چار جنرل استعفیٰ مانگنے آئے تو صدر تارڑ نے کیا کہا؟ (عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم)
آج سے بیس برس پہلے کا ذکر ہے۔ جون کے آگ برساتے سورج کو مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے چھپے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ رات کا پہلا پہر ڈھل رہا تھا۔ باد شمال ہرے بھرے شہر کی شادابیوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ ایوان صدر کا پرتکلف عشائیہ ختم ہو چکا تھا۔ معزز مہمانان گرامی متصل ڈرائنگ روم میں اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے۔ ماحول پراسرار سے تناو کی گرفت میں تھا۔ شکم سیری کے باوجود مہمانوں کے چہروں
Read more




















































































