سب سے بڑا علاج تو ہم نے ابھی تک بتایا ہی نہیں!
دیکھیے بلی تب ہی شیر کی خالہ بنی نا جب ضرورت پڑنے پر بھاگ کر درخت پہ چڑھ گئی اور تعاقب کرنے والا منہ دیکھتا رہ گیا۔ سو ثابت ہوا کہ خاص نسخہ جات عوام الناس کی نظر سے اوجھل رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان کو خواص تک پہنچایا جانا وقت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھنے کے مترادف ہے۔
اب کیا ہے کہ ہم سوچے بیٹھے ہیں کہ عورت تب تک اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتی جب تک اس کا ذہن اور جسم صحت مند نہ ہو اور اسے اپنے معاملات سے جدید سائنس کے مطابق آگہی نہ ہو۔
جس طرح نزلہ زکام کھانسی بخار کسی بھی انسان کو نڈھال کرتا ہے اسی طرح عورت کے تخلیقی اعضا میں کسی قسم کی تکلیف عورت کو محض نہ تو نڈھال کرتی ہے اور نہ ہی کسی ٹوٹکے سے بہتر ہوتی ہے بلکہ پوری توجہ چاہتی ہے۔ کیونکہ ان اعضا کے درست کام نہ کرنے سے عورت کا وجود ( Being) خطرے میں پڑ جاتا ہے اور اس کے ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
Read more