’میری بہن کی بچے دانی میں رسولیاں تھیں ہم ان کو پیر محل کی مشہور لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ آپریشن کے دن ڈاکٹر نے دوسرے ڈاکٹرز کو ساتھ لگا کر آپریشن کیا جو کہ تقریباً تین گھنٹے جاری رہا۔ پھر ہمیں 21 دن لگاتار اسپتال میں رکھا گیا جس دوران میری بہن سخت تکلیف سے گزری۔ ان کا پیٹ سینے سے لے کر پیٹ کے نچلے حصے تک ڈاکٹرز نے کاٹا ہوا تھا۔ روز پٹی بدلی جاتی جو خون میں بھری ہوتی۔ ساتھ میں بخار بھی ہونا شروع ہو گیا۔ بہن کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔
روز پٹی بدلی جاتی جو خون میں بھری ہوتی
’ہم نے فائل مانگی کہ کسی اور ڈاکٹر کو چیک کروا سکیں مگر ڈاکٹر نے انکار کر دیا۔ ایک رات ہم چھپ کر اپنی بہن کو چوری چوری کسی اور ڈاکٹر کے اسپتال لے گئے۔ انہوں نے میری بہن کے ناک میں نالی ڈالی اور ہمیں الائیڈ اسپتال فیصل آباد بھیج دیا۔ ہمارے پاس آپریشن کارڈ یا کوئی بھی اور کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں داخل نہیں کر رہے تھے۔ میں، میری بیمار بہن، ابو اور بھائی سب زمین پر بیٹھے رو رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب وہاں سے گزرے۔ مریضہ کی بری حالت دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ ہمارے بتانے پر انہوں نے فوراً ایمرجنسی میں بھیجا اور پھر آپریشن تھیٹر لے گئے‘ ۔
Read more