اسٹیٹ بنک ترمیمی آرڈیننس اور حکومت کی لاچارگی
نئے پاکستان کی دعویدار وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف سے پچاس کروڑ ڈالر کی قرضے کی قسط کی وصولی کے بعد آئی ایم ایف ہی کی شرائط کے تحت اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو زیادہ خودمختاری دینے کے حوالے سے 9 مارچ کو ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جسے اسٹیٹ بنک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ دو ہزار اکیس کا نام دیا گیا ہے۔
اس ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بنک حکومت کو کوئی قرض جاری نہیں کرے گا۔ قیمتوں کو مستحکم کرنا اور معاشی استحکام بنیادی مقصد ہوگا۔ اسٹیٹ بنک حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرے گا۔ گورنر اسٹیٹ بنک کا تقرر صدر مملکت حکومت کی سفارش پر کریں گے اور صدر ہی عدالتی فیصلے تحت گورنر اسٹیٹ بنک کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔ اس ترمیم کے ذریعے گورنر اسٹیٹ بنک کی مدت ملازمت تین سے سال بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے اور اس میں بھی مزید پانچ سال کی توسیع کی گنجائش رکھ دی گئی ہے۔ اس وقت گورنر اسٹیٹ بنک کے عہدے پر جو شخصیت براجمان ہیں ان کے بارے میں کس کو نہیں پتا کہ آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ مصر کی معیشت کو تباہ حال کرنے میں موصوف کا بنیادی کردار ہے، لیکن ہمارا ہینڈ سم کپتان ڈٹا ہوا ہے کہ این آر او نہیں دوں گا۔
Read more























































































