عید پر بیل قربان کرنے پر احمدیوں پر 298 سی کے تحت مقدمہ درج

تھانہ چناب نگر میں بطور سیکیورٹی کانسٹیبل تعینات محمد حسن شہزاد نے الیاس احمد بلوچ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے کہ الیاس جو احمدی ہے، اس نے عید کے دن بیل قربان کیا ہے اور اس نے ایسا کر کے شعائر اسلام کا مذاق اڑایا ہے۔

Read more

لاہور بار ایسوسی ایشن اور قربانی کے بکرے

عید سے دو روز قبل جب ملک میں عید کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ بہت سے لوگ عید کی رخصت پر اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے۔ اکثر لوگ اپنے فرائض سے غافل ہو کر عید منانے اور تکے بنانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت بھی لاہور بار ایسوسی ایشن نے فرض شناسی کی ایک مثال قائم کر دی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری مکرم مدثر بٹ صاحب نے ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب کو ایک

Read more

احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے چوالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔ میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا تو میں نے بھی نہیں۔ مجھے بھی بھٹو صاحب کے ٹیلیفون نے جگایا ہے۔ بھٹو صاحب احمد فراز کے خلاف اِس اشتعال انگیز اداریے پرسخت

Read more

سنا تھا احمدیوں سے تعلق رکھنا حرام ہے

یہ واقعہ بدھ کے روز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دل لاہور میں پیش آیا جس میں برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیاء لارڈ طارق احمد صاحب اور برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر صاحب کی وزیر اعظم جناب عمران خان سمیت پاکستانی حکومت کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات ہوئی۔ ان اعلی عہدیداروں میں شامل جناب شیخ رشید جو مجاہد ختم نبوت بھی کہلاتے ہیں، اس کے علاوہ جناب شاہ محمود قریشی، شیری مزاری صاحبہ وغیرہ شامل تھیں۔ ان چند لمحوں کی ملاقات

Read more

مردہ احمدی بھی ناقبول

پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے باعث تمام اقلیتی برادری کے لیے اپنی سر زمین مزید تنگ ہوتے جا رہی ہے۔ ہندو اور کرسچن برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے ساتھ زبردستی مذہب تبدیل کر کے نکاح کرنا بہت عام ہو چکا ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں اقلیتیں بھی درجہ بندی کے حساب سے جانی جاتی ہیں یعنی ہندوں اور کرسچن برادری کے بعد احمدی برادری پاکستان کی وہ اقلیت ہے جس کا شمار سب سے آخری و بدترین درجہ میں کیا جاتا ہے کیونکہ ان پر ظلم کرنا مذہبی فریضہ بن چکا ہے۔ احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد، ان کے گھر اور عباد گاہیں تو پہلے سے محفوظ نہیں تھی مگر اب مردہ احمدیوں کے لیے بھی پاکستان میں دفن ہونا مشکل ہو چکا ہے۔

Read more

ملالہ بیٹی آخر تم سوچتی ہی کیوں ہو؟

اگرچہ ملالہ کا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جہاں سوچنے اور سوال کرنے پہ پابندی ہے۔ چیلنج کرنے والوں کو طعنوں اور دھمکیوں کی ظالم چابکوں سے خاموش اور اکثر کو تو سوچتے ذہن کے ساتھ زندہ درگور کر دیا جاتا ہے لیکن اس من موجی ملالہ کی چالیں تو شروع سے بے ڈھب اور مستانی تھیں۔ انا الحق کا نعرہ بلند کرتی قابل دار اور معتوب لڑکی، لیکن اس میں اس کا آخر قصور بھی کیا کہ سوات

Read more

طاہر اشرفی صاحب کا فتویٰ اور کافروں کی نئی فہرست

پاکستان کے سیاسی منظر پر بوریت نام کی چیز کا وجود ممکن نہیں۔ اس کی سکرین پر ہر وقت کوئی نہ کوئی تماشہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر اس کا اہتمام اپوزیشن کی طرف سے نہ کیا جائے تو حکومتی اراکین باہمی تعاون سے کسی نہ کسی ڈرامے کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ چند روز قبل ایک ایسا ہی اہتمام کیا گیا۔ اس کی تفصیلات یہ ہیں کہ پنجاب اسمبلی کے رکن نذیر چوہان صاحب کو بصیغہ راز یہ خطرناک خبر

Read more

مسئلہ فلسطین کا پاکستانی حل

اسرائیل اور فلسطین کے بیچ مصلحت کروانے میں مصر کا کردار قابل تعریف ہے۔ جنرل سیسی سے ہزاروں اختلافات کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ انھوں نے اسرائیل کے چوتھے بڑے ٹریڈنگ پارٹنر ترکی کی طرح صرف بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کر کے دونوں اطراف مزید قتل و غارتگری کو روکا۔ جن بھائیوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے سٹیٹس پوسٹ کیے ان سے معذرت کا طلبگار ہوں کہ میں بائیکاٹ نا کر پایا۔

Read more

عمران خان اور ریاست مدینہ

۔ کیمروں کا رخ ایک میز کی طرف تھا اور کسی کا انتظار ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ شخصیت نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ وہ خوش تھا بہت ہی خوش۔ خوش کیوں نہ ہوتا اس کا بہت بڑا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔ وہ کرسی میں براجمان ہوا اور پورے اعتماد کے ساتھ کیمروں کے سامنے قوم سے مخاطب ہوا ”میرے پاکستانیوں میں پاکستان کو ریاست مدینہ

Read more

خلائی دور کی سازشیں

کرونا ویکسینیشن کے اثرات کے متعلق لوگوں سے پتہ چلا کہ اس کے ذریعے بل گیٹس ایک چپ لگا کر ہمارے ڈی این اے سے کچھ چرانا چاہتا ہے۔ اس لئے میں نے پہلے پہل تو ویکسین لگوانے سے مکمل اجتناب برتا، مگر اپنے ہمسایہ ملک انڈیا میں کرونا کے ہاتھوں مچی تباہی دیکھ کر جان کا خوف لاحق ہو گیا تو بل گیٹس کی تمام تر سازشی ہتھکنڈوں سے آگاہی ہونے کے باوجود مجبوری میں ویکسینیشن کروا لیا۔ اور تب ہی سے مجھے عجیب و غریب تجربات و کیفیات نے گھیرا ہوا ہے۔ ان کیفیات اور تجربات نے کرونا سے متعلق نہ صرف عوام کے شکوک و شبہات کو سچ ثابت کر دیا ہے بلکہ بل گیٹس کے مشکوک ارادوں کے متعلق میرے خدشات کو بھی صحیح ثابت کیا ہے۔ لہٰذا یہ تحریر کرونا کے وبا کے دنوں میں ذہنی وبا سے متاثرہ ایک شخص کی کہانی ہے۔

Read more

وحید الدین خان کا احسان

مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ یہ تذکرہ ذرا نازک ہے، اس لیے پہلے بے جی کی حکایت سن لیجئے۔ بے جی میرے اباجی کی پہلی اہلیہ تھیں لیکن ہماری سوتیلی ماں نہیں تھیں، بے جی تھیں، گھر کی بڑی جن کی گود میں گھر کے سارے بچے پلتے ہیں اور کاروبار زندگی چلتاہے۔ یہ راز کبھی نہ کھل سکا کہ وہ صبح کی کس گھڑی میں اٹھتی

Read more

بھٹو کا قتل قادیانیوں اور امریکہ کی مشترکہ سازش تھی

اگر پوچھو کہ جب پاکستان بن رہا تھا تو کون اس کی مخالفت کر رہا تھا؟ تو جواب ملے گا کہ قادیانی کر رہے تھے (علماء بالکل مخالفت نہیں کر رہے تھے)۔ تقسیم کے وقت پنجاب کے بعض اضلاع پاکستان کے ہاتھ سے کیوں نکلے؟ قادیانیوں کی غداری کی وجہ سے نکلے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بنا؟ قادیانیوں کی وجہ سے نہیں بنا۔ لیاقت علی خان صاحب کو کس نے شہید کیا ؟ یہ قادیانیوں کی کارستانی تھی۔

Read more

”میں بھٹو ہوں“

یہ 15 دسمبر کا تاریخ ساز دن تھا جب پاکستان کی محبت میں گرفتار بھٹو نامی ایک جیالا سلامتی کونسل کے اجلاس میں یہ کہتے ہوئے پھٹ پڑا۔

” پچھلے چار دنوں سے یہ کونسل تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، اب ہم وہاں پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں تمہاری کوئی پرواہ نہیں، میں شکست کی دستاویز پر دستخط نہیں کروں گا۔ تم پورے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرا لو، ڈھاکہ پر قابض ہو جاؤ، مغربی پاکستان پر تسلط قائم کر لو۔ تم کوئی تصفیہ نہیں چاہتے، ہمیں توپوں اور اسلحہ کے زور پر خاموش کرانا چاہتے ہو، تم جارحیت کو جائز قرار دینا چاہتے ہو، ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے خواہش مند ہو، تم ہر اس عمل کو جائز قرار دینا چاہتے ہو جسے آج تک ہمیشہ ناجائز سمجھا گیا۔ ہم لڑیں گے، ہم نیا اور عظیم پاکستان بنائیں گے۔ یہاں بیٹھنا میری ذات اور میرے ملک کی توہین ہے، میں بائیکاٹ نہیں کر رہا لیکن ادھر بیٹھ کر ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ میرا ملک مجھے بلا رہا ہے، میں جا رہا ہوں“ ۔

Read more

آغا شورش کاشمیری اور ان کا ہفت روزہ چٹان

آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین کشمیر سے ہجرت کر کے قیام پذیر ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالکریم تھا لیکن شہرت آغا شورش کاشمیری کے نام سے پائی۔ متوسط گھرانا تھا، سات سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا۔ ابھی یتیمی کا صدمہ کم نہ ہوا تھا کہ والد نظام الدین بھی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ والد اور والدہ کی وفات کے بعد دادا جو انارکلی بازار میں ایبک روڈ پر باقرخانی اور کلچے لگاتے تھے، نے آپ کو دیوسماج ہائی سکول لاہور میں حصول تعلیم کے لیے داخل کروا دیا۔

Read more

قرارداد مقاصد: جب ریاست ’مشرف بہ اسلام‘ ہوئی

مارچ کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں اہم واقعات اور مختلف حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 72 سال قبل مارچ ہی کے مہینے میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اپنے بجٹ اجلاس میں قراداد مقاصد منظور کر کے ریاست کو ”مشرف بہ اسلام“ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔ قیام پاکستان کے بعد برطانوی پارلیمان کا بنایا ہوا ”حکومت ہند کا قانون مجریہ 1935ء“ پاکستان کا عارضی آئین بنا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے

Read more

محبوب تابش کی کتاب ”اقبال:خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“۔

’’کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک مفکر یا دانشور کے افکار کو ابدی اور آفاقی بنا کر اسے تنقید سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ عہد وسطیٰ نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائیت میں ڈھال کر ہزار برس تک تعلیم کا حصہ بنا کر نئے خیالات کو روکے رکھا۔ جب اسے چیلنج کیا گیا تو نئے خیالات و افکار امڈ امڈ پڑے۔

پاکستان میں بھی اقبال اور ان کے افکار کو اس ذہن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ہر دور میں معاشرے کی رہنمائی کریں گے۔ اقبال کی پرستش نے نئے نظریات اور افکار کی راہیں بند کر دی ہیں۔ محبوب تابش نے بڑی جرأت کے ساتھ اقبال پر لکھی اپنی کتاب میں اقبال پرستی کو چیلنج کیا ہے اور اس سے سماج کے مختلف شعبوں پر ہونے والے اثرات پر بے لاگ بحث کی ہے۔‘‘

یہ تبصرہ ہے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا محبوب تابش کی کتاب ”اقبال خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“ پر جو اقبال پرستی سے پردے اٹھاتی ایک جامع کتاب ہے۔

Read more

مذہبی کارڈ کھیلنے والے

پاکستانی سیاست میں مذہبی کارڈ کھیلنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ کارڈ ہمیشہ اس وقت کھیلا جاتا ہے جب اپنے دشمن کے خلاف کچھ کہنے کے لیے باقی نہ رہے۔ یہی حال موجودہ سیاسی صورتحال میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اپوزیشن رہنما وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف ہر قسم کے الزامات لگانے کے بعد اب مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے

Read more

مولانا سید عطاء المہیمن بخاریؒ: سید عطااللہ شاہ بخاریؒ کی آخری نشانی

ایسے مناظر کمیاب ہیں کہ جہاں جلال اورجمال اکٹھا ہو جائے۔ حضرت امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی جلال و جمال کے اظہارکی خوب خوب ترجمانی کرتی تھی۔ اسی لیے شورش کاشمیری نے لکھا تھا کہ ”شاہ جی! دیکھنے کی نہیں، پیارکرنے کی چیزہیں۔“ ہم نے شاہ جی کو نہیں دیکھا، لیکن ان کے چاروں فرزندان میں ان کے جمال و جمال کا خوب خوب نظارہ کیا۔ دنیا کی دولت سے تہی، مگر غیرت ایمانی

Read more

اسرائیل نا منظور: دوسرا پہلو

مذہب، کالا باغ ڈیم اور اب اسرائیل کو تسلیم یا عدم تسلیم ایسے تمام اہم قومی معاملات کو کیا چوکوں چوراہوں اور ایک ایسی قوم کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے جو اپنے ذاتی قومی اور ملکی ذرائع آمدن اور وسائل سے یکسر بے خبر، مگر نور نظر لخت جگر دھڑا دھڑ پیدا کر رہی ہے؟ ظاہر ہے ایسا ممکن و مناسب نہیں اور اس کا بڑا اور بنیادی سبب ہماری ناخواندگی اور ایک ایسا توکل (توکل؟)

Read more

اسرائیل کو کیوں تسلیم کیا جائے؟

میرے ذہن میں کافی عرصے سے سوال گھوم رہا تھا کہ ہم اسرائیل کو کیوں تسلیم کریں؟ ایسا کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا زور ہے کہ پاکستان اسے تسلیم کرے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل دنیا میں اس ناجائز بچے کی طرح غیر ضروری ریاست ہے جس نے مظالم کی حد پار کر دی ہے۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے ان پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ کیمپوں میں مقیم فلسطینیوں پر جو

Read more

ناول ’پیرِکامل‘، ایک جائزہ

ایک دوست اسے اپنی گرل فرینڈ امامہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کا تعلق ریڈ لائٹ ایریا سے تھا تو سالار کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ اس سے درخواست کرتا ہے کہ مجھے اس سے ملا دو۔ لیکن وہاں پہنچ کر وہ جب دیکھتا ہے کہ وہ کوئی دوسری لڑکی ہے تو وہ وہیں سجدے میں گر جاتا ہے۔ اسے اللہ کی ایک نئی پہچان ہوتی ہے اور وہ اس کا شکر بجا لاتا ہے کہ اللہ نے اسے ایک بہت بڑی اذیت سے بچا لیا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔

Read more

قادیانی کافر ہیں

آئے روز اپنی فیس بک ٹائم لائن پر یہ الفاظ لکھے ہوئے دیکھتا ہوں جو ایمان سے لبریز مسلمان بھائی جوش و خروش سے لکھتے ہیں۔ ہاں بھائی کافر ہیں تو کیا کریں پھر? اب ان کا اچار ڈالیں، ان کو دفن کر دیں، ان کو جلا دیں، چاہتے کیا ہو آخر؟ جبکہ یہ سارے کام تم ماضی میں کرچکے ہو اور آج تک کر رہے ہو. آئین میں لکھ دی گئی ہے یہ بات لیکن پھر بھی تمھیں اپنے

Read more

میرا لبرل گاؤں کرک آخر اجڑ گیا

میری پیدائش تو پشاور کی ہے، لیکن آبا و اجداد کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔ ہمارے گاؤں کرک میں تقسیم سے قبل بہت سارے ہندو آباد تھے۔ آج بھی میرے دادا انہیں بڑے شوق سے یاد کرتے ہیں، جن کے ساتھ میرے دادا کا بچپن گزرا ہے۔ دادا جی فوج میں تھے 48 ء اور 65 ء کی لڑائی لڑ چکے ہیں۔ 65 ء کی جنگ کے بارے میں دادا جی بتاتے ہیں، جب جنگ میں کوئی ہندو فوجی پکڑا جاتا تھا، تو میں فوراً انھیں دیکھنے پہنچ جاتا تھا کہ شاید ان میں سے کوئی میرے بچپن کا دوست نکل آئے۔

پوری جنگ میں دادا جی، اس ایک حسرت میں قیدیوں سے ملتے رہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے بڑوں نے کتنا اچھا دور گزارا ہے، اور آج یہ ہم کس دور میں آ گئے، جہاں ہم سے ایک مندر کا وجود تک برداشت نہیں ہو سکا۔ اور بالآخر آج اس تاریخی مندر کو بھی ڈھا دیا گیا جو کہ کرک میں مذہبی رواداری کی آخری نشانی تھی۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے کئی سال کی محنت ہے۔ حالاں کہ ایسا کچھ پہلے نہیں تھا۔ میں نے اپنے گاؤں کرک کے لوگوں کو بڑا لبرل پایا ہے۔

Read more

بھارت سے متعلق ای یو ڈس انفو کی رپورٹ: جب مجھے نشانہ بنایا گیا

برسلز کے ادارے ”ای یو ڈس انفو لیب“ نے بھارت کا ایک وسیع نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے۔ یہ نیٹ ورک کس قدر منظم طریقے سے کام کر رہا تھا، یہ جان کر آپ حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس میں ”فری بلوچستان کمپین“ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یورپ میں اس مہم کو کس طرح بھارتی ”فیک میڈیا“ اسپورٹ کرتا رہا اور کس طرح پلے کارڈز لگائے گئے۔

اسی حوالے سے میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں کہ چند برس پہلے مجھے کس طرح دباو کا نشانہ بنایا گیا، کس طرح نہ صرف میری صحافت پر سوالیہ نشان لگایا گیا بلکہ میری جاب کو بھی براہ راست ٹارگٹ کیا گیا۔

Read more

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں

اردو کے کچھ اشعار ایسے ہیں جو نہ صرف زباں زد عام ہیں بلکہ ان کا استعمال ضرب المثل اور محاوروں کے بطور ہوتا رہتا ہے جیسے یہ شعر کہ

ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

ہم نے مساجد توڑ پھوڑ کر ان ڈھیر لگا دیا۔ مدرسوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسلام آباد جیسی قیمتی زمین مندر تعمیر کرنے کے لئے وقف کردی۔ 4 سو سے زائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار مندروں کی تزئین و آرائش کا ذمہ لیا۔ توہین رسالت کرنے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والوں کو کھلی اجازت دی کہ جس طرح چاہیں ملک کے طول و عرض میں ان کی عظمت و احترام کی دھجیاں بکھیرتے رہیں۔ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد اگر جذبہ ایمانی میں کسی کے خلاف کوئی کوئی کارروائی کر گزریں تو ان کو تختہ دار پر بھی کھینچ دیا۔

Read more

قضائے الٰہی اور انسانی گناہوں کی سزا

خادم حسین رضوی قضائے الٰہی سے رحلت کر گئے، اللہ کی مرضی میں کسی کو کیا دخل؟ وہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے، سانس کی تکلیف تھی اور کھانسی بھی آ رہی تھی۔ بظاہر لگتا ہے کہ سب کرونا کی نشانیاں ہیں لیکن تصدیق نہیں ہو سکی۔ جانے فیض آباد کے حالیہ دھرنے میں کس سے انہیں کرونا لگا اور ان سے کتنوں تک پہنچا؟ تادم تحریر دسیوں ہزار لوگ کسی بھی طرح کی احتیاطی تدابیر کیے بغیر

Read more

شیریں مزاری اور پاکستان کے احمدی

ایک 82 سالہ سیدھے سادے بزرگ بس اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کر رہے ہیں اسی اثنا میں ان کو باقاعدہ نشانہ بنا کر گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ جمعے کی عبادت کر کے واپس آنے والے باپ اور اس کے 31 سالہ ڈاکٹر بیٹے کو بھی فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیٹا باپ کی آنکھوں کے سامنے ہی دم توڑ دیتا ہے۔ ان دونوں واقعات میں مرنے والوں کا

Read more

علامہ خادم حسین اور چند افراد کا ٹولا

اپنی پیدائش سے لے کر اب تک میں مملکت خداداد میں ایک ہی بات سنتا آ رہا ہوں کہ مولوی کبھی ایک نہیں ہوسکتے۔ ان سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ یہ ایک ہو گئے تو ان کے مدرسے بند ہوجائیں گے۔ بلاشبہ ملک میں ایسے کئی علما موجود ہوں گے جو منبر رسول پر بیٹھ کر دوسرے مسالک کے خلاف بات کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے لیکن علما کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کی دین اور ملک

Read more

روک سکو تو روک لو ”انسانیت“ آئی رے

مجھے سوویت یونین کے بارے میں سوچ کر ہنسی آتی ہے۔ سوویت یونین پچھلی صدی کا سب سے بڑا اور برا مذاق تھا۔ سوویت یونین کا قومی ترانہ مع اس کے ترجمے کے یوٹیوب پر موجود ہے۔ کبھی موقع ملے تو سنئے گا۔ اس میں اعلان ہے کہ یہ عظیم لوگوں کا اتحاد ابد تک کے لئے ہے۔ وہ ’ابد‘ جب آیا تھا مجھے یاد ہے۔ سوویت یونین اور سوشل ازم کی لاش سے بدبو کا برامد ہونا میرے بچپن

Read more

عبدالودود قریشی صاحب کی وڈیو پر تبصرہ

محترم ودود صاحب! آپ نے پروگرام کا نام فیکٹس ود ودود نام رکھا ہے لیکن اگر میں فیکٹس سے آگاہ نہ ہوتا تو آپ کی بات کو شاید سچ ہی سمجھ لیتا۔ آپ نے جو باتیں اپنی وڈیو میں مورخہ 22 ستمبر 2020 کو بیان کی ہیں وہ فیکٹس کے مطابق ہرگز نہیں ہیں۔

1۔ آپ نے کہا ہے کہ ”تاریخ بتاتی ہے کہ 1929 سے ہی مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے اختلاف کرتے ہوئے انفرادی طور پر مصروف عمل تھے“ ۔ فیکٹ یہ ہے کہ مرزا صاحب تو 1908 میں وفات پا چکے تھے۔

Read more

رکھ پت رکھا پت

”اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے“ ۔ سورہ الحجرت۔ آیات 12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن

Read more

خوشاب کے بینک مینیجر کا قاتل احمد نواز، نیا قومی ہیرو

معزز قوموں میں ہیرو بن نے کے لیے دن رات کی سخت محنت کے بعد ایک عملی نمونہ بن کر دکھانا ہوتا ہے تب جاکر ایک قومی ہیرو کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی ہیرو بن نے کے لیے ایک بندوق لے کر کسی بھی ایسے شخص کو قتل کر کے جس کی کسی بھی بات سے اختلاف رائے ہو، عشق رسول ﷺ کو اس کا محرک بتانا ہوتا ہے اور اس قتل کرنے کے بعد عاشقان اسلام کی جانب سے اس قاتل شخص کو اپنے کاندھے پر بیٹھا کر ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ واقعہ نا ہی کوئی پہلا ہے اور افسوس کے ساتھ نا ہی کوئی آخری واقعہ ہے۔

Read more

اگر مجھے قتل کیا جاتا!

قائد آباد میں ہونے والے واقعہ قتل کی روداد تو اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے دنیا بھر میں نشر ہو چکی ہے۔ اور ابتداء سے لے کر اب تک جو معلومات تحریری یا وڈیو کی صورت میں شیئر کی گئی ہیں ان کے مطابق:۔ 1۔ ”خوشاب میں توہین رسالت کرنے پر پر بینک مینجر کو گارڈ نے گولی مار دی ہے۔ نیشنل بینک کا مینیجر جو کہ قادیانی تھا اس نے ایک سیکورٹی گارڈ کے سامنے حضور اقدس (ص)

Read more

پسندیدہ خطیب کی کچھ باتیں: کچھ شکوے

سکول کے زمانے میں ایک طویل فاصلہ کاٹ کر خطبۂ جمعہ سننے ایک مشہور مسجد جایا کرتا تھا۔ جن علماء سے بے حد متاثر تھا، ان میں یہ خطیب بھی تھا۔ خطیب کیا تھا، قدرت نے ہر ادا اور ہر فن سے نوازا تھا۔ اس کے اندر شاعر کی نوا بھی تھی اور مغنی کا نفس بھی۔ وہ خطیب بھی تھا اور ادیب بھی۔ کالج میں پڑھاتا تھا اور اہل مدارس سے بھی رسم و راہ تھی۔ صاحب کتاب تھا

Read more

آئین کے تقاضے، کرپشن اور مولانا کا کردار

ملک خداداد پاکستان کا آئین پاکستان کی روح ہے۔ آئین پاکستان یہ واضح کرتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ قرآن مجید سے متصادم کوئی قانون ملک میں نافذ العمل نہیں ہو سکتا۔ ارض پاک میں خاتم المرسلینﷺ کو آخری نبی نا ماننے والوں کی کوئی گنجائش نہیں اور نا ہی اہل بیت و اصحاب رسول و رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین سے عداوت رکھنے والوں کی کوئی عزت و توقیر ہے۔ پاکستان کا آئین ہی ہے، جس نے ہمیں عالم اسلام کا محسن و مددگار بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ہمارا آئین ہی ہمیں کشمیریوں سے اخوت کے رشتے سے جوڑتا ہے۔ کشمیر اور کشمیریوں کے لئے جدوجہد پہ ابھارتا ہے۔ فلسطین کے حمایت کا درس دیتا ہے۔ ہمارا آئین ہمیں عالم اسلام سے جوڑتا ہے۔ پاکستان کا آئین برہمنیت کی رسم و رواج، صہیونی و عیسائی و مغربی جارحیت و تہذیبی یلغار کے بر خلاف روحانیت پر مبنی منفرد اسلامی تہذیب و معاشرت کی پاسبانی کرتاہے۔ ہندو، عیسائی، یہودی اور عالمی قوتوں کے مقابلے میں اپنے جداگانہ اسلامی تشخص و نظریات کا امین ہے۔

آئین کی بالا دستی پر امن مملکت کی ضمانت ہے، صوبوں کی وحدت، اخوت اور بھائی چارگی کا نشان ہے۔ عامتہ الناس اور اداروں کے درمیان اعتماد کا نام ہے۔ چوں کہ مملکت پاکستان کی آئین قرآن و سنت کے تابع ہے، اس وجہ سے عوام اور تمام ادارے، اس بات پر متفق ہیں کہ مملکت پاکستان کا آئین سپریم ہے۔ آئین کے دائرہء کار سے کوئی شخص یا ادارہ بالا تر نہیں۔

Read more

اقلیت کا درد

میں جب پہلی بار برطانیہ گیا اور کام شروع کیا، تو ہمیں با جماعت نماز کے لئے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ برمنگھم برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں پر ایک مرکزی مسجد بنی ہوئی ہے، لیکن یہ میری قیام گاہ اور اسپتال دونوں سے دور تھی۔ میں چوں کہ ٹراما سنٹر میں کام کر رہا تھا، اس لئے ہر وقت بس آپریشن تھیٹر کے کپڑے پہن کر ہی دن رات گزرتے تھے۔ جمع کو بھی خال خال ہی موقع ملتا کہ ایک طرف سیریئس مریض ہوتے تھے اور دوسری طرف ایک مذہبی ذمہ داری تھی۔

ہمیں حلال گوشت بھی صرف چند دکانوں پر ملتا تھا۔ جب تک میں اکیلا تھا، تو ایک نزدیکی مسلمان کے ریستوران سے کھانا لیتا تھا۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ صرف چکن اور چپس بناتا تھا۔ مجھے ان چند مہینوں میں چکن اور آلو سے اتنی نفرت ہو گئی تھی کہ کئی سال میں نے ان کا بائیکاٹ کیے رکھا۔ خیر یہ تو وہ وقت تھا، جب حلال کھانا پھر بھی مل جاتا تھا۔ چار پانچ سال گزار کے میں واپس پاکستان آ گیا۔

Read more

حسینی اور یزیدی میدان کربلا میں ہیں آج بھی

یزیدیت اور حسینیت کی اصطلاح یہ ہے کہ مظلوم کا حمایتی حسینی ہے اور ظالم کا مداح یزیدی ہی ہو گا۔ فریقین میں تضاد ہونا عام بات ہے مگر خاص بات ان فریقین میں سے کون حق پر ہے اس فیصلے پہ منحصر ہے۔ اب جو حسینی راستے پر ہیں وہ حسین کے حمایتی ہوں گے اور جو یزیدیت کے ثنا خواں ہیں وہ یزید زندہ باد کے نعرے تو لگایں گے۔ مگر کچھ لوگ ان کے درمیاں بھی ہیں

Read more

میں نے چار دوست قبر میں اتارے ہیں

جولائی کے آخر میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کا زیادہ تر حصہ پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ ہو نے والے امتیازی سلوک کے بارے میں ہے۔ اس کے علاوہ انڈ و نیشیا، بنگلہ دیش، کرگستان، ازبکستان بلغاریہ اور یو کے کے حالات پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور ان حالات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے جن کا سامنا پاکستان میں شیعہ احباب اور مسیحی اور ہندو برادری کو کرنا پڑتا

Read more

خلافت و ملوکیت: میری نظر میں

سید ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ” خلافت و ملوکیت“ کا نام تو سب نے سنا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ بہت کم لوگوں نے یہ کتاب پڑھی بھی ہوگی۔ یہ ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی وہ کتاب ہے جس کو تنگ نظر و متعصب مخالفین اور ان کے اندھے مقلدین نے سب سے زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کی، لوگوں کو اس سے دور رکھنے کے لیے سرتوڑ تحریکیں چلائی گئیں

Read more

عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں

[ جب ستمبر 1982 ء میں ’الاعلام‘ میں محمد حسن عسکری مرحوم پر میرا مضمون شائع ہوا (ہم سب 25۔ 8۔ 2020 ) تو ممتاز دانشور اور نقاد جناب سلیم احمد نے حریت اخبار میں متعدد کالموں میں اس کا جواب لکھا جو بعد ازاں مئی 1983 میں جناب سہیل عمر کے مرتبہ مجلہ ’روایت‘ ۔ 1 میں یکجا طور پر۔ ”عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ آج یکم ستمبر کو جناب سلیم

Read more

یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ، مشرک، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک، گمراہ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون۔

اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی۔

Read more

اسرائیل میں قادیانی: عمران ریاض کے وڈیو پر تبصرہ

عزیزم مکرم عمران ریاض صاحب آپ کا اسرائیل میں قادیانیوں پر پروگرام ایک محب وطن پاکستان کی حیثیت سے کوئی بھی سنے تو اس کے جذبات کا انگیخت ہونا اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس حد تک تو بات جائز اور درست ہے لیکن اس خبر کی تصدیق آپ نے جن ذرائع سے کی ہے راقم ایک سابق فوجی کی حیثیت سے پہلے کر چکا ہے اورثابت ہوا ہے کہ یہ تدریجی جھوٹ یک طرفہ مشہور کیا جا

Read more

اپنے بچوں کی خود حفاظت کریں

پچھلے چند ہفتوں سے متواتر مدارس اور مساجد میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آرہے ہیں جن میں کوئی کافر، قادیانی یا یہودی سازش نہیں بلکہ خود مولوی حضرات ملوث پائے جاتے ہیں۔ کچھ دن پہلے پشاور کے رشید گڑھی گاؤں میں ایک بارہ سالہ بچے کی لاش عمر فاروق مسجد سے برآمد کی گئی جس کو خودکشی کا رنگ دینے کے لئے برآمدے میں گلے میں رسی ڈال کر لٹکا یا گیا اور بقول

Read more

ظلم اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو

وہ دھرتی جس کی خاطر ہمارے اجداد نے جان ومال اور جائیدادوں کی قربانی دی اور پھر بھی خوش تھے کہ ہم نے ا پنا ایک ملک پالیا ہے۔ اور جس پر آتے ہی انہوں نے اپنی جبینوں سے شکرانے کے سجدے ثبت کیے تھے۔ آج اس دھرتی ماں کو ہمارے لیے سوتیلی ہی نہیں بلکہ کالی ماتا بنا دیا گیا ہے جو ہر وقت ہمارا خون پینے پر تیار ہے۔ جن بیٹوں اور بھائیوں کے شانہ بشانہ ہم نے

Read more

پیرمحمد کرم شاہ الازہری اور تحریک پاکستان

1940 ء میں قرار داد پاکستان منظور ہونے کے بعد کانگرس نے جلسے اور جلوسوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر چکا تھا۔ وہ علاقے نہرو اورگاندھی کا خصوصی ہدف تھے جن میں مسلمانوں کا زور تھا۔ اسی طرح کا ایک بہت بڑا جلسہ بھیرہ (ضلع سرگودھا) میں بھی ہواجس میں جواہر لعل نہرو خود شریک ہوا جبکہ بعض روایات کے گاندھی نے بھی بنفس نفیس شرکت کی اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش

Read more

تہتر سال بعد

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: آپ دیکھیں گے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں وہ ایک ہی ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے۔ آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں میں جانے کے

Read more

قومی آزادی کا مطلب دوسروں کو تحفظ دینا بھی ہے

چودہ اگست آنے ہی والا ہے اور یقیناً ہم اس بار بھی جشن آزادی بھر پور انداز سے منایں گے۔ جس میں جھنڈا لہرانا اور باجا بجانا تو اہم ترین ہو گا۔ کیونکہ ہمارے نزدیک آزادی کا مطلب یہی ہے۔ پاکستان جو کہ اسلام کہ نام پہ بنایا گیا۔ جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کے تحفظ کا نشاں بنا۔ جس کا مقصد ہر انسان کو اس کے مذہب اور عبادات میں آزادی حاصل ہو گی۔ پاک و ہند میں قتل

Read more

کفر کے فتوے اور ملکی ترقی

پاکستان میں ٹیلیویژن چینلز پر وقتاً فوقتاً احمدیوں کے مسئلے پر اظہار خیال ہوتا رہتا ہے۔ انٹرنیٹ پر تو گویا اس موضوع کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ٹیلیویژن اور یو ٹیوب کے لیے تیار کیے گئے پروگراموں میں مولوی حضرات، سیاستدان اور تجزیہ نگار کھل کر ختم نبوت کے عقیدہ پر اپنے ایمان کا مکمل اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور احمدیوں کے کفر پر اپنی مہر ثبت کرتے ہیں۔ اور حال ہی میں ٹیلیویژن پروگراموں کے میزبانوں نے خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے یہ پیش کرنا مقصود ہے کہ ایسی روش ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

اس سے پہلے کہ میں اپنے دعوے کے حق میں دلیل پیش کروں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ احمدیہ جماعت کا کفر ایک مذہبی مسئلہ ہے جو بظاہر سیاسی طور پر حل کرنے کے باوجود ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بھٹو صاحب مغربی پاکستان میں اکثریتی ووٹ لے کر وزیر اعظم بنے تھے۔ خاصے مقبول تھے۔ ملک کو آئین دینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے عوام کو فخریہ اور علانیہ بتایا تھا کہ انھوں نے یہ نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ مگر ضیا صاحب کو پھر اس مسئلہ میں الجھنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں احمدیہ عقائد پر عمل کو جرم بھی قرار دے دیا گیا۔ اب یہ مسئلہ تقریباً 130 سال پرانا ہو چلا ہے تو پھر نواز شریف صاحب کے تیسرے دور میں اور عمران خان صاحب کے دور میں حل ہو کر بھی بے حل ہو جاتا ہے۔ میں اس معمے کو ابھی یہیں چھوڑ کر اصل موضوع پر واپس آتا ہوں۔ یعنی احمدیوں پر کفر کے فتووں کی میڈیا پر تشہیر۔

Read more

دین کو مفادات کی دکان بنانا جائز نہیں

خوف کے بنیاد پر کھڑی کی گئی عقائد کی عمارت کے دیواروں میں عقل و شعور کے جھٹکوں سے دراڑیں پیدا ہوتے ہیں۔ عقیدے کی استدلال کا تعلق خالص اطمینان قلب سے ہوتا ہے اور واضح بات ہے کہ من گھڑت اور خودساختہ مفہومات سے بنے ہوئے، خوف کی بنیادوں پر کھڑے ڈھانچے کو دیکھ کر کوئی بھی باشعور بندہ اطمینان قلب حاصل نہیں کر سکتا۔ خوف اپنی ذات میں لامتناہی قوتیں رکھنے والی کیفیت ہے۔ تاریخ ایسے شواہد سے

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ (دوسرا حصہ)

اگر برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس میں مولوی محبوب عالم کی 1903 میں تالیف کردہ فہرست اخبارات ہند کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جس کی تربیت اور مقدمہ و حواشی طاہر مسعود نے لکھ کر مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے 1992 میں شائع کی اور کتاب کا عنوان رکھا ”اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ“ مگر سرورق پر طاہر مسعود صاحب نے صرف اپنا نام دیا ہے اور ٹائٹل سے اصل مولف مولوی

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر اور مسجد کا انہدام

وطن عزیز پاکستان ویسے تو ہمیشہ سے تجربات کی آماجگاہ رہا ہے۔ زیادہ تر تجربات اس کے نظریات پر ہوتے رہے ہیں۔ اس بار مگر پورا ملک ہی ایک ایسے شخص کے حوالے کیا گیا ہے جسے زندگی میں ایک یونین کونسل تک کے انتظامی معاملات چلانے کا تجربہ نہیں۔ لیکن مزاج یار کے کیا کہنے کہ پوری مملکت ہی اس کے حوالے کردی گئی۔ اور اب ہر ہر شعبے پر تجربے ہو رہے ہیں۔ خصوصاً مذہبی معاملات کو زیادہ چھیڑا جا رہا ہے۔

Read more

اسلام کے وسیع دامن میں ایک مندر کی گنجائش ہے

روز کہتا ہوں بھول جاؤں اسے اور روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ یقین کریں روزانہ کی بنیاد پہ دل ناتواں سے عزم صمیم کرتا ہوں کہ مذہبی بحث و مباحثہ سے پرہیز اختیار کی جائے مگر دماغ منتشر کو دل ناتواں سے خدا واسطے کا ازلی بیر ہے جو دل کے پختہ عزم کو بھی ایسے زمین بوس کرتا ہے جیسے ساون کی تیز بارش کچی دیوار کو گرا دیتی ہے۔ اور میں اسی کشمکش میں ایک بار پھر

Read more

اسلام کو مندر سے لاحق خطرات

اسلام تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یوں تو یہی بات پاکستان کے لیے بھی درست ہے بلکہ ہمیشہ سے رہی ہے لیکن چونکہ ان دونوں سے مراد ہم ایک ہی لیتے ہیں اس لیے اسلام کو لاحق شدید خطرات کو زیر بحث لانا ضروری ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کا نام ہی ملک اور مذہب کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا مطلب یار لوگوں نے ہمیں کچھ یوں سمجھایا کہ جیسے اسلام آباد میں نہیں بلکہ مندر اسلام میں بننے جا رہا ہے۔

Read more

پاکستان میں غیر مسلم کیمونٹی کا کردار

بیرونی ممالک میں عقائد یا مذہبی آزادی کی آزادی کے تعین کے لئے امریکی کمیشن کی تشکیل کردہ USCIRF نے امریکی صدر، وزیر داخلہ اور کانگریس کو سالانہ رپورٹ 2020 میں سفارشات پیش کیں کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ایک واحب التعمیل معاہدہ کیا جائے، جس کے مطابق مذہب یا عقیدے کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے توہین رسالت (ﷺ) کے قیدیوں اور دیگر افراد کو رہا کیا جائے اورجب تک ان کی تنسیخ کا عمل مکمل نہیں ہو

Read more

کیا ”برداشت“ نامی کوئی جنس، ہمارے ملک میں دستیاب ہے؟

ایک وہ دور تھا جب ہم پاکستان میں تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور ایسے ایسے اساتذہ ہمیں پڑھاتے تھے جن کے نظریات ایک دوسرے سے بے شک ایک سو اسی درجے پر ہوتے تھے مگر ہم تھے کہ سب کو احترام سے سنتے اور ان کی بات جیسے سمجھ آتی، اچھی لگتی تو اپنا لیتے ورنہ خاموش رہتے۔ طلبا یونین بھی تھیں آپس میں لڑائی بھڑائی بھی تھی مگر پھر بھی قوت برداشت اتنی تھی کہ مختلف

Read more

بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد

Read more

ڈاکٹر صفدر محمود، قائداعظم کے وارث اور مجلس احرار

2جون 2020 ء کے ”روزنامہ جنگ“ میں ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم ”ایک تاریخی واقعے کی تصحیح“ نظر سے گزرا۔ جس میں صفدر محمود صاحب اپنے گزشتہ کالم (جو کہ 19 مئی کو ”جنگ“ میں آیا) کا حوالہ دیتے ہوئے ایک لایعنی بحث کا آغاز کر رہے ہیں۔ صفدر محمود صاحب نے 19 مئی کے کالم میں قائداعظم محمد علی جناح کے حلف نامے کے حوالے سے چند باتیں کیں۔ حلف لینے سے قبل قائداعظم گورنر جنرل کی کرسی پر

Read more

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

عمران خان ’جاہل‘ قوم کا واحد اہل رہنما ہے جو ملک و قوم کے تمام مسائل کا ادراک رکھتا ہے اور انھیں حل کر سکتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ پہلے اس ملک کو اہل حکمران نہیں ملے۔ فرق یہ ہے کہ ایک تو وہ ایک آدھ خوبی کے حامل ہوتے تھے اور دوسرا یہ کہ ان سب کے مشن ادھورے رہ گئے۔ خان صاحب میں ان سب عظیم حکمرانوں کے اوصاف یکجا ہیں اور یہ اس ملک کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اہل اور دیانت دار حکمرانوں کی فہرست میں سر فہرست ایوب خان ہیں۔ انھوں نے قوم کو احساس دلایا کہ تمھارا اصل مسئلہ غربت ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم ابھی تک غریب اور لاچار بیٹھے ہو۔ ایوب خان ایک ویژنری لیڈر تھے اور انھیں یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے معیشت مضبوط کی اور اتنی مضبوط کی کہ پاؤں پاؤں چلتا پاکستان بالآخر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جونہی کھڑا ہوا دھڑام سے گرا اور دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ پتہ چلا کہ اندر سے کافی کھوکھلا ہو چکا تھا۔ معاشی میک اپ بس ظاہری ٹیپ ٹاپ تھی۔

Read more

وبا کا اداس موسم، کچھ یادیں، کچھ پچھتاوے

کچھ جی کے بہلانے کو، اور کچھ پیش بندی کے طور پر گھر کے کونے کھدروں، میز کی درازوں، بریف کیس اور لیپ ٹاپ کو کھنگالنا شروع کیا ہے۔ وبا کی اس اداس کر دینے والی شب کے اندر تاریک کونے کھدروں میں بہت کچھ ہے کہ جس کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ ریحام خان کی خود نوشت کو کئی ماہ پہلے ڈاؤن لوڈ کیا تھا، ابتدائی چالیس پچاس صفحات کے بعد مشقت کی مزید ہمت نہ ہوئی۔ اگرچہ وہ مواد کہ جس نے خود نوشت کو شہرت بخشی، اس کے بارے میں تجسس برقرار رہا اس بیچ مگر کچھ خفت، کچھ بے زاری اور کچھ احساس زیاں نے آن لیا۔ منٹو نے جج صاحب سے درخواست کی تھی کہ فحش نگاری کا الزام اس پر دھرنے کی بجائے ان سے سوال کیا جائے جو مذہبی کتابوں سے بھی لذت کشید کرتے ہیں۔

جنرل ضیا کے مارشل لا کا غالباً پہلا سال تھا کہ ایک مذہبی جماعت نے جوش صاحب کی ’یادوں کی بارات‘ کو فحش کتاب قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میری عمر یہی کوئی تیرہ چودہ برس تھی۔ اخبار میں کتاب سے لے کر کچھ اقتباسات چھاپے گئے تھے۔ وہ فقرے یا الفاظ جو ناقابل بیان سمجھے گئے، ان کو نقطوں کے ذریعے دکھایا گیا تھا۔ انگریزی محاورے کے مطابق، نقطوں کو ملانے کے لئے ضخیم کتاب میں نے چند ہی روز میں اول سے آخر تک پڑھ ڈالی۔ جوش صاحب کے پے در پے، یکسانیت کے شکار اور بظاہر بے ضرر معاشقوں سے حاصل ہونے والی شدید مایوسی کے علاوہ، مجھے تو اس کتاب سے کچھ ہاتھ نہ آیا۔

Read more

! تاریخی حقانیت اور ہے ؛ مروجہ حقانیت اور

کوئی مانے یا نہ مانے، تاریخی حقانیت اپنی جگہ یہی ہے کہ پاکستان ’مسلم قومی ریاست‘ ہے۔
تاہم مروجہ حقانیت چیزے دیگر است۔ مروجہ حقانیت مقبولیت عامہ کا درجہ پا جائے اور کلاماً و دستوراً اسے حق بحق ہونے کا درجہ بھی دے دیا جائے تو اس کے طے کردہ معنی جھٹلانے کا نتیجہ قدماء میں سے سقراط یا گلیلیو وغیرہ کی مثالوں سے اخذ کیا جاسکتا ہے یا موخر میں سے ’عبرت کا نمونہ‘ بھٹو کی پھانسی سے لیا جا سکتا ہے جنہیں ’تحریک نظام مصطفی ﷺ‘ کے مذہبی کلمہ حق کا دعویٰ گرما کر معزول کیا گیا اور پاکستان میں امریکی سفیر کو ان کی حکومت کی طرف سے ’بھٹو کو پھانسی دلوانے‘ کے حکم پر عمل کروانے سے پورا کر دکھایا گیا جس کی نشاندہی بریگیڈئیر ترمذی کی کتاب ’پروفائلز آف انٹیلیجنس‘ کے صفحہ 33 اور 38 پر درج ہے۔

Read more

بیرون ملک میں مسلمان سمجھا جانے والا اپنے ملک کا کافر

خاکسار مضمون کی ابتدا میں سب سے پہلے پاکستانی احمدیوں کو مبارک باد دینا چاہتا ہے جن کی قیمت شدت پسندوں کی جانب سے دس روپے سے بڑھا کر ہزار روپے کردی گئی ہے۔

Read more

آئین سے بغاوت کیا ہوتی ہے؟

جدید جمہوری ریاست کی بنیاد دراصل ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین ایک عمرانی معاہدہ ہے۔ ریاست کا نظم چلانے کے لئے جو بنیادی دستوری ڈھانچہ ترتیب دیا جاتا ہے اسے آئین کہا جاتا ہے۔ یعنی بنیادی دستاویز آئین ہے جس کے خلاف یا جس سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔ اور اگر کی جائے گی تو اسے آئین سے متصادم قرار دے کر رد کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر کوئی ریاستی ادارہ یا شخص اس آئین

Read more

سوچنا جرم ہے

ایک سال قبل صدا کاری کا جنون عروج پہ تھا۔ جب میں نے احمد ندیم قاسمی صاحب کی ایک آزاد نظم ”ایک درخواست کو احتجاجی لہجے میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے ابتدائیہ مصرعے کچھ یوں تھے

”دیکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حد نظر سے آگے بڑھ کے دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے یقینوں اور گمانوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے ”

Read more

اقلیتی کمیشن: پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ (14 جون 2014) پڑھیں

حکومت نے اقلیتی کونسل بنانے کا اعلان کیا۔ تا کہ ملک میں مذہبی روداری اور مذہبی آزادی پیدا کی جائے۔ اور یہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی تعمیل میں کیا جا رہا تھا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے علم میں یہ حقائق آئے کہ مذہبی منافرت کی بناء پر اسماٰعیلی فرقہ اور ہزارہ برادری اور ہندو برادری اور کئی دوسرے مسالک سے وابستہ افراد کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ اس پر

Read more

پاکستان میں کورونا وائرس ختم ہونے کا عندیہ

ہمارے شہریوں میں شعور کی کمی نہ ہوتی تو اس بات کی قدر کرتے کہ احتیاط ہمیشہ پچھتاوے سے بہتر ہوتی ہے۔ ہم نے کبھی انفرادی سطح پہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ان موجودہ حالات میں انفرادی سطح پر صرف ایک شعور پیدا کرنے کی کوشش سے گھروں میں بیٹھ کر ہم مکمل لاک ڈاؤن کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ وگرنہ کب تک ہم دو ہزار ارب ڈالر کے امریکی پیکج پر گزارا کریں گے؟ کیسے ہم ایک

Read more

کمیشن پر سوالیہ نشان کیوں

سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں حکومت ایک اقلیتی کمیشن ترتیب دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے ایک اجلاس کے منٹس کو ایک میڈیا ہاؤس نے غلط رنگ دے کر پیش کر دیا، جس کے بعد وہ رنگ جما کہ کیا کہنے۔ ایک پرانا واقعہ بزرگ سناتے ہیں کہ کہیں ایک شخص کی شیطان سے بحث ہو گئی کہ وہ سارے فساد کی جڑ ہے لیکن شیطان اس بات سے انکاری تھا، آخر شیطان نے اس شخص کو ساتھ لیا اور ایک حلوائی کی دکان پر چلا آیا۔ ایک برتن میں پڑے شیرے میں انگلی کو ڈبویا اور دیوار پر لگا دیا، جس کے بعد ہونے والے فساد کو دیکھتے ہوئے نہ صرف شیطان لطف اندوز ہوا بلکہ اس شخص سے پوچھنے لگا کہ بتاو، اس لڑائی میں اس کا قصور کیا ہے؟

Read more

قادیانیوں کو قومی کمیشن برائے اقلیت میں شامل کرنے کی مخالفت کیوں؟

28 اپریل 2020 کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ قومی کمیشن برائے اقلیت میں احمدیوں کا بھی ایک نمایندہ شامل ہو گا اور یہ ہدایات وفاقی حکومت کو جاری کر دیں گیں۔ ایک اخباری خبرکے مطابق اس کمیشن کی تشکیل اس طرح سے تھی کہ اس کا سربراہ ایک ہندو رکن کو بنانے کا فیصلہ ہوا۔ کمیشن کے 16 اراکین ہوں گے جس میں سے 6 اراکین سرکاری اور 12 غیر سرکاری ہوں گے۔

Read more

قادیانی نہ اقلیت ہیں نہ اکثریت

بھارت میں جو کچھ پچھلے ایک سال میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اس پر عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا ہے۔ ہر دوسرے دن وہ اس طرف عالمی دنیا کی توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ہندوستان میں مسلمانوں سے ہونے والے امتیازی سلوک اور مظالم کی طرف وزیر اعظم اور ان کی ٹیم، خاص کر سوشل میڈیا ٹیم، دنیا کی توجہ کھینچنے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات کوئی بھی ہوں، کرونا کی وجہ سے دنیا پریشان ہو یا عالمی منڈی میں کساد بازاری ہو، وزیر اعظم اور ان کی ٹیم بھارت کے مظالم کو بیچ میں لے ہی آتی۔

Read more

اس کے پیچھے یہودی لابی کام کر رہی ہے

اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ کو یہ فقرہ گلی بازاروں میں عام سننے کو ملتا ہو گا۔ ”اس کے پیچھے یہودی لابی کام کر رہی ہے“ خاص طور پر اگر آپ پڑھے لکھے مسلمان ہیں اور ایسے مسلمان جو اسلام کے نام پر بنائی گئی من گھڑت کہانیوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اس صورت میں آپ کی سوچ اور آپ کے کردار پر انگلیاں اٹھا کر کچھ سڑک چھاپ لوگ بھی آپ کو یہودی لابی کا حصہ

Read more

مذہب اور سائنس دو الگ چیزیں ہیں

(اس تحریر کا مقصد کسی کے عقائد و نظریات کی توہین کرنا نہیں۔) میری جب بھی کسی سے سائنسی مضامین پر بحث ہوتی ہے تو جب اگلا فریق یہ کہتا یے کہ ہماری مذہبی کتاب میں یہ لکھا ہے تو میں فوراً مزید بحث سے گریز کرتا ہوں اور یہ کہ کر بحث کا ٹاپک کلوز کرتا ہوں کہ آپ درست فرما رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی بندہ مذہب اور سائنس کو مکس

Read more

قادیانی مسئلہ اور عاطف میاں… محمد اظہارالحق کے جواب میں

یہ فقیر گذشتہ دس سال سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے متنوع کالم نگاروں کا باقاعدہ قاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پہ لکھنے والے دانشوروں کی تحریریں بھی دیکھ رہا ہے۔ ایک بات پہ ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ ہر قسم کے موضوعات پہ معتدل،منطقی اور نسبتا سچ بات کرنے والے جونہی احمدیت کے حوالہ سے بات کرتے ہیں تو ایک روایتی کجرو مولوی کے جوتوں میں پاوں ڈال لیتے ہیں۔ نہ

Read more

کیا جماعت احمدیہ غدار ہے؟ (1)

ظفر الاسلام سیفی صاحب کا ایک مضمون "ہم سب” کی زینت بنا ہے جس میں آنجناب نے احمدیوں کی ملک و ملت سے کی جانے والی "غداریوں” کا تذکرہ فرمایا ہے۔ بے حوالہ، بے دلائل اور "سنا گیا ہے” یا "بتایا جاتا ہے” پر روایات کا استناد بتلا رہا ہے کہ مضمون کس قبیل کا ہے۔ باقاعدہ شہادت ڈاکٹر صفدر محمود جیسے "جید” مورخ سے دلوائی گئی ہے. موصوف کے اعتراضات کا خلاصہ دیکھئے۔ 1.          جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے

Read more