ارباب اختیار اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو یقین دلا دیا گیا کہ عوام پر آئندہ مالی سال میں ٹیکسوں کا اضافی بوجھ دال دیا جائے گا۔ یہ اضافی بوجھ بارہ سو بہتر ارب کی خطیر رقم ہو گی۔ عام آدمی کو اگر کوئی چھوٹی موٹی آسانیاں میسر ہیں تو وہ چھین لی جائیں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن اشیاء سے ٹیکس کا استثنا ختم کر دیا جائے گا، ان میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور تعلیم سرفہرست ہوں گی۔
گویا پہلے سے ہی بھوک و ننگ کے شکار عوام کے لیے دو وقت کی روٹی بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ ادویات ان کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ اور بچوں کی تعلیم غریب کے لیے محض خواب بن کے رہ جائے گا۔ آئی ایم ایف اور حکومت کے اس سمجھوتے پر بحث ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کچھ دانشور اسے اچھی خبر اور ترقی و خوشحالی کی نوید قرار دے رہے ہیں۔ سیمینار اور فورم منعقد ہو رہے ہیں، جن میں ارباب اختیار کی دانش اور آئی ایم ایف کی سخاوت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ نایاب لمحے ہوتے ہیں جب عشق بے خطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے اور عقل کے پاس محو تماشا رہ جانے کے سوا چارہ نہیں ہوتا۔
Read more