’’کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک مفکر یا دانشور کے افکار کو ابدی اور آفاقی بنا کر اسے تنقید سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ عہد وسطیٰ نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائیت میں ڈھال کر ہزار برس تک تعلیم کا حصہ بنا کر نئے خیالات کو روکے رکھا۔ جب اسے چیلنج کیا گیا تو نئے خیالات و افکار امڈ امڈ پڑے۔
پاکستان میں بھی اقبال اور ان کے افکار کو اس ذہن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ہر دور میں معاشرے کی رہنمائی کریں گے۔ اقبال کی پرستش نے نئے نظریات اور افکار کی راہیں بند کر دی ہیں۔ محبوب تابش نے بڑی جرأت کے ساتھ اقبال پر لکھی اپنی کتاب میں اقبال پرستی کو چیلنج کیا ہے اور اس سے سماج کے مختلف شعبوں پر ہونے والے اثرات پر بے لاگ بحث کی ہے۔‘‘
یہ تبصرہ ہے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا محبوب تابش کی کتاب ”اقبال خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“ پر جو اقبال پرستی سے پردے اٹھاتی ایک جامع کتاب ہے۔
Read more