سابقہ فاٹا کی موجودہ صورت حال
سابقہ فاٹا (وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات) میں نائن الیون کے بعد سے اب تک پاکستانی افواج نے دس آپریشن کیے ہیں جس نتیجے میں تقریباً بیس لاکھ لوگوں کو علاقے سے نقل مکانی کرنی پڑی کیونکہ ان گھر، کاروبار، ہاسپیٹلز اور اسکول تباہ ہو گئے۔ اگر صحت کا نظام دیکھا جائے تو وہاں پہ ہر دو ہزار پانچ سو لوگوں کے لیے ایک ہاسپیٹل بیڈ ہے پاکستان کے باقی علاقوں سے موازنہ کرتے ہوئے جہاں ہر سولہ سو لوگوں کے لیے ایک ہاسپیٹل بیڈ دستیاب ہے۔ سابقہ فاٹا میں کم و بیش پانچ ہزار کے قریب سرکاری تعلیمی ادارے فعال ہیں جن میں سے پچھتر فیصد سے زائد پرائمری اسکول ہیں۔
Read more



























































































