تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں یہ مقطع خواجہ میر درد کی اسی غزل کا ہے جس کے تیسرے شعر کا پہلا مصرع ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنی کتاب کا عنوان بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو۔ ڈاکٹر بگھیو کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہر بھر کے زاہدوں کو دست ِ سبو پر بیعت کا درس دیتے مل سکتے ہیں ؛ مگر اس

Read more

خوددار اور باشعور پاکستان کی آواز

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے جنگی ہیجان اور ہندوتوا سوچ نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ پورے خطے کو تباہی اور بربادی کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پہلگام کے واقعہ کے بعد بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام لگا دینا ایک نہایت احمقانہ حرکت تھی۔ اگرچہ بھارت کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بیرونی دنیا میں کہیں بھی پذیرائی نہیں مل سکی لیکن اس

Read more

بھارت طے کرے، اسے تعاون چاہیے یا تصادم؟

قومی اسمبلی نے ایک قرار داد میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی اقدام کی مذمت کی ہے اورقرار دیا ہے کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا پاکستان کی پالیسی نہیں ہے۔ بھارتی حکومت بدنیتی سے پاکستان پر اس دہشت گردی کا الزام عائد کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کو تصادم کی بجائے امن کا راستہ چننے اور ہمسایہ ملکوں میں تعاون کو فروغ دینے کا

Read more

ذکر ”مرد آہن محمد نواز شریف“ کی کتاب کی تقریب رونمائی

ٓانفارمیشن سروس اکیڈمی کا ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا ہال میں جتنی نشستوں پر سامعین براجمان تھے اتنی تعداد میں کھڑے تھے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں طویل عرصہ کے بعد غیر سرکاری پلیٹ فارم پر علمی ادبی و نیم سیاسی نوعیت کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزراء، سیاست دانوں، ادیبوں اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی یہ اپنی نوعیت کی منفرد تقریب تھی جس شخصیت کے بارے کتاب لکھی گئی ہے اس (محمد

Read more

امریکہ کا بھارت کو حیران و پریشان کرنے والا مشورہ

غالب کا ’’ہم کہاں کے دانا تھے…؟‘‘ والا سوال عرصہ ہوا اپنی جبلت کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے میرا نہ ہونے کے برابر ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ کے نام سے چلایا یوٹیوب چینل بند ہوا تو خیال آیا کہ کسی نہ کسی کے دل میں کہیں نہ کہیں میرے بیان کردہ خیالات اب بھی کانٹے کی طرح چبھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت مجھ کو میسر نہیں۔ وہ مل بھی گئی تو شاید یہ

Read more

آبی مسائل پر اتفاق رائے کی جانب ایک قدم

سندھ میں وکلا کی آبی تحریک کی کامیابی، جو دریائے سندھ سے نئی نہروں کے متنازع منصوبے کے خلاف تھی، ایک اہم پیش رفت ہے جو وفاقی اصولوں اور بین الصوبائی مکالمے کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔ وکلا کی جانب سے سندھ بار کونسل کی قیادت میں احتجاج، دھرنوں اور عدالتی بائیکاٹ نے نہ صرف عوامی شعور کو بیدار کیا بلکہ وفاقی حکومت اور مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کو صوبائی خدشات کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا۔

Read more

نہروں کا معاملہ: ناکامی کے طعنے سہنے والی پارٹیاں پھر ناکام ہوئیں؟

گزشتہ کئی دنوں سے سندھ میں نہروں کا معاملہ تمام معاملات پر چھایا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کے لیے دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر بنی۔ جس کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر میدان گرماتے ہوئے سندھ میں روزمرہ زندگی کا کاروبار ہی ٹھپ کر دیا۔ بے شک پانی کا معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ

Read more

مودی ایڈونچر: ستم پر ستم جو مچایا ہے تو نے

پہلگام میں، 22 اپریل کو 26 سیاحوں کا قتل اور درجن بھر زخمی ہوئے۔ سانحہ پہلگام منطقی نتیجہ ہے جعفر ایکسپریس پر حملے کا۔ شیخ مجیب الرحمان، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کے قاتل کون تھے، حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والے، بھارت میں جاری علیحدگی کی تحریکیں، بھارت کے لئے سوہان روح ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف مذموم حرکات پہلے بھی کیں، کلبھوشن یادیو جیسے ہرکاروں، بی ایل اے جیسے کرداروں یا ٹی ٹی پی جیسے فتنے متعارف کروائے۔

Read more

پیپلز پارٹی کی غلطیوں کا تسلسل

سندھ ہمیشہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرامن خطہ رہا ہے، مگر سیاسی جدوجہد کے معاملے میں سندھ ہمیشہ آگے رہا ہے۔ چاہے وہ ون یونٹ کے خلاف تحریک ہو، جنرل ضیاء الحق کی آمریت ہو یا ایم آر ڈی کی تحریک، سندھ کے عوام نے ہر دور میں مزاحمت کی ہے۔ پانی کے مسائل پر بھی سندھ کے لوگ ہمیشہ سڑکوں پر نکلے ہیں، اور سندھ کی قوم پرست تحریکوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اس تاریخ

Read more

پلیز ڈاکٹر یاسمین راشد کو فوراً رہا کیا جائے

ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1978 میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1984 میں رائل کالج آف اوبسٹریٹیشن اور گائنو کالوجسٹ سے ایم آرسی او جی کی ڈگری حاصل کی جو کہ دنیا میں اس شعبے میں گولڈ سٹینڈرڈ مانی جاتی ہے۔ اس ڈگری کے حاصل کرنے کے دس سال بعد انہیں ایف آر سی او جی کا اعزازی ٹائیٹل ملا جو کہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے شعبے میں ریسرچ کرنے، پڑھنے،

Read more

نواز شریف کی میدان سیاست میں واپسی (2)

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9 اپریل 1981ء کو پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا وہ گزشتہ 40 سال سے ملکی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں میاں نواز شریف کی 40 سالہ سیاسی زندگی میں جہاں تخت کی رعنائیاں شامل ہیں وہاں قید و بند کی صعوبتوں اور جلاوطنی بھی ان کی سیاسی زندگی کا حصہ ہے نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن

Read more

ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہے

ہر بات کی طرح ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم بھارت کی بے شرمی اور ڈھٹائی کی کوئی حد نہیں ہے۔ جب بھی بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔ اس ضمن میں وہ کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی اس کا یہی چلن تھا۔ آج بھی اس کا یہی وتیرہ ہے۔ پہلگام میں ہونے والی دہشت

Read more

اپریل انقلاب: جس کے رد کے لئے پاکستان کو جدید ترین اسلحہ اور 5 ارب ڈالرز ملے

اپریل یا ثور انقلاب 27 اپریل 1978 میں نور محمد تراکئی اور حفیظ اللہ امین کی رہنمائی میں برپا ہوا جس نے افغانستان کی معیشت اور سماج کو نئے سرے سے بیان کیا۔ نور محمد تراکئی کسی پہلو سے بھی اتاترک یا لینن سے کچھ مختلف نہ تھے مگر نئی افغانی تاریخ میں ثور انقلاب اور تراکئی کا نام اسی طرح ختم کیا جا رہا ہے جیسے مودی نے مغلوں کا، پاکستان نے مقامی سکھوں اور ہندوؤں کا، اور ہمارے

Read more

پاکستان اور بھارت کے لیڈروں میں بیان بازی کا مقابلہ

لگتا ہے کہ پہلگام سانحہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے لیڈروں کے درمیان بیان بازی کا مقابلہ ہو رہا ہے اور وہ اشتعال انگیز بیانات سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ موقف متناسب اور معقول ہے کہ اگر ہمسایہ ملک کو پاکستان پر شبہ ہے تو کسی غیر جانبدار فورم سے اس واقعہ کی تحقیقات کرا لی جائیں۔ پاکستان اس میں تعاون کرے گا۔ شہباز

Read more

کینال منصوبے کے خلاف ببرلو دھرنا

جب ہم کراچی سے ببرلو بائی پاس کے لیے نکلے تو ایک بدلا ہوا سندھ ملا، جہاں ایک حوصلہ تھا، ہمت تھی، غصہ تھا، مرمٹنے کا جذبہ تھا۔ پہلا اسٹاپ جس ہوٹل پر کیا، یہ ایک چین کا ہوٹل تھا جو ہر وقت کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں مگر اس دن ہوٹل کے صحن، ہالز اور پھٹے خالی تھے۔ محض اکا دکا لوگ ہی نظر آئے، کسی ہم سفر نے بتایا کہ ہوٹل چین کا مالک پیپلز پارٹی کا ایم

Read more

طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔ خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

قصہ ڈاکٹر ہارون اور ان کے آشرم کا

                                    پروفیسر ہارون احمد صاحب سے پہلی ملاقات ایک کالج کے طالبعلم کی حیثیت سے لگ بھگ 4 دہائیوں قبل ہوئی، 80 کی دہائی، ملک بھر میں جنرل ضیاء کے آمرانہ دور کی سیاہ پرچھائیاں قومی تشخص پر مذہبی جماعتوں، افغان جہاد کی جنونیت اور ریاستی جبر کے تسلط کا ماسک چڑھانے کی کوششیں، معاشرے کے گرد گھٹن کے جالے جنھوں نے تعلیمی

Read more

ذہانت پر ”دیدہ وروں“ کی اجارہ داری

سیاست کے بارے میں ان دنوں ایک لفظ لکھنے کو بھی دل مائل نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جسے 1970 ء کی دہائی سے ”سیاست“ سمجھتا رہا وطن عزیز میں عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔ 1980 ء کی دہائی کے وسط میں جنرل ضیاء نے حبیب جالب کے بتائے ”یہ جو دس کروڑ ہیں۔ جہل کا نچوڑ ہیں“ یعنی گلی محلوں میں رینگتے ”عوام“ کے منتخب نمائندوں کو غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں اقتدار و

Read more

نہروں کے خلاف احتجاج اور پیپلز پارٹی

گزشتہ چھ ماہ سے سندھ کے عوام غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر دریائے سندھ پر تعمیر کی جانے والی نہروں کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ان احتجاجات میں سندھ کے ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 80 فیصد افراد ایسے ہیں جن کے پاس ایک ایکڑ بھی زرعی زمین نہیں ہے، مگر وہ غیرت اور حمیت سے بھرپور ہو کر اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ دریائے سندھ پر کوئی

Read more

جنگل میں رات اور خواب کی تھکن

بہار اس برس کچھ عجب رنگ سے آئی ہے۔ مارچ کٹ گیا اور اپریل گزرنے کو ہے۔ شاخوں پر جہاں تہاں پتے تو نکلے مگر ہوا میں بہار کی خوشبو نہیں لہرائی۔ آسمان پر اس دھانی چادر نے اپنا جادو نہیں دکھایا جو جاڑے کی کاٹ دار ٹھنڈک اور گرما کی جھلسا دینے والی تپش میں چند ہفتوں کے لئے خوشی بن کر گلیوں، بستیوں، کھیتوں اور میدانوں پر اترتی تھی۔ موسموں کے شناور بتا رہے ہیں کہ کرہ ارض

Read more

کیا بھٹو کے دادا نے ہندو مختیار کار کو قتل کیا؟

تحریر و تحقیق: علی بھٹو ترجمہ و تدوین: اسرار ایوبی 2 نومبر 1896 کو وڈیرہ غلام مرتضیٰ بھٹو، جو بعد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دادا بنے، صبح 7 بج کر 35 منٹ پر نوڈیرو سے لاڑکانہ جانے والی ریل گاڑی پر سوار ہوئے۔ یہ نوجوان وڈیرہ دودا خان بھٹو کا پوتا تھا، جو بالائی سندھ کے سرحدی ضلع کا سب سے بڑا زمیندار اور شکارپور کلکٹریٹ کے ممتاز ترین افراد میں شامل تھا۔ اسی صبح،

Read more

بلوچستان پر خاموشی آخر کب تک؟

جعفر ایکسپریس پر ہوئے حملے کے بعد سے بلوچستان کے بارے میں لکھنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑتا ہے۔ وجہ اس کی ریاست یا انتہا پسندوں کا خوف نہیں۔ ذہن کو مفلوج بنانے کا سبب دونوں فریقین کا تعصب ہے۔ ریاست کے طاقتور ادارے بلوچستان کے ہر مسئلہ کی وجہ فقط بیرونی مداخلت اور سازش کو ٹھہراتے ہیں۔ مقصد جس کا قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبے کی چین جیسے دوستوں کی مدد سے ترقی اور خوشحالی کو روکنا ہے۔

Read more

معنی کی تلاش۔ بدعت اور انحراف کی مثال

اُردو افسانے کی روایت کو سوا صدی گزر چکی ہے۔ اس دورانیے میں اِس صنف نے کئی رجحانات سے استفادہ کیا اور خود کو بدلتے تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رکھا۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اس فن کو صحیح معنوں میں برتا اور ایسے افسانے تخلیق کیے جن کو عالمی ادب کے رو برو رکھا جا سکتا ہے۔ اردو افسانے کے ترقی پسند دور کو افسانے کے زریں دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا،

Read more

بلاول کا اعلان جنگ: کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے؟

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اس اعلان کو موجودہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ سمجھنا چاہیے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت فوری طور پر یہ متنازع منصوبہ واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی اس کے ساتھ نہیں چلے سکے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے اور کیا ’وفاقی حکومت‘ واقعی اس کینال منصوبے

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں!

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا

Read more

دس اپریل اور حسنِ اتفاق

دو دن قبل 10 اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10 اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت

Read more

کیا جلسے الیکشن جتوانے کی ضمانت ہوتے ہیں؟

پاکستانی سیاست میں جلسوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ رنگ برنگے جھنڈے، گونجتے نعرے، قائدین کی پُرجوش تقاریر، اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ یہ سب کچھ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے فتح کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ لیکن جب اصل میدان یعنی بیلٹ بکس کھلتے ہیں، تو اکثر وہی ہجوم خاموش ہو جاتا ہے، اور نتیجہ حیران کن نکلتا ہے۔ تو سوال یہ ہے : کیا جلسے واقعی الیکشن جتوانے کی ضمانت ہوتے ہیں؟ حقیقت

Read more

ہائی سکول میں داخلہ

چھٹی جماعت میں ایک تو انگریزی کا نیا مضمون شروع ہوا تھا اور دوسرا عربی، فارسی اور ڈرائنگ تینوں مضامین میں سے ایک رکھنا تھا۔ میں نے ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے عربی زبان سیکھنے کو باقی دونوں مضامین پر ترجیح دی۔ ہمارے کلاس انچارج خوشی محمد صاحب پریاں والے تھے۔ پریاں والا اُن کے گاؤں کا نام تھا۔ جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی اور اُردو کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی محنتی اور سنجیدہ

Read more

قوم پرست سیاست ناکامی کے محرکات

پاکستان میں قوم پرستی کی سیاست کی بڑی پرانی تاریخ رہی ہے اس سیاست کا محور زیادہ تر وہ علاقے رہے ہیں جہاں کے لوگوں کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی محرومیوں کا سامنا رہا ہے جیسے بنگال، بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور کسی حد تک جنوبی پنجاب کا علاقہ شامل ہے۔ نیپ کا قیام 1957 میں سامنے آیا جب پشتون، بلوچ، بنگالی اور سندھی بائیں بازو کے سوشلسٹ، ترقی پسند اور قوم پرست رہنماؤں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی

Read more

بلوچستان میں بد امنی کے اسباب اور حل

بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، ترقی کے لحاظ سے باقی ملک سے کافی پیچھے ہے۔ یہاں کے عوام طویل عرصے سے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام قابل ذکر عوامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کی سیاست میں روایتی قبائلی نظام کا گہرا اثر رہا ہے۔ یہاں کے سردار اور نواب تاریخی طور پر طاقت کے مراکز

Read more

پاکستان میں صنفی مساوات: مستقل چیلنجز اور پیش رفت

پاکستان میں صنفی مساوات کی جانب سفر نے کئی مستقل چیلنجز اور کچھ پیش رفت دیکھی ہے۔ صنفی تفاوت کی ایک اہم وجہ معاشرتی صنفی اقدار ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر مردوں کو خاندان کا کفیل تصور کیا جاتا ہے جبکہ خواتین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر میں رہیں اور بچوں اور خاندان کے بزرگوں کی دیکھ بھال کریں، اور یہ سارا کام وہ بغیر کسی داد و تحسین یا معاوضے کے انجام دیتی ہیں۔

Read more

اوجڑی کیمپ واقعہ

ایک واقعہ سر زمین پاکستان پر 10 اپریل 1988 بروز اتوار نو بج کر پچاس منٹ کو ہوا۔ یہ واقعہ راولپنڈی اور اسلام کے سنگم پر فیض آباد میں ہوا۔ جسے اوجڑی کیمپ حادثہ یا واقعہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ فیض آباد میں اوجڑی کیمپ کے اندر اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے باعث بم پھٹنے لگے۔ اسلحہ ڈپو کے اندر مزائل، راکٹ لانچرز بارود کا بڑا ذخیرہ تھا۔ جس میں

Read more

بڑا کم ظرف تھا جو کر گیا ویراں شاموں کو

30 نومبر 1967 کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوان احمد رضا قصوری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان کے خاندان نے 1970 سے پہلے کبھی کسی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیتا تھا۔ 7 دسمبر 1970 کو پاکستان کے پہلے اور تباہ کن عام انتخابات میں احمد رضا قصوری بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن کچھ عرصے بعد اپنے مزاج کی

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے

Read more

بیرسٹر عبدالحمید بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے

امیر جعفری کا جب پیغام آیا کہ ہمارے مشترکہ دوست بیرسٹر بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے تو میں چند لمحوں کے لیے ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا اور میرے ذہن کے نہاں خانوں میں چند یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں مجھے وہ شام یاد ہے جب میرے کامریڈ دوست سید عظیم نے مجھ سے کہا تھا "میں ایک وکیل دوست سے ملنے گیا تھا۔ ان کا نام عبدالحمید بھاشانی ہے۔ میں سمجھا تھا وہ کمیونسٹ ہوں

Read more

سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر

ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا

Read more

ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان

پاکستان کی سیاست کا المیہ ہے۔ انتقام کی سیاست ایک دوسرے کا وجود ہی ختم کرنے کی کوشش میں اپنا بھی سب کچھ اس آگ میں بھسم کر دیتی ہے جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ ”میں نہیں تو کچھ بھی نہیں“ تو پھر سیاسی نظام کا تلپٹ ہوجانا غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ اقتدار پر قبضہ کرنے اور سیاسی مخالف کو اقتدار سے نکالنے کے لئے ہر حربہ کو جائز تصور کر لیا جائے اور بات ”قبر“ ایک

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزیر اعظم میں بہ لحاظ عہدہ جس زریں جرنیل کو فوج کا سربراہ بنایا اسی ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو اس کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی ایک سازش کے تحت آج ہی کی طرح تقریباً ساری سیاسی جماعتیں پی پی کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل کر ضیائی مارشل کی حمایت کی تھی، مٹھائیاں بانٹیں

Read more

حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928

Read more

نئی نہروں کے سوال پر بڑھتا تنازع

’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت چولستان میں نہر نکالنے کے سوال پر سندھ میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد اب پیپلز پارٹی بھی ’سندھو پر دریا نامنظور‘ کا نعرہ لگا کر نہروں کے نئے منصوبے کے خلاف اعلان جنگ کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ وفاق کے حامی ہیں لیکن سندھ کو اس کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں

Read more

شہید ذوالفقار علی بھٹو – ایک عہد ساز شخصیت

ذوالفقار علی بھٹو کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر درج ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی۔ 4 اپریل 1979 کو انہیں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا، لیکن ان کے نظریات اور خدمات آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی برسی نہ صرف ان کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ایک سحر انگیز شخصیت ذاتی قابلیت

Read more

4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا

Read more

جو قتل ہوا، وہ زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ میں مخلوق خدا، مسلمانوں اور پھر ان دونوں میں موجود اکثریتی تعداد یعنی غریب، کمزور، بے بس، مقہور، مظلوم، بدبختیوں کے شکار انسانوں کے مایوس صحرا میں ان کے لئے صدائے ایمان و یقین، صدائے عزم و جہد، صدائے وقار و احترام بن کے ابھرا، گونجا، چمکا، تھرتھرایا، لوگوں نے اسے جئے بھٹو کے جھنکار آمیز نعروں کی یلغار میں کندھوں پہ اٹھا کے اعلان کیا، ہم ذلت کے مارے لوگوں کی صف میں

Read more

مسائل میں سلگتا پاکستان اور نواز شریف کی خود ستائی

بلوچستان میں احتجاج اور لانگ مارچ کیے جا رہے ہیں، فوجی قیادت ہر قسم کی دہشت گردی اور غیر ملکی پراکسی گروہوں کو ختم کرنے کا عزم کر رہی ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کر کے ملک کی بیمار معیشت کے لیے نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے تاہم حکمران مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کو شہباز شریف کی صورت میں ایسا لیڈر دکھائی دیتا ہے جو ملک کو

Read more

اپنی زنجیریں ہمیں خود توڑنا ہوں گی

پاکستان جیسے ملک کبھی ’’تیسری دنیا‘‘ کا حصہ تصور ہوتے تھے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں تقریباََ اکثریت کی حامل یہ دنیا خود کو سرمایہ دار اور کمیونسٹ کیمپوں سے الگ سمجھتی تھی۔ سامراج کی غلامی سے آزادی کے بعد بھی لیکن ان ممالک کی حکمران اشرافیہ کو سرد جنگ کے دوران مذکورہ بالا کیمپوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ضروری تھا۔ یہ ساتھ ملک میں ’’استحکام اور خوشحالی‘‘ کی خاطر جائز ٹھہرایا جاتا۔ ہماری حکمران اشرافیہ

Read more

’بھٹو کی پھانسی‘ : ٹونی عثمان کا نیا اسٹیج ڈرامہ

پاکستانی نارویجئن ڈائریکٹر، کہانی نویس اور اداکار ٹونی عثمان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بارے میں اسی عنوان سے ایک اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے والے ہیں۔ پروگرام کے مطابق اس ڈرامہ کا پریمیم 9 اکتوبر کو اوسلو کے ایک تھیٹر میں ہو گا۔ 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ’کاروان‘ نے بھٹو کو سزائے موت کے موضوع اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے کے حوالے سے ٹونی عثمان سے بات

Read more

متنازع کینالز کے خلاف سندھ میں احتجاج، قیادت کون کر رہا ہے؟

سندھ میں احتجاجی تحریک کون چلا رہا ہے؟ پیپلز پارٹی اتنی دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیوں ہو گئی ہے؟ اس کا کس طرح سے حل نکالا جا سکتا ہے؟ ملک کے بڑے بڑے تجزیہ کار جب اپنی رائے دیتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف لگتا ہے کہ وہ سندھ کی زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے پیر پگارا کی فنکشنل لیگ اس احتجاج کو لیڈ کر رہی ہے، کوئی جی ڈی اے میں شامل

Read more

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال (آخری قسط)

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر حکومت پنجاب کی جانب سے شائع ہونے والے سپلیمنٹ نے اپوزیشن کو تنقید کا موقع مل گیا دیدہ زیب سپلیمنٹ کے ہر صفحہ پر مریم نواز کی بڑی تصویر بھی اپوزیشن کی آنکھوں میں چبھتی تھی۔ اگر ہر صفحہ پر مریم نواز کی تصاویر کی بجائے پراجیکٹس بارے میں مواد و تصاویر شائع کی جاتیں تو یہ ”کاؤنٹر پروڈکٹو“ نہ ہوتا مریم نواز اب سوشل میڈیا پر کسی مہم کی

Read more

عوام ناخواندہ ہو سکتے ہیں جاہل نہیں

” پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اس میں نئی بات کیا ہے ؔ؟“ جب یہ طنزیہ جملہ، بڑے پیمانے پر لکھا، بولا اور سنا جانے لگے تو اس سے لطف لینے کی بجائے اپنی لاچارگی پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس طرح کی کڑوی اور زہر میں بجھی باتیں مفلس عوام کم، دانشور، متوسط و خوش حال طبقات کے لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں سے جب ملک کے اس حال تک پہنچنے کا سبب

Read more

ذوالفقار علی بھٹو اور نشانِ پاکستان

وطن عزیز پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہیں جن کی سیاست سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی سیاست نہ صرف ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ انہوں نے پاکستانی سیاست پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کے آج بھی پاکستانی سیاست میں ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانی سپریم کورٹ نے ذوالفقار

Read more

شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات

پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ

Read more

جمہوری شین قاف اور آمریت کا لام کاف

23 مارچ کو یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب سے حسب روایت سربراہ مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ کل بارہ منٹ کی تحریری تقریر پڑھنے میں ایک دو جگہ پر انہیں الفاظ کی ادائیگی میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس بے معنی قضیے کو لے کر سوشل میڈیا پر بیٹھے انقلابی چوزوں نے ہڑبونگ مچا رکھی ہے۔ پاک پتن کی جامعہ ’رحونیت‘ میں ہوش و خرد کا زر خالص ادا کر کے بے سمت دیوانگی کا سودا کرنے والا

Read more

بلاول بھٹو کی نامکمل تجویز اور قومی یکجہتی

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے خلاف قومی یک جہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف سے قومی سلامتی کمیٹی کا نیا اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس خواہ ایک ماہ بعد ہی منعقد ہو لیکن کوشش کی جائے کہ اس میں سب سیاسی پارٹیاں شریک ہوں تاکہ قومی افہام و تفہیم سے تشدد کے

Read more

نئے کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی۔

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

پاکستان کی کہانی، ایک تصویر کی زبانی

پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پاکستانیوں نے یوم قرار داد پاکستان جوش و خروش سے منایا۔ صدر مملکت آصف زرداری نے ایوان صدر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی پالیسی کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا۔ اگرچہ صدر زرداری کو تقریر پڑھنے میں اور سننے والوں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ اس ضعف اور لکنت کی وجہ سے بجا طور سے یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ کیا معذوری

Read more

23 مارچ

گزشتہ کچھ دنوں سے! نہیں ہفتوں سے طبیعت ویسی نہیں جیسی کہ ہوتی تھی یا ہونی چاہیے۔ اس میں طبیعت کا کوئی قصور نہیں غلطی یا غلطیاں ساری کی ساری ہماری خود کی ہیں۔ 99 ٹمپریچر کو دنوں خاطر میں نہ لانا۔ 100 یا اس سے اوپر ہو تو دو پیناڈول کھا کے نامعلوم فتوحات کے لئے گھر سے نکل پڑنا۔ آخری بار گھر سے 8 مارچ کی شام اپنے بچوں جیسی فے فے کے جنم دن کی بدھائی دینے

Read more

سودائی شاعر: نصیر کوی

ایک کھوکھے پہ ٹھنڈی بوتلیں بیچنے والے شخص کی سیاسی اور سماجی فراست اہم دانشوروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اس سادہ شخص کے حلیے اور کھوکھے کو دیکھ کر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا کہ اس جسم کے اندر قومی جذبے دہکتے اور آنکھوں کے پیچھے رومانی خواب مچلتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والے اشعار مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں اور اسے تنویمی کیفیت میں لے آتے ہیں۔ وہ ایک شعر پڑھتا ہے اور

Read more

صدمہ جاریہ: لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

”خفیہ اداروں کا اصل کام، سرحدوں کا تحفظ اور دہشت گردی سے بچاؤ ہے۔ اگر وہ پولیٹیکل انجینئرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ میری اپنے بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی۔ جیل مینوئل کے مطابق اپنی بیوی سے نہیں ملایا جا رہا۔“ عمران خان کے بیان کا یہ اقتباس گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ جس ہیرے کو نہایت ہُنرمندی سے تراشا گیا اور 25 جولائی 2018

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

وفاداری بشرط استواری

ہمارے بچپن کی یادوں میں پرائمری جماعت کے درس عمر کے کسی حصے میں بھی فراموش نہیں ہوتے، ان نصابی اسباق میں اکثر سماجی برائیوں کے نقصانات کو سبق یا کہانی کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا، ہمیں سبق کے ذریعے دھوکہ دہی اور جھوٹ کی لعنت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ ہمارے اندر سماجی تہذیب و شائستگی کے ساتھ سماج کے برتاؤ میں ایماندار رہنے پر ترجیح دی جائے اور ہمیں جھوٹ اور دھوکہ

Read more

شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

تحریک نظام مصطفیٰ کا شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس

21 مارچ 1977 کو پنجاب کے تاریخی شہر کمالیہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرم ناک مگر شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد بنا رکھی ہیں، لہذا وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آسانی سے یہ انتخابات جیت

Read more

بلوچستان میں سیاسی مذاکرات کی تاریخ اور انجام

سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں موجود علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دو نظریات پر بہت زوروشور سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جایا جائے اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہے۔ یہ دونوں نظریات نئے نہیں ہیں کیونکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی شروع کروا دیا گیا تھا۔

Read more

روایتی صحافت کی تباہی

امریکی صدر ٹرمپ نے بالآخر ’’وائس آف امریکہ‘‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے واشنگٹن میں موجود دفاتر کو تالے لگا کر ملازمین کو فی الوقت دو ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے بے تحاشہ ممالک میں صحافی ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار ہوں گے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وائس آف امریکہ کی بندش دنیا میں صحافت کے شعبے

Read more

کیا ہم نئی سوچ کو اپنانے کے لیے تیار ہیں؟

پاکستان کو اپنی تاریخ کے بد ترین معاشی بحران پر قابو پانے کا امتحان درپیش ہے۔ معاشی تنزلی کے رکنے پر بحالی کا مرحلہ آئے گا جس کے بعد ترقی کی شرح میں اضافے کی کوئی امید پیدا ہو گی۔ ان مشکل حالات میں دہشت گرد حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ کا خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ملک بالخصوص، پچھلے چھیالیس سالوں سے جن حالات سے گزر رہا ہے موجودہ معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی

Read more

مولانا کوثر نیازی

ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا

Read more

عمران خان اقتدار میں آ بھی گیا تو؟

بہاول پور شہر میں 15 مارچ 2025 کو ریڑھیوں ٹھیلوں پہ آلو تیس روپے، خشک پیاز چالیس روپے اور تازہ خشک لہسن دو سو روپے کلو بک رہا تھا لیکن شہر کی مشہور بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پہ ”خود ساختہ اہلِ ایمان“ آلو والا سموسہ روزہ دار عوام کو فی عدد چالیس روپے کا بیچ رہے تھے جبکہ ریجن کا کسان رو رہا تھا کہ گندم کا مناسب ریٹ نہ ملنے سے اس نے تو بحران کا سامنا کیا

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار ( 4 )

کسی قوم میں تعلیمی صورتحال نہ صرف اس کی معیشت سے جڑی ہے بلکہ سیاسی اور تمدنی ارتقا بھی علمی معیار اور تعلیم کے پھیلاؤ سے متعین ہوتا ہے۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں مقامی باشندوں کے لیے جدید تعلیم کی آواز 19 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں راجہ رام موہن رائے نے اٹھائی۔ عین اس وقت جب برطانوی حکومت فورٹ ولیم کالج قائم کر رہی تھی، رام موہن رائے نے قدیم علوم کے احیا کی بجائے جدید علوم بالخصوص

Read more

جیل بیتی۔4

میرے کچھ صاحبِ ذوق دوستوں نے ان مضامین کے سلسلے کی پہلی قسط میں راجہ انور کی کتابوں پر کچھ ایسے تبصرے کیے کہ مجھے ایک بار پھر پیچھے لوٹ کر انہی دو کتابوں کا مزید ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔ ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں راجہ انور نے کتاب کے آخری حصے میں ان بنیادی اراکین پی پی پی کا ذکر کیا ہے جن میں سے کچھ کو بدلتی رتوں نے پارٹی سے جدا کر دیا اور

Read more

پاکستانی سیاست کا المیہ: حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی

میں آج تک سیاست پر رقم طراز نہیں ہوا۔ ہمیشہ مسائل پر بات کی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کا ایک پہلو نہایت اہم ہے جس پر بات کرنا بے حد ضروری ہے جس کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوا۔ ہمارے ہاں سیاسی شخصیات کا سفر جمہوری اقدار کی بنا پر طے پاتا ہے، ان کی جدوجہد جمہوری ہوتی ہے۔ لیکن یہ شاذ و نادر ہی دیکھا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی عوام کے ووٹوں

Read more

عوامی گورنر“ پر تبصرہ”

  (نوائے وقت مورخہ 12 مارچ 2025 میں مطبوعہ ”میاں حبیب“ کا کالم ”سپیڈ بریکر“ اور اس میں ”عوامی گورنر“ کی چاپلوسی) پاکستانی سیاسی تاریخ میں چاپلوسی پر ایک باب تحریر کیا جائے گا تو اس کے مندرجات ساری پاکستانی تاریخ پر بھاری ہوں گے۔ جب جنگ عظیم دوئم کے دوران جرمنی کے آمر کو فیوہرر یعنی قائد کا لقب دیا گیا تو اس کے ساتھ اس کی پرستش کا بھی سلسلہ شروع ہوا جس سے بر صغیر کے سیاسی

Read more

پاکستان کی بقا بلوچستان سے جڑی ہے

نوروز خان 1860 کے آخر یا 1870 کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بلوچی بلوچستان کے زرکزئی قبیلے سے تھا جسے زہری بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا علاقہ چار شاہی ریاستوں قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران پر مشتمل تھا۔ یہ ریاستیں کبھی افغانیوں، کبھی ایرانیوں اور کبھی دہلی کے حکمرانوں کی مطیع رہیں۔ 1875 یعنی نوروز خان کی پیدائش تک اس علاقے میں امن تھا۔ 1875 میں برطانوی راج کی نظر جیسے ہی اس وسیع علاقے پر پڑی

Read more

ایڈورڈز کالج پر حکومتی قبضہ اور اقلیتوں میں تشویش

ایڈورڈز کالج پشاور کا مسئلہ خاص طور پر پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، جو اس ادارے کو اپنے تعلیمی اور مذہبی ورثے کی بنیاد کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے گورنر خیبر پختونخوا (کے پی) کی جانب سے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے حوالے سے حالیہ نوٹیفکیشن نے ان خدشات میں شدت پیدا کر دی ہے کہ کالج کو زبردستی حکومتی کنٹرول کا نشانہ

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (3)

تمہید میں ایک حرف تشکر واجب ہے۔ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت میں مغربی پاکستان کے 16اخبارات میں مشترکہ اداریے کا ذکر آیا تھا۔ برادر گرامی امجد سلیم علوی نے متعلقہ ریکارڈ سے نہ صرف ان سات اخبارات کی فہرست عنایت کی جنہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر حکومت پنجاب سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ 16 مئی 1949 کو روز

Read more

شہاب نامہ پر ایک اعتراض کے جواب میں

شہاب نامہ کا بار اول یعنی پہلا ایڈیشن سن 1987 کے ماہ اگست میں اور دوسرا اسی سال میں اس کے ایک ماہ بعد ۔ اگر ساحر لدھیانوی کی تلخیاں شاعری کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے تو شہاب نامہ کو ایسی ہی فوقیت اردو سوانح عمری کے باب میں حاصل ہے۔ کتاب کی اشاعت سے کئی برس پہلے اس کے ابواب سیارہ ڈائجسٹ میں چھپا کرتے تھے اور شاید ان میں کچھ اسلام آباد کی ایک

Read more

چیئرمین سینٹ کی رولنگ،”سانپ کے منہ میں چھچھوندر”

یہ کالم جب انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں پر پوسٹ ہو جائے تو اس کے نیچے عموماََ عاشقان عمران کی گالیاں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ گالی دینے سے پرہیز کے عادی پرانی وضع کے اس صحافی کو صرف یاد دلانے پر اکتفا کرتے ہیں کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ میرا فرسودہ اور مفلوج ہوا ذہن عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کی وجہ سے بدلتے وقت کی ضروریات اور حرکیات سمجھنے کے قابل نہیں رہا۔ بہتر یہی ہے

Read more

کریں گے اھل نظر تازہ بستیاں آباد

ازل سے کائنات میں پانی انسانی زندگی کی ضمانت رھا، اگرچہ طوفان نوح نے سلسلہء زیست کو درپیش اس مہلک خطرے سے بہت عرصہ پہلے ھی آگاہ کردیا تھا مگر ناگزیر شرط زندگی کے طور پر یہ ترجیحات انسانی میں اولیں اور تابع ضرورت رھا. اور موسموں کی شدت کے ساتھ کم یا زیادہ بادوباراں کے نتیجے میں خُشک سالی اور سیلاب دونوں کو مشیتِ ایزدی سمجھتے ھوئے نبھایا گیا۔ اکیسویں صدی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے حجم،

Read more

جدید معاشرہ اور صنفی امتیازات

دینِ اسلام میں کوئی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ علمائے اسلام کا خیال ہے کہ امورِ سلطنت کی نظامت مرد کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا اس لیے کہ عورت میں کچھ طبعی کمزوریاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ شرعی حدود ہیں جس کے باعث وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ مجالس و تقریبات میں شامل نہیں ہو سکتی۔ کچھ علما نے تو پیغمبرِ اسلام کی حدیث بھی پیش کی ہے کہ وہ

Read more

دہشت گردی کا عفریت:ہر ایک سمت موت ہی رقصاں ہے دوستو!

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے مصطفی خان شیفتہ کا یہ شعر ایسے بے نفسوں کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ بے غرض لوگ کیسے اہل غرض کو شرمندہ کر دیتے ہیں ایسی مثالیں تاریخ میں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک سے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر 1970 ء کے انتخابات میں اجمل خٹک کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1973

Read more

نئی کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ اریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ

گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران

Read more

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال ( 1 )

8 فروری 2024 ء کے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپوزیشن کے ایجی ٹیشن، مظاہروں، اور ہنگامہ آرائی کے باوجود چل رہی ہیں۔ پی ٹی کی طرف سے ایجی ٹیشن کے نتیجے میں وفاقی حکومت گری ہے اور نہ ہی پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کے لئے کوئی مشکل صورت حال پیدا ہوئی ہے جہاں تک کے پی میں علی امین گنڈاپور کی حکومت کا تعلق ہے ایک سال کے دوران دو تین

Read more

تشدد کی نئی لہر کا محرک کون ہے؟

پچھلے 45 سال سے دو بڑی افغان جنگوں کے دوران جہادی کارکنوں کے سرچشمہ کی حیثیت رکھنے والے دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ میں خودکش دھماکہ میں ممتاز عالم دین مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد کی شہادت بڑی پالیسی شفٹ کا شاخسانہ دکھائی دیتی ہے۔ چار دہائیوں پہ محیط عالمی طاقتوں کی ”گریٹ گیم وار فیئر“ کے دوران مدرسہ حقانیہ ہمارے نیشنل سیکورٹی بیانیہ کا نقاب ابہام ہونے کی وجہ سے خاصی اہمیت کا حامل رہا چنانچہ جامعہ حقانیہ تک خود

Read more

جیل بیتی۔ 3

”غبارِ خاطر“ اور ”محاسنِ کلامِ غالب“ پہ کیے گئے کچھ شوخ تبصروں کے حوالے سے یاد آیا کہ ڈگر سے ہٹ کے کہی گئی بات کتنی بھی دل کو لبھانے والی کیوں نہ ہو، کم ہی سراہی جاتی ہے۔ جیسے عبدالحمید عدم کا یہ کہنا کہ غالب وہ شاعر ہیں جن کے دیوان کا پہلا ہی شعر مہمل ہے۔ اس کی جو تشریح انہوں نے خود کر رکھی ہے وہ بھی تحقیق سے کھری ثابت نہیں ہوتی۔ ایران کی تاریخ

Read more

پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی روایت

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے بولنے اور سننے کا ہنر بھی عطا کیا، بولنے اور سننے کا تعلق کسی نہ کسی زبان سے ہوتا ہے جو ہر انسان بولتا یا سنتا ہے، کرہ ارض پر اس وقت اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں زبانیں لازمی بولی جاتی ہیں، کچھ زبانوں کو بولنے والے دستیاب نہیں رہے تو وہ معدوم ہو چکیں، کچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں سیکھنے

Read more

بھٹو کی مقبولیت کے اسباب – ڈاکٹر مہدی حسن کی یادداشتیں

65ء کی جنگ کے دوران قوم کی قوت مزاحمت سے ڈاکٹر مبشر حسن بہت متاثر ہوئے۔ 66ء میں اپنے ہاں انہوں نے ماہانہ میٹنگ شروع کی، جس میں وکلاء، صحافی اور سیاستدان شریک ہوتے۔ میں بھی وہاں باقاعدگی سے جاتا۔ میں ان سے کہتا، آپ جس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ سب میں اسکول کالج کے زمانے میں ٹک شاپ میں کرتا تھا، اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، موجودہ پارٹیوں میں مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں،

Read more

ڈاکٹر مہدی بہاراں پہ خاک ڈال گئے

23 فروری 2022 کی دوپہر عین اس گھڑی جب اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان میں اظہار کی آزادی پر تازہ ترین ریاستی حملے پیکا (PECA) کے سیکشن 20 پر عمل درآمد روک رہی تھی، لاہور کی ایک نواحی بستی میں صحافت کی آزادی کے ایک بہادر سپاہی ڈاکٹر مہدی حسن نیند کے عالم میں بغیر آہٹ کیے ابدی نیند کی وادی میں اتر گئے۔ ٹھیک ساٹھ برس پہلے 24 سالہ مہدی حسن ایوب آمریت کے خلاف ایک مضمون لکھنے کی

Read more

پھانسی، ڈنڈے اور تھپڑ کی ثقافت

2018 ءکا برس تھا۔ سیاسی بندوبست کی کیفیت محمد حسن عسکری کی اس بڑھیا جیسی تھی جس نے کہا تھا۔ ’ارے بھائی، پاکستان کیا ہے۔ بس مسلمانوں نے اپنے رہنے کے لیے کچا گھر بنا لیا ہے‘ ۔ یہ بڑھیا اگر جیتی رہتی تو دیکھ لیتی کہ اس کچے گھر کے بیچ دیوار اٹھا کردو مکان بنے۔ ہمارے حصے میں تو اتنی دیواریں اٹھیں کہ شمار کرنا تو شاید مشکل ہو، جسے تحقیق مطلوب ہو وہ جی ٹی روڈ پر

Read more

چیف جسٹس کی ’سیاسی‘ ملاقاتیں

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کی سربراہی میں اپوزیشن کے وفود نے یکے بعد دیگرے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بظاہر یہ ملاقاتیں عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے پر مشاورت اور تجاویز لینے کے لیے چیف جسٹس کی درخواست پر کی گئی ہیں۔ لیکن عدالت عظمیٰ کے سربراہ کی سیاسی لیڈروں سے ہونے والی ایسی ملاقاتوں کے ملکی سیاست اور معاملات پر اثرات کو نظر انداز نہیں

Read more

دَورِ حاضر کے "سامراج”۔

روایتی ہو یا سوشل میڈیا۔ ’’صحافت‘‘ کا بنیادی کام ہمارے ہاں ان دنوں محض چسکہ فروشی رہ گیا ہے۔ ٹی وی کے ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کے لئے مختص پروگراموں پر توجہ ڈالیں تو وہ ایک ہی موضوع کے بارے میں فکر مند سنائی دیتے ہیں اور وہ موضوع ہے شیر افضل مروت صاحب کے تحریک انصاف کے چند سرکردہ رہ نمائوں سے اختلافات۔ مذکورہ اختلافات کے نت نئے پہلواجاگر کرتے ہوئے طے یہ کر نے کی بھی کوشش ہورہی ہے کہ

Read more

مریم نواز، جنرل اقبال، راجہ گدھ اور غریب طبقہ

دو تین روز قبل بہاولپور شہر کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کی مرکزی سڑک حسینی چوک تا بہاری کالونی پہ ڈپٹی کمشنر نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں کے سامنے سرکاری جگہ پہ قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ بنگلہ اگر دس مرلہ یا ایک کنال کا تھا تو سامنے گزرتی مرکزی سڑک کے اردگرد کی جگہ جو کہ سو فٹ چوڑی ہے اس کے دونوں اطراف بنگلہ مالکان نے چاردیواری

Read more

"شعور کا بہاؤ” شیخ رشید سے شیر افضل مروت تک

ریٹنگز کے حصول کو بے قرار ٹی وی اینکروں کو ان دنوں شیر افضل مروت ویسے ہی مطلوب ہیں جیسے کسی زمانے میں ’’غریب کی چھت‘‘ کے بارے میں منافقانہ ٹسوے بہانے والے راولپنڈی کے ترجمان عصر ہوا کرتے تھے۔ 2008ء میں کافی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد پیپلز پارٹی چند دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی خاطر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ نے اسے

Read more

روحانی رشتوں میں ملبوس جنسی درندے

پاکستان میں چور وہی ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور کیس کی اندراج سے پہلے مک مکا کر کے خود کو ’باعزت‘ چھڑا نہ سکے، ورنہ یقین کریں، اکثر لوگ سوشل میڈیا پر جن برائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خود بھی انہی برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں، بس موقع نہیں ملتا یا پکڑے نہیں گئے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کے کسی لیکچرار اور پروفیسر (میل فیمیل دونوں ) کے لئے یہ کیا کم ہے، کہ وہ قحط النساء پر

Read more

سر سکندر حیات خان آف واہ سے سردار سکندر حیات تک

قیام پاکستان سے قبل کی سیاست کے ایک اہم سرخیل متحدہ پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر و پہلے مسلمان وزیر اعظم سر سکندر حیات خان مرحوم آف واہ کے پوتے، ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے دو مرتبہ 1988 اور 1993 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور 1993 میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات رہنے والے سردار سکندر حیات خان کی چند ماہ بیشتر 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو لاہور میں رحلت سے پنجاب کی سیاست سے

Read more

”سیاسی عدمِ استحکام“ کا تصوراتی بیانیہ!

اپریل 2022 سے اَب تک، پی۔ ٹی۔ آئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہوا نہ روایتی عدمِ استحکام کا کوئی ایسا بھونچال آیا کہ دَرودِیوار لرز اٹھتے اور نظمِ حکومت کو سنبھالے رکھنا مشکل ہوجاتا۔ البتہ پی۔ ٹی۔ آئی کی اپنی کشتی بَرمودا تکون کے خونیں جبڑوں تک آن پہنچی ہے۔ چوبی تختے چرچرا رہے ہیں، بادبان دھجیاں ہو رہے ہیں، کشتی کو سنبھالا دینے کے بجائے مسافر ایک دوسرے کو سمندر میں دھکیل

Read more

بیچارے یوکرینی

یہ 37 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کر کے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد یعنی آج سے 36 برس قبل 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ کرنل جنرل بورِس گروموو کر رہے تھے۔

Read more

سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : حصہ اول

تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ شہریوں کے عقائد اور مذہب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ میں آباد مختلف قبائل ویدک سمیت دیگر عقائد جن میں قدرت کے مظاہر سے جڑے اعتقادات جیسے سورج، پانی، آگ وغیرہ کو اپنا خدا ماننے والی آبادیوں پر مشتمل ریاست رہی ہے۔ 268 صدی قبل مسیح میں برصغیر پر موریا شہنشاہ اشوک کے دور حکمرانی کے دوران جس میں آج

Read more