شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی
سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی تعبیر کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے اور نہ اس بارے میں جاننے کی خواہش کو مستحسن گردانا
Read more





































































