گیم شو کے دوران فیصل قریشی ٹک ٹاکرز سے ناراض: ’لڑکی ہو یا لڑکا آئندہ بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے‘

پاکستان کے نجی ٹیلی وژن کے ایک گیم شو کے دوران اداکار فیصل قریشی ٹک ٹاکرز سے ناراض ہو گئے اور انھیں بدتمیز اور جاہل کہہ ڈالا تاہم سوشل میڈیا صارفین کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے۔

Read more

این ایف ٹی کیا ہے؟ شعیب اختر اور وسیم اکرم اپنے ’قیمتی‘ ڈیجیٹل اثاثے کیوں بیچ رہے ہیں؟ ہیں؟

گذشتہ روز پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’دنیا کی پہلی کرکٹ این ایف ٹی مارکیٹ‘ متعارف کرانے جا رہے ہیں اور جو شخص یہ این ایف ٹی خریدے گا وہ آن لائن مواد جیسے ‘اوریجنل’ تصاویر یا ویڈیوز کا اصل مالک تصور کیا جائے گا۔

Read more

جب جنرل پرویز مشرف کو صدر رفیق تارڑ کو کیے سلیوٹ کا جواب نہیں ملا

جب فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنا چاہتے تھے تو صرف ایک ہی چیز ان کی راہ میں حائل تھی اور وہ بھی صرف قانونی نکتہ نظر سے۔۔۔ اور وہ تھے اس وقت کے صدر رفیق تارڑ۔ جنرل مشرف نے انھیں کسی طرح چلتا کیا اور رفیق تارڑ نے انھیں کیا جواب دیا، سنیے رفیق تارڑ کے رفقاء کی زبانی۔

Read more

طارق عزیز: ہمزاد دا دکھ

زندگی میں آپ جن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں وہ مرتے دم اس زمانے کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو آپ کے ہمراہ گزرا تھا۔ انسان کی زندگی قطرہ قطرہ ختم ہوتی ہے۔ اپنی قبر میں جانے تک وہ اپنے پیاروں کی قبروں میں ٹکڑے ٹکڑے دفن ہوتا ہے۔ طارق عزیز اکیلا نہیں گیا، کروڑوں مداحوں کا زمانہ اس کے ساتھ دفن ہوا ہے۔ وہ صدا کار ایسی صدا دیتا تھا جو دل میں گھر کرتی تھی۔ گلی گلی،

Read more

جانا ہمارا پی ٹی وی کے یوتھ پروگرام ”فروزاں“ میں

عزیز دوست باصر کاظمی نے پی ٹی وی کے بارے میں کچھ یادیں شیئر کی ہیں تو مجھے بھی 41 برس پرانا ایک ٹی وی پروگرام یاد آ گیا ہے۔ سن 1980 کی بات ہے جب لاہور سنٹر سے ایک یوتھ پروگرام فروزاں کے نام سے نشر ہوا کرتا تھا جس کی میزبان غزالہ قریشی تھیں۔ ابتدا میں یہ پروگرام کراچی سنٹر سے شروع ہوا تھا جس کی میزبانی کے فرائض مہتاب چنہ (راشدی) کے ذمہ تھے۔ فروری کا شاید

Read more

طارق عزیز: 'دیکھتی آنکھوں، سُنتے کانوں' کو طارق عزیز کا وہ سلام جو پوری دنیا میں گونجا

علم و سائنس کی دنیا میں جس طرح ہر ابتدا ارسطو سے جا ملتی ہے اسی طرح برصغیر میں انٹرٹینمنٹ اور نیوز چینلز پر دکھائے دینے والے ٹی وی پروگراموں کے ہر فارمیٹ کے بانی طارق عزیز جا نکلتے ہیں۔

Read more

چند صدارتی ایوارڈ یافتہ لوگوں سے جڑی کچھ تلخ کچھ شیریں یادیں

خاکسار پی ٹی وی لاہور سنٹر کی کینٹین میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک وہاں معروف لوک فنکار پٹھانے خان تشریف لے آئے ان کے پاؤں میں سادہ اور سستی سی چپل ان کی مالی حالت کی کہانی کہہ رہی تھی، ان کے ساتھ ایک بڑے بڑے بالوں والا نوجوان لڑکا تھا جو کہ ان کا بیٹا بتایا گیا تھا، ہم نے موقع غنیمت جانا اوت ان سے گفتگو شروع کردی اور وہ جیسے پھٹ سے پڑے اور عطا اللہ عیسی خیلوی کے خلاف بولنے لگ گئے کہ

”عطا اللہ کا سر، لے اور تال سے کیا تعلق؟ لیکن پھر بھی وہ پجارو میں پھر رہا ہے اور جو موسیقی کی خیر خبر رکھتے ہیں وہ رل رہے ہیں اور کسمپرسی کا شکار ہیں، ظاہر ہے اس ضمن میں ان کا اشارہ اپنی طرف تھا لیکن ہم سننے کے علاوہ بھلا کر بھی کیا سکتے تھے؟ اس لیے سنتے رہے اور چپ رہے کہ منظور تھا“ پردہ عیسی خیلوی ”کا۔

Read more

موجودہ دور کا پاکستانی میڈیا ماضی سے کیسے مختلف ہے؟

پاکستان میں ان دنوں عوام کی تفریحی کے لیے ٹیلی ویژن پر بے شمار ڈرامے اور پروگرامز دکھائے جا رہے ہیں۔ لیکن ڈرامہ ہو یا کوئی گیم شو ان کا معیار ماضی کی نسبت بہت مختلف ہے۔

پاکستان میں اگر ٹیلی ویژن کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ساٹھ کی دہائی سے نوے کے آخر تک سرکاری ٹی وی ‘پی ٹی وی’ ہی معلومات اور تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔

Read more

ہمارے انکل سرگرم ہم سے روٹھ گئے!

ستر، 80 ء اور 90 ء کی دہائیوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت میں جہاں ان کے والدین اور اساتذہ کا اہم کردار رہا، وہیں اس دور کے ذرائع ابلاغ کے کچھ پروگراموں کا بھی بہت بڑا عمل دخل رہا۔ جن کی جانب سے سکھائی ہوئی مثبت باتوں کے نقوش، تاعمر ان کی شخصیت پر قائم و دائم رہیں گے۔ یوں تو عالمی سطح پر ”جنریشن۔ ایکس“ کو اب تک کی خوش قسمت ترین نسل کہا جا رہا ہے، جس نے تغیرات اور ٹیکنالوجیکل ارتقا کا جو انقلاب دیکھا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، مگر ہمارے وطن میں پنپنے والی وہی ”جنریشن۔

Read more

عامر لیاقت کا ناگن ڈانس اور دیگر کہانیاں

چند دن قبل میری نظروں سے عامر لیاقت حسین کی ایک ویڈیو گزری جس میں وہ ناگن ڈانس کر رہا ہے۔ اس ناگن کا رقص میرے لئے ایک بہت بھیانک جمالیاتی جھٹکا تھا۔ میں اس ”ریپٹائل“ کو پہچانتا تو تھا مگر اس کے رقص نے میرے سامنے ہمارے قومی زوال کی ہر جہت کو واضح کر دیا ہے۔ آئیے اس ناگن کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارا زوال بکسر اور پلاسی سے آگے بڑھ کر کیسے ہمارے اخلاقی اور جمالیاتی قلعوں کے تاراج ہونے تک پھیل گیا ہے۔

Read more

توہین نسواں اور امت کی روایت

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے

Read more

علم ریاضی کی روشنی میں

پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے پھبتی کسی کہ ”اگر ریاضی کا مائنس مائنس پلس والا فارمولا درست ہوتا تو موجودہ حکومت تو مریخ پر بھی دو نئے پاکستان بنا چکی ہوتی!“ ہمارا گو یوتھیؤں اور ٹائیگرفورس سے کوئی ناتا نہیں مگر پھربھی یہ بات حکومت کے حق میں جاتی نظر آئی۔ کچھ حساب کتاب کیا تو کم ہینگ پھٹکڑی میں بھی چوکھے رنگ والا ایک زبردست ٹوٹکا مل گیا۔ میتھس میں صحیح اعداد کی ضرب کے لیے چار فارمولے

Read more

وبا کے ڈپریشن بھرے دنوں میں لکھا گیا ایک پرانا خط

جان سے پیاری حفصہ عامر! السلام علیکم۔ سب سے پہلے تو یہ دعا کرو یہ خط جان محمد نہ پڑھے، کہیں برا ہی نہ منا جائے نا، سمجھا کرو۔ ہاں! سچل اب بہتر ہے، انگلی کی اسکن گرافٹنگ ہو چکی ہے، دعا جاری رکھنا اس کے لئے۔ اچھا تو پیاری راج دلاری! آپ کیوں پریشان ہوتی ہو؟ کیوں دنیا غم کا گھر لگ رہی ہے؟ آپ جو پہلے ہی ذہن میں بلاوجہ امڈتے چکراتے سوالوں سے بے حال تھیں، اب

Read more

’جل پریوں‘ کے ہاتھ کی بنی ڈھاکے کی ململ کہاں گئی؟

تقریباً دو سو برس پہلے ڈھاکے کی ململ کا شمار دنیا کے سب سے مہنگے کپڑوں میں ہوتا تھا۔ پھر سب اسے بھول گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور کیا ہم اسے واپس لا سکتے ہیں؟

Read more

ڈیوڈ میتھیوز: انیس اور اقبال کا ترجمہ کرنے والے اردو زبان کے ماہر ڈیوڈ میتھیوز وفات پا گئے

یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز کے لسانیات کے شعبے کے استاد اور اردو ادب پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز طویل بیماری کے بعد شمالی انگلینڈ کے شہر ڈاربی میں وفات پا گئے ہیں

Read more

ساحر لدھیانوی: بالی وڈ میں رومانس اور انقلاب کے درمیان ایک فیمنسٹ نغمہ نگار

یوں تو ساحر کے کئی روپ ہیں” وہ عوام کے شاعر ہیں، وہ انقلابی شاعر ہیں، رومانوی شاعر ہیں اور حوصلے اور امید کے شاعر بھی ہیں۔

Read more

پاکستان بھارت معاہدہ:’’خیر کی خبر‘‘

یوٹیوب پر جائو تو پاکستان کے ’’سینئر‘‘ صحافیوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔روزانہ کی بنیاد پر ’’اندر کی خبر‘‘ دیتے ہوئے حیران کردیتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی تاہم علم نہ ہوپایا کہ جنوبی ایشیاء کے دو ازلی دشمنوں-پاکستان اور بھارت-کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔اس کی بدولت گزشتہ ہفتے بالآخر یہ خبر آئی کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشن کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوگیا ہے۔ کشمیر میں کھینچی لائن آف

Read more

تھیٹر، اسٹیج، ریڈیو اور فلم کے اداکار مسعود اختر

میں جب لاہور جاتا ہوں فلمی دنیا کے نامور ہدایتکار ایس سلیمان المعروف سلو بھائی کی خیریت معلوم کرنے زرین پنا سے ملنے الحمرا ضرور جاتا ہوں۔ اس مرتبہ ان کے ساتھ کینٹین جاتے ہوئے دروازے سے پہلے ایک طرف ہٹ کر بیٹھے تھیٹر، ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن کے نامور فنکار مسعود اختر بھائی پر نظر پڑی۔ بے ساختہ میں ان کی جانب لپکا۔ حسب معمول تپاک سے ملے۔ موقع مناسب دیکھ کر میں نے ان سے بات چیت

Read more

فلم بازار اور عورت کی منڈی

ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ زندگی مشکل ہے۔ لیکن زندگی مشکل نہیں ہے بلکہ بنا دی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں انسانی جذبات چولہے پر چڑھے رہتے ہیں۔ گھڑی گھڑی نراس کا تڑکا لگنے سے مداخلت کی کڑوی بدبو چاروں اور پھیلنے لگتی ہے۔ ازل سے ہی مرد اور عورت کے عشق کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں۔ آج جی کر رہا ہے انڈین فلم بازار کی بات کی جائے۔

Read more

پی ڈی ایم اتحاد کے یوٹرن

پاکستان ڈیموکریٹک مومینٹ نام سے تشکیل دیا گیا سیاسی اتحاد، جس میں ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں شامل تھیں، ان کا لیا گیا یو ٹرن پہ یوٹرن اب صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ یو ٹرن لینے کے حوالے سے مشہور تو موجودہ وزیراعظم عمران خان تھے، پر ان پہ کڑی تنقید کرنے والے، جس طرح اس کے نقش قدم پہ اپنے رستہ بنا رہے ہیں، اور یو ٹرن پہ یو ٹرن لیے جا رہے ہیں، یہ ہمیں توقع نہ

Read more

صدیوں پہلے یورپ میں استعمال ہونے والے ہندسے جو ایک راز بن گئے

لندن کے نیلام گھر کرسٹی نے سنہ 1991 میں ایک ایسی نادر شے نیلامی کے لیے پیش کی جس میں اس کی دلکشی نہیں بلکہ اس پر کندہ پراسرار نشانات کی وجہ سے بہت دلچسپی ظاہر کی گئی۔

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کا ایک معتبر نام موسیقار موسیقار بخشی وزیر

وہ 2017 کا کوئی مہینہ ہو گا۔ میں روزنامہ نوائے وقت کے صفحہ فن و ثقافت کے لئے پاکستان کے نامور موسیقاروں پر لکھ رہا تھا۔ گاہے بگاہے انٹر نیٹ سے بھی استفادہ کیا۔ لیکن جب موسیقار بخشی وزیر پر کام شروع کیا تو راستے محدود ہو گئے۔ لیکن مزید معلومات کے لئے جستجو جاری رہی۔ پھر خوش قسمتی سے 2020 میں حضرت تنویرؔ نقوی کے بیٹے شہباز کی معرفت وزیر حسین صاحب کے بیٹے نعیم وزیر تک رسائی ہوئی۔

Read more

امریکی ٹی وی کے معروف ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 برس کی عمر میں وفات پا گئے

لیری کنگ نے چھ دہائیوں پر مشتمل اپنے کیرئیر میں تقریباً پچاس ہزار انٹرویوز کیے جن میں سے پچیس برس وہ امریکی ٹی وی چینل سی این این کے ٹاک شو لیری کنگ لائیو کی میزبانی کرتے رہے۔

Read more

امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا اغوا و قتل: احمد عمر شیخ سے خالد شیخ محمد تک وہ تمام کردار جو اس بھیانک کھیل میں شامل رہے

القاعدہ کے سینئیر رہنما سیف العدل نے جب خالد شیخ محمد کو بتایا کہ پرل جن کے یرغمالی ہیں انھیں نہیں معلوم کہ اب پرل کے ساتھ کیا کیا جائے تو امریکہ کو سبق سکھانے پر مائل خالد شیخ ان کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ خالد شیخ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ’مبارک ہاتھوں پر امریکی یہودی کا خون اور اپنے ہاتھ میں اس کا کٹا ہوا سر دیکھنا چاہتے تھے۔‘

Read more

نیا سال ۔ دعا ہے ہو خوشحال

2020 ء اپنی تمام تر اچھی بری یادیں لئے رخصت ہو گیا۔ مگر اپنے پیچھے کئی داستانیں چھوڑ گیا۔ ایسی داستانیں جو کبھی نہ بھلائی جاسکیں گی۔ ایسی داستانیں جو ہر سال اپنے پیاروں کے غم میں یاد آتی رہیں گی۔ ایسی کہانیاں جو اپنے نقش لوگوں کے دلوں میں چھوڑ گئیں۔ جہاں دنیا بھر میں کورونا نے تباہی مچائی وہاں وطن عزیز بھی محفوظ نہیں رہا۔ ہزاروں افراد اپنی جان سے گئے اور اپنے پیچھے اپنے لواحقین کو روتا چھوڑ

Read more

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

جب سن 2020 کا آخری سورج غروب ہو رہا تھا میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کس قدر سفاک سال تھا۔ جس نے کتنے ہی پیارے لوگوں کو ہم سے جدا کر دیا۔ کچھ بہت قریبی عزیز تھے جن کی کمی شاید کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ اور کچھ مشہور شخصیات جیسے ہمارے کامیڈین امان اللہ، کمپیئر طارق عزیز، فلم سٹار صبیحہ خانم، سیاستدان میر حاصل بزنجو، جسٹس وقار احمد سیٹھ، بھارتی سیاست دان جسونت سنگھ، فلمسٹار عرفان خان، رشی کپور، سوشانت سنگھ راجپوت اور ارجنٹائن کے فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کو بھی کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔ اس کے ساتھ کورونا کی وبا سے اپنی جان کی بازی ہارنے والے پوری دنیا کے لاکھوں لوگ الگ تھے۔

Read more

کیا بینظیر بھٹو امریکہ سے سکیورٹی اور بلٹ پروف جیکٹ حاصل کرنا چاہتی تھیں؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیربھٹو امریکہ سے اپنی سکیورٹی اور بلٹ پروف جیکٹ چاہتی تھیں لیکن امریکی حکومت نے یہ کہہ کر یہ درخواست مسترد کردی کہ وہ صرف ملکی سربرہان کو سکیورٹی فراہم کرسکتے ہیں۔

Read more

سال 2020 میں بچھڑنے والے پاکستانی فن کار

سال 2020 کئی حوالوں سے دنیا کے لیے کوئی اتنا اچھا سال ثابت نہیں ہوا۔ جہاں کرونا وبا کی وجہ سے لاکھوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے وہیں کئی اہم شخصیات اور فن کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

پاکستان میں بھی کئی فن کار کرونا وبا، حادثات اور دیگر بیماریوں کے باعث اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رُخصت ہو گئے۔

Read more

پی ٹی وی کی سالگرہ کا تحفہ

موجودہ حکومت نے جب پی ٹی وی کی بہتری کا بیڑہ اٹھایا تو پھر ایک میٹنگ ہوئی جس میں چئیرمین پی ٹی وی کی جگہ وزیر اعظم عمران خان تھے جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ پچھلی تمام حکومتوں کی نسبت پی ٹی وی کے بھلے کے لیے زیادہ فکرمند ہیں۔

Read more

”بلیک اینڈ وائٹ“ دور کے ”پی ٹی وی کلاسیک“ کی یاد میں۔

یہ 1988 ء کے سنہرے سجیلے دنوں کی داستاں یادوں کی بازآفرینی ہے۔ شاید ہمارے ”محبوب“ جنرل کے ”بلیک اینڈ وائٹ“ دور حکومت کی نزعی ساعتیں تھیں جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ اداسی اور خموشی میں ملبوس ایک سہ پہر ابا جی لکڑی کے ڈبے کا چار فٹ طویل بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر جب گھر آئے تھے تو ہمارا گھر اوچ شریف کی پوری شمس کالونی میں وہ واحد ”خوش قسمت“ گھر قرار پایا جو ٹی وی جیسی ”نعمت“ سے ”سربلند“ ہوا۔

Read more

جنیوا: دنیا کی سب سے زیادہ ’کم سے کم اجرت‘ والے شہر کا درجہ حاصل کرنے کا خواہاں

ستمبر کے آخر میں کرائے گئے ایک ریفرنڈم کے بعد، اس مہینے یہ شہر دنیا میں سب سے زیادہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ متعارف کروا رہا ہے۔ 23 سوئس فرانک فی گھنٹہ کی شرح – جو کہ 19 پاؤنڈ، 25 ڈالر یا 22 یورور کے برابر ہے – اس حساب سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ 4،000 فرانک بنتی ہے۔

Read more

کیا کسی ایپ کو ممنوع قرار دینا مسئلے کا حل ہے؟

9 اکتوبر 2020ء کو پاکستانی حکومت نے ٹک ٹاک کو بظاہر، اس کے غیر اخلاقی و غیر معیاری مواد کی وجہ سے ممنوع قرار دیا، لیکن دس دن بعد اس پر سے پا بندی ہٹا دی گئی۔ بالکل اسی طرح دو ماہ قبل پب جی پر بھی پابندی لگا کر ہٹا دی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اب ان کی طرف سے کسی قسم کا غیر اخلاقی و غیر معیاری مواد یا وڈیوز نہیں آئیں گی۔ اب اس بات کی کیا گارنٹی ہے؟

سوال یہ ہے کہ بیش تر لوگ ایسا کام کرتے ہی کیوں ہیں، اگر ان کو ایک طرف سے بند کیا جائے گا، تو دوسرا کوئی اور راستہ اختیار کر لیں گے۔ کام وہ یہی کریں گے لیکن طریقہ کار بدل جائے گا۔

Read more

بینظیر بھٹو: کارساز حملے کے 13 سال، جب کارکن بینظیر بھٹو کے گرد ڈھال بن گئے

سنہ 2007 میں جب سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نو سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئیں تو کراچی میں ایک استقبالیہ ریلی میں ان پر حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے اس روز کیا دیکھا؟

Read more

کہاں گیا میرا لاہور؟

لاہور شہر نہیں ہمارا عشق ہے۔ اس عشق کا اندازہ انہی کو ہو سکتا ہے، جو 1970 ء سے قبل اس شہر میں بسے تھے۔ کیا خوبصورت شہر تھا۔ اتنی آبادی نہیں ہوتی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ نہیں ہوتے تھے، جن سے مل کر لوگ یہ نہیں کہتے تھے، لاہوریے بڑے چالاک ہوندے نیں۔

سمن آباد، شادمان، گلبرگ، والٹن، ماڈل ٹاؤن، زمان پارک اور جی اور آر ہی پوش علاقے ہوتے تھے۔ ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں نہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جو چند ایک نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنی تھیں، وہ واپڈا ٹاؤن، جوہر ٹاؤن اور ٹاؤن شپ تھیں۔ نہر کی سڑک چھوٹی ہوتی تھی، جا بجا انڈر پاس اور اوور ہیڈ نہیں ہوتے تھے، ٹھوکر نیاز بیگ کو لاہور کی ایک اور بتی چوک کو دوسری طرف سے لاہور کی حدود شمار کیا جاتا تھا۔

Read more

لال حویلی والے شیخ رشید: ٹیکنیکل سکول سے سیاست کی ابتدا کرنے والے شیخ رشید کی ملکی سیاست سے متعلق یادداشتیں

شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

Read more

عورت کی انگیا میں جھانکنا ضروری کیوں؟

چند سال پہلے جب پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ دوسرے چینلز بھی ٹی وی کی سکرین پہ نظر آنا شروع ہوئے۔ تو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ خبروں کے لیے اب اگلے دن کے اخبار یا پھر رات نو بجے کے خبرنامے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جیو کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے دنوں میں مختاراں مائی کے کیس کی کوریج اور تجزیوں کو سننے کا جو مزہ میں نے محسوس کیا تھا۔ وہ ناقابل

Read more

ہندوستان کی رانی جس نے چیچک کے پہلے حفاظتی ٹیکے کے لیے ماڈلنگ کی

ینٹنگ کی تاریخ واڈیار بادشاہ کی شادی کی تاریخوں اور جولائی 1806 کے عدالتی ریکارڈ سے ملتی ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ دیوجممانی کو ٹیکے لگانے کا ’خوشگوار اثر‘ بہت سے لوگوں پر ہوا اور وہ ٹیکہ لگوانے کے لیے آگے آئے۔

Read more

فرح پہلوی: کیا ہزاروں ڈالر مالیت کا ریشمی لباس ایران کی آخری ملکہ کا ہی ہے؟

جرمنی میں واقع ہرمن ہسٹوریکا نامی معروف نیلام گھر نے ریشم کے اُس لباس کو 8800 ڈالرز کے عوض فروخت کر دیا جس کے بارے میں اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ ایران کی آخری ملکہ فرح پہلوی کی ملکیت تھا۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے

12 اکتوبر 1991 اب یقین آیا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ صدام حسین نے قبضہ کیا ہے کویت پر، لڑ رہے ہیں سعودی حکم راں اور صدام حسین، حملہ کیا امریکا نے عراق پر، اور نام بدل گیا ہمارے ننھے منے فہد کا۔ میرے منہ پر اب تک اس کا نیا نام نہیں چڑھا ہے، اکثر اسے ”صدام“ کی جگہ ”فہد“ کہہ جاتی ہوں، اور تو اور خود بھائی جان جنھوں نے نام تبدیل کیا انھیں بھی اب تک اپنے

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ٹی وی فریج بیچ کر اسلحہ خریدنا ہوگا 28 دسمبر 1986

اتنے دنوں میں جانے کیا کچھ ہوگیا، سب سے بڑا واقعہ تو باجی کی شادی ہے۔ باجی کے پیادیس جانے کا افسوس تو تھا لیکن مزہ بہت آیا۔ شادی تک کئی دس بارہ دن پورا خاندان ہمارے گھر پر تھا۔ پھر محلے کی عورتیں لڑکیاں، میلہ لگا تھا گھر پر، روز ڈھول بج رہا ہے گانے ہورہے ہیں، پھر مہندی اور ابٹن۔ ہم گا بجا اور رسمیں کر رہے ہوتے اور خاندان کے بزرگ کمرے میں بیٹھے باتیں بنا رہے

Read more

میرا بیٹا آیان پاکستان میں آرٹسٹ ڈھونڈ رہا ہے

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے ان دونوں مشاغل کا صحیح علم لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں ہوا۔ جب اس کو میں نے میوزک کلاسز میں گاتے اور آرٹ کلاس میں خوبصورت تصاویر بناتے دیکھا۔ گزشتہ روز کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے اچانک

Read more

ذکر صحافتی تاریخ کے اساطیری نیوز ایڈیٹر کا۔ ۔ ۔

ہماری خوش بختی کہ گزشتہ روز برادرم اسلم ہمشیرہ اور عزیزم اصغر جھبیل جیسے اساتذہ کرام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے کتاب سرائے کو رونق بخشی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیجنڈ فنکار اور شاعر طارق عزیز صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ”ذکر یار“ سے شروع ہونے والی بات ان کی وفات کے حوالے سے اخبارات کی سرخیوں تک اور وہاں سے عباس اطہر صاحب تک جا پہنچی۔ کچھ معاصر اخبارات نے طارق عزیز صاحب کی وفات

Read more

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو اس کا آخری سلام

کئی نامور ہستیاں ان گنہگار آنکھوں نے موت کے ہاتھوں ہارتی دیکھی ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں نے کیا کیا نہ غم جاناں و غم دوراں دیکھے ہوں گے مگر جتنی عزت، شہرت، عظمت اور وقار ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں“ والے کے حصے میں آیا ہے چشم فلک نے شاذ ہی ہمارے عصر میں دیکھا ہو گا۔ طارق عزیز ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ ایک عہد تھا۔ ہم نے خلق کو منیر نیازی ازبر ہوتے دیکھا جس کے مرنے پر چنگ

Read more

میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم (مکمل کالم)۔

چند دنوں میں کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں رخصت ہو گئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف کمپیئر طارق عزیز صاحب، ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم صاحب، معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری صاحب، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور دانشور سید منور حسن صاحب، ممتاز ماہر تعلیم اور جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے معمار پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب۔ اللہ پاک ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ڈاکٹر مغیث مجھ

Read more

متبادل کی تلاش

خواہشات کے گھوڑوں کی لگام صرف نظام فطرت کے ہاتھ ہے، ارادے ٹوٹ جاتے ہیں تو فہم قدرت سمجھ میں آتا ہے۔ اختیار اور اقتدار کی گلیوں میں ہر نکڑ پر موقع پرست گھات لگا کر بیٹھتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ سیاست اور حکومت محض طاقت کے بل بوتے نہیں بلکہ فہم و فراست سے چلتی ہے۔

پاکستان کی غیر سیاسی اشرافیہ ایک بند گلی میں جتنی اب ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اکہتر میں پاکستان دو لخت ہوا، پاکستان کے ہزاروں قیدی انڈیا کے ہاتھ ہتھیار کے طور آئے۔

Read more

زبان اور بیان، اللہ حافظ!

سفر کو دوام ہے، مسافر کو نہیں۔ کوئی آج اس جہاں تو اگلے دن کا اجالا پھیلنے تک، ابدی وادی کے حسین و جمیل مرغزاروں میں۔ منیر نیازی نے کمال مہارت سے ٹکڑا دل کی حقیقت بیان کر دی تھی جس کی سمجھ بوجھ کو آج بھی طبی دنیا میں ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں صبح کاذب کی ہوا میں، درد تھا، کتنا منیر ریل کی سیٹی بجی، تو دل لہو سے، بھر گیا وہ گرمیوں کی

Read more

قانون کے قدم مضبوط کریں

”قانون کے قدم ڈگمگا جائیں تو قوم ڈگمگا جاتی ہے“ یہ الفاظ مشہور فلم ”سالگرہ“ کے ایک ڈائیلاگ سے ہیں، فلم اب سے 51 برس قبل ریلیز ہوئی۔ منفرد کہانی، جاندار مکالمے، وحید مراد، شمیم آرا، طارق عزیز جیسے خوبصورت کردار اور پھر ان کی بہترین اداکاری نے ایک شاہکار بنا دیا۔ ہاں منفرد کہانی ہونے کے باوجود اس میں چند ایک مقامات پر کچھ جھول نظر آئے مگر نصف صدی پہلے کے حالات و واقعات، اس وقت کے طرز، تکنیکی سہولیات اور دیگر ایسی وجوہات کی بنا پر اسے نظر انداز کرنا مناسب ہے۔

مذکورہ فلم دیکھنے کی وجوہات میں سے ایک تو فلم کا نام دوسرا طارق عزیز صاحب تھے، جو 17 جون 2020 کو فوت ہوئے، خدا ان کی مغفرت فرمائے۔ نیوز چینلز پر ان کی فنی زندگی پر مبنی پیکج چل رہے تھے، ان میں سنا، پہلے بھی سن رکھا تھا کہ طارق صاحب نے فلموں میں اداکاری کی، دیکھنے کا اشتیاق تو تھا ہی سو اب موقع بھی ہے دستور بھی کے مصداق ہو گئے۔ فلم کے یادگار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سب پہ بھاری زرداری صاحب بھی اسی فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام کرچکے۔

Read more

آہ طارق عزیز۔ ۔ ۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

بٹوارے سے قریب ایک دہائی قبل کا قصہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر جالندھر کے میاں عبد العزیز آرائیں، جنہوں نے چوہدری رحمت علی کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت واسطے تجویز کردہ نام پاکستان کی مناسبت سے، اپنے نام کے ساتھ ”پاکستانی“ کا لاحقہ جڑ دیا تھا۔ عبد العزیز پاکستانی کے آنگن میں سنہ چالیس کی دہائی میں اک ننھے چراغ نے جنم لیا۔ جس کا نام طارق عزیز رکھا گیا۔ تقسیم کے ہنگام عبد العزیز پاکستانی کا خاندان اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان ہجرت کر کے منٹگمری (ساہیوال) آن بسا۔ طارق عزیز کی ابتدائی تعلیم و تربیت ساہیوال ہی میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ ساہیوال سے لاہور منتقل ہو گئے۔

مردانہ وجاہت، بارعب آواز، دلکش و دلنشین انداز گفتگو، سراپا وقار و متانت، پرتاثیر لب و لہجہ کے مالک طارق عزیز کو پاکستان سے محبت ورثے میں ملی تھی۔ پاکستانیت جن کے وجود میں رچی بسی تھی۔ حب الوطنی کے اس مجسم پیکر نے اپنے ورثے کو اگلی نسلوں تک بھی بہ حسن و خوبی پہنچایا۔ اپنی ہر گفتگو کا اختتام جب وہ ”پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں پر کرتے تو وطن کی محبت رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتی۔

Read more

نیلام گھر اور دو نادان

لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھیر کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔ طارق عزیز نے ان سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔

لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں کو سٹیج پر جاتے دیکھا ہو تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ دونوں تھوڑے سے گھبرائے ہیں۔ سٹیج پر جاتے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے تھے، ایسے کہ جیسے دونوں نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیا ہو۔ دونوں کے بال ایک ہی طرح کے تراشیدہ تھے، ایک کی داڑھی ترتیب اور بے ترتیبی کے درمیان بڑھی تھی جبکہ دوسرا کلین شیو تھا۔ اگر آپ غور کرتے تو دیکھ لیتے کہ دونوں نے اس عمر کے عام لڑکوں کی طرح جینز نہیں بلکہ پتلونیں پہن رکھی تھیں اور ان کی استری شدہ قمیصوں کے بٹن گریبان تک بند تھے۔ اگر آپ یہ سب کچھ دیکھ لیتے تو آپ یہ بھی جان لیتے کہ وہ دونوں شاید دوست نہیں بلکہ راہی ہیں، جنہیں ایک اتفاق اٹھا کر اس سٹیج تک لے آیا تھا۔ یہ زندگی بھی عجب اتفاقات سے پر ہے۔

Read more

طارق عزیز، ذوالفقار علی بھٹو اور عوام کی نفسیات

ہر دلعزیز استاد، دانشور، صحافی، صداکار، اداکار، اور چلتا پھرتا چھوٹا سا پاکستان طارق عزیز پیوند خاک ہوا۔ میری ان بہت سے لوگوں سے نیاز مندی رہی جن کی نیاز مندی طارق عزیز صاحب سے رہی۔ جی چاہا ان پہ کچھ لکھوں مگر اس بات کو کسی اور وقت پہ اٹھا رکھتے ہیں۔ ویسے بھی طارق عزیز صاحب کی شخصیت اور ان کی زندگی سے جڑے واقعات کو اک کالم میں سمونا ناانصافی ہوگی۔ اس طرح کے موضوعات زندگی کے

Read more

فیضی کا فیض

”کچھ دن ہمیں اور دے دو فاروق! “۔ یہ دوست محمد فیضی تھے۔ وہ خزاں کا موسم تھا اور پتوں کے جھڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ سردی کیا اور گرمی کیا، کراچی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر وہ انسانوں کے گرنے کا موسم تھا، خزاں کی ایسی بہار جس نے گلی کوچوں کو لہو میں رنگ دیا۔ شہر میں لاشیں اس رفتار سے گریں کہ زبان اور اصطلاحیں تک بدل گئیں۔ تھانوں اور اسپتالوں سے شام

Read more

علامہ طالب جوہری بھی رخصت ہوئے

2020 ایک ایسا سال جس کی ابتداء ہی مایوس کن تھی اور ان گزرے چھ ماہ میں یہ سال جانے کتنے روشن چراغ گل کر گیا۔
کرونا نامی عالمی وبا سے شروع ہونے والا یہ سال ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا درد اور دکھ متعارف کروا رہا ہے۔ ایک ایسا زخم روز دے رہا ہے جس کا مداوا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا آہ کہ ہمارے آس پاس روشن کئی چراغ رفتہ رفتہ بجھ رہے ہیں اور ہم خاموش تماشائی قدرت کا یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ ہماری نم آنکھیں خشک نہیں ہوتیں کہ جدائی کا ایک نیا داغ دل کو رلا دیتا ہے۔ خاص طور پر ماہ جون کی ابتدا ہی ان تند آندھیوں سے ہوئی جو روز ایک روشن چراغ گل کر رہی ہیں جس سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں۔

Read more

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا آخری سلام

تین دن پہلے جب طارق عزیز صاحب کے جدا ہونے کی خبر ملی تو جہاں دل کو اداسی اور غم نے گھیر لیا۔ وہاں ان سے جڑی حسین یادوں کے بند کواڑ بھی کھل گئے۔ پچھلی صدی کی نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ کیا حسین زمانہ تھا۔ میری عمر کوئی آٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی جب طارق عزیز صاحب سے میرا پہلا تعارف میرے دادا جی کے توسط سے ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہمارے گاؤں والے گھر کے صحن میں دادا جی کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی چل رہا ہوتا تھا اور جمعرات کی رات آٹھ بجے سب گھر والے ”نیلام گھر“ دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہوتے تھے۔ دادا جی مجھے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ کھانا کھلاتے تھے اور ساتھ ساتھ جو جو کچھ نیلام گھر میں ہورہا ہوتا تھا، وہ بتاتے جاتے تھے۔

Read more

کوئی استاد لاولد نہیں ہوتا

”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ ۔ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جن کا قد کاٹھ ماپنے کے لیے علم و ادب کا پیمانہ چاہیے۔ اب ہم کہاں سے لائیں وہ الفاظ، وہ ادائیگی، وہ لب و لہجہ اور آواز جو کانوں سے ہوتی ہوئی سیدھا دل میں اتر جاتی تھی۔ نیلام گھر پاکستان ٹیلے ویژن کا وہ پروگرام تھا جو اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھا، ازاں بعد اسے طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

زندگی تو خاکی ہے بالآخر اس نے ایک دن خاک میں خاک ہی ہوجانا ہے۔ علم و آگہی کے ان گنت چراغ جلانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت اپنے خالق حقیقی سے ملنے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ موت اس فانی دنیا کا خاتمہ ضرور ہے لیکن پھاٹک ہے اس جہاں کا جو امیدوں، جگنوؤں، پھولوں، مخملی گھاس اور مشک و عنبر کی بسی ان وادیوں میں کھلتا ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب نے یقیناً اس گرم جوشی سے اہل جنت کو بھی سلام کہا ہوگا اور ”پاکستان زندہ باد“ کا گرجتا نعرہ لگایا ہوگا۔

Read more

پی ٹی وی یتیم ہوگیا

دیکھتی آنکھو اور سنتے کانو! طارق عزیز ہم میں نہیں رہے۔ ایک دوست کی پوسٹ پر لگی یہ خبر میرے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے نوے کی دہائی کے اواخر کا وہ منظر گھوم گیا جب رنگین ٹی وی محلے کے بس ایک گھر میں ہوتا تھا اور جمعرات کی رات اس گھر میں رونق ہی رونق ہوتی تھی۔ شام سے ہی انٹینے کی سمت درست کرکے چینل کو ٹھیک سے ٹیون کر لیا جاتا

Read more

تجھ سے مل کر خدا بھی خوش ہوگا

کرنل محمد خان نے ”بسلامت روی“ میں یہ جو کہا تھا کہ ”زندگی کا مزا تماشائی بننے میں ہے نہ کہ تماشا بننے میں“ ، تو میں ان سے پوری طرح متفق ہوں۔ اگرچہ کئی احباب کواس سوچ پہ اعتراض بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر آدمی بیک وقت تماشا بھی ہوتا ہے اور تماشائی بھی۔ لیکن کرنل صاحب کے فلسفے سے در خور اعتنائی ممکن نہیں۔ طارق عزیز مرحوم اس ضمن میں اکثر مختار صدیقی کا ایک شعر سنایا کرتے تھے کہ

نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دنیا میں گم نام رہو

Read more

سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا تو احاطۂ عدالت میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے (یا ان کے حق میں ) پیش ہونے والے وکلا کی مسرت دیدنی تھی۔ ان کے چہرے وفور مسرت سے سرخ ہو رہے تھے، اور ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرانے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ با وقار اور با اعتبار قانون دان حامد خان اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے تھے، تو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنزائی بھی پر جوش اظہار خیال کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر صدر قلب حسن بھی ان کی مسرتوں میں شریک تھے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی کا چہرہ بھی تمتما رہا تھا۔ منیر اے ملک کہ عدلیہ آزادی تحریک کے ساتھ ان کا نام جڑا ہوا ہے، جسٹس افتخار چودھری سے لے کر جسٹس فائز عیسیٰ تک انہوں نے مسلسل کردار ادا کیا ہے، ان کی خوشی بھی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ وکیلانہ احتیاط کے ساتھ وہ اپنے جذبات کو زبان دے رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے کر، اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کا جاری کیا جانے والا اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر کے سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔

Read more

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو پروفیسر فتح محمد ملک

خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان علامہ محمد اقبال کے شدائی موجود ہیں۔ یہ ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کر رہے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال فراموشی سے بھی روشناس کر رہے ہیں۔ اور اقبال اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف مذہب اور اعتدال پسند پروفیسر بھی اور طبیعت ایسی کہ آپ ان کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان،

Read more

جب میں نے نیلام گھر میں کار جیتی

طارق عزیز دنیا سے نہیں گیا۔ وہ تو ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔ دنیا سے تو علم و ادب کی مجسم تصویر، رکھ رکھاو، تہذیب و شرافت کا ایک عہد رخصت ہوا ہے۔

محسن نقوی نے کہا تھا کہ،
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی۔
طارق عزیز صاحب کے نوحہ خواں بہت ہیں۔ میں طارق عزیز اور ان کے پروگرام کے حوالے سے اپنی بہت سی خوش گوار یادوں میں سے چند کو تحریر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

Read more

شکریہ ٹامس ایلوا ایڈیسن

نامور امریکی تاریخ دان اور مصنف ول دیورانٹ سے ایک انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ”اگر میں آپ سے کہوں کہ تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن شخص کا نام لیں تو کیا وہ نام کارل مارکس کا ہوگا“ ویل ڈیورانٹ نے جواب دیا کہ ”اگر آپ لفظ کے وسیع ترین مفہوم میں بات کریں تو پراثر کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ تکنیکی موجدوں ایڈیسن جیسے انسانوں کو دینا پڑے گا۔ بلاشبہ

Read more

!طارق عزیز کو پاکستان کا سلام پہنچے

”ابتدا ہے۔ رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید“ ۔
اسکے بعد کوئی معلوماتی بات، خاص لیکن مختصر قصہ یا واقعہ ہوتا تھا۔
کچھ جملے کیسے ہوتے ہیں نا۔ زندگی بھر کے لیے آپ کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں اور آپ ان چند لائنوں کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لوگوں کی یادداشتوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

طارق عزیز، نیلام گھر سے ہسپتال میں آخری ایام تک جو ہم نے دیکھا

طویل برآمدے میں گول کمرے کے عین دروازے میں، ٹی وی کی بلیک اینڈ وائٹ سکرین روشن ہوتی۔ برقی پتلے اس سکرین پہ نمودار ہوتے۔ اماں جی شام کے دو گھنٹے سات سے نو بجے تک ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتیں۔ برآمدہ محلے کے لڑکے لڑکیوں سے کھچا کھچ بھر جاتا۔ ہم آلتی پالتی مار پھسکڑا جما کے سیمنٹ کے چکنے فرش پہ بیٹھ جاتے۔ بڑے بوڑھے چارپائیوں اور پیڑھیوں پر قبضہ جما لیتے۔ انہیں دنوں میری دیکھتی آنکھوں نے طارق عزیز کو دیکھا اور سنتے کانوں نے اس کی بھاری بھرکم آواز کو سنا۔

جو لوگوں کا ہجوم، اس کے پروگرام نیلام گھر کے دن ہمارے برآمدے میں ہوتا، بعد میں جب میں پڑھنے کے لیے شہر آیا تو وہی رش میں نے کئی سپرہٹ کھڑکی توڑ فلموں کی نمائش میں سنیما گھروں میں دیکھا۔ طارق عزیز کے پروگرام کا دھندلا خاکہ جو ابھی تک میرے دماغ کے خانوں میں محفوظ ہے، اس کے ابتدائی جملے تھے، ابتدا ہے رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام۔ کوئی ڈھائی دہائیاں قبل سنے گئے یہ فقرے میں محض اپنی یادداشت کے بل بوتے پر لکھ رہا ہوں ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

Read more

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

طارق عزیز ایک کامیاب شخص، ایک دنیا جس کی دیوانی تھی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی کا کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا، جو اس کو نہ جانتا ہو۔ شو بز انڈسٹری کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کی چمک دمک میں انسان کی اصلیت دب جاتی ہے۔ کہیں کھو جاتی ہے۔ طارق عزیز کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور انجام میں اس کی شخصیت کا وہ پہلو، جو شاید اس کا آئیڈیل تھا، کہیں نظر نہیں آتا۔

ستر کی دہائی میں پی ایس ایف پنجاب یونیورسٹی کے لیڈر، بھٹو کے مشیر برائے لیبر اینڈ سٹوڈنٹ یونینز، راجا انور، اپنے ناول ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں :

Read more

طارق عزیز، اپنے فلمی کرداروں میں بھی انقلابی

اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ، باوجود اس کے کہ طارق عزیز ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، پاکستان ٹیلی ویژن (اور میزبانی) ان کی شناخت بنی۔ اس کی ایک وجہ تو ان کی پاکستان ٹیلی ویژن سے ابتدائی وابستگی تھی، دوسرے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد بھی ان کے پاکستان ٹیلی ویژن سے مسلسل متعلق رہنے سے، یہ ربط مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

وہ ساٹھ کی دہائی سے اس سے وابستہ ہوئے اور پھر ستر کی دہائی سے کبھی تسلسل اور کبھی توقف کے ساتھ اس چھوٹی سکرین پر ان کا راج رہا۔ جب کہ ابلاغ کے باقی ذرائع پر ان کا یہ تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ ریڈیو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ابتدائی ساتھی تھا، جب کہ فلم انڈسٹری میں وہ ساٹھ کی دہائی ہی سے شامل ہوئے مگر، اپنے دوسرے سیاسی دور کے شروع ہونے کے بعد، اس دل چسپی کا مظاہرہ نہ کر سکے جس کا وہ خصوصاً ستر کی دہائی تک کر چکے تھے۔

Read more

پرنم آنکھوں اور دکھی سماعتوں کا طارق عزیز کو آخری سلام

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام اور پھر ایک لمحاتی وقفہ اور اس کے بعد اک اسٹائل سے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بالوں کی گہری لٹ کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ہمارے وقت کا یہ ہیرو جو صرف شوبز کی دنیا ہی کا ستارہ نہ تھا بلکہ وہ ہر گھر کا فرد تھا۔ آج ہم سے جدا ہوا۔ پروگرام تھا نیلام گھر اور اس کے ہیرو ہمارے وقت کے معروت اداکار، صداکار، شاعر، میزبان

Read more

ایک اور عہد تاریخ ہوا

پاکستان ٹیلی ویژن سروس لاہور اپنی آغاز سے تقریباً نو دس سال میں وہ مقبولیت نہ پا سکا۔ جس کی امید کی جا رہی تھی۔ تب ابھی اکثر کے پاس ٹی وی سیٹ بھی نہیں تھا۔ اور دیہاتوں میں ابھی ٹی وی نشریات بھی نہیں پہنچ پا رہی تھی۔

1975 میں پھر نیلام گھر شروع ہوا اور پاکستانی ناظرین نے اس کو مقبولیت کے اوج ثریا تک پہنچا دیا۔ پھر کچھ اس کا نصیب ایسا کھلا کہ طول و عرض میں ناظرین ٹی وی کے کسی پروگرام کو جانتے ہوں یا نہیں لیکن نیلام گھر سب نے دیکھ لیا تھا۔

Read more

کچھ طارق عزیز کی سیاست کے بارے میں

ھم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں کھولیں دکان کفن تو سب مرنا چھوڑ دیں پہلا منظر : 28 مئی 1998 میں سوا تین بجے سہ پہر لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے کورٹ روم میں معمول کے مطابق داخل ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے صحافی چوہدری غلام حسین تیزی سے داخل ہوئے، ریڈر مولوی ایوب سے اشارے سے پوچھا کہ جج صاحب چیمبر ہی میں موجود ہیں اور اثبات میں جواب پا کر

Read more

جب صدر رفیق تارڑ نے جرنیلوں کو استعفیٰ دینے سے انکار کیا

فائل میں سجی سمری اور منسلک آرڈیننس کا موضوع صدرِ مملکت کی تنخواہ، پنشن اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ تھا۔ یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں درج نہایت ہی اشتہا انگیز مراعات و سہولیات کا تعلق صدرِ مملکت کی فراغت کے بعد سے تھا۔ صدر کا رویہ بے لچک تھا، طارق عزیز سے ملاقات سے قبل انہوں نے ہم سے اس فائل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا۔ ان لوگوں نے مجھے گھر بھیجنے کی ٹھان ہی لی

Read more

ریکارڈ ساز طارق عزیز

طارق عزیز صاحب سے آخری ملاقات اسلام آباد کے پارلیمانی لاجز میں غالباََ 1998میں ہوئی تھی۔وہ ان دنوں قومی اسمبلی کے رکن ہوا کرتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ 1997کے انتخابات کے ذریعے اس ایوان میں آنے کے لئے انہوں نے لاہور کے ایک حلقے سے آج کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ بہرحال یہ آخری ملاقات لاہور ہی سے آئے ایک اور رکن اسمبلی میاں منیر صاحب کے

Read more

طارق عزیز۔۔۔ ہمارے بچپن کا ادبی پہلو یتیم ہو گیا

ہمارا بچپن، عہد جدید کے بچوں کی طرح ڈیجیٹل آلات کی سہولیات اور برقی روابط کی بجائے، افراد کے آپس میں میل جول سے مزین تھا۔ واٹس ایپ اور فون میسج کی بجائے دوست کے گھر جانا، دروازہ بجانا، دوست کے والد یا والدہ کو سلام کرنا، ڈانٹ سننا اور نصیحتوں کے بعد دوست کو ساتھ لا کر کرکٹ کھیلنا، اکٹھے بیٹھ کر، عمران سیریز، ٹارزن، عمرو عیار کی کہانیاں پڑھنا اور پی ٹی وی پر سہ پہر سوا چار

Read more

میں اپنی زندگی میں طارق عزیز کی موت نہیں دیکھنا چاہتی تھی

ہر بدھ کو پی ٹی وی پر طارق عزیز بزم طارق عزیز نہیں پیش کیا کرتے تھے، وہ تو ہماری اخلاقیات اور کردار کو تخلیق کیا کرتے تھے۔ گھر میں صرف پی ٹی وی کا آنا بھی بہت بڑی سعادت تھا، جو تربیت ہماری نسل۔ کی اس زمانے میں پی ٹی وی کے ان ہونہاروں نے کی تھی وہ کوئی ادارہ کبھی کر ہی نہیں سکتا۔ طارق عزیز ان معلموں میں سے ایک تھے اور سب سے اول تھے۔ طارق

Read more

طارق عزیز کی نوجوانی کی جدوجہد

طارق عزیز اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گیا اور میرا اور اس کا ستر سال کا ساتھ ختم ہو گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ کل رات میری ٹیلی فون پر اس سے بات ہوئی تھی۔ میرے ایک پرانے، سوشل زندگی میں بہت active شاگرد جو پنجاب کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز رہ چکے ہیں، طارق عزیز سے منیر نیازی کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ میں نے طارق کو ٹیلی فون کیا تو اس نے کہا کہ اس

Read more

19برس پہلے: اس پراسرار فائل میں کیا تھا؟

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔ 21 اپریل 2001 کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے

Read more

نیلام گھر کا طارق عزیز ہم سے جدا ہو گیا

سنتی سماعتوں دیکھتی آنکھوں کو طارق عزیز کا سلام، شروع اس رب الجلال کے نام سے جس نے دونوں جہاں کو تخلیق کیا گلوں میں رنگ بھرے اور وجہ کائنات پر لاکھوں درود وسلام۔ ۔ ۔ عجیب سی کشش عجیب سی اپنائیت یہ الفاظ میں نے 1990 میں سنے تھے ہر جمعرات کو نیلام گھر پی ٹی وی پر آتا تھا چونکہ گاؤں میں ٹی وی کسی کسی کے گھر میں موجود ہوتا تھا تو زیادہ تر بچے بڑے کسی

Read more

طارق عزیز، ایک ہمہ جہت شخصیت

انور شعور صاحب کا ایک بہت خوبصورت مصرعہ ہے، ”خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ“ طارق عزیز اس مصرعے کا مکمل عکس تھے۔ ان کا ٹی وی میزبان ہونا، سیاست میں آنا، براڈکاسٹر بننا، فلموں میں اداکاری اور فلم سازی کے کام میں حصہ لینا، یہ ان کا وہ ظاہر ہے جو کوئی بھی آسانی سے دیکھ سکتا ہے اور اس کے بارے میں جان سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ سارا ظاہر، پس منظر میں ہونے والی اس انتھک محنت اور شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے لئے، طارق عزیز صاحب، ماضی میں مسلسل سرگرم عمل رہے، تاکہ اپنے اس مستقبل کی تعمیر کر سکیں، جو ان کے دل میں، حقیقت کا روپ دھارنے کو مضطرب ہو گا۔

Read more

طارق عزیز سے جڑی کچھ یادیں کچھ باتیں: ’ہمارے دور کے محبوب پہچانے نہیں جاتے‘

یہ جنوری سنہ 1976 کی بات ہے۔ اتوار کا دن تھا اور دوپہر کا وقت۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام نیلام گھر کی ریکارڈنگ تھی۔ پروگرام کا کارڈ بڑی تگ و دو کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اس دن یکم محرم بھی تھی۔ چنانچہ پروگرام کے آغاز میں بتایا گیا کہ آج ابتدائی مرحلے کے تمام سوالات محرم الحرام کی مناسبت سے پوچھے جائیں گے۔ پہلے مرحلے کے امیدواروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری تھا مگر طارق صاحب ہم

Read more

ڈاکٹر قدیر خان نے کیا راز فاش کر دیا؟

17اگست 1988 کے بعد 12 اکتوبر 1999 کا خوانِ نعمت گیارہ برس کی تشنگی بجھا چکا تھا۔ وزیر اعظم اپنی حکومت سمیت لقمہ تر بن چکا تھا۔ اگلے برس 2000 کے آغاز میں خوئے شکار نے انگڑائی لی تو اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے لئے پی سی او کا ہانکا لگایا گیا۔ چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت متعدد خودسر ججوں کا لہو دلوں کو گرما گیا۔ اب 2001 گزرا جا رہا تھا اور شکار گاہ سونی پڑی تھی۔

Read more