اے ایس آئی منیر نسیم کی ایف آئی آر

جوہر آباد تھانے فیڈرل بی ایریا کراچی کی وہ ایف آئی آر جو اے ایس آئی منیر نسیم نے درج کی تھی اپنی زبان کی چاشنی، اٹکھیلیوں اور اختصار کی بنیاد پر مرزا ہادی رسوا کے ناول شہر آفاق ”امراؤ جان ادا“ کا نسبتاً ایک غیر شائع شدہ باب لگتی تھی۔ کراچی کا جوہر آباد تھانہ 1988 علاقے میں اپنی دھاک رکھتا تھا۔ یہاں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ تھی۔ کارکنان۔ بے رحم پولیس کے

Read more

بھٹو خاندان کی ٹریجڈی: ذوالفقار علی بھٹو کے دو بدنصیب بیٹے

وزیراعظم ترکی جناب بلند ایجوت نے مجھ سے کہا کہ ”آج مجھے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں ملنے تشریف لائیں اور وہاں ہم دونوں کھانا ساتھ کھائیں گے۔“ یہ میرے لیے اعزاز تھا، وزیراعظم ترکی کے ساتھ لنچ، دوسرا ترکی کی اس پارلیمنٹ میں ملاقات جو مسلم دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ کے صدر دروازے پر پروٹوکول والے میرے منتظر تھے۔ وزیراعظم ترکی بلند ایجوت نے مجھے Pick کرنے کے لیے اپنی ذاتی کار بھیجی جسے ان کے

Read more

پی۔ ڈی۔ ایم اور کرونا وائرس

تاریخ پاکستان کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ انتخابات پر جماعتیں متفق نہیں رہیں۔ ہمیشہ اقتدار میں آنے والی جماعت نے شفاف انتخاب ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ ہارنے والی جماعتوں نے انتخابات چوری ہونے یا دھاندلی کا الزام لگایا۔ شاید ہارنے والی جماعت فقط اس لیے اس نعرے کو لگاتی ہے تاکہ جماعت کے کارکن اور ووٹر جماعت سے جڑے رہیں اور کوئی جواز رہے۔ 90 کی دہائی کی چھوڑ کر اگر حالیہ دو دہائیوں بات کروں کو 2002 مشرف دور حکومت کو بھی دھاندلی زدہ کہا گیا اور ق لیگ و دیگر حکومتی جماعتوں نے انتخابات کو درست قرار دیا۔

اس وقت مولانا فضل الرحمن و نون لیگ نے مل کر اپنا وزیراعظم لگانا چاہا مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم کا امیدوار نافذ کیا۔ اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ سے ظفر جمالی صاحب وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات کو بھی اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے تو اس کا بائیکاٹ کیا مگر پیپلز پارٹی نے میدان مارا تو اب اپوزیشن میں ق لیگ نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا۔ ہم نے دیکھا کہ نون لیگ کیسے پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف اور ججز بحالی تحریک میں نکلی۔

Read more

کاون: دنیا کا ’تنہا ترین‘ ہاتھی پاکستان سے اپنے نئے گھر کمبوڈیا پہنچ گیا

پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی سے نجات پانے کے بعد وہ معمول سے زیادہ وزنی ہاتھی جسے دنیا کا تنہا ترین ہاتھی کا نام دیا گیا، اپنے نئے گھر کمبوڈیا پہنچ گیا ہے۔

Read more

سچے افراد کی کمی ہو تو ایسی اقوام کسی کی آئیڈیل نہیں ہوتیں

قدیم معاشرت کے زیر اثر شخصیت پرستی کی لعنت نے کبھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس خطہ زمین کے چھوٹے ذہن، چھوٹی سوچ اور ذات کے دائرے کے اندر رہنے والے غلام لوگ ہمیشہ سے بت پرستی (شخصیت پرستی) جیسے شرک اور لعنت کے گرویدہ رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس خطے کا ایک حصہ ہے کل جب جنرل ایوب خان اس ملک کا صدر تھا تو ہر جگہ ”ایوب خان“ شاباش، واہ واہ، تعریف، خوشامد ”۔

Read more

اسلام آباد کے پیارے ہاتھی کاون کو خدا حافظ

جس طرح کے رکھوالے کاون نے پچھلے پینتیس برس میں دیکھے وہ ہم عشروں سے بھگتتے آ رہے ہیں۔ فرق ہے تو بس اتنا کہ تمھارا پنجرہ چھوٹا ہے اور ہمارا پنجرہ کچھ بڑا۔ وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

کاون: پاکستان میں برسوں جکڑے رہنے والے دنیا کے تنہا ترین ہاتھی کی کہانی

سری لنکا میں پیدا ہونے والا کاون 1985 میں پاکستانی حکومت کو تحفے میں دیا گیا تھا اور برسوں خراب حالات میں رکھے جانے کے بعد آج اسے عدالتی حکم پر رہا کیا جا رہا ہے۔

Read more

پاکستان میں بائیں بازو کے لکھاریوں کی کتب کیوں کم چھپ رہی ہیں؟

برصغیر پاک و ہند میں مزاحمتی اور بائیں بازو کی ادبی تحاریک کی تاریخ 1947 میں ہونے والی تقسیم ہند سے بھی پرانی ہے۔ اس زمانے کے ترقی پسند مصنفین نے لکھنے کے اصول وضح کیے اور ادب برائے زندگی کو اپنا موضوع بنایا۔

1936 میں ‘انڈین پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کے بانیوں میں دائیں بازو کی سوچ کے حامل سجاد ظہیر ملک، ڈاکٹر راج آنند اور ایم ڈی تاثیر اس تحریک کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ تاہم تقسیمِ ہند کے بعد دسمبر 1947 میں ‘آل پاکستان پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کی بنیاد پڑی۔ جسے سبطِ حسن اور سعادت حسن منٹو جیسے اردو کے مصنفین کے علاوہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں ابراہیم جویو اور سوبھو گیان چندانی جیسے کئی افراد نے زندہ رکھا۔

Read more

الوداع” کاون“

اگر سب کچھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے تو دو دن بعد، یعنی 29 نومبر کی صبح چھ بجے کارروائی شروع ہو جائے گی۔ ”کاون“ کو کئی ہفتوں سے لوہے کے بنے ایک بہت بڑے پنجرے میں داخل ہونے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کسی ترغیب کے سبب وہ اس فولادی پنجرے میں آ جائے گا۔ ٹھیک دس بجے اسے انجکشن لگیں گے جن کے باعث وہ بے ہوش ہو کر

Read more

”کاون“ جا رہا ہے

کاون کا آبائی وطن سری لنکا ہے۔ 1985 میں صدر پاکستان ضیاءالحق اپنی فیملی کی ہمراہ سری لنکا گئے تھے۔ جہاں سری لنکا حکومت نے جنرل ضیاء الحق کی بیٹی زین ضیا ء الحق کو تحفے میں کاون دیا تھا۔ کاون جب پاکستان آیا تو اس کی عمر ایک برس تھی۔ کاون پچھلے 35 سالوں سے چڑیا گھر میں آنے والوں کو تفریح مہیا کر رہا ہے، 2012 میں کاون کی مادہ انتقال کر گئی تھی، کاون اکیلا رہ گیا تھا، کاون پچھلے 8 برسوں سے قید تنہائی کاٹ رہا تھا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے حکم دیا کہ کاون کو ان کی قدرتی ماحول میں بھیجا جائے چنانچہ اسی فیصلے کے تناظر مین کاون کو کمبوڈیا بھیجا جا رہا ہے۔

Read more

نواز شریف: جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

نواز شریف کو اکتوبر 1999 ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ وغضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اس وقت نواز شریف

Read more

”بلیک اینڈ وائٹ“ دور کے ”پی ٹی وی کلاسیک“ کی یاد میں۔

یہ 1988 ء کے سنہرے سجیلے دنوں کی داستاں یادوں کی بازآفرینی ہے۔ شاید ہمارے ”محبوب“ جنرل کے ”بلیک اینڈ وائٹ“ دور حکومت کی نزعی ساعتیں تھیں جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ اداسی اور خموشی میں ملبوس ایک سہ پہر ابا جی لکڑی کے ڈبے کا چار فٹ طویل بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر جب گھر آئے تھے تو ہمارا گھر اوچ شریف کی پوری شمس کالونی میں وہ واحد ”خوش قسمت“ گھر قرار پایا جو ٹی وی جیسی ”نعمت“ سے ”سربلند“ ہوا۔

Read more

ہندوستان کے کائو بوائز اور مسز اندرا گاندھی کا حلقہ گرہ گیر

ہمارے کتب خانہ میں دو ڈیجٹل کتابیں موجود ہیں۔ پہلی تو مشہور زمانہ جاسوس کم فلبی کے بارے میں ہے۔ اے سپائی امنگ فرینڈز مصنف بین میکن ٹائر اور جان لا کیئرے۔ اس کی تعریف ٹوئیٹر پر وکرم سود صاحب نے کی تھی۔ موصوف را کے چیف رہے۔ سن دو ہزار تین میں ریٹائر ہوئے۔ تعلق ہندوستان کے محکمہ ڈاک سے تھا۔ ہمارے محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران بھی اُن کی طرح ایک ہی مقابلے کے امتحان سے آتے ہیں۔

Read more

پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ

پہلی مرتبہ ذو الفقار علی بھٹو نے حیدر آباد سندھ میں میر رسول بخش تالپور کے گھر ایک نئی پارٹی کی تشکیل کی بات کی۔ یہ 16 ستمبر 1967ء کی اک خوشگوار صبح تھی۔ بھٹو نے اس موقع پر جمع اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ ”ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل ہی وہ تنہا سبیل ہے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے“ ۔ منزل مقصود سے ان کی مراد خوشحال پاکستان اور امن انصاف، مساوات

Read more

اعداد و شمار کا ناٹک!

وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کے سربراہ، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اکانومی کے بارے میں اچھی اچھی خبریں سنائی ہیں، ان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں کافی عرصے کے بعد لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی صنعتوں کی پیداوار میں پانچ فیصد ترقی ہوئی ہے۔ بالخصوص سیمنٹ، فرٹیلائزرز اور آٹو موبائلز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں بھی گوناگوں اضافہ ہو رہا ہے، کرنسی بھی مستحکم

Read more

فیض احمد فیضؔ اور صحافت

فیض احمد فیضؔ ہماری تہذیبی حیات، ادبی و فکری تاریخ اور قلمی و صحافتی روایت کا زندہ اور روشن استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مزدور انقلابی راہنما، مدیر و صحافی یہ سب ان کی ہشت پہلو شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ فیضؔ صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا ہر پہلو اپنے اندر ایک زندگی لیے ہوئے ہے۔ بطور شاعر وہ عہد ساز شاعر کہلاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کے دوسرے پہلو بھی کم متاثر کن نہیں ہیں، وہ

Read more

ووٹ کی عزت کے نعرے!

” ہم فوج سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں مگر اس سے پہلے جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے“ مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہے گئے یہ الفاظ سن کر اس لیے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے سیاستدان جب اقتدار سے دور ہوں تو وہ عوام کے قریب ہو جاتے ہیں انہیں عوام کا احساس بھی ہوتا ہے عوام کے ووٹ بھی یاد آتے ہیں

Read more

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم : چلتا پھرتا علی گڑھ

مشکلات و مصائب میں گھری پاکستانی صحافت کا ایک المیہ یہ ہے کہ ایک ایک کر کے چراغ بجھ رہے ہیں اور نئے چراغ روشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ نہایت دکھ ہوتا ہے کہ صحافت کو آن بان عطا کرنے اور پیشہ وارانہ لگن کی عظیم مثالیں قائم کرنے والے بیشتر حضرات کے ساتھ ہمیں مرحوم لکھنا پڑرہا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم اور جناب سید سعود ساحر مرحوم جیسی نابغہ روزگار شخصیات کا اس جہان فانی سے

Read more

ایک شدید جذباتی کالم

تاریخ ارض پاک کا ایک سچا واقعہ۔ ذکر ہے جنرل ضیا الحق کے سُنہرے زمانے کا۔ ایک صاحب وزیر ہو گئے۔ موصوف اپنے گھر میں بیٹھے دین دُنیا کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اُن کے ملازم نے اطلاع دی کہ آپ کے گاوں سے ملاقاتی آیا ہے۔ صاحب نے اُسے اندر بھیجنے کا حکم دیا۔ مُراد، جہاں وہ بیٹھے تھے، جیل والے اندر نہیں۔ گاؤں میں سب لوگ ہی ایک دوسرے کے واقف بلکہ دوست ہوتے ہیں، جب تک کام

Read more

پاکستان میں حقیقی سیاستدانوں کا فقدان کیوں؟

نظر مضمون میں پاکستان کی سیاسی اور سیاستدانوں کے حوالے سے ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے اتفاق یا اختلاف اپکا حق ہے۔ مضمون کو مندرجہ ذیل ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 1۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کی عمومی سیاسی صورتحال۔ 2مارشل لائی دور حکومتوں میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں پر قدغن۔ 3۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور شیخ مجیب کی سیاسی جدوجہد۔ 4۔

Read more

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

سچی بات ہے یہ دنیا عالم حیرت تو ہے ہی لیکن کمال یہ ہے کہ اس عالم حیرت میں جہاں ستاروں پہ کمند ڈالی جا چکی ہیں ہماری مقتدرہ و اشرافیہ اپنی کوتاہ کوشی، کم فہمی اور ذہنی و فکری افلاس کے ایسے ایسے نمونے اور مظاہرے پیش کرتی ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ دور کیا جانا اب یہ جذباتی و غیر جذباتی والے معاملے کو ہی دیکھ لیں بندہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے نا۔

Read more

جذبات میں آنے کی بجائے ہوش سے کام لیں

یہ منگل کو کراچی واقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے بلاول بھٹو زرداری سے فون کر کے کہا تھا کہ فوج تحقیقات کرے گی اور 10 دن میں انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے گی مگر جب نہیں آئی تو پی ڈی ایم نے 8 تاریخ کو مطالبہ کیا تھا کہ انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے جلد از جلد۔ پھر 10 تاریخ کو جب رپورٹ آئی تو جو آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی اس کے مطابق مزار قائد پر جو کیپٹن (ر) صفدر نے ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔

اس کے بعد مزار قائد کی بے حرمتی کی گئی تو عوامی دباؤ بڑھ رہا تھا اور پولیس سست کارروائی کر رہی تھی اور مقدمہ درج کرنے سے گریزاں تھی تو شدید ترین عوامی دباؤ پر آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈ اور رینجرز کے اہلکاروں نے آئی جی سندھ کو اغوا کیا اور زبردستی ان سے وارنٹ گرفتاری پر دستخط لے کر پھر مریم نواز کا کمرہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا گیا اور یہ ساری کارروائی اس لئے ہوئی کیونکہ اہلکار جذبات میں آ گئے تھے اور اس سے دو اداروں میں بدمزگی ہوئی اور ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور ان چار افسران کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر نام صیغہ راز ہیں اور مزید کارروائی جی ایچ کیو میں ہوگی۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: موسیقی، ترانے اور تقریری زبان

جلسے، جلوس، کارنر میٹنگز اور ریلیوں کو انتخابی سیاست کی جان سمجھا جاتا ہے۔ نوے کی دہائی کے بعد تو اس میں ترانے اور موسیقی کا تڑکا بھی لگایا گیا تاکہ عوام کو اور زیادہ راغب کیا جاسکے۔ ملکی سطح پر سنا تھا کہ سیاسی جلسوں میں مجلس احرار کے شورش کاشمیری اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتی تھیں۔ خصوصاً بھٹو صاحب کا عوامی انداز خطاب جلسے میں موجود افراد کو جذباتی طور پر اچھلنے پر مجبور کر دیتا تھا۔

پھر آمریت کا دور آیا اور صرف نمائشی اسلام کا لبادہ اوڑھے جنرل ضیا الحق نے ٹی وی سے لے کر فلم انڈسٹری تک کو برقعہ پہنایا تاکہ مذہبی حلقوں میں اپنی واہ واہ ہوں اور اقتدار کو طول ملے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آئے ان کی تقریروں کے تو ہم خود شاہد ہیں، اول اول بے نظیر بھٹو کی اردو کمزور تھی اس لئے اپنا موقف جامع انداز میں بیان کرنا مشکل ہو رہا تھا، انگلش میڈیم میں ابتدائی تعلیم اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کی پڑھائی اردو بولنے میں مخل تھی۔ لیکن بعد ازاں انہوں نے لب و لہجہ میں گرفت حاصل کر لیا اور جلسوں میں گھنٹوں خطاب کر لیتی تھی۔ نواز شریف چونکہ پنجاب سے ہیں اور تعلیم بھی ملک میں ہی حاصل کی ہے لہذا اردو بولنا مشکل نہیں تھا مگر تقریروں میں کبھی عوامی انداز در نہیں آیا۔

Read more

جاوید احمد غامدی: نصف صدی کی رفاقت

پوری نصف صدی قبل کی بات ہے جب 2 نومبر 1970 کو جاوید احمد (غامدی) صاحب نے لنک میکلوڈ روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں دائرۃ الفکر کی باقاعدہ بنیاد رکھی تھی اور میں ان کا اولین ساتھی تھا۔ اس تاریخ کو جاوید صاحب کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پہلے تقریباً دو ہفتوں تک مختلف احباب اس پر صلاح مشورہ کرتے رہے تھے۔ دائرۃ الفکر کی تاسیس کے بعد جاوید صاحب

Read more

جمہوری تحریک کی اخلاقی بنیاد پر مریم نواز کا حملہ

ریکارڈ درست رکھنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو واضح کرنا پڑے گا کہ وہ سیاست میں مداخلت کے سوال پر فوج کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے یا اس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوبارہ اقتدار تک پہنچنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور ممکنہ طور پر مستقبل میں پارٹی قیادت کی مضبوط امید وار مریم نواز کے بی بی سی اردو کو انٹرویو نے اس بنیاد کو ہلا دیا ہے جس پر ’ووٹ کو عزت دو‘

Read more

اصل نئے پاکستان کا راستہ کیا ہے؟

2007 میں ارسلان افتخار کی خلاف ضابطہ پولیس سروس آف پاکستان میں ہونے والی تعیناتی کی رپورٹ ہیرلڈ میں پڑھی تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شدید ناقد بن گیا تھا، لیکن جب وہی افتخار محمد چوہدری زیر عتاب آئے اور انھیں پرویز مشرف کی جانب سے خلاف قانون اپنے عہدہ سے ہٹایا گیا تو میں دیگر وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی طرح ان کا ہمدرد اور حامی بن گیا اور عدلیہ بحالی

Read more

نواب محمد احمد خان قصوری: 46 برس قبل ہونے والا ایک قتل جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بنا

11 نومبر کو لاہور میں نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کی روداد جس کے الزام میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی۔

Read more

تاریخ کی غلام گردشوں میں پاور پالیٹیکس اور اختیار کی جنگ

آئیے تاریخ کی غلام گردشوں میں گھومتے ہیں۔ ملک آزاد ہوا تو ہمیں بیوروکریسی بھی انگریزوں کی دی ہوئی ملی۔ ریاستی ڈھانچہ بھی انہی کا بنایا ہوا تھا۔ بیوروکریسی، سول اور ملٹری، دونوں ملکہ برطانیہ کی وفادار تھیں۔ پاکستان بننے کے فوری بعد اس بیوروکریسی نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے جب کہ پاکستان کے سیاست دان ابھی کمزور تھے۔ پاکستان بننے کے چند ہی سالوں میں اسی بیوروکریسی نے سیاست دانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر کلی طور پر قبضہ کر لیا۔

ایک صاحب ہوا کرتے تھے ملک غلام محمد۔ آپ انڈیا کی وزارت خزانہ میں فانینشل اڈیٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ 1947 ء میں آپ انڈین ریلوے سروسز میں آ گئے۔ جو بیوروکریسی پاکستان کے حصے میں آئی اس کا حصہ آپ بھی تھے۔ 15 اگست 1947 ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو کابینہ بنائی اس میں آپ کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے آپ 17 اکتوبر 1951 ء کو پاکستان کے گورنر جنرل بن گئے۔

Read more

عوام بلاول اور مریم کی بجائے ہمایوں اختر، عمر ایوب اور اعجاز الحق کو لیڈر مان لیں

و تعز من تشاء و تذل من تشاء کے ٹویٹ کرنے والے اور بات بے بات غداری کے فتوے بانٹنے والے ”مقدس کردار“ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام ان سے محبت کرتے ہیں اور سیاست دانوں سے نفرت۔ وہ یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ عوام ان کے اصل کام سے محبت کرتے ہیں نہ کہ ان کے ماورائے آئین اقدامات سے۔ اگر عوام ان کے ایسے اقدامات سے محبت کرتے تو وردی اتر جانے یا طاقت کمزور پڑ جانے کے بعد بھی ویسی ہی محبت کرتے اور اگر عوام سیاست دانوں سے واقعی نفرت کرتے تو طویل عرصہ تک ملک بدری کے بعد ان سیاست دانوں کا دیوانہ وار استقبال نہ کرتے اور انہیں دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب نہ کرتے۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ مذہبی جماعتیں کس موڑ پر ہیں؟

یوں تو ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان جماعتوں نے اخلاقی بالیدگی، اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور ملک میں رائج مغربی طرز جمہوریت میں اپنی من پسند تعبیر کے تحت الیکشنز میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا نام سر فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب نے تو باقاعدہ اسلامی ریاست

Read more

کیا عمران بھی بھٹو اور نواز بنے گا؟

پاکستانی جمہوریت پر بات کی جائے تو جمہوریت کی تاریخ انتہائی مختصر ہے برخلاف اس کے کہ جمہوریت اس ملک میں کبھی اپنی جڑیں گاڑ سکے گی بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت کی کشتی ہچکولے کھاتے کھاتے 1973 میں سمندر کی طغیانی سے ایک امید بن کر نکل تو آئی۔ مگر جسے خالص جمہوریت کہا جاتا ہے وہ پھر بھی خالص نہ رہی اور نہ کبھی اسے کسی نے خالص بننے بھی دیا۔ جس کی وجہ سے

Read more

امریکی انتخابات اور پاکستان

اعصاب شکن امریکی انتخابات اختتام کو پہنچے اور جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہار تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ عدالتی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ جو بائیڈن کو پاکستان میں دوست شخصیت کے طور پر گردانا جاتا ہے اور 2008 میں انہیں پاکستان کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز ’ہلال پاکستان‘ سے بھی نوازا نوازا جا چکا ہے۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر نئے صدر کے خیالات کو جانچتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ دور میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کے لئے قدرے بہتر ہو گا۔

Read more

بس، یہ آخری جملہ…

‘’بس منے، یہ آخری جملہ، پھر میں چلا‘‘۔یہ شاہ صاحب تھے، وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے جس پر وہ بیٹھے ہی کہاں تھے اور آخری جملے کا آغاز کیا۔ جملہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے جانے کہاں جا نکلا،پھر نا معلوم شاہ صاحب کب واپس اپنی نشست پر بیٹھے اورکب یہ جملہ کانٹا بدل کر کسی دوسری شاہراہِ پر گامزن ہوا، اس کی خبر شاہ صاحب کو ہوئی، نہ ان کے مصاحبین کو۔ شاہ صاحب کون تھے،

Read more

اگر مجھے قتل کیا جاتا!

قائد آباد میں ہونے والے واقعہ قتل کی روداد تو اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے دنیا بھر میں نشر ہو چکی ہے۔ اور ابتداء سے لے کر اب تک جو معلومات تحریری یا وڈیو کی صورت میں شیئر کی گئی ہیں ان کے مطابق:۔ 1۔ ”خوشاب میں توہین رسالت کرنے پر پر بینک مینجر کو گارڈ نے گولی مار دی ہے۔ نیشنل بینک کا مینیجر جو کہ قادیانی تھا اس نے ایک سیکورٹی گارڈ کے سامنے حضور اقدس (ص)

Read more

توہین مذہب کے الزامات اور ریاست

لیجیے صاحب! طے یہ ہوا کہ اب ہمارے ایمان اور عقیدے کا فیصلہ نیم خواندہ ملا کے مکتب میں تربیت یافتہ عاشق کریں گے۔ اسلام کی تعریف، اسلام کے بنیادی خال و خد، اس کا بنیادی ماخذ یا مقصد اگر کوئی پوچھ لے تو شاید اس سوال کو ہی یہ سمجھ نہ پائیں جواب تو بہت بعد کی بات ہے۔ افسوس صد افسوس، جس مقدس ہستی کے عشق کے نام پر وحشت کا یہ کھیل رچایا جا رہا ہے اس ہستی نے سنی سنائی بات پر یقین کرنا ہی ایمان کے منافی قرار دیا ہے۔ جہل کا مہیب جبڑا مگر اسی ہستی کے نام پر انسانی جانیں نگل رہا ہے۔ اس بات کا ادراک مگر اہل علم کے اذہان ہی کر سکتے ہیں۔ یہ احساس اذیت سے کہیں بڑھ کر ہے کہ اہل علم کی صفوں میں جبہ و دستار پوش بہروپیوں کی بڑی تعداد گھس آئی ہے۔

Read more

کراچی میں ہونے والا پاکستان کا ’پہلا خودکش حملہ‘ کب اور کس نے کیا تھا؟

6 نومبر 2000 کو نوائے وقت کے دفتر پر ہونے والے اس حملے کو بعض کے نزدیک مکمل طور پر خودکُش یا پہلا خودکُش حملہ قرار دینا ’متنازع‘ ہوگا تاہم عمومی اتفاق ہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے ’خودکش حملے‘ کا کوئی تصور نہیں تھا۔

Read more

پی ٹی ایم سے پی ڈی ایم تک: شکست خوردہ ریاستی بیانہ

وطن عزیز ایک ایسی بدنصیب کھیتی ہے۔ جس کو باہر سے زیادہ اپنی باڑ سے نقصان پہنچا ہے۔ اس کی راکھی کے دعویدار ایوب خان ہو، یحییٰ خان ہو، ضیاء الحق ہو یا مشرف، سب نے ریاستی مفادات کے بیانیہ کی آڑ میں ملک وقوم کو خطرات اور سانحات سے دوچار کیا۔ چاروں نے سیاسی لیڈر شپ کو ملک وقوم کے لئے خطرہ اور خود کو ناگزیر باور کرایا۔ ایک خود کو ڈیگال دوسرا خود کو بین الاقوامی معاملات کا

Read more

مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟

لاہور — موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔

Read more

اسکندر مرزا: جب پاکستان کے پہلے معزول صدر کو ’ملک کے مفاد میں‘ پاکستان چھوڑنا پڑا

گھڑی کی سوئیوں نے اِدھر دس بجنے کا اعلان کیا اُدھر رات کے اندھیرے میں ایوب خان کا سُرخ وسپید چہرہ چمکا، انھوں نے صدر مملکت اسکندر مرزا کو سیلیوٹ کیا اور کہا ’سب ٹھیک ہے سر، آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔‘

Read more

کامران خان کی وارننگ

پاکستانی سیاست کی بے لگامی نے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو لوگ دیکھنے، سننے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکے ہیں، ان کو رکھیے ایک طرف لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ سب صلاحیتیں کچھ نہ کچھ عطا کر رکھی ہیں، ان کی آنکھوں کی نیند اڑ اڑ جاتی ہے ؎ پھر کہیں منزل پہ جا کر لٹ نہ جائے کارواں اٹھتے جاتے ہیں قدم، اور بیٹھتا جاتا

Read more

جیل میں مشقت کرنے والا سرکش دانشور صحافی، سلیم عاصمی کُوچ کرگیا

پاکستان کے مقتدر ترین اخبار ڈان کے سابق ایڈیر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن سلیم عاصمی کی زندگی اور ان کی آزادی صحافت کے لیے پاکستان میں ضیا الحق کے بدترین دور میں جدوجہد پر ان کے صحافی دوستوں اور ساتھیوں کی کچھ یادیں کچھ باتیں۔

Read more

کہیں یہ کفر تو نہیں؟

زندگی سالہا سال اپنے اسلوب ایک سے نہیں رکھتی۔ یہی زندگی کا حسن ہے۔ ہر نیا آنے والا دن نئے مسائل لے کر آتا ہے۔ نیا سورج نئے سوالات لئے طلوع ہوتا ہے۔ یہ حضور کے زمانے کا سوال نہیں۔ خلا میں قبلہ رو کس سمت ہو گا؟ وہاں نماز کیسے ادا ہو گی؟ وہاں سجدہ کدھر کیا جائے گا؟ زمین پرے رہ گئی۔ اللہ کا گھر اُدھر رہ گیا۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ کبھی کبھی

Read more

آوارہ گرد دماغ کی ڈائری

انسانی دماغ بھی عجب شے ہے۔ منٹوں، سیکنڈوں میں برسوں اور صدیوں کا سفر طے کر لیتا ہے. لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی سوچوں کی ایک طویل اور بے ترتیب سی راہگزر بن جاتی ہے۔ کبھی یہ سوچیں ایک خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں اور کبھی اداس کر دیتی ہیں۔ آج میں اپنی ان بے ترتیب سوچوں کو من و عن لکھ رہی ہوں۔ مجھے اپنے والد کی کچھ باتیں یاد آ رہی تھیں۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور

Read more

معاشرے آزادیوں سے چلتے ہیں، پابندیوں سے نہیں: وی او اے سے سلیم عاصمی کا یادگار انٹرویو

ٹھیک ایک برس قبل 31 اکتوبر 2019ء کو وائس آف امریکہ نے سلیم عاصمی ساحب سے ایک یادگار انٹرویو کیا تھا۔ اور آج 31 اکتوبر 2020ء کو سلیم عاصمی صاحب انسانی آزادیوں کا خواب دیکھتے دیکھتے اس وادی میں اتر گئے جہاں انہیں انسانی مساوات، اظہار کی آزادی اور بنیادی ضروریات کی آسودگی کے بارے میں تشویش کی ذمہ داری سے سبکساری مل گئی ہے۔ 29 نومبر 1934ء کو پیدا ہونے والے سلیم عاصمی صاحب نے 1959 میں ٹائمز آف

Read more

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن: عاصمہ جہانگیر گروپ کے وکیل لالا لطیف آفریدی کون ہیں؟

انتخابات میں فاطمہ جناح کی حمایت کرنے کی پاداش میں لطیف آفریدی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ فوجی صدر ایوب خان کے دور میں انھیں طالبعلم رہنما کی حیثیت سے پابند سلاسل رکھا گیا اور وہ بطور سیاسی کارکن سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق کے دور میں بھی پانچ مرتبہ جیل گئے۔

Read more

پاکستان میں صحافت پہ کیا گزری؟

ضمیر نیازی آبروئے قلم بھی ہیں اور آبروئے صحافت بھی۔ ان کا سر بلند قلم کبھی سر قلم نہیں کیا جا سکا۔ وہ ہمیشہ جنوں کی حکایات خونچکاں لکھتے رہے۔ ضمیر نیازی نے اپنی زندگی کو خودی اور خودداری کے جس جوہر کے ساتھ برتا وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ جہاں اہل قلم قبیلوں میں بٹے ہوں، لفظ خریدے اور بیچے جاتے ہوں اور گفتار سے کردار کی سند چھین لی گئی ہو، وہاں ایک مرد علم

Read more

بھارت، امریکہ دفاعی معاہدے پر چین اور پاکستان کا اظہارِ تشویش

نئی دہلی — چین اور پاکستان نے بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ جب کہ چین کا کہنا ہے کہ امریکہ، چین کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ‘بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگری منٹ’ (بیکا) معاہدے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ پاکستان کو اس معاہدے کا علم ہے۔

Read more

بلتستان کے مسائل اور پھول شہزادی

یہ روٹی اتنی کالی اور بے ذائقہ سی۔ کیوں؟ یہ آٹا کہاں سے آ رہا ہے۔ بہو بولی شاید روسی یا یوکرائنی گندم ہے۔ مجھے تو ان دنوں کاموں کے اژدہام میں اخبارات کے مطالعہ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔ ”ہائیں“ آنکھیں پھٹیں۔ اس زرعی ملک کی سونے رنگی میٹھی گندم کہاں گئی؟ بہو ہنسی وہیں جہاں پہلے چینی گئی تھی۔ اس جذباتی بوڑھی عورت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ابھی دو دن پہلے بیٹی چین سے آئی تھی۔ پی آئی اے کی تباہی کے دکھڑوں نے ہمارے دکھ کو دو چند کر دیا تھا۔

بیجنگ سے پہلے لوکل فلائٹ سے پہلے چندو گئی۔ جہاں پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے اسلام آباد آئی۔ ہمارا قومی سمبل چاند تارے کا علمبردار ساری دنیا میں اڑانیں بھرتا ہمارے دیس کی نمائندگی کرتا کیسے پاتال میں گر گیا ہے؟ لائق باپ کی نالائق اولاد کتنے فضول فروعی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔ جاہل عورتوں کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر مخالف کو چھبیاں دیتی ہے۔ چلو لندن جاکر اس گولو مولو کو لے بھی آیا اسے بندی خانے میں بھی ڈال دیا تو؟ غریب کو روٹی دال سبزی سے واسطہ۔ پھل اس کی بساط سے باہر۔ نگوڑا کیلا چلو وہ کھا سکتا ہے مگر پچاس روپے درجن بکنے والے کیلے کو دیکھا ہے کسی نے؟ اس بیچارے پر جانے کون سی زہریلی ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کہ پکتا بعد میں ہے اندر سے سڑ پہلے جاتا ہے۔

Read more

ووٹ کو عزت یا غریب کی روٹی

معرکہ کوئی بھی ہو پہلا تیر چلانے والے کی کچھ اپنی اہمیت ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی بلند آواز جاوید ہاشمی کی تھی۔ پھر قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ کوئی معمولی بات نہیں۔ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ جاوید ہاشمی کو اس جرات رندانہ کی جاتی عمرہ سے داد بھی نہ ملی۔ انہوں نے چڑیوں ہاتھ سندیسے, کاگوں ہاتھ سلام، سب جتن کر دیکھ لئے۔ ادھر سے کوئی بلاوا نہ آیا۔ ایک مرتبہ جاوید ہاشمی

Read more

سانپ موقع شناس ہوتا ہے!

ملکی سیاسی منظر نامہ جس تیزی سے بدل رہا تھا، اس سے مجھ جیسے سوشل میڈیائی مبصرین کی تو چاندی ہو گئی۔ عجیب کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے بیٹھ جاتے تھے۔ کئیوں کا خیال تھا کہ اب کہ تب ”الطاف حسین پارٹ 2“ ریلیز ہوئی اور کچھ نے خیال پیش کیا کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ بس انقلاب آیا کہ آیا“۔

پہلے پہل دھوم مچی گوجرانوالا جلسے میں نواز شریف کی دھواں دھار تقریر کی۔ ہم نے کہا کہ اب ہو گا، دما دم مست قلندر۔ پھر کراچی جلسے سے نواز شریف غائب ہو گئے۔ یوں ہماری دمام دم مست قلندر والی پیش گوئی ہی ٹھس ہو کر رہ گئی۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ بلاول، کوئٹہ جلسے میں شرکت نہیں کریں گے! لو بھئی! اب ہم کیا سمجھیں؟

Read more

گزشتہ چند برس میں آس پاس کیا ہوا؟

ہم آج اپنے پیارے وطن کی عافیت میں زندگی گزارتے ہوئے، شاید ان واقعات کو اور ان کے عوام پر پڑنے والے دور رس اقدامات کو محسوس تک نہیں کر سکتے، جیسے سردیوں کی دھوپ کچھ سستی سی طاری کر دیتی ہے اور انسان کچھ سوچنے اور کسی بھی معاملے پر غور و فکر کرنے سے احتراز کرنے لگتا ہے، لیکن جس طرح فیض بھی کہہ اٹھے تھے کہ ”لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے“ تو اپنے آس پاس کی دنیا کے ممالک میں رو نما ہونے والے کچھ اہم واقعات، واقعی اس قابل ہیں کہ کم از کم کسی کہانی کی طرح ہی ان سے باخبر رہا جائے۔

ایسے اہم واقعات، جن میں سے کچھ کا نتیجہ ان ممالک اور ان کے عوام کے لیے انتہائی خوش گوار نکلا اور بعد از بسیار خرابی، بلآخر وہ اقوام ان کو لاحق ان دیرینہ بحرانوں سے جان چھڑانے اور ان کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئیں، اور باقی دنیا کے ساتھ ترقی کے سفر کا آغاز کر دیا، لیکن کچھ ممالک میں ان کوششوں کے انتہائی افسوسناک اور درد ناک نتائج نکلے، جن کے بھیانک سائے، ان ممالک کے عوام کی زندگیوں پر آج بھی دکھائی دیے جاتے ہیں۔

Read more

سید جعفر شاہ: سیاست میں وضع داری اور شرافت کی روشن علامت

سائل نے ہاتھ بڑھا کر فیس حوالے کر دی۔ بغیر گنے رقم جیب میں ڈال دی، تو سائل نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کے ساتھ رقم کم ہونے کا اعتراف کیا۔ شاہ صاحب ہنسے اور کہا کہ آج تک ہم نے کسی سے نہ فیس کا تقاضا کیا اور نا ہی کبھی پوری فیس ملی، جو ملا اسی پہ اکتفا کیا۔ میں حیران ہوا کہ اتنا بڑا وکیل اور اتنی درویشی۔ یہ غالباً 1999ء کی بات ہے، جب میں اپنے چچا، ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت حاجی محمد اکبر خان کے ساتھ شاہ صاحب کے نگرل میں واقع لیگل چیمبر میں موجود تھا اور سید جعفر شاہ صاحب سے پہلا پہلا بالمشافہ تعارف تھا۔

ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہمارے خاندان کے بیش تر افراد کا شاہ صاحب سے قریبی خاندانی تعلقات اور نیاز مندی کا رشتہ رہا ہے۔ ان عزیزوں میں خاص طور پر حاجی محمد اکبر خان کے ذریعے شاہ صاحب کا غائبانہ تعارف اور ان کی شخصیت کے کئی پہلو سے آگہی حاصل تھی اور پھر 1999ء میں ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کے گرویدہ ہوئے۔

Read more

فاشزم اور تحریک انصاف

فاشزم دائیں بازو کی، آمرانہ الٹرنشنلزم کی ایک شکل ہے، آمریت کی طاقت، معاشرے اور معیشت کی مخالفت اور لوگوں کو زبردستی دبانے کی یہ تحریک جو کہ 20 ویں صدی کے اوائل میں مقبول ہوئی تھی، اب دوبارہ سے سر اٹھا رہی ہے، مگر اس دفعہ عالمی سطح پر اس کا شکار متوسط طبقہ ہے۔

وسطی یورپ میں پھیلنے سے پہلے اس تحریک کے تانے بانے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں اٹلی سے ملتے ہیں، اٹلی میں سب سے پہلے فاشسٹ تحریکوں کا آغاز ہوا۔ لبرل ازم، مارکسزم اور انتشاریت کے خلاف فاشزم کو روایتی دائیں اور بائیں کی بجائے درمیان میں رکھا گیا، تا کہ دونوں اطراف سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

Read more

قائد اعظم اور عوام کی توہین

ریاست کے ادارے آئین و قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پارلیمانی ادارہ ہے، اس کے ارکان کے انتخاب کا ایک طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی ہو، صوبائی اسمبلی، یا سینیٹ اور دیگر شعبے، سبھی ایک قانون کے تحت معرض وجود میں آئے، اور قانون کے تحت چلنے کے پا بند ہیں۔ عسکری ادارے ہوں، پولس، عدلیہ، کسٹم، مواصلاتی ادارے اور سب کے سب، آئین و قوانین کے ما تحت ہیں۔ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو منصف اپنے ضمیر کے مطابق نہیں، قانون کے مطابق فیصلہ سناتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہی مقدم ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سیاست دان منتخب ہو کر عوام کی بھلائی کے اقدام کرے گا، اپنے تئیں کرتا بھی ہے۔ بری بھلی تنقید ہوتی ہے، تنقید سننا، تنقید سہنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ وہ غیر قانونی اقدام کرے تو عدالت اس کو سزا دے سکتی ہے۔

ہمارے یہاں یہ رواج چل نکلا ہے، کہ تنقید صرف سیاست دان پر ہو تو حق کہلاتی ہے، کسی اور سرکاری ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا جائے، تو اعتراض اٹھتا ہے کہ ادارے مقدم ہیں، ان پر تنقید کرنے سے یہ کم زور پڑتے ہیں، چناں چہ تنقید نہ کی جائے۔ سب ادارے یہ نہیں کہتے، مثلا: واپڈا، ریل ویز، پولس، پی آئی اے، اور اس طرح کے دیگر اداروں پر تنقید کی جائے تو تحسین ہوتی ہے، کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی بری کارکردگی کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاست دان ہیں۔ ظاہر ہے ان کی اچھی کارکردگی اس ادارے کے افسران کے مرہون منت ہے۔ ریاستی اداروں جیسا کہ عدلیہ اور فوج پر مثبت تنقید پر بھی ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے۔ گویا یہ ادارے پارلیمان سے بھی معزز ہیں، جو انھیں آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Read more

کراچی آبادی میں ایک سو اکیس ملکوں سے بڑا ہے

میں ایک ایسے زبردست نوجوان کو جانتا ہوں، جو اپنے والدین کا پہلا بچہ تھا۔ اس کی عمر سولہ برس تھی اور وہ چھے بہن بھائی ہو چکے تھے۔ وہ ماں کی صحت کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔ ایک دن اس نے عملی قدم اٹھایا۔ اپنی ماں کو اسپتال لے گیا اور اس کی ٹیوبلائیگیشن کروا دی۔

اپنے شہروں کو دیکھیں۔ ہمارا پیارا کراچی دنیا کے ایک سو اکیس ممالک سے بڑا ہے۔ یورپ کے درجنوں ملک آبادی کے لحاظ سے کراچی سے چھوٹے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے کہ ہم نے لوگوں کو فیملی پلاننگ کی تربیت دی اور نہ ہی فیملی پلاننگ کی سہولت ان تک پہنچائی۔ اب کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جتنے پیسے درکار ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے ہم کراچی کے مسائل شاید ہی کبھی حل کر پائیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کراچی اور پاکستان کی آبادی بھی اسی طرح بڑھتی رہے اور ہم اپنی عوام کی زندگیاں رہنے کے قابل بنا پائیں گے، تو یہ جھوٹ ہے۔ یا پھر احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔

Read more

آئین پاکستان: نوجوانوں کے ساتھ ایک مکالمہ

۔ ”کیا آئین میں لکھی باتیں صرف آئین کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ عملی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا“ یہ سوال شعبہ ابلاغیات میں ماسٹر ز کی کلاس کے ایک طالب علم نے پوچھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ایسی بات نہیں۔ آئین کسی بھی قوم کی سب سے بڑی مقدس دستاویز ہوتی ہے۔ اسے بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے سماجی، نظریاتی، تہذیبی، معاشرتی اور تاریخی تصورات پر مبنی ایک ”نصابی

Read more

صادق و امین وزیر اعظم کو تاریخ کی گواہی دینے پر سلام۔

تاریخ و سیاست کے طالبعلم خوش قسمت ہیں کہ انہیں تاریخی حقائق کی سند کے لیے صادق و امین گواہی مل رہی ہے۔ آج تک کہا جاتا رہا کہ جو اقتدار سے محروم ہو جاتا وہ سیاستدان ایسٹیبلشمنٹ پر حملے کرتا ہے اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے الزام لگاتا ہے۔ آج کل سیاسی گرما گرمی بڑھی تو ”غدار“ نواز شریف اور کرپٹ سیاسی ٹولے نے ببانگ دہل ہماری مقدس ایسٹیبلشمنٹ پر الزامات کا کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش

Read more

حزب اختلاف کا مطالبہ محض عمران کی معزولی نہیں بلکہ اختیارات کا نیا توازن ہے

18 اکتوبر (اتوار) کو حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد نے کراچی میں ایک زبردست جلسہ منعقد کیا جس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کا عزم ظاہر کیا گیا بلکہ مقتدرہ کے ان حصوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کو درپردہ سیاسی مدد فراہم کر کے اسلام آباد کا اقتدار بخشا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020: علاقائی تناؤ کم کرنے سے لے کر طیارے میں تیل بھروانے تک، امریکہ کے صدر پاکستان کب کب آئے؟

قیام پاکستان سے اب تک جمہوریت کی علم بردار عالمی طاقت امریکہ کے پانچ صدور نے دورۂ پاکستان کے لیے ہمیشہ ایسے وقت کا انتخاب کیا جب اقتدار پر فوج قابض تھی۔

Read more

مجھے کیوں نکالا؟ کیوں نکالا مجھے؟

میاں محمد نواز شریف صاحب میرے بچپن میں میرے ہیرو تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب مرحوم نے 90ء کی دہائی کے اوائل میں جب شریف صاحب پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تو ایک طویل خط لکھا تھا جس میں ان کا انٹرویو کرنے کی بھی اجازت چاہی تھی۔ میرے والد صاحب پی ٹی وی میں نیوز ایڈیٹر تھے اور اس نوکری سے قبل 1970ء میں بھٹو، خان عبد القیوم خان، کوثر نیازی، مولانا بھاشانی، اصغر خان، شیخ مجیب الرحمن اور دیگر اہم سیاست دانوں کے انٹرویو کر چکے تھے۔

بعد ازاں وہ جنرل ضیا اور جونیجو کے بھی قریب رہے اور اب وہ اپنی تحقیق میں جواں سال وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، جو ان کی تصنیف ”پاکستان انقلاب کے دو راہے پر“ کا حصہ ہوتا۔ نواز شریف صاحب نے نا صرف والد صاحب کے خط کا جواب وزیر اعظم ہاؤس کے لیٹر پیڈ پر تحریر کر کے بھیجا بلکہ اس کے آخر میں ”آپ کا بھائی نواز شریف“ بھی تحریر کیا۔ یہ خط آج کے دن تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میرے والد کے انتقال کو اکیس سال بیت گئے۔

Read more

نواز شریف کا اظہاریہ سیاسی بالغ نظری کا مظہر نہیں

1988ء میں ضیا الحق کے طویل مارشل لا کے بعد جمہوریت بحال ہوئی، تو پاکستان پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ بلاشبہ پیپلز پارٹی نے نیک نیتی سے عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف بھر پور توجہ دی، مگر بیس ماہ بعد حکومت ختم کر دی گئی۔ جمہوری حکومتوں کے بعد 12 اکتوبر 1999ء میں پھر مارشل لا لگا دیا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی غیر آئینی حکومت کے بعد، پھر پیپلز پارٹی کو حکومت دی گئی مگر کام نہیں کرنے دیا گیا۔

صدر زرداری روس کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ دورے کا شیڈول عین وقت پر بدل کر یہ پیغام دیا گیا کہ جو ہم چاہیں گے، وہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ داغ دار ہے۔ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں نواز شریف نے جو جارحانہ خطاب کیا۔ اس میں نواز شریف کو ماضی میں جرنیلی سیاست کے اپنے سیاسی کردار پر شرمندگی کا اظہار اور قوم سے معافی مانگنے کی بھی ضرورت تھی۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: پارٹی بدلنے کا رجحان

گلگت بلتستان کے 15 نومبر کو ہونے والے الیکشن کے لئے، تمام وفاقی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ یوں سیاسی میدان میں اب خوب میلہ جمے گا۔ ٹکٹوں کے اعلان سے پہلے یوں لگ رہا تھا کہ سیاسی جماعتیں اب شاید پاور پالیٹکس سے تائب ہو گئیں ہیں اور الیکشن میں حقیقی اور مخلص کارکنوں کو بطور امیدوار سامنے لائیں گی۔ لیکن وہ سیاست ہی کیا جس میں کوئی سیاست نہ ہو۔

گلگت بلتستان کے پارٹی بنیادوں پر الیکشن کی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عموماً اس پارٹی کی حکومت بنتی ہے یا بنا دی جاتی ہے، جو وفاق میں صاحب اقتدار ہو۔ اس ضمن میں ملکی سطح کے سیاسی تجزیہ نگاروں اور الیکشن کے امور کے ماہرین کا بغیر کسی تردد کے یہ تجزیہ رہتا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص بات نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہی ہوتا ہے جو وفاق چاہتا ہے۔ اگر ہم 2009ء سے لے کر 15 نومبر کے متوقع الیکشن تک کے ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی بدلنے کے رجحان پر نظر ڈالیں، تو تجزیہ نگاروں کی بات درست لگتی ہے۔

Read more

مغلظات اور الزام تراشی کی بجائے قومی مفاہمت کا اہتمام کیا جائے

پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج گوجرانوالہ سے کراچی پہنچ چکا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے لیڈر خطاب کر رہے ہیں۔ جلسہ کے آغاز میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر محسن داوڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے الزامات سننے میں آئے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک حقیقت جاننے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ مناسب ہوگا کہ اس بارے میں ’ٹروتھ کمیشن‘ بنایا جائے تاکہ دودھ کا

Read more

مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

(مسیحا صفت ایدھی صاحب کی کچھ ذاتی یادیں) ایدھی صاحب سے میری ملاقات 1983 کے وسط میں چھاجوں برستی بارش میں ہوئی۔ تب تک بھارتی فلم۔ ”نمک حلال“ ریلیز ہو چکی تھی۔ تین موٹی کیسٹوں والا وی سی آر اور پلاسٹک کے کیس میں لپٹی نازک سی آڈیو کیسٹوں پر ہم اس کا وہ جان لیوا گانا بہت شوق سے سنتے اور دیکھتے جس میں امیتابھ بچن اور سمیتا پاٹل ایسی ہی برستی برسات میں لہرا لہرا کر گاتے ہیں

Read more

سزائے موت کا خاتمہ اور پاکستان

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دنیا بھر میں سزائے موت ختم کرنے کے لئے جد و جہد جاری اور ہر سال 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خاتمے کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان سمیت دنیا بھر، اس موضوع پر ہیومن رائٹس کمیشن اور دیگر تنظیموں کی جانب سے سیمینار، کنونشن اور آن لائن میٹنگ منعقد کی جاتی ہیں، تو وہیں سزائے موت ختم کرنے کے عالمی مطالبہ کے مقابلے میں، پاکستان جیسے ملک میں سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے عوامی مطالبے روز بروز زور پکڑتے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہر طبقہء فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی آرا کا اظہار کرنے کے ساتھ پولیس اور نظام انصاف پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے عوام خود سزائیں دینے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں اس کی بد ترین مثال، زیادتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کو عدالت سے ضمانت پر متاثرہ بچی کے چچا نے ضلع کچہری کے احاطہ میں وکیل کے چیمبر میں فائرنگ کر کے ملزم کو موت کے گھاٹ اتار دیا، وہیں مظفر گڑھ میں ڈکیتی کرتے پکڑے جانے والے 3 ملزموں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے، ان کے ہاتھ بھی کاٹ دیے گئے۔ جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں اس طرح کے واقعات آئے دن سننے کو ملتے ہیں۔

Read more

نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانیہ؛ ‘ملک کسی نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا’

پاکستان میں حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے پنجاب کے شہر گجرانوالہ میں منعقد کیے جانے والے جلسے سے بذریعہ ویڈیو خطاب کے دوران پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو رخصت کرنے اور وزیرِ اعظم عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے کے الزامات عائد کیے۔

Read more

آٹھویں آئینی ترمیم: رات کی تاریکی میں منظور کی جانے والی ترمیم، جس کے شکار کئی منتخب وزرائے اعظم بنے

فوجی آمر ضیاالحق کے دور میں آئین میں آٹھویں ترمیم کر کے ملک میں رائج پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی نظام کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی اور بعدازاں اس آئینی ترمیم کا شکار ملک کے متعدد منتخب وزرائے اعظم بنے۔ یہ ترمیم کیسے اور کس کے کہنے پر منظور ہوئی پڑھیے اس تفصیلی رپورٹ میں۔

Read more

شیر بنا شیر؟

”دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا“۔ یہ وہ نعرہ ہے، جو مسلم لیگ نون کے جلسوں میں اس وقت گونجتے ہیں، جب نواز شریف اسٹیج پہ خطاب کے لیے آتے ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کی سیاسی کیریئر پہ نظر دوڑائیں، تو ایک طرف ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں، جب نواز شریف ایک فوجی آمر جنرل ضیا الحق کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرنے کی دعا دیتے ہیں اور دوسری طرف ایک اور فوجی جنرل پرویز مشرف کو قاتل اور غدار کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

نواز شریف کو جب پاناما لیکس کے مقدمے میں، اقامہ کا ذائقہ ڈال کر اقتدار سے ہٹایا گیا، تو اس وقت نواز شریف نے مریم نواز شریف کے ساتھ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ بلند کر کے اصلی شیر بننے کی کوشش کی۔ ان کی بیٹی مریم نواز شریف سوشل میڈیا پہ کافی متحرک نظر آنے لگیں اور بلاول بھٹو اور دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو متحرک و منظم کیا۔

Read more

پروفیسر منظور احمد کی وفات: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

پروفیسر منظور احمد گذشتہ روز لاہور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے لاہور کے شاہ حسین کالج کی بنیاد رکھی جس نے اگلی کئی دہائیوں کے لیے پاکستانی معاشرے اور سول سوسائٹی کو ایک لبرل بیانیہ دیا۔

Read more

پاکستان میں استعماری سیاستدان: پروڈا سے ایبڈو تک

برصغیر میں برطانوی استعماریت کے اثرات تقسیم ہند کے بعد بھی باقی ہیں۔ اس خطے پر حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے جرنیلی طرز حکمرانی اپنایا، برطانوی سرکار نے ہندستان میں جنگ پلاسی کے بعد میجر جنرل رابرٹ کلائیو کو پہلا سیاسی حکمران بنایا۔ بنگال، کلکتہ، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی کے اختیارات حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط بھی جرنیلی حکمران نے کیے۔ 1857 ء کی جنگ کے بعد صوبوں میں گورنری کے عہدوں پر بھی انگریز نے فوجی جرنیلوں کو تعینات کیا۔

برطانیہ کے سرکاری نیشنل آرمی میوزیم کے آرکائیوز میں کلائیو کو بے رحم فوجی کمانڈر، لالچی، قیاس آرائی کرنے والا اور سامراجی سیاست دان کہا گیا ہے۔ انگریز سرکار نے جمہور اور سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان میں فوجی اور بیوروکریسی کا مضبوط ڈھانچا تشکیل دیا تھا۔ جب تک یہ ڈھانچا طاقت ور نہیں ہوا، انگریز سرکار نے اس خطے میں جمہوریت کا تصور پنپنے نہیں دیا۔ تقسیم ہند کے بعد، برطانیہ کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی اور عسکری بیوروکریسی نے پاکستان پر نو آبادیاتی تسلسل کو قائم رکھنے میں اسی ڈھانچے سے مدد حاصل کی۔ سات اکتوبر کا روز انتہائی خاموشی سے گزر گیا، حالاں کہ یہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان مٹ نقوش رکھتا ہے، جب ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔

Read more

سروس شوز کی کہانی: جب تین دوستوں کو فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر ملا

جب 1940 کی دہائی میں تین دوستوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس وسائل تھے نہ ہی ہنر مگر ایک قدر مشترک تھی کہ تینوں دوست ہی سرکاری نوکری کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

Read more

ٹورنگ ٹاکیز اور چوری چھپے دیکھی فلمیں

میرے گھر کے نزدیک اس سال خزاں ایک عجب رنگینی لئے ہے۔ سوکھتے پتے پیلے نارنجی ہلکے سرخ گہرے سرخ میں تبدیل ہو ایک آگ سی لگائے ہیں۔ اور پت جھڑ کی سرد ہوا اب نیچے گرا ایک رنگ برنگی چادر بنا چکیں۔ ان پتوں کی طرح جھڑتی عمر کے میرے جیسے لوگ چھڑی کا سہارا لئے جب ان کی رونق دیکھنے نکلے ان کے جوبن کی رنگینیوں کے متعلق سوچتے ہیں۔ تو جو "آرزوئیں پہلے تھیں جو غم سے حسرت

Read more

مذہبی منافرت: سیاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں ریاست دشمن عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ہے۔ بظاہر اس تشویش کا مقصد دو روز قبل کراچی میں ایک دیوبندی عالم کا قتل ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا خیال ہے کہ اس کے درپردہ بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے کیوں وہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کے ذریعے

Read more

تحریک چلانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

برے کام کرتے وقت، لوگ دن کی روشنی کا سامنا نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ اندھیرا ہونے کا وقت منتخب کرتے ہیں۔ تا کہ دنیا اور اپنے آپ سے نظریں چرائی جا سکیں۔ چوری ہو، ڈاکا ہو، کسی کی ملکیت پہ قبضہ ہو یا مارشل لا جیسے اقدام ہوں، یہ سب کام ہمیشہ رات کے پردے میں کیے جاتے ہیں۔ حق بات، دن دیہاڑے ببانگ دہل کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں شب کی تاریکی میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا۔ اس کے متن میں پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل دی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے مطابق سندھ کے ڈنگی، بھنڈار اور بلوچستان کے جزیروں کو وفاق کے حوالے کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جہاں وفاقی حکومت کی مرضی سے نئے شہر تعمیر کیے جا سکیں گے۔ حیرت کن بات تو یہ ہے اس آرڈیننس کو پیش کرتے ہی اتنی سختی سے کام لیا گیا ہے کہ اس کے خلاف نہ کوئی کورٹ میں جا سکے گا، نہ کوئی اس کو رکوانے کی اپیل کر سکے گا۔ جب کہ سبھی جانتے ہیں کہ آئین پاکستان میں صوبوں کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنی حدود میں موجود، تمام قدرتی و معدنی وسائل کی نگرانی خود کریں۔ اگر چہ وہ اس کی ذمہ داری وفاق کو سونپنا بھی چاہیں، تو اس کے لیے ان کو صوبائی اسمبلی سے اکثریتی رائے سے بل پاس کروانا پڑے گا۔

Read more

12 اکتوبر 99 کا سنسنی خیز ڈراما

”یہ 2017 ء میں آج کے دن“ نوائے وقت ”میں شائع ہونے والا کالم ہے، جس میں جنرل شاہد عزیز نے راولپنڈی میں رد انقلاب کی سنسنی خیز کہانی سنائی تھی۔ جنرل شاہد عزیز مدتوں سے لاپتا ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج سے لڑتے ہوئے ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔“

‎کامل 18 برس بیت چکے ہیں، 12 اکتوبر 99 ء سے 12 اکتوبر 2017 ء تک طویل سفر تمام ہوا۔ لیکن المیہ ڈراما ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ لگائے ہوئے زخم، ہنوز ہرے ہیں۔ بہت سے کردار منظر سے ہمیشہ کے لئے محو ہو چکے ہیں، لیکن اس المیے اور طربیہ، سنسنی خیز ڈرامے کا مرکزی کردار جناب نواز شریف، آج بھی پوری طرح بروئے کار ہے۔ وہ جرنیل مشرف، ٹھمکے لگاتا، دادرے اور ٹھمریاں گاتا، چہار دانگ عالم میں پاک فوج اور پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے۔

Read more

ملکی آئین اور قومی مفاد: کون کس پر بھاری ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کاکول میں کیڈیٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے متعدد اہم باتیں کہی ہیں تاہم ان میں سے ایک بات پر اتفاق رائے کے باوجود پوچھنا پڑے گا کہ اگر آئین ملک کے تمام معاملات کی رہنمائی کرنے والی ایسی دستاویز ہے جس پر سب متفق ہیں تو قومی مفاد سے کیا مراد لی جائے گی۔ ماضی میں قومی مفاد کی اصطلاح عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے متعدد

Read more

بارہ اکتوبر 99: 21 برس میں کیا تبدیلی آئی؟

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 12 اکتوبر 1999 ء دن پانچ بجے کے قریب پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات رک گئی۔ سکرینوں پر سیاہ دھبے نمودار ہو گئے۔ لینڈ لائن نمبر بند ہو گئے۔ ہر کوئی اپنی ذہنی بساط کے مطابق تبصرے کر رہا تھا۔ کسی عقل مند نے کہا میرا قیاس ہے، پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو فتح کر لیا ہو گا۔ ایک اور شخص بولا ابھی چند دن قبل کی بات ہے کہ پرنٹ میڈیا میں سپہ سالار نے منتخب جمہوری حکومت کی آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے مدد کرنے کے حق میں بیان دیا تھا۔ انتظار طویل ہوتا گیا۔ نصف شب کے قریب ٹیلی ویژن کی سکرینوں سے سیاہ دھبے چھٹے اور اعلان ہوا کہ نواز شریف کی حکومت بر طرف کر دی گئی ہے۔ سپہ سالار پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ نواز شریف کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ پرویز مشرف تھوڑی دیر میں قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

رات اڑھائی بجے، پرویز مشرف دو عدد کتوں کو ہاتھوں میں تھامے ٹی وی پر آئے اور قوم سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا، میرے عزیز ہم وطنو، فوج کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ نواز شریف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ مجھے بادل نخواستہ یہ قدم، پاکستان اور خصوصاً پاکستان کی فوج کو بچانے کے لیے اٹھانا پڑا۔

Read more

12 اکتوبر: جنرل مشرف کا کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے عزیز ہم وطنوں تک

کسی سنسنی خیز فلم کی طرح دیکھنے والے کے اعصاب کو مسلسل تناؤ میں رکھنے والے اُن واقعات کا آغاز شام پانچ بجے ٹیلی ویژن کے ایک خصوصی نیوز بلیٹن سے ہوا اور یہ فلم اس وقت نقطہ عروج پر پہنچی جب جنرل پرویز مشرف کیمرے کے سامنے آئے۔

Read more

عورت کا لباس اور ہمارے برانگیختہ جذبات – مکمل کالم

مولانا وحید الدین خان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ ثانیہ مرزا نیکر پہن کر ٹینس کھیلتی ہے تو بطور مسلمان عورت کیا ان کے لیے یہ لباس موزوں ہے؟ مولانا نے جواب دیا کہ جب ثانیہ مرزا ان سے اپنے لباس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے بارے میں پوچھیں گی تو وہ انہیں بتا دیں گے، آپ ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔

کچھ باتیں طے شدہ ہیں مگر دہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کرے، اسی آزادی کے تحت اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ورزش کرتی ہوئی لڑکی یا کسی اشتہار میں رقص کرتی ہوئی عورت ہمارے مذہب اور اقدار کی عکاسی نہیں کرتی تو یہ رائے رکھنا اس کا حق ہے بالکل اسی طرح جیسے یہ متضاد رائے رکھنا کسی دوسرے شخص کا حق ہے کہ عورتوں کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے۔

Read more

میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

Read more

پہلوانی: جب ضیا الحق نے بھولو برادران کے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دی

پہلوانی کے فن میں مشہور بھولو خاندان میں اب کوئی بھی پہلوانی کا شوق نہیں رکھتا جس کی وجوہات بھولو پہلوان کے صاحبزادے ناصر بھولو نے بی بی سی کو بتائی ہیں تاہم اس خاندان کا ماضی انتہائی درخشاں تھا۔

Read more

اکتوبر کا مہینہ اور سیاسی ہلچل

اپوزیشن نے اکتوبر کے مہینے میں جلسوں اور اس کے بعد ریلی کا اعلان کیا تو اکتوبر کے مہینے میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات یاد آنے لگے۔ اس لیے سوچا آپ سے بھی شیئر کر دوں۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی سیاسی اور تاریخی اعتبار سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کو انڈیا کی افواج پہلی مرتبہ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ نواب زادہ لیاقت علی خان جو کہ اکتوبر 1895 ء میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے، ان کو اکتوبر ہی کی 16 تاریخ کو 1951 میں شہید کیا گیا۔

انہیں قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگلے دن یعنی 17 اکتوبر 1951 کو ان کی جگہ خواجہ نظام الدین وزیر اعظم اور ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ اور 24 اکتوبر کو گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی قومی اسمبلی برخاست کر دی۔ 6 اکتوبر 1955 ء کو غلام محمد کا استعفی قبول ہوا اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے سنبھال لی۔

Read more

گلگت بلتستان کا صوبہ بننا، حقیقت یا خواب؟

گلگت بلتستان صدیوں پرانی تہذیبوں، مذاہب، ثقافت، روایات، سماج، نسلوں اور زبانوں کا مرکز رہا ہے۔ اس کا جغرافیہ دنیا میں اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہاں کے علاقوں میں ثقافت، نسل، زبان، مذہب، فرقہ، عقیدہ، سیاست، ہم آہنگی اور بہت کچھ یکجان ہو کر، خوبصورت افکار کا مظہر ہیں۔ ان سارے اوصاف میں تبدیلی اس وقت آئی، جب آج سے تقریباً پینتیس سال پہلے، یہاں فرقہ وارانہ بے امنی کی لہر آئی۔ اس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔

قدیم گلگت بلتستان میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں، جن پر مختلف راجاؤں نے حکمرانی کی۔ پھر ڈوگرہ راج کے ساتھ انگریز نے بھی یہاں اپنی سلطنت کے جھنڈے لہرائے۔

Read more

جنرل عثمانی بھی تو ایک جرنیل تھا

جرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں۔

جنرل مظفر حسین عثمانی جیسے، درویش صفت صوفی منش اور بے ریا، کہ جب وقت آخر بلاوا آیا تو دوچار سال پرانی نہیں 35 سال پرانی مزدا پر خود ڈرائیو کر رہے تھے بلاوے کا احساس ہوا تو گاڑی بمشکل ٹریفک کے بہاؤ سے نکال کر سڑک کنارے لا سکے اور جان، جان آفرین کے سپرد کردی، جنرل عثمانی، فوج کے ڈپٹی چیف آف دی آرمی سٹاف تھے چار ستارہ، مکمل جرنیل لیکن ایسے دیانت دار کہ 35 برس پرانی مزدا کار خود چلاتے اسے روزانہ مرمت کراتے رہے، اپنے مالک کی رضا پر راضی پہ رضا رہتے چونکہ حال مست صوفی تھے اس لیے ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی زیادہ توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا، یہ دوسرا کالم بھی ’ہم سب‘ میں ہی شائع ہو رہا ہے ویسے بھی جنرل ایم ایچ عثمانی ساری زندگی ذرائع ابلاغ سے پرے پرے دور دور رہے۔

Read more

حب الوطنی کی اسناد اور  شبلی فراز:  … نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دریافت کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’حب الوطنی‘ کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ اگرچہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں تاہم وہ بھی یہ سرٹیفکیٹ لینا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کو ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے تناظر میں شاید استہزائیہ انداز میں پوچھی ہے۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے

Read more

جوگندر ناتھ منڈل: پاکستان کے پہلے وزیر قانون جنھیں پاکستان میں ’غدار‘ اور انڈیا میں ’سیاسی اچھوت‘ سمجھا گیا

جوگندر ناتھ منڈل نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی جنونیت کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا۔

Read more

نواز شریف کا خود کش مشن

نواز شریف، پاکستان کی تاریخ کے واحد شخص ہیں، جو تین مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ اپنی سیاست کی ابتدا، انہوں نے جنرل جیلانی کے دست شفقت سے کی تھی۔ آپ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے لیڈر تھے اور جنرل محمد ضیا الحق کے عہد میں پنجاب کے سیاسی افق پر چمکنے لگے۔ آپ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی بنے اور پھر سایہء ہما آپ کے سر پر پڑا اور آپ مملکت خدا داد کے وزیر اعظم بن گئے۔ غلام اسحق خان ملک کے صدر تھے۔ ان کے پاس اٹھاون ٹو بی‘ کا خطرناک اختیار موجود تھا۔ یعنی وہ وزیر اعظم پاکستان کو گھر بھیجنے کا اختیار رکھتے تھے۔ اس اختیار کا استعمال وہ بے نظیر حکومت پر بھی کر چکے تھے۔

نواز شریف بھی تا دیر انہیں خوش نہ رکھ سکے۔ دونوں میں الزام تراشیاں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی وی پر، صدر مملکت اور وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیے، اور ایک دوسرے پر عجیب عجیب الزام دھرے۔ صدر پاکستان نے وزیر اعظم کو برطرف کر دیا اور وہ اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے، جس نے وزیر اعظم کو بحال کر دیا۔ ایسے میں جنرل وحید کاکڑ نے اپنی ’ذمہ داری‘ ادا کرتے ہوئے، صدر مملکت اور وزیر اعظم دونوں کو گھر بھیج دیا۔

Read more

جنوبی پنجاب کا تعلیمی مرکز: داتا گنج بخش اہل قلم کانفرنس

قلم دوست کے رکن اور عزیز دوست ڈاکٹر اختر سندھو نے وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے ساتھ ایک نشست رکھی تو معلوم ہوا جنوبی پنجاب میں تعلیمی سہولیات کے ضمن میں اہم کام ہو رہا ہے۔ وی سی ڈاکٹر سلیمان طاہر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ کئی کھیلوں میں یونیورسٹی گرانٹس کمشن کی ٹیم کا حصہ رہے۔ زمانہ طالب علمی سے ان کے دوست اور سینئر صحافی میاں عابد اور عدنان احمد نے بتایا کہ انہیں تعجب ہوا کرتا کہ ایک کھلاڑی کیسے اتنے اچھے نمبر لے جاتا ہے۔

Read more

گرفتاریاں، ضمانتیں اور فراریاں

یوں تو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ گرفتاریوں اور جیلوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان تب تک حقیقی سیاستدان نہیں بن سکتا جب تک اس نے جیل کی ہوا نا کھائی ہو۔ ہم نے تاریخ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھر ان کو پھانسی لگتے دیکھا، مگر بھٹو اپنے اندر ایک عظیم قائدانہ صلاحیت رکھتے تھے اور حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندہ کے طور پر ابھرے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جہاں نصرت بھٹو پر ظلم ڈھائے گئے وہیں بے نظیر بھٹو نے بھی مشکلات کا سامنا کیا۔

اسی طرح آصف زرداری نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا۔ 1999 کے مارشل لا کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے میاں صاحبان معاہدہ کر کہ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ اسی طرح پانامہ لیک کے بعد سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو اسی طرح بعد ازاں انھیں پارٹی صدارت سے بھی فارغ کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس نا اہلی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کے خلاف نیب کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا جس کے نتیجہ میں نواز شریف صاحب کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن ر صفدر کو 5 سال قید با مشقت کا فیصلہ سنایا۔

Read more

پنجاب کے اندر نئی آوازیں

اس سے قطع نظر کہ میاں نواز شریف کا حالیہ بیانیہ کس حد تک خطرناک ہے۔ آیا اس سے ریاست کے اندر ایک نیا مناقشہ اورتصادم شروع ہو گا جس کا نتیجہ ایک اور ڈائریکٹ کنٹرول کی صورت میں نکل سکتا ہے یا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کا انحصار میاں صاحب کی قوت ارادی اور دیگرسیاسی قوتوں کے رویہ پر ہوگا۔ غالباً یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پنجاب سے ایک مقبول

Read more

ریاست کا محکمہ یا سیاسی جماعت؟

آپ سب یہ عنوان پڑھ کر حیران ہو گئے ہوں گے کہ پتا نہیں اس بندے کا ذہنی توازن ٹھیک ہے بھی یا نہیں۔ یہ کیسا عنوان دیا ہے۔ حالانکہ اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ فوج تو محکمہ ہے۔ مگر محترم قارئین! میں نے فوج کو سیاسی جماعت نہیں کہا، بلکہ ایک سابق میجر جنرل نے فوج کو سیاسی جماعت بتلایا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ”سما نیوز“ سے بدھ کی شب دس بجے پروگرام ”آواز“ نشر

Read more

پنجاب سے اٹھنے والا غدار بھاری پڑ سکتا ہے

یوں لگتا ہے کہ اس وقت پاکستان کو نواز شریف کی یک بیک سیاسی مستعدی کے علاوہ کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں معاشی، سیاسی، سفارتی اور سیکورٹی مسائل حل کرلئے گئے ہیں ۔ بس اب پنجاب سے اٹھے ایک ’غدار‘ کا سر کچلنے کے لئے پوری حکومت یکسوئی سے سرگرم عمل ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں نمایاں وزیروں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے اجلاس ہورہے ہیں اور ایک کے بعد دوسرا وزیر

Read more

اے غدارو گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

کرپشن کے بعد غداری: عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ہتھکنڈے

عمران خان کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف یہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں مگر عمران خان فوج کے حقیقی کماندار اور نگران ہیں۔ آرمی چیف، وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر ایک قدم اٹھانے کی ’جرات‘ نہیں کر سکتے۔ یہ آئیڈیل صورت سننے میں جتنی سہانی لگتی ہے اگر حقیقت میں بھی ویسی ہی ہو تو نواز شریف کا سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف بیانیہ خود اپنی موت مر سکتا

Read more

دیوتا کی آنکھ

میری عمر اس وقت پچاس سال سے اوپر ہے، میں نے یہاں ہر شے بدلتے دیکھی، آئین بدلے، قانون بدلے، حکومتیں بدلیں، پارٹیاں بدلیں، نظریات و خیالات بدلے، روایات بدلیں، رجحانات بدلے، کھانے پینے کے انداز بدلے، پہناوے بدلے، قصبے، گاؤں اور شہر بدلے، گلیاں، محلے اور شاہراہیں بدلیں، موسم کے رنگ ڈھنگ بدلے، ندی نالوں اور دریاؤں نے راستے بدلے، علاقائی نقشے بدلے، دوست دشمن بدلے، پہاڑوں نے رنگت بدل لی اور تو اور مجھے لگتا ہے آسمان میں ستاروں نے جگہیں تک بدل ڈالیں لیکن میں نے ایک چیز کو بدلتے نہیں دیکھا اور وہ ہے اس مملکت پاکستان کا نظام۔

آپ کراچی سے طور خم تک اور کوئٹہ کے باب دوستی سے خنجراب تک کسی بھی شخص سے پوچھ لیں جس نے چار پانچ دہائیاں یہاں بسر کی ہیں وہ میرے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرے گا۔ چینیوں کی ترقی کی مثال آپ کو گھسی پٹی لگتی ہے تو چلیں اپنے سابقہ ہم وطن بھائیوں کی بات کر لیتے ہیں۔ صرف پانچ دہائیوں پہلے ہمارے بطن سے الگ ہونے والے کالے کلوٹے، کاہل اور ناٹے بنگلہ دیشی آج ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ہم سے معیشت میں آگے، کرنسی ویلیو میں آگے، برآمدات میں آگے اور جمہوری اقدار میں بھی ہم سے بہت آگے نکل چکے۔

Read more

روشنی کا وزن (Lightweight) اور نیویارک کی ہلکی پھلکی باتیں

ایک مہمان کو نیویارک میں شکایت ہوئی کہ شاور سے نکلتے پانی میں وہ بہائو اور فراوانی نہیں جس کثرت کا جنت میں مسلمانوں سے وعدہ ہے۔ لیزلی ہیزلٹن جن کی کتابAfter the Prophet ہمیں بھی ناپسند ہے وہ اپنی ٹیڈ ٹاک میں قرآن الکریم سے وابستہ چار پانچ بڑی غلط فہمیوں کو دلیل سے رد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جنت اصل میں سلامتی کا نام ہے۔ خوف اور فنا سے پرے ایک عالم بہتات۔ لیزلی کا اصل جملہ

Read more

مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ پھر سے مد مقابل، آگے کیا ہو گا؟

پاکستان میں حالیہ چند روز سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اہم قومی اور سیاسی معاملات، تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سخت موقف نے جہاں ملکی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا کی وہاں سیاست دانوں اور فوجی قیادت کی خفیہ ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد ایک نئی صورت حال سامنے آئی ہے۔

Read more