مزاحمت، تخلیق اور سیاسی شعور میں تعلق
کچھ حلقوں میں ان دنوں مزاحمتی ادب کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ غالباً تقاضا یہ ہے کہ ان احباب کے حالیہ سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کی جائے۔ گویا تخلیقی عمل بھی کسی خانہ ساز لیڈر کی میز پر رکھی نیلی پیلی پنسلوں کا فرومایہ ڈھیر ہے جو کسی کاٹھ کے ارطغرل کی خواہش کے تابع حرکت میں آئے اور اس کے کاسہ سر کے خلائے بسیط میں اٹھتے ہذیانی بخارات کو جنبش کلک سے حسب ضرورت خد و
Read more









































































