بڑی بڑی آنکھیں، گول چہرہ، سرائیکیوں کی پہچان ہلکا سانولا رنگ، صاف ستھرے گھریلو لباس میں دبلی پتلی لڑکی باجی پروین کو ہم نے ہمیشہ خاموشی سے کام کرتے یا سورہ یسین کی تلاوت کرتے دیکھا۔ کام کرتے بھی اس کے ہونٹ اکثر کسی ذکر و ورد میں مصروف متحرک ہوتے۔ تب ہم بچے تھے اور کسی بھی کام سے باجی پروین کے گھر جا گھستے، وہ جنوبی پنجاب کی ایک روایتی خاندانی لڑکی تھی جو سسرال میں روایتی دلہن کی طرح ہمیشہ خاموش، اطاعت گزار اور کام کاج میں مصروف رہتی۔ سسرال بھی جنوبی پنجاب ہی کا تھا جو تلاش روزگار میں کوئٹہ آ کر آباد ہوا تھا۔
ہمیں یاد نہیں کہ اس کی شادی کو کتنے برس ہوئے تھے لیکن ان کے ہاں بچہ نہیں ہوا تھا اور اس کا یہ ناکردہ ”جرم“ روز بہ روز ناقابل معافی ہوا جا رہا تھا۔ گھر میں جب بھی مردوں کو اسے آواز دیتے دیکھا تو آواز میں ایک رعب، کرختگی اور وحشت دیکھی۔ ہم بچوں کے لیے اس کی خاموشی، سکون، تلاوت کلام، غلامی کی حد تک اطاعت شعاری یہ سب کچھ معمول کی چیز تھی یہاں تک کہ پھر اخبار کی خبر پڑھ لی۔ اخبار محلے کے ایک لڑکے ہاتھ میں تھا جسے وہ لہراتا آ رہا تھا۔ پھر اس نے ایک سہ کالمی سرخی پر انگلی رکھ کر خبر پڑھی دیور نے بھائی کے ساتھ مل کر بھابھی کو قتل کر دیا۔ ملزمان میں پروین کے شوہر اور دیور کے نام درج تھے۔ پھر وہی کہانی لکھی تھی جو دو دن سے پورے محلے کو از بر تھی۔
Read more