جس وقت آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے عین اس وقت میکسیکو کے سرحدی قصبے تیجوانا میں گوئٹے مالا، ہنڈوراس، ایل سلواڈور وغیرہ کے پانچ ہزار تارکینِ وطن عورتیں، بچے اور جوان ایک قطار میں انٹرویو کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ یہ تارکینِ وطن قریباً چار ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے جانے کتنے دنوں اور کتنی ذلتیں بھگت کے یہاں پہنچے ہیں۔
یہ بہتر اقتصادی مستقبل کی تلاش میں امریکا میں داخل نہیں ہونا چاہتے بلکہ اس لیے آنا چاہتے ہیں کیونکہ انھوں نے سنا ہے کہ امریکا میں منشیات کے اسمگلروں اور وار لارڈز کے نجی ڈیتھ اسکواڈز نہیں ہوتے اور ریپسٹ کو عدالت سزا بھی دیتی ہے۔
جس وقت آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے اس وقت میکسیکو کے سرحدی قصبے تیجوانا کو امریکی ریاست کیلی فورنیا سے ملانے والی شاہراہ پر خاردار باڑ لگ چکی ہو گی اور نو ہزار امریکی فوجی بطور کمک سرحد پر بھیجے جا چکے ہوں گے۔ یہ اضافی فوجی صدر ٹرمپ کے بقول میکسیکو کے راستے حملہ آور قاتلوں، ریپسٹ اور مشرقِ وسطی سے آنے والے دہشت گردوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکیں گے۔
Read more