بلوچ لاشوں سے خوف کی کہانی نئی نہیں

چند دن پہلے کینیڈا میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والی بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی میت کے ساتھ پاکستان میں جو سلوک کیا گیا اس پر شدید تنقید ہوئی۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا ریاست اب لاشوں سے بھی ڈرنا شروع ہو گئی ہے؟ بلوچوں کی لاشوں ساتھ مذاق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے اوپر لگنے والے بہت سے الزامات کا جواب دینے کے لئے ”افواہ اور حقیقت“ کے نام

Read more

چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس ( حصہ سوم )

جب پانچ جولائی انیس سو ستتر کو جنرل ضیا الحق نے آئین معطل کر کے قومی تاریخ کا تیسرا مارشل لا نافذ کیا تو پہلی تقریر میں ہی یہ تاثر دیا کہ یہ اقدام انتہائی مجبوری میں اٹھایا گیا ہے۔ مقصد نوے دن کے اندر اندر انتخابات کروا کے ملک کو دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر ڈال کر اقتدار منتخب نمایندوں کے حوالے کرنا ہے۔ مارشل لا حکومت ضرورت سے ایک دن زیادہ نہیں ٹھہرے گی۔چنانچہ جماعتی بنیادوں پر اکتوبر

Read more

طلبہ کا احتجاج اور متعلقہ اداروں کی بے حسی

کورونا وبا کے دور رس اثرات کا مکمل احاطہ کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ خانگی تنازعات سے لے کر قومی معیشت تک اس وبا نے بہت ہی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ چونکہ وبا اب بھی جاری ہے ، اس لئے یہ منفی اثرات گہرے بھی ہو رہے ہیں اور پھیل بھی رہے ہیں۔ آج کل پاکستان کے مختلف شہروں کو طلبہ کے احتجاج کا سامنا ہے۔ آج سے کوئی چالیس سال پہلے طلبہ کے مظاہرے معمول کا درجہ رکھتے

Read more

بلدیاتی نظام کے معاملے میں جمہوری حکومتوں کا تذبذب

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملک میں بلدیاتی الیکشن نہ کروانے پر چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر کے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اس موقع پر انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو یاد دلایا کہ ملک میں بلدیاتی الیکشن کروانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس سے پہلو تہی آئین سے غداری کے مترادف ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے جسٹس عیسیٰ کی سخت سرزنش پر ادھر ہی خیبر پختونخوا

Read more

عمران خان کی عوامی رابطہ مہم: کیا پاکستان میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا ہے اور کیا ٹیلیفون پر عوام سے رابطہ موثر ثابت ہوتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان پیر سےعوامی رابطے کی ایک مہم کے سلسلے میں ٹیلیفون کے ذریعے عوام سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ لیکن مسائل کے حل کے لیے یہ طریقہ کتنا کارآمد ہے؟

Read more

عمران خان کی عوامی رابطہ مہم: کیا پاکستان میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا ہے اور کیا ٹیلیفون پر عوام سے رابطہ موثر ثابت ہوتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان پیر سےعوامی رابطے کی ایک مہم کے سلسلے میں ٹیلیفون کے ذریعے عوام سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ لیکن مسائل کے حل کے لیے یہ طریقہ کتنا کارآمد ہے؟

Read more

قانون کی حکمرانی اور وزیر اعظم کی تقریریں

جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھی کھوکھر برادران جو لاہورمیں وسیع جائیدادوں کے مالک ہیں کے گھر کھوکھر پیلس کو گرانے کے لیے ایل ڈی اے اور پولیس نے یلغارکی، وزیراعظم عمران خان کے ذہن پر "قبضہ مافیا” سوار ہے۔ مسلم لیگ نپر کرپشن کے الزامات اپنی جگہ اب اس جماعت کو سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کا سرپرست قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ن لیگ اور قبضہ مافیا ایک ہی ہیں، پنجاب میں

Read more

عاصمہ جہانگیر: یاد کا جشن

یقین نہیں آتا کہ عاصمہ جہانگیرکو اس جہان سے گزرے تین برس گزرگئے۔ 11 فروری 2018 کی تاریخ تھی، جب مجھے دبئی میں یہ خبر ملی تھی اور یقین نہیں آیا تھا۔ سچ پوچھیے توآج تک اس بات پر شک ہوتا ہے کہ وہ ہمارے درمیان سے اٹھ گئی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ وہ اپنے پیچھے مزاحمت اور سربلندی کی ایک ایسی شاندار روایت چھوڑگئی ہے جو اس کے بعد سیکڑوں عورتوں اور مردوں کو آمریت، سماجی

Read more

باتیں اعجاز الحق کی، کالم ہمارا

میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک زخم کو اجاگر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر کبھی پچھتاوا ہوا تھا؟ اس پر اعجاز الحق صاحب نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی ایک افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اس وقت کی حکومت نے عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کیا۔ اس میں کوئی ذاتی رنج والی بات نہیں تھی۔ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ خود ان کے دور میں بنایا گیا تھا۔ جب قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تو اس وقت بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے۔

Read more

منگل باغ کا قتل: افغانستان میں پاکستانی طالبان کو نشانہ کون بنا رہا ہے؟

کراچی — طالبان رہنما منگل باغ کی رواں ماہ افغانستان میں بم دھماکے میں ہلاکت سے یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ افغانستان میں موجود پاکستان کے شدت پسند گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کے پیچھے کون ہے؟

Read more

ایم آر ڈی شیطانی ٹولہ نہیں، قومی تاریخ کا روشن باب تھی

آج کا مضمون لکھنے کی تحریک موجودہ حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر کے اس بیان سے ملی۔ جس میں انہوں نے عمران خان کی موجودہ حکومت کے لیے چیلنج بننے والے حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سابق دور آمریت میں بننے والے اتحاد ایم آر ڈی کو بھی نشانے پر لیا ہے اور اسے شیطانوں کے ٹولے سے تشبیہ دی ہے۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے۔ شاید یہ  فروری 1981ء

Read more

کہیں جمہوریت کی بساط لپٹنے والی تو نہیں؟

جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتی ہماری نسلوں کو کم ازکم وہ دو دور تو اچھی طرح یاد ہیں جب اندرونی سیاسی عدم استحکام اور بیرونی بنتے حالات نے ہمارے ہاں جمہوریت کی بچھی بساط کو لپیٹ کر ملک کو آمریت کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک وہ دور تھا جب 70 کی دہائی میں ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک کو جواز بنا کر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرا اس وقت جب اکتوبر 1999 میں سابق صدر پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈال دیا اور اگلے نو سال کے لئے حکمران بن بیٹھے۔

Read more

افغانستان میں مارے جانے والےکالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کون تھے؟

ایک وقت تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے ضلع خیبر میں لشکر اسلام نامی تنظیم کے سربراہ منگل باغ کا قانون اور حکم چلتا تھا اور وہ اس علاقے میں ایک خوف کی علامت بن چکے تھے۔

Read more

کیا ادب کا مسلک ہو سکتا ہے؟

پرسوں اپنے اک دوست، علی سجاد شاہ سے اک مختصر بات ہوئی تو اس میں علی اکبر ناطق کی حالیہ کتاب، کماری والا، پر پاکستانی شیعیت کی چھاپ کا حوالہ ابھر کر سامنے آیا۔ باوے سے عرض کیا کہ (ماخوذ) اک لکھاری کو اس کے مسلک کا حق حاصل ہے اور ادب کو مسلک کی گفتگو سے ماورا اور الگ رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ شاہ جی اور میں اکثر اختلاف کر بھی جائیں تو بھی یہ مہذب ہی رہتا ہے، اور ایسا ہی رہے گا بھی۔ تعلق کے علاوہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ بات کہہ کر آگے بڑھ جایا جائے، اور نہ کہ بات کی چیونگم بنا لی جائے۔

Read more

وزیراعظم! آپ چوروں اور ڈاکوؤں کے بارے میں ’’سلیکٹڈ‘‘ ہیں

محترم وزیر اعظم خدارا یہ نہ کہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف جیسا طاقتور حکمران بھی ان ڈاکوؤں کا مقابلہ نہ کر سکا۔حضور طاقت کا نشہ انسان کو کرپٹ کر دیتا ہے اور وہ جتنا طاقتور ہوتا جاتا ہے اتنا کرپٹ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف مالی کرپشن کا مسئلہ نہیں ہے، اخلاقی کرپشن کا بھی مسئلہ ہے جس کے مشیر شریف الدین پیرزادہ مرحوم جیسے مشیر رہے ہوں وہاں نہ آئین کا عمل دخل ہوتا ہے نہ میرٹ کا

Read more

ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب’پاکستان: عسکری ریاست‘ کا نیا ایڈیشن

کتاب میں اس جنگ بارے کافی سارے آرمی آفیسرز کے انٹرویو لیے گئے ہیں جو اس باب کی خوبصورتی میں اضافے کا موجب ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عروج و زوال کی داستان کے بعد اس کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اس حصے میں ’مولوی ضیاء الحق‘ کے اسلام کی کہانی ہے۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے آغاز فوج سے کیا، ضیاء دور میں فوجی یونٹوں میں تعینات مولویوں کو ترقی دیتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کا رینک دے دیا گیا۔ اسی دور میں بریگیڈئیر ایس کے ملک نے ”جنگ کا قرآنی تصور“ نامی کتاب لکھی جس کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ضیاء الحق نے لکھا:

Read more

ایک این آر او اپنے لیے۔۔۔

مثلث کی تیسری ملاقات میں بھی فقط ریاست ہی بولتی دکھائی دی، اب کی بار حکومت کو سُننا پڑے گی۔ شاید کپتان پھر این آر او نہ دینے کا اعلان کرے مگر یہ این آر او اپوزیشن کو نہیں خود کو دینا ہو گا۔۔۔ اب کی بار ’ایک این آر او اپنے لیے۔‘

Read more

’ضربِ مومن‘: کیا 1990 میں امریکہ پاکستان اور انڈیا کو جوہری جنگ کے دہانے سے واپس لایا تھا؟

سنہ 1990 میں پاکستان اور انڈیا میں تعینات ان ٹیموں نے فوجی ماہرین کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جسے واشنگٹن سے ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ سرحد کے کسی بھی طرف کسی بھی جارحانہ فوجی صف بندی یا اسلحہ کی تنصیب کا نہ صرف سراغ لگائیں بلکہ ایسی کسی بھی خبر سے اعلیٰ امریکی حکام کو فوری آگاہ کیا جائے۔

Read more

منو بھائی: کچھ ذاتی یادیں

صاحب ِ طرز اخبار نویس اور لکھاری منو بھائی کی تیسری برسی گزر گئی۔ مجھے اُن کے ساتھ گہری دوستی یا پیشہ ورانہ تعلق کا دعوی تو نہیں۔ ہاں، انہوں نے پاکستانی عوام کے لئے پرامن، باعزت اور محفوظ زندگی کے جو خواب دیکھے وہ ابھی تک نہیں ٹُوٹے۔ میرا سرمایہ یہی مشترکہ خواب ہیں اور اِن سے جڑی کچھ یادیں۔ پہلی یاد اُس مرحلے کی ہے جب جنرل ضیا الحق کو سیاسی منظر سے ہٹے کچھ ہی دن ہوئے

Read more

ایک کال کا سوال ہے بابا

اپنے پیارے وطن میں سیاسی جلسے جلوس احتجاج کرنے والے لیڈروں کے لیے سیاسی آکسیجن ہوتے ہیں جبکہ مخالفین کے لیے سیاسی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتے ہیں۔ عوام حکومت اور اپوزیشن کی اس کھینچا تانی میں پریشان پھنسے رہتے ہیں۔ جب دونوں سیاسی برجوں کے معاملات کسی نتیجے پر نہ پہنچ رہے ہوں اور عوام تنگ سے تنگ ہوتے جا رہے ہوں تو کوئی درمیان میں داخل ہوتا ہے۔ اس انٹری سے سیاسی آندھیاں وقتی طور پر رک جاتی ہیں

Read more

ہم اور ہماری ترجیحات

دکھ کی بات ہے کہ ہم آج تک اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کر پائے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی خبر ایسی ضرور مل جاتی ہے جس سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ معاملات قومی ترجیحات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ترجیحات تسلسل کا تقاضا کرتی ہیں۔ یعنی ایک حکومت گھر چلی جائے تو آنے والی حکومت کام کو وہیں سے شروع کر دے جہاں جانے والی حکومت چھوڑ گئی تھی۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب کسی

Read more

ملک عبدالقادر حسن کے روشن نقوش پا

‎دائرے میں مسافر کا سفر جاری ہے اب کی بار، ‎اسے ملک عبدالقادر حسن کے روشن نقوش پا پر چلنے کا مقدس قرض ادا کرنا ہے ۔ دائیں بازو کے سرخیل عبدالقادر حسن جو وادی سون سکیر سے لاہور کے مطلع صحافت پر نمودار ہوئے تھے، چھا گئے۔ رفعت آپا نے جس وقار اور عزیمت سے ملک صاحب کا ساتھ نبھایا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ وہ خود بھی بے مثل لکھاری اور ادیب ہیں لیکن انہوں نے اپنے

Read more

امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا اغوا و قتل: احمد عمر شیخ سے خالد شیخ محمد تک وہ تمام کردار جو اس بھیانک کھیل میں شامل رہے

القاعدہ کے سینئیر رہنما سیف العدل نے جب خالد شیخ محمد کو بتایا کہ پرل جن کے یرغمالی ہیں انھیں نہیں معلوم کہ اب پرل کے ساتھ کیا کیا جائے تو امریکہ کو سبق سکھانے پر مائل خالد شیخ ان کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ خالد شیخ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ’مبارک ہاتھوں پر امریکی یہودی کا خون اور اپنے ہاتھ میں اس کا کٹا ہوا سر دیکھنا چاہتے تھے۔‘

Read more

پاکستان پر مسلط ہونے والی اشرافیہ کی کہانی (آخری قسط)

اب ہم سیاسی جماعتوں کے کردار اور اس کے طریق کار کو زیربحث لاتے ہیں۔ انگریز دور میں جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنے وفاداروں میں بڑی بڑی جاگیریں تقسیم کیں جو کہ مغلوں کے برعکس موروثی طرز پر استوار کی گئیں تھیں جبکہ نہری نظام متعارف کروا کر ہندوستانی معاشرے کو خالص جاگیرداری طرز پر استوار کیا گیا۔ ان جاگیرداروں کو بھاری بھرکم خطابات سے نوازا گیا اور انہوں نے انگریزوں کے

Read more

بائیڈن کا حلف اور کسی ’’انہونی‘‘ کی بے کار پیش گوئیاں

ربّ کا سو بار شکر۔ 20جنوری 2021کا دن خیروعافیت سے گزر گیا۔ دُنیا بھر کے نجومی یکسوہوکر انتہائی اعتماد سے دعویٰ کررہے تھے کہ اس دن برج ثور میں مریخ اور یورینس کا ملاپ کسی ’’انہونی‘‘ کا سبب ہوگا جس کے اثرات سے نبردآزماہونے میں آئندہ بیس برس لگ جائیں گے۔ اس ضمن میں نائن الیون اور دسمبر 1979میں روسی افواج کی افغانستان پر چڑھائی کے حوالے بھی دئے گئے۔ مریخ اور یورینس کا ملاپ یا اتصال واقعتا کوئی ’’انہونی‘‘

Read more

کیا جنرل (ر) بلال اکبر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری لا سکیں گے؟

پاکستان سے سعودی عرب جانے والے سفیروں میں زیادہ تر جنرل یا ایڈمرل رہے ہیں۔ لیکن کیا ان کی تعیناتی کے دوران پاکستان کو سفارتی سطح پر کوئی خاص مدد ملی ہے؟

Read more

عمران خان اور 22 کروڑ مصیبتیں

ایک وقت تھا کہ اسلام پورہ لاہور ہی میں ایک خاندان کے چودہ افراد کے قتل پر پورا شہر ہی نہیں، پورا ملک سہم کر رہ گیا تھا محض اس لیے کہ اس وقت ایسی وارداتوں کی شرح آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی اور ایسی خبریں نہ صرف شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوتیں بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج بھی کرتی تھیں۔ حکام بالا کو اپنا راج سنگھاسن ڈولتا دکھائی دیتا تھا۔ دنوں، ہفتوں نہیں مہینوں ایک ہی واردات کے چرچے رہتے، مائیں اپنے بچوں کو اس کا حوالہ دے دے کر ڈراتیں اور بڑھے بوڑھے، مرد و زن کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر اللہ توبة کرتے، رد بلا کے لئے صدقے اتارتے اور منتیں مانتے۔

Read more

خالد حمید کی یادیں: قصہ ایک حلف برداری کا

امریکہ میں ہر چار سال کے بعد 20 جنوری کو ایک شان دار اور باوقار تقریب دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپیٹل ہل کے مغربی حصے پر منعقد ہوتی ہے، جس میں نئے یا دوبارہ منتخب ہونے والے صدر حلف اٹھاتے ہیں۔ اس سال بھی یہ تقریب ہو رہی ہے جس میں 46 ویں منتخب صدر جو بائیڈن اور ان کی نائب کاملا ہیرس اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔

مگر اس بار اس تقریب کا رنگ کچھ مختلف ہے۔ چند روز پہلے کیپٹل ہِل پر جو ہنگامہ ہوا تھا اس کے بعد کسی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں اور ایک عام آدمی کا شہر میں داخلہ تقریباً ناممکن ہے۔ یہ سب کچھ غیر معمولی ہے جس کی امریکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

Read more

ایک آدمی کتنا کُو سیانا ہو سکتا ہے؟

معذرت کہ آج عنوان ہی میں ایک پنجابی روز مرہ کی ضرورت آن پڑی۔ دراصل یہ مرحوم راؤ عبدالرشید کے ہریانوی عطایا میں سے ہے۔ روہتک کے قصبے کلانور سے آنے والے راؤ رشید کی پیشہ ورانہ اہلیت بے مثل تھی۔ افسوس کہ ایسے نابغہ روزگار کی ملازمت کا بیشتر حصہ ہماری تاریخ کے ان تاریک غاروں میں گزر گیا جہاں سرکاری افسر خواہی نخواہی قاعدے ضابطے سے ہٹ کر چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے

Read more

احمد فراز: غزل گوئی سے جملہ بازی تک

کورونا کی دوسری لہر، شدید دھند اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پس منظر میں کئی واقعات ایسے ہیں جو اپنی تہذیبی اہمیت کے باوجود ہماری اجتماعی گفتگو کا موضوع نہیں بن سکے۔ جیسے فیس بُک پر ایک دوست کی تازہ یاد دہانی کہ صاحبِ طرز غزل گو احمد فراز کی ولادت کو گذشتہ ہفتے نوے سال ہو گئے۔ تو کیا فراز مرحوم کو پچھلی نیم صدی کے ایک رجحان ساز اردو شاعر کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا

Read more

پی ٹی آئی حکومت کی سرکاری ملازمین سے کیا دشمنی ہے؟

ڈاؤن سائزنگ کے نتیجے میں بیروزگار یا سرپلس ہونے والے لوگ کیا پاکستانی نہیں ہوتے؟ اگر انہیں نکال کر سرکاری بجٹ میں کمی ہوتی ہے تو کیا ان کی بیروزگاری سے معاشرے پر بوجھ میں اضافہ نہیں ہوتا؟ ایسے سرکاری ملازمین کا بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت انہیں مکمل طور پر ختم ہی کیوں نہیں کر دیتی؟ تاکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہلکا پھلکا سا ملک چلائے، گیسی غبارے کی طرح جو اوپر ہی اوپر جائے۔ سرکاری ملازمین کو بیروزگار کیا جا رہا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا رہیں۔

Read more

بیگم وقار النسا: ’مادرِ مہربان‘ جنھوں نے ایک پاکستانی سے ناتا جوڑ کر اپنا جینا مرنا اس کے وطن سے وابستہ کر دیا

یورپ میں پیدا ہونے والی اس عظیم خاتون نے جب ایک پاکستانی سے ناتا جوڑا تو اپنا تن من دھن سب اس پر اور اس کی قوم پر قربان کر دیا۔ انھوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور سر نون کی وفات کے بعد بھی اپنا جینا مرنا اپنے شوہر کے وطن کے ساتھ وابستہ رکھا۔

Read more

براڈ شیٹ، جھوٹ اور لالچ 

لاہور کی گلیوں میں اس حوالے سے جو زبان استعمال کی جاتی ہے اسے فیملی کے لئے تیار ہوئے اخبار میں دہرایا نہیں جا سکتا۔ جو محاورہ ہے اس کے دو کردار ہیں۔ لالچی اور جھوٹا۔ اور دعویٰ ہے کہ لالچی ہمیشہ جھوٹے کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ ان دنوں ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا میں جس غیرملکی کمپنی کے چرچے ہیں اس کا سربراہ یا CEOایرانی نژاد ہے۔  ایران سے ہم نے محبوب کو محبوب پکارنے کے

Read more

خدارا اب مجھے مرنے دو: بھٹو کی دہائی

میرا تیر نشانے پر لگا،  بھٹو صاحب پلٹے اور بولے تم بھی مجھے ہی سانحہ 1971 کا ذمہ دار سمجھتے ہو۔ مجھے لگتا ہے آپ اکیلے ذمہ دار نہیں تھے۔ بھٹو صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے سمجھدار لگتے ہو۔ میں ہنسا تو مجھے گھورتے ہوئے بولے اتنی سمجھداری اچھی نہیں ہوتی۔ بھٹو صاحب مڑے اور تیز تیز قدموں سے چلنے لگے۔ بھٹو صاحب وہ 1965 کی جنگ کیوں لگی تھی۔

Read more

پاکستان ترقی کر سکتا ہے

1990ء کی دہائی ہمارے ملک پر بہت سخت وقت تھا۔ ہم پہ کیا کیا نہ زمانہ آیا…. چار منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ تین حکومتوں پر 58 ٹو (بی) کا کلہاڑا چلا۔ ایک حکومت کو جہاز میں بیٹھ کر ہائی جیک کیا گیا۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت بے روک ٹوک جاری تھی۔ جہاد کے نام پر تنظیمیں راتوں رات قائم ہوتی تھیں اور سب جانتے تھے کہ کوتوال کس کا دوست ہے۔ آدھا وقت افغانستان

Read more

ندیم افضل چن کا استعفیٰ، کیا اختلافِ رائے کی گنجائش کم ہو رہی ہے؟

مستعفی ہونے والے ندیم افضل چن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سے استعفی مانگا گیا تھا جس کی بنا پر اُنھوں نے استعفی دے دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ویسے بھی اگر پارٹی کی لائن کے خلاف چلا جائے تو استعفی دینا بنتا ہے۔

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کے نام پر اختلافات، وفاق المدارس العربیہ کے انتخابات ملتوی

دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے انتخابات اندرونی اختلافات کے سبب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

یہ انتخابات لاہور میں 16 اور 17 جنوری کو منعقد اجلاسوں میں ہونے تھے جہاں ملک بھر سے 1256 اراکین مجلس عمومی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے آئندہ پانچ سالوں کے لیے تنظیم کے صدر اورجنرل سیکریٹری کا انتخاب کرنے والے تھے۔

تاہم تنظیم کی جانب سے 13 جنوری کو ایک اعلامیے میں "موسمی حالات اور سیکیورٹی خدشات” کو جواز بناتے ہوئے اجلاسوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Read more

فوجی وضاحت کے بعد ابہام کی گنجائش نہیں

پاک فوج کے ترجمان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار بجا سہی لیکن اگر ہر جانب سے ایک ہی بات الفاظ بدل بدل کر بار بار کی جا رہی ہو تو پھر اس بات پر صرف تشویش کا اظہار ہی کافی نہیں بلکہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غوروفکر کی ضرورت کو بھی محسوس کیا جانا زیادہ سود مند ہو گا۔ کسی زمانے میں ہر وہ بات جو بہت ہی محتاط الفاظ میں کوئی کوئی ہی کیا کرتا تھا اب اس بات کو بہت کھل کر اور واضح لفظوں میں ہزاروں لاکھوں افراد کے مجمع سے خطابات میں کہا جا رہا ہے۔ جب ایک بات اس قدر زباں زد عام ہو جائے تو پھر بقول آتش یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

Read more

سلطانہ صدیقی: پی ٹی وی میں ملازمت سے اپنے چینل تک کے سفر میں ’عورت ہونا ہی بڑا چیلنج تھا‘

پاکستان کے معروف انٹرٹینمنٹ چینل ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی نے کئی دہائیوں سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام ہیں اور بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے اپنے سفر اور مشکلات سے لے کر عصرِ حاضر کے ڈراموں پر بات کی ہے۔

Read more

نیا میڈیا اور طاقت کا بدلتا ہوا توازن

اگر ہم قدرے جرات کے ساتھ تاریخی حقائق کے قریب رہ کر بات کریں تو اسلام آباد میں اسی وزیراعظم ہاؤس کے آس پاس ہی ہمیشہ اسی حربی حصے کا قیام رہا جس نے بارہا وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگنے اور وزیراعظم کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ چند قدم کے فاصلے پر (تب) قائم الیکڑانک میڈیا کے واحد ذریعے پی ٹی وی (ریڈیو بھی ) ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کیا اور خواہش کے مطابق ہی ہمیشہ خبر کو

Read more

بری نظامی: انمول پنجابی شاعر جسے بھلا دیا گیا

اس غزل سے آپ شاعر کے دل کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں

وگڑ گئی اے تھوڑے دناں توں ٭ دوری پئی اے تھوڑے دناں توں
چن جیا مکھڑا نظر نہیں آؤندہ ٭ رت سرمئی اے تھوڑے دناں توں
تیرے ہوندیاں پیندے نہیں ساں ٭ پینی پئی اے تھوڑے دناں توں

ان کا لکھا ہوا ایک ایسا گیت جس نے سارے پاکستان کو رلادیا۔ اس کو نصرت فتح علی خان نے ہی گایا تھا اور عاشر عظیم  نے اپنے ڈرامے دھواں میں شامل کر کے ڈرامے کے ایک کردار کی موت پر چلایا تھا۔

ایسں توں ڈاھڈا دکھ نا کوئی ٭ پیار نا وچھڑے کسے دا یار نہ وچھڑے
روگ ہجر دا مار مکاوے ٭ سکھ دا کوئی ساہ نہ آوے
دکھ لاوندے نیں دل وچ تیرے ٭ چارے پاسے دسن ہنیرے۔
دنیا وچھڑے نہیں پروا دلدار نہ وچھڑے

Read more

سلطان راہی: بطور ایکسٹرا کرئیر کا آغاز کرنے والا ربع صدی تک پاکستانی فلمی دنیا کا بے تاج بادشاہ رہا

پاکستانی فلم انڈسٹری میں بطور ایکسٹرا کرئیر کا آغاز کرنے والے سلطان راہی کے لیے کامیابیوں کا راستہ 1972 میں کھلاجس کے بعد اگلی ربع صدی تک وہ پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ بنے رہے۔ ان کی برسی کے موقع پر پڑھیے ان کے فلمی سفر کا احوال جو ان کی موت تک جاری تھا۔

Read more

پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور دینے والا پولیس افسر

پاکستان میں پولیس کا مجموعی کردار عوام کی نظروں میں کبھی بھی پسندیدہ اور قابل ستائش نہیں رہا، اسی لیے پولیس کو وہ اعتماد حاصل نہیں ہو سکا جو عوام اور پولیس کے درمیان محبت کا رشتہ استوار کر سکتا۔ پولیس افسران اور ملازمین کی اکثریت خدمت کی دعویدار تو ہے مگر حقیقی معنوں میں اس کی روح سے ناآشنا ہے۔ اس کا سبب انگریزوں کے بنائے ہوئے وہ پولیس رولز بھی ہیں جو انہیں خدمت کی بجائے حکمرانوں کی لاٹھی ہی بناتے ہیں۔

جب افسران ایسے کلچر کے پابند ہوں تو تھانے میں فرائض سرانجام دینے والا ایس ایچ او ہر طاقتور کی بیساکھی بنے بغیر کیسے گزارہ کر سکتا ہے۔ مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پولیس کا کردار آزاد و خودمختار ملک کی طرز پر تشکیل نہ پا سکا۔ بلاشبہ اس ادارے کو غیر آئینی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلط رکھنے کے لیے استعمال کیا لیکن اس ادارے کے افسران نے بھی جسٹس محمد منیر کی طرز پر ”نظریہ ضرورت“ کی راہ نکالی۔

Read more

روم جل رہا ہے!

بلوچستان کے دور دراز علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے 11ارکان جو پیشہ کے اعتبار سے کان کن تھے، کا سفاکانہ قتل انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک واقعہ توہے ہی لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات اب تسلسل سے ہو رہے ہیں ۔ بلوچستان تو دہشت گردوں کا خاص طور پر ٹارگٹ بناہوا ہے حتیٰ کہ مقامی قانون اور امن وامان قائم کرنے والی فرنٹیئر کانسٹیبلری بھی بے بس نظر آ

Read more

روایت شکن بھٹو کی زندگی کے مہ و سال

”چونکہ میں سکول میں پڑھتا ہوں اس لیے پاک وطن کے قیام میں مدد دینے کے قابل تو نہیں ہوں لیکن وقت آئے گا جب میں پاکستان کے لیے اپنی جان تک قربان کر دوں گا“ ، 26 اپریل 1945 کو قائد اعظم محمد علی جناح کو لکھے گئے خط میں ایک سترہ سالہ طالب علم نے پاکستان سے اپنی محبت کا بھر پور اظہار کیا اور وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے کا عہد کیا۔

یہ طالب علم کوئی اور نہیں سر شاہ نواز بھٹو کے لاڈلے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو تھے ، جن کی پیدائش 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کے المرتضیٰ ہاؤس میں ہوئی ۔ نومولود کا نام مسجد میں لے جا کر رکھا گیا۔ چار سال کی عمر میں رسمی مذہبی تعلیم اور قرآن ناظرہ پڑھنے کی خاطر مسجد میں بٹھایا گیا۔ ایک روایت کے مطابق بھٹو کی تعلیم کا آغاز نو سال کی عمر سے پہلے نہ ہو سکا۔ 1937 سے 1947 کی دہائی میں کنڈر گارٹن سکول کراچی اور کیتھڈرل سکول بمبی میں پڑھتے رہے۔ صرف 14 برس کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو کی شادی 25 سالہ کزن امیر بیگم سے ہو گئی۔

Read more

ایک دن، دو جنازے

میں نے آج کے کالم کی پہلی دو سطریں ہی لکھی تھیں کہ برادرم اجمل شاہ دین کا میسج موصول ہوا۔ ”رؤف طاہر صاحب فوت ہو گئے ہیں۔“ یوں لگا جیسے یک دم آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہو، میں نے باقاعدہ آنکھیں مل کر دوبارہ پیغام پڑھا مگر میرے آنکھیں ملنے سے بھلا پیغام کیسے بدل سکتا تھا۔ میں نے فوراً اجمل کو فون ملایا، انہوں نے بدقت تمام اتنا بتایا کہ ابھی ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ساڑھے دس بجے کے قریب رؤف صاحب آن لائن کلاس لے رہے تھے، کلاس ختم ہوئی تو ساتھ ہی ان پر سکتہ سا طاری ہو گیا، فوراً ایمبولنس میں انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا، وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ ہارٹ اٹیک سے موت تو پہلے ہی واقع ہو چکی ہے۔

Read more

سیاسی اُفق کا شہاب ثاقب بھٹو

” حالات بڑی سنگدلی کے ساتھ حتمی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس کا انجام انتہائی بھیانک بھی ہو سکتا ہے۔ اسپین بھی اس طرح کے تصادم سے دوچار ہو چکا ہے، چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے (یا زیادہ) لیکن ہسپانوی عوام کو اس وقت کی یادیں ایک ڈراؤنے خواب کی طرح آج بھی ڈراتی ہیں، اسپین پاکستان کو دو طرح سے انتباہ کرتا ہے، ان میں سے ایک انتباہ فوج اور عوام کے درمیان متوقع تصادم کے بارے میں ہے اور دوسرا اس اسلامی ریاست کے خاتمے (نعوذ با اللہ) کے متعلق ہے“ ۔

Read more

پرانے کلب میں نیا کھلاڑی

گو کلیشے ہی سہی مگر دل کو بھانے والا   کلیشے ہے کہ سیاست ناممکنات کو ممکنات بنانے کا فن ہے۔اس میں دو اور دو تین یا پانچ ہونے کی بھی گنجائش رہتی ہے۔ اس میں کوئی مستقل دشمنی یا دوستی نہیں ہوتی۔ آج کا جگری کل کا جانی دشمن اور جانی دشمن کا دشمن جگری دوست بن سکتا ہے۔اس کھیل میں کب ڈور ڈھیلی چھوڑنا ہے اور کس وقت کھینچنا ہے۔ اس کا بھی اندازہ رکھنا پڑتا ہے۔اس کھیل میں

Read more

نا انصافی کی خاموشی اور حافظے کی مزاحمت

دسمبر 1976 کی ایک سرد رات ذوالفقار علی بھٹو نے مری میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ایک تاریخی ملاقات کی۔ ان کے دائیں ہاتھ جنرل ضیا الحق اور بائیں ہاتھ میجر جنرل اختر عبدالرحمن بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم حصار میں تھے ۔ وزیر اعظم بھٹو نے ایک مختصر جملے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ ’ہم ایک دوراہے پر ہیں….‘ بھٹو صاحب ایسے سیاسی رہنما تھے جو لان میں اگتی گھاس کی آواز سن سکتے تھے۔ دسمبر 1976 کے اس دوراہے

Read more

کشیدگی کہاں لے جاتی ہے

شیخ رشید اپنی بات مکمل کر چکے تو بچوں نے احتجاجا ٹیلے ویژن کا گلا دبایا اور سوال کیا:کوئی شخص ملک کا شہری ہو، خواہ ہی بڑا ملزم یا مجرم کیوں نہ ہو، اسے شہریت سے کس طرح محروم کیا جاسکتا ہے؟ مجھے افراسیاب خٹک یاد آگئے۔ نیب پر پابندی لگی تو ابھی ان کے کھیلنے کھانے کے دن تھے یعنی وہ طالب علم تھے اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں ہوا کرتے تھے، وہی جیسے نوجوان ہوتے ہیں، بڑے بڑے

Read more

پاکستانی عورتوں کے فن مصوری پر ایک نظر

کائنات میں زمین کا سیارہ نئے سے نئے امکانات کی آماج گاہ ہے۔ اس میں فطرتی بہاو اور افراد کا تشکیلی تموج دونوں کے درمیان کشاکش جاری ہے۔ بعد الذکر تموج ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اول الذکر پر فتح حاصل کی جائے۔ فطرت اور افراد کی اس جنگ میں بعض افرادی درد رکھنے والے انسان اس لڑائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ تمام افراد کو فطری آزادی مل سکے۔ افراد کی دو اقسام جن میں پہلی

Read more

بعد کی شکایات سے قبل۔۔۔۔۔

وزیر اعظم عمران خان کو پی ڈی ایم سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ بتائیں کہ کس معاملے میں فوج ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق پی ڈی ایم سازش کر رہی ہے اور یہ پراپیگنڈابھی اسی کا حصہ ہے۔ مولانا فضل الرحمنٰ نے جاتی امرا میں ہونیوالے پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ پاکستان کو ڈیپ سٹیٹ بنا کر یرغمال بنا دیا گیا ہے، یہ

Read more

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کیا پاکستانی جوہری سائنسدان کی ایٹمی حملے کی دھمکی نے پاکستان، انڈیا جنگ ٹالی تھی؟

کلدیپ نیئر نے کہا کہ ’اگر آپ دس بم بنائیں گے تو ہم ایک سو بنائیں گے‘ جس پر عبدالقدیر نے جواب دیا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں بم بنانے کی ضرورت نہیں۔ تین یا چار ہی دونوں طرف کافی ہوں گے۔‘

Read more

ایک پیج یا آئین کا پیج: اسٹبلشمنٹ عوامی کٹہرے میں

اب یہ سوال اہم نہیں رہا کہ نئے سال 2021 میں نیازی حکومت کب گرے گی یا عوامی غیظ و غضب سے بچی رہے گی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا کہ شام گیا۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزراء کی گھبراہٹ، پریشانی اور اپوزیشن پر دن رات اندھا دھند گولہ باری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اقتدار کھونے کے خوف میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

Read more

فلسفۂ بینظیر ایک بار پھر تاریخ رقم کر گیا

پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم، کارزار سیاست کی عظیم دانشور، باہمت، بہادر ایک عظیم سیاسی جمہوری ورثے کی وارث شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ان کے تکلیف دہ غم کو اس طرح ایک بار پھر مضبوط عزم میں تبدیل کر گئی کہ پاکستان کی سیاسی جمہوری تاریخ کی مختلف الخیال نظریات، فکر و فلسفے کی حامل جماعتیں شہدائے گڑھی خدابخش میں جمہوریت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے

Read more

انتہاپسندی، ماضی کی مہربانیوں کا ہے یہ فیض

گزرتا ہوا سال رخصت ہوتے ہوتے انتہا پسندی کا ایک اور داغ دے کر چلا گیا۔ کرک کے قصبہ ٹیڑی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر حملہ ملک میں کئی دہائیوں پر محیط انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اویس توحید کا بلاگ

Read more

اور پھر نیا پاکستان بن گیا۔۔۔

ایک بے ثمر اور بد بخت الجھاؤ سے پہلے یہی ملک تھا جب دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی منصوبہ (باون ارب ڈالر) کا سی پیک چین کے تعاون سے شروع کیا گیا اور گوادر کا دروازہ عالمی مارکیٹ کی طرف کھلنے ہی والا تھا۔ یہی ملک تھا جب شرح نمو پانچ اعشاریہ آٹھ کو چھونے کے قریب تھی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی سرمایہ کا ر ہماری بلائیں لینے کو بے تاب رہتے تھے۔ یہی ملک تھا جب مہنگائی کی

Read more

نظریہ پاکستان کی مخالفت کا الزام: حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی؟

حیدرآباد ٹربیونل کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے باوجود یہ سوال اہم رہا کہ حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی اور اس میں کن کن لوگوں کو کس انداز میں شامل گیا گیا۔

Read more

ننھے ننھے ہاتھ

ہاشم کا فون تھا امریکا سے۔ میں اس سے ہی بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں کی طبیعت خراب تھی اور وہ چاہ رہا تھا کہ اگر میں کچھ کر سکوں تو ضرور کروں۔ میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ کل ہی اس کی ماں کو سول ہسپتال میں پروفیسر صاحب کو دکھا دوں گا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی ماں کو لے کر صبح صبح میرے پاس آ جائے گا، پھر میں دونوں کو

Read more

ایک بہادر آدمی: خاور نعیم ہاشمی

یوں تو آسمان صحافت پر بہت سے ستارے جگمگاتے ہیں مگر ان ستاروں میں چاند جیسی اہمیت ایک بہادر آدمی خاور نعیم ہاشمی ہی کے حصے میں آتی ہے۔ خاور صاحب سے میرا تعلق صحافت سے وابستگی کے فوراً بعد ہی 2010۔ 2011 میں شروع ہو گیا تھا۔ اگرچہ اس تعلق کی عمر زیادہ لمبی نہیں مگر گہری ضرور ہے۔ حسب عادت انہوں نے صحافت کے میدان میں میری بہت مدد کی۔ اس راہ پرخار پر چلنے کے گر سکھائے

Read more

عمران خان اور سیاسی جماعتیں‎

عمران خان کو جب نوے کی دہائی کے آغاز میں سیاست کے میدان میں اتارنے کی تیاری کی جا رہی تھی حبیب لبیب جناب ضیغم خان اس ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت کا انٹرویو کرنے کے لیے لاہور تشریف لائے۔ وہ اس وقت انگریزی ماہنامے ہیرالڈ کے لیے کام کرتے تھے اور سیاستدان کی حیثیت سے یہ عمران خان کا پہلا بڑا انٹرویو تھا۔ ضیغم خان کے قیام کے دوران میں روزانہ رات گئے تک عمران خان کے ممکنہ سیاسی کردار

Read more

کریمہ بلوچ کی پراسرار موت اور پرخطر زندگی

محترمہ افشیں بلوچ صاحبہ! چند روز پیشتر ’ہم سب‘ کے ایک دوست نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں کریمہ بلوچ کے بارے میں کچھ لکھوں جن کی پچھلے دنوں 2020 کی 21 دسمبر کی لمبی ترین اور تاریک ترین رات کو ٹورانٹو میں پراسرار طریقے سے موت واقع ہوئی۔ کریمہ بلوچ اور آزادی اظہار کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والوں کی خواہش ہے کہ کینیڈا کی حکومت اور پولیس اس پراسرار موت کی غیر جانبدارانہ

Read more

وزیراعظم کس کو دھمکیاں دیتے ہیں؟

یہ کوئی راز نہیں رہا کہ اٹھارہ کے الیکشن کو ”مینیج“ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ منیجمنٹ یا بندوبست سیدھا سادہ یعنی ایک فریق کے حق میں نہیں تھا۔ کچھ ایسا جادو کیا گیا کہ جو ہار گئے وہ حیران تھے اور جو جیت گئے وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی تھے۔ کیونکہ ان کو حکومت دینے کے باوجود اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ سابقہ دعویداروں کو اپنا اپنا صوبہ بھی مل گیا تھا۔

Read more

بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت اور میں

یہ 27 دسمبر 2007 کا دن ہے۔ میں اس وقت 6 سال کا تھا مگر مجھے آج بھی وہ دن بہت اچھی طریقے سے یاد ہے۔ اس دن جمعرات کا روز تھا۔ میں تب دبئی میں رہتا تھا۔ تب مجھے سکول سے چھٹیاں تھیں۔ جیسا آپ کو پتا ہو کہ متحدہ عرب امارات میں جمعہ اور ہفتہ چھٹی ہوتی ہے۔ جمعرات کو میرے والد کا ہاف ڈے ہوتا تھا۔ یعنی عام دنوں میں وہ گھر 7 بجے آتے تھے مگر

Read more

”مفتی“ عمران احمد نیازی۔

وزیراعظم نے چکوال میں ایک مرتبہ پھر اپنی ”شیریں بیانی“ ، کا جادو جگایا۔ تاریخ، جغرافیے، یورپین ہسٹری، ریاست مدینہ اور اسلامی ادوار کا تیاپانچہ کرنے کے بعد وہ اپنے مرغوب و محبوب موضوع پر آئے اور نواز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز اور بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم پر برس پڑے۔ ان کی بدن بولی اور چہرے کا تناوٴ ان کے داخلی اضطراب اور اضطرار کی غماز تھا۔

تقریر کے نام پر ان کا پٹ سیاپا، سب و شتم اور اخلاق سے گری ہوئی بے ربط باتیں سن کر شرمندگی ہوتی ہے کہ ایسا زبان دراز اور منہ پھٹ آدمی ہمارا وزیراعظم ہے۔ اب تو انہوں نے فتویٰ بازی بھی شروع کر دی ہے۔ کچھ دن قبل بھی انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کا نام لے کر فتویٰ صادر کیا تھا کہ ان دونوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس عمر میں

Read more

بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پاکستان کھپے

راولپنڈی بھٹو خاندان کے لیے کسی کربلا سے کم نہیں ہے۔ اسی شہرمیں 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور ان کے تابوت کو گڑھی خدا بخش روانہ کیا گیا اور اسی شہر کے لیاقت باغ میں ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو ایک قاتلانہ حملہ میں شہید کر دیا گیا اور ان کے جسد خاکی کو گڑھی خدا بخش روانہ کیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ضیا الحق کا عہد آمریت ہویا پھر مشرف کا نیم مارشل لا کا دور حکومت ہو ان ادوار میں جمہوریت کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بھٹو خاندان نے ہی دی ہیں۔

Read more

بینظیر بھٹو: اگر آج وہ زندہ ہوتیں

بینظیر بھٹو اگر کچھ عرصہ اور زندہ رہتی تو کیا ہوتا! اس بارے میں کافی قیاس آرائیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ ماضی میں کیا تھیں بہت کچھ یقین سے کہا جا سکتا ہے۔ ان پر کرپشن کے الزامات لگے، ان پر خراب حکمرانی کے آوازے کسے گئے، مگر ان کے نڈر ہونے پر کسی نے شک نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنے باپ کو جرات کے ساتھ پھانسی کے لیے تیار دیکھا تھا۔

Read more

بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار کون؟

بینظیر بھٹو نہ صرف پاکستان، بلکہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنی۔ وہ پاکستان کے پہلے جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔ ان کے والد کا سیاسی سفر ایک فوجی آمر نے ختم کیا جب 1979 میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں انھیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ 27 دسمبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کردی گئی۔ بینظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ اپنی موت کے وقت بینظیر بھٹو

Read more

پشاور کی ایک گلی میں مشرقی پاکستان

پچھتر سال کے بوڑھے الطاف حسین نے اپنی کہانی سنانی شروع کی۔ میری عمر تب تین سال تھی جب میرے والدین اور خاندان کے دوسرے لوگ اُنیس سو سینتالیس میں ہندوستان کے صوبے بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے سید پور علاقے میں آئے جو ہندوستان اور نیپال کے سرحدی علاقے دارجلنگ کے قریب تھا۔ یہاں ہم ایک سکون کے ساتھ رہتے اور اپنی محنت مزدوری کرتے۔ 1970کا الیکشن آیا تو میں تب پچیس سال کا نوجوان

Read more

عبدالحمید چھاپرا: خبر کا ایک مورچہ جاتا رہا

ستر کے عشرے میں احفاظ نے عبدالحمید چھاپرا سے میرا تعارف کروایا تھا۔ تب وہ برنس روڈ پر رہتا تھا اور تحریک استقلال کی نشست سے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا۔ گورا چٹا اور غیر معمولی حد تک سیاہ اور گھنگریالے بالوں والا چھاپرا صحافت اور سیاست دونوں میدانوں میں سر گرم عمل تھا۔ ڈیلی نیوز میں اس کی چٹپٹی خبریں چھپا کرتی تھیں۔ برنا گروپ سے وابستہ تھا۔ وہ کیا تھا، اسی کے لفظوں میں

Read more

مولانا پر ’’پکّا‘‘ ہاتھ ڈالنے کے منصوبے

PDM کے لاہور والے جلسے کی ’’ناکامی‘‘کے بعد عمران حکومت پر اعتماد ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بجائے سینٹ کی مارچ 2021میں خالی ہونے والی 52نشستوں پر ہوئے انتخاب میں اپنی عددی قوت سے زیادہ حصہ لینے پر توجہ دیں گی۔ اس ضمن میں ان کی ’’مصروفیت‘‘ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا باعث ہوگی۔ موسم بہار کے آغاز میں یہ مارچ ہو بھی گیا تو

Read more

آئندہ کا سیاسی زائچہ خوش کن… مگر

مولانا فضل الرحمن سے ’’باغی‘‘ ہوئے بلوچستان کے مولانا شیرانی اس ضمن میں اکیلے نہیں۔ لاہور کا PDM والا جلسہ ’’ناکام‘‘ ہوجانے کے بعد میں نے عمران خان صاحب کے کئی مخالفین کو بھی ’’آف دی ریکارڈ‘‘ یہ اعتراف کرتے سنا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو موجودہ حکومت نہ صرف اپنی آئینی مدت مکمل کرلے گی بلکہ 2023میں ہوئے انتخابات کے بعد پانچ سالہ اقتدار کی دوسری ٹرم یا باری لینے کے قابل بھی بن جائے گی۔ ایسے

Read more

جنرل فرمان علی کی ڈائری کا ایک جملہ

1971 میں مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران وہاں تعینات پاک فوج کے جنرل فرمان علی کا متنازعہ کردار بین الاقوامی طور پر زیر بحث رہا ہے۔ یہ وہی جنرل صاحب تھے جس کی ڈائری کے ایک صفحے کو بنگالی علیحدگی کا سبب پوچھنے پر توجیہہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس صفحے پر جنرل صاحب نے لکھا تھا،

”Green land of East Pakistan will be painted red۔“

اس بحران کو قابو کرنے کے لئے یہ ان کے عزم کا اعادہ تھا۔ بعد میں جو کچھ ہوا اس سے عیاں ہے کہ بنگالیوں کو مغربی پاکستان سے متنفر کرنے کے لئے جو مکتی باہنی اور بھارتی فوج نہ کر سکی وہ جنرل فرمان کی ڈائری میں درج اس جملے اور اپنے لوگوں کے خلاف اپنی فوج استعمال کرنے کے حربے نے کر دکھائے۔ مشرقی پاکستان کی سبز میدانوں میں نفرتوں کی جس فصل کی آبیاری خون کی سرخی سے ہوئی تھی وہ جلد ہی پک کر تیار ہو گئی اور بنگالی علیحدگی سے کم پر راضی نہ ہوئے۔

Read more

شیخ رشید کا اصل چیلنج

اِس وقت وزیر داخلہ شیخ رشید کو وزیراعظم عمران خان سمیت پوری کابینہ پر یہ منفرد فوقیت حاصل ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کرنے کا اتنا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کہ اُن کے مقابلے کا پوری کابینہ میں کوئی دوسرا نہیں۔ وہ عام طور پر کوئی قدم اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت کے بغیر نہیں اُٹھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں کبھی برے دن نہیں دیکھتے۔ طاقتور حلقوں کے ساتھ وہ اپنے تعلقات کے

Read more

پاکستان میں سینسر شپ اور آزادی صحافت: ’جو آپ مارچ میں کہہ سکتے تھے وہ آپ اگست میں نہیں کہہ سکتے‘

پیروڈی اور طنز و مزاح پر مبنی جریدے ’دی ڈیپنڈنٹ‘ کے ایڈیٹر عمر عزیز خان کا کہنا ہے کہ تنقید برداشت کرنے کے لیے تمام ہی حکومتوں کے ’دل چھوٹے‘ ہوتے ہیں لیکن موجودہ حکومت تو حس مزاح سے یکسر عاری ہے۔

Read more

مریم نواز کے ڈگری یافتہ ان پڑھ بچے

دوستو، بزرگو، ساتھیو، کسانو اور محنت کشو جیسے الفاظ سیاستدان عموماً جلسوں میں حاضرین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ادا کرتے ہیں۔ ’میرے بچو‘ یہ الفاظ میں نے پہلی دفعہ بیگم نسیم ولی خان کے منہ سے سنے تھے۔ جب اس پردہ دار پختون خاتون کے گھر کے سارے مرد زندانوں میں ڈالے گئے تو وہ دوپٹے کو پگڑی بنا کر نکلی تھیں۔ تب میں نہیں تھا جب مادر ملت کی ساری ملت کو پہلی بار ایک بڑے جیل

Read more

کیا بھٹو کو منصفانہ سماعت ملی؟

ایک محترم اور معتبر صحافی جو ماضی میں ایک آزاد نجی چینل پر ایک مقبول ٹاک شو کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ آزاد ٹی وی چینل موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ ان کے شو کو میں بھی کبھی کبھار دیکھ لیا کرتا تھا لیکن ان محترم کے بولنے کے مخصوص درشت انداز کی وجہ سے کبھی کبھی ان کی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھیں۔ جس کی وجہ سے اکثر اس شو

Read more

"صبر طلب جمہوریت” اور صاحبزادہ فاروق علی خان کی خاموش موت

1973 ء کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان طویل علالت کے بعد 29 نومبر 2020 ء کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ 5 ستمبر 1931 ء کو گکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان 9 اگست 1973 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے نویں سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977ء تک اس منصب

Read more

سیاسی کشمکش اور اخلاقی گراوٹ

اس وقت ایک طرف سیاست کے میدان میں تاریخ کی شدید ترین محاذ آرائی پھیل رہی ہے اور دوسری طرف کرونا وائرس نے لوگوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس موذی وبا کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد کے قائدین پر اجتجاجی تحریک کو ملتوی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن پی ڈی ایم راہنما تحریک کو آگے بڑھانے پر مصر ہیں۔ مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز آج کل لاہور کے مختلف علاقوں کے طوفانی دورے

Read more

جب مجھے حج کی سعادت نصیب ہوئی۔۔۔

اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ غسل لینے کے بعد شلوار قمیض پہن کر بڑا ہلکا پھلکا محسوس ہوا۔ اب رات کے کھانے کا وقت تھا سب کے لئے کھانا تیار تھا۔ میں نے کھانے سے معذرت چاہی اور باہر آ گیا خطیب صاحب پیچھے آئے اور کہا آپ کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے کہا کہ دوپہر کو آپ کی طرف سے مہمان نوازی ہو چکی اب میں اس شرط پر کھاوں گا کہ خدمت کی اللہ آپ کو جزا

Read more

مدثر نذر کی سُست ترین سنچری: ’غلط شاٹ کھیلا تو امتیازاحمد نے پیغام بھیجا ٹیم کے لیے کھیلو‘

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لاہور میں ٹیسٹ میچ کے 43 سال گزرجانے کے بعد مدثر نذر نے بی بی سی اردو سے اس ٹیسٹ اور اس وقت کے حالات سے متعلق اپنی کچھ یاداشتیں شئیر کی ہیں۔

Read more

نواز شریف پر لکھا گیا ایک مضمون

یہاں کسی کی ذات کو زیر بحث لانا ہر گز مقصود نہیں تھا، لیکن میاں نواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جنہیں یوں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میاں صاحب گزشتہ چالیس سالوں میں وطن عزیز کو در پیش ہر بحرانی صورت حال کا مرکزی اور مستقل کردار رہے ہیں۔ آج قوم ایک بار پھر گرداب میں ہے اور میاں صاحب اپنے سامنے موجود ہر شے کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہیں۔

سنہ اسی کی دہائی کے کسی پہلے سال اپنے زیر تعمیر مکان پر کھڑے جنرل جیلانی لاہوری صنعت کار کے نوجوان بیٹے سے یوں متاثر ہوئے کہ اسے سیاست کے لئے مانگ لیا۔ شہباز شریف مگر خاندان کے کاروباری معاملات کے نگران تھے۔ باپ نے عرض کی کہ بڑا بیٹا حاضر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف اپنی معمولی صلاحیتوں کی بنا پر خاندانی کاروبار کا محض شعبہ تعلقات عامہ دیکھتے تھے۔

اداکاری کا شوق چرایا تو فلمسٹار رنگیلا کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ ہی روز میں معذرت کے ساتھ لوٹا دیا گیا۔ کرکٹ کوچ کا بندوبست کیا گیا تو جسمانی سستی آڑے آئی۔ پولیس کی وردی پہننے کو جی مچلا تو والد نے جنرل جیلانی سے ہی درخواست کر کے کچھ دن کے لئے آپ کو محکمہ سول ڈیفنس میں سیکٹر کمانڈر لگوا دیا۔ کسے خبر تھی کہ پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے والا ’بھولا بھالا‘ نوجوان آنے والے عشروں میں پاکستانی سیاست کے خدو خال بدل کر رکھ دے گا۔

Read more

پاکستان میں جمہوریت اور افغان امن

1970ء کے دہائی کے آخر میں، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد سے، پاکستان میں سیاسی اور عسکری قوتوں مین اشتراک اقتدار کا ایک طرفہ نمونہ حکومتی بندوبست کی مستقل خصوصیت بن چکا ہے جس میں عسکری قوتوں کو بالادست حیثیت حاصل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس حکومتی بندوبست میں فوجی قیادت کو ملکی سلامتی اور خارجہ امور کی فیصلہ سازی میں بھی فیصلہ کن کردار مل گیا ہے۔ پاکستان کی افغان پالیسی پر فوج، خاص

Read more

شبلی فراز اور پی ٹی آئی کا سیاسی دوغلا پن

شبلی فراز صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف اور جنرل ضیا الحق کے حق میں کی گئی تقریر چلائی۔ اور یہ کہا کہ جس سیاسی رہنما اور اس کی پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی اور بی بی کے خلاف اتنے ظلم کیے، آج پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شبلی صاحب لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ بی بی ہی خود چل کر میاں نواز شریف کے پاس گئی تھیں اور دونوں سیاسی رہنماؤں نے اپنے ماضی کو دفن کر کے میثاق جمہوریت کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کا مظاہرہ گزشتہ دہائی میں دیکھنے کو بھی ملا۔

Read more

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک: کیا اپوزیشن کے استعفے حکومت کو کوئی نقصان پہنچا پائیں گے؟

ماضی کے مختلف ادوار میں اپوزیشن جماعتیں بشمول تحریک انصاف اگرچہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلانات تو کرتی رہی ہیں مگر جب بات عملدرآمد پر آتی ہے تو ایسا کرنے میں سب یکجا نہیں ہوتے۔

Read more

شمالی علاقہ جات سے نئے گلگت بلتستان کا سفر

گلگت بلتستان جو پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی بے بسی کا عالم کچھ یوں ہے کہ اس جنت نظیر وادی کو جلتی آگ میں جھونکنے کا کام اپنوں نے کیا اور خود ہی ایندھن کا کردار ادا کرتے رہے۔ جب ما ضی کے تاریک اوراق کو پڑھنے کی کوشش کی تو نا قابل فراموش حقیقت کا سامنا ہوا کہ جس خطے کو ابا و اجداد نے خون جگر دے کر ڈوگروں سے حاصل

Read more

جیسے کہ نواز شریف

پاکستان کی سیاست میں مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے ان پر غیرمنطقی تنقید سے آگے بڑھ کر ان کی ذاتی تذلیل کا استعمال پوری بے شرمی کے ساتھ جاری ہے۔ پہلے شرم و حیا اور تہذیب سے عاری سیاست کو گلی محلوں کے لفنگوں کی ہلڑبازی سے تشبیہ دی جاتی تھی لیکن اب یہ چند برسوں سے ہماری قومی سیاست کا لازمی جزو بن گیا ہے اور اس کا استعمال اپوزیشن کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی بڑھ چڑھ

Read more

صحافت کا شہادت سے منافقت تک کا سفر

جب مولوی محمد باقردہلوی نے 1836 میں اپنا پہلا ہفت روزہ اردواخبار نکالا ہوگا تو یقیناً ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ آئندہ 200 سال میں صحافت ایک انڈسٹری بن جائے گی، مجھے اس تحریر کا آغاز اس لیے ان کے نام سے کرنا پڑا کہ انگریزوں نے انہیں توپ سے باندھ کر شہید کیا تھا۔ اردو کا پہلا اخبار ہونے کا دعوی (جام جہاں نما، مراۃ الاخبار، اور اردو اخبار شامل ہے ) لیکن اولین

Read more

جسٹس فار راجہ داہر اور محمد بن قاسم

ہم نے کئی بالی ووڈ اور پاکستانی پنجابی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک لڑکی چیخیں مار کر بھاگ رہی ہے۔ اس کے پیچھے ایک بد شکل ولن وحشیانہ انداز میں قہقہے مارتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ ایک دم ہینڈسم ہیرو نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑتا ہے اور مار مار کر اس ولن کا بھرکس نکال دیتا ہے۔ اور لڑکی کو پہلی نظر میں ہی ہیروسے محبت ہو جاتی ہے۔ اگر

Read more

میر ظفر اللہ جمالی نے استعفیٰ کیوں دیا؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی گزشتہ روز راول پنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ یکم جنوری 1944ء کو صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہونے والے میر ظفر اللہ خان جمالی نے ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی، بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچی

Read more

یہ دسمبر ستمگر

اسلام آباد مذاکرات کو تیار نہیں اور اپوزیشن بات چیت پر رضامند نہیں ایسے میں ادارے کتنا عوامی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اس کا فیصلہ یہ دسمبر کرے گا لیکن دعا ہے کہ اب کی بار یہ دسمبر ستمگر نہ ہو۔

Read more

دانشور بمقابلہ دانش فروش

انسان میں شعور بیدار ہونے تک انسان کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو انسان تعلیم حاصل کرتا ہے۔ پھر اس حاصل ہونے والی تعلیم سے انسان کے اندر علم کی شمع جلتی ہے۔ جیسے ہی علم کی شمع انسان کے اندر جلنا شروع ہوتی ہے تو وہ انسان کے اندر ”دانش“ یعنی عقل کو بڑھاوا دیتی ہے۔ اور پھر اس دانش کا مثبت استعمال اور عملی مظاہرہ انسان کے اندر شعور بیدار ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ مثال کے طور پر ایک انسان انجینئر بننا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرے گا۔ جس میں اسے گزشتہ تجربات، انجینئرنگ کی مختلف اقسام، اس کے تھیوریٹیکل پرسپیکٹو (theoretical perspectives ) سمیت ہزاروں سینکڑوں مختلف پہلو پڑھے گا۔ پھر ان تعلیمی مشاہدات سے جو اس کو علم حاصل ہوگا وہ اس کے مطابق مختلف تجربات کرے گا، کچھ نیاء کرنے کی کوشش کرے گا، ہو سکتا ہے ہزار بار ناکام ہو پر اس کا علم اس کو بات کی یقین دھیانی کرواتا رہے کہ کوشش مت چھوڑنا اور وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا۔

Read more

نور حسین: بنگلہ دیش کے شہری کے جسم پر پینٹ ہوئے نعروں کی تصاویر جنھوں نے ایک فوجی آمر کا تخت ہلا دیا

یہ سنہ 1987 کی بات ہے جب ایک نوجوان اپنے جسم پر جمہوریت کے حق میں نعرے پینٹ کر کے مظاہرہ کر رہا تھا۔ اسے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے گولی مار دی تھی۔ پولیس سیل میں چھلنی جسم کی تصویر فوجی آمر کی رخصتی کا پروانہ ثابت ہوئی۔

Read more

قصور خان صاحب کا بھی نہیں

نیت صادق ہو مگر زاویہِ نظر دھندلا یا بھینگا ہو تو آپ خود کو اور دوسروں کو کنفیوژ کر کے فکری و عملی الجھاوا تو بڑھا سکتے ہیں مگر منزل حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

Read more

فلسطین اور امت مسلمہ

کرونا کی دوسری لہر دنیا میں آ چکی ہے اور گزشتہ سال کی طرح دسمبر آتے ہی معاملات گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں، کافی ممالک جن میں پہلی لہر پر کسی حد تک قابو پایا جا چکا ہے، وہ اب دوسری لہر سے حفاظت کے لیے انتظامات میں مصروف ہیں۔ کچھ ممالک دوبارہ سے لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں یا عوامی سطح پر لاک ڈاؤن کی افادیت پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتائج مکمل ہو چکے ہیں اور بالآخر ٹرمپ نے اپنی شکست کے نتائج تسلیم کر لئے ہیں اور جوزف بائڈن حکومت سازی پر توجہ دے رہے ہیں۔

Read more

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

جس نے بھی ”سگریٹ نوشی کے نقصانات“ پہ سکول کے زمانے میں مضمون رٹا تھا اسے شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا دوسرا مصرعہ ضرور یاد ہو گا۔ یہ شعر ویسے تو دختر رز (انگور کی بیٹی) کے متعلق ہے لیکن دوسرا مصرع کسی بھی قسم کی علت کے لئے صادق آتا ہے چاہے وہ بادہ خواری ہو یا سگریٹ نوشی۔

ریل گاڑی، کرکٹ، چائے، انگریزی زبان، سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کی طرح سگریٹ نوشی کو برصغیر میں روشناس کروانے کا سہرا بھی انگریز حکومت کے سر ہے۔ اس خطے کے لوگوں کو تمباکو بیڑی اور سگریٹ پہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہی لگایا

Read more

بھٹو اقتدار کے آخری ایام: ذوالفقار علی بھٹو کی وہ ’غلطیاں‘ جو فوجی بغاوت کی بنیاد بنیں

مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا لیکن کچھ ہی دنوں میں جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں موند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔

Read more

آصفہ اور مریم: موروثی سیاست کے الزامات کی حقیقت

آصفہ بھٹو کے میدان سیاست میں اترنے کے بعد موروثی سیاست پر ایک بار پھر زور و شور سے تبرہ بازی ہو رہی ہے۔ سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس طرح کے الزام اور اتہام کے تیر ان کی طرف سے آتے دکھائی دیں گے، جو موجودہ ہائبرڈ حکومت یعنی مکس اچار والی حکومت کے گن گاتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کہیں سے یہ سن گن لگ گئی کہ سیاست میں موروثیت ناجائز ہے۔ یہ بد بخت جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کا کلمہ پڑھتے ہوئے تو شرمسار نہیں ہوتے مگر بندوق برداروں کے ہاتھوں جمہوری حکومت کے قلع قمع کو ملک کی بقا اور سلامتی کا ضامن سمجھتے ہیں۔ انہیں سیاست میں کچھ سال بعد ایک ”عمران خان“ تو گوارا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھی پر اقتدار میں آ کر اشاروں پر ناچنا جانتا ہو مگر انہیں قائد اعظم کی نیک سیرت، پاکدامن اور سیاسی بصیرت سے مالا مال بہن فاطمہ جناح ہر گز گوارا نہیں کیونکہ وہ آمریت کے قبیح کاروبار کو ببانگ دہل للکارنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

Read more

میر ظفر اللہ خان جمالی، جنرل مشرف اور نواز شریف

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی سیاسی جدوجہد نصف صدی کے لگ بھگ رہی، پہلا الیکشن 1977 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا لڑا جبکہ ان کی زندگی کا آخری الیکشن 2013 کا تھا جس میں آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے اور مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں ختم نبوت کے معاملہ پر نون لیگی حکومت سے ناراض ہو گئے اور اسمبلی کے فلور پر استعفی دے کر سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔

ضیا الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر رہے، وزیراعلی بلوچستان، کئی مرتبہ رکن قومی اسمبلی، وفاقی وزیر، سینئر اور بالآخر 2002 میں وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم صدر پرویز مشرف کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے دو سال بعد وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹا دیے گئے، بطور وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی انہوں نے دو اہم کارنامے انجام دیے جو جمہوری وزیراعظم کے لئے ایک مثال کے طور پر چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے دو مرتبہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف دوسرے لفظوں میں امریکہ کو ناراض کیا جس کی وجہ سے ان کی چھٹی ہوئی۔

Read more

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی: ’سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ایک حقیقت اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے‘

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا کہنا ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے بارے میں یہ تاثر قائم ہونا ہے کہ یہ خود نہیں آئے بلکہ خاکی بوجھ لے کر آئے ہیں، کچھ لوگ تاریخ سے نہیں سیکھتے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی تاریخ بنائیں گے۔

Read more