قائم رہیں دائم چترال تیرے سر تال
چترال میں میرا بچھونا بہشت کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی کے نیچے لگا ہوا تھا۔ کھڑکی سے متصل چھوٹی سی ایک نہر گزرتی تھی جو رات کو لوریاں سنا کر سلاتی تھی۔ اسی کے ساتھ لگے درخت کی اونچی شاخ پر ایک پرندہ صبح دم راگ بھیرویں چھیڑ کر مجھے جگاتا تھا۔ اساتذہ سے پتہ چلا کہ اس مطرب خوش آواز کو مایون کہتے ہیں۔ بہار کی ہوائیں چلتی ہیں تو مایون کے سر کھلنے لگتے ہیں۔ انجیر پکنے تک یہ فضاؤں میں یونہی رس گھولتا رہتا ہے۔ انجیر کھاتا ہے تو اس کی نغمہ سرائی کو لمبی سی ایک چپ لگ جاتی ہے۔ اگلی بہار آنے تک یہ دن بھر نغمہ بن کر کسی گلوکار کی خوش نوائیوں میں رہتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو شعر بن کر کسی شاعر کے دل میں سو جاتا ہے۔
Read more

























































































