اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں تاریخی شعور

تاریخ، واقعات کو محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے سوالات کا نام ہے جو واقعات کے نتائج سے برآمد ہوتے ہیں۔ ماضی کا دھارا حال میں موجود ہوتے ہوئے، مستقبل کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کے ذریعے قومیں اپنے اعمال کا موازنہ اپنے رفتگاں سے کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیا وہ فاتح قرار پائیں گی یا شکست ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ یوں محاسبے کے عمل سے گزرتے ہوئے،

Read more

میری کرسمس، ہم اور پاکستانی مسیحی

دو ہفتے قبل بیرون ملک مقیم اک سہیلی نے جناب حاشر بن ارشاد کی میری کرسمس کہنے سے متعلق پوسٹ بھیجی۔ پڑھ لی مگر اس پر ردعمل دینے کی کوئی نیت نہ تھی۔ بہت سے نقطہ ہائے نظر آتے ہی رہتے ہیں۔ مگر آج یونیورسٹی میں دو معزز ساتھی اساتذہ کو ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے سنا تو تحریک ہوئی کہ اپنے مشاہدے اور مطالعے کے نتیجے میں کچھ باتیں عرض کر دینی چاہئیں۔ ہم ہی تو کہتے ہیں

Read more

اے عشق جنوں پیشہ

یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ فزکس اور میتھ کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر میں شاعر اور ادیب بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اِدھر اُدھر جہاں سے کچھ پڑھنے کو ملتا، میں خود کو مطالعہ سے لیس کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا۔ اور کچھ نہ کچھ لکھنے کی سعی بھی جاری رہتی۔ انہی دنوں آیا ”رادوگا“ اشاعت گھر ماسکو سے شائع شدہ، دستوئیفسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا پہلا اردو ترجمہ۔ میں نے یہ

Read more

کرم معاہدہ اور نیشنل ایکشن پلان

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج بٹ نہ جائے تیرا بیمار مسیحاؤں میں قتیل شفائی کا یہ شعر ہمارے سماج پر پورا اترتا ہے کیوں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب بھی اس مملکت خداداد میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے اس وقت کوئی نہ کوئی پلان یا معاہدہ کر کے متاثرین کی وقتی دادرسی کر دی جاتی ہے لیکن حقیقت میں رات گئی بات گئی والا سلسلہ چل پڑتا ہے اور پھر ایک کے

Read more

مخبر سیاست کا تسلسل

قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں برٹش راج کے ساتھ وفاداری اور مجاہدین آزادی کے قتل و غارت میں سرگرم شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی، فخر امام، حامد ناصر چٹھہ، چوہدری نثار، ‍خورشید محمود قصوری کے اجداد کے بارے میں تحریک آزادی کے مجاہدین کی مخبری کرنے اور انگریزوں کے کہنے پر تحریک آزادی کے مجاہدین کو قتل کرنے کے واقعات کو Punjab and the war of Independence 1957/58 تھیسز

Read more

ستتر سال سے ایک سوال : اب کرنا کیا ہے؟

قیام پاکستان کے فوراً بعد لوگ ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے کہ ہم نے پاکستان تو بنا لیا لیکن ’اب کرنا کیا ہے؟‘ اس ایک سوال نے درجنوں نئے سوال پیدا کر دیے۔ یہ بحث شروع ہو گئی کہ نو تخلیق پاکستان جس نئے سفر آغاز کرے گا اس کی سمت کیا ہو گی؟ سیاسی نظام، جمہوری ہو گا یا آمرانہ؟ طرز حکومت، صدارتی ہو گی یا پارلیمانی؟ ریاست، سیکولر ہو گی یا مذہبی، اس کی ہیئت وحدانی ہو

Read more

حصول انصاف کے لئے نظام تبدیل کیجئے!

بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں بھائی سے ملاقات کے بعد پیغام دیا ہے کہ عمران خان ملکی عدالتی نظام میں انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ہم اپنے کیسز بین الاقوامی سطح پر لے کر جائیں گے‘ ۔ اگرچہ اس کی کوئی نظیر یا روایت موجود نہیں ہے کہ کوئی عالمی ادارہ کسی خود مختار ملک میں مقدمات کا سامنا کرنے والے

Read more

وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے الجہاد الجہاد کے نعرے

آزاد کشمیر میں صدر اور وزیرِ اعظم کے عہدے محض نمائشی ہیں۔ اور ان کے پاس کوئی خاص اختیار نہیں ہوتا۔ ایک ہی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے خلاف کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگتے ہیں، عدم اعتماد ہوتا ہے، عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے، دوسرے شخص کو اقتدار سونپا جاتا ہے۔ اسی اسمبلی میں چند ماہ کے بعد پھر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے پہلے والے شخص کو دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب کر لیا جاتا

Read more

امریکا اور پاکستان: دور کے ڈھول سہانے

دور کے ڈھول سہانے ہیں صدیوں کے افسانے ہیں :دور کے ڈھول سہانے ”اردو محاورہ بھی ہے جس کا مطلب دور سے چیزیں یا حالات زیادہ پرکشش یا بہتر لگتے ہیں، لیکن قریب جا کر حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں ایسی باتیں کی جاتی ہیں جس سے لگتا ہے سب کچھ امریکہ میں ہے، اس کی اقدار دنیا کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ ہمارے پاس کچھ نہیں“ گرین کارڈ ”مل

Read more

خوشبو کی شاعرہ، پروین شاکر کی یادیں

تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین شاعرہ جسے خوشبو کی شاعرہ بھی کہا جاتا ہے، پروین شاکر کا فرزند سید مراد علی تھا۔ مُراد علی پچھلے بیس برس سے اہلیہ اور دو

Read more

انور پیر زادو۔ پل دو پل کا ساتھ۔ صدیوں پر بھاری

انور پیر زادو کو آپ سب صحافی، کالم نگار اور سندھ کی تاریخ، زبان اور شاہ لطیف کی شاعری پر عبور رکھنے والے عالم اور ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن میں انہیں ضیا الحق کی آمریت کے مشکل وقت کے دوست کی حیثیت سے جانتی ہوں۔ یہ 1979 کا ذکر ہے۔ صحافیوں کی تحریک ختم ہو چکی تھی۔ ترقی پسندوں، بائیں بازو کے صحافیوں کو بیروزگاری اور پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی کارکنوں کو سزاؤں اور قید و

Read more

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بدھ 27 دسمبر 2024 دن ڈھائی بجے صحافیوں کے ایک پرہجوم اجتماع سے دھواں دھار خطاب کیا اور بعد ازاں صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب بھی دیے۔ بطور پاکستانی شہری ہر کسی کو اظہار رائے کی آئینی آزادی حاصل ہے اور وہ اس پریس کانفرنس کے متعلق اظہار خیال کر سکتا ہے اور اس ساری پریس کانفرنس یا اس کے کسی بھی نکتے سے کسی کا بھی

Read more

کراچی پورے پاکستان کا ”ٹوپی رکھ“ ہے

حال ہی میں ہمیں اپنے ہم زلف کی طرف سے بذریعہ واٹس ایپ ان کی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ وصول ہوا۔ ہمارے ہم زلف راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ دعوت نامے میں شادی کی تقریب کا مقام ”ٹوپی رکھ کمپلیکس“ درج تھا۔ ہمارے لیے یہ نام کچھ اجنبی تھا۔ یہ نام پڑھ کر ہماری رگ تجسس پھڑک اٹھی اور ہم اس نام کی ”شان نزول“ جاننے کے بے چین ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں یہ عقدہ

Read more

2024 ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کر گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہر سال کی طرح 2024 بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوب صورت بنایا اور کچھ ایسی ہیں جو قومی یا عالمی منظر نامے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ برس ہم نئے سال میں اپنے دوستوں امجد حیات سدوزئی، حسنین اصغر تبسم اور ارشاد امین کے بغیر داخل ہوئے تھے اور 2024 میں ہمیں

Read more

آئیے ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی

ہمارے خاندان کی ایک شاخ، بہت پہلے جالندھر سے رحیم یار خان کی تحصیل ، صادق آباد منتقل ہوئی۔ مضبوط مذہبی رجحان کے ناطے ایک رشتہ دارد ینی مدرسے کے انچارج بنے۔ ہر سال درس گاہ کے لیے عطیات وصول کرنے ، دورے پر نکلتے تو ہمارے پاس عارف والا شہر آتے ۔ اُن کی آمد پر گھر کا ماحول بدل جاتا ۔ شفیق انسان تھے۔ محبت اور اپنائیت کی مہربان چمک سے آنکھیں روشن رہتیں۔ ایوب خان کی حکومت

Read more

سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی گِٹ دِم (get them) پالیسی

پاکستان کے افغانستان میں ہوائی حملہ، آج ڈیورنڈ لائن کے آر پار حملے، پاکستانی وزیر دفاع کا محمود غزنوی کو لٹیرا کہنا، سب ایک سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ پاکستان میں اگر حکومت چلانے کے معاملات گمبھیر اور جمہوری حکومت کی اختیار مندی کی مندی ہے، تو افغانستان میں تو سرے سے کوئی مرکزی حکومتی انتظام ہی موجود نہیں۔ یہاں کچھ چہرے اقتدار کے طاقچوں میں پڑے جل بجھ رہے ہیں تو وہاں کی حکومت، مختلف مسلح اور طاقتور گروہوں کے

Read more

بے نظیر سلامت تیری توقیر

نوحہ خوانی کرتی پرسہ دیتی صف ماتم بچھاتی آشفتہ حال کر گئی 27 دسمبر کی وہ اداس بے آس شام شفق کی سرخی بھی لال تھی۔ شاہ خاور بھی ڈوبنے کو بے تاب تھا ہر آنکھ اشک بار اور دل بوجھل تھا جیالوں کے علاوہ بیسیوں کے حلق میں آنسؤں کا ذخیرہ جیسے پھنس گیا تھا۔ سر نوچتے سینہ کوبی و بین کرتے بی بی کی جدائی کے نوحے پڑھتے سبھی ماتم کناں تھے۔ 27 دسمبر 2007 ء کی ظالم

Read more

منقش مرغ اور اونی بھیڑ کی حکایت

غریب قلم مزدوروں کی کیا بضاعت ہے۔ سیٹھ صاحب اور ان کے موروثی پرچہ نویسوں کی نگہ نیم باز کے اشارے پر رکھے چراغ ہیں۔ اک پل کی پلک پر دنیا ہے۔ صاحبان محرم راز نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو روٹیوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فیض صاحب جیل گئے تو مشتاق گورمانی کی بن آئی اور سالک صاحب کی سرگوشی سے ”امروز“ میں چراغ حسن حسرت کا چراغ دھواں دے گیا۔ کچھ ہفتے قبل

Read more

سعیدہ گزدر۔ ترقی پسند ادب کا ستارہ

پاکستان میں ترقی پسند خیالات کے داعی ایک ایک کر کے ہم سے بچھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ راحت سعید جو ”ارتقا“ ادبی و سماجی مجلے کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ترقی پسند تحریک کو جاری رکھنے میں مصروف عمل تھے 23 اکتوبر کو کوچ کر گئے۔ اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسند ادب کی مایہ ناز شخصیت سعیدہ گزدر بھی روانہ ہو گئیں۔ اُن کا انتقال 7 نومبر 2024

Read more

ہیرا منڈی سے کیفے خانوں تک کا سفر

لاہور میں ایک بازار ہے جس کو بازار حسن کہا جاتا ہے، اس بازار کو ایک اور نام سے بھی پکارا جاتا ہے وہ نام ہے، ہیرا منڈی، ہیرا منڈی کی 17 ویں صدی میں قائم ہوئی، اس کو شاہی محلہ بھی کہا جاتا ہے، اس کی تاریخ کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا، بس اتنا ذکر کردوں کے قیام پاکستان سے قبل نواب اپنے بچوں کو تہذیب اور ادب و آداب سکھانے کے لئے اس بازار کی طائفوں کے

Read more

معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی

Read more

مریم نواز کا دورہ چین

ذوالفقار علی بھٹو نے پاک چین دوستی بارے میں تاریخی جملہ کہا تھا کہ ”پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔“ جس میں نواز شریف نے ”پاک چین دوستی فولاد سے زیادہ مضبوط“ کر دیا جس کے جواب میں چینی وزیر اعظم نے کہا کہ ”اگر چین سے پیار کرتے ہو تو پاکستان سے بھی پیار کرو“ پاکستان 1947 ء میں قائد اعظم اور چین 1949 ء میں ماؤزے

Read more

سولہ دسمبر کا سیاہ ترین دن

16 دسمبر 1971 تاریخ پاکستان کا سیاہ ترین دن، جب 53 برس قبل دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اپنوں کی ہٹ دھرمی اور غیروں کی سازش کے باعث دو لخت ہو گئی تھی۔ سقوط غرناتا اور سقوط بغداد کے بعد امت مسلمہ کا ایک اور بڑا حادثہ فاجعہ سقوط ڈھاکہ تھا۔ دسمبر 1971 ء کا عہد، عہد بچپن تھا۔ مسجد سے قرآن شریف پڑھ کر باہر نکلے تو طیاروں کی گھن گرج سنائی دی۔ اماں سے آ کر

Read more

سولہ دسمبر: ریاست کہاں کھڑی ہے

”اگر میری مادری زبان تمہاری ریاست کی بنیادوں کو ہلا گئی ہے تو اس سے مراد ہے کہ تم نے اپنی ریاست میری زمین پر تشکیل دی ہے“ موسی اینتر جب یہ بات کر رہا تھا۔ تو یقیناً اسے معلوم ہو چکا ہو گا۔ کہ موسی نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے۔ جو سیاق و سباق میں رکھی جائے یا مضمون کے بغیر پڑھی جائے مطلب ہر طرح سے واضح ہے۔ موسی کو سمجھ تھی کہ اس کی یہ

Read more

مزدور رہنما غلام دستگیر محبوب

آزادی کے 77 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان آج بھی اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف اس دھرتی اور اس کی مٹی کے غداروں، مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے وسیع تر جاگیریں الاٹ کی گئیں، تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو دوام بخشنے، آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تو جال بچھایا گیا۔

Read more

مدرسہ رجسٹریشن: فرسٹریشن کا شکار

یوں تو دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ گزشتہ سات دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ ہر سیاسی حکومت کے درمیان مدارس کے پانچ معروف وفاق کے سربراہان کے مذاکرات بھی چلتے رہے۔ لیکن مستحکم اور پائیدار حل نہ نکل سکنے کے باعث، طرفین کی جانب سے مختلف اسباب و وجوہات رکاوٹ کا باعث بنی رہی ہے۔ حالیہ دینی مدارس رجسٹریشن کا معاملہ بھی کچھ اسی نوعیت کا سامنے آیا۔ پاکستان کے سب سے معروف دینی مدارس وفاق جو کہ

Read more

میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے

شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی پٹیل فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں ) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے

Read more

سولہ دسمبر 1971۔ سولہ دسمبر 2024: تذلیل، توہین اور گمشدہ شناخت کے 19,359دن

ایک نسلی برادری، جو ”بہاری پاکستانی“ کے نام سے جانی جاتی ہے، بے دردی سے جانچی گئی ہے۔ میں نے اس کمیونٹی کے حوالے سے، اور خاص طور پر غیر بنگالی یا بہاری پاکستانی محصورین کے لیے، اپنی مقدور بھر آواز اٹھانے کی، آگاہی اور ہم دلی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشتر میڈیا کے فورمز ایسی تحریر اور رائے کو رد کر دیتے ہیں یا ان کو جگہ دیتے ہیں جن کے عہدے اور مرتبے رعب اور دبدبے

Read more

دمشق پر باغیوں کا قبضہ

  1984 میں اپنی وفات سے چند ہفتے قبل فیض احمد فیض اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ اتفاق سے وہ جتنے دن یہاں قیام پذیر رہے میری ان سے روزانہ اور طویل ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کی بدولت میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے انتقال کے بعد اکثر یہ سوچتا رہا کہ شاید دنیا سے رخصت ہونے سے قبل وہ اپنے دل میں چھپائے خیالات برملا بیان کردینا چاہ رہے تھے۔ بہرحال اسلام آباد تشریف لانے کے پہلے دن

Read more

سول نافرمانی، کس کے خلاف؟

عمران خان کے ان مطالبوں میں تو کوئی غلط بات نہیں ہے کہ 9 مئی اور اب 26 نومبر کے واقعات کے بعد گرفتار شدہ سیاسی کارکنوں و لیڈروں کو رہا کیا جائے۔ یا یہ کہ انتخابات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا اہتمام ہو تاکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکے۔ لیکن وہ شرائط میں لپیٹ کر مطالبے کر کے اور سیاسی مکالمہ کی بجائے ’سٹیک ہولڈرز‘ سے بات چیت کے نام پر مصالحت و مفاہمت کا راستہ

Read more

’پراوین‘ کی لکھی کہانی پر غور کریں

ایک بارپھر آپ سے التجا کر رہا ہوں کہ انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں نے ہمیں خود ستائشی یا دوسروں کی ذلت سے لطف اٹھانے کی جس علت میں مبتلا کررکھا ہے کبھی کبھار اسے بھلا کر عالمی سطح پر ابھرتی نئی گیم پر بھی نگاہ ڈال دیا کریں۔ ”عالمی سطح“ کا ذکر ہو تو ہم جیسا ملک امریکہ میں ہوئی تبدیلیوں پر اپنی بقا کے لئے توجہ دینے کو مجبور ہوتا ہے۔ ہماری بڑھک بازیوں اور قومی حمیت کے

Read more

بنگلہ دیش کا خونی آغاز 1971۔ 1981

  16 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج کے سرنڈر کے بعد مشرقی پاکستان کی تاریخ تو رک گئی لیکن بہت سوں کے لئے بنگلہ دیش کے حالات میں بھی دلچسپی نا رہی، جیسے نئے بنے ملک میں گورننس کا تجربہ اور ان بنگالیوں کے حالات سے واقفیت جو اس وقت پاکستان میں محصور ہو گئے تھے وغیرہ۔ آج کل پاکستان میں 71 کے حالات میں ایک دفعہ پھر دلچسپی یہاں کے موجودہ حالات کے کیے گئے موازنہ کی وجہ سے

Read more

سیاسی تجربات اب ختم ہونے چاہئیں

77 سالوں میں اس ملک میں یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ حق حکمرانی کا حق سول حکمرانوں کو ہے یا غیر سول حکمرانوں کو۔ ان دو طبقات کے درمیان ہمیشہ اقتدار کی رساکشی جاری رہی، اور اسی وجہ سے ملک میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک آمریت رہی۔ باقی عرصے میں بھی جمہوریت پر غیر جمہوری قوتوں کا اثر غالب رہا۔ جب تک بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا، اس کی اکثریت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

Read more

جون ایلیا کی شاعری میں پاکستانی سیاست کا المیہ

فوضوی شاعری جون ایلیا کے ان دو اشعارسے مضمون کا ابتدائیہ ہے کہ منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گُم ہوئی سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گُم ہوئی وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گُم ہوئی پاکستانی سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ نظریاتی اور فکری اعتبار سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں ہے جسے

Read more

جنریشن زی کے لطیفے: مکمل کالم

ہمارا تعلق اُس نسل سے ہے جس نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ہوا ہے، یہ امتحان کیا ہوتا ہے، جنریشن زی کو کیا پتا۔ اور یہ جنریشن زی کیا ہوتی ہے، ہمیں کیا پتا! آپ میں سے جن لوگوں کو اِس جنریشن کا علم نہیں وہ انٹرنیٹ پر صرف اِس کے بارے میں لطیفے تلاش کر کے دیکھیں دل و دماغ تازہ ہو جائیں گے۔ وہ بچے جو سن 2000 ء کی دہائی کے آس پاس پیدا

Read more

تحریک انصاف کے کارکنوں کی ہلاکت۔ ایک سنجیدہ تحریر

سنجیدہ تحریر لکھنا ہمیں پسند نہیں۔ لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ سنجیدہ تحریر کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ اور اب ایسا ہی ایک موقع ہے۔ تحریک انصاف کے احتجاج سے حکومت نے نہایت سختی سے نمٹا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سیل کے علاوہ ذمہ دار بھی اس تواتر سے جھوٹ بولتے ہیں کہ صرف ان کے بیان پر اعتبار کرنے میں تامل ہوتا ہے۔ پہلے پہل تحریک انصاف کے ترجمان

Read more

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے ملک کے سیاسی پس منظر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پیچیدہ اور نشیب و فراز سے بھرپور ہے، جس میں کئی عوامل جمہوری نظام کی کمزوری کا باعث بنے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کو شدید سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات ( 1948 ) اور لیاقت علی خان کی شہادت ( 1951 ) کے بعد قیادت

Read more

جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم: حصہ اول

ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟ میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا محبت اور دانائی بھرا سوال نامہ جب مجھے ملا تو ان دنوں میں آپ کی ہی کتاب گرین زون فلسفے کو

Read more

فرقہ واریت کی آگ میں جلتا پاکستان

پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی تاریخ دلخراش اور شرمناک ہے۔ ستر اور اسی کی دہائیوں میں یہ فسادات اس وقت زور پکڑنے لگے جب ضیاء الحق مسند اقتدار پر قابض تھے۔ اس وقت اور بعد ازاں پارہ چنار سے گلگت بلتستان تک اور جھنگ سے کوئٹہ تک پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جلتا رہا۔ ان واقعات میں اب تک ہزاروں بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی ہوئے اور ہزاروں لوگ ہجرت کر چکے ہیں۔

Read more

خورجی کے خوارج اور گرو کی بانی

میلان کنڈیرا کا ناول ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘ ہماری نسل کا نمائندہ ادبی استعارہ ٹھہرا۔ ہماری نسل نے ساٹھ کی دہائی کے خواب آگیں برسوں میں آنکھ کھولی۔ جوانی میں سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی جمہوری ابھار سے جذبوں کو مہمیز کیا۔ مذہبی دہشت گردی کا جنم دیکھا اور اب بڑھاپے میں جمہوریت دشمن اور مقبولیت پسند سیاست کا بڑھتا ہوا اندھیرا دیکھ رہے ہیں۔ ناول کا خلاصہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایک منظر یاد دلانا مقصود ہے۔

Read more

”گولڈ“ کے کھلنڈرے روبوٹ

صاحبو! تاریخ کے بھی دلچسپ نشیب و فراز ہوتے ہیں، تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوششیں ہر دور میں کی جاتی رہی ہیں مگر تاریخ ہے کہ اپنی ثابت قدمی پر استقامت سے مضبوط قدموں سے کھڑی رہی اور کھڑی ہے، زمانے کے مدوجزر اور موسموں کی تبدیلی نے انسانی سماج میں ہلچل پیدا کی، زمین کے پاؤں اکھڑے یا بستیاں برباد ہوئیں، تاریخ نے ان حقائق ہی کو رقم کیا جو اس وقت کی تلخ حقیقت تھے، پھر

Read more

منزل دور نہیں

زمانی اور مکانی حدود سے بالاتَر، ہر عہد میں، ہر زمانے میں، ہر شہر اور ہر بستی میں اچھے، خوبصورت، محبت کے قابل اور احترام کے مستحق لوگ ہوتے ہیں۔ ڈھلتی ہوئی شام کو میری نظریں ریل کی پٹری کے اوپر تھیں اور میں بے تابیِ سے ریل کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن صاحب تھے سنا تھا کہ اب ریل کی آمد اور روانگی میں کچھ باقاعدگی دَر آئی ہے مگر

Read more

لہو لہو پارا چنار

ہم سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں ہماری بدقسمتی کہیں یا بے حسی ہم کسی بھی سانحے کے بعد ایک دن یا بہت زیادہ ہو تو دو دن اس سانحہ کا بہت ہی دھوم دھام سے سوگ مناتے ہیں لیکن اب تو یہ حالات ہیں ہمارا سوگ بس صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر منحصر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا لہو اتنا سستا ہو گیا ہے کہ جس

Read more

یہ غروب عصر کا وقت ہے

یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ خالد احمد کی موت وقت کا ظلم ہے، آمریت کا بانجھ پت جھڑ ہے یا ایک پسماندہ معاشرے کی بے ہنگم افراتفری کے پس پردہ دبے پاؤں بڑھتی بے خبری۔ یہ ہماری یاد کی رحم دلی ہے جو ہمیں دکھ کی تیز آنچ کا احساس نہیں ہونے دیتی یا تاریخ کی دانستہ تنسیخ ہے جو شعورِ تناسب کو ملیامیٹ کرتی گزر رہی ہے۔ خالد احمد لاہور کے مشرق میں کوئی 75 میل

Read more

دورہ سندھ کی کچھ اور یادیں اور باتیں

اس سفر میں ڈسٹرکٹ کونسل مردان کی خاتون کونسلر بیگم علی اکبر میرے ہمراہ تھیں۔ ہم دونوں کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔ کہ 83 میں ہوائی سفر بھی امیر امرا ہی کرتے تھے۔ ہمارے جیسے متوسط طبقے کے لوگ عمرے اور حج پر ہی پہلا ہوائی سفر کرتے تھے۔ سو ہم نے بھی اپنے اس پہلے ہوائی سفر سے خوب لطف اٹھایا۔ کہ تب ”باکمال لوگ لاجواب سروس“ والی اس ایر لائن میں دم خم باقی تھا۔ ہوا کے

Read more

دس گھر توڑ کر ایک گھر: حکومت کی نئی پالیسی

اب پرندے درختوں کی شاخوں پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں۔ جنگل اب صدیوں پرانے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ہفتوں تک سنائی نہیں دیتی، اور وہاں کٹے درختوں کی خشک جڑوں کے سواء کچھ نظر نہیں آتا۔ دو سال پہلے تک تو یہاں سب کچھ موجود تھا، مگر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر نے سب اجاڑ دیا۔ اب وہاں تعمیراتی مشینوں کی گھرگھراہٹ دور دراز رہنے والے جانوروں کی زندگی

Read more

اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں

پہلی دفعہ The Case of Exploding Mangoes ”(قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا) نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتنا نہ جانا۔ پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی کتاب کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ چیک بک ہے اور دوسرے خوشونت سنگھ کی کتابیں ہیں۔ ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے دوسرے مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔ انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ“ اگر گورنر جنرل

Read more

پارلیمانی کچھوا اپنی خود مختاری کی جانب سر کتے ہوئے

1997 ء میں عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے 237 میں سے 137 نشستوں پر کامیابی سمیٹ کر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں تاہم نواز شریف صاحب نے ملک کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دینے کے بجائے جوڑ توڑ کر کے سندھ میں بھی اپنی حکومت بنا ڈالی تھی۔

Read more

مولانا فضل الرحمان اور اصولی سیاست

مولانا فضل الرحمان قیام پاکستان کے بعد سے لے کے چودہ اکتوبر انیس سو اسی میں اپنی وفات تک ملک کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے مولانا مفتی محمود کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد انھوں نے جماعت کی قیادت سنبھالی مگر اسی سال افغان جہاد اور جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء کی حمایت کے مسئلے پہ جماعت اختلافات کا شکار ہو گئی اور دو گروپوں جمعیت علماء اسلام فضل

Read more

پاکستان میں سیاست کی بحالی

پاکستان میں پچھلے 77 برسوں سے ایک منظم سازش کے تحت لفظ سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم وجہ مملکت پاکستان میں اس کے قیام سے لے کر آج تک غیر جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ 1947 میں تخت برطانیہ سے برصغیر نے آزادی حاصل کی۔ جس کے نتیجے میں دو ملک وجود میں آئے ہندوستان اور پاکستان۔ قیام پاکستان سے ہی فوج نے سیاست میں مداخلت

Read more

ڈی ایس ایف اور ادریس خٹک

12 نومبر 2019 کو حیدرآباد کی وہ شب بھلا کیسے بھلائی جا سکتی ہے جس شب ہم سب کمیونسٹ فکر و فلسفہ کے دھنی دوست، معین قریشی، منظور تھہیم، لطیف لغاری، یونس راہو کامریڈ بخشل تھلو اور عالیہ تھلو کے فلیٹ پر ساری رات سیاست اور ملکی حالات پر اختلاف اور اتفاق کے ماحول میں گفتگو کرتے رہے، اور جب 12 نومبر کی وہ رات بھیگنے لگی تو ہر دوست کی جمائی نے نیند کا احساس دلایا کہ اسی لمحے

Read more

سعیدہ گزدر: خود فراموشی کے ماہ و سال

اب یہ کہانی سنانا ضروری ہو گیا ہے کہ اس لشکر کے بچے کھچے سپاہی بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوتے جا رہے ہیں جن کے دلوں میں صداقت اور جن کے نطق اور قلم میں طاقت تھی۔ جو ضیاءالحق کے طوق و سلاسل کو شورش بربط و نے سکھانے نکلے تھے جو ہمت کا بھرپور خزینہ رکھتے تھے، جن کی ہر ساعت ایک عمر تھی اور ہر فردا ان کا امروز تھا۔ ہاں وہ سب رخصت ہو رہے

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

توہین مذہب: ایک التجا

کیسی بخشش کا سامان ہوا پھرتا ہے شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کہ شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے چند روز قبل سندھ میں توہین مذہب کے کیس میں ڈاکٹر شاہنواز نامی شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد میں رنجیدہ ہوا لیکن حیران نہیں کیونکہ میرے ارض وطن میں یہ ایک معمول بن گیا ہے۔ یہ وہ بیج ہے جو امیر المومنین جنرل ضیا

Read more

صورتِ حال: ایک نیم جاں کالم

  آئینی اصلاحات کی تندوتیز ہوا چلنے لگی اور شبِ تاریک میں سیاسی رہنماؤں کے درمیاں سرگوشیاں ہوتی رہیں، تو مجھ پر تجسّس کا بخار چڑھنے لگا۔ اِسی عالمِ اضطراب میں 26 ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو گئی اور وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف نے اعلان فرمایا کہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا در کھل گیا ہے اور اَب ہُن برسنے والا ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ معجزہ کس طرح وجود میں

Read more

داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر

مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال

Read more

قاضی فائز عیسیٰ: جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

قیام پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں، عدلیہ نے قانونی روایات نبھائیں تاہم سیاسی عدم استحکام میں عدلیہ کا کردار سیاسی اتھل پتھل اور ایسی قانونی تشریحات سے عبارت ہوا جو پس پردہ دباؤ اور باہمی تال میل سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ تمیز الدین ( 1954 ء) کیس اہم موڑ تھا جب عدلیہ نے، مقتدرہ کے دباؤ پر پہلی آئین ساز اسمبلی کی برخاستگی درست قرار دی۔ ”نظریہ ضرورت“ فوجی بغاوتوں کی قانونی حیثیت اور سول حکومتوں پر

Read more

پارلیمنٹ کے مقابل عدلیہ کا متوازی نظام

طویل ردّ و کدّ کے بعد بالآخر سنیچر کے روز سپریم کورٹ کے 30 ویں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جن کا انتخاب منگل کی رات 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کے پینل میں سے کیا، آئین میں حالیہ ترمیم کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ کو منتقل ہو گیا، قبل ازیں سپریم کورٹ میں ججز کی تقرریوں، تنخواہیں، مراعات اور احتساب

Read more

جمہوریت سیکھنا پڑتی ہے

پچھلے 25 برس میں ہمارے عامل صحافیوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے آ گئی ہے۔ دوسری طرف کچھ صحافیوں کی قسمت ایسی کھلی ہے کہ وہ مشاہرے وغیرہ کے جھنجھٹ سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ رزق میں ایسی کشائش آئی ہے کہ باقاعدگی سے ترقی یافتہ مغربی ممالک میں چھٹیاں وغیرہ مناتے ہیں اور واپسی پر ہمیں یورپ کی صاف ستھری سڑکوں، عالی شان عمارتوں اور خوابناک تفریح گاہوں کے قصے سناتے ہیں۔ درویش کو چند

Read more

مذہبی انتہا پسندی کی تاریخ اور پاکستانی معاشرہ

شدت پسند کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد مٹھی بھر اور پورے معاشرے کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ وہ اپنے اصولوں پر زندگی بسر کرتے رہتے ہیں اور اپنی درسگاہوں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہمیں آج کے ترقی یافتہ یورپ میں بھی مل جائیں گی کہ جہاں کچھ لوگ سیکولر معاشروں میں جہاں شخصی آزادی اپنی انتہا پر ہے، وہاں بھی سختی

Read more

میرا آئندہ کوئی خبر نہ ڈھونڈنے کا ارادہ

جمعرات کی صبح جو کالم چھپا ہے اس میں اپنی دانست میں اس خاکسار نے ایک اہم ”خبر“ دینے کی کوشش کی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آئین میں 26 ویں ترمیم پاس ہوجانے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت کو خیال آیا کہ آئین کی بے شمار شقوں میں ترامیم ہوئی ہیں۔ سیاست میں لیکن لوگ حقائق سے تاثر کو زیادہ اہم گردانتے ہیں۔ تاثر کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے خیال یہ آیا کہ خلق خدا کی اکثریت تو

Read more

چھبیسویں آئینی ترمیم۔ ایک جائزہ

بلاول بھٹو کی کوششوں اور مولانا فضل الرحمٰن کی حکمت عملی سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور ہو ہی گئی۔ قوم کو مبارک ہو کہ آپ کے راہنماؤں نے اپنا دن کا چین اور راتوں کی نیند تیاگ کر یہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروائی ہے۔ چاروں جانب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ ہر طرف مبارک سلامت کا شور ہے۔ اس خوشی میں کیک کاٹے جا رہے ہیں منہ میٹھے کرائے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے

Read more

عمران خان کی پی ٹی آئی اور بھارتی پی ٹی آئی میں فرق؟

جب 90 ء کی دہائی کے آغاز تک کوئی کہتا تھا کہ پی ٹی آئی نے یہ بات کہی ہے تو فوراً سمجھ میں آ جاتا تھا کہ ضرور پاکستان کے خلاف کچھ کہا سنا گیا ہو گا۔ اُس وقت پی ٹی آئی صرف بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مختصر نام کے طور پر پہچانی جاتی تھی۔ پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف کا چھوٹا نام بھی ہے۔ بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک

Read more

اور میلہ کرسال بھی نہ بچ سکا

جب 1965 کی جنگ اپنے عروج پر تھی اور بھارتی طیارے پاکستانی سرزمین پر بم پھینک رہے تھے، چکوال کا تاریخی ثقافتی میلہ ”میلہ کرسال“ بلا روک ٹوک جاری رہا۔ ستمبر 1998 میں جماعت اسلامی کی نرسری سے اٹھی غازیانِ ملت کی تنظیم ”پاسبان“ کے مجاہدوں نے کرسال میلے پر یلغار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر رقص و موسیقی کی کوئی تقریب ہوئی تو پھر معاملات پاسبانیوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ کرسال میں غازیانِ ملت کے لشکر کے

Read more

پی ٹی آئی کی صفوں سے لوگوں کی تلاش

دنیا کے بے شمار افراد کی طرح میں بھی طویل عرصہ اس گماں میں مبتلا رہا کہ انٹرنیٹ کی بدولت متعارف ہوئے پلیٹ فارم ہمیں وسیع القلب بنانے کے علاوہ دیگر ممالک کے زیادہ قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ پلیٹ فارموں نے مگر ہمیں بطور فرد خود پرستی میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ہم اپنے ذہنوں کو کشادہ کرنے کے بجائے

Read more

بینظیر بھٹو بنام بلاول: سندھ میں خیر کی توقع نہیں

میرے پیارے بیٹے بلاول، امید ہے آپ خیریت میں ہوں گے۔ لیکن میں اور سندھ اس وقت نہ ہی کسی خیر کی توقع میں ہیں نہ ہی کسی عافیت کی امید۔ بیٹے میں یہ خط آپ کو نہ صرف رنج و الم کی کربناک کیفیت کے مابین لکھ رہی ہیں، بلکہ میرا یہ خط میرے ان سسکیوں اور اشکوں کا پروانہ ہے، جو میں نہ کسی کو کہہ سکی اور نہ کوئی سن سکا۔ یہ خط اس جماعت کے جنازے

Read more

پاکستان میں طلبہ سیاست: ایک تفصیلی جائزہ

پاکستان میں طلبہ سیاست کی ایک گہری تاریخ ہے، جو آزادی سے پہلے شروع ہوئی، جب طلبہ گروپوں جیسے آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے پاکستان کے قیام کے لیے نوجوانوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ، طلبہ تنظیمیں یونیورسٹیوں میں سیاسی نظریات کے مطابق بننا شروع ہوئیں۔ ایوب خان کے دور ( 1958۔ 1969 ) میں طلبہ نے اس کی مستبدانہ حکمرانی کے خلاف فعال مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں 1960 کی

Read more

اک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی تلاش

نوابزادہ نصر اللہ خان کی وفات کے 21 سال بعد صدر آصف علی زرداری نے ان کی جمہوریت کے لئے خدمات کے اعتراف میں ”نشان امتیاز“ دینے کے لئے کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کر دی ہیں سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کو ”نشان امتیاز“ بعد از موت دیا جائے گا پچھلے 21 سال کے دوران کسی حکومت کو ”بابائے جمہوریت“ نوابزادہ نصر اللہ خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کا خیال نہیں آیا

Read more

دھونکل شریف کا مرید اور اقبال احمد کی نصیحت

خطہ پاکستان بالخصوص منطقہ پنجاب تاریخ انسانی میں فروغ شرافت کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس وادی سرسبز و آب شیریں میں ہر دوسرا قصبہ اور ہر تیسرا گاؤں ’شریف‘ کے لاحقے سے متصف ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکپتن شریف نامی قصبے کے مرجع خلائق ہونے کے اسباب تو آپ جانتے ہیں۔ کچھ علمائے تاریخ کی رائے میں تخلیق کائنات کے بعد اجزائے ہستی کے جو حصے بچ رہے ان میں شرافت کا ذخیرہ مقدار میں سب سے زیادہ تھا۔

Read more

سیاسی جماعتوں کی خیبر پختونخواہ سے بے نیازی

صحافت کے شعبے میں ذرا قدم جما لئے تو افغانستان میں ”جہاد“ شروع ہوگیا۔ اس کے بارے میں میرا دل شکوک و شبہات سے بھرارہا۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ ”جہاد“ کے سرپرست جنرل ضیا الحق تھے جنہوں نے جولائی 1977ء میں مارشل لاءلگانے کے بعد صحافیوں کی زباں بندی کیلئے ایسے منصوبے بنائے جن میں ہمارے چند ساتھیوں کو برسرعام کوڑے مارکر ”عبرت کا نشان“ بنانے کا عمل بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں 1980ء کی دہائی کے آغاز

Read more

سیاسی پیر

غلام محمد تگڑے بیوروکریٹ تھے، بعد ازاں بیوروکریسی سے اچھل کر گورنر جنرل کی کرسی پر بیٹھ گئے، گورنر جنرل غلام محمد خاصے پیر پرست تھے۔ ان کے پیر وارث علی شاہ دیول شریف کے پیر تھے جو لکھنؤ انڈیا کے کہیں قریب ہے۔ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں۔ گورنر جنرل کو اپنے پیر سے خاصی عقیدت تھی ان کی تصویر اپنے بیڈروم کے اس حصے میں لگائے رکھتے جہاں سے آسانی سے ان پر نظر پڑ

Read more

ضیاء کے مارشل لا کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی عظیم قربانیاں

1983 کا سال پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے تاریک ادوار میں سے ایک تھا، جب جنرل ضیاء الحق کا آمرانہ مارشل لا اختلاف رائے کو کچل رہا تھا اور جمہوری آوازوں کو خاموش کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں جو لوگ اس بے رحم حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک بڑا نام محمود خان اچکزئی کا تھا۔ 7 اکتوبر کو، محمود خان اچکزئی، جو اُس وقت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (اب پشتونخوا ملی

Read more

ذاکر نائیک کا پاکستان

سرمایہ دارانہ نظام میں مذہبی مبلغین کا کردار تاریخی طور پر ایک ایسا وسیلہ رہا ہے جسے حکمران طبقہ محنت کشوں کو تسلی دینے اور انہیں نظام کی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت سے روکنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں بعض مبلغین حکمران طبقے کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہیں، یہ مبلغین مذہب کی تشریح اس انداز میں کرتے ہیں جس سے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ سرمایہ دارانہ حکومتیں مذہبی نعروں

Read more

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے کہ اپنے نام ہی میں مے کدہ آباد کردے، اور بقول سیدنا ذہین شاہ تاجی کے مئے بن کر مے خانہ بن کر ہستی کا افسانہ بن جا RefaEli-Bar اسرائیل کی دگج اور دنیا میں نام چین ماڈل مانی جاتی تھیں۔ ریمپ پر چلتی تھیں تو گردشیں بدن کا طواف کرتی تھیں اور زمانے ٹھہر کے دیکھتے تھے۔ چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے آئی پی پی ز والوں کی

Read more

’پانچ سو وکلا کا احتجاجی غول‘

”احتجاجی“ غول سے گھبرا کر ہمارے ایک چیف جسٹس، سجاد علی شاہ جن کا اِسم گرامی تھا، عدالت چھوڑ کر اپنے چیمبر تشریف لے گئے تھے۔ حالانکہ وہ ایسے ”دلیر“ جج تھے جنہوں نے اپنے ایک پیشرو نسیم حسن شاہ کے لکھے ”تاریخی“ فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جس فیصلے سے انہوں نے اختلاف کیا اس کے ذریعے اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں نواز شریف کی پہلی حکومت اور ان دنوں کی قومی اسمبلی بحال کردی

Read more

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ’قانون‘ کے سوا

پرانی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس کسی تقریب میں شریک تھے، انہوں نے عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار پر بڑی پُر مغز تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ آئین میں ترمیم کے پارلیمانی اختیار کو سپریم کورٹ ’عدالتی ریویو‘ کے تحت نہ صرف دیکھ سکتی ہے بلکہ کسی قانون اور ترمیم کو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔ جج صاحب کی شہرت چونکہ بے حد قابل اور ایماندار

Read more

مقدس تلوار اور عدم تشدد کا پیروکار سندھ

سندھ کی روح صوفیانہ ہے عدم تشدد، مذہبی رواداری، امن پسندی سندھ کے خمیر میں شامل ہیں۔ سندھیوں کے لئے دھرتی اور دریا ہمیشہ سے مقدس رہے ہیں۔ شاہ لطیف سندھیوں کا روحانی رہبر ہے۔ انتہا پسندی، جنونیت سندھ کے مزاج کا کبھی حصہ نہیں رہی۔ ہزارہا سال سے سندھ میں مختلف مذاہب کے پیروکار امن شانتی کے ساتھ رہتے آ رہے ہیں سندھیوں نے عید اور دیوالی مل کر منائی ہے۔ ضیاء الحق جب اپنے آمرانہ اقتدار کو تقویت

Read more

توہین مذہب اور پاکستان

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کی جڑیں 19 ویں صدی کے برطانوی دور کے قوانین میں پیوست ہیں۔ 1860 میں، برطانوی حکومت نے برصغیر میں مذہبی جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر انڈین ضابطہ تعزیرات میں دفعہ 295، 296 اور 298 شامل کیں، جن کے تحت کسی عبادت گاہ کی بے حرمتی، مذہبی تقریبات میں خلل ڈالنا، یا مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر مجروح کرنا جرم قرار دیا گیا۔ یہ قوانین کسی خاص مذہب تک محدود

Read more

خامنائی کے بیٹے حزب اللہ اور حماس کے ہمراہ اسرائیل سے کیوں نہیں لڑتے

جس طرح افغان ”مجاہدین“ اپنے خداؤں کے لیے بوجھ بن گئے تھے اسی طرح نئے حالات میں حماس اور حزب اللہ بھی بن چکی ہیں اور اب دونوں برق رفتاری کے ساتھ اپنے اپنے عبرت ناک انجام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ ہانیہ اور حسن نصراللہ کی ”شہادتیں“ آغاز سمجھیں۔ یہ خاکسار ڈاٹ کام کا تجزیہ ہے اور وقت ثابت کردے گا کہ یہ بات غلط نہ ہے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ جب عراق میں صدام کو پھانسی دی گئی

Read more

جامعہ پنجاب اور سٹوڈنٹ یونین

جامعہ کی انتظامیہ سے ہمیں لاکھوں گلے ہوسکتے ہیں لیکن اس کی ہوا میں ہی طلبہ سیاست اور سیاسی محرکات پنہاں ہیں۔ اس کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم سائنسدان اور پاکستان کی تاریخ کا بد ترین آمر ضیا الحق بھی اسی جامعہ کی پیداوار ہیں۔ کل ہی دو سٹوڈنٹ یونینز، اسلامی جمعیت طلبہ اور بلوچ سٹوڈنٹ کونسل کے درمیان ایک نظریاتی لڑائی ہوئی تو سلیم ملک کی ہم سب پر شائع ایک تحریر

Read more

بھٹو صاحب کی پھانسی اور کچھ یادیں

یہ اپریل 1979 کی ایک صبح تھی، فیض آباد کالونی، خیر پور میرس، سندھ میں جب میں اپنے سکول پہنچا تو میرے سندھی استاد محترم جن کا نام ’محمد عرس‘ تھا بڑے مغموم، پریشان اور خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور وہ خلاف معمول خاموش تھے۔ کسی کو ڈانٹ نہیں رہے تھے، کسی کو مار نہیں رہے تھے، اور کچھ پڑھا بھی نہیں رہے تھے۔ ہمارے چھوٹے سے اسکول میں جو کہ ایک پرائمری سکول

Read more

بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان

ان کے والد کا نام سیف اللہ الرحمٰن تھا، جو انگریزوں کے حامی تھے لیکن نوابزادہ نصر اللہ نے انگریز مخالف سیاست میں حصہ لیا۔ نواب زادہ نصر اللہ کے والد کو انگریزی حکومت نے گیارہ گاؤں دیے تھے اور انہیں نواب کا لقب بھی عطا کیا تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی عیسوی میں مظفرگڑھ میں آباد ہوئے۔ مظفر گڑھ سے بیس کلومیٹر دور خان گڑھ کے قصبہ میں نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916 کو پیدا

Read more

دستور میں ہی بقا ہے ‎

مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکج جو خفیہ طریقے سے رات کی تاریکی میں لایا جا رہا تھا وہ پارلیمانی نظام حکومت میں ایک شرمناک عمل تھا۔ ذرا تصور کریں مہذب اور سیاسی ساخت رکھنے والی ریاستوں اور قوموں میں اصلاحات کا عمل ایسے ہوتا ہے کہ اس کو بغیر عوامی آراِ کے نافذالعمل کیا جائے۔ انتخابات کی صورت میں جو پارلیمانی سیٹ اپ تشکیل دیا گیا ہے۔ جس میں اپوزیشن کا ایک واضح اور اہم کردار ہوتا ہے اور اُن کو

Read more

”لٹیرا“ پنجاب

گئے دنوں کی بات ہے، پشتون سٹوڈنٹ فیڈریشن کے دوستوں کے ساتھ ہماری اچھی خاصی بیٹھک ہوا کرتی، شام ڈھلے چائے اور قہوے کی چسکیوں کے ساتھ فلاسفیاں جھاڑا کرتے، پشتونوں کے مسائل پر گفتگو ہوتی، پنجاب کا تسلط موضوع بحث آتا۔ پنجاب سب کچھ کھا رہا ہے، باقی کسی کو کچھ نہیں مل رہا، اسٹیبلشمنٹ کے پرو پنجابی کردار پر بحث ہوتی۔ جو مجھے تو خاص ہضم تب بھی نہ ہوئی مگر میں گفتگو میں بحث کرنے سے عموماً

Read more

آئینی اصلاحات اور سیاسی جمود

ریاست پاکستان پون صدی کے سیاسی جمود سے نکلنے کی خاطر نہایت محتاط انداز میں آئینی اصلاحات کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے تاکہ اجتماعی زندگی کا دھارا کسی غیر معمولی حادثہ سے دو چار نہ ہو جائے، بظاہر مجوزہ آئینی ترامیم کا مقصد پارلیمنٹ کے حق حاکمیت کی بحالی کے علاوہ ایسی غیر مشروط جمہوریت کا حصول ہے جو ہزاروں برسر پیکار گروہوں کو مل کر جینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ

Read more

شیخ سعدی، افغان اور عمران

ہمارے کرکٹ میچز یا ورلڈ کپ کے دوران اکثر افغان ٹیم کے مقابل پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے وہ بچے جنہوں نے نہ کبھی افغانستان دیکھا ہے اور نہ ہی وہ افغانستان میں پیدا ہوئے مگر افغان ٹیم کے مقابل پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کھل کر شدید مخالفت کرتے ہیں، جو ملک میں افغان مہاجرین کے بارے میں ایک عجیب سماجی کشمکش اور تناؤ پیدا کرنے کا سبب بنا رہتا ہے، جب

Read more

ماموں جان

ماموں جان محمد ظہیر فرخ (قلمی نام ایم زیڈ فرخ) 17 اکتوبر 1931 کو دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے اور 16 اگست 2024 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اپنی 93 سالہ زندگی میں انہوں نے خاندان، کمیونٹی اور اصولوں کے ساتھ گہری وابستگی کے ذریعے ہر اُس شخص پر گہرا اثر ڈالا، جو انہیں جانتا تھا۔ وہ امرتسر کے معروف معلم صوفی محمد صغیر حسن اور بریلی کی ممتاز شاعرہ رابعہ پنہاں کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

Read more

نجی پاور پلانٹس اور ملکی معیشت

بجلی پونے دو روپے فی یونٹ پھر مہنگی کردی گئی۔ نیپرا نے یہ اضافہ سہ ماہی اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا ہے اور اگلے تین مہینوں تک بجلی ہمیں پونے دو روپے فی یونٹ مزید مہنگی ملے گی۔ خطے میں اس وقت سب سے مہنگی بجلی پاکستان فروخت کر رہا ہے۔ جس کی کم سے کم قیمت 29 روپے 33 پیسے فی یونٹ ہے اور اس کی آخری حد 76 روپے فی یونٹ ہے۔ پاکستان میں 100 یونٹ

Read more

خرابی ہمارے مقدر میں نہیں، ہم میں ہے!

آج صبح ناشتہ کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرا وزن کچھ بڑھ گیا ہے، سو فوری ایکشن لینا ضروری سمجھا گیا، اِس مقصد کے لیے قرارداد منظور کی گئی کہ کل سے واک میں کم ازکم تین ہزار قدموں کا اضافہ کیا جائے۔ صرف اسی ایک اقدام سے طبیعت بشاش ہو گئی۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ دل میں یہ قرارداد منظور کی گئی تھی مگر بوجوہ اِس پر عمل نہ ہوسکا۔ اِس مرتبہ مصمم ارادہ ہے کہ

Read more

آئینی ترمیم اور آج کا پاکستان

آج کا پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آئینی ترامیم کا معاملہ ہماری سیاست، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے کے استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آئین کسی بھی ملک کا بنیادی قانون ہوتا ہے، جو نہ صرف حکومتی ڈھانچے کی تشکیل کرتا ہے بلکہ عوام کے حقوق اور ریاستی فرائض کا تعین بھی کرتا ہے۔ پاکستان میں 1973 کا آئین ہماری سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن وقتاً فوقتاً اس میں کی جانے

Read more

ڈیڑھ فٹ کا مینارہ اور دیپالپور کی پولیس

چند روز قبل پاکستان ایک ادارے میں خاکسار ایک سیمینار میں شریک تھا۔ یہ سیمینار دوسری آئینی ترمیم کے پچاس سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعہ 1974 میں آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے دس سال بعد جنرل ضیا صاحب نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ احمدیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ خواہ مذہبی رواداری ہو یا اور کوئی پہلو ہو، ان پچاس

Read more

کوئٹہ میں توہینِ رسالت کا زیرِ حراست ملزم پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں توہین رسالت کے ملزم عبدالعلی کو دورانِ حراست ایک پولیس اہلکار کی جانب سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے متعلقہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایک محفوظ مقام پر بلا لیا گیا ہے۔

Read more

”ازخود بازیاب“ ہوئے گنڈاپور کی داستان

سیاست کا گورکھ دھنداسمجھنے کے حوالے سے جب ہوش سنبھالا تو 1970ء کی دہائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس کے شروع ہوتے ہی مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ میری نسل اس جدائی کے حقیقی اسباب سمجھنے میں ناکام رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو اس کے بعد سویلین ہوتے ہوئے بھی ”چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر“بنے۔ اس سے قبل یہ عہدہ جنرل یحییٰ خان کے پاس تھا۔ انہیں ”ادارے“ ہی نے استعفیٰ دینے کو مجبور کیا۔ بھٹو صاحب ان

Read more

تحریک انصاف اور نون لیگ میں کیا قدر مشترک ہے

مسلم لیگ نون کا جنم 88 کی دہائی کے اواخر میں ہوا جب محمد خان جونیجو کی مسلم لیگ سے علیحدہ ہو کر فدا محمد خان نے ایک الگ گروپ بنایا جس کے وہ خود صدر بنے اور میاں نواز شریف جنرل سیکریٹری۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ہونے والے انتخابات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی یقینی اور تاریخی کامیابی کو بھانپ کر ان سے مقابلے کے لیے اس وقت کے آئی

Read more

ارسا میں تبدیلی: سندھ کے پانی پر شب خون مارنے کا ایک نیا منصوبہ!

پاکستان میں اس وقت عملاً آئین کے کئی حصوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ ”ہائبرڈ جمہوریت“ کے نام پر حساس معاملات پر مرکز اور صوبوں میں بے اختیار حکومتیں موجود ہیں۔ اسمبلیوں میں براجمان نام نہاد بڑی پارٹیوں کو بھی ایک دائرہ بنا کر دیا گیا ہے، جسے پار کرنے کی انہیں اجازت نہیں اور نہ ہی ان میں ایسی جرات ہے کہ وہ اپنی محدود خودمختاری کو بھی ان معاملات میں استعمال کر سکیں۔ نتیجتاً عملی طور پر ملک

Read more

بنام جناب سردار علی شاہ، وزیر تعلیم سندھ، سندھ حکومت

جناب اعلی گزارش ہے کہ آپ دو ہزار تیرہ میں پہلی دفعہ صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے اور دو ہزار سولہ سے اب تک آپ تین منتخب مسلسل سندھ کابینہ کا حصہ ہیں۔ آپ نے سندھ کابینہ میں بیک وقت دو دو وزارتیں ساتھ رکھنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اور تیسری بار وزیر تعلیم بھی بنائے گئے ہیں۔ کابینہ میں شمولیت سے پہلے بھی آپ اسمبلی میں شعلہ بیانی کی وجہ سے مشہور رہے تو وزارت میں آنے کے

Read more

احمدیوں کو مذہبی اقلیت قرار دینے کے 50 برس: ’آپ سوچیں کیا احساس ہو گا جب بچے کے سامنے باپ گھنٹوں مردہ حالت میں پڑا ہو‘

اگرچہ احمدی برادری کے خلاف مذہبی منافرت کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری تھا تاہم اس میں شدت آج سے لگ بھگ 50 برس قبل یعنی سات ستمبر 1974 کو اس وقت آئی جب پاکستان کی پارلیمان نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ آج تک اس مذہبی اقلیت کو آئے روز قتل کی دھمکیوں اور عبادتگاہوں میں توڑ پھوڑ کا سامنا رہتا ہے۔

Read more

گلزار پاویل اور لائل پور کے دوسرے ادیب

حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے الیکشن ہوئے اور ڈمی امیدوار جیت گیا، اصل امیدوار کے ہارنے کی وجہ ڈمی امیدوار کی مقبولیت قرار پائی۔ بادشاہ گر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان دنوں حلقے کے اجلاس محفل ہوٹل میں منعقد ہوتے تھے۔ اس الیکشن کی تفصیلات بیان کرنا راقم افورڈ نہیں کرتا ہے۔ اس پاداش میں حلقہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔ آخر تھری سٹار ہوٹل کے مینجر ملک بشارت نے پناہ دینے کی ہامی بھر لی۔ وہ علمی و

Read more

آئین کی بالا دستی اور اقلیتیں

آج کل وزیر اعظم سے لے کر آرمی چیف تک آئین کی بالا دستی کی بات کرتے نظر آتے ہیں اور آئین سے روگردانی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ آج ہم آرمی چیف اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی توجہ اقلیتوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے جس طرح اقلیتوں کو وقتاَ فوقتاَ اذیتوں سے دو چار کیا جا

Read more

اصغر ندیم سید، احوال و آثار

تعارف *اصغر ندیم سید بحیثیت ڈراما نگار۔ :* گزشتہ نصف صدی سے اردو دنیا کے افق پر چھائی رہنے والی شخصیات میں سے ایک نام اصغر ندیم سید کا بھی ہے۔ اصغر ندیم سید ہمہ جہت ادبی ہیں۔ آپ اردو ادب کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ڈراما نگار، صحافی، شاعر، افسانہ نگار۔ اور ناول نگار بھی ہیں۔ اصغر ندیم سید کی علمی و ادبی کارگزاریاں کم و بیش تیس سالوں یہ محیط ہیں۔ لیکن ادب میں جس شعبے سے

Read more