امیر فرانسیسی بیوہ اور مراکش کا مالی: ایک پراسرار قتل کیس 30 سال بعد دوبارہ زندہ کیوں ہو گیا؟

عمر الرعداد کے ہاتھوں 1991 میں 65 سالہ خاتون کے قتل کے مقدمے نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مقتولہ گشلین مارشل ناصرف ایک بیوہ تھی بلکہ امیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی جب کہ 29 سالہ تارک وطن ملزم عمر الرعداد کا تعلق مراکش سے تھا جو بطور مالی مقتولہ کے گھر میں کام کرتا تھا۔

Read more

دو المیے: 16 دسمبر 1971۔ 16 دسمبر 2014

جب بھی 16 دسمبر (1971) آتا ہے تو مشرقی پاکستان میں کھیلی گئی خون کی ہولی روح و قلب کو تڑپا دیتی ہے۔ اب ایک دوسرے 16 دسمبر (2014) کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے سفاکانہ قتل عام (Massacre) کی نہ ختم ہونے والی آہیں چین سے جینے نہیں دیتیں۔ کیا کیا انسانی المیے ہیں جو خونیں تقسیم سے اب تک بے کس عوام نے نہیں دیکھے۔ 25 مارچ 1971کو ڈھاکہ یونیورسٹی پہ جو شب خون مارا

Read more

16/17 ​د​سمبر کی درمیانی شب ۔۔

غنیمت ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کے نشۂ قوت کی بدمستیوں اور خوش فہمیوں کا پردہ 50 برسوں میں کلی طور پر چاک ہوچکا ہے۔ بنگلادیش بنانے والوں کی فریب کاریوں کے نقاب تاریخ الٹ رہی ہے۔ ثابت ہوچکا کہ بنگلادیش بنانے کے لئے بھارت کے ساتھ مل کر سنگین سازش رچائی گئی۔ بھارت کا سقوط ڈھاکہ میں کلیدی کردار تھا۔ سرکاری و سیاسی سطح پر ہندو انتہاپسندوں کا کھلا اعتراف ثابت کرچکا کہ ملک کا بدترین

Read more

شیخ مجیب الرحمن غدار نہیں تھا

50 برس بیت گئے، ملک دو لخت ہوگیا، دسمبر شروع ہوتے ہی ملک ٹوٹنے پر ٹسوے بہائے جاتے ہیں، کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا، وہی پرانی چال ، ڈھال، طریقہ واردات جاری ہے، ملک تباہی کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے مگر اب تک محب وطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے جس نے ملک کے لئے آواز اٹھائی اس کو غدار قرار دیدیا گیا، ہم پاکستانیوں نے عجیب قسمت پائی ہے، ملک تڑوا کر بھی

Read more

جب مسئلہ کشمیر چو این لائی کے دورے کا شکار ہوا

چند دن پہلے عرض کیا تھا کہ صدر جے ایف کینیڈی مسئلہ کشمیر کے حل کا پر جوش حامی تھا۔ لیکن انہوں نے جو "سٹیٹس کو” کی بات کی مسئلہ کشمیر عملی طور پر اس کا شکار ہو گیا۔  اور آج تک اس کا شکار ہے۔ کینیڈی کی موت کے فورا بعد امریکی حکام کے لیے پاکستان چین تعلقات کا آغاز بہت بڑی دلچسپی اور تشویش کا باعث بن گیا۔  یہ مسئلہ امریکہ کے لیے ایک چیلنج بن گیا، جس کی وجہ

Read more

پاکستان کو دولخت میں شیخ مجیب الرحمن کا کردار

پاکستان کو دولخت کرنیوالوں میں سے ایک اہم کردار شیخ مجیب الرحمن کا تھا یہ بھارت کا ایجنٹ اور پروانڈین تھا۔ پاکستان توڑنے میں اس کا بنیادی کردار تھا اور بنگالیوں کو اسی نے میر جعفر کی طرح بھارت کو بیچ دیا تھا شیخ مجیب الرحمٰن 17 مارچ 1920ء کو ضلع فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں اسلامیہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور علم سیاسیات میں بی-اے کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1943ء سے 1947ء تک وہ کل ہند مسلم لیگ کی کونسل کے رکن رہے۔ 1945ء تا 1946ء وہ

Read more

ایک تھا ’مشرقی پاکستان‘

حسرت ہی رہی مشرقی پاکستان دیکھ سکوں۔ میں 13 سال کا تھا جب یہ سانحہ رونما ہوا اب اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ تو ایک طویل بحث ہے مگر مجموعی طور پر ہم مغربی پاکستان والے ہی اس کے ذمہ دار ہیں ورنہ دنیا میں کبھی اکثریت بھی اقلیت سے الگ ہوئی ہے؟ کل 16 دسمبر ہے یعنی اس بات کو پورے پچاس برس بیت گئے اور یہ خبر بھی بی بی سی سے سنی، ہمارے میڈیا میں

Read more

پاکستان کیسے ٹوٹا؟ ناقابل تردید حقائق

جب بھی 16 دسمبر قریب آتا ہے تو پاکستان میں یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ 1971ء میں پاکستان کیوں ٹوٹ گیا تھا؟ کیا پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ دوسری طرف دسمبر کے آتے ہی بنگلہ دیش میں بھی یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان سے علیحدگی اختیار کی تھی، آج کے بنگلہ دیش میں وہ مقاصد حاصل ہوئے یا نہیں؟  پاکستان اور بنگلہ

Read more

بنگلہ دیش کے قیام کے 50 سال: ’مشرقی پاکستان کے سبز کو سرخ کر دیا جائے گا‘ کس نے اور کیوں کہا تھا؟

بنگلہ دیش میں ہر سال 14 دسمبر کو ’شہید بدھی جیبی دبوش‘ منایا جاتا ہے جس کا سلیس اردو میں ترجمہ ہوگا ’شہید کیے گئے دانش وروں کا دن۔‘ یہ دانش ور کون تھے اور ان کا قتل عام کس نے کیا؟

Read more

سقوط ڈھاکہ: ’جب اطلاعات کا بہاؤ رک گیا اور مغربی پاکستان والوں نے کہا، شیخ مجیب غدار ہے‘

سقوط ڈھاکہ کے موقع پر پاکستان کے حکمراں طبقات اور ذرائع ابلاغ نے جو طرز عمل اختیار کیا تھا، اس کی ابتدا اس بہت بڑی فوجی ہزیمت کے موقع پر نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے آثار مارچ 1971ء کے بعد سے دکھائی دینے لگے تھے جب یحییٰ خان نے اس ماہ کی 25 تاریخ کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا۔

Read more

مذہبی کارڈ ہی تو سیاست کا حسن ہے

جس طرح خوانچہ فروش دو وقت کی روٹی کے لیے موسم کا پھل اور سبزی بیچنے پر مجبور ہیں اسی طرح اقتداری خوانچہ فروشوں کا دھندہ بھی جیسا موسم ویسا پھل، جیسی جگہ ویسی بات، جیسا منھ ویسی چپیڑ، جیسا گاہک ویسا ریٹ کے اصول پر چلتا ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ کا کالم۔

Read more

حیدرآباد میں وہ گھر جہاں فلم اسٹار محمد علی نے بچپن اور جوانی گذاری

سال 2009 سے جب سے میں نے صحافت میں قدم رکھا ہے، اس دن سے لے کر آج تک حیدرآباد کے علاقے گاڑی کھاتہ کی تنگ اور بوسیدہ گلیوں سے سیکڑوں بار گزر چکا ہوں۔ ان گلیوں میں موجود انگریز دور کی عمارتوں کو دیکھ کر مجھے ڈر سا لگنے لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ان قدیم عمارتوں کو خریدنے کی بات کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے :
”کیوں کہ یہ عمارتیں ہندوں کی چھوڑی ہوئی ہیں، اس لئے ان میں بھوت اور آسیب پائے جاتے ہیں۔ “

یہ سن کر ڈرے اور سہمے ہوئے لوگ اور بھی زیادہ ڈر جاتے ہیں اور ان قدیم عمارتوں سے دور بھاگتے ہیں۔ اور پھر ہوتا یوں ہے کہ کوئی بلڈر ان آسیب زدہ عمارتوں کو گرا کر وہاں فلیٹوں کی اونچی عمارت کھڑی کر دیتا ہے جس کے بعد بھوت اور آسیب بھاگ جاتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو گاڑی کھاتہ کی ان تنگ اور بوسیدہ گلیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی اور جتنا جلدی ہوسکے میں وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر کچھ دن قبل میرے ایک دوست ڈاکٹر سنتوش کامرانی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے بتایا کہ:
”کیا تم جانتے ہوکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار محمد علی صاحب کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ “

Read more

پاکستان کھپے کے ترجمان کی دبنگ انٹری

حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں معقول ووٹ حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں اپنے مخالفین خاص کر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کے انداز بیاں اور جیالوں کے جوش و خروش سے ایک چیز بالکل عیاں تھی کہ پیپلز پارٹی اب مستقبل میں مفاہمتی سیاست کا کوئی موڈ نہیں رکھتی۔ اس موقع پر ایک سرگرم کارکن

Read more

تقریب پذیرائی سے پہلے ضروری تھا

وزیراعظم نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سری لنکن انجینئر کی جان بچانے والے پاکستانی شہری ملک عدنان کے اعزاز وزیراعظم ہاوٴس میں منعقد کی جانے والی تقریب پذیرائی کی ستائش ہر کوئی کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے ملک عدنان کی جوانمردی، جگر کاوی اور بے مثال بہادری کی بجا تعریف کی۔ ملک کے بیشتر حلقے اس بہادر جوان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقعے پر ایک جذباتی خطاب بھی فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ

Read more

جب کینیڈی نے پنڈت نہرو کے بازو مروڑے

گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں یہ عرض کیا تھا کہ سن انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ کے بطن سے جنم لینے والے حالات و واقعات نے صدر ایوب اور دیگر پالیسی سازوں کو پریشان کر دیا تھا۔ امریکہ کے ساتھ مضبوط رشتہ استوار کرنے کے لیے آج تک ان لوگوں نے جو محنت کی تھی، وہ رائگاں جاتی نظر آ رہی تھی۔ ان کو اپنی بر سہا برس کی بنائی ہوئی پالیسی بے کار ہوتی نظر آ

Read more

لاہور کا ضمنی الیکشن اور پیپلز پارٹی کی تجدید

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک پرویز کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ضمنی معرکہ میں مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک نے تقریباً 46811 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل 32313 ووٹ حاصل کر کے مذکورہ الیکشن میں رنر اپ رہے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے

Read more

پاکستانی فلم بھٹو دور میں

ذوالفقار علی بھٹو کو نوجوانی میں فلموں کا بہت شوق تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ قیامِ بمبئی کے زمانے میں شوٹنگ دیکھنے کے لیئے اکثر سٹوڈیو جایا کرتے تھے۔ یہ باتیں تو ہمارے ہوش سے پہلے کی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے اپنی نوجوانی میں دیکھا وہ بھی فلموں میں بھٹو صاحب کی گہری دلچسپی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد فلموں کے اس شوق کی نوعیت اور وسعت بہت

Read more

جعل سازی اور نقالی کا نام تحقیق!

زوال تو ہر ایک شعبے میں ہی نظر آ رہا ہے لیکن تعلیم کا معاملہ شاید نہایت ہی افسوسناک شکل اختیار کرنے کو ہے۔ کچھ دن پہلے ایک خبر میری نظر سے گزری جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اعلیٰ معیار کی عالمی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ و طالبات کے داخلوں کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے کیونکہ وہ ان جامعات کے مطلوبہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ پاکستانی اور بھارتی طلبہ کے درمیان خلیج وسیع ہوتی

Read more

قائداعظم اور آزادی صحافت

قائداعظم محمدعلی جناح ایک روشن خیال سیاست دان تھے۔ قائداعظم کی سیاسی زندگی جمہوری عمل سے عبارت تھی چنانچہ زندگی بھر دستور اور قانون کی بالادستی پر ان کا یقین مضبوط رہا۔ ابتدائی زندگی ہی میں وہ مغربی جمہوریت کے اصولوں نیز پارلیمانی طرز حکومت سے بے حد متاثر ہوئے۔ ذاتی طور پر قائداعظم تنقید اور اختلاف کو نہ صرف قبول کرتے تھے بلکہ کھلے دل سے اس کا خیر مقدم کرتے تھے۔ چنانچہ قائداعظم اصولوں کی بنیاد پر اظہار

Read more

لطافت علی صدیقی کی کتاب: ہزاروں انکشافات

لطافت علی صدیقی کی کتاب  ’ہزاروں انکشافات‘  کا ذیلی عنوان ہے، سازشیں، سیاہ راتیں، قاتل و مقتول کی داستانیں۔ لطافت علی صدیقی کا تعلق منہاج برنا اور نثار عثمانی کے قافلے یعنی بقول احفاظ صحافیوں کی اس کھیپ سے ہے جو درد مند دل اور صاف ہاتھ رکھتے ہیں اور اپنے پیشیکی حرمت کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ ا ب وہ کینیڈا کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔ کورونا نے دنیا میں جتنی بھی تباہی مچائی ہو لیکن لاک ڈاؤن

Read more

سیالکوٹ واقعہ: پاکستان فرد اور ہجوم کے فیصلوں اور اختیارات کے قبضے میں کیسے آیا؟

پریانتھا کمار جیسے غریب الدیار شخص کی سیالکوٹ میں ہجوم کی ہاتھوں موت کے عد سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرد اور ہجوم کو ملزم یا مجرم کو سزا دینے کا اختیار کیسے ملا ،یا اُن کی طرف سے اس اختیار پر قبضہ کیسے کیا گیا؟

Read more

پاکستان کی احتجاجی سیاست

پاکستان کی سیاست میں احتجاجوں، دھرنوں، مظاہروں اور لانگ مارچوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنوں میں سیاسی پارٹیز سمیت مذہبی جماعتیں بھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہوتی ہیں، جس میں باہم اور متحد ہونے کے بڑے بڑے دعوی بھی کیے جاتے ہیں، حزب اختلاف کے ان اتحادیوں میں بعض کو کامیابی ملی جبکہ بعض اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آئیں اس رپورٹ میں ان احتجاجوں، دھرنوں، مظاہروں، لانگ مارچوں اور

Read more

سوشلزم، اسلامی سوشلزم اور پیپلز پارٹی

وزیر خارجہ بھٹو صدر ایوب کی کنونشنل مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ صدر ایوب سے الگ ہو کر ابتدا میں بھٹو کا خیال کونسل مسلم لیگ میں شمولیت کا تھا۔ مگر ڈاکٹر مبشر حسن اور جے اے رحیم جیسے دوستوں کا رحجان ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی طرف تھا۔ وہ ایک نئی طرح کی غیر روایتی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ ان کا اندازہ تھا کہ ایسی نئی جماعت کی پذیرائی بھی بہت ہوگی۔

Read more

بنگلہ دیش کے قیام کے 50 برس: زبان، ثقافتی تسلط، حق تلفی یا کوئی سازش، مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میں کارفرما عوامل کیا تھے؟

اب جب اگلے چند روز میں بنگلہ دیش اپنے قیام کے 50 برس مکمل کرنے والا ہے، بی بی سی نے مختلف تحقیقی کتب کے حوالہ جات اور محققین سے گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے اپنے قیام کے محض 24 برس میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔

Read more

تقسیم ہندوستان کے وقت کشمیر کا حصول کسی ملک کی ترجیح نہ تھا

تاریخ مسخ کرنے کا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا ٹھیک سے تخمینہ نہیں لگا پاتے۔ کشمیر کے مسئلے نے ہمیں 75 سال سے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی اس پہ کھل کر اپنی غیر سنجیدگی کو تسلیم نہیں کیا۔ نہ ہی مطالعہ پاکستان نئی نسل کو یہ بتا پائی کہ کشمیر کو مسئلہ بنانے میں ہم نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کشمیر پہ بھارتی قبضہ کی داستان کے پیچھے ہماری

Read more

نبیل قریشی کی ”کھیل کھیل میں“ ، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ”راکھ“ اور تاریخ پاکستان

’میں تمہیں موٹی عقل کا مالک اس لئے کہتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک ذہین انسان ہونے کے باوجود تاریخ کا شعور نہیں رکھتے۔ تم نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ ایک وہ تاریخ ہے جو تمہیں نرسری سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک ادھر دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں تمہیں لاعلم رکھا جاتا ہے۔ تم اسے جان نہیں سکتے، اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اگر کرو گے تو پوری اسٹیبلشمنٹ کمر

Read more

والی سوات کی قدیمی رہائش گاہ کو عجائب گھر میں بدلنے کا منصوبہ کیوں ترک کر دیا گیا؟

محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق والی سوات کا مکان تاریخی عمارت ہے اور اس کے تحفظ کی خاطر اسے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس طرح دلیپ کمار اور راج کپور کی حویلیاں بھی خریدی جا چکی ہیں۔

Read more

نواز شریف کے خلاف واردات کی گواہی، واردات سے پہلے

میں آج پٹاری سے کسی آڈیو یا وڈیو کیسٹ کا سنپولیا یا شیش ناگ نہیں نکال رہا نہ کسی پہلے سے زیر گردش کیسٹ کی صداقت پر بحث کرنا مقصود ہے میں ایک ایسی شہادت ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں جسے جھٹلانا کسی سیاسی فنکار کے لئے ممکن نہیں ہو گا

Read more

کپتان اور بھٹو کے ایٹمی پلان کا آخری حصہ

بھارت نے جب 1974 میں پوکھران میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تو دنیا چونک اٹھی۔ مگر اس ایٹمی دھماکے کا باقی دنیا سے کہیں زیادہ بڑا جھٹکا پاکستان کو پہنچا جو ابھی تین برس پہلے ہی بھارت سے شکست کھا کر آدھا ملک گنوا بیٹھا تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت ایک زیرک اور اولوالعزم سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا وزیراعظم تھا۔ بھٹو نے ٹوٹے ہوئے حوصلے والی قوم سے ایک ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے اپنا

Read more

اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل اسلم بیگ کی دروغ گوئیاں

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں۔ جنرل صاحب کے کریڈٹ پر بلا شبہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو لوٹانے کا کارنامہ بہرطور جاتا ہے۔ جنرل صاحب اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور اگر وہ چاہتے تو اپنے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دے کر کر ملک کی عنانِ اقتدار سنبھال لیتے مگر

Read more

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

سیاست میں یہ فقرہ تواتر کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بدرجہا درجے بہتر ہوتی ہے۔ کیوں کہ عوامی مینڈیٹ لے کر برسراقتدار آنے والے وزیراعظم اور بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کرنے والے آمر کی ساکھ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ منتخب وزیراعظم کے پیچھے پارلیمان اور ووٹ کی طاقت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اختیارات کا سرچشمہ کہلاتا ہے۔ جمہوریت میں مشاورت اور ڈائیلاگ کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے۔

Read more

جب نواز شریف نے اپنی پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کی

یہ بات اس ہنگامی اجلاس کی ہے جب نواز شریف نے جونیجو کو مخاطب کر کے کہا ’سائیں، لوگ سخت غصے میں ہیں، ان کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔‘

Read more

مطالعۂ پاکستان سے معذرت کے ساتھ (1)

اس تحریر میں ماضی کی غلطیوں کو ”قومی راز“ کا نام دے کر ان پر پردہ ڈالنے کی ”چالاکی“ کرنے والی ریاست کی نصابی ”ہوشیاری“ پر کچھ بات کر لیتے ہیں۔ یوں تو مملکت خداداد کے چوہتر سالہ مسلسل زوال کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن اگر اس تناظر میں ایک جملہ لکھنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کیوں کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے، اس لئے ہمارے حال میں تیرگی ہے اور مستقبل میں دھندلا پن۔ ہر

Read more

اقتدار کی مجبوریاں

یوں تو ہر آرمی چیف کے سینے میں بہت سے اہم راز دفن ہوں گے مگر جنرل مرزا اسلم بیگ کا دور اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کی مدت ملازمت کے دوران ملک اور خطے میں انتہائی اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ شاید اسی لیے جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات مارکیٹ میں آئی تو بہت سے اہم کالم نگاروں نے اس کو اتنی توجہ دی۔ اس کتاب پر تبصرے کے لیے لکھے گئے کالم پڑھے

Read more

اکبر لیاقت:لیاقت علی خان کے بیٹے کا علاج اور حکومت کی یقین دہانی

سوشل میڈیا پر ایک خط شیئر کیا جا رہا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’میرے شوہر اور قائد ملت لیاقت علی خان کے فرزند اکبر علی خان گذشتہ تین سال سے سنگین طبی مسائل سے دوچار ہیں۔‘

Read more

جمہوریت کی فیصلہ کن طاقت

کم از کم وہ زمانہ اب نہیں رہا جب خوف ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا اور یہ ہتھیار اسی لئے کارگر تھا کہ شعور اور باخبری نہ تھی۔ تاریخ یہی سمجھا رہی ہے کہ شعور کی فراوانی خوف کو ہمیشہ توڑ کر رکھ دیتی ہے اور ایسا بارہا ہوا بھی ہے۔ لیکن اگر ارتقائی حقائق اور بدلتے ہوئے زمانے کا ادراک نہیں کیا جا رہا ہے تو اسے اندیشوں بھرے خوف کے ساتھ دیکھا جائے گا کیونکہ سامنے کے

Read more

بھٹو، عمران اور صحافی

پاکستان کے بہت سے سیاسی مدبرین، تجزیہ نگار، محققین اور پڑھے لکھے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ قائد اعظم کے بعد اگر پاکستان میں کوئی لیڈر پیدا ہوا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے اور کیوں نہ ہو۔ شکست خوردہ قوم کی ڈھارس باندھنا، آئین پاکستان، 90 ہزار قیدیوں کی وطن واپسی، قوم کو سیاسی شعور دینے کی کوشش کرنا، ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھنا اور بہت کچھ۔ مگر ان سب چیزوں کے باوجود جب ملک میں

Read more

بلوچ سردار وہ داغ ہیں جو اچھے ہوتے ہیں

بلوچستان سے باہر کسی بلوچ طالب علم کو اس بات پر اتنا غصہ نہیں آتا کہ ملک کے باقی شہریوں کو بلوچستان کے حالات سے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں ہے بلکہ اس بات پر شدید قسم کا غصہ آتا ہے کہ تمھارے تو سردار ہی ترقی کے خلاف ہیں۔ ارے بھئی کون سردار؟ کہاں کے سردار؟ کیسے سردار؟ انھیں ان سب سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہوتا۔ بس یہی کہ بلوچ سردار ہی بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار

Read more

اسلم بیگ نامہ

پاکستان میں وزرائے اعظم، صدور اور اعلی عہدے پر فائز دیگر اہم شخصیات کے علاوہ چند سیاست دانوں نے بھی اپنی زندگی کے تجربات اور دیگر اہم واقعات کو کتابی شکل دے رکھی ہے۔ ایسی کتابوں میں درج مواد مصنف کی عملی زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے تھوڑا بہت مختلف ہوتا ہے۔ کیوں کہ کتاب لکھتے وقت مصنف صرف وہی مواد درج کرتا ہے۔ جو اس کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی کسی بات یا واقعے

Read more

حسن ناصر: قلعہ لاہور میں دورانِ حراست ہلاک ہونے والے کمیونسٹ رہنما جن کی والدہ نے ان کی لاش پہچاننے سے انکار کر دیا

لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں قبرکشائی کی کارروائی کے دوران ایک بزرگ خاتون آگے بڑھتی ہیں۔ لاش کے بالوں کو ٹٹولتی ہیں، ماتھے کو گھورتی ہیں اور دانتوں پر ایک ماہر دندساز کی طرح غور کرنے کے بعد پیروں کی ساخت دیکھی ہیںپھر ان کی آماز بلند ہوتی ہے ’یہ میرے بیٹے کی لاش نہیں ہے۔‘

Read more

پاکستان میں ایلیٹ خاندان کیسے اجارہ دار بنے؟

وزیر اعظم عمران خان نے بہ روز منگل اسلام آباد میں سہگل خاندان کے تحت منعقدہ تقریب میں تاریخی جملہ کہا: جب رولنگ کلاس چوری کرنے لگے تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی یہ کلاس یعنی حکمران طبقہ کیسے وجود پذیر ہوا اور اس کا ارتقاء کیسے ممکن ہوا۔ پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے ارتقاء کے نتیجے میں جو بالاتر طبقات اشرافیہ کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں ان کا جائزہ لینے کے

Read more

جینیٹک لاٹری اور پاکستانی سیاست

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں عوامی رہنماؤں کی جو خوبیاں بتائی جاتی ہیں، یا دنیا کے عظیم رہنماؤں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں، ان میں قد کا اونچا ہونا، تقریر کرنے کا فن ہونا، اپنے آپ پر بلا کا اعتماد ہونا، دیانتدار ہونا اور اپنے وژن کا مالک ہونا اور ہر حالت میں اپنے نظریے پر قائم رہنا شامل ہیں۔ دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں یہ چلن ہے کہ عوامی لیڈر بننے کرنے کے لئے ضروری

Read more

کہوں کہ نہ کہوں!

برادرم غلام مصطفی نے کالم لکھا، جس کا عنوان تھا، کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس میں انہوں نے اپنے تئیں کچھ وجوہات اور عوامل کا ذکر کیا۔ یہ کوئی نیا موضوع نہیں، اس عنوان پر ہزاروں کالم، تحریریں، ناول موجود ہیں۔ ہر کوئی اپنے تئیں اس کا جواب دینے کی سعی کرتا ہے۔ تجاویز مرتب کی جاتی ہیں۔ بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں۔ پلان بنائے جاتے ہیں، مگر عمل درآمد

Read more

سندھ کے نقاش اور 4 مارچ واقعے کے اہم کردار قاضی خضر حیات کا تعزیت نامہ

سندھ، کچھ افراد کو ان کی انفرادی کارکردگی کی بنا پر پہچانتی ہے، تو کچھ علمی و ادبی خانوادوں کو ان خاندانوں کے متعدد افراد کی ہمہ جہت غیر معمولی خدمات کی وجہ سے عزت دیتی ہے۔ قاضی خضر حیات، جنہیں سندھ، ایک نامور اور باصلاحیت مصور، خطاط، کاشی کار، سول انجنیئر اور 4 مارچ کی سندھی سٹوڈنٹ جدوجہد کے حوالے سے یادگار بنے ہوئے قومی دن کے اہم کردار کے طور پر پہچانتی ہے، بھی ایسے ہی علمی اور

Read more

’’ صوبے دار‘‘: دلی دربار سے آزاد کشمیر تک

کمپیوٹر کی ایجاد سے قبل اخبار میں چھپنے والا مواد کاتب اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ ان کا لکھا پروف ریڈر انتہائی غور سے پڑھنے کے بعد ہی اس سیکشن کو بھیجتے جہاں پریس میں بالآخر چھپنے والی کاپی تیار ہوتی تھی۔ مذکورہ کاپی کو چھپنے کے لئے پریس بھیجنے سے قبل آخری شفٹ کا انچارج اسے سرعت سے بغور پڑھتا۔ دریں اثناء پریس سے وہ کاپی لے جانے والا بھی اس کے سرپردندنا رہا ہوتا۔ اخبار فروشوں تک

Read more

خلائی مخلوق بمقابلہ ضیائی مخلوق

یورپ امریکہ میں رہنے والے لوگ ذہنی ارتقا کے لحاظ سے پاکستان میں رہنے والوں لوگوں سے کہیں آگے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا خلائی مخلوق کا کوئی وجود ہے تو وہ نا صرف آپ کو اپنے اس مخلوق پہ یقین ہونے کی سائنسی دلیلیں دیں گے بلکہ خلائی مخلوق کا حلیہ کچھ اس طرح پیش کریں گے کہ خلائی مخلوق کی بڑی بڑی سیاہ بیضوی آنکھیں اور بیضوی سر کے ساتھ پتلا باریک سینہ اور ٹانگیں بھی سینے کے جسامت کے حساب سے بتائیں گے۔

Read more

تحریک انصاف کے موثر ہتھیار۔ سوشل میڈیا اور ڈیٹا

اخبار کے لئے لکھا کالم تحقیقی مضمون نہیں ہوتا۔ برجستہ لکھا جاتا ہے۔ تاریخی حوالے دیتے ہوئے اس کے باوجود محتاط رہنا لازمی ہے۔ اس تناظر میں مجھ سے بھی ایک فاش غلطی سرزد ہو گئی۔ روانی میں دعویٰ کر دیا کہ آزادکشمیر نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ نے وہاں 2016 کا انتخاب لڑنے کے لئے اپنی الگ شناخت کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ یہ واقعہ 2011 میں ہوا تھا۔ ان دوستوں کا

Read more

آزاد کشمیر میں انتخابی معرکہ اور اب

سوشل میڈیا اعدادوشمار جنہیں انگریزی میں ان دنوں ڈیٹا کہا جاتا ہے کے ذریعے ذہنوں کو گمراہ کرنے والے سوالات اٹھانے میں بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ تازہ ترین مثال اس کی آزادکشمیر کے انتخابی نتائج آجانے کے بعد نمودار ہوئے’’تجزیے‘‘ ہیں۔ سب سے اہم سوال ان میں یہ اٹھایا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اجتماعی ووٹ تو اسے تیسرے نمبر پر آئی جماعت دکھارہے ہیں۔ آزادکشمیراسمبلی میں لیکن جو نشستیں اسے نصیب ہوئیں وہ اسے دوسرے نمبر پرلے

Read more

جوش، فیض اور مودودی کی دوستی

سید ابو الاعلیٰ مودودی سے کسی نے جوش ملیح آبادی کے بارے میں رائے لی تو مولانا نے فرمایا’’اچھا اس لئے نہیں کہوں گا کہ دین دار نہیں،برا اس لئے نہیں کہوں گا کہ میرے پرانے دوست ہیں۔‘‘جوش صاحب بھی مولانا کو بہت مانتے تھے مگر کچھ اور لوگوں کی طرح ان کی بھی رائے تھی کہ اگر وہ سیاست میں نہ آتے تو بہتر ہوتا ۔’’سیاست پیغمبروں کا میدان تھا جس پر شیاطین نے قبضہ کر لیا ہے۔ جو

Read more

عارف نظامی بھی رخصت ہو گئے!

میرے رب کا فرمان ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ بات ہمارے ایمان کا جزو ہے کہ جو اس جہان میں آیا، اسے بالآخر رخصت ہوجانا ہے۔ اس کے باوجود جانے والوں کی رخصتی دل کو دکھی کر جاتی ہے۔ عید کے روز عارف نظامی صاحب کے انتقال کی اطلاع سے نہایت رنج پہنچا۔ کچھ عرصہ سے میں سیاسی اور صحافتی اطلاعات سے نسبتاً بے نیاز رہتی ہوں۔ عارف صاحب کی رحلت کے بعد

Read more

عقلمند اور نفیس طالبان کا جنم اور ہمارا دائروں کا سفر

سات دہائیوں سے کچھ سال جمہوریت، کچھ عرصہ آمریت، کبھی اسلامی نظام اور کبھی جدت پسندی میں ہمارا دائروں کا سفر جاری ہے۔ 1947 ء کے بعد ہی آئین کی تشکیل میں ہچکچاہٹ کا حیلہ ’جب اللہ کا قانون موجود ہے تو انسانی دستور کی کیا ضرورت‘ ملک کو اسلامی جمہوریہ کا نام تو دے گیا مگر ملک نہ اسلامی بن سکا نہ جمہوری۔ اس ملک کے بانی کا کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی حیثیت سے گریز کرتے ہوئے تاج برطانیہ کے ماتحت گورنر جنرل کے واحد قانونی عہدہ کو قبول کرنے سے کچھ نہ سیکھا اور نہ ذوالفقار علی بھٹو کے منتخب ہونے کے باوجود بطور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے واحد راستے بند گلی سے نکلنے کی ترکیب سمجھ پائے اور الٹا اس سے آمریت کے لئے دلیل تراشتے رہے۔

Read more

نور قتل کیس: ظاہر جعفر کے والدین کو کیوں گرفتار کیا گیا اور انھیں کیا سزا ہو سکتی ہے؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی گرفتاری کے بعد سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی اور انھیں کیا سزا دی جا سکتی ہے؟

Read more

مرزا اسلم بیگ کی کہانی: ان ہی کی زبانی

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب حال میں ہی پبلش ہوئی ہے۔ اس کتاب میں دیگر امور کے علاوہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے بارے میں چند اہم باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد انہیں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ جنرل صاحب اپنی کتاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ

Read more

قاضی نور احمد کی یادداشتیں : گرے پتے

گرے پتے ایک سیاسی کارکن کی یاداشتوں کا باغیچہ ہے وہ باغیچہ جہاں درخت لگے اور کٹتے گئے جنہوں نے امان پائی ان کے پتے خزاں رسیدہ ہو کر گرتے گئے۔ یاداشت کے ساتھ بے رحمانہ سلوک اور اس پر کھل کر اظہار مصنف کی آزاد خیالی کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف نے جہاں کھل کر اپنی یاداشتوں کو کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ وہیں لکھتے لکھتے جذبات کو لگام دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بغیر کسی کنجوسی کے

Read more

بالی وڈ میں بڑا اداکار کون۔۔۔ دلیپ، راج یا امیتابھ؟

دلیپ کمار کو انڈین سینما میں اداکاری کا آفتاب کہا جائے جس کے گرد فلم سٹارز کا نظام شمسی چکر کاٹتا ہے، تو یہ ہرگز بے جا نہ ہو گا۔

Read more

اور اب پیش خدمت ہے پیگاسس جاسوس!

پیگاسس یونانی دیومالا میں پروں والا وہ سفید افسانوی گھوڑا ہے جو پلک جھپکتے میں کہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہم میں سے کسی نے یہ اڑن گھوڑا نہیں دیکھا مگر جب اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنی این ایس او ایک سافٹ ویر تیار کر رہی تھی تو یقیناً اس کے دماغ میں وہ غیر مرئی گھوڑا ہو گا جو کسی کے بھی موبائل فون میں اتر کے پاتال کی خبر لا سکتا ہے۔

پہلی بار پیگاسس سافٹ ویئر کو دہشت گردی کے خلاف نائن الیون کے بعد چھیڑی جانے والی جنگ میں ایجاد یا استعمال ہونے والے اہم آلات کے تسلسل میں پیش کیا گیا۔ اگر آپ این ایس او کی ویب سائٹ پر جائیں تو پیگاسس کا نہایت معصومانہ تعارف پائیں گے۔

Read more

استاد دامن

برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ، جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا ء الحق کی طاقت، ظلم اور جبر کا بلا خوف مقابلہ کیا۔ جھوٹے مقدموں کا سامنا کیا قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں، لیکن قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس سخت گیر معاشرے میں لوگ ان سے پیار کرتے تھے جبکہ حکمران ان سے نفرت کرتے تھے۔ ٹکسالی گیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کمرا جس میں بچھی ایک چارپائی اور دو

Read more

تھینک یو جنرل اسلم بیگ

حیرت میں جب خوشی شامل ہو جائے تو خوشگوار حیرت کہلاتی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات کے نام نے مجھے حیرت میں مبتلا کیا۔ ’اقتدار کی مجبوریاں‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس سوانح عمری کا ٹائٹل بڑا دلچسپ ہے۔ اس میں جنرل صاحب کی تصویر کے نیچے ایک خاکی روبوٹ نما انسان ایک کچے دھاگے پر چل رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک قینچی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی وقت

Read more

سنتوش کمار نے ظہیرکاشمیری سے کیا کہا؟

بابا ظہیر کاشمیری میرے والد کے دوستوں میں شامل تھے ، اسی رشتہ کی بنیاد پرمیں نے ہمیشہ ان کا حد سے بڑھ کر احترام کیا۔ بابا جی کو جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ ’’مساوات ’’ کا ایڈیٹر بنایا ، میں اسی ادارے میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کررہا تھا ، ایڈیٹر بننے سے پہلے باباجی اخبار کے ایڈیٹوریل ہیڈ تھے اور اداریہ کے ساتھ روزانہ ’’ قطعہ’’ بھی لکھا کرتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر

Read more

صدام حسین ایک ناکام کہانی: ’آمر ڈرتا ہے کہ اگر مارے گا نہیں تو مر جائے گا‘

عراق کے سابق آمر صدام حسین نے ملک پر د دہائیوں سے زیادہ حکومت کی لیکن جب ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تو کوئی بھی ان ساتھ کھڑا نہیں تھا۔

Read more

ممتاز علی بھٹو: ذوالفقار علی بھٹو کے ’ٹیلنٹڈ کزن‘ مگر موجودہ پیپلز پارٹی کے مخالف رہنما وفات پا گئے

پاکستان کے معروف سیاستدان اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کزن ممتاز علی بھٹو 88 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

Read more

آہ۔ شاہنواز بھٹو

18 جولائی 1985 شہید شاہنواز بھٹو کا یوم شہادت۔ بھٹوز کا گوگی، ساتھیوں کا نبیل اور خاندانی نام شاہ نواز۔ وجیہہ خوبصورت جذباتی اور بہادر۔ 5 جولائی 1977 جب فوجی ڈکٹیٹر ضیاء نے جمہوریت پہ شب خون مارا۔ ایک منتخب عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بھٹو صاحب کو قید خانے میں ڈال دیا اس وقت چونکہ الیکشن کا دور تھا، مرتضٰی اور شاہنواز، بھٹو صاحب کی لاڑکانہ مہم کے انچارج تھے۔

Read more

شاہنواز بھٹو: بھٹو خاندان کے لاڈلے سپوت کی پراسرار موت جس نے بھٹو خاندان کو ہلا کر رکھ دیا

یہ بھٹو خاندان کی آخری ری یونین تھی، جس میں کنبے کے تمام افراد شریک ہوئے۔ بھٹو خاندان کی چھٹیاں اور پکنک اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب انھیں ذوالفقارعلی بھٹو کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کی موت کی خبر ملی۔

Read more

پاکستان میں کون سے عسکریت پسند گروہ چینی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں؟

پاکستان کے صوبه خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے چینی ورکرز کی ایک بس میں دھماکے کے واقعے کو پاکستانی اور چینی حکومتیں دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہی ہیں۔

البتہ ابھی تک کسی بھی عسکریت پسند گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق 14 جولائی کو رونما ہونے والے حملے میں نو چینی شہری اور تین پاکستانی ہلاک ہوئے۔

Read more

کیا شہید ذو الفقار علی بھٹو ایک غدار تھا؟

وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے کشمیر کی الیکشن مہم میں ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے بھٹو صاحب کو غدار کا لقب دیا۔ بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وفاقی حکومت نے تو اب کھلے لفظوں میں بھٹو کو غدار کہا ہے جبکہ 42 سال پہلے بھٹو کو غدار کا لقب دیے بغیر ملک پاکستان کی ملٹری حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے کر غدار ہونے کا عملی جامہ پہنایا تھا۔

تاریخ کے جھروکے میں جھانکنے سے بھٹو صاحب کے غدار ہونے کے بہت سارے واقعات ملتے ہیں۔

Read more

افغانستان کی بادشاہت سے جمہوریت بننے کی کہانی

افغانستان اُس جمہوریت سے دور ہوتا نظر آ رہا ہے جس کی بنیاد آج سے ٹھیک 49 برس قبل محمد داؤد خان نے افغانستان کے آخری بادشاہ اور اپنے چچازاد بھائی محمد ظاہر شاہ کو تخت سے محروم کر کے رکھی تھی۔

Read more

بچہ بچہ کٹ مرے گا، ایک نیا طوفان

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کا سب سے اہم ترین موضوع بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی ہوا کرتا تھا۔ سیاسی جماعتیں سرحد پار کے کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے کے وعدے کیا کرتی تھیں۔

آج وہ زمانہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ان کے لیڈروں کی تقاریر سن کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو نئی دہلی کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ہے اور انتخابات کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کر کے اسے پاکستان کا ایک صوبہ بنا دیا جائے گا اور یوں مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں گم کر دیا جائے گا۔

Read more

”غدار“ بھٹو کو شہید کہنا بھی توہین عدالت ہے

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے طویل سماعت کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کی سنائی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ ان دنوں ایک جید مرد مومن جنرل ضیاء الحق صاحب ہمارے ملک کے با اختیار صدر ہوا کرتے تھے۔ ”قاتل“ کی جاں بخشی کو وہ آمادہ نہ ہوئے۔ 4 اپریل 1979 کی صبح لہٰذا بھٹو کو پھانسی لگادی گئی۔ یوں انصاف کا بول بالا ہوا۔

بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ بھٹو کی پھانسی کے کئی برس گزرنے کے بعد سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ صاحب میرے بھائی افتخار احمد کے ایک مقبول ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے۔ افتخار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ ”دباؤ“ کے ذریعے لیا گیا تھا۔

Read more

قبل ازوقت انتخاب

جن دنوں قومی اسمبلی یا سینٹ کے اجلاس ہورہے ہوں تو ہفتہ وہ واحد دن ہوتا ہے جب میں لکھنے کی مشقت سے آزاد ہوتا ہوں۔ وگرنہ یہ کالم دفتر بھجوادینے کے بعد ہفتے کے بقیہ پانچ دن ’’دی نیشن‘‘ کے لئے پریس گیلری بھی لکھنا ہوتی ہے۔ اپنی فراغت والے دن کو لہٰذا میں بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ حتیٰ الوسع کوشش ہوتی ہے کہ دُنیا کے بکھیڑوں سے ذہن کو آزاد کئے یہ دن پھولوں،درختوں اور جانوروں سے

Read more

کراچی میں جولائی 1972 کے لسانی فسادات: اردو، سندھی اور سندھ، زبان کے تنازع کی تاریخ

آج سے 49 برس قبل نو جولائی 1972 کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ’قومی زبان‘ کے معاملے پر ہونے والے فساد اور مشتعل احتجاجی مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان ہلاکتوں کی یاد میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد (لالو کھیت) میں قائم ’مسجدِ شہداء‘ کے احاطے میں کئی قبریں آج بھی اس واقعے کی یاد دلانے کے لیے آج بھی موجود ہیں۔

Read more

مسئلہ بلوچستان، مذاکرات یا مذاق رات

وفاق نے اس بجٹ کے بعد بلوچستان کے لئے 730 ارب کے پیکیجز دیے جن میں 131 mega projects شامل ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران حکومت نے اس ترقیاتی پیکیج سے قبل بلوچستان کے بہت سے میگا پراجیکٹس کو منسوخ بھی کر دیا تھا بلوچستان پر ایسی شفقت سی پیک میں دل چسپی ظاہر کرنا ہے یا بلوچستان کے حوالے سے اس حکومت کا بھی دانہ پانی کے بعد کچھ خواہشات کا اظہار کرنا ہے۔ اپنی

Read more

مسعود اشعر اور ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاسی لیپا پوتی

یہ بات 5 اپریل 2018 کی ہے۔ جب ملتان سے خالد مسعود خان۔ رضی الدین رضی۔ آصف کھیتران اور دیگر احباب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے مہمان تھے۔ سالانہ کتاب میلے کا افتتاح 6 اپریل کو ہونا تھا۔ تو 5 اپریل کو ڈنر پر جناب مسعود اشعر کی ملتان کے احباب سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ میرا ملتان کیسا ہے؟ ہم نے کہا، آپ کے بغیر ملتان اداس ہے۔ اگر ملتان میرے بغیر اداس ہے، تو پھر اہل

Read more

پاکستان کے خلاف سازش کس نے کی؟

فواد چودھری بڑے کمال کے آدمی ہیں۔ میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں، جب وہ طالب علم تھے۔ ان کے انکل چودھری الطاف حسین پنجاب کے گورنر تھے۔ چودھری صاحب گورنر بننے سے قبل قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے اور میری ان سے کافی ذاتی نیاز مندی تھی۔ لاہور کے گورنر ہاؤس کے علاوہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ان کے ساتھ ہماری محفلیں جمتی تھیں اور کبھی کبھی ہماری فواد سے بھی دعا سلام ہو جاتی

Read more

مدھوبالا، دلیپ کمار اور بھٹو۔۔۔ کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت ہندوستانی فلم کی تاریخ کا ایک جادوئی باب ہے۔ دلیپ کمار نے 1922 میں پشاور میں آنکھ کھولی جب کہ مدھو بالا 14 فبروری 1933 کو دہلی میں پیدا ہوئییں۔ 1942 میں مدھو بالا پہلی بار ایک فلم میں جلوہ گر ہوئے۔ اس برس بننے والی فلم بسنت میں مدھو بالا نے اپنے حقیقی نام ممتاز سے اداکارہ ممتاز شانتی کی بیٹی کا رول کیا تھا۔ مدھوبالا کو مقبولیت 1949 میں بنی فلم محل

Read more

پاکستان کا ناراض بلوچوں سے مذاکرات کا عندیہ؛ بات چیت کون کرے گا اور کس سے کرے گا؟

کراچی — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا رواں ہفتے صوبہ بلوچستان کے مسائل کے حل اور قیام امن کے لیے ’ناراض بلوچ رہنماؤں‘ سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد مختلف حلقوں میں مختلف ادوار میں بلوچ عسکریت پسند رہنماؤں سے ہونے والے کامیاب اور ناکام مذاکرات کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔

Read more

عمران خان کا سکیورٹی نہ لینے کا اعلان: کیا وزیرِاعظم کے کہہ دینے سے اُن کا پروٹوکول کم ہو جائے گا؟

پروٹوکول اور سکیورٹی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پروٹوکول میں کمی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ ایک اعلان سے کم ہو جائے۔

Read more

پاکستانی کشمیر کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی زور آزمائی، کس کا پلڑا بھاری؟

پاکستان کے زیرِانتطام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات 25 جولائی کو ہو رہے ہیں جس میں پاکستان کی اہم سیاسی و مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہے۔ جب کہ حالیہ ہفتوں میں جلسے جلوسوں کے ذریعے انتخابی سرگرمیاں بھی زور پکڑ چکی ہیں۔

البتہ مبصرین کہتے ہیں کہ ماضی کے انتخابی نتائج سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس خطے میں عموماً وہی جماعت حکومت بناتی ہے جسے اسلام آباد کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔

Read more

دنیا، پاکستان اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو

پاکستان کی سیاست کے شب و روز سے آگاہ ہر فرد اپنے ایمان کو حاضر ناظر جان کر ضرور حقیقت پسندی کا ثبوت دے گا جب بھٹو کا نام آئے گا۔ بھٹو کی عوام دوستی اور ملکی دوستی کے کئی ثبوت ہیں۔ ہاں وہ لوگ ضرور مخالفت کریں گے جن کے دلوں پر مہریں آنکھوں پر پردہ اور کان بند ہونگے۔ ان سب حقائق کے ہوتے ہوئے مورخ بھی تو فیصلہ کر رہا ہے۔ بھٹو کے وقت کے بد ترین

Read more

احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے چوالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔ میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا تو میں نے بھی نہیں۔ مجھے بھی بھٹو صاحب کے ٹیلیفون نے جگایا ہے۔ بھٹو صاحب احمد فراز کے خلاف اِس اشتعال انگیز اداریے پرسخت

Read more

ہاں اس گرم جولائی میں

چار جولائی کو میرے سی او لیفٹیننٹ کرنل بشیر صاحب نے کہا۔ ”ہمیں ابھی آڈیٹوریم پہنچنا ہے۔ کور کمانڈر صاحب نے سب افسروں کو طلب کیا ہے“ ۔ کرنل صاحب خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے۔ ساتھ والی نشست پر میں اور جیپ کا ڈرائیور پیچھے۔ فاصلہ ہی کتنا تھا، پانچ منٹ میں پہنچ گئے۔ آڈیٹوریم تقریباً بھر چکا تھا۔ کرنل صاحب کو پہلی ہی قطار میں نشست مل گئی۔ میں چونکہ کپتان تھا چنانچہ حسب مراتب پانچویں چھٹی قطار میں

Read more

ون یونٹ: ’علاقائیت کے خاتمے‘ کے نام پر کیا گیا فیصلہ جو آج بھی پاکستان کو پریشان کر رہا ہے

اس بل کی منظوری کے ٹھیک دو ہفتے کے بعد یعنی 14 اکتوبر 1955 کو یہ بل نافذ العمل ہو گیا۔ تاریخ میں اس بل کو ون یونٹ منصوبے کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ علاقائی اور لسانی شناختیں ختم کر کے ایک پاکستانی شناخت والا اعلان اسی قانون کی منظوری کے موقع پر کیا گیا تھا۔

Read more

دلیپ کمار کی وفات: ’تم آج تک کے عظیم فنکار ہو‘

دلیپ کمار نے چھ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں صرف 63 فلمیں کیں لیکن انھوں نے انڈین سنیما میں اداکاری کے فن کو ایک نئی تعریف ایک نئی معنویت دی۔

Read more

مسعود اشعر کی کچھ یادیں

1953 میں تحریک ختم نبوت لاہور میں زوروں پر تھی۔ حالات اس قدر بگڑے کہ شہر میں مارشل لا لگاتے ہی بنی اور ساتھ کرفیو بھی لگ گیا۔ جنرل اعظم خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ میں اس زمانے میں میکلوڈ روڈ پر رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میں سائیکل پر نسبت روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو فوجی چوکی پر مجھے فوجی افسر نے پکڑلیا۔ اس وقت گولیاں چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ فوجی

Read more

ضیاء الحق آج بھی زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست میں ایک عجیب مقام رکھتے ہیں۔ تاریخ دان پاکستان کی تاریخ کو بھٹو سے پہلے اور بھٹو کے بعد کے ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے بعد کی سیاست آج تک ان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ آج بھی ملک میں واضح سیاسی تقسیم کا محور انہی کی ذات ہے۔ پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ کی بھیک سے آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے بونے قد میں اضافہ کرتی ہیں۔ وہ حسین شہید سہروردی اور ممتاز دولتانہ کے ساتھ مل کر ان چند پاکستانی سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف انتہائی پڑھے لکھے تھے بلکہ پڑھنے اور لکھنے سے بھی شغف رکھتے تھے۔

Read more

ضیائی ظلمت کے بعد کتنے چراغ روشن ہوئے؟

ضیا الحق جس دن حادثے کا شکار ہوا ہم بچپن سے نوجوانی کی حدود میں قدم رکھ رہے تھے۔ 17 اگست 1988 کو کراچی میں تھے اور ایک کمرے میں بیٹھے باتوں میں مصروف۔ ٹی وی پر الا ماشاللہ ہی بریکنگ نیوز چلتی تھی۔ سی ون تھرٹی کے گرنے کی خبر چلی تو ہماری ایک عزیزہ بھاگتی ہوئی آئیں اور یہ خبر سنائی کہ ضیا الحق حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ خبر بہت سی وجوہات کی بنا پر

Read more

5 جولائی 1977 کا کالا دن اور میں

ان دنوں ایم بی بی ایس کرنے والے کو زبردستی فوج میں عارضی ملازمت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس مجبوری کا شکار میں بھی ہوا تھا۔ فوج کے ایک ادارے کی معاشرے میں مداخلت پہلے سے شروع تھی۔ اس ادارے کو میری بائیں بازو سے وابستہ سیاسی سرگرمیوں کا علم تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ چونکہ میں 1972 میں مزدوروں کے ایک احتجاجی جلوس میں شامل ہونے کی بنا پر پولیس کے ہاتھوں خوب پٹا تھا اور

Read more

بریفنگ اور دلاورانِ پاکستان

خلافت عباسیہ کے دورِ زوال والے بغداد کے لوگوں کی طرح ہم بھی فروعات میں الجھ جاتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کے روز پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں نے 80کے قریب اراکین پارلیمان کے ساتھ افغانستان کے موضوع پر آٹھ گھنٹوں تک پھیلی گفتگو کی۔ اس گفتگو کو ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ٹھہرایا گیا تھا۔ ہمارے رپورٹروں کی کماحقہ تعداد کو مگر اس کی تفصیلات کاپتہ چل گیا۔ یوٹیوب پر چھائے چند’’ذہن سازوں‘‘ کے پروگرام سنے تو گماں یہ

Read more

شملہ معاہدہ: بھٹو کی ’چالاکی‘ اور اندرا گاندھی کی ’سیاسی غلطی‘

سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں بھٹو کی سفارت کاری سے پاکستان کو کیا فائدہ پہنچا اور اندرا گاندھی کو اس معاہدے کی وجہ سے آج بھی تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟

Read more

جالندھر، ہوائی جہاز اور آموں کا کریٹ

پاکستان میں ہر سال 5 جولائی کے دن جنرل ضیا الحق کو یاد نہ کرنا زیادتی کی بات ہو گی! ضیا الحق مرحوم کا آبائی شہر جالندھر تھا جو مشرقی پنجاب یا بھارتی پنجاب کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مشرقی پنجاب اور بالخصوص اپنے آبائی شہر جالندھر سے محبت و انسیت کا برملا اظہار جس عملی انداز سے محترم نے جمہوری پاکستان کی لگامیں کھینچنے کے بعد کیا ظاہرکرتا ہے کہ حضرت کو اپنی جنم بھومی کے خمیر

Read more

بلاول بھٹو کے ملتان کے مخدوم پر وار؟

بلاول بھٹو زرداری کدھر ہیں؟ میدان میں آئیں اور بات کریں، بلاول صاحب کہاں چلے گئے، آج آ جائیں آج آ جائیں، وغیرہ وغیرہ۔ پریس گیلری میں صحافی میں اس بات کو نوٹ کر رہے تھے کہ تحریک انصاف کا مرکزی لیڈر و وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پورے جاہ و جلال کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کو للکار رہا تھا۔ ایوان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے تلخی سے بھرے جملوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آج بلاول

Read more

1977 کا مارشل لا: بھٹو حکومت کے خاتمے کو امریکی سفارت خانہ کیسے دیکھ رہا تھا؟

امریکہ اور پاکستان کے بنتے، بگڑتے تعلقات کی ہماری آج کی کہانی ڈی کلاسیفائیڈ یا افشا کیے گئے ان ٹیلی گرامز، ایرگرامز(خطوط) اور پیغامات پر مبنی ہے جن کا تبادلہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت کے درمیان پاکستانی تاریخ کے اہم ترین برسوں میں سے ایک، 1977 میں ہوا۔

Read more

جب جمہوریت تیسری بار قید ہوئی

یہ سن 1976 کے اوائل ہیں۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔ آرمی چیف جنرل ٹکا خان کی مدت ملازمت پوری ہو رہی ہے اور انہیں اب اس منصب پر نیا فرد مقرر کرنا ہے۔ وزارت دفاع 5 سینئیر ترین جنرلز کے نام ایک سمری کی صورت میں وزیر اعظم آفس بھیج دیتی ہے۔ وزیر اعظم اس سمری کے برعکس ایک فیصلہ کرتے ہیں اور وہ فیصلہ جو شاید کسی کے وہم و گمان میں

Read more

ہم حالِ دِل سنائیں،مگر گفتگو نہ ہو

کمال کا معرکہ تھا، قومی اسمبلی میں ایک طرف پیپلز پارٹی کے ایسے لیڈر جن کی بلاو ل بھٹو زرداری کے نام سے پہچان کروائی جاتی ہے، نوجوان ہیں، پیپلز پارٹی کے وراثتی لیڈر ہیں، ان کے ذوق و شوق کے بارے میں میڈیا زیادہ باخبر بھی نہیں ہے۔ وہ بجٹ سیشن میں خوب گرجے برسے، اُنہوں نے اپنے نشانے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو رکھا اور قدرے کم درجے کا غصہ انہوں نے اپوزیشن کے لیڈر، سابق

Read more

سکیورٹی امور سے ناواقف پارلیمانی رہنما

فوجی اور انٹیلی جنس سربراہوں نے سیاسی قائدین کو سکیورٹی چیلنجز پر بریف کیا ہے۔ بریفنگ دراصل پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کو نئے سکیورٹی مسائل کی تعلیم دینے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ جس طرح سیاستدان دفاعی امور کو اپنی تقاریر سے زیر بحث لاتے ہیں ان سے ان کی کم علمی کا تاثر ابھرتا ہے۔ لاکھوں ووٹ لینے والی جماعتیں عوام میں گہری جڑیں رکھتی ہیں لیکن حساس معاملات سے بے خبری انہیں قومی سطح کے بحرانوں میں غیر فعال رکھتی ہے۔ وہ اپنا نپا تلا موقف دینے سے قاصر رہتی ہیں یوں عوام ان پر اعتماد کا جو مظاہرہ کرتے ہیں وہ اگلے انتخابات تک ختم ہو جاتا ہے۔

Read more

 عوام شوکت خانم ہسپتال کے علاوہ بھی توجہ دیں

سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ جب شوکت خانم ہسپتال سو فیصد عوام سے ہسپتال کے لئے چندہ مانگتا ہے تو پھر یہ کونسا اخلاقی پیمانہ ہے کہ نوے فیصد عوام کو شوکت خانم ہسپتال سے علاج کئے بغیر رخصت کیا جائے۔ دیر کا رہنے والا ایک غریب شخص آنسوؤں کے ساتھ روتے ہوئے بتانے لگا کہ میں نے گاؤں میں لوگوں سے ڈیڑھ لاکھ روپے قرض لیا اور شوکت خانم ہسپتال پشاور چلا آیا جہاں یہ

Read more

ضیا الحق کو بھٹو نے کس وجہ سے آرمی چیف بنایا تھا؟

مہینہ جولائی سال 1977 ء اور تاریخ تھی پانچ جب جنرل ضیاء الحق نے بندوق کی نوک پر پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے نکال کر پابند سلاسل کر دیا اور خود پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔

بھٹو اس خوش فہمی میں رہے کہ ضیاءالحق ان کا اپنا بنایا ہوا آرمی چیف ہے وہ انھیں کبھی زک نہیں پہنچائے گا۔ ان کی خوش فہمی بجا تھی کیوں کہ بھٹو نے ضیاءالحق کو آرمی چیف بناتے وقت تمام اصول و ضوابط نظر انداز کر دیے تھے چھ جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے ضیاءالحق کو سپہ سالار بنایا گیا۔ ضیاءالحق کی بطور آرمی چیف تقرری بھی دلچسپ ہے۔

Read more

بغداد بغاوت 1973: پاکستان میں تخریبی کارروائی میں ملوث ملزم نثار السعود جنھیں صدام حسین کے خلاف بغاوت کے الزام میں سزائے موت ہوئی

اسلام آباد میں چند ماہ پیشتر پیش آنے والے واقعات کا عراق میں ہونے والی ناکام بغاوت سے کیا تعلق تھا؟ اس تفصیل سے پہلے اس فوجی بغاوت کا مزید احوال جاننا ضروری ہے۔

Read more

بینظیر بھٹو کے فون ٹیپنگ کے الزامات سے بلاول بھٹو کی جانب سے فون ٹیپ کرنے کے مطالبے تک

پاکستانی تاریخ میں سیاست دانوں کے فون ٹیپ ہونا کوئی انوکھی بات بالکل بھی نہیں بلکہ ماضی میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اور ریاستی اداروں پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتی آئی ہیں اور تو اور پاکستان کے وزیر اعظم نے گذشتہ برس ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی ان کے فون ریکارڈ کرتی ہے۔

Read more

ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان اور مسلم امہ

پاکستان بننے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی انتشار نے کئی سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔ ہر جماعت کے اغراض و مقاصد نہ صرف محدود تھے بلکہ ذاتی اور مکمل طور پر عوامی مفادات سے بھی مطابقت نہ رکھتے تھے۔ 5 جنوری 1928 ء کو لاڑکانہ میں سر شاہنواز بھٹو کے گھر پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو کا پاکستان کے سیاسی امور سے وابستگی کا آغاز 1957 ء میں ایک بیرون ملک کے دورے میں پاکستانی وفد میں شرکت

Read more