ڈاک خانے سے کتاب بھیجنے کی روداد
یاد نہیں پڑتا کہ آخری بار ڈاک خانے کب گئے تھے۔ شاید بیس برس تو ہو گئے ہوں گے۔ بلکہ کبھی کبھی تو ان کی ’پرشکوہ‘ عمارات کو دیکھ کر یہ خیال آتا تھا کہ اب آخر ان کا کام ہی کیا رہ گیا ہے؟ خط لکھنا لکھانا کب کا قصہ پارینہ ہوا۔ لوگ ضروری کاغذات اور ساز و سامان نجی کوریئر کمپنیوں سے بھیجتے ہیں جو رفتار و کردار میں اللہ کی برہان لگتی ہیں۔ پھر سر جھٹک کر
Read more














































































