قاضی میدی
یہ مئی 1989 کے آخری ہفتے کا کوئی دن تھا، سخت گرمی پڑ رہی تھی، زمین تانبے کی طرح تپ رہی تھی، آسمان آگ برسا رہا تھا، لگتا تھا سورج سوا نیزے پہ ہے، اسماعیل میرٹھی کے بقول چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ میں بیوی بچوں کے ساتھ اسلام آباد سے گوجرانوالہ گیا ہوا تھا۔ تیسرے پہر گرمی کی شدت بڑھ گئی تو میں بیٹے اور بیٹی کو اردو بازار کے نیائیں چوک میں ہدایت اللہ کا
Read more





































































