’عوام کی شرکت شاید قیادت کی توقع سے زیادہ رہی‘

جناح باغ حالیہ سالوں میں سیاست کے نئے اکھاڑے کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں تحریک انصاف نے جلسے کیے، جمعیت علما اسلام نے 2012 میں ایک بڑا اجتماع کیا، مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم سے راہیں الگ کرنے کے بعد یہاں جلسہ منعقد کر کے اپنی عوامی مقبولیت کا اظہار کیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بلاول بھٹو کے لیے اسی مقام کا انتخابات کیا تھا۔ ماضی میں نشتر پارک اور ککری گراونڈ جلسہ گاہ کے لیے موزوں سمجھے جاتے تھے۔

Read more

’عوام کی شرکت شاید قیادت کی توقع سے زیادہ رہی‘

جناح باغ حالیہ سالوں میں سیاست کے نئے اکھاڑے کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں تحریک انصاف نے جلسے کیے، جمعیت علما اسلام نے 2012 میں ایک بڑا اجتماع کیا، مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم سے راہیں الگ کرنے کے بعد یہاں جلسہ منعقد کر کے اپنی عوامی مقبولیت کا اظہار کیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بلاول بھٹو کے لیے اسی مقام کا انتخابات کیا تھا۔ ماضی میں نشتر پارک اور ککری گراونڈ جلسہ گاہ کے لیے موزوں سمجھے جاتے تھے۔

Read more

’عوام کی شرکت شاید قیادت کی توقع سے زیادہ رہی‘

جناح باغ حالیہ سالوں میں سیاست کے نئے اکھاڑے کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں تحریک انصاف نے جلسے کیے، جمعیت علما اسلام نے 2012 میں ایک بڑا اجتماع کیا، مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم سے راہیں الگ کرنے کے بعد یہاں جلسہ منعقد کر کے اپنی عوامی مقبولیت کا اظہار کیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بلاول بھٹو کے لیے اسی مقام کا انتخابات کیا تھا۔ ماضی میں نشتر پارک اور ککری گراونڈ جلسہ گاہ کے لیے موزوں سمجھے جاتے تھے۔

Read more

نو نان سینس بلقیس ایدھی اور نان سیرئیس بیوروکریٹ

ایدھی صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ ملاقاتوں کا سلسلہ (15، اپریل 1985 کی اس رات جب صبح سویرے بہاری ڈرائیور راشد حسین نے روٹ این ون کی منی بس چلاتے ہوئے سرسید کالج کے سامنے وہاں کی طالبہ بشری زیدی، اس کی بہن نجمہ زیدی اور ان کی پاپوش نگر کی پڑوسن کو کچل دیا تھا) کے بعد بھی جاری رہا۔ ان کا اپنا گھر (ایدھی ویلفئیر ہوم) جو گلبرگ سہراب گوٹھ کے نزدیک تھا وہ لیاقت آباد سب ڈویژن

Read more

طالبان کے خونی سوات سے خوشیوں کے باغ تک

یہ علاقہ شروع سے ہی سرسبز اور شاداب رہا ہے۔ شیو شنکر بھگوان کے نام کی نسبت سے آباد ہونے والے شیوا گاؤں کو تہذیبوں کا امین کہا جاتا ہے۔ یہ خیبر پخونخواہ کا ضلع صوابی ہے جہاں سے سوات کے لئے روانہ ہونے سے پہلے محترم فرہاد زمان نے ایک قصہ سنا کے رخصت کیا جو اس طرح تھا۔ نماز فجر کی اذان سن کر، سید کمال کاکا لبیک کہتا ہوا مسجد کی طرف چل پڑا۔ کیا دیکھتا ہے

Read more

دردنہیں بانٹا جا سکتا جس کو ہوتا ہے وہی جانتا ہے

کس کا کلیجہ کتنا چھلنی ہے، کس کی روح تک کو کتنا زخمی کیا گیا ہے کوئی نہیں جانتا۔ درد کی ایسی شدت ہے دھاڑیں مار مار کر چیخ رہا ہوں، خاموش زبان سے چلا چلا کر پکار رہا ہوں کہ کوئی تو سنبھال لے۔ لیکن ہر دفعہ کی طرح درد کی شدت میں کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھا

Read more

مسقط سے لاس اینجلس تک

"مہتمم مطبخ یا دروغه مطبخ ” ہم خود کلامی کرتے ہوئے مسکرائے، کیا نام دیں اپنے آپ کو؟  دیکھیے گردش دوراں نے یہ دن بھی دکھانا تھا کہ ہمارے حصے میں یہ ڈیوٹی آئی تھی۔ وہ جو فرائض سونپنے کا چارٹ بنایاگیا تھا اس میں یہ کہتے ہوئے لکھا گیا، ” قیام میرے ذمے، طعام آپ کے" یہ بڑا نازک مرحلہ تھا کہ وہ کام جو ہمیں زندگی کا سب سے بورنگ کام لگے یعنی باورچی خانے میں پیاز، ادرک

Read more

مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

(مسیحا صفت ایدھی صاحب کی کچھ ذاتی یادیں) ایدھی صاحب سے میری ملاقات 1983 کے وسط میں چھاجوں برستی بارش میں ہوئی۔ تب تک بھارتی فلم۔ ”نمک حلال“ ریلیز ہو چکی تھی۔ تین موٹی کیسٹوں والا وی سی آر اور پلاسٹک کے کیس میں لپٹی نازک سی آڈیو کیسٹوں پر ہم اس کا وہ جان لیوا گانا بہت شوق سے سنتے اور دیکھتے جس میں امیتابھ بچن اور سمیتا پاٹل ایسی ہی برستی برسات میں لہرا لہرا کر گاتے ہیں

Read more

’آذربائیجان نے جنگ بندی لاگو ہونے کے چار منٹ بعد خلاف ورزی کی‘، آرمینیا کا الزام

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین کئی دہائیوں سے جاری ناگورنو قرہباخ تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے اور حالیہ ہفتوں میں اس تنازع میں پھر سے شدت آئی ہے۔

Read more

موقع پا کر درندگی پر اترنے والے مسیحا

ایک خاتون اسپتال یا کلینک میں بچہ جن رہی ہو اور کوئی اجنبی اس کی نہایت فطرتی اور تکلیف دہ مرحلے میں خفیہ طور پر مجرمانہ فلم بندی کرنے میں مصروف ہو، تا کہ کل کو وہ اس خاتون کو اس کے نہایت ذاتی اور فطرتی عمل کی عکس بندی دکھا کے شرمسار کرے، یا ہراساں کر سکے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر سکے۔ جہاں تک دوران پیدائش مرحلے کو فلم بند کر کے کسی کو ہراساں کرنے کا ہے، جو خالصتاً شرم ہی سے منسوب ہے، تو بتاتی چلوں کہ دنیا کا ہر انسان بشمول عورتوں کی زچگی میں فلم بندیاں کرنے والے اور عزت اور تقدس کو عورت کی زانو میں رکھ کر نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے تمام آدم، عورت کی زانو ہی سے دنیا میں تشریف لائے ہیں، جسے وہ ماں کہتے ہیں۔

وہ ہم جماعت، ہم کار، ٹی وی پر ”تیرے جسم میں ہے کیا؟ آہ تھو“، کرنے والوں سمیت ہر کوئی عورت کے جسم سے جنا گیا ہے۔ یہ الگ مدعا ہے کہ زندگی جننے والے اعضا کو شرم سے تشبیہ دے کر ”غیرت“ کو ہوا دی جاتی ہے۔ مگر یہاں اس بحث کا محور، مجرمانہ طور پر خفیہ عکس بندیاں ہیں، جو اسپتالوں میں ہوتی ہیں۔ مریض کی بیماری سے فائدہ اٹھانے والے کم ظرف ہیں، جو مریض کی بیماری میں بھی، ذلت کے گڑھے میں کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

Read more

مہنگائی کا راکٹ: مگر ہمیں اس کی فکر نہیں

کبھی کبھی تو یہ الجھن کچھ سوچنے ہی نہیں دیتی کہ پاکستان کے کون سے مسئلے کو کالم کا موضوع بنایا جائے۔ ہمارے کچھ مسائل تو مستقل نوعیت کے ہیں۔ جیسے سیاسی عدم استحکام، قانون و انصاف کی زبوں حالی، امن و امان کی خرابی، سرکاری عمال کی ناقص کارکردگی اور سیاستدانوں کی باہمی رسہ کشی۔ پاکستان کی تیسری نسل اب یہ تماشے دیکھ رہی ہے۔ اور لگتا نہیں کہ چوتھی نسل ان سے محروم رہے گی۔ ان دائمی مسائل میں فرقہ واریت، عدم برداشت اور علاقائی تعصبات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ہمیں جو دوسرے مسائل در پیش ہیں ان میں تعلیم و صحت جیسے سماجی شعبوں کی نا گفتہ بہ حالت نمایاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت بھی مسلسل نیچے کی طرف لڑھک رہی ہے۔ ہم قرض لے لے کر گزارا کرتے ہیں۔ یہ قرضے خیرات نہیں ہوتے۔ نا ہی قرض حسنہ ہوتے ہیں۔ عالمی ساہو کار سود بھی لیتے ہیں اور من مانی شرائط بھی منواتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان عالمی ساہو کاروں کے چنگل میں پھنس جانے والے ممالک مشکل ہی سے نکل پاتے ہیں اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

Read more

میں کون: میری شناخت دھندلا چکی

آج میں ایک ایسی کہانی بیان کرنے جا رہی ہو جو صرف میری روداد نہیں ہو گی بلکہ اس ملک کی 98 فیصد لڑکیوں کی آپ بیتی ہو گی۔ یہ صرف میرے احساسات جذبات اور حالات کی عکاس نہیں ہے بلکہ میرے ملک کی بیشمار لڑکیوں کی ترجمان ہو گئی۔ میرا تعلق ایک روایتی پنجابی گھرانے سے ہے جہاں بیٹے کو تو مادر پدر آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن بیٹی پر ہر طرح کی قدغن لگائی جاتی ہے۔ ایک جملہ جو آج بھی میری سماعتوں میں گونجتا ہے اکثر بولا جاتا تھا کہ ماں باپ کا کام بیٹیوں کو صرف رسمی تعلیم دلانا ہوتا ہے اگر بیٹی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے یا پھر کوئی ملازمت کرنا چاہے تو وہ شادی کے بعد کرے۔

Read more

مولانا عادل خان کی شہادت اور چند سوالات

کراچی کو ایک مرتبہ پھر کرائے کے قاتلوں نے سوگوار کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر انہی عناصر نے ماضی کی طرح علما دشمن کھیل کی تجدید کرتے ہوئے جامعہ فاروقیہ (شاہ فیصل کالونی کراچی) کے رئیس مولانا ڈاکٹر عادل خان کو گیارہ اکتوبر کی رات اپنے ڈرائیور سمیت شہید کر دیا۔ مولانا عادل خان کو اللہ تعالی کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، کیا دیانت دار اور جری مولانا تھے۔ مولانا نمونہء اسلاف اور ولی کامل حضرت سلیم اللہ خان ؒ کے بڑے صاحب زادے تھے۔

جامعہ فاروقیہ میں اپنے والد محترم کے شاگرد رہے تھے اور 1973ء میں اسی جامعہ ہی سے فاضل ہوئے۔ 1976ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے ہیومن سائنس میں گریجویشن کرنے کے دو برس بعد آپ نے عربی زبان میں ماسٹر کیا، جب کہ 1992ء میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بنے۔ بہترین مدرس اور اعلی درجے کے خطیب ہونے کے ساتھ مولانا نے خود کو ایک مخصوص انداز کے ساتھ علوم دینیہ کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ آپ جدید علوم سے بھی بہرہ ور تھے، اسلامی دنیا کے بدلتے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔

Read more

’حکیم سعید کے قتل سے متعلق شکوک و شبہات کبھی دفن نہیں ہو سکے‘

’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے بانی سربراہ، ممتاز سماجی شخصیت، سیاستدان اور پاکستان کے نامور طبیب حکیم محمد سعید 17 اکتوبر 1998 کو ایک حملے میں ہلاکت کے بعد مدینہ الحکمت میں دفن کر دیے گئے مگر اُن کے قتل سے متعلق شکوک و شبہات کبھی دفن نہیں ہو سکے۔

Read more

وعدہ تو کیا ہوتا

میں شراب پیتا تھا، یہی ایک خرابی تھی مجھ میں۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں پیتا تھا بلکہ اٹھتے بیٹھتے سگریٹ اور شراب کے خلاف ہی بات کی جاتی تھی۔ شاید میں بھی نہیں پیتا اگر کراچی یونیورسٹی میں میری ملاقات شبیر سے نہیں ہوتی۔ ہم دونوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں شراب سے ہمارا تعارف ہوا تھا۔ میں اور شبیر دونوں ہی ہاسٹل میں سلیم سے ملنے گئے تھے۔ سلیم کے کمرے کے ساتھ ہی اگالا وکابی کا کمرہ تھا۔

Read more

پہلے پاکستانی فوجی صدر کا امریکہ میں فقیدالمثال استقبال کیوں ہوا؟

ساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب خان کا امریکہ میں زبردست استقبال دراصل امریکہ کی اس خطے میں سرد جنگ کی پالیسی کا حصہ تھا جس میں چاہے کوئی فوجی آمر ہو یا مطلق العنان بادشاہ، اگر وہ کمیونزم کے خلاف ہے تو وہ امریکی اتحادی ہوگا۔

Read more

مڈل کلاس کا پنچ نامہ

مڈل کلاس کھانا:

اپر مڈل، گھر میں روزانہ کئی ڈشیں بنتی ہیں، جو زیادہ تر نوکر کھاتے ہیں۔ بچے اکثر باہر سے آرڈر کرتے ہیں یا کھا کر آتے ہیں۔

سیمی مڈل کلاس: ہفتے میں ایک بار گوشت اور چکن پکتا ہے اور بوٹیوں پر لڑائی ہوتی ہے۔

لوئر مڈل: روز دال یا سبزی پکتی ہے، پھر بھی مہنگائی پر حکومت کو کوسنے دیے جاتے ہیں۔

مڈل کلاس شاپنگ:

اپر مڈل: جب ضرورت ہو، سٹریس ریلیز کرنا ہو، یا بوریت دور کرنی ہو، شاپنگ کرتے ہیں۔ مگر کرتے برانڈ کے اوریجنل آؤٹ لیٹ سے ہیں۔

Read more

سوئے اتفاق

بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ کسی طرح نئی جگہیں دیکھوں، نئے نظریات سے آشنا ہو جاؤں، نئے

لوگوں سے ملوں اور ان سے زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے بہت ساری باتیں سیکھوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت شوق ہے۔ ایسا کرنے سے بہت ساری ایسی باتوں سے واقفیت ہو جاتی ہے جو کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر جگہ میری اس خواہش کا سامان ہو ہی جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شام کا وقت ہو اور چائے نہ پی جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاسٹل کے کینٹین میں اپنے نئے دوست فراز کے ساتھ چائے پینے بیٹھا تھا۔ فراز سے پہلی ملاقات ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ہوئی تھی اور پہلی ہی ملاقات میں دوستی ہو گئی۔ وہ بلوچستان کے ایک خوبصورت لیکن پس ماندہ علاقے سے ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے۔ کچھ گپ شپ کے بعد میں نے فراز سے پوچھا:

Read more

سگنل

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ چوراہے پہ ملنے والا شخص، ٹرین میں نظر آنے والا چہرہ، بازار میں ٹھٹکتی ہوئی عورت یا بس کی کھلی کھڑکی میں سے نظر آنے والی مانوس آنکھیں آپ کے حافظے میں معمولی سے معمولی تفصیلات کے ساتھ نقش ہو جاتے ہیں، جیسے کیمرے سے لی گئی تصویر کے ساتھ، وہ لمحہ بھی ہمیشہ کے لئے قید ہو جاتا ہے۔

میری گاڑی سگنل پہ رکی، میں نے گھڑی پہ وقت دیکھا اور دائیں بائیں جھانکنے لگا۔ ساتھ والی گاڑی میں ایک شخص دکھائی دیا جو کچھ گنگنا رہا تھا۔ مجھے لگا شاید اس کو کہیں دیکھا ہے اور سوچ میں پڑ گیا، مگر کچھ یاد نہ آیا۔ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور سگنل کھل گیا۔ میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ کانفرنس میں پہنچا، تو ابھی کارروائی شروع ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ یہ ایک میڈیکل کانفرنس تھی، جو سینٹ مارکس اسپتال لندن کے آڈیٹوریم میں منعقد کی جا رہی تھی۔ میں آئی ٹی سے وابستہ ایک فرم کی جانب سے ٹیکنیکل سپورٹ سسٹم فراہم کر رہا تھا۔ میں نے اپنا کمپیوٹر سسٹم سیٹ کیا اور کام میں مشغول ہو گیا۔

Read more

’کیا آپ سیکولر ہو گئے؟‘ بھارت میں گورنر کے طنز پر تنازع

بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے وزیرِ اعلیٰ اودھو ٹھاکرے کے نام ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے تحریر کردہ ایک مکتوب کے بعد بھارت میں تند و تیز بحث جاری ہے اور کئی لوگ گورنر کے خط کو وزیرِ اعلیٰ کے اختیارات میں مداخلت اور ان کے آئینی حلف کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

کئی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ایک گورنر کو آئین کا پابند ہونا چاہیے یا اپنے مذہبی اعتقاد کا؟ اور یہ کہ گورنر صدر کا نمائندہ ہوتا ہے یا اپنی سیاسی جماعت کا؟

مہاراشٹرا حکومت نے کرونا کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد 11 اکتوبر کو ریاست میں شراب خانوں، ریستورانوں اور ساحلِ سمندر کھولنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

Read more

کیا ہمارے بچے بھی ان آقاؤں کے بچوں کی گاڑیاں چومیں گے؟

شروع شروع میں جب آبادی بڑھنا شروع ہوئی، تو ریاست اور ریاستی ڈھانچے کی ضرورت محسوس ہوئی، جو روٹی کپڑا اور مکان جیسی ضروریات کے لیے ہونے والی قتل و غارت کو روک سکے۔ ورنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق جس کا دل کرتا، چار بندوں کا گروپ بناتا اور جتھے کی صورت میں اک آدمی کے گھر، مکان، غلہ، حتیٰ کہ ان کی عورتوں پر بھی قبضہ کر لیتا۔ ریاستی قوانین بنائے گئے جو طاقتور کو کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز رکھ سکیں۔ قوانین تو بن گئے مگر ہر ریاست کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ پولیس فوج اور ان جیسے قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے بنا کر، اپنی طرف سے ان کو غلہ یا تنخواہیں دے سکے، تو اس کا حل یوں نکالا گیا کہ ان کو مافوق الفطرت چیزوں سے ڈرایا جائے اور اس کے لیے ریاست کے کرتا دھرتاؤں نے مذہب کا سہارا لیا اور مذہبی پیشواؤں سے گٹھ جوڑ کر لیا۔ مذہبی پیشوا اپنے ہم مذہبی معتقدین کو بادشاہ کے متعلق جھوٹی سچی حکایات اور کہانیاں سنا کر اس کی بات ماننے پر راضی کیا کرتے تھے۔ اس کرہء ارض کے کسی بھی خطے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، بادشاہ کو خدا کا اوتار بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ ہمارے یہاں بھی بادشاہ کو ظل الہی یعنی خدا کا سایہ مانا جاتا تھا۔

ریاست اور مذہب کے اس گٹھ جوڑ نے کئی صدیوں تک عوام پر راج کیا۔ مغرب میں سائنس کی ترقی نے اس مناپلی کو چیلنج کیا اور عوام بادشاہ کے خدائی تصور سے باہر نکلی۔ حالاں کہ اس مناپلی کو قائم رکھنے کے لیے مذہبی ہیڈ کوارٹرز کلیسا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ چھاپے خانے جلا دیے گئے۔ کتاب لکھنے اور چھاپنے پر پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔ سائنسی ایجادات کو حرام قرار دیا جاتا رہا۔ صرف مغرب کیا ہمارے یہاں بھی جب ٹریکٹر کھیتوں میں داخل ہوئے، تو لوگوں نے ڈنڈے اٹھا لیے کہ یہ ہماری زمینوں کو بنجر کرنے کی ودیشی سازش ہے۔ لاؤڈ سپیکر حرام تھا، تو ریلوے لائن کی پٹڑی بچھانے پر ہمارے بزرگوں نے فرمایا کہ گورے ہماری زمینوں کو لوہے کے ان پٹوں سے باندھ کر اپنے ملک گھسیٹ کر لے جائیں گے۔ خیر مغرب نے تو جلد ہی اس مناپلی کو ختم کر دیا، مگر ہمارے یہاں آج بھی مذہب اور سائنس کے درمیان جنگ جاری ہے۔ یقین نہیں آتا تو گوگل کر کے ہمارے علما کی طرف سے موٹر سائیکل، مسلمان کرنے کے طریقوں کی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ بلکہ ہمارے یہاں تو کہیں کہیں یہ مذہبی طبقہ سرکار سے بھی زیادہ طاقتور نظر آتا ہے۔

Read more

پروفیسر منظور احمد کی وفات: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

پروفیسر منظور احمد گذشتہ روز لاہور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے لاہور کے شاہ حسین کالج کی بنیاد رکھی جس نے اگلی کئی دہائیوں کے لیے پاکستانی معاشرے اور سول سوسائٹی کو ایک لبرل بیانیہ دیا۔

Read more

فیملی پلاننگ ہی اکسیر اعظم ہے

سائنس کی کوئی ایک ایجاد جو پورے گھر، پورے ملک اور خاص طور پر عورتوں کو فوری سکھ دے سکتی ہے۔ زندگی میں سکون کے کئی سال دے سکتی ہے۔ غربت کو اگلی نسل میں شفٹ ہونے روک سکتی ہے۔ عورتوں کو خوب صورت اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے دوستی اور پیار کے اظہار کا موقع دے سکتی ہے۔ وہ

Read more

اپنے دکھ مجھے دے دو: راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا، تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں

Read more

گوجرانوالہ جلسہ: پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف تحریک کا آغاز، شہر میں 31 مقامات کنٹینرز لگا کر سیل

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں آج حزب اختلاف کی جماعتیں ایک جلسے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرنے جا رہی ہیں لیکن اس دوران اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کو کنٹینرز کی صورت میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Read more

انگلینڈ کا ممکنہ دورہ پاکستان: پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر ای سی بی کا ’مثبت ردعمل‘

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس دورے کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطے میں رہیں گے اور حتمی فیصلہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

Read more

سروس شوز کی کہانی: جب تین دوستوں کو فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر ملا

جب 1940 کی دہائی میں تین دوستوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس وسائل تھے نہ ہی ہنر مگر ایک قدر مشترک تھی کہ تینوں دوست ہی سرکاری نوکری کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

Read more

اے ماؤ، بہنو، بیٹیو

ہائے نا ہوئے معصوم حالی صاحب آج کے زمانے میں ورنہ ماؤں بہنوں بیٹیوں درگت دیکھ کر وہ یہ شعر ہر گز نا کہہ سکتے اور ویسے بھی اس شعر پر تو ایک نئی نا ختم ہونے والی بحث کا آغاز ہو جاتا جو اخباری کالمز، سوشل بلاگز سے ہوتی ہوئی ٹی وی چینلز تک آ پہنچتی اور چند دن کے لئے سب ہی کی دکان چمک جاتی، اس بحث میں ترقی پسند بھڑک بھڑک جاتے اور کہتے کہ ان رشتوں کے علاوہ اب عورت کی الگ پہچان ہے اور ڈاکٹر، پروفیسر، جج بلکہ سربراہ مملکت ہے اس لئے اس فرسودہ خیال کو ترک کیا جائے اور اس کو ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ دوسری پارٹی کہتی کہ عورت چاہے آسمان کو تھگلی لگا لے وہ بس درجہ دوم ہی کی مخلوق ہے اگر وہ گھریلو امور کے علاوہ اپنے آپ کو کسی قابل سمجھے تو وہیں بیخ کنی کر دو۔

Read more

اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو!

مادام ٹریسا دی گریٹ فرماتی ہیں : ”اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو تو گھر جاؤ اور گھر والوں سے محبت کرو۔“ اچھا، یعنی کیا؟ یعنی دنیا کو تبدیل کرنے، بہتر بنانے، انقلاب لانے کا پہلا میدان آپ کا اپنا گھر، اپنا صحن، اپنا آنگن، اپنی اولاد، اپنا خانوادہ، اپنا خاندان ہے۔ یعنی آپ کا گھر پہلا دائرہ کار ہے، جہاں آپ محبت، توجہ، خلوص، انصاف، احساس، برابری، رواداری، قربانی اور ہر فرد کے لئے یکساں عزت نفس برقرار رکھنے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اپنے معاشرے کو مطعون کیے اور ریاست و ملت کے سر پہ ذمہ داری ڈالے بغیر۔

ایک جائزہ ہے، مشاہدے اور اطراف کے تجربے سمیت، 90 فی صد مسائل اور Split Personality بکھری ہوئی شخصیات، پیچیدہ نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ، جو انسان ہمارے آس پاس سانس لے رہے ہیں، ان کی موجودہ حالت کے تانے بانے اور کریڈٹ ان کا Problematic Childhood ہے، دل پہ ہاتھ رکھیے اور کہیے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ایک بچہ نو ماہ اندر رکھ کے اسے دنیا میں لانے کے عوض آپ کے قدموں تلے واقعی جنت آ جاتی ہے؟ یا Parenting نام کی کوئی شے خدا کے یہاں قابل مواخذہ بھی ہو گی؟ نو سے پانچ کی نوکری کر کے گھر کا خرچ سرتاج/ولی ہونے کو کافی ہے؟ یا بچے کی تربیت اور جذباتی نشو و نما میں بھی باپ کا کوئی کردار ہے؟

Read more

بیٹی کی پیدائش

گلی میں عجب سا سماں تھا۔ دروازوں کی پردوں کی اوٹ میں کھڑی، محلے کی خواتین، کف افسوس مل رہی تھیں۔ ایک دوسرے کو بتا رہی تھیں کہ جہانداد (فرضی) کی قسمت خراب ہے۔ بے چارے کا کوئی وارث نہیں ہے۔ اس بار تو پوری امید تھا کہ اس کے یہاں بیٹا ہو گا، لیکن افسوس پھر بیٹی ہو گئی۔ اب جہانداد دوسروں کی گھروں کے لئے بیٹیاں پالے گا۔

اس دوران میں ایک بزرگ عورت عصا کی سہارے جہانداد کی گھر سے نکل کر، اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی۔ ایک ہاتھ میں تسبیح تھی، جس کے دانوں کو وہ اپنی لرزتی انگلیوں کے ساتھ تیزی سے گرا رہی تھی۔ زبان پر ذکر کے بجائے افسوس تھا اور وہ خود سے ہم کلام تھی: ”جہانداد کی بیوی کی رونے سے انسان کا کلیجا پھٹنے لگتا ہے۔ بے چاری سمجھ رہی تھی، اس بار تو لڑکا ہی ہو گا، کیوں کہ اس تمنا میں اس نے ہر در کھٹکھٹایا ہے۔ دم درود کروایا۔ یہاں تک کہ پیر بابا کی زیارت کو گئی۔ اب وہ اتنی بچیوں کا کرے تو کیا کرے!“

Read more

کرونا اور قرنطینہ: ایک تجربہ

ہمارے بہت سے بھائی اب بھی کرونا کی حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہیں، اسے مغرب والوں کی ایک سازش قرار دیتے ہیں۔ لیکن جن کو کرونا نے اپنے رنگ دکھایا ہے، وہ اسے ماننے لگ گئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا شروع ہونے پر ہم نے چار ماہ تو اس کے ڈر سے گھر میں ہی رہ کر گزارے۔ لیکن پھر بھی اتنی زیادہ پابندی نہیں تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی اور وہ بھی پچاس سے اوپر کے، سبھی ڈراتے تھے۔ بچے پردیس میں علیحدہ پریشان کہ وطن میں والدین اکیلے ہیں۔ احتیاطاً اپنے سارے پروگرام موقوف کر کے گھر بیٹھ گئے۔ لے دے کر ایک ہفتہ وار ریڈیو پروگرام رہ گیا، جس کے لئے ریڈیو سٹیشن پر جانا اور وہ بھی بڑی احتیاط کے ساتھ۔

پھر جب برطانیہ میں کرونا کا زور کچھ کم ہوا اور فلائٹیں بحال ہوئیں تو بچوں نے اپنے پاس برطانیہ بلانے کے لئے ٹکٹ بھیج دیا۔ اگست کے آخری ہفتے کی سیٹ بھی بک کرا دی۔ پہلے پہل بچوں کے پاس جانے پر بڑی تیاریاں اور چھوٹے بچوں کے لئے بڑی خریداری ہوتی تھی، لیکن اس دفعہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی بہت محدود رہی۔ فلائٹ سے دو ہفتے پہلے ایئرلائن والوں کی طرف سے ای میل آئی کہ سفر سے تین دن پہلے کرونا کا ٹیسٹ کروائیں، ورنہ جہاز پر نہیں بٹھائیں گے۔ صرف کرونا ٹیسٹ منفی آنے پر ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

Read more

قومی ٹی ٹوئنٹی کپ: بک میکر کا کھلاڑی سے رابطہ، کھلاڑی نے کرکٹ بورڈ کو مطلع کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ راولپنڈی میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران ایک بک میکر نے ایک کھلاڑی سے رابطہ کیا لیکن اس کھلاڑی نے فوری طور پر اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع کردیا۔

Read more

ادریس خٹک کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کی حراست میں قید سماجی رہنما ادریس خٹک کے خلاف فوجی عدالت میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جاری مقدمے کی کارروائی معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

Read more

خود کو قبول کر کے جئیں

شادی کے اٹھارہ دن بعد ہی اسے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا پڑا۔ جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ اس کے مطالبے کو پورا ہونے میں دو ماہ لگے۔ زندگی کا سب سے زیادہ خوب صورت رشتہ اس نے اپنی ذات کی تمام سچائیوں کے ساتھ قبول کیا تھا، مگر یہ تعلق جب اپنی تمام تر بد صورتیوں کے ساتھ اس کے سامنے آیا، تو اس نے فیصلہ لینے میں دیر نہیں کی۔ اسے اس بات کا بھی ادراک ہو گیا تھا کہ آج نہیں تو کل، یہ رشتہ ختم ہونا ہی ہے، تو پھر کسی بچے کے بغیر الگ ہونا زیادہ بہتر ہے۔

اس شخص میں وہ تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں، جو کسی بھی نارمل انسان کو ابنارمل بنانے کے لیے کافی تھیں۔ اوپر سے اس مرد کا ہم جنس پرست ہونا الگ عذاب تھا، دنیا کو تو وہ جیسے تیسے جھیل ہی لے گی، مگر عادات بد کے شکار مرد کے ساتھ گزارا کرنا، اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس نے بڑی صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔ اس کے والد، بھائی، مامے چاچے اور خاندان کے دیگر مرد بھی با کردار تھے۔ اسی لیے اس شخص کا جو کردار سامنے آیا، وہ اسے کسی بھی طرح قبول نہیں کر پائی۔

Read more

دکھ کی دھوپ میں مسافرت

اب تو بہت سال ہو گئے، میرا بلاوا امریکا کے اردو اخبار ”اردو ٹائمز“ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا، جس کے لیے میں کئی سال سے کالم لکھ رہی تھی۔ یہ پروگرام نیویارک میں تھا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہوٹل کے جس کمرے میں مجھے ٹھہرایا گیا، وہاں میرے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی ایک اہم صحافی اور شاعرہ بھی تھیں۔ راز داری کے لیے ہم ان کا فرضی نام شہلا تصور کر لیتے ہیں۔ بہت محنتی، مثبت سوچ کی حامل، زندہ دل اور خوش لباس۔

کسی نے بتایا کہ وہ ایک گلوکار کی اہلیہ ہیں، جن کا بہت سال قبل جوان سالی میں اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ بد قسمتی سے انتقال کے وقت وہ وطن اور گھر والوں سے کوسوں دور اور تنہا تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا، کیوں کہ یہ سب میرے علم میں نہ تھا۔ مگر میری یاد کے جگنو میں ان کے شوہر کا ایک خوبصورت اور مقبول گانا مستقل جھلملا رہا تھا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے خود گرفتاری دی یا اسے پولیس نے پکڑا؟

ملزم کے والد کی طرف سے مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والے ایک ویڈیو بیان نے اس حوالے سے تضاد پیدا کر دیا ہے۔ ویڈیو میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم عابد ملہی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود گرفتاری کے لیے پیش ہوا۔

Read more

معزولی اور منادی: ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا

جھگڑا تو ایک کافر ادا، یعنی کسی قتالہ عالم پر تصرف کا تھا، لیکن آپ چاہیں تو اسے قوت و اقتدار کی دیوی پر غلبے اور اس کے اصل حق کا معاملہ سمجھ لیں کہ اس واقعے کا شمار بھی ان چند اہم واقعات میں ہوتا ہے جو بر عظیم پر انگریز کے مکمل قبضے اور اس سے قبل اس کی قوت و جبروت کا سکہ جمانے کا ذریعہ بنے۔ بس، یوں سمجھیے کہ ایک انگریز کا قتل ہو گیا اور وہ بھی ایک ایسے انگریز کا جس کے اقبال کا سکہ حضرت پیر و مرشد، خاقانی ہند ظل سبحانی ابو المظفر بہادر شاہ ظفر کے (در حدود قلعہ معلی) سریر آرائے سلطنت ہونے کے با وجود دلی پر چلتا تھا کہ نام اس کا ولیم فریزر تھا اور شہر کی ایک طرہ دار حسینہ کو محض اس لیے تصرف میں لانے کا خواہش مند تھا کہ انگریز تھا، اس واسطے کہ مال و منال، گولا بارود اور سپاۂ قاہرہ اس کے در کی لونڈیاں تھیں۔

جاہ و حشم کے یہ مظاہر بڑے بڑوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دیتے ہیں اور نا سمجھوں کو بھی سمجھ دار بنا دیتے ہیں مگر ایک نا سمجھی تو وہ الہڑ دوشیزہ نہ سمجھی کہ جب قوت و اقتدار کے نشے میں چور، وہ گورا حاکم اس بی بی کے در پر پہنچا اور اس کے لطف و کرم کا طلب گار ہوا، تو وہ غیرت ناہید انجام بد اور نتیجے کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آئی اور اسے باہر کا راستہ دکھایا، کچھ اسی مزاج کا اس کا محب تھا کہ نواب ایک ریاست کا تھا، اس دور نا سعید میں بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے غیرت و حمیت کی باتیں کیا کرتا اور کمپنی بہادر کی آڑ میں تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے فرنگیوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے بنایا کرتا۔

Read more

مردوں میں جسم فروشی کے کچھ پہلو

کچھ عرصہ پہلے ایک مضمون لکھا تھا کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟ یہ عورتوں کی جسم فروشی سے متعلق تھا۔ اس پر کسی نے توجہ دلائی کہ مرد بھی جسم فروشی کرتے ہیں، اس پر بھی لکھیے۔ اندازہ تو تھا لیکن لکھنے بیٹھی تو پتہ چلا کہ صورت حال کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ زمانہ قدیم سے ہر معاشرے، تمدن اور ہر سرزمین پر ہم جنسیت موجود رہی ہے۔ کبھی اسے ناپسندیدہ کہا گیا، کبھی برداشت کر لیا گیا، کبھی

Read more

جیسندا آرڈن: جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر زندہ وہی رہتے ہیں جو دنیا میں نام کمانا جانتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں اور لوگوں کی دلوں میں اعلیٰ مقام پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت لیڈی ڈیانا انگلینڈ کی شہزادی تھیں، وہ خوب صورتی کی مالک تھیں۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، تو ہمارے یہاں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے کام اور کردار کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا ہے۔ رعنا لیاقت علی، محترمہ فاطمہ جناح جنہیں ہم مادر ملت کہتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ مرد کے گلے کا ہار نہیں بننا چاہتی، مگر اسے پاؤں کی جوتی بنانے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کو پڑھانے میں کافی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن اب تمام تر مسائل کے با وجود لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ پیدا کر سکتی ہے۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں ہے

“مجھے کامیابی کا کیا انعام ملے گا؟ یہ میری زندگی کا اہم سنگ میل ہے” زندگی کے دکھائی نہ دینے والے امتحانوں کے ساتھ جینا تو ہر کسی کی اپنی ہمت اور ظرف کا امتحان ہوا کرتا ہے مگر وہ امتحان جن میں برسہا برس کے دن رات کی مغز پچی کی گئی ہو، ان سے عہدہ برآ ہونے کا احساس رگ و پے میں برق دوڑ دیا کرتا ہے۔ ہمیں موہوم سا خیال گزرتا ہے کہ سنکی اور پاگل

Read more

آذربائیجان، آرمینیا تنازع: ’ہم سب مر بھی گئے تب بھی اپنی زمین کا ایک انچ نہیں چھوڑیں گے‘

آذربائیجان، آرمینیا کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی رپورٹس ہیں۔ بی بی سی نے حال ہی میں سرحد کے دونوں جانب کشیدہ علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کے رہائشیوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ہے۔

Read more

شجر الدر: ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا کی بیوہ کا غلام سے طاقتور ملکہ بننے تک کا سفر

مؤرخ کہتے ہیں کہ شجر الدر آغاز میں ایک پُرعزم اور خوبصورت روپ میں مصر میں نمودار ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں یورپ کی ایک طاقتور صلیبی فوج کو ناکام بنا کر خود کو ایک ذہین سیاستدان میں بدل لیتی ہیں۔

Read more

پنجاب پولیس موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم تک کیسے پہنچی؟

ملزم عابد کے پاس نہ موبائل تھا اور نہ پیسے جس کی وجہ سے اس کی تلاش ایک مشکل ٹاسک ثابت ہوا۔ یہ معاملہ جب میڈیا پر ٹھنڈا ہوا تو ’کنگلا‘ ملزم پکڑا گیا۔

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

الجزائر کی چوری شدہ توپ اور فرانس کے ’کوکِرل‘ کی کہانی

الجزائر کے لوگ امید کر رہے ہیں کہ تقریباً دو صدیاں قبل فرانسیسیوں کے ہاتھوں چوری کی گئی کانسی کی ایک توپ، نوآبادیاتی ماضی کی غلطیاں دور کرنے کی کوشش میں شاید اب انھیں واپس مل جائے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ میں صدر بننے کے خواہشمند باقی 1214 امیدوار اپنی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟

امریکہ کی سیاست میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک جماعتیں ہی نمایاں رہتی ہیں جو نہ صرف میڈیا کوریج بلکہ سیاسی مہم کے لیے عطیات حاصل کرنے میں بھی بالادستی حاصل کر لیتی ہیں۔ اس طرح کسی تیسرے امیدوار کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

Read more

اسلام کا سنہرا دور: ’وقت کو قید کرنے‘ کی جستجو کرنے والے سائنسدان، البیرونی

ابو ریحان محمد ابن البیرونی کو وقت یعنی ماضی، حال اور مستقبل سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ ایک زیرک ریاضی دان تھے جنھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم فلکیات اور کرونومیٹری (یعنی وقت کی درست پیمائش کا سائنسی علم) کے ذریعے وقت کی پیمائش کرتے گزارا۔

Read more

مرتضیٰ سولنگی‘یوٹیوب چینل اور سوالات

مرتضیٰ سولنگی مجھے بہت عزیز ہے۔ زندگی کے کئی برس موصوف نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے رابطے کا ہنر سیکھنے کی نذر کئے ہیں۔ ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے لئے واشنگٹن میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان لوٹ ا ٓئیں۔ وہ اس جہاں میں نہ رہیں لیکن آصف علی زرداری کو ان کی خواہش یاد رہی۔ 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں ریڈیو

Read more

افغانستان: کیا خواتین کے خلاف سنگین جرائم کو طالبان کے خلاف ’پروپیگنڈا‘ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے؟

افغانستان کے شہر غزنی میں ایک خاتون پولیس افسر کے خلاف ایک سنگین حملے نے ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان خواتین کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

Read more

شادی کے سائیڈ افیکٹس (پارٹ ون)

شادی والے روز آپ اچانک معزز ہو جاتے ہیں۔ وہ دوست اور رشتہ دار جو پہلے اپنی تصاویر کھنچواتے وقت آپ کو صوفے سے اٹھا دیا کرتے تھے ؛ اب لائن بنا کر آپ کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لئے انتظار کرتے ہیں۔ مووی کیمروں کا رخ پہلی بار صرف آپ ہی کی طرف ہوتا ہے۔ روشنیوں کی چکا چوند اور کیمرے کے کلک کلک کی آوازیں سن کر بلا وجہ فواد خان جیسی ’ریڈ کارپٹ‘ والی فیلنگ آ رہی

Read more

31 سالہ جولیا کے محبوب کی عمر 72 برس ہے لیکن "محبت میں بہت مزہ آ رہا ہے”

31 سالہ جولیا اسٹراس اور 72 سالہ برنڈ ہیسن بینک کی عمر میں  40 سال کا فرق ہے۔ اس جوڑے کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت سے اجنبی انہیں باپ بیٹی سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ہماری محبت کا ہماری عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ برنڈ ہیسن بینک اور جولیا اسٹراس اپریل 2019 میں ایک سیمینار کے دوران ایک دوسرے سے ملے تھے۔ اس کے بعد سے دو ماہ کے ایک مختصر وقفے کو چھوڑ

Read more

پانی کا درخت: کرشن چندر

جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سوکھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔ مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔ اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔ مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ، بہیکڑ، املتا، ساور، کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں۔ اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر

Read more

اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں

چھوٹا سا خاندان ہے اردو ادب کا اور

اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں یار

(عمیر نجمی)

آج اردو کے مایہ ناز شاعر اور ادیب پروفیسر مظفر حنفی کے انتقال کا سن کر دل بیٹھ گیا۔ چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں، سلسلے وار۔ 2020 ء اردو زبان و ادب پر خصوصی طور پر بھاری پڑ رہا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے آفتاب و ماہتاب بھاگتے لمحوں کی نذر ہو گئے۔ تاریکی کے اس ماحول میں مظفر حنفی کا بہت غنیمت تھا مگر مشیت ایزدی سے کس کو مفر ہے۔ ہر چند کہ وہ عمر کی اس منزل پہ پہنچ چکے تھے، جہاں سے آگے ہر نفس غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

Read more

ٹورنگ ٹاکیز اور چوری چھپے دیکھی فلمیں

میرے گھر کے نزدیک اس سال خزاں ایک عجب رنگینی لئے ہے۔ سوکھتے پتے پیلے نارنجی ہلکے سرخ گہرے سرخ میں تبدیل ہو ایک آگ سی لگائے ہیں۔ اور پت جھڑ کی سرد ہوا اب نیچے گرا ایک رنگ برنگی چادر بنا چکیں۔ ان پتوں کی طرح جھڑتی عمر کے میرے جیسے لوگ چھڑی کا سہارا لئے جب ان کی رونق دیکھنے نکلے ان کے جوبن کی رنگینیوں کے متعلق سوچتے ہیں۔ تو جو "آرزوئیں پہلے تھیں جو غم سے حسرت

Read more

چوتھی طرف مت جانا

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

Read more

جنوری سے بہت پہلے کام ختم ہوجائے گا: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس نے [حکومت کے خاتمے کی] حتمی تاریخ جنوری کی دی ہوئی ہے تاہم انھیں لگتا ہے کہ جنوری سے بہت پہلے ‘کام ختم ہوجائے گا۔’

Read more

12 اکتوبر: ’دیکھتے ہی دیکھتے دوست دشمن بن گئے‘

اسلام آباد۔ پاکستان میں 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت اس وقت ہوئی جب اہم ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔

Read more

بلھا کیہ جاناں میں کون

دوست! یہ بتانے میں آخر ہرج ہی کیا ہے کہ تم کون ہو اور کہاں سے وارد ہوئے ہو۔ بھئی! کیسے بتائیں، جب زندگی کے دھاگے ہی الجھے پڑے ہوں، تو ہم کون اور تم کون! لیکن خیر قصہ ہے تو کہنا ہی پڑے گا۔ لیں جناب!

جب پیدا ہوئے تو والدین نے ایک نام اور شناخت عطا کر دی۔ اس زمانے میں لوگ پوچھتے یہی تھے کہ میاں کس کے صاحب زادے ہو؟ اب اگر کوئی ابا حضور کو نہیں جانتا تھا، تو دادا کا پوچھ لیتا اور یوں میں کون کی وضاحت بھی پا لیتا۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، شناخت کے دائرے بھی پھیلتے گئے۔ مجھے کچھ کچھ یاد ہے، جب پہلے دن سکول گئے تو استاد نے پوچھا کون ہو؟ ہم نے کہا فلاں کے بیٹے اور فلاں کے پوتے ہیں۔ کہنے لگے وہ تو ہمیں بھی پتا ہے مگر تم بتاؤ تم کون ہو؟

Read more

بارہ اکتوبر 99: 21 برس میں کیا تبدیلی آئی؟

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 12 اکتوبر 1999 ء دن پانچ بجے کے قریب پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات رک گئی۔ سکرینوں پر سیاہ دھبے نمودار ہو گئے۔ لینڈ لائن نمبر بند ہو گئے۔ ہر کوئی اپنی ذہنی بساط کے مطابق تبصرے کر رہا تھا۔ کسی عقل مند نے کہا میرا قیاس ہے، پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو فتح کر لیا ہو گا۔ ایک اور شخص بولا ابھی چند دن قبل کی بات ہے کہ پرنٹ میڈیا میں سپہ سالار نے منتخب جمہوری حکومت کی آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے مدد کرنے کے حق میں بیان دیا تھا۔ انتظار طویل ہوتا گیا۔ نصف شب کے قریب ٹیلی ویژن کی سکرینوں سے سیاہ دھبے چھٹے اور اعلان ہوا کہ نواز شریف کی حکومت بر طرف کر دی گئی ہے۔ سپہ سالار پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ نواز شریف کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ پرویز مشرف تھوڑی دیر میں قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

رات اڑھائی بجے، پرویز مشرف دو عدد کتوں کو ہاتھوں میں تھامے ٹی وی پر آئے اور قوم سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا، میرے عزیز ہم وطنو، فوج کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ نواز شریف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ مجھے بادل نخواستہ یہ قدم، پاکستان اور خصوصاً پاکستان کی فوج کو بچانے کے لیے اٹھانا پڑا۔

Read more

ماڈل کار کلیکٹرز: کھلونوں سے کھیلنے والے ’بڑے بچے‘

اگر ہم آپ سے یہ کہیں کہ آج آپ ایک ایسے شخص سے ملنے والے ہیں جن کے پاس فراری، لیمبر گینی، بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز جیسی تین ہزار لگژری گاڑیوں کی کلیکشن ہے تو آپ یقیناً اپنے کانوں پر اعتبار نہیں کریں گے۔

Read more

پاکستانی یادگار فلمی حمد، نعتیں اور قوالیاں

نہ جانے کیوں بعض دانشور پاکستانی فلموں اور اس سے منسلک شعبوں کو کسی قابل گردانتے ہی نہیں۔ جب کہ ہماری فلموں کے تمام شعبوں میں معیاری کام ہوا ہے جیسے حمد، نعتیں، منقبتیں اور قوالیاں۔ ہماری فلموں میں حمدیہ اور نعتیہ کلام نہایت اعلیٰ پائے کا لکھا گیا اور پھر ان کی طرزوں نے ایک ایسا سماں باندھا کہ آج بھی ان کو سنا جائے تو دل کھنچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ فلمی گلوکاروں نے خوبصورت طرزوں اور بولوں کو ادا کرنے میں اپنی روح نکال کر رکھ دی۔

ایک جائزہ:

Read more

بدلتا وقت اور آج کا استاد

اساتذہ کی قابلیت، ان کی مہارت و علم پر شکایت کرنے سے پہلے ان کو دی گئی، تربیت، مراعات اور ان کی زندگی کے دیگر مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک غریب استاد، بچوں کو غریب زندگی کے تجربے بتائے گا۔ اس کی زیادہ تر گفتگو اور انہی موضوعات پر ہو گی، جن سے وہ روز نپٹتا ہے۔ ایک خوش حال اور صحت مند استاد، بچوں کے ذہن میں اسی طرح کی زندگی کے امکانات بٹھائے گا اور ان پہلووں پر بحث کرے گا، جو وہ خود جی رہا ہے۔

آج معاشرہ، ٹیکنالوجی اور جدیدیت میں مکمل طور پر جکڑ چکا ہے۔ استاد کے لئے اپنی عزت و تکریم والی جگہ بچائے رکھنا، روز ایک نیا چلینج ہے۔ بچے چوں کہ جلدی سیکھتے ہیں اور اسکول کے باہر بھی سیکھتے ہیں، تو ان معلومات کی بنیاد پر استاد کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوتے ہیں۔ اب شاید شروع والی کلاسوں میں تو استاد، ایک استاد ہی رہتا ہے، جہاں بچوں کی بالکل نئی چیزوں سے روشناس کرتا ہے، لیکن اس کے بعد استاد ایک سہولت کار تو بن سکتا ہے، لیکن روایتی استاد والی شخصیت کے ساتھ چلنا بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔

Read more

پدرسری معاشرے کی بااختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا؟

لمبوترا منہ، چھوٹا سا سر، احساس سے عاری آنکھیں، وحشت زدہ چہرہ، ڈھیلا ڈھالا پیوند زدہ لباس، گلے میں منکوں کی مالا، ہاتھ میں کشکول! یہ ہمارے بچپن میں کیے گئے سفر کی اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ٹرین گجرات سٹیشن پہ رکتی، وہ گیروے لباس میں ملبوس کمپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتا، ساتھ میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور دہکتی آگ سی آنکھوں والا ساتھی ہوتا جو اسے گاڑی میں چڑھاتا یا اتارتا۔ اسے دیکھتے ہی

Read more

شاہ عبدالعزیز ابن سعود اور علامہ اسد کے سچے خواب

علامہ محمد اسد ( 1992 تا 1900، پیدائشی نام لیوپولڈ وائس) کا تعلق پولینڈ سے تھا اور زندگی کے ابتدائی ایام اپنے خاندان کے ہمراہ ویانا میں گزارے۔ ان کے بارے میں مولانا مودودی نے کہا تھا، ”میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے۔“ علامہ محمد اسد نے اپنی جوانی کے کئی سال، ایک جرمن اخبار فرینکفرٹ سائٹنگ سے منسلک رہ کے، ایک صحافی کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ میں گزارے اور پہلی جنگ عظیم کے بعد بہت عرصے تک سعودی عرب میں شاہ عبد العزیز، آل سعود کے یہاں مہمان کے طور پر رہے۔

ذیل میں ان کی کتاب روڈ ٹو مکہ کے باب ”خواب“ سے کچھ اقتباسات کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

Read more

نوزائیدہ بچہ اور پتھر کا بینچ

اس کے دو بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ پیدا ہونے سے قبل، جب کچے ہی تھے۔ ایک حمل کے اٹھارہ ہفتے میں اور دوسرا بائیسویں ہفتے میں۔ ”نہ جانے ہماری قسمت میں کیا ہے۔“ اس نے تقریباً روہانسا ہو کر کہا تھا، ”ڈاکٹر صاحب، جو بھی علاج ممکن ہو سکے، کیجیے گا۔ میں بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ کے دوست رفیق نے بھیجا ہے۔“

اسے رفیق ہی نے بھیجا تھا۔ رفیق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے محکمہ مالیات میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ”کے ایم سی“ ہی میں چپراسی تھا۔ اس نے رفیق کو بتایا تھا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور اچھا خاصا وقت گزر گیا، مگر پانچویں چھٹے مہینے میں بچے کچے ہی تھے تو ضائع ہو گئے۔ اب پھر اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور آنے والے خوف سے وہ پریشان تھا۔ رفیق نے اسے اپنا کارڈ دے کر میرے پاس بھیجا تھا۔

وہ دونوں میاں بیوی میرے پاس ساتھ ہی آئے تھے۔ وہ ڈھائی ماہ کے حمل سے تھی اور پریشان تھی۔ پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی اور ایسی صورت حال میں مریضوں کا پریشان ہونا کوئی غیر معمولی بات تھی بھی نہیں۔ میں نے اسے تسلی دی تھی۔ سمجھایا تھا کہ انہیں اب میرے پاس ہر دو ہفتے بعد آنا ہو گا۔ حمل کو چودہ ہفتے گزر جائیں گے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

Read more

بابا جان والے ہنزہ سے ابھی ایک آواز آئی، آپ نے سنی؟

شاہراہ قراقرم پر گلمت سے کچھ پہلے آپ آسمان کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے ایک تنگ و تاریک سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طویل ترین سرنگ کے اگلے سرے کے پار ہوتے ہی آپ نیلے پانیوں کی ہوا دار بہشت میں نکل جاتے ہیں۔ اسے عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھر جانے کو ہم عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جن کے گھر یہاں ڈوب گئے تھے وہ در در رسوائی کاٹ رہے ہیں۔ جو ان کا حق مانگ رہے تھے وہ آشفتہ سر غذر کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ جو بے خبر ہیں وہ جھیل کے سینے کو واٹر بائیک سے چیر کر پانی اڑا رہے ہیں۔

یہ سطریں ایک کالم میں آئیں تو پوچھنے والوں میں اکثر نے پوچھا، عطا آباد جھیل کی کہانی کیا ہے؟ کن کے ارمانوں پر یہاں پانی پھرا تھا اور کون ہیں وہ آشفتہ سر جو اب غذر کی جیلوں میں ہیں۔ سوالات سے اندازہ ہوا کہ ہنزہ آنے جانے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جس نے عطا آباد جھیل کے نیلگوں پانیوں میں قیامت کے نامے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں۔ ہم جب کسی کشتی میں بیٹھ کر اس جھیل کا پانی چیر رہے ہوتے ہیں، ہم اندازہ نہیں کر پاتے کہ اس کی گہرائیوں میں کتنے خواب دفن ہیں۔ ان پانیوں میں کہیں کہیں جو یہ درخت کھڑے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ ویسے ہی کھڑے ہیں؟ یہ اس سمت میں اشارہ کرنے کے لیے ہی تو کھڑے ہیں جہاں زندگی کبھی رقص کیا کرتی تھی اور بچے کبھی کھیلا کرتے تھے۔ یہ جس جگہ اب مچھلیاں تیرتی ہیں یہاں کبھی پرندے اڑا کرتے تھے۔ یہاں مال مویشی تھے، گرم تنور تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے، دریا کا کنارہ تھا، رستے اور گلیاں تھیں، لین دین اور میل جول تھا، عبادتیں اور روایتیں تھی، رسم تھے اور رواج تھے، شہد کے چھتے تھے، بانسریوں کے سر تھے، ستار کی دھنیں تھیں، محبتوں کے نشان تھے، ہجر کی داستانیں تھیں، پرکھوں کی قبریں تھیں اور بچپن کا ساون تھا۔ کچھ نہیں رہا، سب ڈوب گیا۔

Read more

پہلوانی: جب ضیا الحق نے بھولو برادران کے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دی

پہلوانی کے فن میں مشہور بھولو خاندان میں اب کوئی بھی پہلوانی کا شوق نہیں رکھتا جس کی وجوہات بھولو پہلوان کے صاحبزادے ناصر بھولو نے بی بی سی کو بتائی ہیں تاہم اس خاندان کا ماضی انتہائی درخشاں تھا۔

Read more

کراچی: جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اور ان کا ڈرائیور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک

کراچی میں دیوبند مسلک کے نامورعالم اور جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اپنے ڈرائیور سمیت موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

Read more

خود کو بدلو، زندگی سنوارو

آج کی نوجوان نسل جس راہ پر گامزن ہے، اس کا اسٹیشن کہاں ہے؟ کب آئے گا اور جب آئے گا۔ تو کیا وہی ان کی منزل بھی ہو گی؟ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ خود بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیوں کہ وہ خود نا معلوم منزل کی جانب گامزن ہیں۔ اگر ہم آج سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں اور پھر اس وقت کی نوجوان نسل سے یہ پوچھیں کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں کیا کرتے ہیں؟ تو جہاں تک میرا اندازہ ہے لڑکیاں کہیں گی کہ مجھے کھانا پکانا پسند ہے۔ اس لیے فارغ وقت میں نئی ڈشز ٹرائی کرتی ہوں۔ کوئی یہ کہے گی کہ مجھے پکانا اچھا نہیں لگتا، ہاں سلائی پسند ہے۔ میں سلائی کر لیتی ہوں اس کے علاوہ دیگر لڑکیاں کہیں گی کہ انھیں کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ نصابی کتابوں کے ساتھ غیر نصابی کتابیں بھی پڑھتی ہیں اور اس کے ساتھ اسکول کالج میں ہونے والی تقریری مقابلوں میں بھی شرکت کرتی ہیں۔

اسی طرح اگر کسی لڑکے سے پوچھا جائے تو وہ کہے گا، کرکٹ کھیلتا ہوں اور ویسے وقت ملتا کہاں ہے، ادھر کالج اور ادھر ابا کی دکان اور جو دکان نہیں جاتے ہوں گے، وہ بھی یہی کہیں گے، فارغ بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔ کتابیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں تو اماں کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ اس نسل کو اس بات کا شوق تھا کہ تعلیم کہ علاوہ بھی ان کے پاس کوئی صلاحیت ہو تا کہ اگر تعلیم سے انھیں کامیابی حاصل نہ ہو، تو وہ اس صلاحیت کہ بل بوتے پر زندگی میں آگے بڑھ سکے اور کامیاب ہو سکیں۔

Read more

پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

Read more

ستم کا شکار ہیمو فیلیا مریض

آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا۔ اس کے گال تھپڑوں سے سرخ ہو چکے تھے۔ شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی۔ امی میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ ایک جملہ قتل نا حق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ چناں چہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا۔

عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اس کے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی۔ عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی۔ دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوب صوت بچہ ہے۔ بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اس کی مرہم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی، لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے، تمام آزمائے گئے مگر یہ خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

Read more

مقامی بلوچ گلوکار حنیف چمروک کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے، ان کو پہلے ’تنبیہہ‘ بھی کی جا چکی تھی

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ کا دعویٰ ہے کہ مقتول کی بیٹی طیبہ بلوچ کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی مہم میں شرکت پر حنیف چمروک کو ’تنبیہہ‘ کی گئی تھی۔

Read more

قاسم اور فیصل کہاں ہیں؟

وہ جیل سے رہا ہونے کے بعد میرے گھر آیا اور بولا، جناب میری زندگی تباہ ہوچکی، نوکری کرنا چاہتا ہوں۔ زندگی بدلنا چاہتا ہوں میری مدد کیجیے۔ چھریرے بدن کا یہ 22سالہ نوجوان اسلام آباد کا رہائشی قاسم ستی تھا۔ تقریبا پانچ فٹ قد، چہرے پرہلکی داڑھی اور گفتگو میں ایسی فصاحت کہ آپ حیران ہوجائیں۔ اس پر اسلام آباد پولیس نے سال2007 میں دھماکہ خیز مواد رکھنے اور پھر ایف ایٹ کچہری میں خودکش حملے کی معاونت کرنے

Read more

سچ بولنا فحش گفتگو میں شمار ہوتا ہے

آپ رات کو سوئے ہیں۔ اچانک آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی قمیض میں کچھ سرسرا رہا ہے۔ خوف اور ڈر سے آپ چیخ مارنے لگیں تو ایک ہاتھ آپ کا منہ زور سے دبا دے۔ اور کان میں سرگوشی ہو کہ یہ میں ہوں انکل طاہر۔ سوچئیے۔ بیوی جو اس مرد کا چوتھا بچہ پیٹ میں لیے آخری دنوں پہ ہے۔ اسی کمرے میں سو رہی ہے۔ ایک کونے میں جوان سالا سو رہا ہے۔ اور سالی کی بھانجی جو اس کی بیوی کی خدمت کے لیے آئی ہے کہ چھلا کٹوا دے۔ اس پہ گندی نیت رکھ لو۔

آنٹی کو بتانے لگی تو ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ سوچا کہ ٹھیک ہوں گی تو بتاتی ہوں۔ مگر پتہ چلا کہ انکل نے کہہ دیا کہ نوشی رات سب کے سونے کے بعد میرے پاس آ جاتی ہے۔ کہ مجھے آپ اچھے لگتے ہیں آپ کے ساتھ سونا ہے۔ اب میں تو اسے اپنی بیٹی سمجھتا ہوں۔ تم بتاؤ کیا کیا جائے۔ سوچئیے ایک پندرہ سالہ لڑکی نے اس سازش کا کیسے مقابلہ کیا ہو گا۔ مگر نہیں آپ کہہ دیں گے کہ میں گئی ہی کیوں۔ نہ میں جاتی نہ یہ ہوتا۔ کیونکہ میں گئی تو قصور میرا ہے معاشرہ تو بہت اچھا ہے۔ اس کی بڑی روایات ہیں۔ سنئیے مزید روایات سنئیے اور سر دھنیے۔

Read more

کثیر تعداد میں جوان خواتین اب بھی شوہر کا نام ساتھ لگانے کے لیے اپنا نام کیوں بدل لیتی ہیں؟

شوہر کا خاندانی نام اپنانے کی روایت تاریخی اعتبار سے پدرسری نظام میں پائی جاتی ہے، تو پھر اب بھی بہت سی جوان عورتیں اس روایت کو کیوں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

Read more

اپنی سیان پتی بچا کے رکھو

ہر ریاست کو اپنی بقا اور ترقی کے لیے مستقل اور مسلسل آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آمدنی ٹیکس، برآمدات، سہولتوں کو کرائے پر دینے، قدرتی وسائل کے استعمال، سیاحت، ایجاداتی جدت کاری اور جنگ کے بدلے امن کی خریداری جیسے طریقوں سے حاصل ہوتی ہے۔

دوسرا طریقہ جو کہ اب متروک ہو چلا ہے نوآبادیاتی طریقہ ہے۔ کسی بھی خطے پر بزور یا سازش کے ذریعے قبضہ کر کے اس کے وسائل کو باپ کا مال سمجھ کر استعمال کیا جائے اور جب اس خطے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا جائے تو اسے ترک کر کے کسی نئے خطے پر پنجے گاڑ دیے جائیں۔

Read more

نواز شریف سے جیتنا آسان نہیں!

اپنی نوجوانی میں میاں صاحب زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے تو والد صاحب نے انہیں جنرل جیلانی کے حوالے کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں آئے روز پیدا ہونے والی ہر ہیجانی صورت حال کے اندر میاں صاحب کو ایک دائمی فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میاں صاحب کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرچی کے بغیر ایک جملہ ٹھیک سے نہیں بول سکتے، آدھے صفحے سے زیادہ جو تحریر پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، انہی میاں صاحب نے بڑے بڑے طاقتورافراد کو ان کے مقتدر اداروں سمیت کم و بیش تین عشروں سے آگے لگا رکھا ہے۔

جنرل مشرف کو میاں صاحب کس طرح جل دینے میں کامیاب ہوئے، یہ قصہ ابھی کل کی بات ہے۔ پچھلے برس کے کسی مہینے، جسٹس کھوسہ نے جیل میں بندشدید ذہنی دباؤ کے شکار قیدی کو اسی قدر شدید انسانی ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ ہفتے گھر گزارنے کی انوکھی رعایت عطا کی تھی۔ رہائی ملی تو عام خیال یہی تھا کہ قیدی عافیت پا کر گھر میں سستاتا ہوگا۔ کسے معلوم تھا کہ ضمانت پر رہائی کے انہی دنوں، قیدی کو سزا سنانے والے جج سے جاتی عمرہ میں معاملات طے پا رہے تھے۔

Read more

داستان فیض احمد فیض

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک کچھ کر گزرنے کا جنوں رکھنے والے، دوسرے وقت کے سیل رواں پر بہنے والے جنہیں وقت جہاں لے جائے، چلے جاتے ہیں۔ فیض کا شمار پہلی قسم کے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا قبرستان کے قریب سے گزرتے ہوئے خیال آتا ہے کہ

Read more

ایرانی ثقافت اور موسیقی کا ’بین الاقوامی سفیر‘ سمجھے جانے والے شجریان کون تھے؟

ایران کے معروف کلاسیکل گلوکار اور موجودہ حکومت کے مخالف فنکار، آغائے محمد رضا شجریان جن کا گذشتہ روز تہران میں انتقال ہوا، کسی سیاسی نظریے کے حامی نہیں تھے اور نہ وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن انھوں نے اپنے فن کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

Read more

لال حویلی والے شیخ رشید: ٹیکنیکل سکول سے سیاست کی ابتدا کرنے والے شیخ رشید کی ملکی سیاست سے متعلق یادداشتیں

شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

Read more

زندگی، کینسر اور امید

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

Read more

میاں بیوی کے محرومیوں کے سائے میں سلگتے ہوئے رشتے

تخلیق آدم ؑ کے بعد حضرت حواؑ کی تخلیق قدرت کی جانب سے اس بات کا ادراک تھا کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ایک محبوب ساتھی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آدم کی آدم سے نہیں بلکہ حوا یعنی ایک عورت سے پوری ہو گی۔ یہ اس بات کی جانب بھی ایک واضح اشارہ تھا کہ انسانی زندگی کو خوب صورت رنگوں اور خوشیوں سے صرف عورت کا وجود ہی بھر سکتا ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کی ازلی ضرورت ہیں، ہر مذہب اور معاشرے میں اسے ایک مربوط اور حلال رشتے کی ڈور سے باندھا گیا، جسے میاں بیوی کہتے ہیں۔

جو ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ادھورے پن کو بھی پورا کرتے ہیں۔ سیکس مرد اور عورت دونوں کی ضرورت ہے مگر اس کو خوبصورت اور مضبوط ان کے مابین موجود رومانوی رویہ اور ہم آہنگی بناتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس وقت جو رشتہ سب سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے وہ میاں بیوی کا یہ حلال رشتہ ہے۔

Read more

اڈلی: کملا ہیرس کے پسندیدہ ساؤتھ انڈین پکوان کو ’پھیکا‘ کہنے والے برطانوی معلم پر سوشل میڈیا صارفین برہم

اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک انڈین فوڈ ڈلیوری سروس نے سوشل میڈیا پر صارفین سے رائے مانگی کہ ان کے نزدیک وہ کون سے پکوان ہیں جن کی مقبولیت کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔

Read more

ساہیوال میں ایک اور سانحہ

عمر عزیز کی دوسری دہائی تھی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ساہیوال میں سال اول میں داخلہ ہوا، تو ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں سے وین کے ذریعے کالج پہنچتے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا، لیکن آج کبھی فرصت میں ماضی کے ورق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے، کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ سردی، گرمی ہر موسم میں گاؤں کے چوک میں وین جب پہنچتی، تو مسجد سے نمازی فجر کی نماز ادا کر کے نکل رہے ہوتے۔

وین ڈرائیور ہمارے گاؤں کے علاوہ راستے میں مزید دو گاؤں سے بھی طالبات لے کر ہمیں کالج پہنچاتا۔ واپسی پر یہی مشق پھر دُہرائی جاتی۔ سال اول میں پہلے دن اور وین میں سفر کے بھی پہلے دن، جب اگلے گاؤں سے طالبات وین میں بیٹھیں، تو سال چہارم کی صوفیہ نام کی طالبہ سے بھی تعارف ہوا۔ وین صوفیہ کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی، کیوں کہ یہ گاؤں کا چوک تھا۔ عام اور سادہ سا گھر مکینوں کی سفید پوشی کا گواہ تھا۔ گریجوایشن کے بعد صوفیہ نے ساہیوال سے ہی ایم کام بھی کیا۔ ایم۔ کام کرنے کے فوراً بعد اسے ساہیوال پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی۔ اوقات ملازمت مختلف ہونے کی وجہ سے صوفیہ نے وین چھوڑ دی تھی۔ اسی عرصے میں ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے ملازمت کے پہلے ایک، ڈیڑھ سال ہی میں محکمانہ امتحان پاس کر کے مزید ترقی کر لی ہے۔ پھر وقت کی گرد میں جیسے زندگی میں ملنے والے کچھ کردار دھندلا جاتے ہیں ایسے ہی صوفیہ بھی کبھی یاد نہیں آئی۔ کچھ یہ کہ بہت قریبی تعلق بھی نہیں تھا۔

Read more

انسانوں کی بستی میں جانوروں کے حقوق

کراچی کے چڑیا گھر میں موجود برفانی ریچھ کی حالت زار کی خبریں، میڈیا پر آنے کے بعد ماحولیات اور جانوروں سے محبت کرنے والے افراد، اس کے تحفظ کے لئے میدان میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان میں نایاب نسل کے اس ریچھ کے تحفظ کے لئے بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔ براؤن کلر کے اس ریچھ کا نام رانو ہے، اور اس کا تعلق اردن سے بتایا جا رہا ہے، جو کہ سرد موسم میں رہنے کا عادی ہے، لیکن کراچی میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث یہ ریچھ سست اور کمزور ہو رہا ہے۔

کراچی کے 38 شہریوں نے مشترک طور پر براؤن کلر کے اس ریچھ اور دیگر جانوروں کے تحفظ کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برفانی ریچھ کو ایک چھوٹے سے تنگ پنجرے میں ماں باپ کے بغیر رکھا گیا ہے، جہاں اس کی صحت کا بہتر خیال نہیں رکھا جا رہا، جس سے اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ریچھ کے بچے کو سکردو منتقل کیا جائے، جہاں اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی ان کے لیے موافق ہے۔ اس پر عدالت نے چڑیا گھر انتظامیہ کو ریچھ کو سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

Read more

کامران آن بائیک: سائیکل پر 50 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے لیہ کے کامران علی جن کے لیے آرام کا مطلب تھکاوٹ ہے

کامران علی ایک پاکستانی سائیکلسٹ ہیں جنھوں نے لیہ سے اپنے سائیکل کا سفر کیا شروع کیا کہ اب وہ آرام سے بیٹھنے سے تھک جاتے ہیں۔

Read more

مرد بھی مجبور ہو سکتا ہے!

ہمارے معاشرے میں تمام معاملات زندگی میں مرد کو برتری حاصل ہے چاہے وہ گھریلو ہو یا سماجی۔ رعب دار، غصے کا تیز، پتھر دل، احساس سے نالاں جیسی ان تمام خصوصیت کو ہم نے خود ہی مرد کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی ہمارے ذہنوں میں مرد کی تصویر کچھ یوں بنا دی جاتی ہے کہ خود بہ خود مرد اپنی شخصیت کو اسی انداز میں ڈھالنے لگتا ہے۔ اگر غور کریں تو کیسے یہ سوچ

Read more

میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ ۔

میں عورت ہوں، اپنی ذمہ دار خود ہوں، کوئی میری وکالت نہ کرے، مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب دنیا کے کسی کونے میں میری کوئی وقعت نہیں تھی، جو مرد آج کل ”حقوق“ کا چارا ڈال کر مجھے شکار کرنا چاہتے ہیں میں ان کی نظر میں فقط ایک ”کھلونا“ تھی، میں دن رات ان کی خدمت کرتی تھی، اگر مزدوری سے کچھ ملتا تھا تو وہ بھی انہیں دینے پر مجبور تھی، اس کے باوجود مجھے مارا

Read more

”جاں بحق“ یا ”شہید“، قصہ پولیس کے مظلوم شہدا کا

”شہید“ لفظ یوں تو پاکستان میں ایک مذاق ہی بنا دیا گیا تھا، کسی کو حکیم اللہ شہید لگتا تھا تو کسی کو امریکہ سے لڑنے والا ”کتا“ بھی شہید لگا اور کسی نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی فورسز کے جوانوں کو ”مردار“ تک کہنے کی جرات کی، گویا ہم فکری و سماجی انحطاط کا شکار ہو چکے تھے۔ جب قوم فکری انحطاط کا شکار ہو تو ”میڈیا“ ایک ایسا ٹول ہوتا ہے جو آنے والی نسل کی رہنمائی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی میڈیا نے قوم کا رویہ دہشت گردی کے خلاف اس طرح کیا کہ ان کے ہمدرد اب بات بھی نہیں کر سکتے۔

لیکن اس فکری انحطاط کے زمانے میں بھی پولیس کے جوانوں کو تمام میڈیا چینلز ”جاں بحق“ یا ہلاک ہی لکھتے رہے۔ جب اعزاز سید صاحب جیسے معروف تجزیہ نگار سے پولیس کالج سہالہ میں یہ سوال کیا گیا کہ جناب عالی ایک ہی دہشت گردی کے حملے میں شہید ہونے والے آرمی کے جوان تو میڈیا کی نظر میں ”شہید“ ٹھہرے اور پولیس کے جوان ”جاں بحق“ کیا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ نہیں؟ تو جواب گول ہوجاتا ہے۔

Read more

سلام ان استادوں کو۔ ۔ ۔

سلام ان استادوں کو جو اخبار بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں۔ جنھیں کالم کے مضمون اور سیاق و سباق کا گھنٹہ پتہ نہیں ہوتا، بس اس میں املا کی غلطیاں ڈھونڈھ کر آپ کو گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ساری قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ پرانی خارش سے لے کر شوگر تک اور چنبل سے لے کر کینسر تک ہر بیماری کا علاج پوری دیانت داری سے ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں۔ وہ بھی فی سبیل اللہ بنا کسی لالچ کے۔

سلام ان استادوں کو جو پاپا کی پرنسس اور بے بی ڈول کی معمولی چھینک والی پوسٹ پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں دیسی انڈے اور شہد کھانے کا قیمتی مشورہ دینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری رات جاگ کر ان پر غائبانہ دم کر کر کے پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!

آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔

میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔

Read more

یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم اب تک زندہ ہیں

کیا آپ نے اوڈری لورڈی کا نام سن رکھا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاہ فام امریکی شاعرہ تھیں؟

کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انہوں نے ساری عمر عورتوں کے حقوق کی خاطر روایتی فیمنزم ’پدر سری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑی اور سیاہ فام عورتوں کی جدوجہد میں گرانقدر اضافے کیے۔

Read more

حب الوطنی کی اسناد اور  شبلی فراز:  … نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دریافت کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’حب الوطنی‘ کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ اگرچہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں تاہم وہ بھی یہ سرٹیفکیٹ لینا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کو ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے تناظر میں شاید استہزائیہ انداز میں پوچھی ہے۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے

Read more

ہاتھرس ریپ کیس: ایک جان لیوا حملہ اور تنہائی میں ادا کی گئیں آخری رسومات

تین روز بعد ریپ مخالف کارکن یوگیتا بھیانا نے اہلخانے سے ملاقات کی اور 19 سالہ متاثرہ لڑکی کے بھائی کو آخری رسومات ادا کرنے والی جگہ کا دورہ کرنے اور باقیات اکٹھا کرنے پر آمادہ کیا۔

Read more

کرناٹک میں اشاروں کی زبان میں انوکھی مجلس

قوتِ گویائی و سماعت سے محروم انسانوں کو 1400 برس قبل کربلا میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بتانا اور سمجھانا کوئی آسان کام نہیں مگر انڈین ریاست کرناٹک کے گاؤں علی پور کے رہنے والوں نے اس کا حل اشاروں کی زبان میں مجلسِ عزا کی شکل میں نکالا ہے۔

Read more