کیا یہ جمہوریت ہے؟

کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بد ترین نظام حکومت ہے۔ لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں۔ یہ الفاظ سر ونسٹن چرچل کے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیراعظم رہے۔ پاکستان میں موجود جمہوریت کی علمبردار بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے گن گاتی نظر آتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ان سیاسی جماعتوں کے اندر اور ان کے حکومتی ادوار میں جمہوریت کوسوں دور تک دکھائی نہیں

Read more

اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی اپنے آپ کو خالصتاً جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن عملاً وہ ہردور میں کسی نہ کسی انداز سے سٹیبلشمنٹ کے ساتھ فٹ ہوتی آئی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ جمہوریت کا منطقی اصول ہے کہ جمہوری ہوتے ہوئے ہرکسی کے ساتھ فٹ ہونا متضاد نظریات ہیں۔ یہاں ہم سب ایک بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت، اپوزیشن اور سیاست کے حوالے سے طاقت کا سرچشمہ گزشتہ 73 برسوں سے اب تک صرف ایک ہے۔ حکومت، اپوزیشن

Read more

پاکستانی آئین کا ارتقا: 1973 کا آئین

پاکستان کے تمام طبقات کی آرا کی آئین میں شمولیت۔ آئین میں حقوق دینے کے ایک دن بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔ بھٹو کے دور میں آئین میں سات ترامیم کی گئیں جن میں حزب اختلاف کو بلڈوز کیا گیا۔ ضیا الحق کے زمانے میں آئین کو منسوخ نہیں معطل کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق نے بیگم نصرت بھٹو کیس میں لکھے ہوئے فیصلے پر اپنے قلم سے لکھ کر جنرل ضیا کو آئین میں ترامیم کا اختیار بھی دے دیا۔ جنرل ضیا نے ایک صدارتی ہی حکم کے تحت آئین میں سو سے زیادہ ترامیم نافذ کر دیں۔ بعد میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین کو بہت حد تک صدارتی کر دیا گیا۔ 258 ٹو بی کی شق جو صدر کو حکومت ختم کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ یہ اختیار ہاتھ سے نکلنے کے باعث ہی پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا ورنہ پہلے کی طرح صدر کے ذریعے حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا۔ جنرل پرویز مشرف کی سترہویں آئینی ترمیم۔

وکلا تحریک اور جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی چپقلش۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم سنہ 1973 کے آئین کی تخلیق کے بعد ہماری سیاسی قیادت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ترمیم ہے۔

کیا آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار اسمبلی کو حاصل ہے؟ کیا آئین کے لیے آئین ساز اسمبلی درکار ہوتی ہے یا کوئی بھی اسمبلی ایسا کر سکتی ہے؟

Read more

پیپلز پارٹی کی چالیں اور مسلم لیگ ن

مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی نئی نسل اور نئی قیادت میں چند ماہ کی دوستی اور تعلق تڑک کر کے ٹوٹ گیا، مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کی پیپلز پارٹی بلکہ شہید بینظیر بھٹو سے دشمنی کی طویل داستان ہے، یہ دشمنی دہائیوں پر محیط ہے، مشرف کی آمریت کے دوران کچھ برف پگھلی تھی مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نواز شریف کا کینہ ایک بار پھر اس وقت سامنے آیا جب میموگیٹ میں نواز شریف پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے

جنرل ضیا کی آمریت میں آنکھ کھولنے والے نواز شریف نے جنرل ضیا الحق کے ”دشمن“ کو اپنی سیاست کو محور بنایا اور جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد اس کے مشن کو پورا کرنے کا عزم کیا جو آج تک جاری ہے، 1985 میں نواز شریف پنجاب کے وزیر بنے، پھر ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1988 میں عام انتخابات میں پنجاب فتح کر کے وزیراعلی بن گئے، پنجابی وزیراعلی نے تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم پاکستان کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور سیاست میں قد آور شخصیت بن گئے

Read more

مرحوم ضیاء الحق نے جنرل اسمبلی میں مذہب کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا

ایک اور تاریخی اور غلط طور پر مشہور واقعہ مرحوم ضیاء الحق کے دورہٴ اقوام متحدہ کا ہے جس کا عینی شاہد میں بھی ہوں جب ضیاء الحق مرحوم مسلم دنیا یعنیOIC  کی نمائندگی کے ساتھ اقوام متحدہ آئے تو انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار قرآن کریم کی تلاوت کرائی اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے انہوں نے خطاب کیا۔ پاکستان کے عوام نے بھی پاکستان ٹیلی ویژن پر اینکرپرسن کے اعلان کے ساتھ

Read more

جنرل ضیا الحق: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سابق فوجی حکمران کے خطاب سے قبل تلاوت ہوئی تھی یا نہیں؟

تلاوت کروانے کا فیصلہ ہو گیا لیکن اس میں ایک عملی رکاوٹ حائل تھی کہ جنرل اسمبلی کے پروٹوکول کے مطابق سربراہان ریاست کے خطاب کے دوران کوئی دوسرا شخص روسٹرم پر آسکتا ہے اور نہ ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی دوسری بات کہی جا سکتی ہے۔ اس مشکل کا حل کیسے نکالا گیا؟

Read more

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا تلخ ماضی

یہ غالباً ستر کی دہائی کی بات ہے ، لاہور میں ایک الیکشن ہو رہا تھا ، جس پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو حصہ لے رہے تھے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فرزند جناب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ان ( بھٹو ) کے مدمقابل تھے۔ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف نے اس الیکشن میں اس وقت بھٹو کی بجائے فرزند اقبال جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو سپورٹ کیا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال یہ الیکشن ہار گئے اور بھٹو جیت گئے۔

Read more

تاریخ وجاہت مسعود کے ساتھ: پاکستان کا دستوری ارتقا 1947 سے 1973 تک

پاکستان کا دستوری ارتقا۔  نوابزادہ لیاقت علی خان۔ قرارداد مقاصد۔ 1956 کا دستور۔ اسکندر مرزا۔ جنرل ایوب خان۔ 1962 کا دستور۔ جنرل یحییٰ خان۔ جنرل یحییٰ کی دستور سازی کی کوشش۔ سقوط ڈھاکہ۔ ذوالفقار علی بھٹو۔ قائد اعظم، لیاقت علی خان، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی بے بسی۔

Read more

پی ڈی ایم مگرسیاست اپنی اپنی؟

سابق وزیراعظم یو سف رضا گیلانی جنہوں نے اسلام آباد کی جنرل نشست پر قومی اسمبلی کے ارکان کے ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوکربڑا معرکہ مارا تھا، نے بڑے طمطراق سے چیئر مین سینیٹ کا انتخاب لڑا لیکن اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سات ارکان انہیں دغا دے گئے۔ کہتے ہیں کہ اس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کلیدی کردارادا کیا۔ ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے گیلانی کا چیئرمین بننا اس کے

Read more

سیاسی نامزدگیاں کیسے ختم ہوں گی؟

پی ڈی ایم میں استعفوں کے سوال پر پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد حکومت کے خلاف تحریک تو تعطل کا شکار ہے البتہ بیانات اور الزامات کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کے رہنما یہ جاننے کی کوشش ضرور کررہے ہیں کہ ملک میں کون کون نامزد رہا ہے اور مستقبل میں کون یہ ’اعزاز‘ حاصل کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو ایک بیان میں ’نامزد‘ لفظ ’ایجاد‘ کرنے کا سہرا بھی اپنے سر باندھا ہے۔ گویا

Read more

کیا پنجاب کے بلدیاتی ادارے مکمل طور پر بحال ہو سکیں گے؟

سپریم کورٹ نے پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ان کے منتخب نمائندوں سے محروم کرنا کسی طور پر بھی آئینی نہیں ہے۔

رواں ہفتے جمعرات کو عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ 2019 میں پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے بلدیاتی ایکٹ کی شق تین، ماضی میں پاکستان کے آئین کا حصہ رہنے والے قانون 58 ٹو بی کے مترداف ہے۔

Read more

کیا پاکستانی حزب اختلاف میں انتشار ماضی کی طرح اس بار بھی ’ٹریپ‘ ثابت ہو گا؟

سنہ 1977 میں جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کیا، حزب اختلاف ڈرامائی طور پر متحد ہو گئی۔ وہ جان ہی نہ سکے تھے کہ حزب اختلاف کے درمیان ہم آہنگی اس قدر گہری تھی اور شاید وہ اس جال میں پھنس گئے تھے۔

Read more

پی ڈی ایم کے اختلافات سے فائدہ کسے ہوگا؟

اگرچہ بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے ہیں مگر دونوں جماعتوں کے سنجیدہ فکر رہنما چاہتے یہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ اتحاد برقرار رہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن ایسا کیا فارمولا نکالتے ہیں جس سے دونوں بڑی جماعتیں بھی راضی رہیں اور اتحاد بھی نہ ٹوٹے، سہیل وڑائچ کا تجزیہ۔

Read more

واجد شمس الحسن کی کتاب ”بھٹو خاندان میری یادوں میں“ اور قومی صحافت 

آخر کار وہ کتاب منظر عام پر آ ہی گئی جس کا بڑی شدت اور بے چینی سے انتظار تھا، اور میں کراچی سے زنوبیہ الیاس / مجاہد بریلوی سے اپنے لیے سب سے پہلا نسخہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اس کتاب پر تبصرہ بھی سب سے پہلے میں ہی لکھوں گا، اور الحمدللہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ 24 فروری کو میرا اوپیڈ ”اے لائف ود بھٹوز“ ڈیلی

Read more

احمدی برادری کی مشکلات: امتیازی سلوک، مقدمات اور قتل کے خوف کے سائے میں رہنے والے نوجوان کی کہانی

عدنان کے خیال میں پاکستان میں بڑھتی مذہبی تفریق اور انتہا پسندی سے اقلیتوں کے لیے گھٹن اور پابندی کا احساس اب پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر کسی کو اپنے نظریات اور عقائد کے اظہار کی آزادی ہو۔

Read more

23 مارچ – یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان تک

کانگریس کی 26 جنوری 1930 کی آزادی کی قرارداد۔
ہندوستان چھوڑ دو تحریک برطانیہ کے لیے کیوں پریشانی کا باعث تھا
مارشل لا ختم ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اسے واپس یوم جمہوریہ کیوں نہ بنا سکے؟
کیا 1971 میں ملک میں کوئی دستور موجود تھا؟

Read more

تاریخ وجاہت مسعود کے ساتھ: پاکستان میں 1971 سے سیاسی ارتقا

ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سنبھالتے ہیں۔ شملہ معاہدہ۔ 1973 کا دستور۔ نیپ پر پابندی۔ حیدر آباد ٹریبونل۔ بھٹو نے ایمرجنسی کیوں نافذ کی؟ ایجنسیوں نے بھٹو کو گمراہ کیا۔ نیشنل ازم۔ سوشل ازم کا زوال۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت۔ سیاسی کارکنوں پر کیا کیا لیبل چسپاں کیے گئے۔ کراچی میں کیا ہوا؟ پاکستانی معیشت کا عروج اور زوال۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں۔ جنرل مشرف کی حکومت۔ نائن الیون اور پاکستان۔ چارٹر آف ڈیموکریسی۔ بے نظیر بھٹو کا قتل۔ پیپلز پارٹی کی حکومت۔ اٹھارہویں ترمیم۔ پاکستان کی زرعی اور صنعتی معیشت۔ معیشت میں خواتین کا کردار۔ بیوروکریسی اور سیاسی عزائم۔

Read more

جھوٹا خواب اور حقیقت: ذوالفقار علی بھٹو کی بہترین تقریر

بلاشبہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر ان کی بہترین تقریروں میں سب سے بہترین تھی۔ جذبوں سے بھری ہوئی، محبتوں سے کہی ہوئی اور حوصلوں میں گندھی ہوئی! بھٹو کی گرفتاری اور گرفتاری کے 17 دن کے بعد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بٹو اور ان تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک پیشہ ور مسلمان

Read more

ہم اداس کیوں ہیں؟

اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے اور اس کی وجہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی بے یقینی اور خوف کی کیفیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے خوش باش ملکوں میں پاکستان دنیا کے 149ملکوں میں39 درجے کی تنزلی کے بعد 105 ویں نمبر پرآ گیا ہے۔ پچھلے برس کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ 153 ملکوں میں 66 ویں نمبر پر تھا۔

Read more

پاکستان میں گندم بحران: جب 25 سے زیادہ افراد کو دعوت پر بلانا ممنوع قرار دیا گیا

پاکستان میں گندم کے بحران کی ایک باقاعدہ تاریخ ہے جس کے مطابق ماہ و سال تو بدلتے رہے لیکن حالات ہمیشہ ایک جیسے رہے، جس کی ایک اور علامت مسئلے کی بنیاد پکڑنے کے بجائے گندم کی دھڑا دھڑ درآمد ہے۔

Read more

گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی مدد سے احمدی عبادت گاہ کے مینار مسمار اور سکول بند کروا دیا گیا

پولیس کی اس کارروائی میں بلدیہ اور ایک مذہبی گروہ کے کارکنان نے بھی حصہ لیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ متنازع زمین پر کشیدگی کم کرنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا جبکہ احمدی برادری نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

Read more

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ: ’جو اپنے آئینی دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں وہ سچے پاکستانی نہیں‘

جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘قائدِ اعظم کے دوست کے بیٹے کو غدار کہا جارہا ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘جج کو بلیک میل نہیں ہونا چاہیے۔ جج بلیک میل ہونے کے بجائے خودکشی کرلے۔ ایک جج کے لیے موت غلط فیصلہ دینے سے بہتر ہے۔’

Read more

پی ڈی ایم اتحاد: پاکستان کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں کتنی دور کتنی پاس رہیں؟

سیاسی ماہرین کی رائے میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں قربتوں اور دوریوں کا تعلق چلتا رہتا ہے۔ ’یہ مفادات کا کھیل ہے، جہاں ان کے مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے دونوں علیحدہ ہو جاتے ہیں اور جب ضرورت ہوتی ہے تو یہ اتحاد کر لیتے ہیں۔‘

Read more

زرداری سے بھی بھاری سیاست کے گُرو

کچھ سال سے ملکی سیاست میں آصف علی زرداری کے نام کا سکہ بول رہا ہے۔ انہیں مفاہمت کا بے تاج بادشاہ، یاروں کا یار اور نباض وقت کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ کمال استقامت، ثابت قدمی اور جگر کاوی سے گیارہ سال تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹنے کے بعد انہوں نے اپنے بدترین ناقدین اور نظریاتی مخالفین سے بھی مرد حر کا قابل فخر خطاب پایا تھا۔ اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال کے بعد انہوں نے طاقت کے سرچشموں کو آنکھیں دکھانے کے بجائے ان کی چشم ابرو کے اشارے کے مطابق اپنی سیاست کو ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی۔

Read more

عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟

30 برس پرانی بات ہے۔ جنرل آصف نواز فوج کے سربراہ تھے۔ ایک غیرسرکاری تقریب میں جنرل آصف کے علاوہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے سپیکر گوہر ایوب بھی شریک تھے۔ اگلے روز تمام اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں صدر، وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کی پر اشتیاق نگاہیں فوج کے سربراہ کو ہالہ کیے ہوئے تھیں۔ ہر تین حضرات نے مصافحے کے لیے دست بیعت

Read more

نسلوں نے سزا پائی: سقوط ڈھاکہ کی حسرت ناک داستان

مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا زخم تھا جسے پچاس سال گزرنے کے بعد بھی بھلایا نہ جا سکا۔ دنیا میں آزادی کی تحریکیں بھی چلتی ہیں۔ ملکوں کی سرحدیں بھی بدل جاتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی علیحدگی ہماری عزت نفس، وقار اور دو قومی نظریہ؛ جس پر ہمیں بڑا ناز تھا سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اقوام عالم میں ہمارا قومی تشخص مجروح ہوا۔ اس اچانک صدمہ سے قوم کا ہر

Read more

سینٹ الیکشن کے بعد ایک کالم پیپلز پارٹی کے نام

جو لوگ ملک کے آئین کو پاؤں تلے روندتے ہیں ان سے قانونی جنگ نہیں لڑی جا سکتی، ان سے جمہوریت کی اقدار پر بات نہیں کی جا سکتی، ان سے ووٹ کی حرمت کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا، ان سے مسائل کے قانونی پہلو زیر بحث نہیں لائے جا سکتے۔ جمہوریت کی جنگ میں غیر جمہوری قوتوں کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں ہو سکتا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، یہ بحث ان سے نہیں ہو سکتی جو سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت بہترین انتظام ہے۔

Read more

1977 کے انتخابات اور آج کا سیاسی منظرنامہ: جب الیکشن کمیشن کی ’سجی سجائی دکان کو لوٹا گیا‘

سنہ 1977 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات اور 2021 کے سینیٹ انتخاب کے درمیان ممکن ہے کہ کوئی ایک بھی قدر مشترک نہ ہو لیکن ایک چیز ایسی ہے جس نے 44 برس کے طویل فاصلے کو چشم زدن میں ختم کر دیا اور وہ ہے ایک ریگولیٹر کی حیثیت سے روایتی طور پر اختیار کی جانے والی خاموشی کا خاتمہ۔

Read more

سینیٹ میں مقابلہ: نشانے پر کون ہے؟

صحافی نجومی نہیں ہوتا۔ سیاسی منظر نامہ کا تجزیہ کرتا ہے اور اسی کے حساب سے اپنا اندازہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ اندازہ کرنا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔ اس لئے کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ جمعہ کو چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں کون کامیاب ہوگا۔ یہ مقابلہ برابری کا نہیں ہے۔ یہ اصولوں کے درمیان جنگ بھی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی اصول پر

Read more

مریم نواز، میں آپ سے مخاطب ہوں

مریم نواز، میں محمد مبشر اکرم بٹ، اک پاکستانی شہری، آپ سے مخاطب ہوں۔ اور اس لیے ہوں کہ میں اپنے وطن سے محبت اور آپ کی بطور سیاست دان قدر کرتا ہوں۔

آپ کی آج کی پریس کانفرنس اور آپ کے والد صاحب کے ویڈیو بیان نے شدید تشویش میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل دیکھ چکا ہوں اور اپنی 49 سالہ زندگی میں سے 35 سال براہ راست یا بالواسطہ مارشل لاء کے دیکھے ہیں۔ ان میں جنرل ضیا کے 11 برس، 1988 سے لے کر 1999 تک کا پتلی تماشا ، 1999 سے 2008 تک جنرل مشرف کا مارشل لاء اور پھر پچھلے تقریباً 3 برس کی موجودہ حکومت۔

Read more

گورے مینیجر اور خاتون سفیر کا دکھ

لبرل اکنامکس پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شمالی یورپ کے ایک فلاحی ملک کی ایک سفیر نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ممالک میں تو عوام کے درمیان پائی جانے والی تفریق کا تصور بھی جرم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جو وہ پاکستان میں دیکھ رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلتی ہوں اور ٹریفک اشاروں پر کھڑی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھی اشرافیہ پر نظر دوڑاتی ہوں جن کی کاروں کے شیشے صاف کرتے معذور لوگ اپنی زرد آنکھوں اور مایوس چہروں سے چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور آپ کے طاقتور لوگ انتہائی رعونت سے کاروں کے شیشے نیچے کیے بغیر آگے چل دیتے ہیں اور ذرا نہیں سوچتے کہ محروم طبقات کے افراد بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

Read more

پنجاب اپنے کیے پر نادم ہے

اگر ہمارے بچے ہمارا خراب تلفظ ٹھیک کرانے کی کوشش کریں تو کیا ہمیں برا لگتا ہے؟ بالکل بھی نہیں لیکن یہی کام کوئی دوسرا کرے اور اس کا اپنا تلفظ بھی اچھا نہ ہو تو ہ میں کیسا لگے گا؟  یقیناً ہمارے ماتھے پر بل آئیں گے، ہو سکتا ہے ہم ایسے شخص کو اپنی علمیت اپنے پاس رکھنے کا مشورہ بھی دے ڈالیں۔ اسی طرح اگر ہم اپنے بچوں کی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، نمبر کم

Read more

ہاتھوں کی لگائی گرہیں اب دانتوں سے کھولیں

کسی بھی زبان کے جو محاورے ہوتے ہیں وہ اسے بولنے والے معاشرے کی اجتماعی بصیرت کا بھرپور اظہار ہوتے ہیں۔اسی باعث میں تواتر کے ساتھ اس کالم میں پنجابی کے چند محاوروں کا تواتر سے حوالہ دیتا رہتا ہوں۔میرے پسندیدہ ترین محاوروں میں سے ایک کمال سادگی اور برجستگی سے خبردار کرتا ہے کہ ہاتھوں سے لگائی گرہوں کو بسااوقات دانتوں کے استعمال سے کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔منگل کے دن یہ محاورہ ایک بار پھر میرے ذہن میں

Read more

خطے میں ہلچل مچا دینے والا خط

میری دانست میں فی الوقت سب سے بڑی ’’خبر‘‘ امریکی وزیر خارجہ کا وہ خط ہے جو اس نے افغان صدر اشرف غنی کو لکھا ہے۔اس خط کو غور سے پڑھیں تو بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے کئی ہفتوں تک مذکورہ خط کی وجہ سے فقط افغانستان ہی میں نہیں پاکستان سمیت ہمارے خطے میں بہت ہلچل مچی رہے گی۔ ابھی تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہمیں اس گماں میں مبتلا رکھا تھا کہ افغانستان

Read more

میری کہانی میری زبانی

میری عمر تو 40 برس ہے لیکن میری کہانی میری پیدائش سے 8 سال قبل 30 اگست 1972 کو شروع ہو چکی تھی اور میرا نام بھی رکھا جا چکا تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس راز کو جاننے کے لیے آپ کو میرے ساتھ تاریخ کے کچھ ان اوراق پر نظر دوڑانا پڑے گی جن کے بارے کچھ لوگوں نے جانتے ہوئے بھی آج تک لا علمی کا اظہار کیا ہے اور دوسری طرف فقط ایک شخص ایسا ہے جس نے اس تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے ایک بہت انوکھا انداز اپنایا ہوا ہے۔

Read more

کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟

نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں، اس محلے کے درو دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔

Read more

ایم آرڈی سے پی ڈی ایم تک: سیاسی اتحاد اور پیپلز پارٹی کا کردار

تقسیم ہندوستان کے بعد روز اول ہی سے پاکستان سیاسی بے یقینی کا شکار رہا ہے اور اس دوران کئی سیاسی اتحاد بنے، کئی بنائے گئے۔ کئی سیاسی پارٹیاں بنی اور کئی بنائی گئی۔ 80 کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی اہم سیاسی طاقت کی حیثیت میں ایسے کئی اتحادوں کا حصہ اور کچھ اتحادوں سے الگ تھلگ نظر آتی رہی ہے۔ لیکن میرے خیال میں ان اتحادوں میں کم و بیش پیپلز پارٹی

Read more

جنرل گل حسن خان کی ’ریٹائرمنٹ‘: جب بھٹو کے ساتھیوں نے فوج اور فضائیہ کے آخری ’کمانڈرز ان چیف‘ کو برطرفی کے بعد بندوق کی نوک پر لاہور پہنچایا

سقوط ڈھاکہ کے بعد جنرل گل حسن پاکستان آرمی کے آخری کمانڈر تھے۔ انھوں نے اپنی یاداشتوں میں انتہائی محتاط انداز میں ان واقعات کو تحریر کیا ہے جن میں انھوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا اور انھیں فوج سے برطرف کیا گیا۔

Read more

ناصر کاظمی کا مثالی معاشرہ

(آج ناصر کاظمی کی برسی ہے) ناصر جس معاشرے کا حصہ تھے اس کے مسائل، اس کی ترقی اور اس کی بدلتی ہوئی اقدار میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک قائم رہی۔ میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہا خرابی کے باوجود، وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اصلاحات میں کن اقدامات کا اعلان کرنے والے تھے۔ اس

Read more

ڈسکے میں جھرلو کا ڈسکو

آج کے ڈیجیٹل دور میں انتخابی دھاندلی کی سائنس اتنی آگے جا چکی ہے کہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ہی سکہ رائج الوقت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

پرویز رشید: ایوان بالا سے دلوں کے دربار دوام تک

پیر و مرشد پرویز رشید کو ایوان بالا سے خارج البلد قرار دے دیا گیا۔ سالار جمہوریت کو شکستہ دل رفیقوں کے لشکر میں مقام دوام کی عزت مبارک ہو۔ جس نشست سے محروم کیا گیا، وہ ایک میعادی امانت تھی، جو اعزاز نصیب ہوا، وہ ایک ابدی منصب ہے۔ مزاحمت کی سپہ کے رجز گزار کو قبیلہ حریت کی صف اول تک رسائی پر دلی تبریک۔ ”فروغ گلشن و صوت ہزار“ کے اس سفر میں شکستہ پائی ہی سالکان

Read more

جھوٹا خواب اور سچی حقیقت

جنرل یحییٰ خان کے اس اعلان کے بعد کہ مستقبل کے پاکستان کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان ہوں گے اور قومی اسمبلی کا اجلاس وقت مقررہ پر ڈھاکہ میں ہی منعقد ہو گا، مغربی پاکستان میں کافی کھلبلی مچ گئی تھی۔ پنجاب اور سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کرنے کے لیے صحافی آنا شروع ہو گئے تھے۔ پریس کانفرنس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے ستر کلفٹن مکان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم اراکین کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جو چھ گھنٹے تک چلی تھی۔

میٹنگ کے آغاز میں بھٹو صاحب نے اجلاس میں موجود اراکین کو بتایا تھا کہ جنرل یحییٰ خان نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اپنی اپنی بیرکوں میں واپس جانا چاہتی ہے اور آئین سازی کے بعد آئین کے مطابق اقتدار عوام کے منتخب کی ہوئی اسمبلی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ اقتدار اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو منتقل کر دیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہو گا جبکہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں ہم اپنی حکومت قائم کر سکیں گے۔

Read more

سندھ حکومت، بلاول کے جمہوری سٹانس کے بالکل الٹ جا رہی ہے

پیپلز پارٹی کے حوالے سے ہمیشہ دل میں اچھے احساسات رہے ہیں اور وجہ بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے واحد حکمران رہے ہیں جنہوں فاٹا کے لوگوں کو اپنی بساط سے بڑھ کر دینے کی کوشش ہے۔ وزیرستان میں سرکاری انفراسٹرکچر کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے رکھی اور اپنے مختصر دور میں جتنا دیا وہ پاکستان کے تمام حکمران مل کر بھی نہ دے سکے۔ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ پاکستان میں تھرڈ امپائر سے ملے بغیر حکمرانی ناممکن ہے اور اکثر اوقات طاقتور امپائرز کھیلے بغیر گراؤنڈ سے نکال دیتے ہیں لیکن بینظیر بھٹو شہید کے جانے کے بعد لگا جیسے پیپلز پارٹی کی وہ نظریاتی اور اصولی سیاست، اصول کے بجائے وصول کی طرف زیادہ مائل ہو گئی ہے۔

Read more

طوطا طوطی اور الو کی کہانی

کسی طوطے طوطی کا ایک بستی سے گزر ہوا۔ سستانے کے لئے بستی کے ایک گھنے درخت پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر کے بعد طوطی نے محسوس کیا کہ پوری بستی پر ویرانی پھیلی ہوئی ہے۔ کہیں کوئی چہل پہل دکھائی نہیں دے رہی۔ طوطی نے ماحول کی اس وحشت ناکی کی جانب اپنے طوطے کی توجہ دلائی تو طوطے نے کہا کہ تو سچ ہی کہتی ہے۔ میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔ طوطی نے سوال کیا

Read more

بھٹو سے گیلانی تک: جمہوریت کی جنگ

سیاست آئین کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ آئین کی محافظ عدلیہ ہے۔ اب اس کی مرضی حفاظت کرے یا نہ کرے۔ فوجی آمروں کے نزدیک عدالتوں کی اہمیت محض اتنی کہ ایوب خان کے بنائے ہوئے شہر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں عدالتوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں رکھی گئی۔ پھر یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی کہ ادھر آئین بنتا ہے ادھر کوئی نہ کوئی فوجی مارشل لاء کا گرز لئے اس کا سر کچلنے کو

Read more

جمہوری اصلاحات کا پیکیج درکا رہے

سینیٹ الیکشن کو بازیچۂ اطفال بنادیا گیا ۔ کون نہیں جانتا یا مانتا کہ سینیٹ کے الیکشن عمومی طور پر پیسہ کا کھیل بن چکا ہے۔ محض گزشتہ الیکشن ہی میں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے ضمیر نہیں بیچے بلکہ یہ سلسلہ کئی عشروں سے سرکاری چھتر سایہ میں جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تین برس قبل انکشافات کرکے بھانڈا پھوڑا توسیاسی منظرنامہ پر کچھ ارتعاش پیدا ہوا۔ خان کا مقصد یہ تھا کہ کسی

Read more

سکھوں کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ، جو چھوٹ گئی

23 مارچ 1940 کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی تو منصوبے میں انسانی ہجرت کا تصور موجود نہیں تھا۔ ’قرارداد لاہور‘ سے تقریباً دو ہفتے بعد سکھوں نے بھی کانگرس کی ہم نوائی میں متحدہ ہندوستان اور بصورت دیگر مذہب کی بنیاد پر پنجاب میں الگ سکھ ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔

مارچ 1947 تک پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح راولپنڈی شہر میں بھی مذہبی قومیتوں کے باہمی تعلقات میں شدید تناؤ آ چکا تھا۔ 6 سے 13 مارچ کے درمیان کہوٹہ کے نواح میں سکھ آبادی والے دیہات فسادات کی لپیٹ میں آ گئے۔ اسی دوران ہزارہ سے نکالے گئے سکھوں کے قافلے بھی مشرقی پنجاب پہنچے تو پنجاب کی تقسیم آسمان پر صاف لکھی نظر آنے لگی۔

Read more

سپریم کورٹ سے رہنما اقدامات کی امید

قیام پاکستان کے چند مہینوں بعد ہی بحیثیت قوم ہمیں اصل فکر یہ لاحق ہوگئی کہ فقط سیاسی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئے ملک کو ’’بدعنوان‘‘ سیاست دانوں سے کیسے بچانا ہے۔لطیفہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا مطالبہ لاہور کے مینارِ پاکستان تلے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کی منظوری کے بعد سندھ کی منتخب اسمبلی نے باقاعدہ انداز میں پیش کیا تھا۔14اگست 1947کے روز ایوب کھوڑو مذکورہ اسمبلی کے قائد ایوان تھے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ انہیں ’’مرد آہن‘‘

Read more

نئے پرانے ٹھگ اور لٹنے والا عوامی قافلہ

جونہی ٹی وی آن کیا کہ خبریں ہی سن لیں۔ وطن عزیز سے کوئی خیر کی خبر آئے بڑا مشکل ہے مگر امید پہ دنیا قائم ہے۔ نیوز چینل کی سکرین پر ایک جانی پہچانی سی ”ادکھڑ“ خاتون کو بلبلاتے دیکھ کر بہت ہی رحم آیا اور بہت غور کیا تو یاد آیا کہ یہ تو فلاں ہیں مگر ان کے دشمنوں کو کیا ہوا جو یہ منت ترلے کا لہجہ اختیار کیے ہیں اور مسلسل بیٹے کی بے گناہی

Read more

حفیظ شیخ سینٹ کے رکن منتخب ہوگئے تو؟

سینٹ کی مارچ 2021 میں خالی ہونے والی 48 نشستوں پر انتخاب کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ انتخاب کا ’’عمل‘‘ لکھتے ہوئے خیال آیا کہ وطنِ عزیز کی سیاست کو ’’صاف ستھرا‘‘ بنانے کی فکر میں گھلتے ہمارے ’’ذہن ساز‘‘ مذکورہ عمل کو حقارت سے ’’سیزن‘‘ پکارتے ہیں۔ ایمان داری کے دودھ سے دُھلے لکھاریوں اور اینکرپرسن کی دانست میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھا ہر رکن اس ’’سیزن‘‘ کے دوران اپنے ووٹ کی قیمت مانگتا ہے۔ مناسب رقم

Read more

کیا چیف جسٹس مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں؟

پاکستان بار کونسل، قانون دانوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے چیف جسٹس گلزار احمد کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریمارکس پر شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد یہ سوال سنگین صورت اختیار کر گیا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملہ میں مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ان حالات میں اپنی پوزیشن واضح نہ کی اور جمعرات کو جاری کیے گئے

Read more

مطالعۂ تاریخ از مولانا کوثر نیازی

کتاب دوست برادرم کاشف منظور نے محبت کے ساتھ کوثر نیازی کی لگ بھگ 80 صفحات پر مبنی ایک چھوٹی مگر بڑی حقیقت کی ترجمان کتاب ”مطالعہ تاریخ“ بھیجی ہے جسے 1991ء میں جنگ پبلشرز لاہور نے شائع کیا تھا۔ کتاب وصول پا کر میں خود ماضی میں کھو گیا کہ یہ کتاب میں نے آج سے کوئی تینتیس، چونتیس سال پہلے اپنے گریجویشن کے زمانے میں پڑھی تھی۔ یہ کتاب جو اصل میں گورنمنٹ کالج لاہور کی ”مجلس تاریخ“

Read more

ڈنمارک سے ایک مسیحی پاکستانی کا وزیراعظم کے نام خط

جناب عالی! شروع کرتا ہوں رب جلیل کے بابرکت نام سے جس نے ہمیں پاکستان جیسی سر زمین عطا کی ہے۔ وہ سر زمین جس کو خدا نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ جناب عالی! میرا نام نواز سلامت ہے اور میں آپ کو یہ خط یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ڈنمارک سے لکھ رہا ہوں۔ میرے خیال میں ڈنمارک کو آپ سے زیادہ اچھے طریقے کوئی

Read more

کشیدگی میں کمی حکومت کے لیے ضروری ہے

قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ مقبولiت کسی سیاستدان کو نہیں ملی۔ ان کے بد ترین مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نہایت ذہین، بیدار مغز اور صاحب علم شخص تھے۔ وہ جہاں جاتے عوامی سمندر ان کی جھلک دیکھنے کو امڈ آتا، ننگے پیر اور پھٹے کپڑوں والے لوگ گھنٹوں پہلے سے ان کی گزرگاہ پر کھڑے ہوتے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ عوامی نفسیات سے کھیلنا جانتے تھے اور اس پذیرائی میں روٹی کپڑا

Read more

دو بیانیوں میں ٹکرائو کی کہانی

پہلا اور رائج بیانیہ وہ ہے جو سابق ڈکٹیٹر اور غداری کے مجرم پرویز مشرف کو سزا سنانے والی عدالت تک کو بھی اڑا دیتا ہے لیکن منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کسی ناکردہ جرم پر بھی پھانسی دینے سے گریز نہیں کرتا۔ یہی بیانیہ ایک اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کے گھر کے سامنے کند ذہن اور جذباتی لونڈوں کو دھرنے کے نام پر اکٹھا کر کے ایک دھما چوکڑی مچا دیتے ہیں اور اسی بہانے اسے اقامہ

Read more

ہشت نگر میں کیا ہوا تھا؟

بھارت کے سکھ کسان عزیمت کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ مودی سرکار انھیں دبانے کے لیے دلاسے، دباؤ اور دھمکی سمیت ہر حربہ استعمال کر رہی ہے، اسے خدشہ ہے کہ سکھ دہقانوں کی یہ تحریک جو خالصتاً طبقاتی اور معاشی بنیاد پر استوار ہے، کہیں پورے ملک میں نہ پھیل جائے، اگر ایسا ہوا تو کندھے سے کندھا جوڑے مختلف مذاہب کے حامل اور الگ الگ زبانیں بولنے والے کسان ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی

Read more

لنڈے کا لبرل دیس کے غریبوں کا دوست ہے

نکولائی گوگول نے ’اوورکوٹ‘ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی۔ اس افسانے کے بارے میں دوستوئے فسکی نے کہا تھا، ’ہم سب نکولائی گوگول کے اوورکوٹ سے نکلے ہیں‘۔ دوستوئے فسکی کا اشارہ اپنے علاوہ آئیوان ترگنیف اور لیو ٹالسٹائی کی طرف تھا۔ اردو لکھنے پڑھنے والوں کی عالمی ادب تک رسائی ہوئی تو گوگول کا ’اوورکوٹ” ہمارے یہاں بھی آن پہنچا۔ کون ہے جس نے غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ نہیں پڑھا؟ راجندر سنگھ بیدی نے بھی

Read more

سینیٹ انتخابات: پاکستان میں ‘ہارس ٹریڈنگ’ کے الزامات کی تاریخ، کب کیا ہوا؟

سینیٹ کے مارچ میں ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کے طریقۂ کار کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری ہے جب کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ خریدنے سے متعلق ویڈیو نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔

مذکورہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والے موجودہ وزیرِ قانون سلطان محمد خان نے وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر استعفی دے دیا تھا۔

اسپیکر قومی اسد قیصر اور پرویز خٹک نے مذکورہ ویڈیو اور اس سارے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ پنجم )

اکتوبر انیس سو نوے کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار وزیرِ اعظم بنے۔جس طرح آج کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت ایک صفحے پر ہیں۔بعینہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں تیس برس پہلے یہی خیال تھا۔اور کیوں نہ ہوتا۔ سیاسی افق پر شریف خاندان انیس سو اناسی میں پنجاب کی سیاسی ایٹلس پر نمودار ہوا۔ تحریکِ استقلال کے سابق رکن نواز شریف  گورنر غلام جیلانی خان کی مارشل لا انتظامیہ میں مشیرِ خزانہ

Read more

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی ریفرنس: ’ایسا لگتا ہے کہ آرڈیننس مفروضوں کی بنیاد پر جاری کیا گیا‘

اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات پر صدارتی ریفرنس پر دلائل دے رہے تھے تو جمعیت علماء اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر کامران مرتضی روسٹم پر آئے اور کہا کہ ان کی جماعت نے دو روز قبل جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کیا ہے۔

Read more

ڈاکٹر اقبال احمد: امریکہ میں پہلے مبینہ ’پاکستانی دہشت گرد‘ جن پر ہنری کسنجر کے اغوا کی سازش تیار کرنے کا الزام لگا

سنہ 1971 میں جب ویت نام میں امریکی جنگ کے خلاف امریکہ میں ملک گیر مظاہرے ہو رہے تھے اس وقت ایف بی آئی نے جنگ مخالف رہنماؤں کے خلاف ہینری کیسنجر کو اغوا کرنے اور وفاقی عمارتوں میں دھماکے کرنے کے الزامات عائد کر کے گرفتار کر لیا تھا۔

Read more

اجمل خٹک ایک شاعر، ادیب اور سیاسی راہنما

پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک 15 ستمبر 1925 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی کاٹی۔ واپسی پر 1990 ء سے 1993 ء کے دوران قومی اسمبلی اور

Read more

باچا خانی، خوشحال خانی اور ترقی پسندی کے رنگوں میں رنگا اجمل خٹک

اجمل خٹک پشتونوں میں ایک قدآور سیاستدان اور انقلابی شاعر اور ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ان چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے پشتو شاعری اور سیاست میں ترقی پسندی کے رجحان کو متعارف کروایا ہے۔ وہ انیس ستر دہائی کے اوائل میں نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے اور جب 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف لیاقت باغ میں اپوزیشن کے ہونے والے جلسے پر حملہ ہوا تو اس کے ردعمل میں وہ افغانستان چلے گئے جہاں پر انہوں نے تقریباً 18 سال بسر کیے۔ وہ 1989 میں پاکستان واپس آئے۔ بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر بن گئے۔ پشتون سیاست اور ادب پر گہری چھاپ کی وجہ سے ہر سال سات فروری کو ان کی برسی منائی جاتی ہے۔ وہ 1925 میں پیدا ہوئے تھے اور سات فروری 2010 میں وفات پا گئے تھے۔

ان کی دسویں برسی کے موقع پر ”ہم سب“ اپنے قارئین کے لئے ان کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو شائع کر رہا ہے۔ یہ انٹرویو عبدالحئی کاکڑ نے 2005 میں بی بی سی ریڈیو کے لئے اکوڑہ خٹک میں اجمل خٹک کی رہائش گا پر کیا تھا۔

Read more

اسداللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے

اسد مینگل بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار عطااللہ مینگل کے بڑے فرزند اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کے بڑے بھائی تھے، جن کی عمر 19 سال تھی وہ کراچی میں نیشنل کالج میں زیر تعلیم تھے۔ انھیں سیاسی بنیادوں پر بلوچستان کا پہلا جبری لاپتہ نوجوان قرار دیا جاتا ہے۔

Read more

05 فروری: کشمیریوں کے ساتھ یوم تجدید عہد وفا

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن ستم شعار سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت پوری دنیا میں 05 فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی دلیرانہ جدوجہد کا قانونی، آئینی اور ہر اخلاقی سطح پر ساتھ دیا جائے گا۔ مقبوضہ وادی کشمیر، جموں و لداخ کا تنازع جارحیت پسند بھارت کے ساتھ سات دہائیوں سے مشتمل ہے،

Read more

ملتان کے ایک ہی خاندان کے تین ڈاکٹروں کی اچانک موت کا معمہ، وجہ گھریلو ناچاقی یا کچھ اور؟

پولیس کے مطابق ملتان کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین نے بظاہر اپنی لاڈلی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کو مبینہ طور پر دانستہ یا غیر دانستہ قتل کر کے خود کشی کر لی، جس کے ایک ہفتے بعد ہی ڈاکٹر اظہر کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محب سلیم کی جلی ہوئی لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی۔ بی بی سی نے اس کیس سے جڑے مختلف پہلوؤں کو جاننے کے لئے ملتان میں ڈاکٹر اظہر کے خاندان، پولیس اور ماہر نفسیات سے بات کی ہے۔

Read more

یوم یکجہتی کشمیر کی کہانی، علامہ اقبال سے قاضی حسین احمد تک

جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے پانچ فروری کو ملک گیر سطح پر ہڑتال کریں۔ جبکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے بھی ہڑتال کی حمایت میں چھٹی کا اعلان کر دیا۔

Read more

جوتے کو عزت دو

کہتے ہیں کہ مرد کی شخصیت کا اندازہ کرنا ہو تو اس کی گھڑی اور جوتا دیکھنا چاہیے۔ اور عورت کی شخصیت اس کے لباس کے انتخاب سے جھلکتی ہے۔ بڑے بڑے سیاسی رہنما قیمتی گھڑیوں اور دلکش جوتوں سے اپنی شخصیت کو نکھارتے رہے ہیں، ان میں قائداعظم، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور موجودہ وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ گو کہ موجودہ وزیراعظم اب بہت سادہ لباس پہنتے ہیں، پر جو بھی پہنتے ہیں انہیں بہت جچتا ہے۔ اور جو چپل وہ شلوار قمیض کے ساتھ پہنتے ہیں اس کا تو نام ہی کپتان چپل پڑ گیا ہے۔

Read more

پیپلزپارٹی کی سیاست: کارکنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

اس پر دو باتیں پوری شد و مد کے ساتھ میرے ذہن میں آئیں۔ پہلی یہ کہ محترم زرداری اس کے علاوہ اپنی لاڈلی بیٹی کو اور کیا دے سکتے تھے؟ لین دین میں وہ بڑی مہارت رکھتے ہیں اور لازم ہے انہوں نے وہی کرنا تھا جو انہوں نے زندگی میں سیکھا ہے۔ کراچی کے بمبینو سینما کی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت سے لے کر اب تک کی تجارت کے معاملات کو وہ خوب جانتے ہیں۔

Read more

کھیلن کومانگے چاند

ایری زونا. 20، اپریل ڈیئر امجد! خط ملا اور تمہارے پروگرام کا پتا لگا. پاکستان میں تعلیم پھیلانا تو بہت ضروری ہے. تم نے صرف سندھ کی بات کی ہے، میرے خیال میں تو یہ مہم پورے ملک میں چلانی چاہیے کیوں کہ پشاور سے لے کر کیماڑی تک جہالت کا دور دورہ ہے. تم اس کام کے لیے پیسے جمع کر رہے ہو یہ تو اچھی بات ہے. تمہارا خط اور پروگرام کافی طویل ہے. میرے خیال میں تو

Read more

بلوچ لاشوں سے خوف کی کہانی نئی نہیں

چند دن پہلے کینیڈا میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والی بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی میت کے ساتھ پاکستان میں جو سلوک کیا گیا اس پر شدید تنقید ہوئی۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا ریاست اب لاشوں سے بھی ڈرنا شروع ہو گئی ہے؟ بلوچوں کی لاشوں ساتھ مذاق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے اوپر لگنے والے بہت سے الزامات کا جواب دینے کے لئے ”افواہ اور حقیقت“ کے نام

Read more

سیاسی مزاحمت، بیانیہ اور وراثت

پی ڈی ایم تحریک مختلف مراحل طے کرتے ہوئے جب فیصلہ کن موڑ مڑنے والی ہے تو اس میں اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ مختلف جماعتوں کے اکابرین کے نقطہ نظر میں متنوع معروضی صورتحال کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی خاطر عملی اقدامات میں تبدیلیوں کی ضرورت نے باہمی اختلاف رائے کا تاثر ابھارا ہے جبکہ حکومتی حلقے کے بیانات اور پروپیگنڈا نے بھی اس تاثر کو مضبوط کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ذرائع

Read more

پرویز خٹک کی ’’برجستگی‘‘

ہمارے ہاں سیاست اب پھکڑپن اور یاوہ گوئی تک محدود ہوچکی ہے۔اس تناظر میں سوچیں تو اتوار کا دن تحریک انصاف کے وزیروں اور ترجمانوں کی جانب سے اپنے مخالفین کی بھد اُڑانے میں گزرجانا چاہیے تھا۔ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے گزشتہ برس کے ستمبر میں خود کو PDMنامی اتحاد میں یکجا کیا تھا۔ نواز شریف نے اس کے افتتاحی اجلاس سے دھواں دھار خطاب کیا۔ جوش خطابت میں چند ایسے لوگوں سے پنجابی محاورے والے ’’سیدھے‘‘ ہوگئے

Read more

عمران خان کی عوامی رابطہ مہم: کیا پاکستان میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا ہے اور کیا ٹیلیفون پر عوام سے رابطہ موثر ثابت ہوتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان پیر سےعوامی رابطے کی ایک مہم کے سلسلے میں ٹیلیفون کے ذریعے عوام سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ لیکن مسائل کے حل کے لیے یہ طریقہ کتنا کارآمد ہے؟

Read more

عمران خان کی عوامی رابطہ مہم: کیا پاکستان میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا ہے اور کیا ٹیلیفون پر عوام سے رابطہ موثر ثابت ہوتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان پیر سےعوامی رابطے کی ایک مہم کے سلسلے میں ٹیلیفون کے ذریعے عوام سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ لیکن مسائل کے حل کے لیے یہ طریقہ کتنا کارآمد ہے؟

Read more

پاکستانی سیاسی جماعتیں اور فارن فنڈنگ کا معاملہ

پڑھنے والوں کو سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ Suo Moto Case No۔ 7 / 2017 یاد ہو گا جسے محترم جسٹس فائز عیسی صاحب اور محترم جسٹس مشیر عالم صاحب نے تحریر کیا تھا۔ اس فیصلے کے صفحہ 23 اور 24 پر یہ لکھا ہوا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن ہی ایسے شخص نے کرائی تھی جو متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر تھا۔ اور اس کے پاس صرف پاکستان کا نائی کوپ تھا۔ اس فیصلے یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیاسی جماعت بیرون ملک سے مالی مدد لے رہی ہے اور قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔

Read more

قانون کی حکمرانی اور وزیر اعظم کی تقریریں

جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھی کھوکھر برادران جو لاہورمیں وسیع جائیدادوں کے مالک ہیں کے گھر کھوکھر پیلس کو گرانے کے لیے ایل ڈی اے اور پولیس نے یلغارکی، وزیراعظم عمران خان کے ذہن پر "قبضہ مافیا” سوار ہے۔ مسلم لیگ نپر کرپشن کے الزامات اپنی جگہ اب اس جماعت کو سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کا سرپرست قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ن لیگ اور قبضہ مافیا ایک ہی ہیں، پنجاب میں

Read more

کمیونسٹ منشور کے بارے میں معلومات اور اس کے اثرات

آج تک کی انسانی تاریخ طبقاتی جہدوجہد کی تاریخ ہے۔ آزاد اور غلام، اعلی طبقے اور ادنی طبقے، مالکان اور خانہ زاد غلام، دستکار اور آقا یعنی دوسرے الفاظ میں ظالم و مظلوم طبقات تاریخ کے ہر دور میں ایک دوسرے کے خلاف مستقل طور پر کھڑے رہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل ایک خفیہ اور کھلی لڑائی لڑتے رہے۔ اس لڑائی کا خاتمہ ہر دفعہ یا تو سماج کی انقلابی تنظیم نو میں ہوا یا دعوے دار طبقات کی مشترکہ بربادی پر ہوا۔ یہ اس پیغام کا مفہوم ہے، جو کارل مارکس اور فریڈرک انگلس نے اپنی مشہور تخلیق کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دیا۔

اس منشور کو دنیا کی سب سے زیادہ با اثر سیاسی دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ پیٹر آسبارن جیسے دانشور نے اس دستاویز کو انیسویں صدی کی سب سے اہم ترین تحریر قرار دیا ہے۔ کچھ دانشور اسے اکیسویں صدی کا منشور بھی قرار دیتے ہیں۔ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اس تحریر کو ان معدودے چند سیاسی دستاویزات میں شامل کیا جاتا ہے، جن کو پوری دنیا میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ ”زوم ریڈنگ روم“ کی گزشتہ مطالعاتی نشست میں ہم نے سیاسی تاریخ کی اس اہم ترین دستاویز پر گفتگو کی ہے۔

Read more

پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے

انگریز سرکار کی عینک سے دیکھیں تو یہ سوچ سمجھ میں آتی ہے کہ میت کو ورثا کے حوالے کرنے اور پھر عوام کی جنازے میں ممکنہ کثیر شرکت دراصل دہشت گردوں کو ہیرو بنانے کے مترادف ہو گی۔

Read more

پروفیسر لئیق احمد خان: ذہانت، خطابت اور متانت کا سنگم

دنیا بھر کے موضوعات میں ان کی دلچسپی اور تجسس دیکھ کر، مجھے خود یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ یہ پتہ کر سکوں کہ پروفیسر لیئق احمد اپنے علمی ذوق کی تسکین اور بڑھاوے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ آخر ایک دن، میں، ان سے پوچھ ہی بیٹھا کہ لیئق صاحب، آپ کو کسی بھی موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی جائے، ( شارٹ نوٹس بھی ہو ) آپ کسی پس و پیش کے، رضامند ہو جاتے ہیں۔

Read more

باتیں اعجاز الحق کی، کالم ہمارا

میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک زخم کو اجاگر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر کبھی پچھتاوا ہوا تھا؟ اس پر اعجاز الحق صاحب نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی ایک افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اس وقت کی حکومت نے عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کیا۔ اس میں کوئی ذاتی رنج والی بات نہیں تھی۔ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ خود ان کے دور میں بنایا گیا تھا۔ جب قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تو اس وقت بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے۔

Read more

چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ دوم )

قیامِ پاکستان کے بعد شروع کے تئیس برس تک احتساب کے نام پر صفائی میں ہر اسٹیبلشمنٹ مخالف گھوڑا گدھا ہدف ٹھہرا۔ حاکمِ وقت کی انا اور خوِئے انتقام کی تسلی تو بخوبی ہو گئی مگر جسے لغوی و معنوی احتساب کہتے ہیں اس کی غیر جانبدارانہ تکمیل ادھوری ہی رہی۔ لیاقت دور کے پروڈا اور ایوبی دور کے ایبڈو کے ذریعے مرضی کا سیاسی منظرنامہ تشکیل دینے کی کوشش سے سدھار کم ہوا اور خلفشار زیادہ بڑھا اور مشرقی

Read more

کچھ کرپشن اور حکومتی بندوبست کے بارے میں

حافظ سلمان بٹ رخصت ہو گئے۔ اٹل نظریاتی شخص تھے اور نہایت قابل قدر سیاسی شہری۔ ہمارے قبیلے نے پنجاب پولیس کے ایک دیانت دار افسر خواجہ طفیل کے بیٹے حافظ سلمان بٹ سے شدید مخاصمت میں آنکھ کھولی۔ 25 فروری 1985ءکی رات ابھی آنکھ میں زندہ ہے۔ حافظ سلمان جماعت اسلامی کے امیدوار تھے اور غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ لاہور کی دیو سماج روڈ پر شیراز ہاسٹل کے باہر اپنے مداحوں میں

Read more

کہیں جمہوریت کی بساط لپٹنے والی تو نہیں؟

جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتی ہماری نسلوں کو کم ازکم وہ دو دور تو اچھی طرح یاد ہیں جب اندرونی سیاسی عدم استحکام اور بیرونی بنتے حالات نے ہمارے ہاں جمہوریت کی بچھی بساط کو لپیٹ کر ملک کو آمریت کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک وہ دور تھا جب 70 کی دہائی میں ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک کو جواز بنا کر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرا اس وقت جب اکتوبر 1999 میں سابق صدر پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈال دیا اور اگلے نو سال کے لئے حکمران بن بیٹھے۔

Read more

گنگا ہائی جیکنگ: جب دو کشمیری نوجوان انڈین طیارہ اغوا کر کے لاہور لے آئے

دوکشمیری نوجوانوں کی ایک کھلونا پستول اور لکڑی سے بنے ہینڈ گرنیڈ کی مدد سے انڈین طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کہانی جس نے پہلے انھیں لوگوں کی نظروں میں ہیرو اور پھر ملک دشمن ایجنٹ بنا دیا۔

Read more

وزیراعظم! آپ چوروں اور ڈاکوؤں کے بارے میں ’’سلیکٹڈ‘‘ ہیں

محترم وزیر اعظم خدارا یہ نہ کہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف جیسا طاقتور حکمران بھی ان ڈاکوؤں کا مقابلہ نہ کر سکا۔حضور طاقت کا نشہ انسان کو کرپٹ کر دیتا ہے اور وہ جتنا طاقتور ہوتا جاتا ہے اتنا کرپٹ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف مالی کرپشن کا مسئلہ نہیں ہے، اخلاقی کرپشن کا بھی مسئلہ ہے جس کے مشیر شریف الدین پیرزادہ مرحوم جیسے مشیر رہے ہوں وہاں نہ آئین کا عمل دخل ہوتا ہے نہ میرٹ کا

Read more

باسمتی چاول پر انڈیا اور پاکستان کے دعوے: پاکستان میں باسمتی چاول کیسے ’کرنل باسمتی‘ کیسے بنا؟

1960 میں حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے کرنل مختار حسین نے باسمتی چاول کا نیا بیج دریافت کیا جس کی کاشت سے باسمتی چاول کی جو فصل تیار ہوئی وہ معیار میں بہت اعلیٰ تھی اور اس چاول کی خوشبو بھی بہت اچھی تھی۔

Read more

ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب’پاکستان: عسکری ریاست‘ کا نیا ایڈیشن

کتاب میں اس جنگ بارے کافی سارے آرمی آفیسرز کے انٹرویو لیے گئے ہیں جو اس باب کی خوبصورتی میں اضافے کا موجب ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عروج و زوال کی داستان کے بعد اس کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اس حصے میں ’مولوی ضیاء الحق‘ کے اسلام کی کہانی ہے۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے آغاز فوج سے کیا، ضیاء دور میں فوجی یونٹوں میں تعینات مولویوں کو ترقی دیتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کا رینک دے دیا گیا۔ اسی دور میں بریگیڈئیر ایس کے ملک نے ”جنگ کا قرآنی تصور“ نامی کتاب لکھی جس کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ضیاء الحق نے لکھا:

Read more

چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ اول)۔

جس طرح ہر کسی کو بچپن میں شوق ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا سرکاری افسر بنے گا اسی طرح ہر شوق زدہ حکمرانی کی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے خواب دیکھتا ہے کہ وہ سب کو لائن میں کھڑا کر کے کڑا احتساب کرے گا تاکہ اس ملک کو کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری وغیرہ وغیرہ سے نجات مل سکے اور مجھے اگلی نسلیں یاد رکھیں۔

Read more

منو بھائی: کچھ ذاتی یادیں

صاحب ِ طرز اخبار نویس اور لکھاری منو بھائی کی تیسری برسی گزر گئی۔ مجھے اُن کے ساتھ گہری دوستی یا پیشہ ورانہ تعلق کا دعوی تو نہیں۔ ہاں، انہوں نے پاکستانی عوام کے لئے پرامن، باعزت اور محفوظ زندگی کے جو خواب دیکھے وہ ابھی تک نہیں ٹُوٹے۔ میرا سرمایہ یہی مشترکہ خواب ہیں اور اِن سے جڑی کچھ یادیں۔ پہلی یاد اُس مرحلے کی ہے جب جنرل ضیا الحق کو سیاسی منظر سے ہٹے کچھ ہی دن ہوئے

Read more

قید میں لکھی گئی تین عظیم کتابیں

دنیا میں جتنے بھی غیر معمولی کام ہوئے ہیں وہ سب مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے انجام دیے گئے ہیں، چاہے ان کا تعلق مذہب سے ہو یا پھر وہ سیاسی ہوں یا پھر سائنسی ، سب کام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سرانجام دیے گئے ہیں۔ انگریز سامراج کے دور کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے وہ کارنامے سر انجام دیے ہیں جن کا آج

Read more

ایک سو سڑسٹھ روپے انچاس پیسے کی قومی ترقی

جب خان صاحب جولائی دو ہزار اٹھارہ میں برسرِاقتدار آئے تب تک سابق حکومتیں پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے نوے بلین ڈالر کے غیر ملکی قرضے لے چکی تھیں۔ پچھلے ڈھائی برس میں گذشتہ غلط پالیسیوں کو ڈھا کے نیا پاکستان بنانے کے لیے مزید چوبیس ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے۔ یعنی قومی بجٹ میں کل ملا کے سود سمیت تقریباً گیارہ ارب ڈالر سالانہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے مختص کرنا پڑ رہے ہیں۔

Read more

ایک کال کا سوال ہے بابا

اپنے پیارے وطن میں سیاسی جلسے جلوس احتجاج کرنے والے لیڈروں کے لیے سیاسی آکسیجن ہوتے ہیں جبکہ مخالفین کے لیے سیاسی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتے ہیں۔ عوام حکومت اور اپوزیشن کی اس کھینچا تانی میں پریشان پھنسے رہتے ہیں۔ جب دونوں سیاسی برجوں کے معاملات کسی نتیجے پر نہ پہنچ رہے ہوں اور عوام تنگ سے تنگ ہوتے جا رہے ہوں تو کوئی درمیان میں داخل ہوتا ہے۔ اس انٹری سے سیاسی آندھیاں وقتی طور پر رک جاتی ہیں

Read more

ہم اور ہماری ترجیحات

دکھ کی بات ہے کہ ہم آج تک اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کر پائے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی خبر ایسی ضرور مل جاتی ہے جس سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ معاملات قومی ترجیحات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ترجیحات تسلسل کا تقاضا کرتی ہیں۔ یعنی ایک حکومت گھر چلی جائے تو آنے والی حکومت کام کو وہیں سے شروع کر دے جہاں جانے والی حکومت چھوڑ گئی تھی۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب کسی

Read more

پاکستان پر مسلط ہونے والی اشرافیہ کی کہانی (آخری قسط)

اب ہم سیاسی جماعتوں کے کردار اور اس کے طریق کار کو زیربحث لاتے ہیں۔ انگریز دور میں جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنے وفاداروں میں بڑی بڑی جاگیریں تقسیم کیں جو کہ مغلوں کے برعکس موروثی طرز پر استوار کی گئیں تھیں جبکہ نہری نظام متعارف کروا کر ہندوستانی معاشرے کو خالص جاگیرداری طرز پر استوار کیا گیا۔ ان جاگیرداروں کو بھاری بھرکم خطابات سے نوازا گیا اور انہوں نے انگریزوں کے

Read more

کیا جنرل (ر) بلال اکبر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری لا سکیں گے؟

پاکستان سے سعودی عرب جانے والے سفیروں میں زیادہ تر جنرل یا ایڈمرل رہے ہیں۔ لیکن کیا ان کی تعیناتی کے دوران پاکستان کو سفارتی سطح پر کوئی خاص مدد ملی ہے؟

Read more

فارن فنڈنگ کیس کیا ہے اور اس کے پاکستانی سیاست پر کیا ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کار کے مطابق جس طرح سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے سوئس اکاؤنٹس کا پتہ چلا اور اس کے بعد میاں نواز شریف کے لندن میں فلیٹس اور بینک اکاؤنٹس کو سامنے لا کر ان جماعتوں کی عوام میں ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی گئی شاید اسی طرح اب تحریک انصاف کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست میں مستحکم موروثیت کا سبب

ہماری قوم نفسیاتی اعتبار سے جذباتی واقع ہوئی ہے۔ جذباتی نعروں میں بہہ جاتی۔ کہیں کوئی جذباتی تقریر سن لی، اس جانب چل دیے۔ وہ مولوی ہوں یا سیاستدان، صحافی ہوں یا تجزیہ کار ، انہیں وہی پسند آتے جو انہیں جذباتی بحثوں میں الجھا دیتے۔ پھر ان میں ان پڑھ ہی نہیں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی شامل ہیں۔ ایسے میں اگر آپ انہیں حقائق کی دنیا میں لانے کی کوشش کریں تو آپ کو ناکامی ملے گی

Read more

سندھ کی علیحدگی پسند تنظیموں کی پرتشدد کارروائیاں، ریاستِ پاکستان کے لیے کتنا خظرہ؟

ہر سال 17 جنوری کو ‘جئے سندھ تحریک’ کے مختلف دھڑوں کے کارکنان تحریک کے بانی جی ایم سید کی سالگرہ کے موقع پر تقاریب منعقد کر کے اُن کے نظریے یعنی ‘سندھ کی آزادی’ یا ‘سندھو دیش’ کے قیام کے لیے پُر امن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں سندھ علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ چند پرتشدد عناصر کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

Read more

چائے پانی کی دعوت یا کچھ اور؟

برسوں قبل پاکستان کی سیاست کے رموز سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اشاروں کنایوں کا سہارا لیا جاتا تھا۔ شہر اقتدار یعنی اسلام آباد کے ایک عالی شان ہوٹل کی لابی اقتدار سے ہمیشہ جڑے رہنے والے سیاستدانوں کا گڑھ ہوتی تھی۔

ایک میز پر سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء کے صاحبزادے اعجاز الحق تو دوسری میز پر سگار سلگائے شیخ رشید اور ان کے ارد گرد بیٹھے صحافی۔ آس پاس کالی واسکٹوں میں مخصوص کردار، عقل پر زور دینے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کا کس قبیلے سے تعلق ہو سکتا ہے۔

Read more