تین برس پہلے ملک میں سیاسی تبدیلی کا سونامی آنے کے بعد سے ہماری خارجہ پالیسی منجدھار میں ہے۔ کبھی ہم چین سے دوستی کی گہرائی آزماتے ہیں، کبھی ترکی، ایران اور ملائشیا سے تزویراتی تعلقات کے سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں اور کبھی خلیج کے راستے مغرب کے کوئے ملامت میں سجدہ سہو ادا کرتے ہیں۔ اس اٹھا پٹخ کا حاصل یہ ہے کہ چین سے قریب 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواب ایران اور چین میں 400 ارب ڈالر سے زیادہ کے طویل مدتی سمجھوتے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
گوادر میں سعودی عرب کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے موعودہ محمل سے پردہ اٹھتا ہے تو سعودی عرب کی بھارت میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نظر آتی ہے۔ یورپین یونین کو چھ ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کے لالے پڑتے ہیں تو ہم اسلاموفوبیا کے خلاف مسلم امہ کی قیادت بھول کر اندرون ملک توہین مذہب کے مقدمات کے اعداد و شمار جمع کرنے دوڑتے ہیں۔ افغانستان میں ہماری چار عشروں کی سعادت مندی کا حاصل یہ نکلا کہ طالبان سے بات کرنا تو اشرف غنی سے معاملت کرنے سے بھی زیادہ کٹھن ہے۔ افغانستان پر منڈلاتی خانہ جنگی کا دھواں ہمارے شہر سے ہو کر گزرے گا اور اس پر مستزاد یہ کہ اطلاعات کے مطابق ہم سے فوجی اڈے بھی مانگے جا رہے ہیں۔
Read more