حضرت محمد ﷺ کے بعد حالات کچھ ایسے بنے کہ صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ان حالات میں مؤرخین کے مطابق فتنے کو ٹالنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں دکھتا تھا سوائے اس کے کہ فوری کسی سربراہ کا تعین ہو۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ اہل بیت صحابہ کرام کی جماعت کے اس فیصلے پر کچھ خاص خوش نہیں تھے۔ حضرت فاطمہ باغ فدک کے فیصلے پر جبکہ حضرت علی مشاورت میں اہل بیت کو نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہوئے۔
حضرت ابوبکرؓ عین جمہوری اصول پر جب سربراہ منتخب ہوئے تو انہیں خلیفۃ الرسول یعنی رسولؐ کا جانشین کہا جانے لگا۔ سو خلیفہ کوئی دینی ٹرم نہیں بلکہ عربی کا ایک لفظ ہے۔ حضرت عمرؓ پر جب سب کا اتفاق ہو گیا تو انہیں خلیفۃ خلیفۃ الرسول یعنی رسول اللہ کے جانشین کا جانشین کہا جانے لگا تاہم انہیں جب لگا کہ یہ خطاب آئندہ مزید لمبا نہ ہو جائے تو انہوں نے امیرالمومنین کا خطاب پسند کیا۔
Read more