ٹھک ٹھک ٹھک۔ طاہرہ کاظمی۔
ہر ماہ کی تیسری تاریخ ایک مخصوص دستک کے ساتھ جب نام سنائی دیتا تو ہمارے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ چارپائی کے نیچے رکھی جوتی پہن کر دروازہ کھولتے تو بلاک کا چوکیدار کہہ رہا ہوتا، ڈاکیہ بلا رہا ہے جی آپ کو۔
بلاک کے دروازے سے داخل ہوتے ہی مین لابی تھی اور وزیٹر وہیں تک آ سکتے تھے۔ وزیٹر آ کر چوکیدار کو کمرہ نمبر اور لڑکی کا نام بتاتا اور چوکیدار کمرے تک جا کر اطلاع پہنچاتا۔
ڈاک آنے کا سلسلہ کچھ یوں تھا کہ ہر روز رنگا رنگ لفافوں کا انبار ہوسٹل تک پہنچتا۔ شہر شہر سے آئے ہوئے محبت نامے۔ ڈاکیہ لفافوں کی چھانٹی کرتا اور ہر بلاک کی ڈاک لابی میں پڑے ہوئے ایک بنچ پر رکھ جاتا۔ لڑکیاں جب کالج سے واپس آتیں، بے تابی سے بنچ کی طرف بڑھتیں۔ جس کسی کا نام نظر آتا وہ کھلکھلا کر لفافہ اٹھا لیتی۔ باقی چپ چاپ ڈائننگ روم کی راہ لیتیں۔
Read more