاہٹ میں سوال اٹھاتا ہے:”Where is thy Blush”سادہ لفظوں میں وہ یہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ چہرے پر شرمندگی کے باعث نمایاں ہوئی سرخی کہاں گئی۔ ایسی ہی سرخی میں بدھ کی شام مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے معزز اراکین سینٹ کے چہروں پر تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔مجھے ہرگز نظر نہیں آئی۔ شاید دور کی نظر مزید خراب ہوگئی ہے۔عینک کے شیشے بدلوانے

Read more

پروٹسٹنٹ ازم اور ہندوستان میں بھگتی تحریک

مضامین کے زیر نظر سلسلے کے گزشتہ حصوں میں ہم نے دیکھا تھا کہ کن حالات میں مذہبی اصلاح پسندوں نے کلیسائے روم کو للکارا اور پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ میں مذہب کی نئی تشریحات کی جانے لگی تھیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہندوستان اور یورپ کے مابین کیا فرق تھے جن کے باعث یہاں کی مذہبی تحاریک نے مختلف راستے اختیار کیے تھے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مذہبی دھاروں نے کیسے برصغیر

Read more

دو کھڑکیوں والا نیشنل کا اصلی ٹیپ ریکارڈر

دریاؤں کے کنارے تہذیبوں کے پالن ہار ہوتے ہیں ان کی فطرت میں دین ہے، لین کا کوئی تصور نہیں۔ شیرو اپنی یہی دریائی فطرت لے کر روزانہ گدائی کے لئے شہر آتا تھا۔ اس نے گلی گلی مانگنے کی بجائے اپنا ایک ہی ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ پرانے کیتھولک چرچ کے پچھواڑے میں جانی میوزک ہاؤس۔ وہ جاوید جانی کا یہ ہاؤس کھلنے سے پہلے ہی خدا کے گھر کی دیوار سے پشت لگا کے بیٹھ جاتا۔ جو دے

Read more

سلطان جمیل نسیم۔۔۔ اپنے فن کے آئینے میں

(یہ مضمون CANADA INTERNATIONAL COUNCIL OF ARTS کی AUGUST 16 TH، 2020 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ میزبان تھے شعیب ناصر اور ڈاکٹر بلند اقبال) خواتین و حضرات! آج ہم سب سلطان جمیل نسیم کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ایک منفرد اور ہمہ جہت افسانہ نگار تھے۔ مجھے مئی 2007 کی وہ حسیں اور خنک شام یاد ہے جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون

Read more

دلیپ کمار نے انکل سرگم کو پٹائی سے بچا لیا

سفارت خانے کی تقریب جاری ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے یا تو تعارف حاصل کر رہے ہیں یا اپنی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ ہر کسی کی توجہ دلیپ صاحب پر ہے۔ وہ اس وقت مرکز نگاہ ہیں۔ اب سفیر، دلیپ کمار صاحب کا تعارف فاروق قیصر سے کرا رہے ہیں۔ دلیپ صاحب، انکل سرگم کے سراپے سے تو بہ خوبی متعارف ہیں، مگر منظر پر دکھائی نہ دینے والے، فاروق قیصر سے تعارف تو بنتا ہے۔ وہ فاروق

Read more

جوزف سٹالن کی بیٹی اور بھارتی راجکمار کا رومان

ایک ڈھلتی عمر کے چھوٹے قد والے اور صحت کے مسائل سے دوچار بھارتی راجکمارسے سوویت روس کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ یہ خیال تھا ولادیمیر سیمی شاستنی کا جو 60 کی دہائی میں کے جی بی کے سربراہ تھے۔ اگر انھیں رتی بھر بھی اندازہ ہوتا کہ اس بھارتی رئیس اور جوزف سٹالن کی بیٹی سویتلانا آلیلویوا کی وجہ سے ان کا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا تو شاید ان کی سوچ مختلف ہوتی۔ کریملن کی

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’آخری لفظ‘ کی یاترا

شال (کوئٹہ) کے قدیم محلے کی کنج گلی میں روایتی مکان کے روشن کمرے میں اجلی آنکھوں اور کشادہ پیشانی والے ’نکے ویر‘ فارس مغل نے مجھے اپنائیت کے ساتھ، خلوص میں ڈوبے لفظوں سے آراستہ ”آخری لفظ“ ہاتھوں میں تھامنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے لیے ’شکریہ‘ لفظ بہت معمولی ہے۔

” آخری لفظ“ فارس مغل کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ جس میں بیس افسانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں۔ اسے صریر پبلیکیشنز لاہور نے کتابی شکل میں دلکش اور بامعانی سر ورق کے ساتھ جولائی 0202 شائع کیا۔ اس سے قبل فارس کے دو ناول بعنوان ’سو سال وفا‘ اور ’ہمجان‘ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان ناولوں کونہ صرف وطن عزیز بلکہ ہندوستان کے علاوہ جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں، بے حد پسند کیا گیا۔ فارس نظم کا شاعر بھی ہے، ذرا ایک بار اس کا شعری مجموعہ ’سرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں‘ پڑھ کر دیکھ لیں۔

Read more

پاکستانی سیاست کے ابتدائی دس سال

ہندوستان میں گورنر جنرل کا عہدہ 1773 میں پہلی بار فورٹ ولیم میں وجود میں آیا جہاں وارن ہیسٹنگزکو ایسٹ انڈیا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پہلا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد پورے ہندوستان پر تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہوئی تو گورنر جنرل کا عہدہ بھی ہندوستان پر نافذ کیا گیا۔ متحدہ ہندوستان میں گورنر جنرل تاج برطانیہ کا نمائندہ کہلاتا تھا اور گورنر جنرل کو وائسرائے کا

Read more

اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج سے تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے، یہاں لکھنؤ کے گنگا پرساد میموریل ہال میں آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد تھا، یہ شاید میری زندگی پہلا آل انڈیا مشاعرہ تھا، ان کم عمری والے دنوں میں مجھے بس تھوڑی بہت اردو پڑھنی آتی تھی، مگر شعر فہمی کا خیال تو بعید از قیاس تھا، پھر بھی میں اپنے کچھ خاص عزیزوں کی

Read more

راحت اندوری : ایک بلند آواز جس کی ضرورت تھی

وہ مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا۔ اس کا قہقہہ مشہور تھا۔ سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں اور اس کی اس کی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے۔ میں کیوں لکھتا اس پر؟ لکھتا تو سنجیدہ مہذب دانشوروں کے درمیان نشانہ بن جاتا۔ بازارو اور مشاعرہ باز۔ یہ کوئی شاعری ہے؟ مگر ایوان سیاست میں اسی کے نام سے زلزلہ آ جاتا تھا۔ جب وہ کہتا تھا،

تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔
اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ۔ ہم بھی کسی آندھی، کسی طوفان سے کم نہیں۔ ہم سے مت ٹکراؤ۔

Read more

مساجد کا تقدس آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی!

مقدس مقامات سے عقیدت و احترام ہر پاکستانی کے ایمان کا حصہ ہے، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی پاکستانی قانون میں گنجائش ہے نہ ہی معاشرتی اقدار ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے باوجودایک نجی پروڈکشن کمپنی نے مسجد وزیر خان میں ریکارڈنگ کے لئے وضع کیے گئے قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے رقص اور قابل اعتراض عکسبندی کی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ مغلیہ دور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں عسکبندی کی

Read more

پنجاب اسمبلی کا دستی بم

یہ تو وہ قصہ ہے جو کھل گیا۔اب تک نہ جانے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ایسے کتنے قوانین منظور کر چکی ہیں جنھیں صرف مرتب کرنے یا کروانے والوں نے ہی پڑھا ہو گا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

سانگھڑ میں امریکن کونسلیٹ

مختلف ممالک میں بکھرے ہمارے اہل خانہ کا اصرار تھا کہ سبز پاسپورٹ پر امریکی ویزہ کی معیاد ختم ہوتی ہے۔ اس کی تجدید کرا لیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو سختیاں کریں گے۔ ہم نے کہا بھی کہ امریکہ کی محبت ماں جیسی ہے۔ مالدار سابق فوجیوں، میمنوں اور ایک پارٹی کے سیاست دانوں کو ان کے مال مسروقہ کی فراوانی کی بنیاد پر برطانیہ اور امریکہ ویزہ پٹزا کی ہوم ڈلیوری والوں کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔

Read more

عیاں کچھ بھی نہیں

بہت پہلے کسی صاحب نے مفروضہ پیش کیا تھا کہ شدید گرمی کے سبب پا کستانی لوگ ”لیتھارجی“ یعنی کچھ نہ کرنے کی عادت کا شکار ہیں۔ یہ تھا تو طنز ہی لیکن بہرحال قابل غور نکتہ یہ تھا کہ لیتھارجی سے نجات کا مداوا کیا ہو؟ گرمی میں لسی پی جاتی ہے اور لسی پی کر سونے کو دل کرتا ہے۔ اس بارے میں ایک زمانے میں جب بہت سے لوگ کمیونسٹ یا سوشلسٹ انقلاب لانے کی خواہش رکھتے

Read more

کیا وزیراعلیٰ پنجاب کی اننگز ختم ہو رہی ہے؟

تحریک انصاف کی حکومت کو بنے ہوئے دو سال کی مدت گزر چکی ہے۔ بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کے باوجود کپتان کی ٹیم پرفارمنس دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ اب یہ ٹیم کی نااہلی ہے یا پھر کپتان کی گرفت کمزور رہی یا پھر اقتدار میں آنے سے قبل ہوم ورک نہیں کیا گیا تھا۔ وجہ جو بھی ہو اس وقت سیاسی مخالفین حکومت کو ناکام حکومت کا خطاب دے رہے ہیں جبکہ حکومتی حمایتی دھیمے لہجوں میں حکومت

Read more

کالی بلی راستہ کاٹ گئی۔ ۔ ۔

”یار کہاں رہ گئیں تم؟ کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں تمھارا۔ ۔ ۔“ نائلہ نے کال ملتے ہی جھنجھلا کر پوچھا۔ ”آ رہی ہوں، بس تم دروازہ کھولو میں پہنچنے والی ہوں“ ماہا نے پھولی ہوئی سانس میں جواب دیا اور کال کاٹ دی۔ نائلہ نے تیز نظروں سے موبائل کو گھورا جیسے اس میں سے ہی ماہا کو کچا چبا جائے گی اور موبائل پٹخ کر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی۔ ” بیٹھ جاؤ آرام سے بس

Read more

کارو کاری

”ادا۔ ۔ ۔ ادا۔ ۔ ۔ ادی زرینہ کی شادی ہو رہی ہے۔“ دس، گیارہ سالہ شاہدہ جو دوڑتی ہوئی ایک سمت سے آ رہی تھی، اسے روک کر بتانے لگی۔ شاہدہ کا سانس پھولا ہوا تھا، مراد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”تو نے کیا دیکھا؟“ ”ادی زرینہ دلہن بنی ہوئی تھی۔ ادا۔ ۔ ۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ’ادی سارہ‘ سے بھی زیادہ اچھی۔“ ”ہوں“ مراد نے ہنکارا بھرا۔ ”اور کون کون تھا اس کے

Read more

کچھ ذکر قدرت اللہ شہاب کا

پاکستان کے ادیب بیورو کریٹس میں قدرت اللہ شہاب کا نام بہت معروف اور نمایاں ہے، تاہم بعض لوگ ادب سے زیادہ بیو رو کریسی میں ان کے کلیدی کردار کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بعض تنازعات بھی ان کی ذات اور شخصیت کے ساتھ منسوب رہے، مثال کے طور پر ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈی نینس، پریس ٹرسٹ بنا کر کچھ آزاد اخبارات کو قومی تحویل میں لینا، رائٹرز گلڈ کا قیام،

Read more

امجد محمود چشتی کی کتاب ”سیاست کا جغرافیہ“ اور اینیمل فارم

پاکستان کی قومی سیاست کو ضابطہ تحریر میں لاؤ یا عالمی حالات حاضرہ کو زیر بحث، عموماً دونوں پر ہی دل جلتا ہے چنانچہ اس بار یہ طے کیا کہ جی چاہے جلے مگر جلانا نا تو سیاست کی ستم ظریفیوں پر ہے نہ ہی عالمی منظر نامے کی چیرہ دستیاں اس کا سبب بننا چاہیے۔ ادب اور وہ بھی عالمی ادب زمانہ طالب علمی سے ہی اس طالب علم کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ دل تو اس کو بھی پڑھ کر بسا اوقات بہت جلتا ہے لیکن فکشن کا تصور کر کے جی ہلکا بھی ہوجاتا ہے۔

Read more

نئے خلیفہ کی ریاست مدینہ اور میرے پیر و مرشد

موجودہ سیاسی افکار کے عظیم مدبر اور خلیفہ حاضر الوقت عمران خان نیازی نے جس دن مملکت خداداد پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا عہد و پیمان کیا تھا اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرکاری طور پر سود کی شرح چھ فیصد سے قدرے اوپر تھی۔ آنے والے خلیفہ کا ریاست مدینہ کا وعدہ میرے جیسے تھوڑے جذباتی مسلمانوں کو موجودہ ظالم طاغوتی نظام کے خلاف کلمہ حق لگا۔ میرے رہبر شیخ پیر طریقت جن کی شخصیت نے

Read more

اسمبلیاں اور ہمارے نمائندوں کی گالی گلوچ

ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ سیاست عبادت کی طرح ہی مقدس کام ہے، آپ سیاست کے ذریعے ہی لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں، اور اس خدمت کی بدولت ہی لوگوں کی دعائیں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر ابراہم لنکن کے برعکس موجودہ دور میں لوگ لوٹ کھسوٹ، کرپشن، اقرباءپروری، اپنے حریفوں سے انتقام لینے کی خاطر ہی سیاست میں آتے ہیں۔ ہر 5 سال بعد اربوں کے خرچے سے انتخابات منعقد کیے جاتے جبکہ منتخب کردہ نمائندوں

Read more

یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو

یہ بات سچ ہے کہ کئی دہائیوں کے کڑے اور تھکا دینے والے مسلسل سفرکے بعد اردو غزل کی انگڑائیاں ابھی تک بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وطن کی مٹی کی حفاظت کے لیے جہاں ہر محکمے اور ادارے نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے اور کسی حد تک ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی وہاں ادب اور ادیب نے بھی اپنے کاندھوں پر لی گئی ذمہ داریاں خوب نبھانے کی

Read more

واہگہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ: کیا عمران خان بھی مودی کا یار ہے؟

یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ یار بیلی مل بیٹھیں اور گفتگو کا رخ پھرتے پھراتے نیرنگی سیاست کی جانب نہ ہو جائے۔ دو دن ہوتے ہیں جب ہم تین دوست مل بیٹھے۔ یادوں کی پٹاری سے گئے دنوں کے قصے نکل کر سامنے آتے گئے اور ہم ان سے وابستہ ”شرارتوں“ سے لطف اٹھاتے رہے۔ بات چل نکلی تو بچھڑے ساتھیوں سے جڑی یادیں قطار در قطار سامنے آتی چلی گئیں۔ گاہے کسی واقعہ کی یاددہانی پہ قہقہے بلند ہوتے، گاہے شرارتی مسکراہٹ لبوں پہ پھیل جاتی۔ بیتے دنوں کی یاد دہانی سے ماحول نہ صرف خوشگوار ہو چلا تھا بلکہ چہروں پہ خوشی کے دیے بھی تمتما اٹھے تھے۔ نہ جانے کیسے یادوں سے حظ کشید کرتے بات سیاست سے ہوتے ہوئے خان سرکار کی کارکردگی جانب مڑ گئی۔

سماجی طور پہ متحرک، فعال سیاسی کارکن اور ہمارے دوست ملک محمد عامر نے خان سرکار کی اب تک کی کارکردگی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے روایتی الزام کا سہارا لیا کہ خان سرکار ”مودی کے یار“ کا کردار نبھانے چلی ہے۔ حیرت سے جب ہم ان کا منہ تکنے لگے، تب انہوں نے اپنے لگائے الزام کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ: ”خان سرکار نے بھارت کو واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان بھی اس روز کیا گیا جس دن کشمیری ’یوم شہداء کشمیر‘ منا رہے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ایک طرف خان سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے خود کو دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر گردانتی ہے تو دوسری جانب کشمیریوں پہ جبراً قابض بھارت کو غیر مشروط تجارت کی آزادی دیے جا رہی ہے۔ یہ دوہرا اور منافقانہ طرز عمل کیوں؟“

Read more

آہ! پروفیسر عنایت علی خان

دو ہزار سات یا آٹھ کی بات ہے رات کے کوئی نو بجے میرے بھائی کا فون آیا مشاعرے میں چل رہے ہو؟ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، میں نے فوراً کہا چلو۔ بھائی نے کہا، تو میرے پاس آجاؤ۔ ڈیفنس سے اٹھ کر فوراً ہی بھائی کے پاس این ای ڈی کی اسٹاف کالونی میں ان کے گھر پہنچا اور وہاں سے ہم دونوں اسٹیل ٹاؤں یعنی گلشن حدید کے لیے چل پڑے جب مشاعرے میں پہنچے تومشاعرہ اپنے

Read more

آزاد امریکہ کے قید خانے اتنے آباد کیوں ہیں؟

جب میری ملازمت امریکہ کی ایک جیل میں بطور منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ کے ہوئی تو کرم فرمائی کے دعویدارایک حضرت نے کچھ تمسخر اور کچھ طنز سے فرمایا، ’’ضرور کام کیجیے وہاں۔ تاکہ آپ کے سوشل ورک سے متعلق آئیڈیلزم کا نشہ تو اترے‘‘۔ میں نے اس ملازمت کو کچھ خوف اور بے یقینی کے عالم میں شروع کیا۔ مگر آج میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ ملازمت میری زندگی کا سب سے

Read more

چارلس ڈکنز: معاشرے کا نباض ادیب

کسی بھی ا دیب کی حالات زندگی سے اس کی تخلیقات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے چارلس ڈکنز 7 فروری 1812 ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ ڈکنز کا بچپن انتہائی نامساعد حالات میں گزرا۔ اس کا باپ بحری pay office میں کلرک تھا یہ خاندان نے نچلے اور اوسط طبقے سے تھا باپ john کا تعلق نوکروں کے خاندان سے تھا ماں الزبتھ معمولی بیوروکریسی میں سے تھی اقتصادی طور پر یہ خاندان غیر

Read more

ہم سب کے مدیر کے نام کھلا خط!

محترم مدیر، ہمارا تیکھے پن کا شوق کچھ یوں ہے کہ چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی۔ چلیے، اتنا فائدہ تو ہوا کہ ہمارے کالم پہ آپ کے لعل وگوہر کی عنایت ہوئی۔  ہم نے اب تک "ہم سب” پر ایک سو پچانوے کالم لکھے اور آپ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ستر فیصدی کالم ہم نے جھوٹے سماجی رویوں کا نقاب نوچتے ہوئے لکھے ہیں۔ سماج اور معاشرت کا زہر عورت کو کیا سے کیا بنا

Read more

ینگو ورما: زندگی رکے گی نہیں

جب سے ہماری جنریشن کے لوگوں نے سالگرہ منانی شروع کی ہے تب سے ہی میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجودمیری سالگرہ آبھی جاتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے۔ اور پتہ نہیں ایسا کیا ہے کہ ہوتی بھی خوب دھوم دھام سے اور پیار خلوص سے ہے اور مجھے حیرت ہو تی ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی کو مجھ پر پیار آیا ہی ہو تا ہے۔ ایموجیز کا رواج ان پیج میں نہیں ہے ورنہ پچھلے جملے

Read more