چوتھی طرف مت جانا

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

Read more

مکافات عمل

صدیقی صاحب آپ ہمیں خوش کرتے رہے ہم آپ کو خوش کرتے رہیں گے۔ عاصم صاحب نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ عاصم صاحب کا شمار شہر کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا اللہ نے انھیں دولت، اولاد دونوں کی نعمت سے نوازا تھا۔ دو جوان بیٹے ان کے مضبوط بازو تھے۔ ․ یہ حسن اور فریحہ کہاں ہیں؟ عاصم صاحب نے بیگم رونق سے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ میاں صاحب دونوں کی نئی نئی شادی

Read more

دیوتاؤں کے دیوتا

اماوس کی رات تھی۔ دھرتی گھور اندھیرے کی کالی چادر اوڑھے دبکی بیٹھی تھی۔ اندھیرا اتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ سر سبز درخت جن بھوت کی پرچھائیں لگتے تھے۔ پہاڑی کے اوپر واقع شہر کا سب سے پرانا مندر کالی گھٹا کی طرح سناٹے اور خوف میں ڈوبا ہوا کھڑا تھا۔ تاریکی اتنی کہ مندر کے فانوس بھی شکست خوردہ دکھائی دیتے تھے۔ اس کے روشن دانوں سے چھنتی ہوئی روشنی خوف میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی۔ آج کل اس مندر میں انسانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔

Read more

سویٹی : ٹونی ماریسن کی ایک کہانی

میں نے ایسا کیا قصور کیا ہے؟ مجھ پر تم لوگ کیوں الزام دھر رہے ہو؟ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ مجھے پتہ نہیں یہ کیسے ہو گیا؟ کیوں ہو گیا؟ بس اتنا معلوم ہے کہ اس کی پیدائش کے آدھ گھنٹے کے اندر اندر ہی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کوئی بہت بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ بڑا غضب ہو گیا ہے۔ بچی کا رنگ اتنا کالا تھا کہ میں بری طرح سے ڈر گئی تھی۔

Read more

حرمین کے پھولوں سے حضرت بل کی اذان تک

عصر کی اذان ہو رہی تھی اور عارفہ نے عدیل کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں حرمین سے لایا ہوا گلدستہ تھما دیا۔ عارفہ کو علم تھا کہ عدیل اس کا ہاتھ مانگنے کی ہمت کرنے سے قاصر ہے۔ عدیل کو حسرت تھی کہ عارفہ پھولوں سے پہلے اس دامن کی بھیک دیدے جو عدیل نے بیتے ہوئے تین برسوں میں اپنے آنسوؤں سے خوب بھگویا تھا۔ عدیل عارفہ کی اس اوڑھنی کا متمنی بھی تھا جس سے

Read more

قابل اعتراض رشتے میں مت باندھو کہ میرا جسم اور روح دونوں تھک جائیں

ساون کا موسم ہے دن بھر خوب گرمی کے بعد ابر کرم کھل کر برسا۔ اب میں چائے اور موسم کے مزے لینے اپنی چھت کے اک کونے میں آ بیٹھی ہوں۔ اک سہانی شام ہو ہاتھ میں چائے ہو اور یادیں یلغار نہ کریں، ایسا کم ہی ممکن ہے۔ میرا دھیان بھی کچھ عرصہ پہلے شاپنگ مال کے اک منظر میں اٹکا ہوا ہے۔ میں خوشی خوشی لاک ڈاؤن کے بعد پہلی دفعہ شاپنگ کرنے گئی تھی، اک تو

Read more

افسانہ___انتہا

بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خاک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ بہتے چشموں کی گنگنا ہٹ میں، جس کے لبوں کی سرگوشیوں پر کان دھرنے تھے، اونچی چوٹیوں سے بہت نیچے دکھتی سفید روئی کی نرم نرم بدلیوں

Read more

بھائی ویرسنگھ نانا کیسے بنے؟

جب تیسری بار میری نظر ان کے ہاتھوں پر پڑی جن میں ایک بھی انگلیاں نہیں تھیں تو وہ مسکرائے اور بولے : ’بیٹے، مجھے پتہ ہے کہ آپ کو تجسس ہو رہی ہے۔ پہلے میں ذرا چائے وائے کا انتظام کروا لوں پھر آپ کو قصہ سناتا ہوں۔‘ یہ کہہ کر وہ ملاقات کے کمرے سے اٹھے اور اندر تشریف لے گئے۔ مجھے تھوڑی شرمندگی ہوئی کہ میں بار بار ان کے ہاتھوں کو کیوں گھور رہا تھا۔ لیکن

Read more

جاگیر

شہر کی گھٹن بھری فضاؤں سے میلوں دور وہ اپنے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا اسے احساس تک نہ ہوا کب دن کی سفیدی شام کی سیاہی میں بدلنے لگی۔ وہ بدستور بیٹھا گھاس کی ڈنڈیاں توڑنے میں مشغول تھا۔ مغرب کے بعد عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں گونجنے لگی۔ نوکر اسے ڈھونڈتے ہوئے کھیتوں میں آ گیا۔ مراد بابا، مراد بابا، وہ بڑے سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کرم چاچا، جا کر

Read more

افسانہ: چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا

چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا۔

اس دن موسم کافی خوشگوار تھا۔ اس بات کا احساس اسے ریتلی زمین پر ڈھیر ہوتے وقت ہوا۔ ریت کا سینک قابل برداشت تھا ورنہ اس پہر تک زمین تپ کر تنور ہو جایا کرتی تھی۔ بدلیوں کے باعث آسمان پر نگاہ ٹکانا ممکن تھا۔ ایسے میں اذیت کا واحد سبب وہ گولیاں تھی جو آڑی ٹیڑھی، کچھ اس کے بدن کے پار اور کچھ ابھی بھی اس کے سینے میں پیوست تھیں۔ وہ اپنے دھڑ کے بیچوں بیچ ایک خلا محسوس کر رہا تھا، چھاتی کے پار ہوئے ان چھیدوں کی انفرادیت کا ادرک مشکل تھا، بس ایک خلا تھا جو اس کے پورے وجود کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

Read more

امید سحر بہار

”پوری کائنات حق تعالیٰ کے جمال کا مظہر ہے لیکن وقت سحر میں قدرت نے ایک منفرد حسن رکھا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا اور کسی پر سکون مقام پر بیٹھ کر مخملی آکاش کے سینے پر طلوع ہوتے آفتاب کے نظارے کو دل میں عکس بند کرنا کتنا بھلا لگتا ہے!“ وہ پارک کے سب سے خوبصورت حصے میں ایک بینچ پر اکیلی چپ چاپ بیٹھی، روشنی لٹاتے رخشندہ آفتاب کے جمال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سوچنے لگی۔ آج

Read more

افسانہ: من کونج

میں انتظار کی جیون بھومی سے تولد ہوا ایسا جرثومہ ہوں، مہک جس کی ممتا کسی گاوں کے قرطاس پہ معلق پگڈنڈی پہ آلتی پالتی مارے کسی گیان کو چھو لینے کی انتھک چاہ میں میرا راستہ تکتی ہے۔ گاوں جس کی نوخیز صبح کے مدہوش اور رت بیتی سے سرشار کانوں میں اب بھی کہیں کوئی جنتر اپنی محبتوں کے رس گھولتا ہے۔ اور جہاں مدھانیوں کی گھرکگوں گھرکگوں کی آوازیں کسی موذن کی صدا پہ وجد کے نقطہء

Read more

عامل کا آسیب اور مامتا

ایک مرتبہ میری بھولی ماں مجھے ایک عامل کے پاس لے کر گئی جس نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا اور پھر اپنی پتلون کی جیب سے ایک شاخ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی پیمائش کرنے لگا اور پھر اسے میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے مجھ سے آنکھیں بند کرنے کا کہا، میں نے ویسا ہی کیا پھر اس نے شاخ کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، جو اچانک سے چند انچ لمبی ہو کر

Read more

مقدس بیوہ

شدید گرمی اور حبس بھرے دن کی سہ پہر اچانک تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور بادل چھا گئے۔

ہوا کے پہلے جھکڑ کے ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی، میرے چھوٹے سے آفس کے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور کمپیوٹر آف ہو گئے، میں نے سلائیڈ ہٹا کر باہر جھانکا اور صورتحال کا اندازہ کرتے ہی اپنے ماتحتوں کو کہا، چلو بھئی بند کرو سب کچھ، اگر بارش ہو گئی تو ہم یہیں پھنس جائیں، جی سر بس نکلتے ہیں۔ ایک بولا، وہ تینوں باری باری چلے گئے، میرا اپنا، ایک ذاتی سافٹ وئیر ہاؤس ہے، تین افراد میرے ماتحت ہیں، بلکہ ماتحت نہیں میری دوست اور کولیگز ہیں، میں ایک کم گو فطرت کا حامل فرد ہوں، مجھے زیادہ شور شرابا اور بکھیڑے پسند نہیں ہیں، نہ ہی زیادہ دولت کمانے کا شوق ہے، میرے خیال میں زندگی لطف اٹھانے کے لئے ہے، اس لیے نہیں کہ اس کو زیادہ دولت کمانے کے جنون میں، کسی عہدے کے حصول کے لئے یا انسانوں کے لئے برباد کیا جائے، سو میں اپنی محدود زندگی میں خوش و مطمئن ہوں۔

Read more

سنگین دیوار

چھ مہینہ بعد آج میں اپنے گاؤں واپس آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سڑک جس کے دونوں طرف ہمارا گاؤں آباد ہے اس کے ٹھیک بیچوں بیچ ایک قد آدم دیوار کھڑی ہے۔ میں اپنے گھر آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ پیک ایک ٹیبل پر ڈال دیا اور اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ارے اس کمبخت دیوار نے

Read more

کتابوں والا

مصنف: لن ڈن (ویتنام/امریکہ) / مترجم: خلیل الرحمان

یہ سچ ہے کہ ہر معاشرے میں چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، کتابیں اٹھانے والے کو اگر بھرپورعزت نہ بھی دی جائے تو کسی نہ کسی حد تک اس کا احترام ضرور کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میکان ڈیلٹا کے فیٹ ڈا قصبے کا سائیکلوں کا ایک ان پڑھ مستری پیئر بوئی جہاں بھی جاتا تو اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا تھا۔

Read more

سر باری اور کنٹین کے عقب میں سایہ

کمرہ امتحان میں اگر مکمل نہیں تو کسی حد تک خاموشی ضرور تھی۔ سر باری گاہے بگاہے طلباء کے پرچوں پر نگاہ ڈالتے جا رہے تھے۔ ویسے بھی یہ کوئی بہت بڑے بچے نہیں تھے۔ یہ دوسری جماعت کے ننھے فرشتے تھے۔ جن کا اس روز حساب کا پرچہ تھا۔ حساب میں یا تو بچے بہت کمزور ہوتے ہیں یا پھر ان کی دلچسپی کا محور صرف حساب ہی ہوتا ہے۔ اس جماعت کے بچوں کی اکثریت حساب سے سخت

Read more

حلیمہ کی بیٹی

حلیمہ کو دیکھ کر سب کہتے۔ کیسی عورت ہے اپنی صحت کا خیال نہیں کرتی اور دن بھر محنت مشقت کرتے نہیں تھکتی۔ حلیمہ کو جو پہلی نظر دیکھتا تو یہ ضرور کہتا۔ ”دیکھو تنکا سی ہے، اس میں جان نام کی چیز ہی نہیں“ ۔ کچھ منہ پھٹ کہہ بھی دیتے۔ ”ہائے حلیمہ تم بچپن سے ایسی ہو کہ اب ڈائٹنگ کا شوق چرایا“ ۔ ”حلیمہ سب کی اپنے دبلے وجود کے متعلق باتوں کو ہنس کر ٹال دیتی“

Read more

جنگی قیدی

مصنفہ : مونا فاضل (عراق) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015 ساحرہ دروازے کے فریم میں کھڑی اپنے بابا کو واضح ہوتا دیکھ رہی تھی، جبکہ صبح کا سورج اس کے دودھیا سفید باورچی خانے کو روشن کر رہا تھا۔ وہ سنگ مرمر کی میز پر بیٹھا ایک ریڈیو ٹرانزسٹر کی تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا تھا۔ سورج کی دھوپ براہ راست اس پر سے گزر رہی تھی۔ ساحرہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر

Read more

ہم اور سمندر

ہاتھوں میں پھول پکڑے سگنل پہ کھڑا ہوں مہنگی گاڑیوں میں دہلے اور صاف صاف لوگ۔ رات اتنی دیر سے بھی ہشاش بشاش ہنسی خوشی بے پرواہ سیدھے ہاتھ پر مڑ جاتے ہیں۔ اور پل سے آگے ”ہم“ آجاتے۔ ہم کون؟ پتہ نہیں! جب بھی میں پوچھتا ہوں کہ رحیم گدھا گاڑی والا کہاں سے آیا تھا؟ تو وہ منحوس شکل والا شخص گالیاں دینا شروع کرتا ہے۔ ’ابے چل نکل حرام خور لعنت ہے تیری شکل پر‘ اس کے

Read more

چاند کی بھول

دن بھر کا تھکا ہارا اپنی آستین سے چہرہ صاف کرتے گھر کے پورچ میں گاڑی سے نکلا تو پہلا جھونکا ٹھنڈی ہوا کا لگا جو اپریل کے اوائل کی خوبصورت بہار بھری خوشبو دار رات کے نغمے گنگناتا مجھے چھوتا ہوا گزر گیا۔ اور دوسرا جلوہ مشرق سے ابھرتے ہوئے اس پورے چاند کا تھا جس کی چاندی جیسی چمکتی چاندنی ٹارچ کی لہروں کی طرح زمین کی ہر سمت میں رواں دواں تھیں اور وہ پورا چاند۔ ۔

Read more

اندھے کا سہرا

حال ہی میں سوربھ رائے کی بحالی اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے دہرہ دون میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ویزیولی ہینڈیکیپٹ میں ہوئی تھی۔ نوکری میں شمولیت کی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد سوربھ نے تقریباً ایک ماہ تک تدریس کا کام انجام دیا اور پھر رخصت لے کر اپنے وطن للت پور جانے کا ارادہ کیا۔ چھٹیاں منظور ہو گئیں تو اس نے ٹرین پر اپنی جگہ محفوظ کروالی۔ سوربھ کو یکم مئی کی صبح ساڑھے پانچ بجے

Read more

آرتھر سی کلارک کا افسانہ: خدا کے نو ارب نام

برٹش سائنس فکش ادیب آرتھر سی کلارک کی مندرجہ بالا کہانی پہلی بار سن 1953 میں شائع ہوئی اور اسے بہت پذیرائی ملی۔ اس کہانی کا ترجمہ بنگالی میں سستیہ جیت رے نے کیا۔ Dominique Filho نے دو ہزار اٹھارہ میں اس کہانی پر فلم بھی بنائی تھی۔ میں نے اس کہانی میں تکنیکی اصطلاحات برقرار رکھی ہیں تاکہ کسی قسم کی الجھن نہ محسوس ہو۔ ٭٭٭٭             ٭٭٭٭ ”یہ تھوڑی غیرمعمولی درخواست ہے“ ڈاکٹر واگنر

Read more

جوتی

کلاس ختم ہوتے ہی میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔ آج فائن آرٹس کی ایکسٹرا کلاس تھی اور کوئی بھی دوست لیکچر میں موجود نہیں تھا۔ تجریدی آرٹ کی تھیوری یوں بھی ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ ہبڑ دبڑ میں چائے تک بھی نہ پی پائے تھے اور طرفہ یہ کہ جوتی بھی وہ پہن لی جس کا پٹہ ٹوٹنے کے قریب تھا۔ سر میں شدید

Read more

تعبیر

ٹرافیز شاید زندگی میں آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ یہ بات شاید ابوعبیدہ کو بہت دیر سے پتا لگی تھی۔ اسے کرکٹ بہت پسند تھی جنون تھا کرکٹ کا جو رگوں میں خون بن کے دوڑتا تھا۔ وہ اسکول کے فوراً بعد کرکٹ گراونڈ دوڑ کے جاتا تھا۔ ہر کوئی اس کی بیٹنگ کا دلدادہ تھا مگر آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا وہ خوش تھا کیونکہ انڈر سکسٹین کی ٹیم کا ٹرائل دینے جانا تھا اس

Read more

میری پیاری

میری پیاری! مورخہ 20 فروری 2020 آج کا دن کتنا بوجھل اور شام کتنی اداس ہے میں کتنی دیر تمہاری کھڑکی کے نیچے کھڑا رہا لیکن آج نہ یہ کھڑکی کھلی اور نہ ہی تمہارا کھلا چہرہ نظر آیا۔ آہ! میری پیاری تمہاری کھڑکی کے نیچے تازہ گلاب کی پتیاں بکھری پڑی تھیں۔ کاش ان پھولوں کی جگہ میری قبر ہوتی۔ کاش میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہ دیکھتا لیکن افسوس یہ دن بھی آ گیا۔ میں اپنی ندامت

Read more

الٹی گنتی

وہ اپنی شادی کی اکیسویں سالگرہ منا رہی تھی۔ سب گھروالوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ کیک سامنے رکھا ہوا تھا۔ انتظار تھا تو بس اپنے بیس سالہ بیٹے اسید کا جو ان کے لیے تحفہ لینے گیا تھا۔ آج کا دن اس کے لیے بہت خاص تھا۔ اسے ہمیشہ سے یہی زندگی چاہیے تھی۔ وہ کامیاب تھی اور اتنا پیارا خاندان تھا اس کے پاس۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس دوران اسے اسید کے نمبر

Read more

ثریا اور شرافت

کیتلی میں ابھی چائے انڈیلی بھی نہ تھی کہ دروازہ بجا اور والدہ کی آواز گونجی، دیکھ بیٹی شام ہوگئی ہے تیرے چچا آئے ہوں گے ۔ دوپٹا درست کرتے، بڑے قدم اٹھاتے، بہت سی دعاؤں کے ساتھ میں مین گیٹ تک پہنچی اور دروازہ کھول دیا۔ واہ! آج تو ثریا بٹیا حقیقت میں ثریا کی مانند چمک رہی ہے۔ میں نے سلام عرض کیا ان کو اندر لائی اور افسردہ نگاہوں سے دروازہ بند کر دیا آج بھی چچا

Read more

جسے تر نوالہ سمجھا تھا

”جی نہیں، کوئی ٹیبل خالی نہیں ہے“ ویٹر نے روکھے لہجے میں کہا۔ مجھے کافی مایوسی ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ ویٹر کوئی نہ کوئی جگہ نکال لے گا۔ میں نے ایک بار پھر ہال کا طائرانہ جائزہ لیا۔ ریسٹورنٹ میں رش تھا۔ پھر ایک ٹیبل پر میری نگاہیں رک گئیں۔ دو لڑکیاں ایک ہی سائیڈ پر بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں اور دوسری طرف دو کرسیاں خالی تھیں۔ غالباً وہ آرڈر کا انتظار کر رہی تھیں۔ میں نے

Read more

لاک ڈاؤن والے بارہ ہزار

عنایا نے گھر کے دروازے سے ہوتے ہی زور سے سلام کیا ہی تھا کہ اماں نے اسے زور سے گلے لگایا۔ ارے اماں رکیں باہر سے آئی ہوں ہاتھ منہ دھو کر آتی ہوں پتہ تو ہے آپ کو وبا کا۔ ارے بیٹی بھلا ہو اس موئی بلا کا اماں بلا نہیں وبا ہاں ہاں وہی وبا کا۔ ادھر آ تجھے ایک خوشی کی بات بتاؤں، ایساکیا ہوگیا اماں جو آپ اتنی خوش ہیں؟ بیٹا آج مجھے 12 ہزار

Read more

دار الامان: بیمار معاشرے کی ٹیسٹ رپورٹ

شنو نے اسے سیدھا کر کے لٹایا اور برابر والے بیڈ پہ بیٹی کو لے کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بسمہ نیند میں سسکیاں لینے لگتی ہلکی آواز میں کچھ بڑبڑاتی بھی تھی شنو چونک کے اسے دیکھتی مگر وہ گہری نیند میں تھی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ ایک گھنٹے تک تو شنو بیٹھی رہی پھر اکتا گئی دروازہ کھول کے باہر چلی گئی اور باہر سے کنڈی لگادی۔ کام وام نپٹا کر

Read more

طالبان بیٹے کی ماں

وہ میرے آفس میں کام کرنے آیا تھا۔ لانبے قد کا دبلا پتلا خوبصورت سا لڑکا تھا وہ۔ عمر بائیس تیئس سال سے زیادہ نہیں رہی ہوگی۔ آفس میں اوپر کا کام کرنے کے لیے ایک پھرتیلے بندے کی ضرورت تھی، صفائی ستھرائی، کپڑا مارنے کے لیے، چائے بنانے کے لیے، باہر سے سموسے، جلیبی اورپھل لانے کے لیے اور اسی قسم کے دوسرے روزمرہ کے کام کرنے کے لیے، وہ پھرتیلا ہی ثابت ہوا تھا اور بہت پھرتی کے

Read more

کنارے کشتیاں

مجھے نہیں معلوم پہلی بار ہم کہاں ملے تھے مگر اتنا یاد ہے کہ ایک بار دکھ کی چھتری کے نیچے سمندر کنارے ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مجھے سمندر کہتی تھی اور میں اسے سورج۔ شاید اس لیے کہ میں بہت عمیق تھا اور وہ بہت خوب صورت۔ اسے سمندر کنارے ڈوبنے کا منظر بہت اچھا لگتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر اس کی آنکھوں سے دیکھوں۔

Read more

گٹھڑی اور گھڑی

ٹرین میں بیٹھی حنا کی زندگی کسی ٹرین ہی کی طرح بھاگتی دوڑتی دھواں دیتی، مسافتیں ناپتی منزلیں سر کرتی آخری منزل کی طرف بڑھے جا رہی تھی۔ اور اس ٹرین میں کھڑکی کے شیشے سے لگی وہ ایک بوسیدہ گٹھڑی اور ایک درذیدہ گھڑی سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ بوسیدہ پھٹی پرانی اڑے ہوئے رنگوں والی گٹھڑی جس میں بہت سی یادیں بندھی تھیں۔ کچھ ٹوٹ چکے خواب، ایک گمشدہ محبت، سالوں کی دھوپ میں سڑ چکے کچھ خوبصورت

Read more

بیوقوف چوزہ

ٹک ٹک ٹک ٹک۔ ۔ ۔ سگنل پر کھڑی گاڑی کے دروازے کے شیشے پر پلاسٹک کا ایک چوزہ تیزی سے اپنی چونچ مار رہا تھا۔ جبکہ اسی گاڑی کے اندر بیٹھا خوش لباس و خوش شکل بچہ چوزے کو حیرت سے دیکھتا ہوا اسے بند شیشے میں سے ہی پکڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ گاڑی کے باہر چوزہ پکڑے کھڑے میلے ہاتھوں والے بچے کے بال بکھرے ہوئے اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا جو اس کے

Read more

نرگس

تابش اپنے ماں باپ کے ساتھ بس سے نیچے اترا اور اپنی خالہ کے گاؤں کی طرف جانے والے کچے راستے پر چلنے لگا۔ ہر سال چھٹیاں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے والدین کو یہاں آنے کے لئے تیار کر لیتا ہے اور پھر چند دنوں تک اس کا دل پڑھائی لکھائی سے بالکل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ وہ بس گاؤں کے خواب دیکھتا رہتا ہے اور نئی نئی سر گرمیوں کا منصوبہ بناتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح

Read more

جنت سے رہائی

نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ نور نے اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی تتر بتر کر دیا۔ نور پچھلی تین راتوں سے بہت کم سویا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے نیند اس سے ناراض ہو گئی تھی۔ نور نے اپنی ماں کو پچھلے چند ماہ میں کئی خط لکھے تھے اور ان

Read more

بدلتے رنگ

محسوس کرنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں کہ سکوت کا اپنا ہی ایک شور ہوتا ہے جیسے کوئی سرگوشیاں کر رہا ہو، ان سرگوشیوں کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا یہ سرگوشیاں گمنام ہوتی ہیں بس انہیں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی تاریکی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے تاریکی کی اپنی ہی ایک جوت ہوتی ہے جو دکھائی نہیں دیتی مگر آنکھوں کو بڑی بھلی لگتی ہے۔ شاید اسی لیے وہ

Read more

فوٹو گراف

وہ آگے بڑھا اورا س سے پہلے کہ پھولوں پر بیٹھی وہ تتلی کسی اور سمت پرواز کرتی وہ اسے پھول سمیت قید کرچکا تھا، اپنے کیمرے میں، جہاں اس طرح کی ہزاروں تصویریں پہلے سے موجود تھیں۔ اسے تصویریں کھینچنا بہت پسند تھا، اس کے موبائل میں ہزاروں تصویریں تھیں، اس کے دن کا آغاز ہی تصویر کشی سے ہوتا تھا۔ اس کی فون میموری ایک زندان خانہ تھی جہاں ہر منظر قید ہوجاتا تھا۔ اس کی تصویریں پسند

Read more

میری عید مبارک کر دے

رنگ حنا، آج ”حنا“ کے ہاتھوں پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ کبھی نرم و ملائم ہتھیلیوں کو دیکھتی تو کبھی چوڑیوں کے اندر موجود کانچ جیسی نازک کلائیوں پر نظر چلی جاتی اور تو اور آدھ گھنٹے میں پانچویں بار آئینے کا سامنا اتفاقا ہو گیا تھا، وہاں سب سے پہلی نظر اس کی اپنی شرمیلی مسکراہٹ پر ہی جاتی پھر لال ڈوپٹے کی اوٹ سے لال ہونٹ دیکھ کر میچ کرنے لگتی، آج اس نے بال نہیں

Read more

آخری قسم

ببلو آج بہت دن بعد میرے پاس آیا اورسلام دعا کیے بغیر کہنے لگا کہ ”میں قسم کھاتا ہوں کہ اب کسی سے بھی محبت نہیں کرونگا۔“ ” کیا ہوا، کیوں قسم کھا رہے ہو، پہلے بھی تم قسمیں کھا چکے ہو، یہ کون سی قسم ہے؟“ میرے اتنے سوالوں پر ببلو ایسے مچلا جیسے بن جل مچھلی تڑپتی ہے۔ کہنے لگا ”یار محبت راس نہیں آتی۔ دو دن، چار دن بعد پھر وہی داغ جدائی، بس اب نہیں۔“ ”

Read more

آئینے پر غبار رہنے دو

یونیورسٹی کے دن زندگی میں ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ دھندلی یادوں کے بیچ واضح تصویریں لیے ، ان مٹ آوازوں اور ناقابل فراموش علمی تصورات عطا کرنے والے۔ یہاں سے زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ ایک بہت بڑے راؤنڈ اباؤٹ کی طرح یہاں سے نکلے والے رستے سب کو ان کی الگ الگ ان دیکھی دنیاؤں میں لے جاتے ہیں۔ پر ایک بات یقینی ہے کہ جو خواب آنکھوں میں لئے نوجوان یہاں قدم رکھتے ہیں وہ

Read more

گرگ زادہ

میری بہت سی کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک سچی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار میرے پاس ہی رہتے ہیں۔ جو بقید حیات ہیں وہ موت سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں اور جو مر چکے ہیں ان میں سے کچھ بھوت پریت اور سایہ بن کرزندہ لوگوں کے جیون کو دہشت زدہ کر رہے ہیں اور کچھ دوسری قسم کے مردوں کی روحیں اپنی حسرتوں اور موہوم امیدوں کی وجہ سے ابھی تک بھٹکتی پھر رہی ہیں۔

Read more

لکھنے والی کا آخری سفر

کسی نے کہا تھا کہ ”ایک افسانہ نگار اپنے قارئین کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائے تو وہ بہترین افسانہ نگار کہلانے کا حقدار ہوتا ہے“ ۔ مگر وہ تو چھوٹی چھوٹی حقیقتوں پر کہانیاں لکھتی تھی اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ قاری کیا سوچے گا؟ اس کی اپنی منطق اور فلسفہ تھا وہ اپنی کہانیوں کا اپنی مرضی سے اختتا م کرتی تھی۔ پچھلی دہائیوں میں اکثر افسانوں کی آخری لائنیں یا انجام

Read more

جب سمندر مسافر بن کر آیا تھا۔ ۔ ۔

میں ایسا درخت ہوں جس پر ہمیشہ خزاں کا سماں رہتا ہے، کہیں کہیں پتے موجود ہیں، ان ہی کی وجہ سے میری چھاؤں تو ٹھنڈی ہے لیکن کڑوا ہوں۔ میرے سائے میں لوگ بیٹھتے ہیں لیکن کبھی میری خواہش نہیں کرتے کہ مجھے اٹھا کر اپنے باغ میں لگا دیں۔ ۔ ۔ ایک دن ایک مسافرنہ جانے کہاں سے بھٹکتا ہوا آیا اور میرے سائے تلے بیٹھ گیا۔ اس کے پاس خیمہ تھا، پانی کا مشکیزہ بھی، پھلوں سے

Read more

تمہیں خدا پر بھروسا نہیں!

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقعے کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں کھویا ہوا لگ رہا تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟‘ دبلے پتلے عتیق نے کرسی ڈھلتی ہوئی دھوپ کی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔ ’نہیں نہیں صاحب جی کوئی بات نہیں۔ میں تو ایسے ہی دیکھ رہا تھا کہ آپ پر اب دھوپ نہیں آ رہی۔‘ ’جو بات

Read more

قید – افسانہ

چار میلی دیواریں جن پہ کھرنڈ جمی تھی اور جگہ جگہ سے رنگ اترا ہوا تھا۔ اور فرش پر سے بھی کہیں کہیں سے سیمنٹ اکھڑا ہوا تھا جس میں سے عجیب و غریب حشرات نکل کر باہر آتے اور دیواروں پہ چڑھنے لگتے۔ چھت پہ پرانا سا پنکھا لگا تھا جس کا زنگ آلود لوہا اتنی خوفناک آواز پیدا کرتا کہ دماغ کی نس پھٹنے لگتی اور یوں بھی مجھے پنکھے کی ہوا سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں بس اس قبر نما ویران اور چھوٹے سے کمرے سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی۔ اس کمرے میں نہ تو کوئی کھڑکی تھی نہ ہی کوئی روشن دان۔ اور روشنی کی صورت میں ایک چھوٹا سا بلب تھا جس کی زرد، مدھم روشنی سے دن بہ دن میری بینائی جواب دے رہی تھی۔ اور دل میں ویرانیاں ڈیرے ڈال رہی تھیں۔ مجھے یہاں پڑے کتنے دن کتنی راتیں ہو گئی تھیں، کوئی اندازہ نہ تھا کیونکہ کمرے میں کوئی وال کلاک نہ تھی۔ اور کلاک تو کیا اس کمرے میں ضرورت کی کوئی بھی چیز نہ تھی۔ یہ کمرہ ہر قسم کی انسانی ضرورت فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء، بستر اور پردوں سے خالی تھا۔ نہ شیلف تھی، نہ کتابیں، نہ قلم، نہ گھڑا، نہ پانی۔

Read more

بیٹی کی شادی اور ٹوٹی ہوئی چھت

ساجدہ کا شوہر جو کہ ایک دیہاڑی دار مزدور تھا شادی کے تقریباً بیس سال بعد ہی کام کے دوران ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ چار بیٹیوں کی ماں ہونے کے ناتے ساجدہ پر ذمہ داری بھی سخت تھی اور آزمائش بھی کڑی۔ مگر اس امتحان کی گھڑی میں بھی مضبوط اعصاب کی عورت نے ہمت نہ ہاری۔ گھروں میں برتن مانجھ کر تو کبھی کپڑوں کی سلائی کا کام کر کے جو بھی ہو سکا کیا۔ باپ کا سایہ اٹھنے کے بعد انہیں ممتا کی چھاؤں میں پالتی رہی۔

اب بیٹیوں کا قد گھر کی دیوار سے اونچا دکھائی دینے لگا۔ ساجدہ کو ان کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ایک دن وہ چارپائی پر لیٹی اسی فکر میں چھت پہ ٹکٹکی باندھے سوچ رہی تھی کہ اس کی بڑی بیٹی زینت نے کہا ”اماں چھت کی دراڑ میں کیا تلاش کر رہی ہے“ ۔

Read more

ڈیٹ نائٹ

”ہاتھ چھوڑ دو ناں کوئی دیکھے گا“ وہ منمنائی، جواباً ایک ہلکے سے قہقہے کے ساتھ اس نے اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دی۔ اس حرکت پہ سٹپٹا کے اسے دیکھا تو وہ بولا ”کوئی پہلی بار آئی ہو میرے ساتھ کیا؟ شرمانا کیسا؟ یہ شام انجوائے کرو یوں بھی بڑے دنوں بعد آتی ہے ہماری یہ ملاقات“ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ”ہاں اور اس ایک ملاقات کے لیے پورا مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی تو وقت جیسے ٹھہر ہی جاتا ہے بچوں کی دیکھ بھال، ساس کی خدمت اور گھر کے کام۔

Read more

عجیب لوگ

عصر کی نماز پڑھ کر مستقیم صاحب نے حسب عادت قریبی پارک کا رخ کیا۔ ریٹائرمنٹ کی بعد سے اس وقت کی واک ان کے معمول کا حصہ تھی۔ پارک میں داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گئے، ایک عجیب اور نیا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ انہوں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں، عام طور پر اس وقت وہاں چند ہی لوگ موجود ہوا کرتے تھے لیکن آج وہاں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔

Read more

Transsexuality (شعوری جنسیت)

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے ہی بادلوں میں چھپ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ دونوں کنچنیاں پسینے سی بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے لال سرخ اورجسم تپایا ہوا کندن بن چکے تھے۔ جوں جوں شعلے ٹوٹ رہے تھے، روپ سوا ہوا جا رہا تھا۔ یوں لگتا کہ گھٹائیں امڈ آئیں، بجلیاں کوند

Read more

گواہ

عکاشہ آفس میں مصروف تھی، سیل فون کی مسلسل بجنے والی مدھر دھن پر اس نے چونک کر سیل فون اٹھا یا، جگمگاتے نمبر پر نگاہ پڑتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی روشنی پھیل گئی۔ ادائے دلربائی سے اس نے ہیلو کہا، اور چند لمحے گفتگو کے بعد فون بند کر کے دوبارہ سے کام میں مصروف ہو گئی۔ آفس ٹائم ختم ہوتے ہی اس نے اپنی میز کی درازوں کو قفل لگایا اور اپنے کیبن کو بھی

Read more

وہ ایک جیتی جاگتی حسین و خوبصورت انسان ہے

کتنی خوش تھی وہ جب اس کی شادی ہوئی۔ جب اس کو مایوں کا پیلا جوڑا پہنایا گیا اورپھوپھو جو فیصل آباد کے مشہور کپڑا بازار سے اس کے لیے گوٹے کناری سے کڑھے ہوئے مہندی کے جوڑے کے لیے ست رنگی دوپٹہ لائی۔ اس دوپٹے پر تو جیسے اس کا دل ہی رک گیا ہو۔ کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا فیشن ایبل دوپٹہ وہ ٹی وی ڈراموں میں ہی نہیں اپنی زندگانی میں اور وہ بھی اتنے خاص

Read more

بڑھاپا… چیخوف کی عالمی شہرت یافتہ کہانی

ازلکوف ایک کامیاب آرکیٹکٹ تھا۔ ماسکو میں رہتے ہوئے اسے تیس سال ہو چکے تھے۔ اس کے آبائی شہر کے مئیر نے اسے شہر کے سب سے بڑے چرچ کی پرانی شان و شوکت کو بحال کر نے کی دعوت دی۔ ازلکوف نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔ وہ اسی شہر میں پلا بڑھا تھا، یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کی شادی بھی ہوئی۔ ٹرین سے اترتے ہی ازلکوف کو اندازہ ہوا کہ شہر بالکل

Read more

عورت کا المیہ

رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے زہرہ اس اندھیرے میں آنکھیں کھولے کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اسے روشنی سے زیادہ اندھیرے میں دکھائی دے رہا ہو کبیر کو اس سے روٹھے ایک لمحہ ہوا تھا وہ ایک لمحہ قیامت بن کر زہرہ پر ٹوٹا تھا کبیر سے تعلق جس کمزور ذریعے سے بنا تھا ابھی تک اسی کمزوری کا شکار تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ فیس بکی تعلق جس کا آغاز رنگین

Read more

سفرنامہ۔ ایک فکشن

کل رات اس پہاڑی پر دیودار کے درختوں نے ہواؤں سے باتیں کرتے ہوئے مجھے یاد کیا تھا۔ میں نے صبح صادق شہر میں انسانی زندگی کی کچھ تصویریں ساتھ لیں اور اس پہاڑی کی جانب اڑنا شروع کر دیا۔ پہاڑی کے بالکل شروعاتی حصے میں موجود شفاف چشمے سے پانی پیتے ہوئے، چشمے کے اندر سے میرے ایک ہم شکل نے گرمجوشی سے مجھے خوش آمدید کہا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کا حال چال دریافت کیا اور پھر

Read more

کھویا ہوا جزیرہ

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس

Read more

وبا کے ہاتھوں بچھڑ گئے ہم

”تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تم سے بچھڑ کر جینا کسی اذیت سے کم نہیں ہر نیا دن قیامت سا ہے تمہاری یاد عذاب بنتی جا رہی ہے۔ زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں تم نہیں۔ ۔ ۔ تم ٹھیک کہا کرتی تھی خوشیوں کو نظر لگتے ذرا سی دیر لگتی ہے۔ میں کتنے آرام سے مسکرا دیتا تھا۔ میں ہجر کے درد سے کتنا ناواقف تھا۔ میں اوپر والے کی کن سے کیوں

Read more

سہاگ کی چوڑیاں

ارے تم نے چوڑیاں پھر اتاردیں کتنی مرتبہ بتایا ہے سہاگن کی نشانی ہوتی ہیں ہاتھوں میں کنھکتی چوڑیاں مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے تمھیں سہاگن ہونا پسند ہی نہیں۔ آپ کیوں اول فول کہنا شروع کردیتے ہیں مہوش نے بے ساختہ بابر کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ تو پھر اتاری کیوں ہیں؟ آٹا گوندھ رہی تھی سوچا خراب ہو جائے گی اور بار بار پیسے خرچ کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میں مرجاؤں تو بچاتی رہنا تم

Read more

چائے

میں سوچ رہا ہوں چائے پر ایک کالم لکھوں جو نہیں پیتے انہیں کمبخت اور خانہ خراب لکھوں۔ ویسے بھی وہ دوست جو چائے نہیں پیتے خزانے کی طرح ہوتے ہیں۔ دل کرتا ہے ان کو زمین میں گاڑ دوں۔ ویسے بھی دل ظرف اور چائے کا کپ ہمیشہ بڑا ہونا چاہیے دور حاضر میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ وہ شخص ہوگا جو کہے گا میں ناشتے میں چائے نہیں لیتا۔ کڑک چائے اور خالص محبت کم ظرفوں کے لیے

Read more

زندگی کی خودکشی

اجیتا ڈپارٹمنٹ کے لان میں دونوں ہاتھوں سے لپٹی کتاب پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ اکیلی بیٹھی تخیل میں ایک اوردنیا کی سیرمیں تھی۔ اس دنیا میں، جہاں احساسات اس کے دل سے ٹکرا رہے تھے، اس کے فطری اثرات لاشعوری طورپربیٹھی اجیتا کے چہرے پہ نمایاں تھے۔ کچھ ہی دیر میں کرن کی آواز کانوں پہ پڑتے ہی وہ خیالی دنیاسے واپس لوٹ آئی۔ اجیتا؟ تم یہاں بیٹھی ہو؟ ہونہہ۔ میں! ۔ میں تو سمجھو کہیں بھی نہیں

Read more

گجرات کے فسادات سے دہلی کے چکلے تک

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا لا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے

Read more

ڈرٹی نیلی کی گیبریلا اور مردوں کی محبت

ڈرٹی نیلی سڈنی یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سے میری دوسری ملاقات ڈرٹی نیلی میں ہوئی تھی۔ ڈرٹی نیلی سڈنی کا مشہورآئرش پب ہے۔ آئرلینڈ کا ماحول، آئرش طرز پر بیٹھنے کا انتظام، آئرلینڈ کی مشہور سیاہ گنیز بیئر اور ساتھ میں آئرلینڈ کی ہی باغی اور لوک موسیقی۔ روز شام کے وقت یہاں کوئی نہ کوئی آئرلینڈ کے گانے سنایا جا رہا ہوتا ہے، آئرش لوک گانے اور آئرش باغی ترانے ان کا اپنا ایک مزا اور

Read more

ہاتھ اٹھاؤ (بادشاہ سلامت)

اماؤس کی رات تھی تینوں دوست نظر نہ آنے والے راستے پر اپنے چوتھے دوست کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں پہلے نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تو احمد شجاع کو آجا نا چاہئے تھا۔ جو کافی دیر سے دور اندھیرے میں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا بولا کہ آج اس نے اپنے اونٹوں کا سودا کرنا تھا جو پچھلے کئی دنوں سے ایک بند گلی میں باندھ رکھے تھے۔ دوسرا دوست بیڑی سلگائے خاموش

Read more

عورت ذات بہکنے کو ہر وقت تیار؟

بسمہ کو شدید تذلیل کا احساس ہوا کہ اب اسکول کا بچہ بھی اسے کم عقلی کا طعنہ دے گا۔ ” ”کیا مطلب، کیا ہوتا ہے سامنے“ اس کا لہجہ تھوڑا تیز ہوگیا۔ ”چھوٹی چاچی آپ بہت معصوم ہیں۔ مگر بڑی چاچی کو معصوم مت سمجیے گا۔ یہ جو چاچو کے لیے بھائی ہے بھائی ہے کا شور کرتی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں“ ”فہد بری بات ہے بچے ایسی باتیں نہیں کرتے وہ دونوں تمہارے بڑے ہیں۔“ ”یہ تو

Read more

آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

ایک وقت تھا کہ میں بہت ’سر بہ زیر‘ رہتا تھا۔ گلیوں اور سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے اگر کوئی اونٹ بھی اپنی بڑی جسامت کے ساتھ، میرے قریب سے گزرتا تو میری آنکھیں اسے نہ دیکھ پاتی تھیں کیوں کہ میرا سر جھکا ہوا ہوتا تھا۔ جب میں گھر پہنچتا تو گردن کے پچھلی جانب کی رگیں اکڑ چکیں ہوتیں اور ان میں درد ہونے لگتا۔ میں گردن کی اچھی طرح سے مالش کرتا تاکہ رگوں میں خون گردش کرے اور گردن کو تھوڑا دائیں بائیں کر سکوں۔

بی بی نے بہت سمجھایا، اس بارے میں کتنی نصحیتیں کیں۔ کس قدر ملامت اور سرزنش کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے یہ کام نہ چھوڑا۔ عادت ہو چکی تھی کہ سر جھکاؤ اور راہ چلتے وقت ایک سے ڈیڑھ میٹر سے زیادہ دور نہ دیکھو۔ بعض لوگوں نے مجھے جب اس حالت میں دیکھا تھا تو انہیں میری اس حالت پر بہت رحم آیا۔ انھوں نے سمجھا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے۔ بی بی کو اس بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔

Read more

ردا (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)

تحریر: تنویر عباسی – ترجمہ: یاسر قاضی میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے کی طرح جھلس گیا تھا۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوگئے تھے۔ جن کے اندر سے پسینے میں

Read more

بچھڑنا مقدر تھا

” بیٹا تم ایک بار پھر سوچ لو اس بارے میں۔“ ”امی، جب مجھے اتنی جلدی شادی کرنی ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی دور جانا ہے تو پھر آپ کیوں زور دے رہی ہیں؟“ اریبہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ ” جلدی تو نہیں ہے خیر صحیح عمر ہے بیٹا یہ۔ گریجویشن بھی مکمل ہو گیا ہے اور ماسٹرز تو تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو۔ بلکہ جو بھی کرنا چاہو وہ کر سکتی ہو،

Read more

چابیاں

”آپ نے گھر کی چابیاں کہاں رکھی ہیں؟“ فریحہ نے اپنے شوہر سے پریشانی میں پوچھا۔ ”یاد نہیں۔ ۔ ۔ ڈریسنگ ٹیبل پر ہی ہوں گی ، جہاں رکھا کرتا ہوں۔“ عرفان نے، جو گھر کے لاؤنج میں بیٹھا کتاب پڑھنے میں مصروف تھا، بیوی کی گھبراہٹ کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے، تسلی اور یقین کے ساتھ، نیم توجہی سے جواب میں گویا ہوا۔ ۔ ۔ اس کی نظریں کتاب کے اسی صفحے پر ہی رہیں۔ ۔ ۔ ”وہاں

Read more

رمیش کی چپل

ابے کیا کر ریا یے یہاں کھڑا ہوکر، چل بھاگ یہاں سے اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا ورنہ ٹانگیں توڑ ڑالوں گا تیری سالے۔ ہری چند نے اپنی چپلوں کی دکان کے باہر کھڑے 9 سالہ رمیش کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ اب تو یہ روز کا معمول بن چکا تھا، رمیش صبح صبح دکان کے باہر آ کھڑا ہوتا اور جب تک ہری چند اسے وہاں سے دھتکار نہ دیتا، مجال ہے کہ رمیش کا ایک بھی

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا(قسط 3)

اس لیے بارش میں کیمپنگ کا پروگرام مسترد ہوگیا اور یہ طے ہوا کہ کھلے موسم میں ہم کیمپنگ کریں گے جبکہ ابر آلود شامیں کسی ہوٹل یا سرائے میں گزاریں گے۔ اس فیصلے کی مانی نے بھی بھرپور تائید کی کیونکہ ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے اندر اور ارد گرد مانی کی دلچسپی کا سامان یعنی کتے، بلیاں اور چوہے وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ بوٹ سفاری کے دوران شب بسری کا مسئلہ حل ہوجانے کے بعد اب صرف

Read more

سجدہ سہو

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ سہو کرتی۔ انتہای توجہ سے نماز کا آغاز کرتی۔ رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے پہنچتے گمشدہ ہو جاتی۔ کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا۔ فقط رہ جاتی اک نارسای۔ ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اس کے پاس، سجدہ سہو! تین

Read more

ووہان کا ڈاکٹر لیو اور آخری غروب آفتاب کا نسخہ

”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا۔ ۔ ۔ آخری۔ ۔ ۔ غروب آفتاب۔ ۔ ۔ دیکھنا۔ ۔ ۔ چاہتا ہوں۔“ ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ انھیں پورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی

Read more

میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ ”بسمہ!“ باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے، وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا

Read more

آسٹریلیا والی لڑکی کی کہانی

صبا سے ملاقات سڈنی آسٹریلیا میں ہوئی۔ ہم ایک پارٹی میں مدعو تھے۔ میرے پاس کی کرسی پر ایک نہایت خوش اخلاق خاتون تھیں۔ دھیرے سے میرے کان میں بولیں” میں بن بلائی مہمان ہوں” پھر کھلکھلا کر ہنسی۔ ” میں صبا ہوں۔ میلبورن میں رہتی ہوں۔ سڈنی ایک کام سے آئی تھی۔ میری دوست مدعو تھی زبردستی مجھے ساتھ لے آئی”۔ اس کی چنچلتا، حاضر جوابی اور خوش اخلاقی نے بہت متاثر کیا۔ ہم نے بھی اپنا تعارف کرایا۔

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔ گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی

Read more

سفید موت کے کارندے

رات کا اندھیرا تھا۔ موسائی قبیلے کی حدود میں باقی قبیلے سے ذرا دور ایک بڑے جھونپڑے میں پانچ نفوس بیٹھے تھے۔ سامنے ایک بہت بوڑھی عورت ذرا اونچی نشست پہ تھی جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ ان سب کے لیے سب سے زیادہ محترم ہے۔ اس کے سامنے تین مرد اور ایک عورت مؤدب بیٹھے تھے۔ ان کے لباس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ستر پوشی کے مقصد سے نہیں پہنا گیا بلکہ اپنے مقام

Read more

مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص ہے

دیو جانس کلبی اپنی غار میں بیٹھا ہے کہ دنیا کا فاتح سکندر اعظم اس کے پاس آتا ہے اورکہتا ہے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں درویش فلسفی سر اٹھا کر فورآ جواب دیتا ہے ” آگے سے ہٹ جاؤ اور دھوپ کو اندر آنے دو“ سکندر بے توقیر ہو کر واپس چلا جاتا ہے دیو جانس کلبی ایک راہب فلسفی تھا جو ہمیشہ ہاتھ میں ایک چراغ لئے پھرتا رہتا تھا اور کہتا تھا ”مجھے ایک

Read more

ڈائمنڈز آر فار ایور

کرونا کی وبا نے ہجر کی ایسی کیفیت طاری کر رکھی تھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے چہکتے پنچھیوں کو بھی ہجر کا روگ لگ گیا ہو۔ اداسی ہر طرف چھائی تھی۔ خامشی نے جیسے دل میں گھر کر لیا ہو اور سکوت ایسا تھا کہ سائیں سائیں کرتی بلا کی خاموشی کا طوفانی شور سن کر اسک کلیجہ پھٹنے کو آتا تھا۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہو چکے تھے۔ ہوسٹل بھی غیر

Read more

اچُھوت خُون (سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ)

تحریر: انیلا ’نِیل‘ ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * * * * * * ”تَنُو! او تَنُو۔ ! شام ہو چلی۔ یہ لڑکا نہ جانے کہاں غائب ہے۔ کہا بھی تھا کہ وقت پر دوائی لے کر سیدھے گھر آنا۔ مگر مجال ہے کہ یہ کوئی بھی کام وقت پر کرے۔ ”بیگم صاحبہ نے بِلا توّقف بڑبڑاتے، تَنُو کو پکارتے ہوئے، زور سے سرونٹ کوارٹر کا دروازہ کھولا۔ بوسیدہ دروازے کے طاق نے بیگم صاحبہ کی بے رحمی

Read more

ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔ ”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے

Read more

کہانی گھر گھر کی

اتوار کا دن ہے احمد فیس بک پہ کمنٹ اور لایکس میں مصروف دنیا سے بے خبر اپنے بستر پر لیٹا ہے اس کا چھ ماہ کا بیٹا پاس رو رہا ہے۔ مگر احمد تو جیسے کانوں میں روئی ٹھونسے ہے۔ اتنے میں ناہید کمرے میں داخل ہوتی ہے۔ ”تم تو بس موبائل میں ہی گھسے رہو“ بچہ پاس رو رہا ہے مگر تمہیں کچھ ہوش ہی نہیں ” احمد بھوکلا کر بولا ”ابھی اُٹھا ہے میں بس تمہیں آواز

Read more

کورونا کے دنوں میں خفیہ دارو پارٹی

دارو کی تلاش میں امپیریل وائن ایند اسپرٹس پر پہنچا تو وہاں رش لگا ہوا تھا۔ واشنگٹن ڈی سی میں لاک ڈاؤن کے باوجود اس شاپ پر رش تھا۔ لوگ دارو کی خریداری میں مصروف تھے۔ میں بھی دکان کے شیلفز میں جھانکنے اور کوئی نئی برانڈ دیکھنے لگا۔ کراؤن رائل وسکی کبھی نہیں پی تھی اس لئے وہ ڈھونڈنے لگا۔ جب میں شیلف پر پہنچا تو وہاں سے ایک باریش شخص آخری پانچ بوتل سمیٹ چکا تھا۔ حلیے سے

Read more

باقر خانی: ایک پیار بھری کہانی

باقر خانی مغلئی دور کی ایک ایسی یادگار ہے جو مشرقی بنگال کے شہر ڈھاکہ میں پہلی دفعہ متعارف ہوئی اور رفتہ رفتہ پورے خطے میں مقبول ہو گئی۔ تاہم وہ شے جسے اس خطے کے طول و ارض میں پھیلے کروڑوں لوگ بلا تفریق رنگ و نسل نہایت ذوق و شوق سے کھاتے ہیں محض کھا کر بھول جانے والی کوئی چیز نہیں۔ یہ ایک ایسی پریم کتھا کی یادگار ہے جو سچ ہو نہ ہو دلچسپ ضرور ہے

Read more

کورونا کے ہاتھوں قتل

سورج اپنی مہربان واجلی دھوپ کے ذریعے زندگی کی حرارت کا احساس دلانے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی آب و تاب کھونے کے ساتھ اپنی آخری پھیکی کرنیں ہر سو پھیلا رہا تھا۔ مغرب کی جانب آسمان پرشفق کی لالی دھیرے دھیرے نمودار ہو رہی تھی۔ فضاؤں میں مغرب کی اذانوں کی الوہی صدائیں گونجنے میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔ ڈوبتے سورج کی طرح دس سالہ رانی کی بھی پلکیں تھکن اور دن بھر کی بوریت و اکتاہٹ کے

Read more

نیوٹن کا تیسرا قانون (لنڈے کے لبرل مت پڑھیں )

محل ماڑیوں اور غریب باڑیوں میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں ہر نئے آنے والوں کو درجنوں انسانی آنکھوں اور سوالوں کا سامنا کرنے کے بعد ہی داخلے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ آج صبح صبح آنے والے نے محلے کے داخلی راستے کی پہلی گلی سے نکلتے شاہجہان کریانے والے سے جبار وکیل کے گھر کا راستہ پوچھا تو اس نے راستہ بتانے سے پہلے اس کی آمد کا مقصد معلوم کیا اور ضروری معلومات مل جانے

Read more

سماوار: ایران سے آئی کہانی جس سے محبت کی بھاپ اٹھتی ہے

کہانی: ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی  بی بی اور کچھ ہمسائیوں نے پیسے اکٹھے کیے، تا کہ وہ طاہرہ خانم کی بیٹی کے لیے ایک عمدہ اور دیدہ زیب تحفہ خریدیں۔ طاہرہ خانم کی بیٹی کی شادی ہو رہی تھی۔ ہمیں بھی دعوت پر بلایا گیا تھا۔ یہ اس کا حق تھا کہ اس کے لیے کوئی عمدہ اور مناسب چیز لے کر جائیں۔ بی بی، جس نے ایک عمر گزار کر اپنے بال سفید کیے تھے۔ وہ اپنی

Read more

پرانی البم میں رکھی پروین کی کہانی

آج دوپہر میں نے کوئی بیس سال کے بعد امی سے فرمائش کی کہ میرا دل پرانے البمز کو دیکھنا چاہ رہا ہے۔ امی نے میری فرمائش سن لی اور خلاف توقع تھوڑی دیر کے بعد اپنے کمرے سے بہت پرانے تین عدد البمز لے کر برآمد ہوئیں۔ اپنی ماں کو یوں بھاری بھرکم البم اٹھائے ہوئے اور اپنے قدموں کو سنبھال سنبھال کر فرش پر رکھتے ہوئے آتے دیکھ کر میں تڑپ کرلیونگ روم میں صوفے پر بیٹھا اپنی

Read more

قرض کی دھوم دھام اور مفت کی غربت

چوہدری صاحب پتر کی شادی کرنی ہے کچھ پیسے چاہیں تارے نے چوہدری اقبال کے پاؤں دابتے ہوئے درخواست کی۔ چوہدری اقبال نے اپنی ایک ٹانگ جسے تارا داب رہا تھا پیچھے کی اور دوسری ٹانگ آگے کرتے ہوئے بولا، اوئے تجھے کتنے پیسے چاہیں۔ چوہدری صاحب ایک لاکھ روپے چاہیں۔ چوہدری اقبال کا ہاتھ جو مونچھوں کو تاؤ دینے کے لئے اٹھا تھا وہ مونچھوں تک پہنچ کے رک گیا۔ اور غور سے تارے کی طرف دیکھتے ہوئے چوہدری

Read more

گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی ”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “ اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی ”اتنی جلدی کیا ہے جس کام

Read more

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

داتا کی نگری، رنگ بدلتا لاہور۔ سب بدل گیا، نہیں بدلا تو داتا نہیں بدلا۔ داتا آج بھی ویسا ہی ہے۔ عرصہ ہوا، دربار کے سامنے بہت وسیع و عریض علاقہ خالی پڑا ہوتا تھا۔ ’سرکلر باغ‘ جسے مقامی لوگ ’کِیسی باغ‘ کہتے لاہور کے چاروں طرف گھومتا تھا۔ ٹکسالی کے بعد یہ باغ کافی کشادہ ہوجاتا۔ عرس سے بہت پہلے اس علاقے میں ناچنے گانے والے، ڈھول تماشا والے، مانگنے والے، مزدوری کرنے والے، دور دراز سے آکر ادھر

Read more

وبا کے دنوں میں پڑھی گئی ایک کہانی

وہ پورے ایک دن کا خواب تھا۔ وہ، خواب جیسا شخص بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا، اپنے پو رے قد اور چمکتے چہرے کے ساتھ، اس کی شخصیت پر متانت کی بڑی واضح چھاپ تھی۔ ”تو یہ ہے وہ؟ “ مینا نے خود سے سوال کیا۔ ہاں، وہی تو ہے۔ مینا، جس کی تلاش میں، شاید اپنی پیدائش سے ہی بھٹکتی پھرتی تھی۔ اور ابھی بھی اس کو ملنے کئی کوس اور برسوں کا سفر طے کر کے آئی

Read more

کس کے جنازے پہ ہو؟

آپ ہوتے کون ہے میری شادی کا فیصلہ کرنے والے سجاد نے تقریبا غصے سے اپنے والدین سے کہا۔ کیا آپ کی شادی کا فیصلہ میں نے کیا تھا۔ سجاد کا والد اس کے قریب آیا اور سجاد کے کان میں آہستہ سے کہا برخوردار میری شادی کا فیصلہ بھی میرے ماں باپ نے کیا تھا اسی لئے تو یہ تمہاری چڑیل جیسی ماں میرے گلے پڑی تھی۔ سجاد کی ماں نے بھی اسے کہا کہ میری شادی کا فیصلہ

Read more

کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟

اس دن موسم کچھ سرد تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر گہرا ابر تھا۔ میں ہفت روزہ ”لیل و نہار“ کے چیف ایڈیٹر اسد صاحب کے آفس میں بیٹھا تھا۔ در اصل میں ’لیل ونہار‘ کے ادبی صفحے کا انچارج تھا۔ اسی حوالے سے وہاں میری حاضری ہوتی تھی۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں تھا۔ یہ خوشبو سے بھرا ایک جھونکا

Read more

ایک لڑکی کا شادی سے پہلے اپنے محبوب کو آخری خط

دل وہ واحد چیز ہے جو ٹوٹے تو آواز نہیں ہوتی۔ تم اس بات سے خوب واقف تھے کبیر۔ تمھیں یاد ہوگا کہ میں ٹوٹی ہوئی چیزوں سے کتنی زچ ہوتی تھی۔ وہ چاہے دل ہو گلاس یا کوئی گملا۔ کبیر تم دور بہت دور چلے گئے اتنی دور کہ جہاں پر میرے نام کا کوئی شخص موجود نہیں ہو گا۔ کبیر تمھارے جانے کے بعد مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے محبت ہونی لگی ہے۔ میں ان سے اب زچ

Read more

آخری عورت نے اماں حوا بننے سے انکار کیوں کیا؟

دنیا بہت ترقی کر چکی تھی، وہی ترقی جس کے خواب وہ طاقتور لوگ دیکھتے رہے تھے جن کی دنیا تھی اور جنہوں نے دنیا پر حکومت کی اور کر رہے تھے اور شاید کرتے رہیں گے۔ دنیا بھر کی دولت، وسائل اور طاقت ان خاندانوں کے ہاتھ میں تھی جو نظر نہیں آتے تھے لیکن ہر طرف موجود تھے کسی نہ کسی شکل میں. ان کا وجود محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا مگر ہر طرف، ہر عمل میں ان

Read more

بدصورت عورت

وہ دنیا کی سب سے بدصورت عورت تھی۔ جب جوان تھی تب جانے کیسی تھی مگر جب سے سب نے اسے دیکھا وہ تب سے ہی بڈھی اور بدصورت تھی۔ چہرہ ہمیشہ لٹکا ہوا اور بیزار، آنکھیں ہمیشہ غیر دلچسپ اور اجنبی، ماتھے پر تیوریوں کا ڈھیر، زبان میکانکی، اٹھ جاؤ بیٹھ جاو، کھا لو، پی لو سو جاؤ! اس کا ہر کام ایسا تھا جیسے کسی نے کمپیوٹر میں فیڈ کر کے ربورٹ چلا دیا ہو اور وہ بغیر

Read more

دس پندرہ دن: الہداد میرانی کے سندھی افسانے کا اردو ترجمہ

معمول کے مطابق میں رات دس بجے سو گیا۔ آنکھ لگے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی اور کسی اچھے خواب میں غلطان تھا کہ دروازے کی کال بیل ایسے بجنے لگی جیسے ہنگامی حالات نافذ ہو گئے ہوں۔ نیند اُڑ گئی۔ گھڑی کی طرف دیکھا تو ابھی ساڑھے گیارہ ہی بجے تھے۔ میں تیز تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔ ”کون ہے؟ “ اندر سے ہی دریافت کیا۔ ”میں ہوں۔ دروازہ کھولیے“ باہر سے جواب ملا۔ میں نے آواز

Read more

وبا کے دنوں میں لکھی نو مختصر کہانیاں

کہانی نمبر 1 : وَبا میں ایک شادی ایک مہینہ پہلے، ہاں بالکل ایک مہینہ پہلے وہ کتنی خوش تھی، دن تھے کہ گزر ہی نہیں رہے تھے۔ عامر جو اُس کا بچپن کا منگیتر تھا، نے دبئی سے آنا تھا اور تئیس تاریخ کو اُن کی شادی طے تھی۔ آخر پندرہ تاریخ بھی آگئی، اُس دن عامر کا جہاز لاہور اُترنا تھا۔ لالا اور اُن کے سارے دوست ایک گاڑی پر اُسے لینے گئے تھے اور جب وہ گاؤں

Read more