میری انتڑیاں اُس وقت بھوک کی شدت سے بلبلا رہی تھیں۔ اُترائی کی دشواری بھی سامنے تھی۔
اُترتے سمے میری حالت اُس دلہن جیسی تھی جس نے بالشت بھر اونچی ایڑی کا جوتا اور زمین پر لُٹنیاں لیتا شرارہ پہنا ہو اور جو پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی ہو اس ڈر سے کہ کہیں لڑھک لڑھکا کر تمسخر کا باعث نہ بن جائے مجھے تمسخر کا نہیں ہڈی جوڑ کے اناڑیوں کے پاس پہنچنے کا ڈر تھا۔ گورڈن کالج راولپنڈی کے چند طلبہ کی ہرنی کی طرح چوکڑیاں بھرنے کی ادائیں دیکھ کر ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا یاد آیا تھا۔
ہوٹل میں لوبیا کا بد مزہ سا سالن تھا۔ اکڑی ہوئی روٹی تھی۔ شکوہ کرنے پر سُننے کو ملا تھا۔ آرڈر دے کر جانا تھا۔ اور اگر مُفتے کی مقامی ذائقہ دار چیزیں کھانی تھیں تو اوپر ٹھہرنا تھا۔ جش ( چربی میں بنایا ہوا نمکین حلوہ) اور اُبلا ہوا گوشت ملتا۔ جش نیچے کے حلووں ولووں اور اُبلا گوشت روسٹ کے سواد کو بھُلا دیتا۔
Read more