دریائے نیل پر بننے والا متنازع ڈیم کس کے لیے فائدہ مند؟
افریقہ سے ہمارے صحافیوں کے خطوط کے سلسلے میں زینب محمد صالح نے ایتھوپیا کے متنازع نیل ڈیم کے متعلق سوڈان کے خدشات کا ذکر کیا ہے
Read moreافریقہ سے ہمارے صحافیوں کے خطوط کے سلسلے میں زینب محمد صالح نے ایتھوپیا کے متنازع نیل ڈیم کے متعلق سوڈان کے خدشات کا ذکر کیا ہے
Read moreغم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل کتنے عنوان ملے ہیں مرے افسانے کو گھر میں بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے ہاسٹل میں رہتے ہوئے بھی ذمہ داریاں سونپی گئی، خیر چند دن پہلے پھر کسی گھریلو کام کے باعث مارکیٹ پہنچا تھا کہ والد صاحب کی کال آئی اور حسب معمول سمجھ کر کال اٹھا تو لیا مگر آواز میں بدلاؤ جان کر وجہ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ وہ گویا ہوئے کہ خورشید کی اہلیہ کو
Read moreپاکستانی کرکٹ امپائر علیم ڈار آج پاکستان اور زمبابوے کے درمیان راولپنڈی میں دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں امپائرنگ کے لیے میدان میں اترے تو یہ ان کا 210 واں ون ڈے انٹرنیشنل میچ تھا جو ایک ریکارڈ ہے۔
Read moreلاہور میں نواں کوٹ پولیس نے پانچویں جماعت کے 12 سالہ طالب علم کو شادی کے لیے اغوا کرنے والی ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزمہ 12 سالہ مزمل کو ورغلا پھسلا کر اپنے ساتھ جڑانوالہ لے گئی تھی۔ مغوی بچہ دو سال سے ملزمہ کے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔ ڈی ایس پی عمر فاروق بلوچ اور انچارج انویسٹی گیشن نواں کوٹ قمر ساجد نے کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بازیاب کروایا۔ مغوی بچے مزمل کے
Read moreولیم ڈیل رمپل اپنی کتاب ‘دی انارکی، دا ری لینٹ لس رائز آف ایسٹ انڈیا کمپنی’ میں لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی ایک منفرد مثال ہے جس میں اٹھارویں صدی کے وسط میں ایک نجی کمپنی نے اپنی زمینی فوج اور بحریہ کی مدد سے 20 کروڑ لوگوں پر مشتمل ایک پوری قوم کو غلام بنا دیا تھا۔
Read moreنام رضیہ تھا۔ ہندوستان کی چار سال تک پہلی اور آخری مسلمان حکمران تھی۔ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اسے پسند تھا کہ اسے سلطان رضیہ کے نام سے پکارا جائے۔ ہم پاکستان ہندوستان والے اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس کے آگے پیچھے کون سا نام لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے رضیہ سلطانہ پکارتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جبڑا
Read moreبخدمت عزت مآب جناب سفیر صاحب جمہوریہ فرانس۔ اسلام آباد کسی اور ذریعہ سے آپ تک رسائی میری جیسے ایک معمولی انسان کے لئے آسان نہیں لہذا ”ہم سب“ کے توسط سے اس توقع کے ساتھ کہ کسی ذریعہ سے یہ مکتوب پا کر آپ ٹھنڈے دل سے پڑھ کر اس کے مندرجات کو درست سمجھیں تو حکومت فرانس کو عاجزانہ رائے سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرے۔ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی روک تھام
Read more” حوا کی تین بیٹیاں“ ایلف شفق کے قلم سے نکلا ایک اور عمدہ ناول ہے۔ ناول چار ابواب یا چار حصوں میں منقسم ہے اور ہر باب کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی سرخیاں ہیں۔ ایلف شفق کے ناولز کی ایک خصوصیت سامنے ابھر کر آتی ہے وہ ہیں مضبوط نسوانی کردار جو کہانی میں کسی مفعول یا بھرتی کے کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی کے فاعل ہوتے ہیں، وہ ”عشق کے چالیس دستور“ کی ایلا ہو یا
Read moreپاکستان کے مقتدر ترین اخبار ڈان کے سابق ایڈیر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن سلیم عاصمی کی زندگی اور ان کی آزادی صحافت کے لیے پاکستان میں ضیا الحق کے بدترین دور میں جدوجہد پر ان کے صحافی دوستوں اور ساتھیوں کی کچھ یادیں کچھ باتیں۔
Read moreجیمز بانڈ کا کردار نبھانے والے سر شان کونری 90 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ ان کی وفات کی تصدیق ان کے گھر والوں نے کی ہے۔
Read moreمختلف معاشروں میں افراد و شخصیات کے لیے القابات کا استعمال عام رہا ہے لیکن یہ بالعموم دوسرے لوگ کہتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں یہ رواج چل پڑا ہے، جو اتنا نیا بھی نہیں، کہ افراد اپنے نام کے ساتھ خود القابات لکھتے اور بولتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ لوگ خود ہی اپنے آپ کو عظیم ترین شاعر اور ادیب قرار دے رہے ہیں۔ تو شاعرانہ تعلی شاعر حضرات کی تو خیر پرانی عادت ہے لیکن
Read moreانسانی دماغ بھی عجب شے ہے۔ منٹوں، سیکنڈوں میں برسوں اور صدیوں کا سفر طے کر لیتا ہے. لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی سوچوں کی ایک طویل اور بے ترتیب سی راہگزر بن جاتی ہے۔ کبھی یہ سوچیں ایک خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں اور کبھی اداس کر دیتی ہیں۔ آج میں اپنی ان بے ترتیب سوچوں کو من و عن لکھ رہی ہوں۔ مجھے اپنے والد کی کچھ باتیں یاد آ رہی تھیں۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور
Read moreگزشتہ اٹھارہ ماہ میں اپنوں اور غیروں سے طعن و دشنام سننے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ لیکن اب کی بار جو پتھر آئے ہیں انہوں نے نہ صرف روح کو تار تار کیا ہے کہ برس ہا برس کے تعلق داروں نے بھرم توڑ دیا ہے۔ پریم رس کا پیالہ پھوڑ دیا، جو مے تھی، بہا دی مٹی میں۔ اور ہمیں سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بنیادی انسانی حقوق کو کس
Read moreسوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں ان اہلکاروں سے کیے جانے سوالات اور مجمعے کی جانب سے نعرے بازی کے باعث اکثر افراد کا خیال تھا کہ یہ مبینہ طور پر پاکستان کے کسی خفیہ ادارے کے اہلکار ہیں جو کسی شہری کو جبری طور پر حراست میں لینے آئے ہیں۔
Read moreسحر خیزی کی عادت تو بچپن سے ہو گئی تھی کہ ابا جان کو صبح 6۔ 7 بجے کے درمیان ناشتہ کرنا ہوتا تھا اور گھر میں یہ اصول بھی تھا کہ سب افراد ایک ساتھ ناشتہ کریں گے۔ اب جہاں کہیں بھی جاؤں، کہیں بھی رہوں، دیر تک سو ہی نہیں سکتی ہوں۔ اور ناشتہ کرنے کا وقت گویا میرے ساتھ الارم کلاک کی طرح سیٹ ہو چکا ہے کہ صبح 6۔ 7 کے درمیان ناشتہ کرنا ہی ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد اور آفس کی تیاری کے درمیان کچھ وقت فراغت کا ہوتا ہے جو عموماً سوشل میڈیا کی نذر ہی ہو جاتا ہے۔
آج حسب معمول فیس بک اکاؤنٹ لاگ ان کیا تو ایک فیس بک گروپ میں ایک گروپ ممبر کا سٹیٹس کچھ یوں تھا ”دنیا کا مال تو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ سمجھدار وہ ہے جو آخرت کا مال جمع کرے۔ دنیاوی علوم حقیقت میں علوم نہیں۔ حقیقی علم قرآن و حدیث کا علم ہے۔ زندگی ایک سفر ہے اور دنیا مسافر خانہ اور بہترین سامان پرہیز گاری ہے“ ۔
Read moreجدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد وہ واحد ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں جس نے ترکی کی تشیکیل نو کسی بھی دوسرے ترک رہنما کے مقابلے میں سب سے زیادہ کی ہے
Read moreافغانستان میں گزشتہ ایک ہفتے میں تشدد کی نئی لہر آئی ہے جس میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور تشدد کے یہ واقعات 20 سے زیادہ صوبوں میں پیش آئے جن میں ہلاکتوں کی تصدیق کرنا بہت مشکل کام ہے۔
Read moreغیر سرکاری تنظیم سحر کے مینیجر برائے چائلڈ پروٹیکشن بہرام لہڑی نے بتایا کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ سے چند روز قبل بچوں کے ساتھ زیادتی کے جو اعداد و شمار حاصل کیے ان کے مطابق رواں سال رپورٹ کیے گئے کیسز کی تعداد 25 ہے۔
Read moreخوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں (گلزار)
کہتے ہیں پرانے زمانے میں بیٹیوں کو تعلیم نا دلوانے جو عوامل کار فرما تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ پڑھ لکھ کر وہ خط و کتابت کے قابل ہو جائیں گی اور پھر خطرہ تھا کہ ”ادھر ادھر“ ڈاک ہی نا چلانے لگیں مگر جو بیٹیاں دور دیس بیاہی جاتی تھیں اور کبھی ماں باپ سے حال دل کہنے کو تڑپتی ہوں گی تو انھیں کون خط لکھ کر دیتا ہو گا، اور پی جب سونا لاون دور دیس جاتے تھے اور واپسی بھول جاتے تھے تو چاندی ہوتے کیس لے کر برہا کی ماری نو جوان سہاگنیں اپنی بے تابی کو کس سے قلم بند کراتی ہوں گی؟ پتہ نہیں!
Read more”کتے کے بچے، خنزیر کی اولاد“ یہ کہہ کر انہوں نے میرے منہ پر مکا مارا۔ میں زمین پر گر گیا۔ گرتے گرتے میرا سر دیوار سے ٹکرایا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میرا سر دو پہاڑوں کے درمیان کچلا جا رہا ہے۔ مولوی صاحب کا چہرہ کہیں کھو گیا تھا اور مجھے میرے باپ کا چہرہ نظر آیا۔ میرے دل نے جیسے زور زور سے چیخ چیخ کر کہا ایسے باپ سے تو میں بن باپ ہی اچھا رہتا۔ مجھے پیچھے بہت پیچھے مولوی صاحب کے خوف ناک چہرے اور باپ کی کرخت شکل کے بھی پیچھے، چادر میں لپٹی ہوئی ماں کی مہربان صورت نظر آئی جس کا چہرہ میرے خون سے تر تھا۔ سرخ سرخ آنسو آنکھوں سے نکل کر چہرے پر پھیلتے جا رہے تھے۔
سر کے شدید درد کے احساس کے ساتھ مجھے ہوش آیا تھا۔ میرے پاؤں میں زنجیر پڑی ہوئی تھی اور یہ زنجیر چارپائی کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ درد اتنا شدید تھا کہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سختی سے اپنے ہونٹ بھنچ کر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی کہ میرے کانوں میں مولوی صاحب کی آواز آئی۔ ”دیکھو حرام زادے کو ہوش آیا ہے کہ نہیں۔ اگر ہوش آ جائے تو بھی کھانے پینے کو کچھ مت دینا۔“ میں درد کو بھول کر دوبارہ بے ہوش ہو گیا تھا۔ وہی مولوی صاحب کی صورت، وہی باپ کی شکل، وہی خون کے آنسو والا میری ماں کا چہرہ، سائیں سائیں دھم دھم سائیں سائیں دھم دھم دھم دھم۔
Read moreپاکستانی ڈراموں اور فلموں سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار علی خان نئی برطانوی فلم ‘مغل موگلی’ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ یہ فلم 30 اکتوبر کو برطانیہ اور آئرلینڈ کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
Read moreپاکستان میں نوجوانوں کو اکثر اس سوال کا سامنا رہتا ہے کہ وہ اگر اپنی بچت کردہ رقم میں اضافہ چاہتے ہیں تو سرمایہ کاری کہاں کریں۔
Read moreیہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ دنیا دو سپر پاورز امریکہ اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو چکی تھی اور دونوں ہی طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاموش دوڑ میں مصروف تھیں۔
Read moreجن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا تعلق چین کے پروگرام فاکس ہنٹ سے ہے جس کے بارے میں چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے بھاگنے والے افراد کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کومیونسٹ پارٹی کے مخالفین کو نشانہ بناتا ہے۔
Read moreتیرہ برس کا سن، تبدیلئ مذہب اور عقد! گزشتہ کچھ دنوں میں اس پہیلی کو اگر حل کرنے کا سوچا جائے تو ایک ہی نام فٹ بیٹھتا ہے، اور وہ ہے آرزو راجہ! خبر ہے، کراچی سے تعلق رکھنے والی تیرہ سالہ مسیحی بچی آرزو راجہ کو تیرہ اکتوبر کو اغوا کے بعد جبراً مسلمان کیا گیا اور چھیالیس برس کے اظہر علی سے نکاح پڑھوا کے رخصت کر دیا گیا۔ اظہر علی بدقسمت لڑکی آرزو راجہ کے ہمسائے ہوا
Read moreمیرے گزشتہ کالم پر اسامہ جمشید مرحوم کے والد کی کال آئی اور ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کے گھر والوں سے تعلقات بالکل بھی خراب نہیں تھے اور گھر والوں نے اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا کبھی سخت رویہ نہیں رکھا۔ اسامہ کے والدکے بقول جو کچھ کالم میں لکھا گیا اور جو کچھ اسامہ کے قریبی دوستوں نے خبریں اڑائیں یا جو خبریں گردش کررہی ہیں ’ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ جہاں تک والدکی ناراضی ہے یا اسامہ کے گھریلو مسائل ہیں‘ یہ ساری باتیں اسامہ قبل از مرگ خود دوستوں سے شیئر کرتا رہا اور وہی باتیں کہیں نہ کہیں سے نکل رہی ہیں جس پر دوستوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔
Read moreڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم۔ دولے شاہ کی چوہیا پڑھا تو آنکھوں کے سامنے دولے شاہ کی چوہیوں کے ساتھ دولے شاہ کے چوہے بھی رقص کرنے لگے آخر مرد اور عورت کا ساتھ ازل سے ہے اور رہے گاتو د ولے شاہ کی غلامی میں علیحدگی کیسے ممکن۔ پیر تو سب کا سانجھا ہے۔
غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ دولے شاہ کی یہ نسل برصغیر پاک وہند میں ہی جنم لیتی ہے باقی دنیا میں انسان جنم لیتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں دولے شاہ جنم نہیں لیتے۔ اس معاشرے میں دولے شاہ کے چوہوں کی تاریخ سینکڑوں نہیں ہزاروں سال پرانی ہے جن پر حکومت کرنے کے لیے بیرونی دنیا سے انسانی لشکر یہاں ٹوٹے پڑ رہے ہیں اور ان چوہوں پر پرانے فاتحین سے لے کر آج کی جدید کمپنیوں کی حکومت جاری ہے۔ اس علاقے میں دولے شاہ سے محبت اتنی شدید ہے کہ کوئی انسان نما چیز یہاں جنم لیتے ہوئے گھبراتی ہے۔
Read moreلاہور کے دو مختلف علاقوں میں فائن لیونگ کے نام سے موجود دکان میں روز مرہ کی ضرورت کی تمام اشیا باآسانی دستیاب ہوتی ہیں جہاں دوکان مالکن شبانہ حمید ضرورت مند خاندانوں کو قسطوں پر راشن فراہم کرتی ہیں۔
Read moreکراچی میں مقیم دوستوں سے جنوبی پنجاب کے نظر انداز سیاحتی اور ٹھنڈے مقام فورٹ منرو اور ماڑی کی طرح سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب گورکھ ہلز کا نام سنا تو فوری پروگرام بنا کر رخت سفر باندھ لیا۔ حیدر آباد سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تو راستے میں معروف مقامات جامشورو سے انڈس ہائی وے شروع ہوتی ہے جو پنجاب تک جاتی ہے اور مورو تک یہ ہائی وے سنگل روڈ پر مشتمل ہے جہاں اب تک سینکڑوں حادثوں میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور اپنی زندگی میں بھٹو کا نام لیتے رہے لیکن بھٹو کے نام پر حکومت میں آنے والوں نے اس سڑک کی توسیع نہیں کی ہے۔
Read moreقیام پاکستان سے قبل پنجاب کے بہت سے لوگ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو پاکستان بننے کے بعد واپس آ گئے لیکن کچھ نے وہیں بسیرا کرنے ارادہ کیا پھر اپنے اس ارادے پر مستحکم رہے۔ وہاں رہ کر انہوں نے بمبئی کی فلم نگری میں اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے اپنے کام کا لوہا منوایا۔ ان میں موسیقار خیام۔ گلوکار محمد رفیع اور گیت نگار راجہ مہدی علی خان سرفہرست ہیں۔
Read moreانڈیا کی پہلی ’سیویئر سبلنگ‘ کی کہانی بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ مگر اس کہانی نے ایک ایسے ملک میں جہاں قوانین پہلے ہی کمزور ہیں، ایک ایسے بچے کی پیدائش میں، جسے اپنے بہن یا بھائی کے علاج یا زندگی بچانے کے لیے دنیا میں لایا گیا ہو، ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
Read moreلاہور شہر نامور سکولوں، کالجوں، اور جامعات کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان کے مختلف حصوں سے نوجوان حصول علم کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ دینی تعلیم کے حوالے سے بھی یہ شہر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ جامعہ اشرفیہ اور جامعہ نعیمیہ جیسی نامور دینی درسگاہیں ادھر قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں میں بسنے والے طالب علم بھی شہر لاہور کے مدارس سے کسب فیض کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں بیس بائیس ہزار دینی مدارس موجود ہیں۔
دینی تعلیمات کی ترویج کے ساتھ ساتھ یہ مدار س نہایت خوبی سے ہماری شرح خواندگی بڑھانے میں بھی مدد گار ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ ستر برس گزرنے کے بعد بھی ہم پرائمری تعلیم کا سو فیصد ہدف حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ ہمارے کم وبیش تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے مواقع محض مٹھی بھر نوجوانوں کو میسر ہیں۔ ان حالات میں دینی درسگاہوں کی موجودگی نہایت غنیمت ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ مدارس طالب علموں کی خوراک اور رہائش کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔
Read moreیہ روٹی اتنی کالی اور بے ذائقہ سی۔ کیوں؟ یہ آٹا کہاں سے آ رہا ہے۔ بہو بولی شاید روسی یا یوکرائنی گندم ہے۔ مجھے تو ان دنوں کاموں کے اژدہام میں اخبارات کے مطالعہ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔ ”ہائیں“ آنکھیں پھٹیں۔ اس زرعی ملک کی سونے رنگی میٹھی گندم کہاں گئی؟ بہو ہنسی وہیں جہاں پہلے چینی گئی تھی۔ اس جذباتی بوڑھی عورت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ابھی دو دن پہلے بیٹی چین سے آئی تھی۔ پی آئی اے کی تباہی کے دکھڑوں نے ہمارے دکھ کو دو چند کر دیا تھا۔
بیجنگ سے پہلے لوکل فلائٹ سے پہلے چندو گئی۔ جہاں پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے اسلام آباد آئی۔ ہمارا قومی سمبل چاند تارے کا علمبردار ساری دنیا میں اڑانیں بھرتا ہمارے دیس کی نمائندگی کرتا کیسے پاتال میں گر گیا ہے؟ لائق باپ کی نالائق اولاد کتنے فضول فروعی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔ جاہل عورتوں کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر مخالف کو چھبیاں دیتی ہے۔ چلو لندن جاکر اس گولو مولو کو لے بھی آیا اسے بندی خانے میں بھی ڈال دیا تو؟ غریب کو روٹی دال سبزی سے واسطہ۔ پھل اس کی بساط سے باہر۔ نگوڑا کیلا چلو وہ کھا سکتا ہے مگر پچاس روپے درجن بکنے والے کیلے کو دیکھا ہے کسی نے؟ اس بیچارے پر جانے کون سی زہریلی ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کہ پکتا بعد میں ہے اندر سے سڑ پہلے جاتا ہے۔
Read moreبھارت میں انتہا پسندھندوؤں کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں مسلمان، درجنوں ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد انھیں محبت کے جال میں پھنسا رہے ہیں اور ان کا واحد مقصد انھیں ہندو سے مسلمان بنانا ہے۔ مسلمان مرد اور ہندو لڑکی کی شادی کو ’لوجہاد‘ کا نام دیا جاتا ہے جب کہ ہندو لڑکی اگر مسلم لڑکے سے شادی کرے تو اسے ’قومی یک جہتی‘ قرار جاتا ہے۔ یہ منفی پروپیگنڈا کئی برسوں سے سے عروج پا رہا ہے، اس حوالے سے ایک اجتماعی شادی پر بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو کیرالہ میں بین المذاہب شادیوں کی تحقیقات کی تھی لیکن انہیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکوں سے شادی کرنے اور مذہب اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
Read moreہر دور میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اچھے یا برے مگر وقت کا پہیہ نہیں رکتا۔ جب ہماری شادی ہوئی ان دنوں بھٹو صاحب کی سزا پر عمل درآمد کا وقت تھا۔ شادی سے صرف پانچ روز پہلے یہ مرحلہ گزرا تھا اس لیے ہر کوئی ماحول کی سوگواری، فضا کی پژمردگی اور دلوں کی افسردگی کا اندازہ کر سکتا ہے لہذا ہم نے چھٹی کے ایام گھر میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
چند ہفتوں بعد ہماری ملاقات ایک دوست سے ہوئی کہ جن کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اتفاق سے ان کی شادی ہماری شادی کے اگلے روز ہوئی تھی۔ انہوں نے سیر و تفریح کے لئے نکلنے کا مشورہ دیا۔ طے پایا کہ دو روز بعد ہم مری جانے کے لئے روانہ ہوں گے۔ اس دوران انہوں نے رہائش کا بھی انتظام کر لیا اور یوں ہم عازم ہنی مون ہوئے۔
Read moreپاکستان کی قومی اسمبلی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی سرکاری عمارات پر نمائش اور اسلام و مسلمانوں کے بارے میں صدر ایمونائل میکرون کے حالیہ بیانات کی مذمت میں قرار داد منظور کی ہے ۔وزارت خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔ فرانس نے ترک صدر طیب اردوان کے اس بیان کے بعد کہ ’فرانسیسی صدر کو دماغی معائنہ کروانا چاہئے‘ انقرہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے اور اس بیان کو ناقابل قبول
Read moreسلمیٰ نے اس وقت گھر چھوڑ دیا جب ان کے اہل خانہ نے انھیں اسقاط حمل کروانے کو کہا۔ بعد میں سلمیٰ نے سیاہ فام افراد کے خلاف اپنی والدہ کے تعصب بھرے خیالات اور رویے کو چیلینج کیا۔
Read moreاس کہانی میں دو نوجوان لڑکیوں کو اپنی اپنی جگہ مضبوط کرداروں میں دکھایا گیا جن میں سے ایک (عنایہ) متوسط طبقے کی لائق انجیئر اور سیلف میڈ خاتون ہیں اور ذاتی نقصان کی فکر نہ کرتے ہوئے نفرت اور ہراسانی کے خلاف ڈٹ جاتی ہیں۔
Read moreامریکہ اور پاکستان میں برس ہا برس سے صحافتی خدمات سرانجام دینے والے سینئر صحافی اور اسلام آباد میں نیوز ایجنسی این۔ ایل۔ آئی ”نیوز لائن انٹرنیشنل“ کے ایڈیٹر ان چیف میاں زاہد غنی آٹھ ماہ سے پاکستان میں پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ میاں زاہد غنی 2012 ء میں امریکہ سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد اسلام آباد میں مقیم تھے۔ قبل ازیں میاں زاہد غنی 19 سال امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے علاقے نیو برنزوق میں مقیم
Read moreنوٹ: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ ’جو ایک سائیکولوجسٹ ہیں‘ کی حالیہ کتاب TOO MUCH AND NEVER ENOUGH: HOW MY FAMILY CREATED THE WORLD ’S MOST DANGEROUS MAN کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی ایک ایسے بچے کی طرح سوچتا ہے جسے اپنے جذبات پر کوئی قابو نہیں۔ ڈونلڈ کو اپنے بچپن میں نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب کوئی انسان بچپن میں نفسیاتی بحران اور تشدد کا شکار ہوتا ہے تو
Read moreحالیہ گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے موقع پر ایک جلسے میں بلال بھٹو زرداری نے یہ الفاظ ایک بار پھر دہرائے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہے، وہ کوئی کھلاڑی نہیں ہیں کہ یو ٹرن لے گا۔ بلاول نے یو ٹرن تو نہیں لیا ہے لیکن یوں ٹرن لیا ہے اور وہ یوں کہ آصف علی زرداری کی دریا دلی سمجھے یا ان کی سیاسی دور اندیشی کہ بلاول کو صرف
Read moreصبح سویر کا عمل تھا۔ فری دوسری مرتبہ اس کنویں کے کنارے آئی تھی۔ اس دفعہ اس کا ارادہ تھا کہ کنویں پر پہنچتے ہی اس میں چھلانگ لگا دے گی لیکن وہاں پہنچ کر وہ دوبارہ ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئی۔ بات یہ نہیں تھی کہ اس کو موت کا خوف لاحق تھا اصل ڈر یہ تھا کہ وہ کہیں زندہ نہ بچ جائے۔ وہ جلد از جلد اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتی تھی اور اس کے لیے کئی
Read moreویب ڈیسک — پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے ایک بار پھر حکومت اور مقتدر اداروں پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف اپنے الزامات دوہراتے ہوئے کہا کہ اُنہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے سے متعلق جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اتوار کو ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ہونے والے جلسے سے اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتحار حسین، امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب احمد شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، شاہ اویس نورانی، اختر مینگل سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
Read moreوہ شخص کہ پہچان جس کی قومی اسمبلی میں منافرت پر مبنی احمقانہ تقریریں اور آئے روز کی بے ہودہ نعرے بازی ہو، قائد کے مزار پر اس سے ہلڑ بازی کے سوا اور کیا امید کی جا سکتی تھی۔ نظر انداز کر دینا ہی بہترتھا، تاہم درخواست جب دائر ہو گئی تو سندھ پولیس مقدمے کے اندراج سے انکاری کیوں رہی؟ شاید حکومت سندھ کے لئے قانون کی عملداری نہیں، شاہی خاندان کے ہاں شاہی مہمانوں کی مہمان نوازی
Read moreجنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی ‘سام سنگ’ کو ٹیلی ویژن بنانے والی کمپنی سے بین الاقوامی صارفین کے لیے ایک جدید الیکٹرونکس کمپنی میں بدلنے والے اس کے چیئرمین لی کن ہی 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
Read moreروسی ایم ایم اے ریسلر حبیب عبدالمناپووچ نورمحمدوف نے ابوظہبی میں یو ایف سی 254 نامی ٹورنامنٹ میں لائٹ ویٹ ٹائٹل جیت کر پیشہ وارانہ ریسلنگ میں اپنا ناقابلِ تسخیر ریکارڈ تو برقرار رکھا ہی لیکن ساتھ ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
Read moreجان لسٹ کو اوبر نومِکس کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق معذرت کی بنیادی قسم میں تو صرف معافی مانگنے سے کام چل جاتا ہے لیکن کبھی کبھار معافی کے ساتھ پانچ پاؤنڈ بھی دینا پڑتے ہیں۔
Read moreدھرتی سے اگا بدن، جب پھر سے دھرتی میں جا ملے، تو مادی دنیا کے قرطاس پر لکھی جانے والی کہانی مکمل ہو جاتی ہے۔ ایک اور کہانی مکمل ہو گئی۔ شخصیات کے احوال و تذکرہ پر مبنی کتاب جب چھپنے جا رہی تھی، تو میں نے اس کا نام ”ادھوری کہانیاں“ اسی لئے رکھا تھا کہ زمیں کے سینے پر جب تک انسان موجود ہو، اس کی کہانی ادھوری رہتی ہے۔ تکمیل تو موت کرتی ہے۔ کچھ سن گن رکھنے والے کہا کرتے ہیں کہ کہانی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ رہتی ہو گی، تاہم ظاہری حواس سے بعد کی کہانی کو دیکھا، سنا، پڑھا اور محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ سو موت کی نیند، کہانی کے اختتام ہی کا نام ہے۔ انگریز تمثیل نگار کے مطابق دنیا کے سٹیج سے اپنے حصے کا کردار مکمل کر کے اتر جانے کا نام ہے۔ ادھوری کہانیاں کتاب کا ایک اور کردار استاد بلے خاں بھی اپنی کہانی مکمل کر گئے، ان کا کردار بھی تمام ہوا۔ استاد کی کہانی کا آخری پیراگراف دربار موسیٰ پاک شہید کے سائے میں، گزشتہ سوموار کی صبح نو بجے پڑھا گیا۔
دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کے پہلو میں محلہ گیلانیاں ہے اور استاد بلے خاں کا خاندان صدیوں سے یہاں مقیم۔ استاد کا تعلق نقارہ بجانے والے خاندان سے تھا۔ نقارہ بر صغیر کا قدیمی ساز ہے۔ نقارے کی کہانی بھی ختم ہونے کو ہے، اب خال ہی کہیں نظر آتا ہے۔ استاد کے پر دادا میاں اللہ ڈیوایا نقارے کے حوالے سے بر صغیر کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ فن اس خاندان میں نسل در نسل چلا۔ استاد کے والد خلیفہ رحیم بخش بھی معروف نقارچی تھے۔
Read moreیہ ایک ایسا دور تھا جب انسانیت کو بہیمیت نے شکست سے دو چار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جب فطرت انسانی کے حسن کو درندگی نے بد نما کیا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جب سرسبز و شاداب مسکن انسانی کو بنی آدم کی حرص نے خون بنی آدم سے لالہ زار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا، جس میں آدم کے بیٹے نے حوا کی بیٹی کو، اپنی ہوا و ہوس کا شکار بنایا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جس میں بنی آدم کے ضعیفوں کو، بنی آدم کے متکبرین نے اپنا تر نوالہ بنایا تھا۔
یہ ایک ایسی ثقافت تھی، جہاں موسیقی کی دل دادہ طبیعت انسانی کو صرف تلوار کی جھنکار مسرور کرتی تھی۔ یہ ایک ایسا رہن سہن کا طریقہ تھا جس میں ایک معصوم بچی زندہ درگور ہونے کے لئے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ یہ ایک ایسی سیاست تھی جس میں بازنطینی اور ساسانی سلطنتیں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس طرح محو جنگ و جدل تھیں کہ باقی نسلیں حشرات الارض کی طرح ان کے پیروں کے نیچے مسلی جا رہی تھیں۔ الغرض یہ انسانیت کے لئے ایک ایسا نازک اور فیصلہ کن وقت تھا، جب قابیل اپنے شانوں پر ہابیل کی نعش اور ناموس لیے لیے پھر رہا تھا۔
Read moreایک آن لائن لغت میں لفظ ”ہائبرڈ“ کا ترجمہ تھا، ”دو نسلا“۔ اب گاڑیوں کی حد تک تو دو نسلا پن اچھی بات ہے۔ ایندھن کی بچت، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، وغیرہ۔ انسان کے بچے بھی دو نسلے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اچھے خاصے یک نسلی بچے کو زبردستی ہائبرڈ بنایا جائے تو یہ بات قابل تحسین نہیں لگتی۔ پھر بھی آج کل یہ چیز فیشن کا حصہ بن چکی ہے اور والدین اپنے لاڈلوں کو ہائبرڈ بنانے پر تلے نظر آتے ہیں۔
ایک جاننے والے کے گھر جانا ہوا۔ خاتون خانہ نے کسی سے کہا، ”شیک ہینڈز کرو۔“ یہ لفظ ”شیک“ سنتے ہی میں چھلانگ لگا کر صوفے پر چڑھ گیا۔ در اصل ”شیک“ کی کمانڈ کتوں کی ٹریننگ میں استعمال ہوتی ہے۔ کتے کو سکھایا جاتا ہے کہ بیٹھ کر کس طرح ایک پاؤں اوپر کرنا ہے اور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہاتھ ملانا ہے۔
Read moreپچھلی قسط میں بتایا گیا تھا کہ بیگم ایدھی نے نازلی اور رچرڈ کو اس حاملہ بچی کی اولاد لینے کے لیے ایک دو ماہ انتظار کرنے کی تلقین کی تھی۔ اگلے دن وہ تینوں کسی کے ہاں کھانے سے رات کو لوٹ رہے تھے۔ واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا۔ یہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔ رچرڈ نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیئے گا۔
Read moreفیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے
Read moreمجھے جانتے نہیں میں کون ہوں۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے سگنل پہ روکنے کی۔ پتہ بھی ہے کس کا بیٹا ہوں۔ یہ وہ تڑی ہے جو پندرہ سولہ سال کے اکثر بچے قانون کی خلاف ورزی پہ روکنے والے ٹریفک وارڈن کو لگاتے ہیں اور سگنل پہ موجود وارڈن کو یہ لہجہ و الفاظ بتا دیتے ہیں کہ غلطی کس نے کی ہے۔ وہ وارڈن جو چالان کاٹنے کا سوچ رہا ہوتا ہے، چالان پیپر تھمانے کی بجائے معذرت کر کے اسے مزید قانون شکنی کی اجازت دے دیتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ سخت لہجہ اس تھانیدار کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو ہوش و حواس سے بیگانہ الٹے سیدھے کام میں ملوث کسی نوجوان کو انتہائی مجبوری کے تحت تھانے لے آئے تو تھانے میں تھرتھلی مچ جاتی ہے۔
Read moreوہ ستمبر کی آٹھ تاریخ تھی، سال 2015 ء اور مقام تھا شکاگو۔ 49 سالہ ایمی کروس روسنتھل کو پیٹ میں تکلیف محسوس ہوئی۔ جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کچھ دیر بعد وہ اپنے شوہر جیسن کے ساتھ ایک ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں تھی۔ چند گھنٹوں کے ٹیسٹ کے بعد پتہ چلا کہ جس درد کو وہ اپینڈکس کا درد سمجھ رہے تھے وہ دراصل بچہ دانی کا کینسر تھا۔ یہ خبر محبت سے بھرپور جوڑے کے لیے دلخراش تھی۔ جنہوں نے اب تک شادی شدہ زندگی کے چھبیس سال بہترین رفیق بن کے گزارے۔
Read moreپاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہم برطانوی حکومت سے نواز شریف کی وطن واپسی کے متعلق بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ جھوٹ بول کر ملک سے گئے ہیں۔’انھوں نے کہا کہ ‘ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کو ڈی پورٹ کروایا جائے۔‘
Read more7 جون 2018 ء مستنصر حسین تارڑ کا ایک مضمون روزنامہ 92 نیوز میں ”شورش کاشمیری کی اس بازار میں اور اقبال کی امیر بائی“ نظروں سے گزرا۔ اس میں مستنصر حسین تارڑ نے شورش کاشمیری کے ایک افسانوی اور من گھڑت قصے کو جان بوجھ کر مزے لے لے کر بیان کیا ہے اور آخر میں خود کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے لکھ دیا ہے:
اقبال شناس مجھے بتائیں کہ اصل قصہ کیا ہے؟
مستنصر حسین تارڑ پورا قصہ پبلک کرنے کے بعد، جو ان کا اصل مقصد تھا، لکھتے ہیں:
Read more” مکیش بھیا، کل فادرز ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟“ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا، جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔
”زور کا ایک طمانچہ“۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔
مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب انسان تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔
Read moreموبائل فون پر آج کل کسی کو بھی کال کریں، تو چھاتی یا سینے کے کینسر کے بارے ایک آگاہی پیغام سننے کو ملتا ہے۔ سینے کے کینسر سے مجھے گاؤں کا ایک کردار یاد آ گیا۔
نیاز عرف نیاجا، اپنے تئیں نہایت با اخلاق اور وضع دار آدمی تھا۔ چال چلن سطحی طور پہ مناسب سا تھا۔ گھر کے آگے نیم کے درخت کے نیچے کھجور کے پتوں کے بان سے بنی ایک بڑی چارپائی ڈالی ہوئی تھی۔ جس پر ہر وقت تین چار آدمی بیٹھے خوش گپیاں کرتے رہتے اور باتوں سے فراغت کے وقت تاش وغیرہ کھیل لیتے۔ نیاجا تاش تو نہ کھیلتا البتہ چغلیاں وغیرہ نہایت تن دہی سے فرض سمجھ کے کرتا۔ نیاجے کی چارپائی پہ جو بھی بیٹھا ہوتا۔ نیاجا اس کی تعریفوں میں آسمان کے قلابے ملا دیتا۔
Read moreپاکستانی معاشرے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے مظالم اور ریپ کو روکنے کے لئے، ہم جب پچھلے ایک دو سال میں ہونے والے واقعات پر غور کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شکار کی عمر، زندگی، لباس، جگہ، مذہب، وقت، گلیمر اور دیگر عوامل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شکاری کو جب ہوس ہو گی، وہ گھات لگائے گا اور شکار کر لے گا۔ عام طور پہ شکار ہمیشہ کمزور ہوتا ہے اور وہ مزاحمت کر لے تو بھی شکار بن جاتا ہے، بلکہ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ویسے ایسی زندگی کا کرنا بھی کیا ہے، جس میں اس واقعے کے بعد ہر مرد آپ کو تر نوالہ سمجھے اور ہر عورت بد کردار۔
مجھے لگتا ہے کہ شکار بننے سے بچنے کے طریقے سکھانے کے ساتھ ساتھ، ہمیں معاشرے میں بڑھتے ہوئے شکاریوں کی شرح میں بھی کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں بہت سے عناصر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جن میں والدین اور اساتذہ سب سے اہم ہیں۔ ان دونوں کرداروں کا بچوں کی تربیت میں اہم حصہ ہے۔ لیکن میری دانست میں اساتذہ سے بھی اہم کردار ماں باپ کا ہے۔ اور ماں باپ میں سے زیادہ اہم مجھے ماں کا کردار لگتا ہے۔
Read moreکرکٹ سے متعلق مختلف مباحثے ایسے ہیں جن کے بارے میں حتمی فیصلہ شاید کبھی نہ کیا جا سکے لیکن پھر بھی ایسے ہی گرما گرم مباحثوں کے بارے میں آئے روز کرکٹ کے حلقوں میں بہت شوق سے بات کی جاتی ہے۔
Read moreسنہ 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا ایک خفیہ لیکن تاریخ ساز دورہ کیا تھا۔ اُس وقت پاکستان گھمبیر سیاسی بحران میں گھرا ہوا تھا اور امریکہ سرد جنگ کے اُس زمانے میں چین اور سویت یونین کے درمیان پیدا ہونے والی نظریاتی اور تزویراتی خلیج کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
Read moreہم آج اپنے پیارے وطن کی عافیت میں زندگی گزارتے ہوئے، شاید ان واقعات کو اور ان کے عوام پر پڑنے والے دور رس اقدامات کو محسوس تک نہیں کر سکتے، جیسے سردیوں کی دھوپ کچھ سستی سی طاری کر دیتی ہے اور انسان کچھ سوچنے اور کسی بھی معاملے پر غور و فکر کرنے سے احتراز کرنے لگتا ہے، لیکن جس طرح فیض بھی کہہ اٹھے تھے کہ ”لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے“ تو اپنے آس پاس کی دنیا کے ممالک میں رو نما ہونے والے کچھ اہم واقعات، واقعی اس قابل ہیں کہ کم از کم کسی کہانی کی طرح ہی ان سے باخبر رہا جائے۔
ایسے اہم واقعات، جن میں سے کچھ کا نتیجہ ان ممالک اور ان کے عوام کے لیے انتہائی خوش گوار نکلا اور بعد از بسیار خرابی، بلآخر وہ اقوام ان کو لاحق ان دیرینہ بحرانوں سے جان چھڑانے اور ان کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئیں، اور باقی دنیا کے ساتھ ترقی کے سفر کا آغاز کر دیا، لیکن کچھ ممالک میں ان کوششوں کے انتہائی افسوسناک اور درد ناک نتائج نکلے، جن کے بھیانک سائے، ان ممالک کے عوام کی زندگیوں پر آج بھی دکھائی دیے جاتے ہیں۔
Read moreگزرے وقتوں کی بات ہے ایک لوہار کی مری روڈ پنڈی کے مشہور بینڈ ماسٹر سے دوستی ہو گئی۔ دوستی اتنی گہری تھی کہ لوہار کو اپنے کاروبار سے زیادہ بینڈ ماسٹر دوست کے یہاں نوکری کی خواہش بے چین کرتی اور اس کا دل لاہور سے زیادہ پنڈی کی ہواؤں میں پر سکون رہتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پنڈی مری روڈ کی شیریں سوغات گراٹو جلیبی کا دل فریب ذائقہ تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا دوست جب لوہار کو مدعو کرتا تو پائے نہاری کھلانے کے بعد مری روڈ کی گراٹو جلیبی لازمی کھلاتا تھا اور لوہار کو گراٹو کی ایسی عادت پڑ گئی جو اس کے لئے کسی نشے سے کم نہی تھی لیکن وہ اب دل کی خواہش اپنے دوست کو بتانے سے شرماتا تھا، کہ کیسے اپنے دوست سے کہوں، میں لوہے کی بھٹی اور کوئلوں کی کالک سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ مجھے اپنے یہاں نوکری پہ رکھ لے، تا کہ چہرہ بھی تر و تازہ رہے اور روز گراٹو جلیبی کھا سکے، نیز مری روڈ پر ون ویلنگ کا لطف اٹھا سکے۔ بینڈ ماسٹر سے دوستی کا یہ فائدہ بھی تھا، کوئی ٹریفک وارڈن اس کا چالان بھی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔
Read moreیہ ایک بہت دل چسپ بات ہے، کبھی آپ غور کریں تو آپ کو سمجھ آتی ہے کہ دوسروں کی بے عزتی کرنے، غلط تنقید کرنے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے لوگ عام طور پر خود محروم، نا آسودہ، کم حیثیت اور کم شکل ہوتے ہیں (شکل تو قدرت کی بنائی ہے، مگر خود کو ظاہری باطنی طور پر گروم کرنا، انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے)۔ بہت کم ایسا ہو گا کہ کوئی خوش شکل، مالی، معاشی اور جنسی طور پر آسودہ شخص کسی کا مذاق بنائے یا بے عزتی کی نیت سے تحقیر کے لبادے میں تنقید کرے۔
میں نے اس موضوع پر پہلے بھی خاصا پڑھا تھا، لیکن پچھلے دنوں اچانک ایک بات سے دوبارہ اس طرف دھیان گیا۔ پاکستان میں بے تحاشا مسائل میں سے، ایک بڑی عمر کی شادی بھی ہے۔ اب تو بڑی تعداد میں عورتیں پہلے بچے کی پیدائش پر 35 سال کی عمر کو پہنچی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی خاتون 45 سال کی عمر میں انتہائی سمارٹ اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ”نانی“ بھی ہو، تو اسے برداشت کرنا واقعی مشکل کام ہے۔
Read moreبابائے قوم قائد اعظم نے کبھی بلند آواز میں شاید اپنے حریفوں تک سے بھی بات نہ کی ہو گی۔ قائد اعظم کو جھوٹے پراپیگنڈے اور سستی شہرت سے بہت سخت نفرت تھی۔ اس کے علاوہ قائد اعظم یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ حقیقت کو چھپایا جائے یا سچی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔ مجھے ہمیشہ ان سب لوگوں پہ بشمول اپنے ابا کے رشک آتا ہے، جو قائد اعظم سے ملے اور ان کی تقریریں سنتے تھے۔ مجھے فخر ہے میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو قائد اعظم کی مسلم لیگ کے کارکن تھے۔
بابائے قوم قائد اعظم تاریخ عالم میں عظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو نہایت کامیابی سے کنارے پر لگایا۔ وہ دیانت، امانت، حق گوئی، ایثار و قربانی، معاملہ فہمی، سیاسی تدبر اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے۔ حال ہی میں بابائے قوم کے مزار پر چند شر پسند عناصر نے نعروں کی شکل میں جو ہلڑ بازی کی اس میں انھوں نے خود اپنی تربیت اور تہذیب کے کپڑے اتار کر رکھ دیے۔
Read moreیونان کے شہر ریتھمنو کی ایک عدالت میں قاتل نے اعتراف کیا کہ جو اس سے سرزد ہوا ہے، یہ اس کے بس میں نہیں تھا۔ اس کے ذہن پر جنات کا مکمل قبضہ تھا اور وہ اسے حکم دے رہے تھا، لہذا وہ جنات کے تابع تھا۔ یہ اٹھائیس سالہ یانس پاراس کاکس، یونان کا ایک مقامی کسان ہے، جس کا باپ ایک پادری ہے۔ جب کہ یہ خود دو بچوں کا باپ ہے۔
جرمنی کے ایک ادارے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر سیل بیالوجی اینڈ جینیٹکس کی پروفیسر ایٹن کی کہانی، اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ سوزن ایٹن ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر حیاتیات تھی۔ گزشتہ برس وہ یونان کے ایک جزیرے کریٹے میں سیر و تفریح کے لئے آئی۔ ایک دن جب وہ کہیں قدرت کے مشاہدات میں مگن تھی، تو اچانک ایک گاڑی اس سے ٹکرائی اور وہ گر کر بے ہوش ہو گئی۔ ٹکر مارنے والا سے گاڑی میں ٹھونس کر ایک ویران علاقے کی سمت رواں ہوا۔
Read moreآئیے، آج آپ کی ملاقات پاکستان کی ایک ننھی سی کوہ پیما سے کراتے ہیں۔ کوئی تین سال قبل میں اور میرا دوست، ظہیر عباس گلیات کی سب سے اونچی چوٹی، میرانجانی کی ہائیکنگ کر رہے تھے۔ پائن کے گھنے درختوں کے درمیان ان خوبصورت چڑھائیوں کو چڑھتے ہوئے ہم کچھ پل سستانے کے لیے رکے۔ دور سے ایک دبلا پتلا آدمی ایک چھوٹی سی بچی کے ہم راہ ہماری اور آتا دکھائی دیا۔ پل بھر میں نا صرف وہ دونوں ہمارے پاس سے گزر چکے تھے بلکہ اگلا موڑ مڑ کر ہماری آنکھوں سے اوجھل بھی ہو چکے تھے۔
ان دونوں کی رفتار دیکھ کر ہم چونکے بغیر نہ رہ سکے۔ اور جب ہم میرانجانی کی چوٹی کے قریب پہنچے، تو وہ دونوں چوٹی سے ہو کر واپس نیچے کی طرف رواں دواں تھے۔ ہم نے کچھ لمحے رک کر ان صاحب سے سلام دعا کی۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کا نام یوسف خواجہ تھا جو کہ ایبٹ آباد میں مکین تھے اور ایبٹ آباد میں ایک فٹنس سینٹر چلاتے تھے۔ وہ چھوٹی سی آٹھ سال کی بچی، ان کی بیٹی تھی، جس کا نام سلینہ خواجہ تھا۔ یوں ہمارا سلینہ سے پہلا تعارف ہوا۔
Read moreگھر میں احمد کا داخلہ اس دن سے بند ہو گیا تھا جس دن اس نے لوگوں کوجمع کر کے بھڑکایا اور پنجابیوں کے گھر میں آگ لگوائی تھی۔ ماسٹرصاحب تو بہت سیدھے آدمی تھے نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ لانبا سا قد دبلے پتلے انسان۔ اردو ایسے بولتے تھے جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ہرجملہ صاف، بغیر کسی غلطی کے۔
وہ آگرے سے آئے تھے۔ جب اپنے لٹے پٹے خاندان کے ساتھ کراچی پہنچے تھے تو صرف دس جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں انہوں نے۔
Read moreمجھے حسرتؔ کے گیتوں سے ہمیشہ ہی دل چسپی رہی۔ ان سے میرا لگاؤ یوں بھی بڑھ گیا، جب میں نے ان کے تذکرے میں کہیں پڑھا کہ وہ اردو کے مشہور شاعر مولانا حسرتؔ موہانی سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے اپنا تخلص حسرتؔ اختیار کیا۔ ان کی کہی ہوئی پہلی غزل کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
کس ادا سے وہ جان لیتے ہیں
مرنے والے بھی مان لیتے ہیں
حسرتؔ کا سلسلہ اردو غزل کے عظیم شاعر مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے نانا، فدا حسین فدا ؔ جے پوری، آغا دہلوی کے شاگرد تھے، جن کا شمار مرزا غالبؔ کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ کا سلسلہ تلمذ مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔
Read moreبلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس منگل کی سہ پہر ہوئی۔اس کے بعد آرمی چیف نے ان سے فون پر رابطہ کیا۔بعدازاں فیصلہ ہوا کہ پیر کی صبح کراچی میں کیپٹن صفدر کی پُراسرار مگر کافی شرمناک انداز میں ہوئی گرفتاری کا باعث ہوئے ’’حقیقی‘‘ کرداروں کی نشاندہی ہو۔ان تمام واقعات سے کئی گھنٹے قبل میں کالم لکھ کر دفتر بھجواچکا تھا۔ بدھ کی صبح وہ ’’حکومتی صفوں میں کنفیوژن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوگیا۔میرے کالم میں بیان کردہ خدشات
Read moreپاکستان میں بینک سے قرض حاصل کرنا کتنا مشکل ہے اور ایسا کرتے ہوئے کن باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے، یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے اس رپورٹ میں بینکنگ کے شعبے سے وابستہ چند ماہرین سے بات کی ہے۔
Read moreیہ طلبا صوبہ پنجاب کی جامعات میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبا کے لیے وظیفے کے مبینہ خاتمے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے لیے رواں برس سے بھی مکمل طور پر مفت وظیفوں کو بحال کیا جائے کیونکہ ان کے لیے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔
Read moreنیویارک میں رواں ہفتے، اپنے پرائمری ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ تھی۔ ڈاکٹر نے ایک سائیڈ کی کڈنی میں انفیکشن خیال کرتے ہوئے مزید ٹسٹ تجویز کیے۔ جن میں بلڈ ورک، ایکسرے اور گردوں کا الٹراساؤنڈ بھی شامل تھا۔ انہی ٹیسٹوں کے لیے ہم نیویارک کے علاقے فلیشنگ میں واقع لینیکس نامی لیب پہنچے تھے۔
لیب کے پارکنگ ایریا میں میری نظر پہلے سے موجود پرانے ماڈل کی گاڑی ”جیگوار“ پر پڑی۔ جس کی سائیڈ والے شیشے پر لگے سٹکر پر ”سٹیٹ اسمبلی کی نشست پر امیدوار بن سنگر کو ووٹ دیں“ ۔ کے الفاظ درج تھے۔
Read moreکوئی نصف صدی قبل ایک بچہ، جس کا نام نادر فرض کر لیں، کٹاس راج شریف کے ہائی اسکول اور تالاب سے متصل مکانات کے درمیان واقع کھلے میدان میں سارا دن کھیلتا رہتا، اور تالاب کو پانی مہیا کرنے والے چشمے کے بہاؤ سے لطف اندوز ہونے کے لیے، بنا ماں کی ڈانٹ کی پروا کیے، غوطے لیتا رہتا۔ اس عمر میں بھی اسے یہ احساس تھا کہ تالاب کی طرف جانا اس کے لیے خطرناک ہے۔
تھک ہار کر گھر کی راہ لیتا اور کئی گھنٹے باہر رہنے کے جواز کے طور پر سرکنڈے، لکڑی اور ہر ایسی چیز جسے بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہو، کے ٹکڑے، اپنی چھوٹی چھوٹی مٹھیوں کی گنجائش کے مطابق اکٹھے کرتا اور گھر جا کر ماں کو (توتلی) پشتو میں کہتا: ګلګی [لرګی] می راوړی دی۔ (گلگی [لرگی] مے راوڑی دی)۔ یعنی لکڑیاں لایا ہوں، پنجابی میں کہیں گے، بالن آندا۔
Read moreہاجرہ اس دن زندہ تھی۔ اس سے بات کرتے ہوئے میری آواز بھرا گئی تھی لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ عام عورتوں کی طرح برے خاوند کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں سمجھتی تھی، نا ہی غربت اور مسائل کو اپنی بری تقدیر۔ اس لئے آج کی تحریر ہاجرہ کے نام!
میں اس سے بہت شاکی رہنے لگی تھی۔ بات بات پر سرزنش، اس کی صحت اور حالت پہ رحم نہ کھاتے ہوئے، ہر ناغے پر ناراض ہونا۔ لیکن وہ ہاجرہ تھی، بلا کی خود دار! اس نے مجھے شکایت کا موقع دینا کم کر دیا۔
Read moreتاریخی طور پر غدار ہونے کے لیے یہ شرط تھی کہ آپ پنجابی نہ ہوں۔ کبھی کبھی کوئی پپو غدار پیدا ہو جاتا تھا تو اس کے ساتھ سلوک بھی پپوؤں والا کیا جاتا تھا۔ لندن سے جدہ، جدہ سے لندن وغیرہ۔ اگر وہی بات کوئی بزرگ بلوچ بھی کرے تو اس غار میں گھس کر مارا جاتا تھا: پڑھیے محمد حنیف کا کالم
Read moreجنوبی افریقہ کے سیاہ فام اور سفید فام مرد و زن اپنے محبوب موسیقار روڈ رگس کے انقلابی گانے سن رہے تھے کہ ایک نوجوان نے آ کر خبر دی کہ روڈ رگس فوت ہو گئے ہیں۔
لیکن کیسے؟ کسی پرستار نے پوچھا
دوسرے نوجوان نے کہا کہ انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔ سٹیج پر اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر اپنے آپ کو گولی مار لی ہے۔
پھر کیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دور دراز کے علاقوں تک پھیل گئی اور سارے افریقہ میں سوگ منایا جانے لگا۔
Read moreایک ہفتہ قبل، گجرات سے تعلق رکھنے والے نو جوان شاعر اسامہ جمشید نے خود کشی کر لی۔ یوں یہ موضوع ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کی زینت بن گیا اور ہمارا سماج، بالخصوص تخلیق کار طبقہ اپنے لیکچر اور رویوں سے یہ بتانے کی نا کام کوشش کر رہا ہے کہ کاش اسامہ ہمیں بتاتا، کاش ہم سے وہ اپنا دکھ شیئر کرتا، ہم سے وہ اپنے مسائل ڈسکس کرتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ ایسے ڈائیلاگ ہیں، جو ہر خود کشی کے بعد معتبر طبقے کی جانب سے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔
جو شخص خود کشی کی کوشش کرتا ہے، اس کے حالات سے بہت زیادہ نہیں، تو اچھے خاصی قریبی احباب آگاہ ہوتے ہیں اور کوئی چارہ کرنے کے بجائے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج امن اور محبت کا بھاشن دینے والے یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی اور ایسا نو جوان تو نہیں، جو اسامہ کی طرح موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم اسے مسلسل نا صرف نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ طنز کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، تو میرے خیال سے اس رجحان میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔
Read moreہندی فلم انڈسٹری کی سب سے رومانٹک سمجھی جانے والی فلم ‘دل والے دلہنیا لے جائيں گے’ یعنی ‘ڈی ڈی ایل جے’ کی ریلیز کو 25 سال ہوگئے ہیں۔
Read moreتاریخ و سیاست کے طالبعلم خوش قسمت ہیں کہ انہیں تاریخی حقائق کی سند کے لیے صادق و امین گواہی مل رہی ہے۔ آج تک کہا جاتا رہا کہ جو اقتدار سے محروم ہو جاتا وہ سیاستدان ایسٹیبلشمنٹ پر حملے کرتا ہے اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے الزام لگاتا ہے۔ آج کل سیاسی گرما گرمی بڑھی تو ”غدار“ نواز شریف اور کرپٹ سیاسی ٹولے نے ببانگ دہل ہماری مقدس ایسٹیبلشمنٹ پر الزامات کا کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش
Read moreلگ بھگ دو سو برس پہلے مائی جیواں پر لگنے والی پابندی کے بعد کسی خاتون نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کی درگاہ پر اُن کا کلام نہیں گایا مگر سنہ 2017 میں چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ شاہ سائیں کا کلام اُن کی راگی لڑکیاں اُن کی درگاہ میں گا رہی ہیں۔
Read moreوہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ کمرے کے باہر بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ ہر سو ماحول نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ، نمی کے باعث دھندلا سا گیا تھا۔ لیکن کمرے کا ماحول بہت خواب ناک تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ آتش دان میں دھیمی دھیمی چٹخنے والی لکڑیوں کی آواز کا اثر تھا یا ہندوستان کی معروف کالم نگار اور ناول نگار شوبھا ڈے کی موجودگی کا، جن کے ساتھ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے محو گفتگو تھے۔ جی ہاں! وہی شوبھا ڈے، جن کو بھارت کی ”جیکی کولینز“ بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے ہندوستان کی فلمی صحافت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نیا رنگ اور انداز دیا۔ شوبھا ڈے کا جنم بر صغیر کی تقسیم کے تقریباً پانچ ماہ بعد 7 جنوری 1948ء میں ہوا۔ ان کا اصل نام شوبھا راجا دھکشہ ہے لیکن ادبی و صحافتی حلقوں میں وہ شوبھا ڈے کے نام سے مقبول ہوئیں۔ انہوں نے گریجوئیشن کے بعد ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ لیکن ہندوستانی فلمی دنیا میں ان کا نام اس وقت جانا مانا گیا جب 70ء کی دہائی میں معروف فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ سے بطور پہلی خاتون ایڈیٹر منسلک ہوئیں۔
Read moreشیطانی دماغ کے ساتھ معصوم چہرہ بھی ایک نعمت ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے، جب معصومیت کو کوئی منہ نہ لگاتا تھا، اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ شاید یہی وجہ ہے، ہمارا معصوم سا چہرہ تو سب نے سنا تھا، پر ہمیں دیکھ کر تو معصوم ادائیں بھی لوگوں کو نظر آئیں۔ اور یہ معصوم ادائیں ہماری ہر غیر محرم عورت کے سامنے اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہیں۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے، پاکستانی مرد معصوم ہو نہ ہو، بیوی کے سامنے معصوم بنے ہی نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں مرد معصوم کم اور بھیگی بلی زیادہ بنے نظر آتے ہیں۔
لیکن بات آج میری معصومیت کی ہو رہی ہے۔ تو میں بتاتا چلوں، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، کہ بچپن میں پولیو کے بجائے مجھے معصومیت کے قطرے پلائے گئے تھے۔ تبھی مجھ سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں، جن کا ذکر آج میں ڈنکے کی چوٹ پر کرنے جا رہا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے سمجھ لیں، مجھے ہمدردی سے نفرت ہے، تسلی سے الجھن ہے، بھرم رکھنے بھی نہیں آتے اور فرشتہ صفت تو بالکل بھی نہیں ہوں، میٹھے جھوٹ کا ہنر سیکھ نہیں پایا اور معصوم سچ نے کئی لوگ چھین لے مجھ سے۔
Read moreلندن کی ایک نامور یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں اپنی ملازمت کو چھوڑ جیمی لیور نے کامیڈی کے سٹیج کو اپنی اصل راہ کیسے بنایا۔
Read moreکہا جاتا ہے کہ فوج دو محاذوں پر لڑائی نہیں کرتی۔ پاکستان کے سیاست دان جو کچھ کر رہے ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر گرفت کی جا سکتی ہے‘ اگر نہیں کی جا رہی تو وجہ دوسرا محاذ نہ کھولنے کا فیصلہ ہے۔ پہلا محاذ عالمی طاقتوں اور بھارت نے کھول رکھا ہے۔ایک دوست بتا رہے تھے کہ ہٹلر نے جب تک دوسرا محاذ نہ کھولا وہ فتح یاب تھا،اتحادی فوجیں اس کے آگے بکری بنی
Read more18 اکتوبر (اتوار) کو حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد نے کراچی میں ایک زبردست جلسہ منعقد کیا جس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کا عزم ظاہر کیا گیا بلکہ مقتدرہ کے ان حصوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کو درپردہ سیاسی مدد فراہم کر کے اسلام آباد کا اقتدار بخشا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے
Read moreآئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے انسٹاگرام کے خلاف اپنے پلیٹ فارم پر بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ میں مبینہ ناکامی پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اگر رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک کو بھاری جُرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Read moreپی ڈی ایم کا کاروانِ جمہوریت گوجرانوالہ کے بعد، کراچی اس دن پہنچا، جس دن پیپلز پارٹی سانحہء کارساز کے شہدا کی جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ 18 اکتوبر کو جلسے میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف جب کراچی پہنچیں تو کارکنوں کے ہم راہ بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں پر ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں کو حکومتی وزرا نے مزار قائد کی توہین قرار دیتے ہوئے، قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔ جلسہ تو شام کو ہونا تھا مگر اپوزیشن کے اس عمل اور اس پر حکومتی وزرا کے رد عمل نے عوام اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کی حمایت اور مخالفت میں ٹرینڈ چل نکلے۔
ایسے میں قابل احترام محترمہ نور الہدیٰ شاہ صاحبہ نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی در بدر قوم، اپنے بابا کے مزار پر احتجاج بھی نا کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ گریٹ یہی صحیح جگہ ہے، احتجاج رقم کرانے کی۔ سوال اٹھانے کی۔ جناح صاحب، ولی اللہ نہیں لیڈر ہیں۔ لیڈر ہی جواب دہ ہوتا ہے، تاریخ کے ہر اتار چڑھاو کا۔ جناح صاحب اٹھیے اٹھیے پلیز، بتائیے یہ ملک کس کے لیے بنایا تھا؟ اس زمین پر بسنے والی عوام کے لیے یا؟
Read moreاسے معلوم تھا کہ وہ موت سے لڑنے جا رہی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بخوبی واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ریاست پاکستان کی ”مستقل“ مقتدر قوتیں، اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ وہ ان کی رگ رگ سے واقف تھی، اپنے باپ کی موت کے بعد سے ان کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد کر رہی تھی کہ ”نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی“۔ اس کی جد و جہد تھی، اس ملک کے لیے۔ جمہوریت کے لیے۔ شخصی آزادیوں کے لیے۔ روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کے لیے۔ ملائیت کی چھتری تلے پلنے والی آمریت سے آزادی کے لیے۔ مظلوموں کے لیے۔ مزدور اور کسان کے لیے۔ عوام کے حق حکمرانی کے لیے۔ یعنی میرے لیے۔ اور آپ کے لیے۔
اسے علم تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ لڑائی آسان نہیں ہے۔ حریف نا صرف بہت طاقتور ہے، بلکہ بے رحم بھی۔ منافقت اور پروپیگنڈا اس کا خاص ہتھیار ہے۔ اسی ہتھیار کا سہارا لے کر جب چاہتا ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ اور جہاد کے پر فریب نعرے کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ چاہے اس کے لیے اپنے معصوم ذہن نوجوانوں کو ”شہادت“ کی بھینٹ چڑھانا پڑے۔ چاہے اس کے لیے عدم برداشت اور مذہبی منافرت کے بیج بونے پڑیں۔ اور جب ضرورت پڑتی ہے تو بغل میں کتے دابے، روشن خیالی کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔ دو دہائیوں سے بنائے گئے نام نہاد ہیرو ایک پل میں ولن قرار دے سکتا ہے۔ مقصد صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنا، عوام چاہے جئیں یا مریں، اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Read moreتاریخ گواہ ہے، خلوص نیت، سچ کی آواز اور ظلم کے مخالف جد و جہد، وقتی شکست کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن حق و باطل میں جیت حق ہی کی ہوتی ہے۔ جب جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار اور ملک دشمن کہا اور جمہوریت کا گلا گھونٹ کے آمریت کا زہریلا پیالہ، پہلی بار عوام کو پیش کیا۔ بظاہر دھاندلی سے الیکشن بھی جیت لیا۔ کیا ایوب نے سوچا ہو گا کہ آج پچپن سال بعد ”لہو پکارے گا آستیں کا“؟ مادر ملت زندہ باد! کے نعرے لگیں گے؟ وہ جنرل ایوب جس کے بیٹے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں، وہ اپنے باپ کو مجرم ٹھہرانے سے نہ بچا سکے اور وہ نحیف جثے والی پراسرار موت سے رخصت ہو جانے والی، ایک اکیلی عورت، آج اپنی جنگ جیت گئی۔ آنے والے ہر دور تک با عزت و سرخ رو ہو گئی۔
فاطمہ، ایوب الیکشن انیس سو پینسٹھ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی اعتبار سے اہم ہیں۔
Read moreموت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں زندگی کے بارے میں
ثروت حسین نے یہ شعر لکھا اور ریل کی پٹڑی پہ لیٹ گیا۔ سبھی کچھ تھا اس کے پاس، نان و نمک واسطے سرکار کی نوکری تھی اور تسکین طبع واسطے شہرت تھی۔ شعر بھی لازوال کہتا تھا۔ خدا جانے کس ذہنی اذیت میں گرفتار تھا کہ ریل کی پٹڑی اسے آخری حل نظر آئی۔
سب کچھ آنس معین کے پاس بھی تھا، لیکن ریل کی پٹڑی اسے بھی نگل گئی۔ کیا زندگی میں سبھی کچھ ہونا کافی ہے؟ سب کچھ کی بہتات بھی تو اکتا دیتی ہے۔ آنس سے ہی پوچھیے جس نے بتایا کہ
Read moreاگست کا مہینہ انڈین آٹو سیکٹر کے لیے اچھا رہا اور یہ انڈیا کی معیشت کے لیے امید کی کرن ہے کیونکہ انڈیا کی ترقی کی شرح پہلی سہ ماہی میں منفی تھی۔
Read moreٹوٹی تسبیح کے دانوں کے مانند بکھر جانا متروک سا محاورہ ہے، مگر جب ڈوری ٹوٹتی ہے تو تسبیح کے دانے بکھرتے تو ہیں ہی۔ یہ محاورہ پانچ، بلکہ ہمارے بیچ کی صورت میں چھے برس باہم رہنے کے بعد فارغ التحصیل ہونے سے ہم پہ کیا سبھی طلبا و طالبات پہ عملی زندگی میں جانے سے منطبق ہوتا ہے۔
کل جب ہماری تب کی کلاس کی ٹوٹی ڈور والی تسبیح کے دانوں کو کونوں کھدروں سے ڈھونڈ ڈھونڈھ کے اکٹھا کرنے والے ہمارے دوست اور ہم جماعت جنرل ریٹائرڈ اسلم نے گروپ میں ممتاز شیخ نام کے کسی ہم جماعت کی فیصل آباد میں رحلت کا لکھا تو میں نے فوری طور پر لکھا کہ یہ کون تھا، میں کلاس میں اس نام کی کسی شخصیت سے آگاہ نہیں ہوں، مگر فیصل آباد اور شیخ کے پیش نظر میں نے اگلے ہی لمحے یہ تاثر مٹا کے پوچھا کہ کہیں ”باجی تاجی“ کی بات تو نہیں کر رہے۔
Read moreمیں ابو جی کے جانے سے پہلے خود کو بہت بہادر ہمت والا ہر مصیبت سے جنگ کرنے والا کبھی ہار نہ ماننے والوں میں خود کو شمار کرتا تھا، مگر ابو جی کے جانے کے بعد ہر چھوٹی سی تکلیف بھی پہاڑ جیسی لگتی ہے اور ہر خوشی پھیکی سی۔ اللہ نے مجھے اتنے مضبوط اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا، میں زندگی میں کبھی رویا نہیں تھا لیکن نا جانے کیوں اب ہر خوشی غمی میں آنکھیں اتنی جلدی نم ہو جاتی ہیں کہ آنکھیں خشک ہونے کے بعد کچھ سکون سا میسر آنے لگتا ہے، لیکن وہ سکون کہاں جو کبھی ابو جی کے گلے لگ کر ملتا تھا۔ آنکھیں خشک ہونے کے بعد پتا نہیں کیوں اندر سے یقین آ جاتا ہے، جیسے ہم ابو جی کو سنا رہے ہوں اور ابو جی سے ملاقات ہو گئی ہو اور ابو جی صرف جواب نہیں دے رہے۔
زمانے کی ہزار شاباشی بھی ہمارا اتنا حوصلہ نہیں بڑھا سکتی، جتنی ابو جی کی ایک تھپکی کے ساتھ ”میں ہوں نا“ سے ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا اور حوصلہ آسمان کو چھونے لگتا تھا۔ ہمیشہ سے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ ماں جنت اور باپ چھپر (سایہ) ہوتے ہیں، مگر میں اب سمجھتا ہوں باپ صرف سایہ ہی نہیں بلکہ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جس میں بیلنس نہ ہوتے ہوئے اولاد کے لئے بیش قیمت خزانے موجود ہوتے ہیں۔
Read moreقیام پاکستان سے اب تک جمہوریت کی علم بردار عالمی طاقت امریکہ کے پانچ صدور نے دورۂ پاکستان کے لیے ہمیشہ ایسے وقت کا انتخاب کیا جب اقتدار پر فوج قابض تھی۔
Read moreسنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاریخی سچائی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی بجائے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے زیادہ سچی لگتی ہے۔ مثلاً: امریکا، چین، ترکی اور عرب ہمارے دوست تھے لیکن مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب ذوالفقار علی بھٹو کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
امریکا، چین، ترکی اور عرب پاکستان کے دوست تھے، لیکن ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا نام آتا رہا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب نواز شریف کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہمسایہ تھا اور برادر اسلامی ہمسایہ افغانستان بھی دوست نہ تھا۔ بھارت اب بھی دشمن ہمسایہ ہے اور برادر اسلامی ہمسائے افغانستان سے پاکستان کو اب بھی خطرہ ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جتنے شکوک و شبہات پہلے تھے، اتنے ہی شاید اب بھی ہیں۔
Read moreمیاں محمد نواز شریف صاحب میرے بچپن میں میرے ہیرو تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب مرحوم نے 90ء کی دہائی کے اوائل میں جب شریف صاحب پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تو ایک طویل خط لکھا تھا جس میں ان کا انٹرویو کرنے کی بھی اجازت چاہی تھی۔ میرے والد صاحب پی ٹی وی میں نیوز ایڈیٹر تھے اور اس نوکری سے قبل 1970ء میں بھٹو، خان عبد القیوم خان، کوثر نیازی، مولانا بھاشانی، اصغر خان، شیخ مجیب الرحمن اور دیگر اہم سیاست دانوں کے انٹرویو کر چکے تھے۔
بعد ازاں وہ جنرل ضیا اور جونیجو کے بھی قریب رہے اور اب وہ اپنی تحقیق میں جواں سال وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، جو ان کی تصنیف ”پاکستان انقلاب کے دو راہے پر“ کا حصہ ہوتا۔ نواز شریف صاحب نے نا صرف والد صاحب کے خط کا جواب وزیر اعظم ہاؤس کے لیٹر پیڈ پر تحریر کر کے بھیجا بلکہ اس کے آخر میں ”آپ کا بھائی نواز شریف“ بھی تحریر کیا۔ یہ خط آج کے دن تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میرے والد کے انتقال کو اکیس سال بیت گئے۔
Read moreگلگت بلتستان کے 15 نومبر کو ہونے والے الیکشن کے لئے، تمام وفاقی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ یوں سیاسی میدان میں اب خوب میلہ جمے گا۔ ٹکٹوں کے اعلان سے پہلے یوں لگ رہا تھا کہ سیاسی جماعتیں اب شاید پاور پالیٹکس سے تائب ہو گئیں ہیں اور الیکشن میں حقیقی اور مخلص کارکنوں کو بطور امیدوار سامنے لائیں گی۔ لیکن وہ سیاست ہی کیا جس میں کوئی سیاست نہ ہو۔
گلگت بلتستان کے پارٹی بنیادوں پر الیکشن کی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عموماً اس پارٹی کی حکومت بنتی ہے یا بنا دی جاتی ہے، جو وفاق میں صاحب اقتدار ہو۔ اس ضمن میں ملکی سطح کے سیاسی تجزیہ نگاروں اور الیکشن کے امور کے ماہرین کا بغیر کسی تردد کے یہ تجزیہ رہتا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص بات نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہی ہوتا ہے جو وفاق چاہتا ہے۔ اگر ہم 2009ء سے لے کر 15 نومبر کے متوقع الیکشن تک کے ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی بدلنے کے رجحان پر نظر ڈالیں، تو تجزیہ نگاروں کی بات درست لگتی ہے۔
Read moreیہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ یعنی یہ میرا وہ ”احوال“ ہے، جو اب ماضی بن چکا۔ مگر اس احوال کی فرحت ناکی سے آج بھی میرا دماغ معطر ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ماں باپ اپنے بچے کے بارے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے کہ نہ جانے کب اسے کوئی درندہ اچک لے اور اس کی نوچی ہوئی لاش کسی قریبی کھیتوں یا کچرا کنڈی میں ورثا کی منتظر ہو۔ یہ اس دور کی کہانی ہے، جب بچوں کے ساتھ ساتھ نو جوان بھی بھی مٹی کے ساتھ کھیلتے تھے۔
تمام بچوں کے بچپن کی شرارتیں، شوق اور کھیل عموماً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے ہی مجھے بھی تمام کھیلوں کے ساتھ ساتھ دو چیزوں کا زیادہ شوق تھا۔ ایک اپنے محلے کی مسجد کے بڑے اور گہرے کنویں سے چرخی چلا کہ پانی کے ڈول نکالنا اور دوسرا غلیل کو ساتھ رکھنا۔ یاد رکھیں بچپن میں میری دہشت گردی بھی افغانستان میں جاری جنگ کی طرح موسم بہار میں عروج پر آ جاتی تھی۔ جیسا کہ افغانستان کی ہر بہار امریکا اور اس کے پجاریوں کے لیے ایک نئی آفت لے کر آتی ہے۔
Read moreکراچی کی پولیس نے حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو مزارِ قائد پر سیاسی نعرے لگانے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اتوار کو حزبِ اختلاف کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے کراچی میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا تھا۔ اس جلسے کی میزبانی پیپلز پارٹی نے کی تھی۔
Read more