چوتھی طرف مت جانا
وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔
انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔
Read more









































































